TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل - جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل - Book 177 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 177 of Musnad Ahmad, with 33 chapters and 157 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

157 Hadith · 33 Chapters
وہ امور جن میں مسلمانوں کی اولاد اور کافروں کی اولاد کاایک ہی حکم ہے
۔ (۱۳۲۴۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ: کُنْتُ اَقُوْلُ: اَوْلَادُ الْمُشْرِکِیْنَ ھُمْ مِنْہُمْ، فَحَدَّثَنِیْ رَجُلٌ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَقِیْتُہُ فَحَدَّثَنِیْ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((رَبُّہُمْ اَعْلَمُ بِہِمْ، ھُوَ خَلَقَہُمْ وَھُوَ اَعْلَمُ بِہِمْ وَبِمَا کَانُوْا عَامِلِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۸۰)
(دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں مشرکوں کی اولاد کے بارے میں یہی کہتا تھا کہ وہ ان ہی کے ساتھ ہو گی۔لیکن بعد میں ایک آدمی نے ایک صحابی کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کا ربّ ہی ان کے بارے میں بہتر جانتا ہے، اسی نے ان کو پیدا کیا، وہ اِن کو بھی جانتا ہے اور جو انھوںنے عمل کرنے تھے، ان کو بھی جانتا ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۴۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
13245
Sahih
وہ امور جن میں مسلمانوں کی اولاد اور کافروں کی اولاد کاایک ہی حکم ہے
۔ (۱۳۲۴۶)۔ وَعَنْ حَسْنَائَ بِنْتِ مُعَاوِیَۃَ مِنْ بَنِیْ صَرِیْمٍ قَالَت: حَدَّثَنَا عَمِّیْ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ فِی الْجَنَّۃِ؟ قَالَ: ((اَلنَّبِیُّ فِی الْجَنَّۃِ وَالشَّہِیْدُ فِی الْجَنَّۃِ وَالْمَوْلُوْدُ وَالْوَلِیْدَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۷۲)
بنو صریم کی ایک خاتون حسناء بنت معاویہ اپنے چچا سے بیان کرتی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! کون کون لوگ جنت میں جائیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نبی جنت میں ہو گا ، شہید جنت میں ہو گا اور (بلوغت سے پہلے فوت ہوجانے والا)بچہ اور بچی بھی جنت میں ہو ں گے۔
Takhreej
(۱۳۲۴۶) تخریج: صحیح بالشواھد، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۵/ ۳۳۹، وابن سعد: ۷/ ۸۴(انظر: ۲۳۴۷۶)
13246
Sahih
وہ امور جن میں مسلمانوں کی اولاد اور کافروں کی اولاد کاایک ہی حکم ہے
۔ (۱۳۲۴۷)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ ((وَالْمَوْلُوْدُ فِی الْجَنَّۃِ وَالْمَوْؤُوْدَۃُ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۶۱)
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: نابالغ بچہ بھی جنت میں ہوگا اور زندہ درگور کی گئی بچی بھی جنت میں جائے گی۔
Takhreej
(۱۳۲۴۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… امت مسلمہ اس حقیقت پر متفق و متحد ہے کہ مسلمانوں کے نابالغ بچے جنت میں داخل ہوں گے۔
13247
Sahih
مشرکوں کی اولاد کا بیان
۔ (۱۳۲۴۷)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ ((وَالْمَوْلُوْدُ فِی الْجَنَّۃِ وَالْمَوْؤُوْدَۃُ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۶۱)
مولائے غطیب عبد اللہ بن ابی قیس، ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آئے اور ان کو سلام کہا، انھوں نے پوچھا: کون ہے؟ اس نے بتایا: جی میں غطیف بن عازب کا غلام عبد اللہ ہوں، انھوں نے کہا: جو عفیف کے بیٹے ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، اے ام المومنین! پھر اس نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا کہ آیا اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دو رکعتیں ادا کی ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پھر اس نے کافروں کی اولادکا حکم دریافت کیا، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ: وہ آخرت میں اپنے آباء کے ساتھ ہوں گے۔ میںنے کہا تھا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ عمل کے بغیر ہی اپنے آباء کے ساتھ (برے انجام میں شریک ہوں گے)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ انھوں نے کون سے عمل کرنے تھے۔
Takhreej
(۱۳۲۴۸) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۴۷۱۲ (انظر: ۲۴۵۴۵)
13248
Sahih
مشرکوں کی اولاد کا بیان
۔ (۱۳۲۴۹)۔ وَعَنْْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ اِلَّا عَلٰی ہٰذِہِ الْمِلَّۃِ،حَتّٰییُبِیِّنَ عَنْہُ لِسَانُہُ فَاَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ اَوْ یُنَصِّرَانِہٖ اَوْ یُشْرِّکَانِہٖ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!کَیْفَ مَاکَانَ قَبْلَ ذٰلِکَ؟ قَالَ: ((اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا عَامِلِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۷۴۳۸)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے،وہ اِس ملت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ بولنا شروع کر دے، پھر اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی یا مشرک بنا دیتے ہیں۔ صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! جو بچے اس عمرسے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں، ان کا انجام کیا ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ انھوں نے کون سے عمل کرنے تھے۔
