TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل - جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل - Book 177 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 177 of Musnad Ahmad, with 33 chapters and 157 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

157 Hadith · 33 Chapters
جنت کی نعمتوں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس قول کا بیان کہ اس میں وہ کچھ ہے جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا
۔ (۱۳۲۶۵)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا ھٰرُوْنُ بْنُ مَعْرُوْفٍ وَسَمِعْتُہُ اَنَا مِنْ ھٰرُوْنَ بْنِ مَعْرُوْفٍ اَنَا ابْنُ وَھْبٍ حَدَّثَنِیْ اَبُوْ صَخْرٍ اَنَّ اَبَا حَازِمٍ حَدَّثَہُ قَالَ: سَمِعْتُ سَہْلَ بْنَ سَعْدٍ یَقُوْلُ: شَہِدْتُّ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَجْلِسًا وَصَفَ فِیْہِ الْجَنَّۃَ حَتّٰی اِنْتَہٰی ثُمَّ قَالَ آخِرَ حَدِیْثِہٖ: فِیْہَا ((مَالَاعَیْنٌ رَاَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَاعَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ خَطَرَ۔)) ثُمَّ قَرَأَ ہٰذِہِ الْآیَۃَ {تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ ۔فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَآئً بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْن۔} [السجدۃ: ۱۶،۱۷] (مسند احمد: ۲۳۲۱۴)
سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک محفل میں حاضر تھا، آپ نے جنت کا تذکرہ کیا اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی گفتگو کے آخر میں فرمایا: جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں کہ جن کو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا،کسی کان نے ان کے متعلق نہیں سنا اور نہ کسی بشر کے دل پر ان کا تصور گزرا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ ۔فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَآئً بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْن۔} (ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں اور وہ اپنے ربّ کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے، اس میں سے وہ (اللہ تعالیٰ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں، ان کے آنکھوں کی ٹھنڈک یعنی راحت کے لیے ان کے کیے ہوئے اعمال کی جزاء کے طور پر جو نعمتیں پوشیدہ رکھی گئی ہیں، ان کو فی الحال کوئی بھی نہیں جانتا۔ )
Takhreej
(۱۳۲۶۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۲۵ (انظر: ۲۲۸۲۶)
13265
Sahih
جنت کی نعمتوں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس قول کا بیان کہ اس میں وہ کچھ ہے جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا
۔ (۱۳۲۶۶)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ یَّدْخُلُ الْجَنَّۃَیَنْعَمُ، لَایَبْأَسُ، وَلَاتَبْلٰی ثِیَابُہُ، وَلَایَفْنٰی شَبَابُہُ، فِیْ الْجَنَّۃِ مَالَاعَیْنٌ رَأَتْ وَلاَ اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَاخَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ۔)) (مسند احمد: ۸۸۱۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کوئی جنت میں داخل ہوجائے گا، وہ خوشحال رہے گا، بدحال نہیں ہو گا، اس کے کپڑے بوسیدہ نہیں ہوں گے، اس کی جوانی زائل نہیں ہوگی، جنت میں وہ کچھ ہے کہ آج تک نہ کسی آنکھ نے وہ چیزیں دیکھیں ہیں، نہ کسی کان نے ان کے بارے میں سنا ہے اور نہ کسی شخص کے دل پر ان کا تصور گزرا ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۶۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۳۶(انظر: ۸۸۲۷)
13266
Sahih
جنت کی نعمتوں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس قول کا بیان کہ اس میں وہ کچھ ہے جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا
