TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان - قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان - Book 175 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 175 of Musnad Ahmad, with 43 chapters and 280 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

280 Hadith · 43 Chapters
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۸۹۹)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییُبْعَثَ دَجَّالُوْنَ کَذَّابُوْنَ قَرِیْبٌ مِنْ ثَلَاثِیْنَ کُلُّہُمْ یَزْعَمُ اَنَّہٗرَسُوْلُاللّٰہِ۔)) (مسنداحمد: ۱۰۸۷۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تیس کے قریب جھوٹے دجال پیدا نہیں ہوں گے، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔
Takhreej
(۱۲۸۹۹) تخریج: أخرجہ البخاری ضمن حدیث طویل برقم: ۷۱۲۱، وأخرجہ مسلم: ص ۲۲۳۹ (انظر: ۱۰۸۶۵)
Explanation
فوائد:… دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۸۳۲)
12899
Sahih
اس سلسلے میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۹۰۰)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَتَبَاھَی النَّاسُ فِی الْمَسَاجِدِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۰۶)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک لوگ مساجد کے سلسلے میں ایک دوسرے پر فخر کا اظہار نہیں کرنے لگیں گے۔
Takhreej
(۱۲۹۰۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابوداود: ۴۴۹، والنسائی: ۲/ ۳۲، وابن ماجہ: ۷۳۹(انظر: ۱۲۳۷۹)
Explanation
فوائد:… فخر کرنے کی دو صورتیں ہیں: (۱) زبان سے اظہار کرنا، جیسا کہ آج کل لوگ یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ان کی مسجد بہت خوبصورت اور وسیع ہے، اس میں لگا ہوا پتھر بڑا قیمتی ہے، اس کے مینار اتنے بلند ہیں، اس میں بچھا ہوا قالین اس قسم کا ہے، اس میں لکڑی کا کام بڑے ہنر کے ساتھ کیا گیا ہے، جبکہ سننے والے منتظم حضرات کو اس سے خوشی ہوتی ہو۔ (۲) فعل سے اظہار کرنا، مثلا مسجد کی تزیین و آرائش میں مبالغے سے کام لینا اور دل ہی دل میں یہ سمجھنا کہ ہماری مسجد باقی سب مسجدوں سے ممتاز ہے، بلکہ بعض دفعہ زبان سے اس کا اظہار بھی کر دینا۔ کوئی مانے یا نہ مانے، کسی نہ کسی صورت میں اکثر و بیشتر لوگوں میں یہ فخر اپنی دونوں قسموں کے ساتھ پایا جا رہا ہے، الا ما شاء اللہ۔ مزید دیکھیں حدیث نمبر( ۱۳۶۵)
12900
Sahih
اس سلسلے میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۹۰۱)۔ وَعَنْہُ اَیْضًایَرْفَعُ الْحَدِیْثَ قَالَ: ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییُرْفَعَ الْعِلْمُ وَیَظْہَرَ الْجَہْلُ وَیَقِلَّ الرِّجَالُ وَیَکْثُرَ النِّسَائُ حَتّٰییَکُوْنَ قَیِّمَ خَمْسِیْنَ اِمْرَاَۃً رَجُلٌ وَاحِدٌ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۶۶)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک اس طرح نہ ہو جائے کہ علم اٹھ جائے گا،جہالت عام ہوجائے گی، مردوں کی تعداد کم اور عورتوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہوجائے گی کہ پچاس پچاس عورتوں پر ایک ایک مرد نگران ہوگا۔
Takhreej
(۱۲۹۰۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۸۱، ومسلم: ۲۶۷۱ (انظر: ۱۱۹۴۴)
Explanation
فوائد:… دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۸۸۸)
12901
Sahih
اس سلسلے میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۹۰۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییُمْطَرَ النَّاسُ مَطَرًا عَامًّا وَلَا تُنْبِتُ الْاَرْضُ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۱۴۰۹۳)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ لوگوں پر بھرپور اور عام بارش نہیں برسے گی، لیکن زمین کوئی چیز نہیں اگائے گی۔
