قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں
اور علامتوں کا بیان - قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں
اور علامتوں کا بیان - Book 175 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 175 of Musnad Ahmad, with 43 chapters and 280 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عربوں کے لیے ہلاکت ہے، اس شرّ کی وجہ سے، جو قریب آ چکا ہے، یعنی اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے برپا ہو جائیں گے، (ان فتنوں کی شدت کی وجہ سے) ایک آدمی صبح کو مومن ہو گا او رشام کو کافر، لوگ معمولی متاعِ دنیا کے عوض دین بیچ ڈالیں گے، ان دنوں میں دین پر عمل کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہو گی، جس نے اپنی مٹھی میں انگارا یا کانٹا پکڑ رکھا ہو۔ حسن نے اپنی حدیث میں کہا: کانٹے کے پتے۔
فوائد:… سیدناانس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَأتِيْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ فِیْھِمْ عَلٰی دِیْنِہِ کَالْقَابِضِ عَلَی الْجَمْرِ۔)) … لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ اپنے دین پر صبر کرنے والا دہکتے ہوئے انگارے کو مٹھی میں بند کرنے والے کے مترادف ہو گا۔ (ترمذی: ۲/ ۴۲، صحیحہ:۹۵۷)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں سب سے افضل مرتبے کا حامل وہ آدمی ہوگا، جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ تھامے تیار کھڑا ہو، جہاد کی پکار سنتے ہی گھوڑے کی پشت پر سیدھا ہوجائے اور موت کو ایسے مقامات میں تلاش کرے،جہاں اس کے امکانات زیادہ ہوں، یا پھر وہ آدمی جو کسی پہاڑی گھاٹی میں مقیم ہو کر نماز باقاعدگی سے پڑھے اور زکوٰۃ ادا کرے اور لوگوں کے ساتھ صرف خیر والا معاملہ کرے۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قریب ہے کہ ایسا وقت آ جائے کہ جس میں مسلمان آدمی کا بہترین مال بکریاں ہوںگی، جنہیں وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات پر چراتا پھرتا رہے گا اوراس طرح اپنے دین کو فتنوں سے بچا لے گا۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے قریب کھڑے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرق کی طرف ہاتھ کا اشارہ کرکے فرمایا: یہاں فتنے ہیں، جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔
۔ (دوسری سند ) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: خبردار! بیشک فتنے یہاں ہوں گے، خبردار! بلا شبہ فتنے ادھر ہوں گے، خبردار! فتنے یہاں ہوںگے، جہاں سے شیطان اپنا سینگ طلوع کرے گا۔
۔ (تیسری سند) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ کیا، آپ کا مقصد عراق تھا، پھر فرمایا: خبردار! فتنے یہاں ہیں، خبردار! فتنے یہاں ہیں، (یہ بات آپ نے تین مرتبہ دہرائی)، جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔
۔ (چوتھی سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا : کفر کا مرکز یہاں ہے، جہاں سے شیطان کا سینگ نمودار ہوگا۔
۔ (پانچویں سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فتنے یہاں سے یعنی مشرق کی طرف سے آئیں گے۔
Takhreej
(۱۲۸۲۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… مشرق سے مراد عراق ہے، بعض روایات میں عراق کا تعین کیا گیا ہے، جیسا کہ درج ذیل احادیث ہیں: سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی اور فرمایا: ((اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي مَکَّتِنَا، اَللّٰھُمَّ باَرِکْ لَنَا فِي مَدِیْنَتِنَا، اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي شَامِنَا، وَبَارِکْ لَنَا فِي صَاعِنَا، وَباَرِکْ لَنَا فِي مُدِّنَا۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَفِي عِرَاقِنَا۔ فَاعْرَضَ عَنْہُ، فَرَدَّدَھَا ثَلَاثاً، کُلَّ ذٰلِکَ یَقُوْلُ الرَّجُلُ: وَفِیْ عِرَاقِنَا، فَیُعْرِضُ عَنْہُ، فَقَالَ: ((بِھَا الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ وَفِیْھَا یَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانُ۔)) … اے اللہ! ہمارے مکہ میں ہمارے لیے برکت فرما۔ اے اللہ! ہمارے مدینہ میں ہمارے لیے برکت فرما۔ اے اللہ! ہمارے شام میں ہمارے لیے برکت فرما۔ اے اللہ! ہمارے صاع میں ہمارے لیے برکت فرما۔ اے اللہ! ہمارے مدّ میں ہمارے لیے برکت فرما۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور ہمارے عراق میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا۔ اس نے تین دفعہ کہا کہ ہمارے عراق میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر دفعہ اعراض کیا۔ پھر فرمایا: یہاں تو زلزلے اور فتنے ہوں گے اور یہاں سے شیطان کے سر کا کنارہ ابھرے گا۔ (أخرجہ الطبرانی فی المعجم الاوسط : ۱/ ۲۴۶/ ۱/ ۴۲۵۶، وبلفظ: نجدنا مکان عراقنا أخرجہ البخاری: ۱۰۳۷، ۷۰۹۴، الصحیحۃ:۲۲۴۶)
معجم اوسط کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عراق کا نام لے کر اس کے لیے دعا کا مطالبہ کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مِنْ ثَمَّ یَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ وَتَھِیْجُ الْفِتَنُ۔)) … وہاں سے تو شیطان کا سینگ نمودار ہو گا اور فتنے ابلیں گے۔
صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں:
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی شَأْمِنَا اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی یَمَنِنَا قَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ وَفِی نَجْدِنَا قَالَ اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی شَأْمِنَا اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی یَمَنِنَا قَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ وَفِی نَجْدِنَا فَأَظُنُّہُ قَالَ فِی الثَّالِثَۃِ ہُنَاکَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ وَبِہَا یَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ۔)) … یا اللہ! ہمارے شام میں برکت عطا فرمایا،اے اللہ! ہمارے یمن میں برکت عطا فرما۔ لوگوں نے کہا: اور ہمارے نجد میں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! ہمارے شام میں برکت عطا فرمایا، اے اللہ! ہمارے یمن میں برکت عطا فرما۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! اور ہمارے نجد میں، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری بار فرمایا: یہاں تو زلزلے اور فتنے ہوں گے اور وہیں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: یہ حدیث نبوت کی نشانیوں میں سے ایک ہے، کیونکہ پہلا فتنہ مشرق سے ہی ابھرا اور مسلمانوں میں تفرقہ بازی کا سبب بنا، اسی طرح شیعیت اور خارجیت جیسی بدعتیں بھی اسی جہت کی پیداوار ہیں، امام بخاری (۷/۷۷) اورامام احمد (۲/۸۵، ۱۵۳) نے بیان کیا کہ ابن ابی نعیم نے کہا: میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، ایک عراقی آدمی نے ان سے سوال کیا کہ اگر محرِم آدمی مکھی مار دے تو (وہ کیا کفارہ ادا کرے گا)۔ انھوں نے جواب دیتے ہوئے کہا: عراقیو! تم مکھی کو قتل کرنے والے محرِ م کے بارے میں سوال کرتے ہیں، تم نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے(سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ) کو قتل کر دیا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((ھُمَا رَیْحَانَتَایَ مِنَ الدُّنْیَا۔)) … یہ (حسن و حسین) تو دنیا میں میری دو کلیاں (یا گلدستے) ہیں۔
ایک فتنہ یہ بھی تھا کہ شیعوں نے جلیل القدر صحابہ پر طعن کیا، بطورِ مثال سیدہ عائشہ صدیقہ بنت صدیق رضی اللہ عنہا ہیں، جن کی براء ت آسمان سے نازل ہوئی تھی۔ ایک متعصب شیعہ عبد الحسین نے پوری جرأت، بے شرمی اور چالاکی کے ساتھ اپنی کتاب (المراجعات: ص: ۲۳۷) میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر طعن کرنے کے لیے اور احادیث کے سلسلے میں ان کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے کئی فصلیں قائم کیں۔ اس نے یا تو ضعیف اور موضوع روایات کا سہارا لیا، ان میں سے بعض ضعیفہ (۴۹۶۳، ۴۹۷۰) میں مذکورہ ہیں یا پھر احادیث ِ صحیحہ کی تحریف کی اور ان کے ایسے مفاہیم بیان کیے، جن کی ان روایات میں کوئی گنجائش نہ تھی، … …۔ (صحیحہ: ۲۴۹۴)
حافظ ابن حجر نے کہا: (جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ احادیث بیان کیں) اس وقت اہل مشرق کفر پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق پہلا فتنہ یہیں ابھرا، جو مسلمانوںمیں تفرقہ بازی کا سبب بنا، اور یہی چیز ہے جس سے شیطان خوش ہوتا ہے، اسی طرح کئی بدعتوں کی جائے ظہور بھی یہی ہے۔ (فتح الباری: ۱۳/ ۵۸)
تاریخ گواہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے کچھ عرصہ بعد عراق سے بہت سے فتنے رونما ہوئے، جنگِ نہروان، واقعہ کربلا، بنو امیہ اور بنو عباس کی لڑائیاں،پھر تاتاریوں کے خونریز معرکے، اسی طرح گمراہ فرقوں یعنی خوارج، شیعہ، معتزلہ، جہمیہ، مرجیہ وغیرہ کا ظہور بھی کوفہ، بصرہ اور بغداد،جو عراق کے مشہور شہر ہیں، سے ہوا۔ بارہ سو سال تک تمام مسلمانوں کا متفقہ طور پر یہی مؤقف رہا کہ نجد قرن شیطان سے مراد عراق ہی کا علاقہ ہے۔
اہم تنبیہ
بارہویں صدی کے بعد اہل بدعت نے ان احادیث کا مفہوم بگاڑ کر انہیں شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمتہ اللہ علیہ پر چسپاں کرنا شروع کر دیا۔
جواباً درج ذیل نکات پر غور کریں:
(۱) کوئی شک نہیں کہ اس موضوع سے متعلقہ احادیث میں نجد کے الفاظ کا ذکر بھی ہے، جبکہ نجد کا لغوی معنی بلندی اور رفعت ہے، گویا سطح مرتفع اور بلند زمین کو نجد کہا جاتا ہے اور عرب میں بہت سارے نجد ہیں، ابو عبد اللہ یاقوت بن عبد اللہ حموی نے معجم البلدان میں درج ذیل نجد شمار کیے ہیں:
نجدألوذ، نجد أجا، نجد برق، نجد خال، نجد الشری، نجد عفر، نجد العقاب، نجد کبکب، نجد مریع، نجد الیمن
لیکن جب بعض احادیث میں نجد کے بجائے عراق کا تعین کر دیا گیا ہے تو اختلاف کی گنجائش ہی ختم ہو جاتی ہے، جبکہ تاریخی طور پر عراق ہی فتنوں کی آماجگاہ رہا ہے اور اب بھی امریکہ کے تسلط کے وجہ سے فتنے میں ہے ۔ اللہ تعالیٰ امت ِ مسلمہ پر رحم فرمائے۔ (آمین)