۔ (۱۳۲۶۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: اَعْدَدْتُّ لِعِبَادِی الصَّالِحِیْنَ مَالَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلاَ اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَاخَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ، فَاقْرَئُ وْ اِنْ شِئْتُمْ {فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ } [السجدۃ: ۱۷]۔)) (مسند احمد: ۹۶۴۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: میںنے اپنے صالح بندوں کے لیے ایسی ایسی نعمتیں تیار کی ہیں کہ آج تک کسی آنکھ نے ان جیسی نعمتوں کو نہیں دیکھا، کسی کان نے ان کے متعلق نہیں سنا اور کسی انسان کے دل پر ان کا خیال تک نہیں گزرا، اگر چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ کر دیکھ لو: {فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ} ( ان کی راحت کے لیے جو نعمتیں پوشیدہ رکھی گئی ہیں، انہیں(فی الحال) کوئی نہیں جانتا۔ (سورۂ سجدہ: ۱۷)
Takhreej
(۱۳۲۶۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۴۴، ۴۷۷۹، ومسلم: ۲۸۲۴(انظر: ۹۶۴۹)
13267
Sahih
جنت کی نعمتوں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس قول کا بیان کہ اس میں وہ کچھ ہے جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا
۔ (۱۳۲۶۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ مَوْلًی لِعُثْمَانِ بْنِ عَفَّانَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قِیْدُ سَوْطِ اَحَدِکُمْ فِی الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمِثْلِہَا مَعَہَا وَلَقَابُ قَوْسِ اَحَدِکُمْ مِنَ الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمِثْلِہَا مَعَہَا وَلَنَصِیْفُ امْرَاَۃِ الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمِثْلِہَا مَعَہَا۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا اَبَا ھُرَیْرَۃَ! مَاالنَّصِیْفُ؟ قَالَ: اَلْخِمَارُ۔ (مسند احمد: ۱۰۲۷۵)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں تمہاری ایک لاٹھی کے برابر جگہ دوگنا دنیا سے بہتر ہے، جنت میں تمہاری کمان کے برابر جگہ دو گنا دنیا سے بہتر ہے اور جنت کی ایک خاتون کا دوپٹہ دو گنا دنیا سے زیادہ بہتر ہے۔ ابو ایوب کہتے ہیں: میںنے کہا: اے ابوہریرہ! النَّصِیْف کا کیا معنی ہے؟ انھوں نے کہا: دو پٹہ۔
Takhreej
(۱۳۲۶۸) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۱۰۲۷۰)
Explanation
فوائد:… دنیا اور جنت کی نعمتوں میں صرف نام کی مماثلت ہے، مثال کے طور پر دنیا میں پائے جانے والے سیب کو بھی سیب کہتے ہیں اور جنت میں بھی پائے جانے والے سیب کو بھی سیب کہیں گے، لیکن اُس سیب کی حقیقت کا ادراک جنت میں پہنچنے سے پہلے نہیں کیا جا سکتا۔
13268
Sahih
جنت کی عمارت، مٹی، کمروں اور خیموں کا تذکرہ
۔ (۱۳۲۶۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! حَدِّثْنَا عَنِ الْجَنَّۃِ مَا بِنَاؤُھَا قَالَ: ((لَبِنَۃُ ذَھَبٍ وَلَبِنَۃُ فِضَّۃٍ وَمِلَاطُہَا الْمِسْکُ الْاَذْفَرُ وَحَصْبَاؤُھَا اللُّؤْلُؤُ وَالْیَاقُوْتُ وَتُرَابُہَا الزَّعْفَرَانُ، مَنْ یَّدْخُلُہَایَنْعَمُ وَلَایَبْاَسُ وَیَخْلُدُ وَلَایَمُوْتُ وَلَاتَبْلٰی ثِیَابُہُ وَلَا یَفْنٰی شَبَابُہُ۔)) (مسند احمد: ۸۰۳۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے کہا اے اللہ کے رسول! آپ ہمیںجنت کے بارے میں بتلائیں کہ اس کی عمارت کیسی ہو گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی ہو گی، اس کا گارا انتہائی تیز مہکنے والی کستور ی کا اور اس کے کنکر لولو اور یاقوت کے موتی ہوں گے اور اس کی مٹی زعفران ہوگی، جوآدمی جنت میں داخل ہوجائے گا، وہ خوشحال ہو گا، کبھی بدحال نہیں ہو گا، وہ وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا، اسے موت نہیں آئے گی، اس کا لباس بوسیدہ نہیں ہو گا اور اس کا شباب زائل نہیں ہوگا۔
Takhreej
(۱۳۲۶۹) تخریج: حدیث صحیح بطرقہ وشواہدہ، أخرجہ الترمذی: ۲۵۲۶(انظر: ۸۰۴۳)
13269
Sahih
جنت کی عمارت، مٹی، کمروں اور خیموں کا تذکرہ
۔ (۱۳۲۷۰)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَأَلَ ابْنَ صَائِدٍ عَنْ تُرْبَۃِ الْجَنَّۃِ فَقَالَ: دَرْمَکَۃٌ بَیْضَائُ مِسْکٌ خَالِصٌ۔ قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَدَقَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۱۵)
سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابن صائد سے جنت کی مٹی کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: وہ سفید رنگ کی ملائم مٹی اور خالص کستوری والی ہے۔ یہ سن کرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۷۰) تخریج: أخرجہ ۲۹۲۸مسلم: (انظر: ۱۱۰۰۲)
13270
Sahih
جنت کی عمارت، مٹی، کمروں اور خیموں کا تذکرہ
۔ (۱۳۲۷۱)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلْیَہُوْدِ: ((اِنِّیْ سَائِلُہُمْ عَنْ تُرْبَۃِ الْجَنَّۃِ وَھِیَ دَرْمَکَۃٌ بَیْضَائُ۔)) فَسَاَلَھُمْ فَقَالُوْا: ھِیَ خُبْزَۃٌیَا اَبَا الْقَاسِمِ! فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْخُبْزَۃُ مِنَ الدَّرْمَکِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۹۴۴)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہودکے بارے میں فرمایا: میں ان سے جنت کی مٹی کے بارے میں دریافت کرتا ہوں جو کہ سفید رنگ کی ملائم مٹی ہے۔ پھر ان سے سوال کیا، انھوں نے کہا: اے ابو القاسم! وہ روٹی کی طرح ہوگی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روٹی بھی سفید آٹے کی ہی ہوتی ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۷۱) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۳۳۲۷ (انظر: ۱۴۸۸۳)
13271
Sahih
جنت کی عمارت، مٹی، کمروں اور خیموں کا تذکرہ
۔ (۱۳۲۷۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اَھْلَ الْجَنَّۃِ لَیَتَرَاؤَوْنَ الْغُرْفَۃَ فِی الْجَنَّۃِ کَمَا تَرَاؤَوْنَ الْکَوْکَبَ فِی السَّمَائِ۔)) قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِذٰلِکَ النُّعْمَانَ بْنَ اَبِیْ عَیَّاشٍ فَقَالَ: سَمِعْتُ اَبَا سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیَّیَقُوْلُ: کَمَا تَرَاؤَوْنَ الْکَوْکَبَ الدُّرِّیَّ فِی الْاُفُقِ الشَّرَقِیِّ اَوِ الْغَرْبِیِّ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۶۴)
سیدناسہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت والے ہر جگہ سے اپنے کمروں کو یوں دیکھیں گے، جیسے تم آسمان پر ستاروں کو دیکھتے ہو۔ ابو حازم نے کہا: میں نے حدیث نعمان بن ابی عیاش کو بیان کی، انھوں نے کہا کہ اس نے بھی سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہی حدیث بیان کرتے ہوئے یوں سنا ہے: جس طرح تم مشرقی یا مغربی افق پر دمکتے ہوئے تارے کو دیکھتے ہو۔
Takhreej
(۱۳۲۷۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۵۶، ومسلم: ۲۸۳۰، ۲۸۳۱(انظر: ۲۲۸۷۶)
13272
Sahih
جنت کی عمارت، مٹی، کمروں اور خیموں کا تذکرہ
۔ (۱۳۲۷۳)۔ وَعَنْْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ لَغُرَفًا یُرٰی بُطُوْنُہَا مِنْ ظُہُوْرِھَا وَظُھُوْرُھَا مِنْ بُطُوْنِہَا۔)) فَقَالَ اَعْرَابِیٌّ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! لِمَنْ ھِیَ؟ قَالَ: ((لِمَنْ اَطَابَ الْکَلَامَ، وَاَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَصَلّٰی لِلّٰہِ بِاللَّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۸)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں ایسے بالا خانے ہیں کہ باہر سے ان کے اندر کاماحول اور اندر سے ان کے باہر کا ماحول دیکھا جاسکے گا۔ ایک بدّو نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! یہ بالاخانے کن لوگوں کے لیے ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اچھی بات کرے، دوسروں کو کھانا کھلائے اور جب رات کو عام لوگ سوئے ہوئے ہوں تو وہ اٹھ کر اللہ تعالیٰ کے لیے نماز ادا کرے۔
Takhreej
(۱۳۲۷۳) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۱۹۸۴، ۲۵۲۷(انظر: ۱۳۳۸)
13273
Sahih
جنت کی عمارت، مٹی، کمروں اور خیموں کا تذکرہ
۔ (۱۳۲۷۴)۔ وَعَنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ اَبِیْہِ (اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْخَیْمَۃُ دُرَّۃٌ مُجَوَّفَۃٌ طُوْلُھَا فِی السَّمَائِ سِتُّوْنَ مِیْلًا، فِیْ کُلِّ زَاوِیَۃٍ مِنْہَا لِلْمُوْمِنِ اَھْلٌ لَا یَرَاھُمُ الْآخَرُوْنَ۔)) وَرُبَمَا قَالَ عَفَّانُ: لِکُلِّ زَاوِیَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۸۰۵)
سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت کا ایک خیمہ بہت بڑا موتی ہوگا، وہ اندر سے خالی ہوگا، اس کی بلندی ساٹھ میل ہوگی، اس کے ہر کونے میں مومن کا اہل خانہ ہو گا، لیکن (وہ دوری کی وجہ سے) ایک دوسرے کو دیکھ نہیں پائیں گے۔