Takhreej
(۱۲۹۰۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ البزار: ۳۴۱۸، و ابو یعلی: ۳۵۲۷(انظر: ۱۴۰۴۷)
12902
Sahih
اس سلسلے میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۹۰۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَال: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی لَایُقَالَ فِی الْاَرْضِ: اَللّٰہُ اَللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۱۱۳)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک زمین میں اللہ، اللہ کہنا ختم نہ ہو جائے۔
Takhreej
(۱۲۹۰۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ الترمذی: ۲۲۰۷ (انظر: ۱۳۰۸۲)
Explanation
فوائد:… امام نووی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ قیامت بدترین مخلوق پر قائم ہو گئی۔ امام طیبی نے کہا: اس کا معنی یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیا جائے گا اور اس کی عبادت نہیںکی جائے گی، (اس وقت قیامت برپا ہو جائے گی)۔ مراد یہ ہے کہ توحید اور توحید کا اقرار کرنے والے ختم ہو جائیں گے اور روئے زمین پر صرف شرک اور شرّ ہو گا۔
12903
Sahih
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۹۰۴)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لاَتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییُلْتَمَسَ الرَّجُلُ مِنْ اَصْحَابِیْ کَمَا تُلْتَمَسَ الضَّالَّۃُ فَلَا یُوْجَدُ۔)) (مسند احمد: ۷۲۰)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ میرے صحابہ میں سے ایک آدمی کو اس طرح تلاش کیا جائے گا، جیسے گم شدہ چیز کو تلاش کیا جاتا ہے، لیکن وہ آدمی ملے گا نہیں۔
Takhreej
(۱۲۹۰۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف الحارث الاعور، أخرجہ البزار: ۸۴۹، وعبد بن حمید: ۶۹ (انظر: ۷۲۰)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد ایک صدی کے اندر اندر صحابۂ کرام کا زمانہ ختم ہو گیا تھا، آخری صحابی سیدنا ابو الطفیل عامر بن واثلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ۱۱۰ہجری میں فوت ہوئے تھے۔
12904
Zaeef
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۹۰۵)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو (ابْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَاْخُذَ اللّٰہُ شَرِیْطَتَہٗ مِنْ اَھْلِ الْاَرْضِ فَیَبْقٰی فِیْہَا عُجَاجَۃٌ لَایَعْرِفُوْنَ مَعْرُوْفًا وَلَا یُنْکِرُوْنَ مُنْکَرًا۔)) (مسند احمد: ۶۹۶۴)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ اللہ تعالیٰ اہل زمین میں اپنی شرط پوری نہیں کر لے گا،پھر صرف ایسے ناکارہ لوگ باقی رہ جائیں گے ،جن کو نہ نیکی کی معرفت ہو گی اور نہ وہ برائی کو برا سمجھیں گے۔
Takhreej
(۱۲۹۰۵) تخریج: رجالہ ثقات رجال الشیخین الا ان فیہ عنعنۃ الحسن البصری وقد رُوی مرفوعا وموقوفا، والاشبہ وقفہ، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۴۳۵ (انظر: ۶۹۶۴)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کامفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خیر والے اور دین دار لوگوں کو وفات دے کر زمین سے اٹھا لے گا۔
12905
Sahih
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۹۰۶)۔ وَعَنْ عَلْبَائَ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ اِلَّاعَلٰی حُثَالَۃِ النَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۶۸)