(۲) اس موضوع سے متعلقہ اور دیگر احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجاز، شام اور یمن کے لیے خیر و برکت کی دعا کی ہے اور ان علاقوں کو اسلام و ایمان کا مرکز قرار دیا ہے، ایک حدیث کا ذکر اوپر بھی گزرا ہے، اور محمد بن عبد الوہاب کا تعلق نجد یمن سے ہے، نہ کہ نجد عراق سے، احادیث ِ مبارکہ کے مطابق تو محمد بن عبد الوہاب رحمتہ اللہ علیہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعائے خیر کے مستحق ٹھہرتے تھے، لیکن معترضین نے نجد والی احادیث کو ان پر فٹ کر کے علم حدیث اور تاریخ و جغرافیہ سے اپنی ناواقفیت کا ثبوت فراہم کر دیا۔
(۳)عملی طور پر عراق ہی فتنوں اور آزمائشوں کا گڑھ رہا ہے، جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔
(۴) نیز شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: سنت کے مخالف اور توحید سے منحرف بعض لوگ جزیرۂ عرب میں دعوتِ توحید کی تجدید کرنے والے امام محمد بن عبد الوہاب رحمتہ اللہ علیہ پر طعن کرتے ہیں، یہ لوگ اپنی جہالت یا تجاہل کی وجہ سے اس حدیث ِ مبارکہ سے نجد کے علاقے مراد لے کر اس امام کو اس کا مصداق ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ مختلف طرق سے معلوم ہوتاہے کہ اس سے مراد عراق کا علاقہ ہے، امام خطابی اور حافظ ابن حجر عسقلانی جیسے قدیم علما نے بھی اسی کی تائید کی ہے۔
ان جاہلوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اگر کوئی آدمی فی نفسہ نیک او رصالح ہو، لیکن اس کا تعلق مذموم علاقوں سے ہو، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اسے ہی مذمت کے لائق سمجھا جائے۔ جیسے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور شام کے علاقوں کی تعریف کی گئی ہے، لیکن ان میں سکونت اختیار کرنے والے کئی لوگ فاسق اور فاجر بھی ہیں، اسی طرح عراق کی مذمت سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہاں کا ہر باسی ہی قابل مذمت ہے، بلکہ اس میں کئی عالم اور نیکوکار لوگ نظر آئیں گے۔ جب سیدنا ابو دردائ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کو عراق سے شام کی طرف ہجرت کر جانے کی دعوت دی تو انھوں نے کہا: اَمَّا بَعْدُ؛ فَاِنَّ الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ لَاتُقَدِّسُ اَحَدًا، وَاِنَّمَا یُقَدِّسُ الْاِنْسَانَ عَمَلُہٗ۔ … کوئی مقدس سر زمین کسی کو پاک نہیں کرتی، بلکہ ہر انسان کو اس کا (نیک) عمل پاک کرتاہے۔ (صحیحہ: ۲۲۴۶)
حافظ ابن حجر نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مشرق کے حق میں دعا نہ کی، تاکہ یہ لوگ اس شرّ سے باز آنے کی کوشش کریں، جس کا ظہور ان کے علاقے سے ہو گا، … (قرن الشیطان کا راجح معنی یہ ہے کہ اس سے مراد) شیطان اور ان اسباب کی قوت ہے، جن کے ذریعے وہ گمراہی پھیلاتا ہے۔ (فتح الباری: ۱۳/ ۵۸)
عبد الرحمن مبارکپوری نے کہا: حسی زلزلے مراد ہیں یا معنوی، جو دلوں کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں اور فتنوں سے مراد وہ مصیبتیں اور آزمائشیں ہیں، جو دین کے ضعف اور قلت کا سبب بنیں گی، …۔ قرن الشیطان سے مراد اس شیطان کے اعوان وانصار اور اس کی جماعت یا اس کی قوت اور اسبابِ ضلالت ہیں، …۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ جہت مشرق سے فتنوں اور بدعتوںکا ظہور ہو گا اور ایسے ہی ہوا، جنگ جمل اور جنگ صفین اسی سمت میں لڑی گئیں، پھر یہیں سے خوارج کاظہور ہوا۔ (تحفۃ الاحوذی: ۴/ ۳۸۱)
یسیر بن عمرو سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور کہا کہ آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی ایسا فرمان سنائیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حروریہ کے بارے میں ارشاد فرمایا ہو۔ انہوں نے کہا: میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں اور اپنی طرف سے اس میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عراق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : ادھر سے کچھ لوگ نکلیں گے، وہ قرآن تو پڑھیں گے، لیکن وہ ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ دین سے یوں نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار میں سے تیزی سے پار نکل جاتا ہے۔ میں نے پوچھا : آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کی کوئی علامت بھی ذکر فرمائی تھی؟ انھوں نے کہا: جی میں نے اتنا ہی سنا ہے، میں اس پر اضافہ نہیں کروں گا۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کروں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کی بہ نسبت مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں آسمان کی بلندی سے نیچے گر جاؤں، مگر جھوٹ نہ بولوں اور جب میں تمہیں کسی دوسرے کی کوئی بات سناؤں تو یاد رکھو کہ ان دنوں میری لوگوں سے لڑائی رہتی ہے اور لڑائی چالوں اور تدبیروں کو ہی کہتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: آخری زمانہ میں کچھ ایسے لوگ نمودار ہوں گے، جو نو عمر اور کم عقل ہوں گے، وہ باتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیان کریں گے، لیکن ان کا ایمان ان کے گلوں سے آگے نہیں اترے گا، یہ لوگ تمہیں جہاں بھی ملیں، تم انہیں قتل کر دینا، کیونکہ ان کے قاتلوں کو قیامت کے دن اس قتل کا اجر ملے گا۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب میری امت میں مشرقی جہت سے ایسے لوگ نمودار ہوں گے، جو قرآن مجید تو بڑے خوبصورت انداز میں پڑھیں گے، لیکن وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا ،جب بھی ان میں سے کوئی نسل ظاہر ہو گی تو اسے قتل کر دیا جائے گا، پھر جب ان کی نسل منظرِ عام پر آئے گی تو اسے بھی قتل کر دیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس دفعہ ان کا اسی طرح ذکر کیا (اور آخری مرتبہ فرمایا:) جب بھی ان کی نسل ظاہر ہو گی تو اسے ختم کر دیا جائے گا، یہان تک کہ ان کے باقی ماندہ لوگوں میں دجال نمودار ہو گا۔