Takhreej
(۱۳۲۷۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۴۳، ومسلم: ۲۸۳۸ (انظر: ۱۹۵۷۶)
13274
Sahih
جنت کی عمارت، مٹی، کمروں اور خیموں کا تذکرہ
۔ (۱۳۲۷۵)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا بَیْنَ مِصْرَاعَیْنِ فِی الْجَنَّۃِ کَمَسِیْرَۃِ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۵۹)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت کے دروازے کے دو پٹوں میں چالیس سال کی مسافت جتنی وسعت ہو گی۔
Takhreej
(۱۳۲۷۵) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابویعلی: ۱۲۷۵(انظر: ۱۱۲۳۹)
Explanation
فوائد:… اس فصل کی احادیث سے معلوم ہوا کہ جنت اور جنت کی نعمتیں اس قد رخوبصورت، دل آویز، خوشنما اور قیمتی ہوں گی کہ دنیا میں ان کا تصور ہی محال ہے، جنت کی عمارات اور مکانات کی ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی ہوگی، ان میں اعلیٰ قسم کی کستوری کو گارے کے طور پر استعمال کیا جائے گا، وہاں انتہائی قیمتی موتی اور یاقوت کنکر کی مانند ہوں گے اور مٹی کے طور پر زعفران ہوگا، وہاں کسی قسم کا غم و اندوہ نہیں ہوگا، ہمیشہ کی زندگی ہوگی، کسی کو موت نہیں آئے گی، لباس پرانا یا بوسیدہ نہیں ہو گا، بھر پور شباب رہے گا، جو کبھی زائل نہیں ہوگا۔
13275
Sahih
جنت کے درختوں، پرندوں اور نہروں کی کیفیت کا تذکرہ
۔ (۱۳۲۷۶)۔ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدِ نِ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ اَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَہُ عَنِ الْحَوْضِ وَذَکَرَالْجَنَّۃَ ثُمَّ قَالَ الْاَعْرَابِیُّ: فِیْہَا فَاکِہَۃٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ وَفِیْہَا شَجَرَۃٌ تُدْعٰی طُوْبٰی۔)) فَذَکَرَ شَیْئًا لَا اَدْرِیْ مَا ھُوَ قَالَ: اَیُّ شَجَرِ اَرْضِنَا تُثْبِہُ؟ قَالَ: ((لَیْسَتْ تُثْبِہُ شَیْئًا مِنْ شَجَرِ اَرْضِکَ۔)) فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَتَیْتَ الشَّامَ؟)) فَقَالَ: لَا، قَالَ: ((تُشْبِہُ شَجَرَۃٌ بِالشَّامِ تُدْعٰی الْجَوْزَۃَ تَنْبُتُ عَلٰی سَاقٍ وَاحِدٍ یَنْفَرِشُ اَعْلَاھَا۔)) قَالَ: مَا عِظَمُ اَصْلِہَا؟ قَالَ: ((لَوِ ارْتَحَلَتْ جَذْعَۃٌ مِنْ اِبِلِ اَھْلِکَ مَا اَحَاطَتْ بِاَصْلِہَا حَتّٰی تَنْکَسِرَ تَرْقُوْتُہَا ھَرِمًا۔)) قَالَ: فِیْہَا عِنَبٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: فَمَا عِظَمُ الْعُنْقُوْدِ؟ قَالَ: ((مَسِیْرَۃُ شَہْرٍ لِلْغُرَابِ الْاَبْقَعِ وَلَا یَفْتُرُ۔)) قَالَ: فَمَا عِظَمُ الْحَبَّۃِ؟ قَالَ: ((ھَلْ ذَبَحَ اَبُوْکَ تَیْسًا مِنْ غَنَمِہٖقَطُّعَظِیْمًا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَسَلَخَ اِھَابَہُ فَاَعْطَاہُ اُمَّکَ قَالَ: اِتَّخِذِیْ لَنَا مِنْہُ دَلْوًا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ الْاَعْرَابِیُّ: فَاِنَّ تِلْکَ الْحَبَّۃَ لَتُشْبِعُنِیْ وَاَھْلَ بَیْتِیْ، قَالَ: ((نَعَمْ وَعَامَّۃَ عَشِیْرَتِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۹۲)
سیدنا عتبہ بن عبدسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک بدّو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور حوض کے بارے میں پوچھا اور جنت کا ذکر کیا، پھر اس بدّو نے پوچھا: آیا جنت میں پھل ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اس میں ایک طوبی نامی درخت ہوگا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک اور بات ذکر کی جو مجھے یاد نہیں رہی، اس نے پوچھا: وہ درخت ہماری اس زمین کے کس درخت کے مشابہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ اس زمین کے کسی درخت جیسا نہیں ہے۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے دریافت کیا: کیا تم شام کے علاقے میں گئے ہو؟ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شام میں جوزہ نامی ایک درخت ہوتا ہے، وہ ایک ہی تنا پر اگتا ہے، البتہ اوپر جا کر پھیل جاتا ہے۔ اس بدّو نے پوچھا: اس کاتنا کتنا بڑا ہوگا؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے اونٹوں میں سے ایک نوجوان اونٹ اس کے گرد چکر کاٹنے لگے تو چکر کاٹتے کاٹتے وہ بوڑھا ہو کر مرجائے گا، مگر اس درخت کے تنے کے گرد چکر پورا نہیں کر سکے گا۔ اس نے پوچھا: کیا وہاں انگور ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے پوچھا: انگوروں کا ایک گچھا کتنا بڑا ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر سفید کوا ایک ماہ تک کوئی لچک پیدا کیے بغیر مسلسل پرواز کرتا رہے تو اس کے دوسرے کنارے تک نہیں پہنچ پائے گا۔ اس نے پوچھا: وہاں کے غلے کا ایک دانہ کس قدر بڑا ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے والد نے بکریوں کے ریوڑ میں سے کوئی بڑا بکرا کبھی ذبح کیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر اس نے اس کا چمڑا اتار کر تمہاری والدہ کو دیا ہے کہ وہ اس سے ایک ڈول تیار کر لے؟(بس اسی کو دانے کی مثال سمجھ لیں) اس نے کہا: جی ہاں۔ بدّو نے کہا: تب تو غلے کا ایک دانہ میرے اور میرے اہل خانہ کے لیے کافی ہو جائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل، بلکہ تمہارے خاندان کے عام افراد کے لیے بھی کافی ہو گا۔
Takhreej
(۱۳۲۷۶) تخریج: اسنادہ قابل للتحسین، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۳۱۳، وفی الاوسط : ۴۰۴، وابن حبان: ۶۴۵۰ (انظر: ۱۷۶۴۲)
Explanation
فوائد:… جذعہ: اونٹ کا وہ بچہ جس کی عمر کا پانچواں سال شروع ہو چکا ہو، نوجوان اونٹ سے یہی جذعہ مراد ہے۔
13276
Sahih
جنت کے درختوں، پرندوں اور نہروں کی کیفیت کا تذکرہ
۔ (۱۳۲۷۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ رَجُلًا قَالَ لَہُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! طُوْبٰی لِمَنْ رَآکَ وَآمَنَ بِکَ، قَالَ: ((طُوْبٰی لِمَنْ رَاٰنِیْ وَآمَنَ بِیْ ثُمَّ طُوْبٰی ثُمَّ طُوْبٰی ثُمَّ طُوْبٰی لِمَنْ آمَنَ، وَلَمْ یَرَنِیْ۔)) قَالَ لَہُ رَجُلٌ: وَمَا طُوْبٰی؟ قَالَ: ((شَجَرَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ مَسِیْرَۃُ مِائَۃِ عَامٍ، ثِیَابُ اَھْلِ الْجَنَّۃِ تَخْرُجُ مِنْ اَکْمَامِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۹۶)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ان لوگوں کے لیے طوبیٰ ہے، جنہوںنے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دیدار کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی واقعی جن لوگوں نے میری زیارت کی اورمجھ پر ایمان لائے ان کے لیے طوبیٰ ہے، لیکن جو لوگ مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لائے، ان کے لیے طوبی ہے، طوبی ہے، طوبی ہے۔ اس آدمی نے کہا: بھلا طوبیٰ ہے کیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ جنت میں ایک درخت کا نام ہے اور یہ سو سال کی مسافت جتنا ہے، اس کی کلیوں کے غلافوں سے جنتی لوگوں کا لباس تیار کیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۷۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، دراج یضعف فی روایتہ عن ابی الھیثم، وقولہ: طوبی لمن رآنی و آمن بی، وطوبی لمن آمن بی ولم یرنی حسن لغیرہ، أخرجہ ابن حبان:۷۲۳۰، ۷۴۱۳، وابویعلی: ۱۳۷۴ (انظر: ۱۱۶۷۳)
13277
Zaeef
جنت کے درختوں، پرندوں اور نہروں کی کیفیت کا تذکرہ
۔ (۱۳۲۷۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ لَشَجَرَۃًیَسِیْرُ الرَّاکِبُ الْجَوَّادُ فِیْ ظِلِّہَا مِائَۃَ سَنَۃٍ وَاِنَّ وَرَقَہَا لَیَخْمِرُ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۹۲۳۲)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک درخت ہے، تیز رفتار گھوڑ سوار سو سال تک اس کے سائے میں چلتا رہتا ہے، اس کا ایک پتہ پورے باغ کو ڈھانپ لیتا ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۷۸) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: وان ورقھا لیخمر الجنۃ ، ھذہ الزیادۃ تفرد بھا ابن لھیعۃ ، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۳۳۵، والترمذی: ۳۲۹۲ (انظر: ۹۲۴۳)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((فِیْ الْجَنَّۃِ شَجَرَۃٌ یَسِیْرُ الرَّاکِبُ فِیْ ظِلِّھَا مِئَۃَ سَنَۃٍ، لَا یَقْطَعُھَا۔)) … جنت میں ایک درخت ہے، اونٹ سوار اس کے سائے میں سو برس تک چلے گا، لیکن پھر بھی اس سے پار نہیں ہو سکے گا۔ (صحیح بخاری: ۴۸۸۱، صحیح مسلم: ۲۸۲۶)