Takhreej
(۱۳۲۴۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۵۹۹، ومسلم: ۲۶۵۸ (انظر: ۷۴۴۵)
13249
Sahih
مشرکوں کی اولاد کا بیان
۔ (۱۳۲۵۰)۔ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُئِلَ عَنْ ذَرَارِیِّ الْمُشْرِکِیْنَ فَقَالَ: ((اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا عَامِلِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۳۱۶۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں پوچھا گیاتو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ انھوں نے کیا عمل کرنے تھے۔
Takhreej
(۱۳۲۵۰) تخریج: انظر الحدیث رقم (۱۳۲۴۴)
Explanation
فوائد:… مشرکین کے مرنے والے نابالغ بچوں کا انجام کیا ہو گا؟ بعض احادیث میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے توقف کیا، بعض میں وضاحت کر دی کہ وہ اپنے بڑے کے ساتھ ہوں گے اور بعض میں ان کو جنتی قرار دیا گیا۔ درج ذیل دلائل سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ وہ بھی جنت میں جائیں گے: (۱)ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمَا کُنَّا مَعَذِّبِیْنَ حَتَّی نَبْعَثَ رَسُوْلًا}(سورۂ بنی اسرائیل: ۱۵) یعنی: ہم کسی شخص کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتے، جب تک رسول اس کی طرف رسول نہ بھیج دیں۔ (۲)سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک طویل حدیث بیان کرتے ہیں، اس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ایک خواب بیان کیا، اس میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فرشتوں نے مجھے کہا: دراز قد آدمی، جو آپ نے خوبصورت باغ میں دیکھے تھے، وہ ابراہیم علیہ السلام تھے اور ان کے ارد گرد وہ تمام بچے تھے، جو فطرت پر فوت ہوئے۔ کسی مسلمان نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا: کیا مشرکوں کے بچے بھی تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور مشرکوں کے بچے بھی تھے۔ (بخاری: ۷۰۴۷) یہ اس موضوع پر انتہائی واضح نص ہے، اس کا نسخ بھی ممکن نہیں ہے۔ (۳) بنو صریم کی ایک خاتون حسناء بنت معاویہ اپنے چچا سے بیان کرتی ہیں، وہ کہتے ہیں : میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جنت میں کون ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اَلنَّبِیُّ فِی الْجَنَّۃِ ، وَالشَّہِیْدُ فِی الْجَنَّۃِ ، وَالْمَوْلُوْدِ فِی الْجَنَّۃِ۔))(مسند احمد) یعنی: نبی جنت میں ہو گا، شہید جنت میں ہو گا اور نابالغ بچہ جنت میں ہو گا۔ یہ حدیث مبارکہ بھی عام ہے، جو تمام بچوں کو شامل ہے۔ ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کے مرنے والے نابالغ بچے جنت میں داخل ہوں گے۔ امام بخاری، امام نووی، حافظ ابن حجر، امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیمM کا یہی مسلک ہے۔ جن احادیث میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں توقف کا اظہار کیا، اِن علمائے اسلام نے ان احادیث کو اس مسئلہ کی حقیقت کی وضاحت سے پہلے پر محمول کیا۔ بعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود وضاحت کر دی کہ وہ جنت میں ہی داخل ہوں گے۔ لیکن درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بچوں کا دوبارہ امتحان ہو گا: سیدنا انس بن مالک، سیدنا ابو سعید خدری، سیدنا معاذ بن جبل، سیدنا اسود بن سریع اور سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((یُؤْتٰی بِاَرْبَعَۃٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: بِالْمَوْلُوْدِ، وَبِالْمَعْتُوْہِ، وَبِمَنْ مَاتَ فِي الْفَتْرَۃِ، وَالشَّیْخِ الْفَانِيْ،کُلُّھُمْ یَتَکَلَّمُ بِحُجَّتِہِ، فَیَقُوْلُ الرَّبُّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لِعُنُقٍ مِنَ النَّارِ: اَبْرِزْ، فَیَقُوْلُ لَھُمْ: اِنِّيْ کُنْتُ اَبْعَثُ اِلٰی عِبَادِيْ رُسُلاً مِنْ اَنْفُسِھِمْ ، وَاِنِّي رَسُوْلُ نَفْسِيْ اِلَیْکُمْ، اُدْخُلُوْا ھٰذِہٖ فَیَقُوْلُ مَنْ کُتِبَ عَلَیْہِِ الشَّقَائُ: یَارَبِّ! اَیْنَ نَدْخُلُھَا وَمِنْھَا کُنَّا نَفِرُّ؟ قَالَ: وَمَنْ کُتِبَ عَلَیْہِ السَّعَادَۃُ یَمْضِيْ فَیَقْتَحِمُ فِیْھَا مُسْرِعًا، قَالَ: فَیَقُوْلُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: اَنْتُمْ لِرُسُلِيْ اَشَدُّ تَکْذِیْبًا وَمَعْصِیَۃً، فَیَدْخُلُ ھٰؤُلَائِ الْجَنَّۃَ، وَھٰؤُلَائِ النَّارَ۔)) (مسند ابی یعلی:۳/ ۱۰۴۴، مسند البزار: صـ۲۳۲، المعجم الاوسط، المعجم الکبیر، الصحیحۃ: ۲۴۶۸) یعنی: روزِ قیامت اِن چار افراد کو لایا جائے گا: بچہ، مجنون، دو رسولوں کے درمیانی وقفے میںمرنے والا اور بہت بوڑھا۔ ان میں سے ہر کوئی اپنی اپنی دلیلیں پیش کرے گا، اللہ تعالیٰ آگ کی گردن سے فرمائے گا: نمایاں ہو، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں اپنے بندوں کی طرف ان میں سے رسول بھیجتا رہا اور اب میں تم لوگوں کے لیے اپنا قاصد خود ہوں اور کہتا ہوں کہ (سب کے سب) اس آگ میں داخل ہو جاؤ۔ بدبخت لوگ کہیں گے:اے ہمارے ربّ! ہم اس میں کیسے داخل ہوں، ہم تو اس سے دور بھاگتے تھے؟ سعادت مند لوگ (اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے) چل پڑیں گے اور اس میں جلدی جلدی اور زبردستی گھسیں گے۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم (آگ میں داخل نہ ہونے والے بدبخت) لوگ میرے رسولوں کو جھٹلانے اور اس کی نافرمانی کرنے میں بڑے دلیر ہوتے۔ اب یہ جنت میں داخل ہوں گے اور یہ آگ میں۔ شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: اس حدیث میںمذکورہ بچے سے مراد وہ ہے، جس کے والدین کافر ہوں۔ (صحیحہ: ۵/ ۶۰۵) کیونکہ بالاتفاق مسلمانوں کی بچے جنت میں داخل ہوںگے۔ میں نے پاکستان کے ایک محقق عالمِ دین کے سامنے مذکورہ بالا بحث اور یہ حدیث رکھی اور جمع و تطبیق کا سوال کیا، انھوں نے کہا: جن احادیث میں مشرکوں کے نابالغ بچوں کے جنتی ہونے کا ثبوت ملتا ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا بعض احادیث میں ہے، ان سے مراد وہ بچے ہیں، جو حشر کے میدان میں ہونے والے امتحان میں کامیاب ہوں گے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ حافظ عبدالمنان نورپوری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ کا موقف بھی امتحان والا ہی ہے۔ (دیکھیں احکام ومسائل: ۲/ ۳۵۸)
13250
Sahih
اس امر کا بیان کہ ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، نیز پیدا ہونے والے ہر بچے کو شیطان کے چو کا دینے کا بیان
۔ (۱۳۲۵۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلٰی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ وَیُنَصِّرَانِہٖ وَیُمَجِّسَانِہٖ کَمَا تُنْتَجُ الْبَھِیْمَۃُ ھَلْ تُحِسُّوْنَ فِیْہَا مِنْ جَدْعَائَ ثُمَّ یَقُوْلُ: وَاقْرَؤُوْا اِنْ شِئْتُمْ {فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَالنَّاسَ عَلَیْھَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ }۔)) (مسند احمد: ۹۰۹۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پیدا ہونے والا ہر بچہ دینِ فطرت یعنی دین اسلام پر پیدا ہوتا ہے، بعد میں اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں،یہ بات بالکل ایسے ہی ہے جیسے جانور کا بچہ سالم پیدا ہوتا ہے، کیا تم ان میں سے کسی کا کان کٹا ہوا دیکھتے ہو؟اگراس بات کی تصدیق چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: {فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَالنَّاسَ عَلَیْھَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ } (اللہ تعالیٰ کی فطرت کو یعنی اس کے اس دین کو اختیار کرو، جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، کسی کو اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی کا حق حاصل نہیں ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۵۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۳۸۵، ۴۷۷۵، ومسلم باثر الحدیث: ۲۶۵۸ (انظر: ۹۱۰۲)
13251
Sahih
اس امر کا بیان کہ ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، نیز پیدا ہونے والے ہر بچے کو شیطان کے چو کا دینے کا بیان
۔ (۱۳۲۵۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلٰی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ وَیُنَصِّرَانِہٖ مِثْلَ الْاَنْعَامِ تُنْتَجُ صِحَاحًا، فَتُکْوٰی آذَانُہَا۔)) (مسند احمد: ۷۷۸۲)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت یعنی دینِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، بعد میں اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں، یہ بات ایسے ہی ہے جیسے چوپائے صحیح سالم پیدا ہوتے ہیں، بعد میں ان کے کانوں کو داغ دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۵۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
13252
Sahih
اس امر کا بیان کہ ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، نیز پیدا ہونے والے ہر بچے کو شیطان کے چو کا دینے کا بیان
۔ (۱۳۲۵۳)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلٰی الْفِطْرَۃِ حَتّٰییُعْرِبَ عَنْہُ لِسَانُہُ فَاِذَا اَعْرَبَ عَنْہُ لِسَانُہُ اِماَّ شَاکِرًا وَاِمَّا کَفُوْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۶۵)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت یعنی دینِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، یہاںتک کہ اس کی زبان اس کی طرف سے وضاحت کرنا شروع کر دے، اور جب ایسے ہوتا ہے توپھر پتہ چلتا ہے کہ اب وہ شکر گزار مسلمان ہے یا ناشکرا کافر۔
Takhreej
(۱۳۲۵۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو جعفر عیسی بن ابی عیسی الرازی ضعیف سییء الحفظ، وفی روایتہ عن الربیع بن انس اضطراب، وفی الاسناد ایضا عنعنۃ الحسن البصری (انظر: ۱۴۸۰۵)
13253
Zaeef
اس امر کا بیان کہ ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، نیز پیدا ہونے والے ہر بچے کو شیطان کے چو کا دینے کا بیان
۔ (۱۳۲۵۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((کُلُّ بَنِیْ آدَمَ یَطْعَنُ الشَّیْطَانُ بِاِصْبَعِہٖفِیْ جَنْبِہٖحِیْنَیُوْلَدُ اِلَّا عِیْسٰی بْنَ مْرَیَمَ، ذَھَبَ یَطْعَنُ فَطَعَنَ فِی الْحِجَابِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۸۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو آدم کے ہر بچے کو پیدائش کے وقت شیطان اپنی انگلی سے چوکا لگاتا ہے، ما سوائے عیسی بن مریم کے، شیطان چوکا لگانے کے لیے گیا تو تھا، لیکن پردے میں چوکا لگا کر واپس آ گیا۔
Takhreej
(۱۳۲۵۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۸۶، ومسلم: ۲۳۶۶ (انظر: ۱۰۷۷۳)
Explanation