Takhreej
(۱۲۸۲۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شھر بن حوشب، أخرجہ الطیالسی: ۲۲۹۳، وعبد الرزاق: ۲۰۷۹۰(انظر: ۶۸۷۱)
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : میری امت میں ایک ایسی بد عمل قوم پیدا ہو گی، کہ وہ قرآن کی تلاوت تو کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا، (بظاہر ان کے عمل اتنے اچھے ہوں گے کہ) تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلے میں کم تر سمجھو گے، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے، جب ایسے لوگ نمودار ہوں تو تم انہیں قتل کر دینا، اس کے بعد پھر جب ان کا ظہور ہوتو ان کو قتل کر دینا، پھر جب وہ ظاہر ہوں تو ان کو مار ڈالنا، ان کو قتل کرنے والے کے لیے بھی بشارت ہے اور ان کے ہاتھوں قتل ہو جانے والے کے لیے بھی خوشخبری ہے، جب ان کی نسل نمودار ہوگی تو اللہ تعالیٰ اسے نیست و نابود کر دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کو بیس یا اس سے بھی زائد مرتبہ دہرایا اور میں سنتا رہا۔
Takhreej
(۱۲۸۳۰) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۷۴ (انظر: ۵۵۶۲)
Explanation
فوائد:… محدثین نے خوارج کو درج بالا احادیث کا مصداق قرار دیا ہے۔ خوار ج، لغوي تعریف: خوارج، خارج کی جمع ہے، جوخروج سے مشتق ہے ،ان کایہ نام ان کے خروج کی وجہ سے پڑاہے ، چاہے دین سے نکل جانیکی وجہ سے یا علی رضی اللہ عنہ کیخلاف خروج کی وجہ سے خواہ مسلمانوں کے خلاف خروج کی وجہ سے۔
اصطلاحي تعریف: امام شہرستانی لکھتے ہیں: ہروہ شخص جواہل السنۃ والجماعۃ کے متفقہ امام کیخلاف خروج کرے اسے خارجی کہاجاتا ہے،یہ خروج صحابہ کرام کے زمانے میں خلفاء راشدین کیخلاف ہو، یا ان کے بعد والے زمانے میں ۔
ان کے مختلف صفاتی نام: محکمہ، مارقہ، نواصب، اہل نہروان، مکفرہ،سبیئہ، شکاکیہ
اسلام میں پہلا مذہبی فرقہ جس نے شعائر سے ہٹ کر اپنا الگ گروہ بنایا۔ یہ گروہ جس کی اکثریت بدوی عراقیوں کی تھی۔ جنگ صفین کے موقع پر سب سے پہلے نمودار ہوا۔ یہ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فوج سے اس بنا پر علیحدہ ہوگئے کہ انھوں نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ثالثی کی تجویز منظور کر لی تھی۔ خارجیوں کا نعرہ تھا کہ حاکمیت اللہ ہی کے لیے ہے انھوں نے شعث بن راسبی کی سرکردگی میں مقام حروراء میں پڑاؤ ڈالا اور کوفہ ، بصرہ ، مدائن وغیرہ میں اپنے عقائد کی تبلیغ شروع کر دی۔ ان کا عقیدہ تھا کہ دینی معاملات میں انسان کو حاکم بنانا کفر ہے اور جو لوگ ایسے فیصلوں کو تسلیم کرتے ہیں وہ واجب القتل ہیں۔
خارجیوں کے اعتقاد کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ برحق تھے۔ ان کی بیعت ہر مسلمان پر لازم تھی۔ جن لوگوں نے اس سے انکار کیا وہ اللہ اور رسول اللہ کے دشمن تھے۔ اس لیے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے حامی کشتنی اور گردن زدنی ہیں۔ ان کے ساتھ کسی قسم کی صلح کرنا ازروئے قرآن کفر ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے چونکہ ان کے ساتھ مصالحت کرنے اور حکم قرآنی میں ثالث بنانے کا جرم کیا ہے۔ اس لیے ان کی خلافت بھی ناجائز ہوگئی۔ لہذا سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ دونوں کے خلاف جہاد لازم ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خارجیوں کو جنگ نہروان میں شکست فاش دی۔ لیکن ان کی شورش پھر بھی باقی رہی۔ چنانچہ سیدنا علی ایک خارجی ابن ملجم کے ہاتھوں شہید ہوئے۔
خوارج حد سے زیادہ نیک تھے، لیکن کم عقلی کی وجہ سے اپنے علاوہ کسی کو مسلمان نہ سمجھتے تھے، انتہا پسند تھے، ہر گناہ کو کفر کہتے تھے اور ہر گنہگار کو کافر، نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کو کافر کہہ کر اکثر قتل کرتے تھے اور کافروں کو معذور سمجھ کر چھوڑ دیتے تھے، انتہا پسندی کا نتیجہ ہمیشہ ایسا ہی نکلتا ہے، اس لیے انتہا پسندی، تشدد اور تکلف کی اسلام میں مذمت کی گئی ہے۔
