قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں
اور علامتوں کا بیان - قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں
اور علامتوں کا بیان - Book 175 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 175 of Musnad Ahmad, with 43 chapters and 280 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایام اور یہ زمانہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگا،جب تک میرے اہل بیت کا ایک ایسا آدمی عرب کی سرزمین کا حکمران نہیں بنے گا، جس کا نام میرے نام جیسا ہوگا۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگردنیا کا صرف ایک دن باقی رہ گیا ہو توپھر بھی اللہ تعالیٰ ہم میں سے ایک آدمی کو بھیجے گا، جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جیسا کہ وہ اس سے پہلے ظلم و عدوان سے بھری ہوئی ہوگی۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ میرے اہل بیت کا ایک آدمی برسرِاقتدار نہیں آجائے گا، وہ انتہائی خوبصورت اونچے ناک والا ہوگا اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دے گا، جیسے یہ اس سے پہلے ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی، وہ سات برس ٹھہرے گا۔
Takhreej
(۱۲۹۲۱) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: یکون سبع سنین مطر بن طھمان الوراق، وان کان فیہ ضعف من جھۃ حفظہ، متابع، أخرجہ ابویعلی: ۱۱۲۸، والحاکم: ۴/ ۵۵۷ (انظر: ۱۱۱۳۰)
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں اس بات کا اندیشہ ہوا کہ نبی کریم کے بعد دنیا میں مختلف حوادث رونما ہوں گے، اس لیے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں ایک شخص مہدی پانچ یا سات یا نو کے لیے نکلے گا۔ زید راوی کو شک ہوا، میں نے کہا: اس عدد سے کیا مراد ہے؟ انھوں کہا: سال، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آسمان لوگوں پر موسلا دھار بارشیں برسائے گا اور زمین اپنی کھیتیوں میں سے کچھ بھی اپنے اندر ذخیرہ نہیں رکھے گی اور مال و دولت کے ڈھیر لگے ہوں گے، ایک آدمی اس کے پاس آکر کہے گا کہ اے مہدی!مجھے دو، مجھے دو، تو جتنا کچھ اسے اٹھانے کی طاقت ہو گی، اتنا کچھ وہ اس کے کپڑے میں ڈال دے گا۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میری امت کے لوگوں میں اختلاف زوروں پر ہوگا اور زلزلے آرہے ہوں گے، میں تمہیں مہدی کی بشارت دیتا ہوں جو زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا، جیسے اس سے پہلے یہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہو گی، آسمان والے اور زمین والے سب ہی اس سے خوش ہوں گے، وہ لوگوں کے درمیان مساوات کے ساتھ مال و دولت تقسیم کرے گا اور اللہ تعالیٰ امت ِ محمد کے دلوں کو غنا سے بھر دے گا، اس کا عدل و انصاف ہر ایک کو پہنچے گا، وہ ایک منادی کرنے والے کو حکم دے گا، پھر وہ یہ اعلان کرے گا کہ کس کو مال کی ضرورت ہے۔ یہ اعلان سن کر صرف ایک آدمی اٹھے گا، مہدی اس سے کہے گا: جا اورخزانچی سے کہو کہ مہدی تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم مجھے مال و دولت دو، وہ خزانچی اس سے کہے گا کہ تم جس قدر لینا چاہتے ہو اٹھالو، جب وہ اپنی جھولی میں بہت سا مال لے کر اسے باندھے گا تو خودہی نادم ہو کر کہے گا: امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں میں ہی زیادہ بے صبرا نکلا، جو چیز ان سب کو پہنچ گئی، کیا وہ مجھ سے ہی عاجز آ گئی ہے، سو وہ اس مال کو واپس کرے گا، لیکن مہدی اس سے قبول نہیں کرے گا اور اسے کہا جائے گا: ہم جو چیز دے دیں وہ واپس نہیں لیتے۔ سات یا آٹھ یا نو سال اسی طرح خوش حالی کا دور دورہ رہے گا، اس کے بعد زندہ رہنے میں کوئی خیر نہیں ہوگی۔
Takhreej
(۱۲۹۲۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال العلاء بن بشر المزنی (انظر: ۱۱۳۲۶)
Explanation
فوائد:… شیخ البانی نے درج ذیل روایت کو سلسلہ صحیحہ میں ذکر کیا ہے:
