TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل - جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل - Book 177 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 177 of Musnad Ahmad, with 33 chapters and 157 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

157 Hadith · 33 Chapters
جنت کے بازار ، جنتی عورتوں کی صفات اور جنت میں موتی آنکھوں والی حوروں کے گاہنے کا بیان
۔ (۱۳۲۸۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوِ اطَّلَعَتْ اِمْرَاۃٌ مِنْ نِسَائِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ اِلَی الْاَرْضِ لَمَلَأَتْ مَا بَیْنَہُمَا رِیْحًا وَلَطَابَ مَا بَیْنَہُمَا، وَلَنَصِیْفُہَا عَلٰی رَأْسِہَا خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْہَا۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۶۳)
سیدنا ا نس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر اہل جنت کی بیویوں میں سے ایک خاتون زمین کی طرف جھانک جائے تو اس کی خوشبو سے زمین و آسمان کے درمیان والا خلا بھر جائے اور ان دونوں کے درمیان والی ہر چیز معطر ہو جائے، اس کے سر کا ایک دوپٹہ دنیا وما فیہا سے بڑھ کر ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۸۵) تخریج: أخرجہ مطولا ومختصرا البخاری: ۲۷۹۲، ۲۷۹۶، ۶۵۶۸(انظر: ۱۲۴۳۶)
13285
Sahih
جنت کے بازار ، جنتی عورتوں کی صفات اور جنت میں موتی آنکھوں والی حوروں کے گاہنے کا بیان
۔ (۱۳۲۸۶)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِلرَّجُلِ مِنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِ زَوْجَتَانِ مِنْ حُوْرِ الْعِیْنِ عَلٰی کُلِّ وَاحِدَۃٍ سَبْعُوْنَ حُلَّۃًیُرٰی مُخُّ سَاقِہَا وَرَائَ الثِّیَابِ۔)) (مسند احمد: ۸۵۲۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موٹھی آنکھوں والی حوروں میں سے ہر جنتی کی دو دو بیویاں ہوں گی، ہر ایک کے جسم پر ستر ستر لباس ہوں گے، (لیکن نزاکت اور شفافیت کا یہ عالَم ہو گا کہ) ان کپڑوں کے پیچھے سے ان کی ران کا مغز دکھائی دے رہا ہوگا۔
Takhreej
(۱۳۲۸۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۵۴، ۳۳۲۷، ومسلم: ۲۸۳۴(انظر: ۸۵۴۲)
13286
Sahih
جنت کے بازار ، جنتی عورتوں کی صفات اور جنت میں موتی آنکھوں والی حوروں کے گاہنے کا بیان
۔ (۱۳۲۸۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الرَّجُلَ لَیَتَّکِیئُ فِی الْجَنَّۃِ سَبْعِیْنَ سَنَۃً قَبْلَ اَنْ یَّتَحَوَّلَ ثُمَّ تَاْتِیْہِ اِمْرَاَتُہُ فَتَضْرِبُ عَلٰی مَنْکِبَیْہِ فَیَنْظُرُ وَجْہَہٗفِیْ خَدِّھَا اَصْفٰی مِنَ الْمَرْأَۃِ، وَاِنَّ اَدْنٰی لُؤْلُؤَۃٍ عَلَیْہَا تُضِیْئُ مَا بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ فَتُسَلِّمُ عَلَیْہِ قَالَ: فَیَرُدُّ السَّلَامَ وَیَسْاَلُھَا مَنْ اَنْتِ؟ وَتَقُوْلُ: اَنَا مِنَ الْمَزِیْدِ، وَاِنَّہُ لَیَکُوْنُ عَلَیْہَا سَبْعُوْنَ ثَوْبًا اَدْنَاھَا مِثْلُ النُّعْمَانِ مِنْ طُوْبٰی فَیَنْفُذُھَا بَصَرَہُ حَتّٰییَرٰی مُخَّ سَاقِہَا مِنْ وَّرَائِ ذٰلِکَ، وَاِنَّ عَلَیْہَا مِنَ التِّیْجَانِ، اِنَّ اَدْنٰی لُؤْلُؤَۃٍ عَلَیْہَا لَتُضِیْئُ مَا بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۳۸)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک آدمی ستر سال تک جگہ تبدیل کیے بغیر ایک مقام میں بیٹھا رہے گا، اس کے بعد اس کی بیوی اس کے پاس آکر اس کے کندھوں پرہاتھ رکھے گی، اسے اس بیوی کے رخساروں میںاپنا چہرہ نظر آئے گا، بیوی کا چہرہ آئینے سے بھی زیادہ شفاف ہوگا، اس کے جسم پر لگے ہوئے موتیوں میں سب سے کم تر موتی اس قدر خوبصورت ہوگا کہ وہ مشرق و مغرب کے درمیان کا علاقہ روشن کر دے گا، وہ اپنے شوہر کو سلام کہے گی اور وہ اسے سلام کا جواب دے گا اور اس سے پوچھے گا کہ تم کون ہو؟ وہ جواب دے گی: میں تمہارے لیے مزید نعمتوں میں سے ہوں، اس کے جسم پر ستر لباس ہوں گے، ان میں ہلکے سے ہلکا لباس طوبیٰ کے پہاڑ کے گل لالہ جیسا ہوگا، اس کی نظر ان تمام لباسوں کو پارکر کے اس کی پنڈلی کے گودے تک کو دیکھ رہی ہوگی، اس کے اوپرکئی تاج ہوں گے، ان تاجوں پر ٹانکا ہوا کم تر موتی اس قدر خوبصورت ہو گا کہ شرق و غرب کے درمیان خلا کو روشن کر دے گا۔