13278
Sahih
جنت کے درختوں، پرندوں اور نہروں کی کیفیت کا تذکرہ
۔ (۱۳۲۷۹)۔ (وَلَہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) بِنَحْوِہٖوَزَادَفَاقْرَئُوْااِنْشِئْتُمْ {وَّظِلٍّمَّمْدُوْد} قَالَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَمَوْضِعُ سَوْطِ اَحَدِکُمْ فِی الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْہَا۔)) وَقَرَأَ { فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْر}۔ (مسند احمد: ۹۶۴۹)
۔ (دوسری سند) اس میں یہ اضافہ ہے: اگر چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: {وَّظِلٍّ مَّمْدُوْد} (اور وہ لمبے لمبے سایوں میں ہوں گے) (سورۂ واقعہ: ۳۰)، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں تمہاری ایک لاٹھی کے برابر جگہ دنیا اور وما فیہا سے بڑھ کر ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ وَ مَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ} (پس جسے آگ سے بچا کر جنت میں داخل کر دیاگیا تو وہ یقینا کامیاب ہوگیا اور (یاد رکھو کہ) دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ (سورۂ آل عمران: ۱۸۵)
Takhreej
(۱۳۲۷۹) تخریج: انظر للحدیث الاول الحدیث بالطریق الاول، والحدیث الثانی صحیح، أخرجہ الترمذی: ۳۰۱۳، ۳۲۹۲ (انظر: ۹۶۵۰، ۹۶۵۱)
13279
Sahih
جنت کے درختوں، پرندوں اور نہروں کی کیفیت کا تذکرہ
۔ (۱۳۲۸۰)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ شَجَرَۃًیَسِیْرُ الرَّاکِبُ فِیْ ظِلِّہَا سَبْعِیْنَ اَوْ مِائَۃَ سَنَۃٍ ھِیَ شَجَرَۃُ الْخُلْدِ۔)) (مسند احمد: ۹۹۵۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک درخت اس قدر بڑا ہے کہ ایک اونٹ سوار ستر یا سو برس تک اس کے سائے میں چل سکتا ہے، وہ شَجَرَۃُ الْخُلْد (دائمی درخت) ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۸۰) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: شجرۃ الخلد وھذا اسناد ضعیف، ابو الضحاک مجھول، أخرجہ ابن جریر الطبری: ۲۷ ۱۸۳ (انظر: ۹۹۵۰)
13280
Sahih
جنت کے درختوں، پرندوں اور نہروں کی کیفیت کا تذکرہ
۔ (۱۳۲۸۱)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ طَیْرَ الْجَنَّۃِ کَاَمْثَالِ الْبُخْتِ تَرْعٰی فِیْ شَجَرِ الْجَنَّۃِ۔)) فَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ ہٰذِہِ لَطَیْرٌ نَاعِمَۃٌ۔ فَقَالَ: ((اَکَلَتُہَا اَنْعَمُ مِنْہَا قَالَھَا ثَلَاثًا وَاِنِّیْ لَاَرْجُوْ اَنْ تَکُوْنَ مِمَّنْ یَاْکُلُ مِنْہَا یَا اَبَا بَکْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۴۴)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت کے پرندے بختی اونٹوں جیسے ہوں گے، وہ جنت میں اڑتے پھرتے چرتے رہتے ہیں۔ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ پرندے تو بڑے عمدہ ہوں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار فرمایا: ان کو کھانے والے ان سے بھی بہتر اور افضل ہوں گے، اور ابو بکر! مجھے امید ہے کہ تم بھی ان کو کھانے والوں میں سے ہوگے۔
Takhreej
(۱۳۲۸۱) تخریج: صحیح (انظر: ۱۳۳۱۱)
13281
Sahih
جنت کے درختوں، پرندوں اور نہروں کی کیفیت کا تذکرہ
۔ (۱۳۲۸۲)۔ وَعَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حَیْدَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((فِی الْجَنَّۃِ بَحْرُ اللَّبَنِ ،وَبَحْرُ الْمَائِ، وَبَحْرُ الْعَسَلِ، وَبَحْرُ الْخَمْرِ ثُمَّ تَشَقَّقُ الْاَنْہَارُ مِنْہَا بَعْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۱۱)
سیدنا معاویہ بن حیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں دودھ کا سمندر ہو گا، پانی کا سمندر ہو گا، شہد کا سمندر ہو گا اور شراب کا سمندر ہو گا، پھر ان سے نہریں نکل رہی ہوں گی۔
Takhreej