فوائد:… پردے سے مراد وہ جھلی ہے، جس میں بچہ رحمِ مادر میں لپٹا ہوا ہوتا ہے اور بوقت ِ ولادت بچہ کے ساتھ نکلتی ہے۔ شیطان یہ چوکا لگا کر بچے پر اپنے تسلّط کا آغاز کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی ماں کی اس سے حفاظت کی، یہ ان کی ماں کی دعا کی برکت تھی، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے: سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ اِلَّا نَخَسَہُ الشَّیْطَانُ فَیَسْتَھِلُّ صَارِخًا مِنْ نَخْسَۃِ الشَّیْطَانِ اِلَّا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہُ۔)) قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ: اِقْرَئُ وْا اِنْ شِئْتُمْ {اِنِّیْ اُعِیْذُھَا بِکَ وَذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔} … نہیں ہے کوئی بچہ جو پیدا ہوتا ہے، مگر شیطان اس کو چوکا لگاتا ہے، وہ شیطان کے اس چوکے کی وجہ سے چیختا ہے، ما سوائے ابن مریم اور اس کی ماں کے۔ سیدنا ابوہریرہ علیہ السلام نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو قرآن کا یہ حصہ پڑھ لو: بیشک میں اس کو اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں، شیطان مردود سے۔ (بخاری: ۳۴۳۱، ومسلم: ۲۳۶۶)
13254
Sahih
اس امر کا بیان کہ ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، نیز پیدا ہونے والے ہر بچے کو شیطان کے چو کا دینے کا بیان
۔ (۱۳۲۵۵)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: ثَنَا السَّرِیُّ بْنُ یَحْیٰی ثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا الْاَسْوَدُ بْنُ سَرِیْعٍ، وَکَانَ رَجُلًا مِنْ بَنِیْ سَعْدٍ وَکَانَ اَوَّلَ مَنْ قَصَّ فِیْ ہٰذَا الْمَسْجِدِیَعْنِی الْمَسْجِدَ الْجَامِعَ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَرْبَعَ غَزَوَاتٍ قَالَ: فَتَنَاوَلَ قَوْمُ نِ الذُّرِّیَّۃَ بَعْدَ مَا قَتَلُوْا الْمُقَاتِلَۃَ فَبَلَغَ ذٰلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَلَا! مَا بَالُ اَقْوَامٍ قَتَلُوْا الْمُقَاتِلَۃَ حَتّٰی تَنَاوَلُوا الذُّرِّیَّۃَ؟)) قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوَلَیْسَ اَبْنَائُ الْمُشْرِکِیْنَ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ خِیَارَکُمْ اَبْنَائُ الْمُشْرِکِیْنَ، اِنَّہَا لَیْسَتْ نَسَمَۃٌ تُوْلَدُ اِلَّا وُلِدَتْ عَلٰی الْفِطْرَۃِ، فَمَا تَزَالُ عَلَیْہَا حَتّٰییُبِیِّنَ عَنْہَا لِسَانُہَا فَاَبَوَاھَا یُہَوِّدَانِہَا اَوْ یُنَصِّرَانِہَا۔)) قَالَ: وَاَخْفَاھَا الْحَسَنُ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۱۲)
سیدنا اسود بن سریع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، یہ قبیلہ بنو سعد کے فرد تھے اور انہوں نے سب سے پہلے مسجد جامع وعظ شروع کیا تھے، ان سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چار غزووں میں شرکت کی، ایک دفعہ مسلمانوں نے لڑنے والے مخالفین کو قتل کرنے کے بعد ان کے چھوٹے بچوں کو بھی قتل کر دیا، لیکن جب یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا کہ انہوں نے پہلے لڑنے والوں کو قتل کیا ہے اور پھر ان کے بچوں کو بھی قتل کر دیا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ بھی ان مشرکوں کی ہی اولاد نہیں ہیں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین لوگ مشرکوں کے ہی بیٹے ہیں، بات یہ ہے کہ ہر روح جب پیدا ہوتی ہے تو وہ دین ِ فطرت پر ہی پیدا ہوتی ہے اور وہ اسی پر برقرار رہتی ہے، یہاں تک کہ اس کی زبان اس کی طرف سے وضاحت کرنا شروع کر دے، پھر اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں۔ حسن نے آخری الفاظ کی ادائیگی پست آواز سے کی۔
Takhreej
(۱۳۲۵۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، الحسن البصری رغم تصریحہ بالسماع ھنا من الاسواد بن سریع، الا ان الصحیح انہ لم یسمع منہ (انظر: ۱۶۳۰۳)
Explanation
فوائد:… اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ پیدا ہونے والا ہر بچہ دین فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، جب وہ بولنا شروع کر دیتا ہے تو اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یامجوسی بنا دیتے ہیں، مشرکوں کا نابالغ بچہ بھی ان احادیث کا مصداق بن رہا ہے، لیکن اس میں تفصیل ہے، سابقہ باب کے فوائد ملاحظہ ہوں۔
13255
Zaeef
اہل ِ اسلام کی اولادکے بارے میں
۔ (۱۳۲۵۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ذِرَارِیُّ الْمُسْلِمِیْنَ فِی الْجَنَّۃِیَکْفُلُہُمْ اِبْرَاہِیْمُ علیہ السلام ۔)) (مسند احمد: ۸۳۰۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل ِ اسلام کی اولاد جنت میں ہے، ابراہیم علیہ السلام ان کی کفالت کرتے ہیں۔
Takhreej
(۱۳۲۵۶) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابن حبان: ۷۴۴۶، والحاکم: ۲/ ۳۷۰(انظر: ۸۳۲۴)
Explanation
فوائد:… حدیث نمبر (۱۳۲۵۰)کے فوائد میں یہ حدیث تفصیل کے ساتھ گزر چکی ہے۔
13256
Sahih
اہل ِ اسلام کی اولادکے بارے میں
۔ (۱۳۲۵۷)۔ وَعَنْ عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُوْمِنِیْنَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: دُعِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی جَنَازَۃِ غُلَامٍ مِنَ الْاَنْصَارِ فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! طُوْبٰی لِہٰذَا، عُصْفُوْرٌ مِنْ عَصَافِیْرِ الْجَنَّۃِ، لَمْ یُدْرِکِ الشَّرَّ وَلَمْ یَعْمَلْہُ، قَالَ: ((اَوَ غَیْرُ ذٰلِکَ یَاعَائِشَۃُ! اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّّ خَلَقَ لِلْجَنَّۃِ اَھْلًا، خَلَقَہَا لَھُمْ وَھُمْ فِیْ اَصْلَابِ آبَائِہِمْ وَخَلَقَ لِلنَّارِ اَھْلًا، خَلَقَہَا لَھُمْ وَھُمْ فِیْ اَصْلَابِ آبَائِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۶۲۶۱)