Takhreej
(۱۳۲۸۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ ولضعف دراج بن سمعان فی روایتہ عن ابی الھیثم، أخرجہ الترمذی: ۲۵۶۲(انظر: ۱۱۷۱۵)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالیٰ ہے : {لَہُمْ مَا یَشَائُ وْنَ فِیْہَا وَلَدَیْنَا مَزِیْدٌ} … جنتی جنت میں جو چاہیں گے انہیں ملے گا، اس کے علاوہ بھی ہمارے پاس بہت کچھ ہے۔ (سورۂ ق: ۳۵)
13287
Zaeef
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
۔ (۱۳۲۸۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ آمَنَ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖوَاَقَامَالصَّلَاۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ فَاِنَّ حَقًّا عَلٰی اللّٰہِ اَنْ یُّدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ ھَاجَرَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوْ جَلَسَ فِیْ اَرْضِہِ الَّتِیْ وُلِدَ فِیْہَا۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَفَلَا نُخْبِرُ النَّاسَ؟ قَالَ: اِنَّ فِیْ الْجَنَّۃِ مِائَۃَ دَرَجَۃٍ اَعَدَّھَا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ لِلْمُجَاہِدِیْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ، بَیْنَ کُلِّ دَرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْاَرْضِ، فَاِذَا سَاَلْتُمُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَسَلُوْہُ الْفِرْدَوْسَ، فَاِنَّہُ وَسْطُ الْجَنَّۃِ وَاَعْلٰی الْجَنَّۃِ وَفَوْقَہُ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ عَزَّوَجَلَّ وَمِنْہُ تَفْجُرُ اَوْ تَنْفَجِرُ اَنْہَارُ الْجَنَّۃِ۔)) شَکَّ اَبُوْ عَامِرٍ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ)۔ (مسند احمد: ۸۴۰۰)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا، نماز قائم کی اور ماہِ رمضان کے روزے رکھے، تو اس کا اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے، اس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کی ہو یا اپنی جائے پیدائش میں ہی زندگی گزار دی ہو۔ صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم لوگوں کو آپ کی یہ بات بتلا نہ دیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (یاد رکھو کہ) جنت میں سو درجے ہیں،اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے ان کو تیار کر رکھا ہے، ان میں سے ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے، تم جب بھی اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو تو جنت الفردوس کا سوال کیا کرو، وہ جنت کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے، اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔
Takhreej
(۱۳۲۸۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۷۹۰ (انظر: ۸۴۱۹)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ توحید و اعتقاد اور نماز روزے کے علاوہ دوسرے اعمالِ صالحہ کا اہتمام بھی کرنا چاہیے۔
13288
Sahih
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
۔ (۱۳۲۸۹)۔ وَعَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْجَنَّۃُ مِائَۃُ دَرَجَۃٍ، مَا بَیْنَ کُلِّ دَرَجَتَیْنِ مَسِیْرَۃُ مِائَۃِ عَامٍ وَقَالَ عَفَّانُ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ): کَمَا بَیْنَ السَّمَائِ اِلَی الْاَرْضِ وَالْفِرْدَوْسُ اَعْلَاھَا دَرَجَۃً وَمِنْہَا تَخْرُجُ الْاَنْہَارُ الْاَرْبَعَۃُ وَالْعَرْشُ مِنْ فَوْقِہَا وَاِذَا سَاَلْتُمُ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فَاسْأَلُوْہُ الْفِرْدَوْسَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۷۱)
سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت کے سو درجے ہیں، ہر دو درجوں کے مابین ایک سو سال کی مسافت کا یا زمین و آسمان کے درمیان کا فاصلہ ہے، سب سے اعلیٰ درجہ جنت الفردوس ہے، اسی سے چار نہریں نکلتی ہیں، اسی درجے پراللہ تعالیٰ کا عرش ہے، تم جب بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرو تو جنت الفردوس طلب کیا کرو۔
Takhreej
(۱۳۲۸۹) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۵۳۱(انظر: ۲۲۶۹۵)
13289
Sahih
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
۔ (۱۳۲۹۰)۔ وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوَہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۴۳۷)
سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۹۰) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۵۳۰، وأخرجہ مختصرا ابن ماجہ: ۴۳۳۱(انظر: ۲۲۰۸۷)
13290
Sahih
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
۔ (۱۳۲۹۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ اَبِیْہِ (اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ اَرْبَعٌ ثِنْتَانِ مِنْ ذَھَبٍ حِلْیَتُہُمَا وَاٰنِیَتُہُمَا وَمَا فِیْہِمَا وَثِنْتَانِ مِنْ فِضَّۃٍ آنِیَتُہُمَا وَحِلْیَتُہُمَا وَمَا فِیْہِمَا، وَلَیْسَ بَیْنَ الْقَوْمِ وَبْیَنَ اَنْ یَّنْظُرُوْا اِلٰی رَبِّہِمْ عَزَّوَجَلَّ اِلَّا رِدَائُ الْکِبْرِیَائِ عَلٰی وَجْہِہٖفِیْ جَنَّۃِ عَدْنٍ، وَہٰذِہِ الْاَنْہَارُ تَشْخَبُ مِنْ جَنَّۃِ عَدْنٍ ثُمَّ تَصْدَعُ بَعْد ذٰلِکَ اَنْہَارًا۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۶۹)
سیدناابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنات الفردوس چا رہیں، ان میں دو ایسی ہیں کہ ان میں رہنے والوں کا لباس، برتن اور ان کی ہر چیز سونے کی ہے اور دو ایسی ہے کہ ان کے برتن، ان میں رہنے والے کا لباس اور ان کی ہر چیز چاندی کی ہے، عدن والی بہشت میں اہل جنت اور اللہ تعالیٰ کی رؤیت کے درمیان صرف اللہ تعالیٰ کی کبریائی کی چادر ہو گی، یہ نہریں عدن بہشت سے ہی شروع ہوتی ہیں، اس کے بعد ان سے مزید نہریںنکل جاتی ہیں۔
Takhreej
(۱۳۲۹۱) تخریج: اسنادہ ضعیف بھذہ السیاقۃ لضعف ابی قدامۃ الحارث بن عبید الایادی أخرجہ الطیالسی: ۵۲۹، وابن ابی شیبۃ: ۱۳/ ۱۴۸، والدارمی: ۲۸۲۲، وابوعوانۃ: ۱/ ۱۵۷ (انظر: ۱۹۷۳۱)
13291
Zaeef
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
۔ (۱۳۲۹۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْجَنَّۃُ مِائَۃُ دَرَجَۃٍ، مَا بَیْنَ کُلِّ دَرَجَتَیْنِ مِائَۃُ عَامٍ۔)) (مسند احمد: ۷۹۱۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت کے سو درجے ہیں اور اس کے ہر دو درجوں کے درمیان سو سال کی مسافت ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۹۲) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ الترمذی: ۲۵۲۹(انظر: ۷۹۲۳)
13292
Sahih
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
۔ (۱۳۲۹۳)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ لِلْجَنَّۃِ مِائَۃَ دَرَجَۃٍ لَوْ اَنَّ الْعَالَمِیْنَ اجْتَمَعُوْا فِیْ اِحْدَاھُنَّ لَوَسِعَتْہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۵۶)
سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت کے سو درجے ہیں اور ہر درجہ اس قدر وسیع ہے کہ اگر دنیا کے تمام لوگ کسی ایک درجہ میں جمع ہوجائیں تو وہ اس میں سما جائیں گے۔
Takhreej
(۱۳۲۹۳) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ: لو ان العالمین … وھذا اسناد ضعیف لضعف دراج بن سمعان فی روایتہ عن ابی الھیثم، أخرجہ الترمذی: ۲۵۳۲(انظر: ۱۱۲۳۶)
13293
Sahih