سیدنا علباء سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت صرف انتہائی رذیل اور گھٹیا لوگوں پر قائم ہوگی۔
Takhreej
(۱۲۹۰۶) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۸/ ۱۵۸، والحاکم: ۴/ ۴۹۵ (انظر: ۱۶۰۷۱)
Explanation
فوائد:… جن گھٹیا لوگوںمیں توحید اور اسلام کا نام و نشان تک نہیں ہو گا۔
12906
Sahih
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۹۰۷)۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَقْتُلُوْا اِمَامَکُمْ وَتَجْتَلِدُوْا بِاَسْیَافِکُمْ، وَیَرِثُ دِیَارَکُمْ شِرَارُکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۹۱)
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی، جب تک تم اپنے امام کو قتل نہیں کر وگے اور اپنی تلواریں نہیں نکال لو گے اور تم میں سے بد ترین لوگ تمہارے حکمران نہیں بن جائیں گے۔
Takhreej
(۱۲۹۰۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن عبد الرحمن الاشھلی تفرد بالروایۃ عنہ عمرو بن ابی عمرو، ولم یؤثر توثیقہ عن غیر ابن حبان،، وقال ابن معین: لا اعرفہ، أخرجہ الترمذی:۲۱۶۹ (انظر: ۲۳۳۰۲)
12907
Zaeef
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۹۰۷)۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَقْتُلُوْا اِمَامَکُمْ وَتَجْتَلِدُوْا بِاَسْیَافِکُمْ، وَیَرِثُ دِیَارَکُمْ شِرَارُکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۹۱)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک اس طرح نہ ہو جائے کہ درندے انسانوں سے کلام کریں، انسان کی لاٹھی کا سرا اور جوتے کا تسمہ اس سے ہم کلام ہو اور انسان کی ران اسے وہ کچھ بتلائے جو اس کے بعد اس کے اہل خانہ نے کیا ہو۔
Takhreej
(۱۲۹۰۸) تخریج: رجالہ ثقات رجال الصحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۱۸۱ دون ذکر قصۃ الذئب (انظر: ۱۱۷۹۲)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عَدَا الذِّئْبُ عَلَی شَاۃٍ فَأَخَذَھَا فَطَلَبَہُ الرَّاعِیْ فَانْتَزَعَھَا مِنْہُ فَأَقْعَی الذِّئْبُ عَلَی ذَنَبِہٖ قَالَ: أَلَا تَتْقِی اللّٰہَ! تَنْزِعُ عَنِّیْ رِزْقًا سَاقَہُ اللّٰہُ اِلَیَّ؟ فَقَالَ: یَا عَجَبِیْ! ذِئْبٌ مُقْعٍ عَلَی ذَنَبِہٖ یُکَلِّمُنِیْ کَلَامَ الْإِنْسِ، فَقَالَ الذِّئْبُ: أَلَا أُخْبِرُکَ بِأَعْجَبَ مِنْ ذٰلِکَ؟ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَثْرِبَ یُخْبِرُ النَّاسَ بِاَنْبَائِ مَا قَدْ سَبَقَ، قَالَ: فَأَقْبَلَ الرَّاعِیْ یَسُوْقُ غَنَمَہُ حَتّٰی دَخَلَ الْمَدِیْنَۃَ فَزَوَاھَا اِلٰی زَاوِیَۃٍ مِنْ زَوَایَاھَا، ثُمَّّ أَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَہُ، فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنُوْدِیَ اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ، ثُمَّّ خَرَجَ فَقَالَ لِلرَّاعِیْ: ((أَخْبِرْھُمْ)) فَأَخْبَرَھُمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَدَقَ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یُکَلِّمَ السِّبَاعُ الْاِنْسَ، وَیُکَلِّمَ الرَجُلَ عَذَبَۃُ سَوْطِہِ وَشِرَاکُ نَعْلِہِ وَیُخْبِرُُہُ فَخِذُہُ بِمَا أَحْدَثَ أَھْلُہُ بَعْدَہُ۔)) … ایک بھیڑئیے نے ایک بکری پر حملہ کیا اور اس کو پکڑ لیا، لیکن چرواہے نے اس کا پیچھا کیا اور اس سے بکری چھین لی، وہ بھیڑیا اپنی دم پر بیٹھ گیا اور اس نے کہا: کیا تو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا، تو مجھ سے وہ رزق چھینتا ہے، جو اللہ تعالیٰ مجھے عطا کیا ہے؟ اس نے کہا: بڑا تعجب ہے، اپنی دم پر بیٹھا ہوا یہ بھیڑیا انسان کی طرح مجھ سے کلام کرتا ہے، اتنے میں بھیڑیئے نے پھر کہا: کیا میں تجھے اس سے زیادہ تعجب والی بات بتاؤں؟ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یثرب میں ظاہر ہو چکے ہیں اور لوگوں کو ماضی کی خبریں بتلاتے ہیں، چرواہے نے اپنی بکریوں کو ہانکنا شروع کیا، یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہوا اور مدینہ کے ایک کونے میں ان کو جمع کیا اور پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور سارے ماجرے کی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خبر دی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا اور اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ کی آواز لگائی گئی، جب لوگ جمع ہو گئے توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے اور چرواہے سے فرمایا: اِن لوگوں کو وہ بات بتلاؤ۔ پس اس نے ان کو یہ بات بتلائی، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ سچ کہہ رہا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک ایسا نہیں ہو گا کہ درندے لوگوں سے باتیں کریں گے، آدمی کے کوڑے کا کنارہ اور جوتے کا تسمہ اس سے کلام کرے گا اور بندے کی ران اس کو وہ کچھ بتلائے گی، جو اس کے اہل نے اس کے بعد کیا ہو گا۔ (ترمذی: ۲۱۸۱، دیکھیں: حدیث نمبر ۱۰۴۸۴)
12908
Sahih
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۹۰۹)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَخْرُجَ قَوْمٌ یَاْکُلُوْنَ بِاَلْسِنَتِہِمْ کَمَا تَاْکُلُ الْبَقَرُ بِاَلْسِنَتِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۷)
سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک ایسے لوگ ظاہر نہیں ہوں گے۔ جو اپنی زبانوں سے اس طرح کھائیں گے، جیسے گائیں اپنی زبانوں سے کھاتی ہیں۔
Takhreej
(۱۲۹۰۹) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ البغوی فی شرح السنۃ : ۳۳۹۷ (انظر: ۱۵۹۷)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث، حدیث نمبر (۵۷۲۳) کے ہم معنی ہے، اس کا مفہوم یہ ہے کہ جیسے گائے چرتے وقت خشک اور تر اور میٹھے اور کڑوے چارے کے مابین فرق نہیں کرتی، بلکہ سب کو تلف کر دیتی ہے، ایسے ہی بعض لوگ حلال و حرام اور حق و باطل میں کوئی تمیز نہیں کرتے، آج کل اچھے بھلے سمجھدار لوگوں نے نہ صرف سودی معاملات کو جائز سمجھ لیا ہے، بلکہ وہ عملی طور پر اس میںملوث ہیں، جبکہ وہ منہج کے طور پر اپنے آپ کو برحق اور نمازی اور پرہیزگار بھی سمجھتے ہیں۔
12909
Sahih
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۹۱۰)۔ وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ اِلَّا عَلٰی شِرَارِ النَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۳۷۳۵)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت صرف بد ترین لوگوں پر قائم ہوگی۔
Takhreej
(۱۲۹۱۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۴۹(انظر: ۳۷۳۵)
12910
Sahih
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۹۱۱)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ شِرَارَ النَّاسِ مَنْ تُدْرِکُہُ السَّاعَۃُ وَھُمْ اَحْیَائٌ وَمَنْ یَّتَّخِذُ الْقُبُوْرَ مَسَاجِدَ۔)) (مسند احمد: ۴۱۴۳)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بد ترین لوگ وہ ہیں، جن کو قیامت زندہ پا لے گی، (یعنی جن پر قیامت قائم ہو گی) اور وہ جو قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے ہیں۔
Takhreej
(۱۲۹۱۱) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۰۴۱۳(انظر: ۴۱۴۳)