ان لوگوں کے ظاہری حالات بہت اچھے تھے، لیکن ظاہر جتنا اچھا تھا، باطن اتنا ہی برا تھا، مسئلہ تحکیم کے بعد یہ لوگ حروراء مقام پر چلے گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس بھیجا کہ وہ انہیں سمجھائیں اور انہیں امیر کی اطاعت میں واپس لائیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سمجھانے سے بہت سے لوگ ان سے الگ ہو گئے اور امیر کی اطاعت میں واپس آگئے، لیکن ان کے بڑے اور ان کے موافقین اپنی ضد پر اڑے رہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس تشریف لائے، مگر ان پر کوئی اثر نہ ہوا، انہوں نے صحابی رسول سیدنا عبد اللہ بن خباب رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ان کے ساتھ معرکہ ہوا، خارجیوں کی قیادت عبد اللہ بن وہب اور ذی الخویصرہ حرقوص بن زید وغیرہ کے ہاتھ میں تھی، اس جنگ کے نتیجے میں اکثر خارجی قتل ہوگئے۔ خوارج سیدنا علی، سیدنا عثمان، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر، سیدنا عائشہ، اور سیدنا عبد اللہ بن عباس کو کافر اور مخلد فی النار قرار دیتے تھے، اس شخص کو بھی کافر کہتے تھے، جو ان کا ہم مسلک ہونے کے باوجود ان کے ساتھ قتال میں شریک نہ ہوتا، مخالفین کے بچوں اور عورتوں کے قتل کے قائل تھے، رجم کے قائل نہیں تھے، مشرکوں کے بچوں کے خلود فی النار کے قائل تھے، اس بات کے بھی قائل تھے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو بھی نبی بنا دیتے ہیں، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو یہ علم ہو کہ یہ بعد میں کافر ہوجائے گا، اس بات کے بھی قائل تھے کہ نبی بعثت سے پہلے معاذ اللہ کافر ہوسکتا ہے، خوارج مرتکب کبیرہ کو کافر اور مخلد فی النار قرار دیتے تھے، اس پر وہ کفر ابلیس سے استدلال کرتے تھے کہ وہ سیدنا آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرکے مرتکب کبیرہ ہوا تھا اس بناء پر اس کو کافر قرار دیدیا گیا معلوم ہوا مرتکب کبیرہ کافر ہوجاتاہے حالانکہ ابلیس محض ارتکاب کبیرہ کی بناء پر کافر نہیں ہوا بلکہ حکم خداوندی کے مقابلے میں اباء واستکبار اس کے کفر کا سبب ہے۔
قابل ذکربات یہ ہے کہ یہ روایتِ حدیث میں ثقہ ترین لوگوں میں سے تھے، ان کی بعض روایتیں صحیح ترین سندوں میں شمارکی جاتی ہیں ، جیساکہ خطیب بغدادی نے امام ابوداؤدکا قول نقل کیاہے کہ بدعت پرستوں میں سے خوارج کی روایتوں سے زیادہ صحیح روایتیں کسی کی نہیں ہوتیں۔
خوارج جان بوجھ جھوٹ بولنے والوں میں سے نہیں تھے، یہاں تک کہاجاتاہے کہ ان کی حدیثیں صحیح ترین ہواکرتی تھیں لیکن یہ جہالت کی وجہ سے اپنی بدعت میں گمراہ ہوگئے ، اوران کی بدعت الحادوزندقیت کی بنیادپرنہیں تھی، بلکہ قرآن کریم کے فہم سے جہالت وگمراہی کی بنیاد پر تھی۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جھوٹ جوکبیرہ گناہوں میں سے ہے، ان کے نزدیک نہ یہ کہ اس کا مرتکب گنہگار ہے، بلکہ اس کے اوپرکفرکا اطلاق ہوتاہے ۔ معلوم ہواکہ روایتِ حدیث میں اپنی ثقاہت کے باوجود تاویلی اورتخریبی فکروعمل کااثران کی گمراہیت کاسبب بناجس کی پیش گوئی پہلے ہی کی جاچکی تھی ۔
بہرحال علمائے اسلام کا اس حقیقت پر اجماع و اتفاق ہے کہ خوارج باوجود اپنی گمراہی کے مسلمانوں کا ایک فرقہ ہیں، ان کے ساتھ نکاح کرنا، ان کا ذبیحہ کھانا اور ان کی شہادت قبول کرنا جائز ہے، کسی اہل علم نے ان کو کافر نہیں کہا، ہاں یہ باغی ضرور تھے۔
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں کچھ لوگ نمودار ہوں گے، ان کا نام رافضہ ہوگا، وہ اسلام کو چھوڑ دیں گے۔
Takhreej
(۱۲۸۳۱) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا لضعف یحیی بن المتوکل وکثیر النوائ، أخرجہ البیھقی: ۶/ ۵۴۷، والبزار: ۴۹۹ (انظر: ۸۰۸)
Explanation
فوائد:… سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دورِ خلافت تک تمام امت متحد و متفق تھی، پھر آہستہ آہستہ انتشار آنا شروع ہوا، اس انتشار پھیلانے والوں سے ایک یہودی عالم عبد اللہ بن سباء بھی تھا، اس نے ابتداء میں یہ کہنا شروع کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے، مگر حجاز، شام اور عراق والوں نے بالکل اس کی بات کو نہ مانا، اس کے بعد وہ شخص مصر چلا گیا، وہاں اس نے یہ باتیں کہنا شروع کیں اور ساتھ ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں غلو اور مبالغہ کرنا شروع کردیا اور اس نے یہی بات لوگوں کے ذہن میں ڈالی کہ آپ رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلافت کے مستحق تھے، مگر ان کو یہ حق نہیں دیا گیا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف مختلف شکایات شروع کردیں، یہاں تک کہ سیدناعثمان رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت ہوگئی اور پھر اسی انتشار میں جنگ جمل اور جنگ صفیں ہوئی اور ہزاروں مسلمان شہید ہوئے اور آخر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی شہید کردیا گیا۔ یہودی عبد اللہ بن سبا کی شروع کردہ تحریک میں ایک طرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت میں مبالغہ اور دوسری طرف سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بغض اور ساتھ ساتھ یہ نظریہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد ان کی اولاد خلافت کی مستحق ہے، نیز یہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد امامت کا سلسلہ ہے تاکہ امت کی رہنمائی ہوتی رہے اور پھر آہستہ آہستہ یہ تمام نظریات زور پکڑتے گئے۔