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
۔ (۱۳۲۹۴)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا عَامِرٌ وَسُرَیْجٌ قَالَا: ثَنَا فُلَیْحٌ عَنْ ہِلَالِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اِنَّ اَھْلَ الْجَنَّۃِ لَیَتَزَاوَرُوْنَ فِیْہَا۔)) قَالَ سُرَیْجٌ: ((لَیَتَرَاؤَوْنَ فِیْہَا کَمَا تَرَاؤَوْنَ الْکَوْکَبَ الشَّرْقِیَّ وَالْکَوْکَبَ الْغَرْبِیَّ الْغَارِبَ فِی الْاُفُقِ الطَّالِعَ فِیْ تَفَاضُلِ الدَّرَجَاتِ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اُولٰئِکَ النَّبِیُّوْنَ؟ قَالَ: ((بَلٰی وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ! اَقْوَامٌ آمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖوَصَدَّقُواالْمُرْسَلِیْنَ۔)) وَقَالَ سُرَیْجٌ: ((وَاَقْوَامٌ آمَنُوْا بِاللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۸۴۰۴)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل جنت، جنت میں درجات کے تفاوت کے باوجود ایک دوسرے کو اس طرح دیکھیں گے، جیسے تم آسمان کے مشرقی یا مغربی کنارے پر غروب ہوتے، طلوع ہوتے ہوئے ستارے کو دیکھ لیتے ہو۔ صحابہ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ انبیاء ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! یہ درجات ان لوگوں کے ہوں گے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور تمام رسولوں کی تصدیق کی۔
Takhreej
(۱۳۲۹۴) تخریج: متن الحدیث صحیح، لکن من حدیث ابی سعید الخدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، وھو حدیث رواہ البخاری: ۳۲۵۶، أخرجہ الترمذی: ۲۵۵۶ (انظر: ۸۴۲۳)
13294
Sahih
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
۔ (۱۳۲۹۵)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَھْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلٰی لَیَرَاھُمْ مَنْ تَحْتَہُمْ کَمَا تَرَوْْنَ النَّجْمَ الطَّالِعَ فِی الْاُفُقِ مِنْ آفَاقِ السَّمَائِ وَاَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرَ مِنْہُمْ وَاَنْعَمَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۰۴)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں نچلے درجات والے لوگ اونچے درجات والوں کو اس طرح دیکھ سکیں گے، جیسے تم آسمان کے دوردراز کناروں پر چمکتے ستاروں کو دیکھتے ہو اور سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمرفاروق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بھی ایسے ہی جنتیوں میں سے ہیں، (جو جنت کے اعلی درجات پر فائز ہوں گے)، اور کیا خوب مقام ہے ان کا۔
Takhreej
(۱۳۲۹۵) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۳۶۵۸ (انظر: ۱۱۸۸۲)
13295
Sahih
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
۔ (۱۳۲۹۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اَھْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلٰی لَیَرَاھُمْ مَنْ تَحْتَھُمْ کَمَا تَرَوْنَ النَّجْمَ الطَّالِعَ فِیْ الْاُفُقِ مِنْ آفَاقِ السَّمَائِ، وَاَبُوْ بَکْرٍ وعُمَرُ مِنْہُمْ وَاَنْعَمَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۳۱)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں بلند درجات والے کو ان سے کم درجوں والے لوگ اس طرح دیکھیںگے، جیسے تم لوگ آسمان کے کنارے پر دمکتے ستارے کو دیکھتے ہو، اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی ایسے ہی بلند مقام لوگوں میں سے ہیں اور کیا خوب مقام ہے ان کا۔
Takhreej
(۱۳۲۹۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… بات تو جنت کے درجات کی چل رہی تھی، بیچ میں ان درجات کے حقداروں خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر صدیق اور خلیفۂ دوم سیدنا عمر فاروق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی بات چل پڑی، کیا مقام ہے صدیق و فاروق کا۔