Explanation
فوائد:… چونکہ جن لوگوں پر قیامت قائم ہو گی، وہ بدترین لوگ ہوں گے، وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی معرفت اور ان کے حقوق کی ادائیگی سے یکسر محروم ہوں گے۔
12911
Sahih
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۹۱۲)۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَکُوْنَ اَسْعَدَ النَّاسِ بِالدُّنْیَا لُکَعُ بْنُ لُکَعَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۹۲)
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی،جب تک کہ کمینہ بن کمینہ کو لوگوں میں معزز ترین نہیں سمجھا جائے گا۔
Takhreej
(۱۲۹۱۲) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۲۲۰۹(انظر: ۲۳۳۰۳)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث ِ مبارکہ سمجھنے سے پہلے یہ ادراک ہونا ضروری ہے کہ شریعت کے ہاں کون لوگ معزز ہیں اور کون بے وقعت ہیں۔ اب ہمارا معاشرہ اس حدیث کا مصداق بن چکا ہے،جہاں نیکی کو معیار نہیں سمجھا جاتا۔
12912
Sahih
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۹۱۳)۔ وَعَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارِ الْمُزَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْعَمَلُ فِی الْھَرْجِ، وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اَلْعِبَادَۃُ فِی الْفِتْنَۃِ، کَھِجْرَۃٍ اِلَیَّ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۶۴)
سیدنا معقل بن یسار مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قتل و غارت گری کے دنوں میں عمل کرنا اور ایک روایت کے مطابق فتنوں کے دور میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کی مانند ہوگا۔
Takhreej
(۱۲۹۱۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۴۸(انظر: ۲۰۲۹۸)
Explanation
فوائد:… پر فتن دور میں شریعت کا پابندرہنا مشکل امر ہوتا ہے، اس لیے ایسے میں زیادہ اجر و ثواب ملتا ہے۔
12913
Sahih
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
۔ (۱۲۹۱۴)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: ذَکَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ اُرَاہُ قَالَ: ((قَدْ یَذْھَبُ فِیْہاَ النَّاسُ اَسْرَعَ ذِھَابٍ۔)) قَالَ: فَقِیْلَ: اَکُلُّہُمْ ھَالِکٌ اَمْ بَعْضُہُمْ؟ قَالَ: ((حَسْبُہُمْ اَوْ بِحَسْبِہِمُ الْقَتْلُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۷)
سیدنا سعید بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اندھیری رات کے اندھیروں کی طرح کے فتنوں کا ذکر کیا، میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا: ان فتنوں میں لوگ بہت جلدی ختم ہو جائیں گے۔ کسی نے پوچھا: آیا وہ سب ہلاک ہونے والے ہوں گے یا ان میں سے بعض؟ آپ نے فرمایا: ان کو قتل ہی کافی ہو گا۔
Takhreej
(۱۲۹۱۴) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۴۲۷۷ (انظر: ۱۶۴۷)
12914
Sahih
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
۔ (۱۲۹۱۵)۔ وَعَنْ اَبِیْ وَائِلٍ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ) وَاَبِیْ مُوْسٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَقَالَا: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ اَیَّامًایَنْزِلُ فِیْہَا الْجَہْلُ وَیُرْفَعُ فِیْہَا الْعِلْمُ وَیَکْثُرُ فِیْھَاالْھَرْجُ۔)) قَالَ: قُلْنَا: وَمَا الْھَرْجُ؟ قَالَ: ((اَلْقَتْلُ۔)) (مسند احمد: ۳۶۹۵)