اس شخص کے عقائد ونظریات سے رفض نے جنم لیا، رفض کے بہت سے گروہ ہیں، بعض محض تفضیلی ہیں کہ سیدناعلی رضی اللہ عنہ کو تمام صحابہ سے افضل سمجھتے ہیں اور کسی صحابی رضی اللہ عنہ کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کرتے، بعض تبرائی ہیں کہ چند صحابہ کے علاوہ باقی سب کو برا بھلا کہتے ہیں، بعض الوہیت ِ علی رضی اللہ عنہ کے قائل ہیں، بعض تحریف ِ قرآن کے قائل ہیں، بعض صفات باری تعالیٰ کے مخلوق ہونے کے قائل ہیں، بعض اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر بہت سی چیزیں واجب ہیں، بعض آخرت میں رؤیت باری تعالیٰ کے قائل نہیں ہیں، وغیر وغیرہ۔ رفض کے ہرگروہ کے عقائد دوسرے سے مختلف ہیں لہٰذا بحیثیت مجموعی ان پر کوئی ایک حکم نہیں لگایاجاسکتا۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تیس ایسے دجال اور کذاب ظاہر نہ ہوجائیں کہ ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔
فوائد:… نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی آیا ہے نہ آئے گا اور ایسا دعوی کرنے والا جھوٹا، کذاب اور دجال قرار پائے گا۔ ذہن نشین رہے کہ اس حدیث سے وہ مدعیانِ نبوت مراد نہیں جنھوں نے مطلق طور پر نبوت کا دعوی کیا، کیونکہ ایسے لوگ تو بہت زیادہ ہیں۔ احادیث میں جن ستائیس یا تیس کذابوں کا ذکر ہے، ان سے مراد وہ کم بخت ہیں، جن کو اس دعوی کی وجہ سے شان و شوکت ملی اور ان کو اپنی نبوت پر واقعی شبہ ہونے لگا، پھر لوگوں کی معقول تعداد بھی ان کے ساتھ ہو گئی۔ جیسے مرزا غلام احمد قادیانی کا مسئلہ ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: جن دجّالوں نے نبوت کا دعوت کیا، ان میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہندی ہے، جس نے ہند پر برطانوی استعمار کے عہد میں یہ دعوی کیا تھا کہ وہ امام مہدی ہے، پھر اس نے اپنے آپ کو عیسیٰ علیہ السلام باور کرایا اور بالآخر نبوت کا دعوی کر دیا، قرآن و سنت کا علم نہ رکھنے والے کئی جاہلوں نے اس کی پیروی کی۔ ہند اور شام کے ایسے باشندوں سے میری ملاقات ہوئی، جو اس کی نبوت کے قائل تھے۔ میرے اور ان کے مابین کئی مناظرے اور بحث مباحثے ہوئے، ان میں سے ایک تحریری مناظرہ بھی تھا۔ ان مناظروںمیں ان کا دعوی تھا کہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کئی انبیا آئیں گے، ان میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ شروع شروع میں انھوں نے ورغلانا اور پھسلانا چاہا اور مناظرہ کے اصل موضوع سے صرف نظر کرنا چاہا۔ لیکن میں نے ان کے حیلوں بہانوں کا انکار کیا اور اصل موضوع پر ڈٹا رہا۔ پس وہ بری ہزیمت سے دوچار ہوئے اور حاضرین مجلس کو پتہ چل گیا کہ یہ باطل پرست قوم ہے۔
ان کے کچھ دوسرے عقائد بھی باطل اور اجماعِ امت کے مخالف ہیں، بطورِ مثال: جسمانی بعث کا انکار کرنا اور یہ کہنا کہ جنت و جہنم کا تعلق روح سے ہے، نہ کہ جسم سے۔ کافروں کو دیا جائے والا عذاب بالآخر منقطع ہو جائے گا۔ جنوں کا کوئی وجود نہیں ہے اور جن جنوں کا قرآن مجید میں ذکر ہے، وہ حقیقت میں انسانوں کی ایک جماعت ہے۔
جب یہ لوگ قرآن کی کوئی آیت اپنے عقائد کے مخالف پاتے ہیں تو باطنیہ اور قرامطہ جیسے باطل فرقوں کی طرح اس کی غیر مقبول اور قابل انکار تاویل کرتے ہیں۔ اسی لیے انگریز مسلمانوں کے خلاف ان کی تائید و نصرت کرتے تھے۔ مرزا قادیانی کہتا تھا کہ مسلمانوں پر انگریزوں سے جنگ کرنا حرام ہے۔ میں نے ان پر ردّ کرنے کے لیے کئی کتابیں تالیف کیں اور ان میں یہ وضاحت کی کہ یہ فرقہ جماعۃ المسلمین سے خارج ہے۔ ان کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ (صحیحہ: ۱۶۸۳)
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے کئی کذاب ظاہر ہوں گے، ان میں سے ایک یمامہ والا‘ ایک صنعاء والا عنسی‘ ایک حمیر والا اور ایک دجال ہوگا، مؤخر الذکر کا فتنہ سب سے بڑا ہو گا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے بعض اصحاب کہتے ہیں کہ ان کذابین کی تعداد تقریباً تیس ہو گی۔
Takhreej
(۱۲۸۳۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لسوء حفظ عبد اللہ ابن لھیعۃ، أخرجہ البزار: ۳۳۷۵ (انظر: ۱۴۷۱۸)
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبل اس کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسیلمہ کے متعلق کچھ فرمائیں، لوگوں نے اس کے بارے میں بہت باتیں کیں، بالآخر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا: أَمَّا بَعْدُ! تم نے اس آدمی کے متعلق بہت باتیں کی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ قیامت سے پہلے نمودار ہونے والے تیس کذابوں میں سے ایک ہے اور (یاد رکھو کہ) مدینہ منورہ کے علاوہ دنیا کے ہر شہر میں مسیح دجال کا رعب اورخوف پہنچے گا، مدینہ منورہ کے ہر راستے پر دو فرشتے مامور ہوں گے، وہ اس شہر سے مسیح دجال کے خوف کو دور رکھیں گے۔
Takhreej