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَخْرُجُ فِي آخِرِ اُمَّتِي الْمَھْدِيُّ، یَسْقِیْہِ اللّٰہُ الْغَیْثَ، وَتُخْرِجُ الْاَرْضُ نَبَاتَھَا، وَیُعْطِي الْمَالَ صِحَاحاً،وَتَکْثُرُ الْمَاشِیَۃُ، وَتَعْظُمُ الْأُمَّۃُ، یَعِیْشُ سَبْعًا اَوْ ثَمَانِیًا۔)) یَعْنِي حَجَّۃً۔… میری امت کے آخری زمانے میں مہدی نکلے گا، اللہ تعالیٰ بارش نازل کر ے گا، زمین کھیتیاں اگائے گی، وہ لوگوں کو بہترین مال عطا کریں گے، مویشی زیادہ ہو جائیں گے، امت کی تعداد بڑھ جائے گی اور وہ سات یا آٹھ سال تک زندہ رہے گا۔ (حاکم: ۴/۵۵۷۔ ۵۵۸، صحیحہ: ۷۱۱)
مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم خراسان کی جانب سے سیاہ جھنڈے آتے دیکھو تو تم ان کی طرف جا کر ان میں شامل ہوجانا، ان میں اللہ کا خلیفہ مہدی ہوگا۔
Takhreej
(۱۲۹۲۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، شریک بن عبد اللہ النخعی سییء الحفظ، وعلی بن زید بن جدعان ضعیف، وابوقلابۃ الجرمی لم یسمع من ثوبان، بینھما ابو اسماء عمرو بن مرثد الرحبی، أخرجہ ابن ماجہ : ۴۰۸۴(انظر: ۲۲۳۸۷)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مہدی ہم اہل بیت میں سے ہو گا، اللہ تعالیٰ ایک رات میں اس کی اصلاح فرمائے گا۔
Takhreej
(۱۲۹۲۵) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۰۸۵(انظر: ۶۴۵)
Explanation
فوائد:… اصلاح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر رجوع کرے گا، اس کو توفیق دے گا اور اس کی رشد و ہدایت اس کو الہام کرے گا، پہلے اس میں ایسے اوصاف نہیں ہوں گے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: شیخ غزالی نے کہا: میں تو ایک طالب علم ہوں، بہرحال میرے علم کے مطابق تو کسی واضح حدیث میں امام مہدی کا ذکر نہیں آتا اور اگر کوئی صریح حدیث ہے تو وہ صحیح نہیں ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: جنابِ غزالی! کون سے مشائخ نے آپ جیسے طالب علم کو ایسی روایات کی نفی کرنے کی تلقین کی؟ کیا وہ علمائے کلام تو نہیں ہیں، جن بیچاروں کے پاس حدیث کا علم ہے نہ راویانِ حدیث کا؟
اس دعوے کی کیا اہمیت ہے، جبکہ دوسری طرف علمائے حدیث نے مختلف احادیث کی روشنی میں امام مہدی کی آمد کو ثابت کر رکھا ہے۔ امام غزالی کو چاہیے تھا کہ وہ تصحیح و تضعیف کے قانون کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن و حدیث اور ان سے صادر ہونے والے احکام و مسائل کا مراجعہ کرتے اور مسلانوں کو خواہ مخواہ شک میں نہ ڈالتے۔
میرے مسلمان بھائی! عصر حاضر میں اکثر مسلمان راہِ مستقیم سے منحرف ہو چکے ہیں، یہ ذاتی اختراعات اور خود ساختہ آراء کی روشنی میں شریعت کی مختلف نصوص کی وضاحت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ اب امام مہدی کے خروج کے بعد ہی اسلام کو غلبہ وا قتدار نصیب ہو گا، (ان سے پہلے غلبۂ اسلام کی کوئی صورت نہیں)۔
یہ بے سر و پا دعوی اور ضلالت و گمراہی ہے، جو شیطان نے اکثر لوگوں اور بالخصوص صوفیوں کے دلوں میں القاء کر دی ہے۔ حالانکہ امام مہدی کی آمد میں جتنی احادیث ِ نبویہ مروی ہیں، کسی ایک سے بھی یہ دعوی ثابت نہیں ہوتا۔ اتنا ضرور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو ایسے شخص کے ظہور کی خوشخبری سنائی، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہو گا اور وہ اسلام کے احکام کی روشنی میں فیصلہ کرنے کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف کو عام کر دے گا، حقیقت میں وہ ان مجدِّدین میں سے ہو گا، جن کو اللہ تعالیٰ ہر صدی کے بعد بھیجتا ہے۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ ہم دین کی تجدید کی خاطر علم و عمل کے لیے جد و جہد ترک کر دیں۔
اسی طرح امام مہدی کی آمد کا یہ معنی بھی نہیں کہ ہم زمین میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کے نفاذ کے لیے کوئی کوشش نہ کریں اور ان کی آس میں بیٹھ جائیں۔