سیدنا ابو وائل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدناعبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدناابوموسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان دونوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت سے قبل ایسا زمانہ ہو گا کہ اس میں جہالت عام ہو گی، علم اٹھ جائے گا اور ھَرْج عام ہوجائے گا۔ ہم نے پوچھا: ھرج سے کیا مراد ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قتل ۔
Takhreej
(۱۲۹۱۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۰۶۲، ومسلم: ۲۶۷۲(انظر: ۳۶۹۵)
12915
Sahih
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
۔ (۱۲۹۱۶)۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ السَّاعَۃِ: فَقَالَ: ((عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّیْ لَا یُجَلِّیْہَا لِوَقْتِہَا اِلَّا ھُوَ، وَلٰکِنْ اُخْبِرُکُمْ بِمَشَارِیْطِہَا وَمَا یَکُوْنُ بَیْنَیَدَیْہَا، اِنَّ بَیْنَیَدَیْہَا فِتْنَۃً وَھَرْجًا۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلْفِتْنَۃُ قَدْ عَرَفْنَاھَا، فَالْھَرْجُ مَا ھُوَ؟ قَالَ: ((بِلِسَانِ الْحَبْشَۃِ الْقَتْلُ وَیُلْقٰی بَیْنَ النَّاسِ التَّنَاکُرُ فَلَا یَکَادُ اَحَدٌ اَنْ یَعْرِفَ اَحَدًا۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۹۵)
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قیامت کے بارے میں پوچھا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کا علم تو میرے رب کے پاس ہے،وہ اس کو اس کا وقت ہونے پر ظاہر کرے گا، البتہ میں تمہیں اس کی کچھ علامتیں اور اس سے پہلے کیا ہو گا، وہ بیان کر دیتا ہوں، قیامت سے پہلے فتنے ظاہر ہوں گے اور ھرج ہوگا۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! فتنوں کا مفہوم تو ہم سمجھتے ہیں، ھرج سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل حبشہ کی زبان میں قتل کو کہتے ہیں اور (تیسری علامت یہ ہے کہ) لوگوں میں ایک دوسرے سے اس قدر بے اعتنائی اور لاپروائی آجائے گی کہ کوئی کسی کو نہیں پہچانے گا۔
Takhreej
(۱۲۹۱۶) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۳۳۰۶)
Explanation
فوائد:… پہلے زمانے کی بہ نسبت واقعی اب لوگوں میں عجیب قسم کی لاپروائی اور بے مروّتی کا مزاج پایا جا رہا ہے، رشتے ناطے کا لحاظ کرنے والے لوگ بہت کم ہیں، بلکہ اب تو لوگ رشتوں ناطوں کو پہچاننے سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔
12916
Sahih
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
۔ (۱۲۹۱۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ وَائِلٍ عَنْ عَزْرَۃَ بْنِ قَیْسٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیْدِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَتَبَ اِلَیَّ اَمِیْرُ ْالْمُؤْمِنِیْنَ (یَعْنِیْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) حِیْنَ اَلْقَی الشَّامُ بَوَانِیَہٗ بَثْنِیَۃً وَعَسَلًا، فَاَمَرَنِیْ اَنْ اَسِیْرَ اِلَی الْھِنْدِ وَالْھِنْدُ فِیْ اَنْفُسِنَا یَوْمَئِذٍ اَلْبَصْرَۃُ، قَالَ: وَاَنَا لِذٰلِکَ کَارِہٌ، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ لِیْ: یَا اَبَا سُلَیْمَانَ! اِتَّقِ اللّٰہَ فَاِنَّ الْفِتَنَ قَدْ ظَہَرَتْ، قَالَ: فَقَالَ: وَابْنُ الْخَطَّابِ حَیٌّ، اِنَّمَا تَکُوْنُ بَعْدَہٗوَالنَّاسُبِذِیْ بِلِّیَانِ بِمَکَانٍ کَذَا وَکَذَا، فَیَنْظُرُ الرَّجُلُ فَیَتَفَکَّرُ ھَلْ یَجِدُ مَکَانًا لَمْ یَنْزِلْ بِہٖمِثْلُمَانَزَلَبِمَکَانِہِالَّذِیْ ھُوَ فِیْہِ مِنَ الْفِتْنَۃِ وَالشَّرِّ فَلاَ یَجِدُہُ، قَالَ: وَتِلْکَ الْاَیَّامُ الَّتِیْ ذَکَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ اَیَّامَ الْھَرْجِ، فَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ اَنْ تُدْرِکَنَا وَاِیَّاکُمْ تِلْکَ الْاَیَّامُ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۴۴)
سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب ارضِ شام نے گندم اور شہد سمیت اپنی برکتوں کو ہمارے سامنے پیش کیا تو امیر المومنین سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے ہند کی طرف روانگی کا حکم دیا، ان دنوں ہم ہند سے بصرہ مراد لیا کرتے تھے، میں اس چڑھائی کو ناپسند کر رہا تھا، اتنے میں ایک آدمی نے اٹھ کر مجھ سے کہا: ابو سلیمان! اللہ سے ڈرو، فتنوں کا ظہور ہوچکا ہے، اُدھر سے ایک آدمی نے کہا: ابھی فتنوں کا ظہور نہیں ہوا، کیونکہ ابن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ زندہ ہیں، فتنے ان کے بعد ہوں گے، (اور فتنوں کے دور میں) جب لوگ (یمن سے پرے واقع) بلیان کے مقام پرہوں گے، پھر آدمی ارد گرد کے حالات کو دیکھ کر غور کر ے گاکہ آیا کوئی ایسی جگہ بھی ہے، جہاں اس جگہ جیسے فتنے نہ ہوں، تو اسے کوئی ایسی پر سکون جگہ نہ ملے گی، بس یہی وہ زمانہ ہے، جس کے متعلق رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ قیامت سے پہلے قتل ِ عام ہوگا، اور ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں کہ ایسا زمانہ ہمیں اور تمہیں پائے۔
Takhreej
(۱۲۹۱۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عزرۃ بن قیس البجلی، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۳۸۴۱، وفی الاوسط : ۸۴۷۴ (انظر: ۱۶۸۲۰)
12917
Zaeef
امام مہدی کا ظہور اور اس کی مدتِ قیام
۔ (۱۲۹۱۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ زِرٍّعَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَلِیَ رَجُلٌ مِنْ اَھْلِ بَیْتِیْیُوَاطِیئُ اِسْمُہٗاِسْمِیْ۔)) قَالَ اَبِیْ: حَدَّثَنَا بِہٖفِیْ بَیْتِہِ فِیْ غُرْفَتِہِ اُرَاہٗسَاَلَہٗبَعْضُوَلَدِجَعْفَرِبْنِیَحْیٰی اَوْ یَحْیَی بْنِ خَالِدِ بْنِ یَحْیٰی۔ (مسند احمد: ۳۵۷۱)
سیدناعبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ میرے اہل بیت کا ایک آدمی حکمران نہیں بنے گا، وہ میرا ہم نام ہوگا۔ امام احمد نے کہا: سفیان بن عینیہ نے ہمیں یہ حدیث اپنے گھر کے ایک کمرے میں اس وقت بیان کی، جب جعفر بن یحییٰ یا یحییٰ بن خالد کے ایک بیٹے نے ان سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تھا۔
Takhreej
(۱۲۹۱۸) تخریج:اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۸۲۴۲، والترمذی: ۲۲۳۱(انظر: ۳۵۷۱)
12918
Sahih

Chapters

43
01
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
10 Hadith
02
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
9 Hadith
03
مسلمانوں کے آپس میں لڑنے کا بیان
6 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
18 Hadith
05
اس جہت کا ذکر جدھر سے فتنے آئیں گے، نیز خوارج‘ حروریہ اور روافض کا بیان
5 Hadith
06
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں نمودار ہونے والے ان خوارج کا تذکرہ، جو متقدم الذکر عراقیوں کی اولا د تھے، ان کو حروریّہ بھی کہا جاتا ہے
4 Hadith
07
روافض کا بیان
1 Hadith
08
قیامت سے پہلے تیس جھوٹوں کے ظہور کا بیان، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے، ان میں سے ایک مسیلمہ کذاب ہے
3 Hadith
09
قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
20 Hadith
10
ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
19 Hadith
11
ذِمِّی لوگوں کا جزیہ کی ادائیگی بند کر دینے کا بیان