(۱۲۸۳۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، رجالہ ثقات رجال الصحیح، لکن اختلف فیہ علی الزہری …، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۵۴۱، وابن حبان: ۶۶۵۲ (انظر: ۲۰۴۲۸)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((بَیْنَمَا اَنَا نَائِمٌ ، اُتِیْتُ بِخَزَائِنِ اْلَارْضِ، فَوُضِعَ فِي یَدِي سِوَارَانِ مَنْ ذَھَبَ ، فَکَبُرَا عَلَيَّ وَاَھَمَّانِي، فَاُوْحِيَ اِلَيَّ اَنْ اَنْفُخَھُمَا، فَنَفَخْتُھُمَا فَذَھَبَا، فَاَوَّلْتُھُمَا: الْکَذَّابَیْنِ اللَّذَیْنِ اَنَا بَیْنَھُمَا: صَاحِبَ صَنْعَائَ، وَصَاحِبَ الْیَمَامَۃِ۔)) … میں سویا ہوا تھا، میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے، میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن رکھ دیے گئے، وہ مجھ پر گراں گزرے اور انھوں نے مجھے مغموم و بے چین کر دیا، میری طرف وحی کی گئی کہ پھونک مارو، میں نے پھونک ماری، وہ دونوں (میرے ہاتھ سے) ہٹ گئے۔ میں نے اس خواب کی تعبیر یہ کی کہ ان سے مراد دو جھوٹے ہیں، کہ میں جن کے درمیان ہوں، (۱) صاحبِ صنعاء (یعنی اسود عنسی) اور (۲) صاحبِ یمامہ (یعنی مسیلمہ کذاب)۔ (صحیح بخاري: ۴۳۷۵، ۷۰۳۷، صحیح مسلم: ۷/۵۸)
اسود عنسی اور مسیلمہ دو جھوٹے مدعیانِ نبوت تھے۔یمن میں امن واسلام کی تکمیل ہو چکی تھی، ہر علاقے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمال موجود تھے، اچانک کہف حنان نامی شہر میں سات سو جنگجوؤں کے ساتھ اسود عنسی ظاہر ہوا۔ وہ اپنے لیے نبوت و حکومت کا دعویدار تھا، اس نے آگے بڑھ کر صنعا پر قبضہ کر لیا، اس کے فتنے میں سختی اور حکومت میں طاقت آتی گئی، حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمال اشعریین کے علاقے میں سمٹ آئے، مسلمانوں نے اس کے ساتھ مصلحت سے کام لیا۔یہ سلسلہ تین چار ماہ تک جاری رہا۔ پھر فیزوز دیلمی اور اس کے فارسی ساتھیوں نے، جو مسلمان ہو چکے تھے، کوئی چال چلی اور فیروز نے اسے قتل کر کے اس کا سر کاٹا اور قلعہ کے باہر پھینک دیا۔ یہ دیکھ کر اس کے ساتھی بھاگ نکلے اور اہل اسلام غالب آگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمال اپنے اپنے کاموں پر واپس آگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی اطلاع لکھ کر بھیج دی گئی۔ اس کے قتل کا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے ایک یوم پہلے پیش آیا تھا، اس لیے صحابہ کرام کا خط ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں موصول ہوا تھا، لیکن آپ بذریعہ وحی صحابہ کرام کو اطلاع دے چکے تھے۔
فتح مکہ کے بعد مختلف قبائل کی طرف سے جو وفود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان ہوئے، ان میں مسیلمہ بن حبیب بھی بنو حنیفہ کے وفد میں شامل تھا۔ جب یہ اپنے وطن یمامہ کی طرف واپس لوٹا اور انہیں ایام میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت کے ناساز ہونے کی خبر مشہور ہوئی تو اس نے نبوت کا دعوی کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا عملی تدارک کیے بغیر دنیائے فانی سے روانہ ہو گئے۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی مختلف وجوہات کی وجہ سے مسیلمہ کا فورا تدارک نہ کر سکے، بالآخر عکرمہ بن ابو جہل کو مسیلمہ کی سرکوبی پر نامزد فرمایا، پہلی لڑائی میں مسیلمہ شکست کھا گیا، لیکن پھر قبیلہ ربیعہ کے چالیس ہزار جنگجو مسیلمہ کے پاس جمع ہو گئے، ان میں بعض لوگ اس کو جھوٹا سمجھتے تھے، لیکن ہم قومیت کی بنا پر اس کی کامیابی کے خواہاں تھے، … … باغ کے اندر بھی جب ہنگامہ زور گرم ہوا تو مسیلمہ مجبوراً مسلح ہو کر گھوڑے پر سوار ہوا اور لوگوں کو لڑنے کے لیے آمادہ کرنے لگا، لیکن جب اس نے ہر طرف مسلمانوں کو چیرہ دست دیکھا تو گھوڑے سے اتر کر باغ کے باہر چپکے سے جانے لگا۔ اتفاقاً باغ کے دروازے کے قریب وحشی کھڑا تھا، اس نے اپنا حربہ پھینک ماراجو مسیلمہ کی دوہری زرہ کو کاٹ کر اس کے پیٹ کے باہر نکل آیا، آخر کار دشمنوں میں سے جس کو جس طرف راستہ ملا، وہ بھاگ گیا۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے فتنوں کا تذکرہ کر رہے تھے‘ آپ نے بھی فتنۂ احلاس سمیت بہت سے فتنوں کا ذکر کیا۔ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! فتنۂ احلاس سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فتنۂ احلاس سے مرادجنگ و جدل اور شکست و ریخت کا زمانہ ہے‘ پھر خوشحالی و آسودگی کا فتنہ ابھرے گا‘ اس کی ابتداء و انتہاء اور سرپرستی و ذمہ داری ایسے آدمی کے ہاتھ میں ہو گی‘ جو اپنے گمان کے مطابق مجھ سے ہو گا‘ حالانکہ وہ مجھ سے نہیں ہو گا‘ میرے دوست تو پرہیز گار لوگ ہیں‘ پھر لوگ ایسے شخص پر صلح کریں گے، جو مستقل طور پربادشاہت کے لائق اوراس کا اہل نہیں ہو گا، اس کے بعد بھیانک آفت و مصیبت پر مشتمل فتنہ نمودار ہو گا‘ وہ اس امت کے ہر فرد کو ہلا کر رکھ دے گا۔ جب کہا جائے گا کہ فتنہ ختم ہو چکا ہے‘ تو وہ حد سے بڑھ کر سامنے آئے گا۔ بندہ بوقت ِ صبح مومن ہو گا اور شام کو کافر، لوگ دو جماعتوں میں بٹ جائیں گے: ایک جماعت صاحبِ ایمان ہو گی‘ اس میں کوئی نفاق نہیں ہو گا اور دوسری جماعت صاحبِ نفاق ہو گی‘ اس میں کوئی ایمان نہیں ہو گا‘ جب معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا تو دجال کا انتظار کرنا‘ وہ اسی دن آسکتا ہے، یا پھر اگلے دن آ جائے گا۔