ہم نے عوام الناس کی جو بے سر و پا باتیں بیان کی ہیں، بعض صوفیوں سمیت کچھ لوگوں کو ان کا علم تو ہے، لیکن جب ان میں یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ امام مہدی کے خروج کا عقیدہ رکھنے سے یہ امور لازم تو آئیں گے، تو وہ فوراً انکار کرنے لگتے ہیں۔ یہ تو ایسے ہی ہے، جیسے کسی نے کہا: اس نے میرا علاج اس چیز کے ساتھ کیا، جس میں بیماری تھی۔ ایسے لوگ معتزلیوں سے مختلف نہیں ہیں کہ جنھوں نے اس بنا پر تقدیر کا انکار کر دیا کہ کچھ لوگ اس سے جبر کا استدلال کر رہے ہیں۔ یہ بیچارے ایک طرف تو جبر کا جواب نہ دے سکے اور دوسری طرف جس چیز کا عقیدہ رکھنا فرض تھا، اس کا انکار کر دیا۔
ایک فریق کا خیال ہے کہ تاریخ اسلامی شاہد ہے کہ بعض خود غرضوں اور بیوقوفوں نے امام مہدی کے قصے سے ناجائز فائدہ اٹھا کر لوگوں کو زبردست قتنوں میں مبتلا رکھا ہے، مثلاً جہیمان سعودی کا حرمِ مکی میں برپا کیا ہوا فتنہ۔ اس لیے ضروری ہے کہ سرے سے امام مہدی کی آمد کا ہی انکار کر دیا جائے، تاکہ فتنہ باز لوگوں کے فتنے دب جائیں، شیخ غزالی نے بھی اپنے کلام کے آخر میں اس چیز کی طرف اشارہ کیا تھا۔
اس فاسد خیال کے حق میں رائے دینے والے اُن باطل پرستوں کی طرح ہیں جنھوں نے آخری زمانے میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا انکار اس بنا پر کیا ہے، کہ بعض کذاب اور دجّال لوگوں نے فتنہ برپا کرنے کے لیے اپنے آپ کو مسیح موعود ظاہر کیا ہے، مثال کے طور پر مرزا غلام احمد قادیانی۔ شیخ شلتوت جیسوں نے واضح طور پر عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا انکار کر دیا اور بعض وضاحت تو نہیں کرتے، لیکن ان کی زبانیں اس قسم کے خیالات ِ فاسدہ اگلتی رہتی ہیں۔ ممکن ہے کہ میں حتمی طور پر یہ دعوی کر دوں کہ جن لوگوں نے امام مہدی کی آمد کا انکار کیا، انھوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا بھی انکار کر دیا۔
میرے ہاں ان مُنکِرین کی مثال اس شخص کی طرح ہے، جو اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا انکار اس چیز کو بنیاد بنا کر دے کہ بعض فرعونوں نے بھی الوہیت کا دعوی کیا ہے، اس لیے سرے سے اللہ تعالیٰ کے معبود ہونے کا ہی انکار کر دیا جائے، تاکہ فراعنہ باز آ جائیں۔ {فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ} (سورۂ قمر: ۱۵) … کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا؟
(صحیحہ: ۱۵۲۹)
ان بیچاروں کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو ریت کی تپش سے بچنے کے لیے آگ میں گھس گیا، حق یہ ہے کہ شرعی علم و عمل کی روشنی میں فتنوں کا ردّ کیا جائے۔
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک خلیفہ) کی وفات کے موقع پر لوگ اختلاف میں پڑ جائیں گے، اتنے میں ایک آدمی مدینہ منورہ سے فرار ہو کر مکہ مکرمہ چلا جائے گا، اہل مکہ میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آکر اسے باہر نکالیں گے اور حجراسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس کے ہاتھ پر بیعت کریں گے، جبکہ وہ اس چیز کو ناپسند کر رہا ہو گا، ان کے مقابلہ کے لیے شام کی طرف سے ایک لشکر چلے گا، لیکن جب وہ بیداء مقام پر پہنچے گا تو اسے وہیں زمین پر دھنسا دیا جائے گا، جب لوگ یہ صورت حال دیکھیں گے تو ملک شام کے صلحاء اور عراق کی فوجیں آکر اس کی بیعت کریں گے، پھر قریش میں سے ایک ایسا آدمی اٹھے گا، جس کے ماموں بنو کلب کے لوگ ہوں گے، مکہ مکرمہ والا آدمی اس کے مقابلے کے لیے ایک دستہ بھیجے گا اور یہ ان پر غالب آ جائیں گے، یہ بنو کلب کا لشکر ہوگا، ناکامی ہے ان لوگوں کے لیے، جو بنوکلب کی غنیمت میں حاضر نہیں ہوں گے، پھر وہ حاکم لوگوں میں مال تقسیم کرے گا اور لوگوں میں نبی کی سنت کے مطابق عمل رائج کرے گا اور دینِ اسلام کو زمین پر برپا اور مضبوط کرے گا، اور نویا سات برس تک ٹھہرے گا۔
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے اور اگلی روایات میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ ان کا مصداق امام مہدی ہوں گے۔