(۱۳۲۸۲) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الترمذی: ۲۵۷۱ (انظر: ۲۰۰۵۲)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ فِیْہَآ اَنْہٰرٌ مِّنْ مَّاء ٍ غَیْرِ اٰسِنٍ وَاَنْہٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہُ وَاَنْہٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ وَاَنْہٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی وَلَہُمْ فِیْہَا مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ کَمَنْ ہُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَسُقُوْا مَائً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَائَ ہُمْ} … اس جنت کا حال جس کا وعدہ متقی لوگوں سے کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں کئی نہریں ایسے پانی کی ہیں جوبگڑنے والا نہیں اور کئی نہریں دودھ کی ہیں، جس کا ذائقہ نہیں بدلا اور کئی نہریں شراب کی ہیں، جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہے اور کئی نہریں خوب صاف کیے ہوئے شہد کی ہیں اور ان کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل اور ان کے رب کی طرف سے بڑی بخشش ہے۔ (کیا یہ متقی لوگ) ان جیسے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہنے والے ہیں اور جنھیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا، تو وہ ان کی انتڑیاں ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا ۔ (سورۂ محمد: ۱۵) اس فصل کی احادیث سے معلوم ہوا کہ جنت کے درخت ہوں گے تو درخت ہی، مگر ان کی کیفیت ، خوبصورتی اور طول و بلندی انسان کے وہم و گمان میںنہیں آسکتی، ایک درخت کا سایہ اس قدر طویل ہوگا کہ تیز رفتار سوار ایک سو سال میں بھی اس کے سایہ کو طے نہیں کر سکے گا۔
13282
Sahih
جنت کے بازار ، جنتی عورتوں کی صفات اور جنت میں موتی آنکھوں والی حوروں کے گاہنے کا بیان
۔ (۱۳۲۸۳)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ سُوْقًا مَا فِیْہَا بَیْعٌ وَلَاشِرَائٌ اِلَّا الصُّوَرُ مِنَ النِّسَائِ وَالرِّجَالِ فَاِذَا اشْتَہٰی الرَّجُلُ صُوْرَۃً دَخَلَ فِیْہَا وَاِنَّ فِیْہَا لَمَجْمَعًا لِلْحُوْرِ الْعِیْنِیَرْفَعْنَ اَصْوَاتًا، لَمْ یَرَ الْخَلَائِقُ مِثْلَہَا، یَقُلْنَ: نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلَا نَبِیْدُ وَنَحْنُ الرَّاضِیَاتُ فَلَانَسْخَطُ وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلَا نَبْأَسُ، فَطُوْبٰی لِمَنْ کَانَ لَنَا وَکُنَّا لَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۴۳)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک بازار ہوگا، وہاں کوئی خرید و فروخت نہیں ہوگی، بلکہ وہاں تو صرف مردوں اور عورتوں کی تصاویر ہوں گی، جب کوئی مرد کسی تصویر کو پسند کرے گا، تو وہ اسی تصویر میں تبدیل ہوجائے گا اور جنت میں موٹی آنکھوں والی عورتوں حوروں کی ایک اجتماع گاہ ہو گی، وہ وہاں بلند آواز سے گائیں گی، مخلوقات ان جیسی نہیں دیکھیں، وہ یہ نغمہ گائیں گی:ہم ہمیشہ زندہ رہنی والی ہیں، ہم کبھی نہیں مریں گی، ہم راضی ہونے والی ہیں، کبھی ناراض نہیں ہوں گی، ہم خوشحال رہنی والی ہیں، کبھی بد حال نہیں ہوں گی، پس خوشخبری ہے ان کے لیے جو ہمارے لیے ہیں اور ہم ان کے لیے ہیں۔
Takhreej
(۱۳۲۸۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد الرحمن بن اسحاق ولجھالۃ النعمان بن سعد، أخرجہ الترمذی: ۲۵۵۰، ۲۵۶۴(انظر: ۱۳۴۳)
13283
Zaeef
جنت کے بازار ، جنتی عورتوں کی صفات اور جنت میں موتی آنکھوں والی حوروں کے گاہنے کا بیان
۔ (۱۳۲۸۴)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْ لَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ لِاَھْلِ الْجَنَّۃِ سُوْقًا یَاْتُوْنَہَا کُلَّ جُمْعَۃٍ، فِیْہَا کُثْبَانُ الْمِسْکِ فَاِذَا خَرَجُوْا اِلَیْہَا ھَبَّتِ الرِّیْحُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ شِمَالِیٌّ) قَالَ: فَتَمْلَاُ وُجُوْھَھُمْ وَثِیَابَہُمْ وَبُیُوْتَہُمْ مِسْکًا فَیَزْدَادُوْنَ حُسْنًا وَجَمَالًا قَالَ: فَیَاْتُوْنَ اَھْلِیْہِمْ، فَیَقُوْلُوْنَ: لَقَدِ ازْدَدْتُّمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا وَیَقُوْلُوْنَ لَھُنَّ: وَاَنْتُمْ قَدِ ازْدَدْتُّمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا۔)) (مسند احمد: ۱۴۰۸۰)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں اہلِ جنت کا ایک بازار ہوگا، وہ وہاں ہر ہفتہ کو جایا کریں گے، اس میں کستوری کے اونچے اونچے ڈھیر ہوں گے، جب وہ اس بازار کی طرف نکلیں گے تو شمال کی جانب سے ہوا چلے گی اور وہ ان کے چہروں ،کپڑوں اور گھروں کو کستوری سے بھر دے گی اور اس سے ان کے حسن و جمال میں اضافہ ہو گا، وہ جب لوٹ کر اپنے گھر والوںکے پاس جائیں گے تو گھر والے ان سے کہیں گے کہ ہمارے پاس سے جانے کے بعد تمہارا حسن و جمال بہت زیادہ ہو چکا ہے اور وہ کہیں گے کہ ہمارے بعد تمہارے حسن و جمال میں بھی بہت اضافہ ہوچکا ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۸۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۳۳ (انظر: ۱۴۰۳۵)