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کابیان ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک انصاری بچے کے جنازے کے لیے بلایا گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کے لیے تو خوشخبری ہے،یہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، اس نے نہ گناہ کو پایا اور نہ اس پر عمل کیا۔ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! کوئی اور بات بھی ہے، حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو جنت کے لیے اور جنت کو لوگوں کے لیے اس وقت پیدا کیا، جب کہ یہ لوگ ابھی تک اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے، اور اس نے لوگوں کو جہنم کے لیے اور جہنم کو لوگوں کے لیے اس وقت پیدا کیا جبکہ یہ لوگ ابھی تک اپنے آباء کی پشتوں میں تھے۔
Takhreej
(۱۳۲۵۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۶۲(انظر: ۲۵۷۴۲)
Explanation
فوائد:… یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے نابالغ بچے جنت میں داخل ہوں گے، لیکن تعیین کے ساتھ کسی بچے کو جنتی نہیں قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ پہلے یہ بات ثابت کرنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے والدین کا اسلام کیسا ہے، وہ قبول بھی ہے یا نہیں، یا ان کا انجام کیا ہو گا؟ اور اس چیز کا علم آخرت میں ہو گا۔ یہ الگ بات ہے کہ مسلمان کے بارے میں حسن ظن تو یہی ہوتا ہے کہ وہ اسلام کی حالت میں فوت ہو گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی قدر ہو گی، لیکن شرعی قوانین کی بات اور ہے۔
13257
Sahih
اہل ِ اسلام کی اولادکے بارے میں
۔ (۱۳۲۵۸)۔ وَعَنْ شُرَحْبِیْلِ بْنِ شُفْعَۃَ عَنْ بَعْضِ اَصْحَابِ النِّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یُقَالُ لِلْوِلْدَانِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اُدْخُلُوْا الْجَنَّۃَ فَیَقُوْلُوُنَ: یَارَبِّ! حَتّٰییَدْخُلَ آبَاوُنَا وَاُمَّہَاتُنَا، قَالَ: فَیَاْتُوْنَ، قَالَ: فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: مَالِیْ اَرَاھُمْ مُحْبَنْطِئِیْنَ، اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ، قَالَ: فَیَقُوْلُوْنَ: یَارَبِّ! آبَاوُنَا وَاُمَّہَاتُنَا، قَالَ: فَیَقُوْلُ: اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ اَنْتُمْ وَآبَاؤُکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۹۶)
ایک صحابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن چھوٹے بچوں سے کہا جائے گا کہ تم جنت میں چلے جاؤ، لیکن وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! جب تک ہمارے باپ اور مائیں جنت میںداخل نہیں ہو جاتے، اس وقت تک ہم نہیں جائیں گے، پھر وہ آگے چلیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا: کیا وجہ ہے کہ تم غصے میں اور آہستہ آہستہ چلے رہے ہو؟ چلو جنت میں داخل ہو جاؤ، لیکن وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمارے باپ اور ہماری مائیں۔ بالآخر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اچھا تم بھی جنت میں داخل ہو جاؤ اور اور تمہارے ماں باپ بھی۔
Takhreej
(۱۳۲۵۸) تخریج: اسنادہ جیّد (انظر: ۱۶۹۷۱)
13258
Sahih
اہلِ فترہ، بے شعور، بہرے اور انتہائی بوڑھے افراد کے انجام کا بیان
۔ (۱۳۲۵۹)۔ وَعَنِ الْاَسْوَدِ بْنِ سَرِیْعٍ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَرْبَعَۃٌیَوْمَ الْقِیَامَۃِ رَجُلٌ اَصَمُّ لَا یَسْمَعُ شَیْئًا وَرَجُلٌ اَحْمَقُ وَرَجُلٌ ھَرِمٌ وَرَجُلٌ مَاتَ فِیْ فَتْرَۃٍ، فَاَمَّا الْاَصَمُّ فَیَقُوْلَُ: رَبِّ لَقَدْ جَائَ الْاِسْلَامُ وَمَا اَسْمَعُ شَیْئًا، وَاَمَّا الْاَحْمَقُ فَیَقُوْلُ: رَبِّ لَقَدْ جَائَ الْاِسْلَامُ وَالصِّبْیَانُیَخْذِفُوْنِّیْ بِالْبَعْرِ، وَاَمَّاالْھَرِمُ فَیَقُوْلُ: رَبِّ لَقَدْ جَائَ الْاِسْلَامُ وَمَا اَعْقِلُ شَیْئًا، وَاَمَّا الَّذِیْ مَاتَ فِی الْفَتْرِۃِ، فَیَقُوْلُ: رَبِّ مَا اَتَانِیْ لَکَ رَسُوْلٌ، فَیَاْخُذُ مَوَاثِیْقَہُمْ لَیُطِیْعَنَّہُ فَیُرْسِلُ اِلَیْہِمْ اَنِ ادْخُلُوْا النَّارَ قَالََ: فَوَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ! لَوْ دَخَلُوْھَا لَکَانَتْ عَلَیْہِمْ بَرْدًا وَسَلاَمًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۱۰)
سیدنا اسود بن سریع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن چار قسم کے لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے، ایک بہرہ ہو گا، جو بالکل نہیں سنتا تھا، دوسرا احمق یعنی بے شعور ہو گا، تیسرا انتہائی بوڑھا اور چوتھا فترہ میں مر جانے والا۔ بہرہ آدمی کہے گا: اے میرے رب! میرے پاس دین اسلام اس وقت آیا تھا، جب میں کچھ بھی نہیں سنتا تھا،احمق کہے گا: اے میرے رب! اسلام تو آیا تھا، لیکن میں اس قدر بے شعور تھا کہ بچے مجھے مینگنیاں مارا کرتے تھے، بوڑھا کہے گا: اے میرے ربّ! جب اسلام آیا تھا تو میری حالت یہ تھی کہ مجھے کوئی چیز سمجھ نہیں آتی تھی اور فترہ میں مرنے والا کہے گا: اے میرے رب! میرے پاس تو تیرا کوئی رسول ہی نہیں آیا تھا۔ یہ سن کر اللہ تعالیٰ ان سے پختہ عہد لے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ضرور بالضرور اطاعت کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان کی طرف پیغام بھیجے گا کہ تم اس آگ میں داخل ہوجاؤ۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر وہ اس آگ میں داخل ہو جائیں گے تو وہ ان کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی والی ہو گی۔