لیکن امام ابوداود نے اس قسم کی احادیث کا اپنی سنن میں کتاب المھدی میں ذکر کیا ہے، امام طیبی نے کہا: اس خلیفہ سے مراد امام مہدی ہیں، کیونکہ امام ابوداود نے ان احادیث کو کتاب المھدی میں ذکر کیا ہے۔
عبید بن قبطیہ کہتے ہیں: حارث بن ابی ربیعہ اور عبد اللہ بن صفوان، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، میں بھی ان کے ہمراہ تھا، انھوں نے سیدہ سے اس لشکر کے بارے میں پوچھا جسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا،یہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت کی بات تھی، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ایک پناہ طلب کرنے والا حطیم میں پناہ لے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے مقابلے کے لیے ایک لشکر بھیجے گا، لیکن جب وہ بیداء میں پہنچے گا تو ان کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بندے کا کیا بنے گا، جو مجبوراً ان کے ساتھ آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے بھی انہی کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا، البتہ قیامت کے دن اس کو اس کی نیت کے مطابق اٹھا دیا جائے گا۔ جب میں نے یہ حدیث ابو جعفر سے ذکر کی تو انھوں نے کہا کہ اس سے مدینہ والا بیداء مراد ہے۔
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں لیٹے ہوئے تھے، اچانک تیزی سے اٹھ کر بیٹھ گئے اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھنے لگ گئے، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا بات ہوئی کہ آپ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھ رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میری امت کا ایک لشکر شام کی طرف سے آئے گا، وہ ایک ایسے آدمی کے مقابلہ کے لیے آئیں گے کہ جس کی حفاظت کرنے والا اللہ تعالیٰ ہو گا، جب یہ لشکر ذوالحلیفہ کے قریب بیدائ مقام پر پہنچے گا تو اس میں شامل تمام افراد کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، البتہ ان کا زمین سے اٹھنا مختلف انداز میں ہوگا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کیسے ہوگا کہ سب افراد کو دھنسا تو دیا جائے گا، لیکن ان کا زمین سے اٹھنا ایک دوسرے سے مختلف ہو گا؟آپ نے فرمایا: ان میں بعض افراد ایسے بھی ہوں گے، جنہیں مجبور کیا گیا ہوگا، ان میں بعض افراد ایسے بھی ہوں گے جنہیں مجبور کیا گیا ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ جملہ تین بار ارشاد فرمایا۔
فوائد:… اس حدیث کا صحیح سیاق درج ذیل ہے:
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، یَقُولُ: حَدَّثَتْنِی عَائِشَۃُ أُمُّ الْمُؤْمِنِینَ، قَالَتْ: بَیْنَمَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ، إِذْ ضَحِکَ فِی مَنَامِہِ، ثُمَّ اسْتَیْقَظَ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ! مِمَّ ضَحِکْتَ؟ قَالَ: ((إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِی یَؤُمُّونَ ہٰذَا الْبَیْتَ لِرَجُلٍ مِنْ قُرَیْشٍ، قَدْ اسْتَعَاذَ بِالْحَرَمِ، فَلَمَّا بَلَغُوا الْبَیْدَاء َ، خُسِفَ بِہِمْ، مَصَادِرُہُمْ شَتّٰی، یَبْعَثُہُمُ اللّٰہُ عَلٰی نِیَّاتِہِمْ۔)) قُلْتُ: وَکَیْفَ یَبْعَثُہُمُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی نِیَّاتِہِمْ وَمَصَادِرُہُمْ شَتّٰی؟ قَالَ: ((جَمَعَہُمُ الطَّرِیقُ، مِنْہُمُ الْمُسْتَبْصِرُ، وَابْنُ السَّبِیلِ، وَالْمَجْبُورُ یَہْلِکُونَ مَہْلِکًا وَاحِدًا، وَیَصْدُرُونَ مَصَادِرَ شَتَّی۔)) …سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوئے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیند کے اندر ہی مسکرا پڑے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے مسکرانے کی کیا وجہ تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ اس بیت اللہ کا قصد کریں گے، ایک ایسے قریشی آدمی کی خاطر، جس نے حرم میں پناہ لی ہو گی، جب وہ بیداء مقام پر پہنچیں گے تو ان کو دھنسا دیا جائے گا، لیکن ان کے نکلنے کے مقامات علیحدہ علیحدہ ہوں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا۔ میں نے کہا: یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے اور ان کے نکلنے کے مقامات الگ الگ ہوں (جبکہ ان کی ہلاکت گاہ ایک ہی ہو گی)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دراصل وہ ایک راستے پر اکٹھے ہوں گے، جبکہ ان میں سے کسی کا معاملہ تو واضح ہو گا، کوئی مسافر ہو گا اور کوئی مجبور ہو گا، اس لیے وہ سارے ایک مقام پر ہلاک تو ہو جائیں گے، لیکن وہ الگ الگ مقامات سے نکلیں گے۔ (مسند احمد: ۲۴۷۳۸، وأخرجہ مسلم بنحوہ: ۲۸۸۴)
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک لشکر بیت اللہ پر چڑھائی کرنے کا ارادہ کر کے اِدھر کو روانہ ہوگا، جب وہ بیداء کے مقام پر ہوں گے تو ان کے درمیان والوں کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، ان کے شروع والے اور آخر والے، سب ایک دوسرے کو پکارنے لگیں گے، لیکن کوئی بھی بچ نہیں سکے گا، ماسوائے اس آوارہ کے، جو دھنسنے والوں کے بارے میں دوسرے لوگوں بتلائے گا۔ ایک راوی نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا پر اور سیدہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ نہیں بولا۔
سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشرق کی طرف سے ایک لشکر آئے گا، ان کا ارادہ مکہ کے ایک آدمی پر حملہ کرنے کا ہو گا، جب وہ بیداء کے مقام پر پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا، آگے بڑھ جانے والے لوگ واپس پلٹ پڑیں گے تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ پچھلے لوگوں کے ساتھ کیا ہوا ہے، اتنے میں وہ بھی اسی مصیبت میں پھنس جائیں گے، میں (حفصہ) نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ان میں جن لوگوں کو مجبوراً لایا گیا ہوگا، ان کا کیا بنے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ سب دھنسا دئیے جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ہر فرد کو اس کی نیت کے مطابق اٹھائے گا۔
Takhreej
(۱۲۹۳۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف سلمۃ بن الفضل الابرش، ولعنعنۃ محمد بن اسحاق، ولجھالۃ عبد الرحمن بن موسی، أخرجہ البخاری فی التاریخ الاوسط : ۱/۱۴۳(انظر: ۲۶۴۵۸)
ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ اس بیت اللہ پر چڑھائی کرتے رہنے سے باز نہیں آئیں گے، یہاں تک کہ اسی طرح کا ایک لشکر یہی ارادہ کر کے چلے گا، لیکن جب وہ بیداء کے مقام تک پہنچیں گے توان کے شروع والے، آخر والے سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا اور درمیان والے بھی نہیں بچ سکیں گے۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان لوگوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، جو مجبوراً آئے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ ان کو ان کے دلوں کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا۔
Takhreej
(۱۲۹۳۱) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: لاینتھی الناس عن غزو ھذا البیت ، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ ابن صفوان، واختلف علیہ فیہ، أخرجہ ابویعلی: ۷۰۶۹، ۷۱۱۶ (انظر: ۲۶۸۵۸)