فوائد: … حلس کی جمع احلاس ہے، اس کے معانی ہیں: وہ چادر جو پالان کے نیچے اونٹ کی پیٹھ کے ساتھ ملی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ فتنہ طول اختیار کرے گا اور چھٹنے کا نام نہیں لے گا، جیسے یہ چادر اونٹ کی پیٹھ کے ساتھ لگی رہتی ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس چادر کی سیاہی اور ظلمت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہو۔امام خطابی رحمہ اللہ نے کہا: کَوَرِکٍ عَلٰی ضِلَعٍ کا لفظی معنی مراد نہیں ہے، کیونکہ پسلی، کولہے پر سہارا نہیں لیتی۔ یہ ایک ضرب المثل ہے، جس کے معانی ہیں: وہ معاملہ جو ثابت ہوتا ہے نہ سیدھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ وہ شخص بادشاہت کے لائق ہو گا نہ اس کا مستقل اہل۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے وہ دن بھی دیکھے ہیں جب انسان اپنے مسلمان بھائی کو صاحب ِ ثروت اور مال دار کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دیتا تھا، لیکن اب میں دیکھتا ہوں کہ ہمیں مسلم بھائی کی بہ نسبت دینار اوردرہم زیادہ محبوب ہیں۔ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اگر تم نے جہاد کو چھوڑ دیا اور گائیوں کی دموں کے پیچھے لگ گئے اور بیع عِینہ کرنے لگ گئے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلط کر دے گا،اور جب تک تم اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ نہیں کرو گے اور اپنے اصل دین کی طرف نہیں لوٹو گے تو وہ ذلت بھی تم سے جدا نہیں ہو گی۔ اور میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا کہ : تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ کی طرف ہجرت ہوتی رہے گی، یہاں تک کہ باقی روئے زمین پر صرف بد ترین لوگ ہی رہ جائیں گے۔ ان کی زمین ان کو اگل دے گی اور اللہ تعالیٰ کی روح بھی ان سے نفرت کرے گی اور آگ ان لوگوں کو بندروں اور خنزیروں کے ساتھ گھیر کر ایک جگہ جمع کرے گی، جہاں وہ قیلولہ کریں گے، آگ بھی وہیں قیلولہ کرے گی اور جہاں وہ رات گزاریں گے، آگ بھی وہیں رات گزارے گی اور ان میں سے جو آدمی گر جائے، وہ آگ اسے جلا دے گی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ : میری امت میں ایک ایسی بد عمل قوم پیدا ہو گی، کہ وہ قرآن کی تلاوت تو کریں گے، لیکن وہ ان کے حلقوں سے آگے نہیں جائے گا، (بظاہر ان کے عمل اتنے اچھے ہوں گے کہ) تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلے میں کم تر سمجھو گے، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے، جب ایسے لوگ نمودار ہوں تو تم انہیں قتل کر دینا، اس کے بعد پھر جب ان کا ظہور ہوتو ان کو قتل کر دینا، پھر جب وہ ظاہر ہوں تو ان کو مار ڈالنا، ان کو قتل کرنے والے کے لیے بھی بشارت ہے اور ان کے ہاتھوں قتل ہو جانے والے کے لیے بھی خوشخبری ہے، جب ان کی نسل نمودار ہوگی تو اللہ تعالیٰ اسے نیست و نابود کر دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کو بیس یا اس سے بھی زائد مرتبہ دہرایا اور میں سنتا رہا۔
Takhreej
(۱۲۸۳۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۷۴، وأخرج البخاری (۶۹۳۲) وقد ذکر الحروریۃ، فقال: قال النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((یمرقون من الاسلام کما یمرق السھم من الرمیۃ۔)) (انظر: ۵۵۶۲)
Explanation
فوائد:… گائیوں کی دموں کے پیچھے لگ جانے سے مراد کھیتی باڑی میں مصروف ہو جانا ہے۔ یاد رہے کہ کھیتی باڑی فی نفسہ پسندیدہ چیز ہے،لیکن جب آدمی جہاد اوردوسرے احکامِ شریعت سے روگردانی کر کے دنیوی مال و دولت سمیٹنے میں مصروف ہو جاتا ہے تو اس وقت رزق کا ہر حلال سبب بھی قابل مذمت قرار پاتا ہے۔ بیع عِینہ: یہ تجارت کی ا یک قسم ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ ایک انسان کسی کو کوئی چیز ادھار پر فروخت کرے، پھر اس سے وہی چیز نقداً کم قیمت میں خرید لے۔یہ دراصل ادھار کے عوض زیادہ رقم حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت ٹھہر ٹھہر کر وضو کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر اٹھایا اور مجھے دیکھ کر فرمایا: اے میری امت! (قیامت سے پہلے) تمہارے اندر چھ بڑے بڑے امور رونما ہوں گے، پہلی چیز تمہارے نبی کی موت ہے۔ یہ بات سن کر مجھے یوں لگا کہ میرا دل اپنی جگہ سے اڑ گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک ہے۔ پھر فرمایا: اور تمہارے اندر دولت کی اس قدر ریل پیل ہوجائے گی کہ کسی کو دس ہزار بھی دئیے جائیں گے تو وہ اسے قلیل سمجھتے ہوئے ناگواری کا اظہار کرے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ دوسری علامت ہو گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک ایسا فتنہ رونما ہوگا جو تم میں سے ہر ایک کے گھر میں داخل ہو جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تیسری علامت ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کثرت سے موتیں واقع ہوں، جیسے بکریاں ایک خاص بیماری کی وجہ سے مرنے لگتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ چوتھی علامت ہے اور تمہارے اور بنو اصفر کے درمیان صلح ہوگی، وہ عورت کے حمل کی مدت یعنی نوماہ تک تو تم سے صلح رکھیں گے، پھر وہ تم سے بے وفائی کر جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ پانچویں علامت ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اور ایک شہر فتح ہوگا، یہ چھٹی علامت ہو گی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا شہر ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قسطنطنیہ۔