Takhreej
(۱۳۲۵۹) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ البزار: ۲۱۷۴، والبیھقی فی الاعتقاد : ص ۱۱۱، واسحاق بن راہویہ فی مسندہ : ۴۱ (انظر: ۱۶۳۰۱)
Explanation
فوائد:… دو نبیوں کے درمیان کے وقفہ کو فترہ کہتے ہیں، اس حدیث میں اہلِ فترہ سے مراد وہ لوگ ہیں، جو عیسی علیہ السلام کے بعد آئے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت سے پہلے فوت ہو گئے۔
13259
Sahih
اہلِ فترہ، بے شعور، بہرے اور انتہائی بوڑھے افراد کے انجام کا بیان
۔ (۱۳۲۶۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِثْلُ ہٰذَا غَیْرَ اَنَّہُ قَالَ فِیْ آخِرِہٖ: ((فَمَنْدَخَلَہَاکَانَتْعَلَیْہِ بَرْدًا وَسَلَامًا وَمَنْ لَّمْ یَدْخُلْہَایُسْحَبُ اِلَیْہَا۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۱۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی گزشتہ حدیث کی مانند ایک حدیث مروی ہے، البتہ اس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: جو شخص اس آگ میں داخل ہو جائے گا، وہ اس کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی والی ہو گی اور جو اس میں داخل نہیں ہو گا، اسے گھسیٹ کر اس کی طرف لے جایا جائے گا۔
Takhreej
(۱۳۲۶۰) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ بنحوہ البزار: ۲۱۷۵، والبیھقی فی الاعتقاد : ص ۱۱۱ (انظر: ۱۶۳۰۲)
Explanation
فوائد:… اس فصل سے معلوم ہوا کہ بہرا، بے شعور ، بے عقل ، انتہائی بوڑھا اور قبل از اسلام دور جاہلیت میں فوت ہونے والا، جب یہ چار قسم کے لوگ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا عذر پیش کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کا دوبارہ امتحان لے گا، اس موضوع سے متعلقہ درج ذیل روایت زیادہ واضح ہے: سیدنا انس بن مالک، سیدنا ابو سعید خدری، سیدنا معاذ بن جبل، سیدنا اسود بن سریع اور سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((یُؤْتٰی بِاَرْبَعَۃٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: بِالْمَوْلُوْدِ، وَبِالْمَعْتُوْہِ، وَبِمَنْ مَاتَ فِي الْفَتْرَۃِ، وَالشَّیْخِ الْفَانِيْ،کُلُّھُمْ یَتَکَلَّمُ بِحُجَّتِہِ، فَیَقُوْلُ الرَّبُّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لِعُنُقٍ مِنَ النَّارِ: اَبْرِزْ، فَیَقُوْلُ لَھُمْ: اِنِّيْ کُنْتُ اَبْعَثُ اِلٰی عِبَادِيْ رُسُلاً مِنْ اَنْفُسِھِمْ ، وَاِنِّي رَسُوْلُ نَفْسِيْ اِلَیْکُمْ، اُدْخُلُوْا ھٰذِہٖ فَیَقُوْلُ مَنْ کُتِبَ عَلَیْہِِ الشَّقَائُ: یَارَبِّ! اَیْنَ نَدْخُلُھَا وَمِنْھَا کُنَّا نَفِرُّ؟ قَالَ: وَمَنْ کُتِبَ عَلَیْہِ السَّعَادَۃُ یَمْضِيْ فَیَقْتَحِمُ فِیْھَا مُسْرِعًا، قَالَ: فَیَقُوْلُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: اَنْتُمْ لِرُسُلِيْ اَشَدُّ تَکْذِیْبًا وَمَعْصِیَۃً، فَیَدْخُلُ ھٰؤُلَائِ الْجَنَّۃَ، وَھٰؤُلَائِ النَّارَ۔)) … روزِ قیامت اِن چار افراد کو لایا جائے گا: بچہ، مجنون، دو رسولوں کے درمیانی وقفے میںمرنے والا اور بہت بوڑھا۔ ان میں سے ہر کوئی اپنی اپنی دلیلیں پیش کرے گا، اللہ تعالیٰ آگ کی گردن سے فرمائے گا: نمایاں ہو، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں اپنے بندوں کی طرف ان میں سے رسول بھیجتا رہا اور اب میں تم لوگوں کے لیے اپنا قاصد خود ہوں اور کہتا ہوں کہ (سب کے سب) اس آگ میں داخل ہو جاؤ۔ بدبخت لوگ کہیں گے:اے ہمارے ربّ! ہم اس میں کیسے داخل ہوں، ہم تو اس سے دور بھاگتے تھے؟ سعادت مند لوگ (اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے) چل پڑیں گے اور اس میں جلدی جلدی اور زبردستی گھسیں گے۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم (آگ میں داخل نہ ہونے والے بدبخت) لوگ میرے رسولوں کو جھٹلانے اور اس کی نافرمانی کرنے میں بڑے دلیر ہوتے۔ اب یہ جنت میں داخل ہوں گے اور یہ آگ میں۔ (مسند ابی یعلی: ۳/ ۱۰۴۴، مسند البزار: صـ ۲۳۲، المعجم الاوسط، المعجم الکبیر، الصحیحۃ: ۲۴۶۸) شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: اس حدیث میںمذکورہ بچے سے مراد وہ ہے، جس کے والدین کافر ہوں۔ (صحیحہ: ۵/ ۶۰۵) کیونکہ بالاتفاق مسلمانوں کی بچے جنت میں داخل ہوںگے۔
13260
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے والدین کا تذکرہ
۔ (۱۳۲۶۱)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَیْنَ اَبِیْ؟ قَالَ: ((فِی النَّارِ۔)) قَالَ: فَلَمَّا رَاٰی مَا فِیْ وَجْہِہٖقَالَ: ((اِنَّاَبِیْ وَاَبَاکَ فِی النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۱۶)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا: میرا والد کہاں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم میں۔ پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے چہرے پر غم کے آثار دیکھے تو فرمایا: میرا باپ اور تیرا باپ دونوں جہنم میں ہیں۔