سیدنا نافع بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھا،مغرب کے علاقے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ لوگ آئے، انھوں نے اونی لباس کے کپڑے پہنے ہوئے تھے، ایک ٹیلے کے پاس ان کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات ہوئی، وہ کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، میں بھی آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور ان کے درمیان کھڑا ہوگیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار باتیں یاد کر لیں، اب میں ان کو اپنے ہاتھ پر شمار کر سکتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا:: تم جزیرۂ عرب کے باسیوں سے لڑائی کرو گے‘ اللہ تعالیٰ فتح نصیب فرمائے گا‘ پھر فارس سے لڑائی ہو گی‘ وہ بھی فتح ہو جائے گا‘ پھر روم سے لڑائی ہو گی، اللہ تعالیٰ فتح دے گا اور پھر تم دجال سے لڑائی کرو گے‘ اس پر بھی اللہ تعالیٰ تم کو فتح سے ہمکنار کرے گا۔
Takhreej
(۱۲۹۳۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۰۰(انظر: ۱۸۹۷۳)
Explanation
فوائد:… یہ احادیث، اعلامِ نبوت میں سے ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد بہت جلد یہ پیشین گوئیاں پوری ہو گئیں اور دنیا کی بڑی بڑی سلطنتیں مسلم مجاہدوں کے قدموں میں ڈھیر ہو گئیں، البتہ ابھی تک دجال سے لڑائی باقی ہے، ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ بیچارہ بھی مغلوب ہو جائے گا۔
۔ (تیسر ی سند) سیدنا نافع بن عتبہ بن ابی وقاص سے اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا:جب تک روم فتح نہیں ہوجائے گا، اس وقت تک دجال کا ظہور نہیں ہوگا۔
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں کو عجمیوں سے بھر دے گا، لیکن اس کے بعد پھر ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ شیر بن جائیں گے، تمہارے جنگجوؤں کو قتل کریں گے اورتمہارے چھوڑے ہوئے مال کو کھائیں گے۔
Takhreej
(۱۲۹۳۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، فان ھشیم بن بشیر والحسن البصری مدلسان ولم یصرحا بالسماع، أخرجہ البزار: ۳۳۶۶، والطبرانی فی الکبیر : ۶۹۲۱(انظر: ۲۰۱۲۳)
ایک صحابی ٔ رسول سیدنا ذی مِخمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ اہل روم تم سے امن والی صلح کر لیں گے، پھر تم اور وہ مل کر ایک مشترکہ دشمن سے لڑائی کرو گے،تمہاری مدد کی جائے گی، پس تم سالم رہو گے اور مالِ غنیمت حاصل کرو گے، لیکن جب تم سرسبز وشاب ٹیلوں والے مقام میں قیام کرو گے تواس وقت ایک عیسائی آدمی صلیب کو بلند کر کے کہے گا کہ صلیب غالب آگئی ہے۔ یہ سن کر ایک مسلمان غیرت کرے گا اور اٹھ کر اس صلیب کو توڑ ڈالے گا، اس موقع پر رومی تمہارے ساتھ بدعہدی کریں گے اور وہ گھمسان کی جنگ کے لیے جمع ہو جائیں گے۔
۔ (دوسری سند) سیدنا ذی مخمر رضی اللہ عنہ ، یہ حبشی آدمی تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ رومیوں کے ساتھ واقعی امن والی صلح کرو گے، پھر تم ان کے ساتھ مل کر کسی اور دشمن سے لڑائی کرو گے اور تم سالم بھی رہو گے اور مالِ غنیمت بھی حاصل کروگے۔ سابقہ حدیث کی طرح ہی ذکر کیا، البتہ اس میں ہے: ایک مسلمان اٹھے گا اور اس کی طرف جا کر اسے قتل کر دے گا، اس موقع پر رومی بد عہدی کر جائیں گے اور پھر گھمسان کی جنگیں لڑی جائیں گی، وہ جمع ہو کر (۸۰) جھنڈوں پر مشتمل لشکر کی صورت میں تمہاری طرف آئیں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے دس ہزار افراد ہوں گے۔
سیدنا مستورد فہری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا:قیامت قائم ہوتے وقت رومیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی، سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ذرا غور کرو، کیا کہہ رہے ہو؟ انہوںنے کہا: میں نے جوبات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، وہی تم سے کہہ رہا ہوں۔ یہ سن کر سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم یہی بات کہتے ہو تو پھر اس کی وجہ یہ ہے کہ رومیوں میں یہ چار اوصاف ہیں: (۱) اگر وہ میدانِ جنگ سے فرار ہوجائیں، تو (انتقامی) حملہ کرنے کے لیے بہت جلد واپس آتے ہیں، (۲)وہ غریبوں، فقیروں اور ضعیفوں کے حق میں دوسرے لوگوں کی بہ نسبت بہت بہتر ہیں، (۳) وہ لڑائی کے وقت سب سے زیادہ حوصلہ مند ثابت ہوتے ہیں اور (۴) یہ لوگ بادشاہوں کے مظالم کو سب سے بڑھ کر روکنے والے ہوتے ہیں۔