Explanation
فوائد:… پہلے حسن میں کون سی کمی ہو گی، بس اللہ تعالیٰ فرحت و مسرت کے مزید اسباب پیدا کرتا رہے گا۔
13284
Sahih

Chapters

33
01
جنت اور جہنم کا تذکرہ جنت اور جہنم والوں کا بیان
6 Hadith
02
جنت اور جہنم کا تکرار
2 Hadith
03
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمان: جنت کو ناپسندیدہ امور سے گھیرا گیا ہے…
3 Hadith
04
اہل ِ جہنم کی بدبختی اور اہل جنت کی نعمتوں کا بیان
4 Hadith
05
جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے اور اس سے جنت کا سوال کرنے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ دونوں انسان کے تسمے سے زیادہ قریب ہیں
2 Hadith
06
اس کی گرمی اور اس کے زمہریر کی ٹھنڈک کا بیان
4 Hadith
07
جہنم کی گہرائی، اس کی وادیوں اور عذاب کے ذرائع کا بیان ، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
6 Hadith
08
جہنم کی وسعت اور اس کی دیواروں کا بیان
2 Hadith
09
قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن کا ظہور اور جہنم کا کہنا کہ کیا مزید افراد ہیں
3 Hadith
10
جہنم سے ڈرانے کا بیان
4 Hadith
11
جہنم والوں اور ان کی صفات کا بیان
8 Hadith
12
اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان
8 Hadith
13
ابلیس اور اس کی اولاد کے عذاب کی کیفیت اور ان کا ہلاکتوں کو پکارنے کابیان
1 Hadith
14
اہل ِ توحید میں سے جہنم سے سب سے آخر میں رہائی پانے والا اور سب سے آخر میں جنت میں جانے والے کا تذکرہ
5 Hadith
15
وہ امور جن میں مسلمانوں کی اولاد اور کافروں کی اولاد کاایک ہی حکم ہے
5 Hadith
16
مشرکوں کی اولاد کا بیان
3 Hadith
17
اس امر کا بیان کہ ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، نیز پیدا ہونے والے ہر بچے کو شیطان کے چو کا دینے کا بیان
5 Hadith
18
اہل ِ اسلام کی اولادکے بارے میں
3 Hadith
19
اہلِ فترہ، بے شعور، بہرے اور انتہائی بوڑھے افراد کے انجام کا بیان
2 Hadith
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے والدین کا تذکرہ
4 Hadith
21
جنت کی نعمتوں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس قول کا بیان کہ اس میں وہ کچھ ہے جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا
4 Hadith
22
جنت کی عمارت، مٹی، کمروں اور خیموں کا تذکرہ
7 Hadith
23
جنت کے درختوں، پرندوں اور نہروں کی کیفیت کا تذکرہ
7 Hadith
24
جنت کے بازار ، جنتی عورتوں کی صفات اور جنت میں موتی آنکھوں والی حوروں کے گاہنے کا بیان
5 Hadith
25
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
9 Hadith
26
جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے لوگوں اور ان کی صفات کا تذکرہ
8 Hadith
27
حساب کتاب کے بغیر جنت میں جانے والوں کی تعداد اور ان کی صفات کا بیان
6 Hadith
28
سب سے کم درجہ والے اور سب سے بلند درجہ والے جنتی کے انعامات کا بیان
5 Hadith
29
اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
11 Hadith
30
جو جنتی جنت میں جس چیز کی خواہش کرے گا، وہ اسے مل جائے گی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور جنت میں ہر وہ چیز مہیا ہوگی جسے دل چاہیں گے اور آنکھیں پسند کریں گی۔
3 Hadith
31
اہل جنت پر اللہ تعالیٰ کی رضا مندی، اور یہی چیز اہل جنت پر سب سے بڑی نعمت ہوگی
1 Hadith
32
موت کو ذبح کر دینے اور جہنمیوں کا ہمیشہ جہنم میں رہنے اور جنتیوں کا ہمیشہ جنت میں رہنے کا بیان
5 Hadith
33
اہل ایمان کا جنت میں اپنے ربّ کا دیدار کرنا اور یہ سب سے بڑی نعمت ہو گی، جو اللہ تعالیٰ ان کو عطا کرے گا، اللہ ہمیں اس سے محروم نہ رکھے (آمین)نیز اس باب میں موقف سے موت کے ذبح ہونے تک کے ابواب کی تلخیص بھی ہے
6 Hadith
No chapter matched that.