Takhreej
(۱۳۲۶۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۰۳(انظر: ۱۲۱۹۲)
13261
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے والدین کا تذکرہ
۔ (۱۳۲۶۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ رَزِیْنٍ لَقِیْطِ بْنِ عَامِرِ بْنِ الْمُنْتَفِقِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیْنَ اُمِّیْ؟ قَالَ: ((اُمُّکَ فِی النَّارِ۔)) قَالَ: قُلْتُ: فَاَیْنَ مَنْ مَضٰی مِنْ اَھْلِکَ؟ قَالَ: ((اَمَا تَرْضٰی اَنْ تَکُوْنَ اُمُّکَ مَعَ اُمِّیْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۲۹۰)
سیدنا لقیط بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:اے اللہ کے رسول! میری والدہ کہاں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم میں۔ میںنے کہا: تو پھر آپ کے جو رشتہ دار قبل از اسلام فوت ہوچکے ہیں، وہ کہاں ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو اس بات پر راضی ہو جائے گا کہ تیری ماں میری ماں کے ساتھ ہو۔
Takhreej
(۱۳۲۶۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، وکیع بن عُدُس مجھول الحال، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۴۷۱، والطیالسی: ۱۰۹۰(انظر: ۱۶۱۸۹)
13262
Zaeef
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے والدین کا تذکرہ
۔ (۱۳۲۶۳)۔ وَعَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ (بُرَیْدَۃِ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَزَا غَزْوَۃَ الْفَتْحِ فَخَرَجَ یَمْشِیْ اِلَی الْقُبُوْرِ حَتّٰی اِذَا اَتٰی اِلٰی اَدْنَاھَا جَلَسَ اِلَیْہِ کَاَنَّہُ یُکَلِّمُ اِنْسَانًاجَالِسًایَبْکِیْ، قَالَ: فَاسْتَقْبَلَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: مُا یُبْکِیْکَ جَعَلَنِیَ اللّٰہُ فِدَاکَ؟ قَالَ: ((سَاَلْتُ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ اَنْ یَاْذَنَ لِیْ فِیْ زِیَارِۃِ قَبِرِ اُمِّ مُحَمَّدٍ فَاَذِنَ لِیْ، فَسَاَلْتُہُ اَنْ یَّاْذَنَ لِیْ فَاَسْتَغْفِرَلَھَا فَاَبٰی، اِنِّیْ کُنْتُ نَہَیْتُکُمْ عَنْ ثَلَاثَۃِ اَشْیَائَ: عَنِ لُحُوْمِ الْاَضَاحِیْ اَنْ تَمَسَّکُوْا بَعْدَ ثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ، فَکُلُوْا مَا بَدَا لَکُمْ، وَعَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ فَمَنْ شَائَ فَلْیَزُ ْر فَقَدْ اَذِنَ لِیْ فِیْ زِیَارِۃِ قَبْرِ اُمِّ مُحَمَّدٍ وَمَنْ شَائَ فَلْیَدَعْ، وَعَنِ الظُّرُوْفِ تَشْرَبُوْنَ فِیْہَا الدُّبَّائِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَاَمَرْتُکُمْ بِظُرُوْفٍ وَاِنَّ الْوِعَائَ لَایُحِلُّ شَیْئًا وَلَایُحَرِّمُہُ، فَاجْتَنِبُوْا کُلَّ مُسْکِرٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۲۶)
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ سے فارغ ہو کر قبرستان کی طرف تشریف لے گئے اور اس کی قریب والی طرف میں جا کر بیٹھ گئے، یوں محسوس ہو رہا تھا کہ آپ کسی انسان کے ساتھ باتیں کر رہے ہیں، جبکہ آپ رو بھی رہے تھے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کے سامنے آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے، آپ کیوں رو رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواب دیا: میں نے اپنے ربّ سے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی اجازت طلب کی، اللہ تعالیٰ نے مجھے اس چیز کی تو اجازت دے دی، لیکن جب میں نے اس سے والدہ کے حق میں دعائے مغفرت کی اجازت طلب کی، تو اس نے اس کی اجازت نہیں دی، میں نے تمہیں تین کاموں سے منع کیا تھا، ایک یہ کہ تم تین دنوں کے بعد قربانیوں کے گوشت نہیں کھا سکتے، اب تمہیں اجازت ہے جب تک چاہو کھا سکتے ہو، دوسرا میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب جو آدمی قبرستان جانا چاہے، جا سکتا ہے، مجھے بھی اپنی والدہ کی قبر پر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے،ہاں جو آدمی قبرستان نہ جانا چاہتا ہو، وہ بے شک نہ جائے، اور تیسرا کہ میں نے تمہیں کدو، سبز مٹکے اور تارکول لگے برتن کو استعمال کرنے سے منع کیا تھا اور باقی برتنوں کو استعمال کرنے کی اجازت دی تھی، اب یہ حکم ہے کہ برتن تو کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتا، لہذا تم سارے برتن استعمال کر سکتے ہو، البتہ ہر نشہ آور چیز سے پرہیز کرو۔
Takhreej
(۱۳۲۶۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۹۷۷ (انظر: ۲۳۰۳۸)
13263
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے والدین کا تذکرہ
۔ (۱۳۲۶۴)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَزَلَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَہُ قَرِیْبٌ مِنْ اَلْفِ رَاکِبٍ، فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہٖوَعَیْنَاہُ تَذْرِفَانِ فَقَامَ اِلَیْہِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) فَفَدَاہُ بِالْاَبِ وَالْاُمِّ یَقُوْلُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَالَکَ؟ قَالَ: ((اِنِّی سَاَلْتُ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ فِی الْاِسْتِغْفَارِ لِاُمِّیْ فَلَمْ یَاْذَنْ فَدَمَعَتْ عَیْنَایَ رَحْمَۃً لَھَا مِنَ النَّارِ ، وَاِنِّیْ کُنْتُ نَہَیْتُکُمْ عَنْ ثَلَاثٍ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ۔)) فَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۹۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، دوران سفر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک مقام پر ٹھہرے، ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، ہم ایک ہزار کے قریب سوار تھے، آپ نے دو رکعت نماز ادا کی۔، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا رخ ہماری طرف پھیرا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اٹھ کر آپ کی طرف گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول!میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ کے رونے کی کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ سے اپنی والدہ کے حق میں دعائے مغفرت کرنے کی اجازت طلب کی، لیکن اس نے مجھے اس کی اجازت نہیں دی، اس لیے ان کے جہنم میں جانے پر مجھے ان پر ترس آیا اور میں رونے لگ گیا۔ میں نے تمہیں تین کاموں سے منع کیا تھا، ایک قبروں کی زیارت سے، …۔ اس سے آگے گزشتہ حدیث کی مانند ہی ذکر کیا۔
Takhreej
(۱۳۲۶۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ہر مسلمان نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے محبت کرتا ہے، اس محبت کے شرعی تقاضے بھی ہیں اور طبعی تقاضے بھی، ایک طبعی تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے والدین کا مقام و مرتبہ بلند ہو، لیکن شرعی تقاضوں کو طبعی تقاضوں پر غالب کرنا پڑتا ہے، بہرحال آپ درج بالا احادیث اور درج مثالوں پر غور کریں۔ نوح علیہ السلام کا بیٹا اور بیوی کافر تھے، لوط علیہ السلام کی بیوی کافر تھی، ابراہیم علیہ السلام کا والد کافر تھا، فرعون کی بیوی سیدہ آسیہ عظیم مسلم خاتون تھی۔ دراصل نبوت و رسالت کی یہ خصوصیت نہیں کہ نبی کے متعلقہ لوگ بھی صاحب ِ ایمان ہوں۔
13264
Sahih

Chapters

33
01
جنت اور جہنم کا تذکرہ جنت اور جہنم والوں کا بیان
6 Hadith
02
جنت اور جہنم کا تکرار
2 Hadith
03
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمان: جنت کو ناپسندیدہ امور سے گھیرا گیا ہے…
3 Hadith
04
اہل ِ جہنم کی بدبختی اور اہل جنت کی نعمتوں کا بیان
4 Hadith
05
جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے اور اس سے جنت کا سوال کرنے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ دونوں انسان کے تسمے سے زیادہ قریب ہیں
2 Hadith
06
اس کی گرمی اور اس کے زمہریر کی ٹھنڈک کا بیان
4 Hadith
07
جہنم کی گہرائی، اس کی وادیوں اور عذاب کے ذرائع کا بیان ، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
6 Hadith
08
جہنم کی وسعت اور اس کی دیواروں کا بیان
2 Hadith
09
قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن کا ظہور اور جہنم کا کہنا کہ کیا مزید افراد ہیں
3 Hadith
10
جہنم سے ڈرانے کا بیان
4 Hadith
11
جہنم والوں اور ان کی صفات کا بیان
8 Hadith
12
اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان
8 Hadith
13
ابلیس اور اس کی اولاد کے عذاب کی کیفیت اور ان کا ہلاکتوں کو پکارنے کابیان
1 Hadith
14
اہل ِ توحید میں سے جہنم سے سب سے آخر میں رہائی پانے والا اور سب سے آخر میں جنت میں جانے والے کا تذکرہ
5 Hadith
15
وہ امور جن میں مسلمانوں کی اولاد اور کافروں کی اولاد کاایک ہی حکم ہے
5 Hadith
16
مشرکوں کی اولاد کا بیان
3 Hadith
17
اس امر کا بیان کہ ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، نیز پیدا ہونے والے ہر بچے کو شیطان کے چو کا دینے کا بیان
5 Hadith
18
اہل ِ اسلام کی اولادکے بارے میں
3 Hadith
19
اہلِ فترہ، بے شعور، بہرے اور انتہائی بوڑھے افراد کے انجام کا بیان
2 Hadith
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے والدین کا تذکرہ
4 Hadith
21
جنت کی نعمتوں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس قول کا بیان کہ اس میں وہ کچھ ہے جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا
4 Hadith
22
جنت کی عمارت، مٹی، کمروں اور خیموں کا تذکرہ
7 Hadith
23
جنت کے درختوں، پرندوں اور نہروں کی کیفیت کا تذکرہ
7 Hadith
24
جنت کے بازار ، جنتی عورتوں کی صفات اور جنت میں موتی آنکھوں والی حوروں کے گاہنے کا بیان
5 Hadith
25
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
9 Hadith
26
جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے لوگوں اور ان کی صفات کا تذکرہ
8 Hadith
27
حساب کتاب کے بغیر جنت میں جانے والوں کی تعداد اور ان کی صفات کا بیان
6 Hadith
28
سب سے کم درجہ والے اور سب سے بلند درجہ والے جنتی کے انعامات کا بیان
5 Hadith
29
اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
11 Hadith
30
جو جنتی جنت میں جس چیز کی خواہش کرے گا، وہ اسے مل جائے گی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور جنت میں ہر وہ چیز مہیا ہوگی جسے دل چاہیں گے اور آنکھیں پسند کریں گی۔
3 Hadith
31
اہل جنت پر اللہ تعالیٰ کی رضا مندی، اور یہی چیز اہل جنت پر سب سے بڑی نعمت ہوگی
1 Hadith
32
موت کو ذبح کر دینے اور جہنمیوں کا ہمیشہ جہنم میں رہنے اور جنتیوں کا ہمیشہ جنت میں رہنے کا بیان
5 Hadith
33
اہل ایمان کا جنت میں اپنے ربّ کا دیدار کرنا اور یہ سب سے بڑی نعمت ہو گی، جو اللہ تعالیٰ ان کو عطا کرے گا، اللہ ہمیں اس سے محروم نہ رکھے (آمین)نیز اس باب میں موقف سے موت کے ذبح ہونے تک کے ابواب کی تلخیص بھی ہے
6 Hadith
No chapter matched that.