وہ امور جن میں مسلمانوں کی اولاد اور کافروں کی اولاد کاایک ہی حکم ہے
۔ (۱۳۲۴۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ: کُنْتُ اَقُوْلُ: اَوْلَادُ الْمُشْرِکِیْنَ ھُمْ مِنْہُمْ، فَحَدَّثَنِیْ رَجُلٌ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَلَقِیْتُہُ فَحَدَّثَنِیْ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((رَبُّہُمْ اَعْلَمُ بِہِمْ، ھُوَ خَلَقَہُمْ وَھُوَ اَعْلَمُ بِہِمْ وَبِمَا کَانُوْا عَامِلِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۸۰)
(دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں مشرکوں کی اولاد کے بارے میں یہی کہتا تھا کہ وہ ان ہی کے ساتھ ہو گی۔لیکن بعد میں ایک آدمی نے ایک صحابی کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کا ربّ ہی ان کے بارے میں بہتر جانتا ہے، اسی نے ان کو پیدا کیا، وہ اِن کو بھی جانتا ہے اور جو انھوںنے عمل کرنے تھے، ان کو بھی جانتا ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۴۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
13245
Sahih