3 Hadith
12
فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایات
8 Hadith
13
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
15 Hadith
14
اس سلسلے میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
4 Hadith
15
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
10 Hadith
16
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
4 Hadith
17
امام مہدی کا ظہور اور اس کی مدتِ قیام
8 Hadith
18
امام مہدی کی بیعت اور ان کے مخالفین کا زمین میں دھنسنے کا بیان
6 Hadith
19
جزیرۂ عرب ، فارس اور روم کے غزوات کا بیان
9 Hadith
20
ارضِ بصرہ میں ترکوں کے ساتھ لڑائی کا بیان
4 Hadith
21
دریائے فرات کا سونے کے ایک پہاڑ سے سر کنے اور اس پر لوگوں کے لڑنے کا بیان
2 Hadith
22
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
4 Hadith
23
دجال کے اوصاف اور ان کی ابن صیاد سے مطابقت
2 Hadith
24
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا ابن صیاد کا سامنا کرنے اور اسے مارنے اور اس وقت ابن صیاد کی طرف سے خلافِ عادت امور کے ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
25
ابن صیاد کی جرأت، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس کو قتل کرنے کے ارادہ کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کو اس سے منع کر دینے کا بیان
4 Hadith
26
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ابن صیاد کے بارے میں اس طرح اہتمام کرنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مخفی انداز میں اس کی طرف جانا اور اس کی باتیں سننے کی کوشش کرنا اور اس کی ماں کو خبردار کرنا
3 Hadith
27
ابن صیاد کی چالاکی اور اس بات کا انکار کہ وہ دجال ہے
2 Hadith
28
ابن صیاد کے خلافِ عادت امور کا بیان
5 Hadith
29
دجال کے ظہور سے تین سال پہلے لوگوں پر پڑنے والی مشکلات اور اس کے ظہور کے بعد ان کے ساتھ اس کے سلوک کا بیان
2 Hadith
30
فتنہ دجال کے بڑے ہونے اور اس کے ظہور کی علامتوں کا بیان
5 Hadith
31
دجال کے مقام کے تعین اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے سے اس کے موجود ہونے کا بیان
2 Hadith
32
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
24 Hadith
33
ان لوگوں کا تذکرہ، جن کو اللہ تعالیٰ فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے گا
6 Hadith
34
دجال کے ظہور کے بعد اس کی زمین پر قیام کی مدت، اس کا خضر نامی مومن کو قتل کر کے پھر زندہ کرنے اور اسے اس کے علاوہ کسی دوسرے پر اس قسم کا تسلط نہ ہونے اور اس کے ہلاک ہو جانے کا بیان
4 Hadith
35
ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
4 Hadith
36
اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونے، دجال کو قتل کرنے ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کرنے ، زمین میں چالیس برس تک قیام کرنے، پھر ان کے وفات پانے اور مسلمانوں کا ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان
7 Hadith
37
یاجوج ماجوج کا ظہور بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے
5 Hadith
38
یاجوج و ماجوج کے حلیے کا بیان
1 Hadith
39
سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے اور توبہ کے دروازے کے بند ہونے کا بیان
9 Hadith
40
چوپائے کا ظہور
3 Hadith
41
ایک خوش گوار قسم کی ہوا کا چلنا، جو اہل ایمان کی روحیں قبض کر لے گی
3 Hadith
42
کعبہ کا منہدم ہونااور جشیوں کے ہاتھوں اس کے خزانوں کو نکالا جانا
5 Hadith
43
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
10 Hadith
No chapter matched that.