13296
Sahih
جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے لوگوں اور ان کی صفات کا تذکرہ
۔ (۱۳۲۹۷)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((آتِیْ بَابَ الْجَنَّۃِیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَاَسْتَفْتِحُ فَیَقُوْلُ الْخَازِنُ: مَنْ اَنْتَ؟ قَالَ: فَاَقُوْلُ: مُحَمَّدٌ، قَالَ: یَقُوْلُ: بِکَ اُمِرْتُ اَنْ لَّااَفْتَحَ لِاَحَدٍ قَبْلَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۲۴)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن جنت کے دروازے پر جا کر دروازہ کھولنے کا مطالبہ کروں گا، دروازے کا نگہبان پوچھے گا:تم کون ہو؟میں کہوں گا: جی میںمحمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہوں، وہ کہے گا: آپ کے بارے میں ہی مجھے حکم دیا گیا تھا کہ میں آپ سے پہلے کسی کے لیے دروازہ نہ کھولوں۔
Takhreej
(۱۳۲۹۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۷(انظر: ۱۲۳۹۷)
Explanation
فوائد:… سبحان اللہ! گویا جنت کا افتتاح سید الاولین والآخرین جناب محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ذریعے کیا جائے گا۔
13297
Sahih
جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے لوگوں اور ان کی صفات کا تذکرہ
۔ (۱۳۲۹۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَحْنُ الْآخِرُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ،نَحْنُ اَوَّلُ النَّاسِ دُخُوْلًا الْجَنَّۃَ، بَیْدَ اَنَّہُمْ اُوْتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَاُوْتِیْنَاہُ مِنْ بَعْدِھِمْ، فَہَدَانَا اللّٰہُ لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِہٖ،فَہٰذَاالْیَوْمُ الَّذِیْ ہَدَانَا اللّٰہُ لَہُ وَالنَّاسُ لَنَا فِیْہِ تَبَعٌ، غَدًا لِلْیَہُوْدِ وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارٰی۔)) (مسند احمد: ۷۶۹۲)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم زمانہ کے لحاظ سے سب سے آخر میں آئے ہیں، تاہم قیامت کے دن ہم سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے، بس فرق یہ ہے کہ ان لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور ہمیں بعد میں دی گئی، ان لوگوں نے جس دن کے بارے میں آپس میں اختلاف کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں ہماری رہنمائی فرما دی اور لوگ اس سلسلے میں ہمارے تابع ہیں، (پہلا دن جمعہ ہے، جو کہ ہمارا ہے)، اس سے اگلا دن (ہفتہ) یہودیوں کا ہے اور اس سے اگلا دن (اتوار) عیسائیوں کا ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۹۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۸۵۵ (انظر: ۷۷۰۶)
13298
Sahih
جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے لوگوں اور ان کی صفات کا تذکرہ
۔ (۱۳۳۰۰)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِ و بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((ھَلْ تَدْرُوْنَ اَوَّلَ مَنْ یَّدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ؟ قَالُوْا: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((اَوَّلُ مَنْ یَّدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ الْفُقَرَائُ وَالْمُہَاجِرُوْنَ الَّذِیْنَ تُسَدُّ بِہِمُ الثُّغُوْرُ وَیُتَّقٰی بِہِمُ الْمَکَارِہُ وَیَمُوْتُ اَحَدُھُمْ وَحَاجَتُہُ فِیْ صَدْرِہٖلَایَسْتَطِیْعُ لَھَا قَضَائً، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِمَنْ یَّشَائُ مِنْ مَلَائِکَتِہٖ: اِئْتُوْھُمْ فَحَیُّوْھُمْ، فَتَقُوْلُ الْمَلَائِکَۃُ: نَحْنُ سُکَّانُ سَمَائِکَ وَخِیَرَتُکَ مِنْ خَلْقِکَ، اَفَتَاْمُرُنَا اَنْ نَّاْتِیَ ھٰؤُلَائِ فَنُسَلِّمُ عَلَیْہِمْ؟ قَالَ: اِنَّہُمْ کَانُوْا عِبَادًا یَعْبُدُوْنِیِّ، لَایُشْرِکُوْنَبِیْ شَیْئًا وَتُسَدُّ بِہِمُ الثُّغُوْرُ وَیُتَّقٰی بِہِمُ الْمَکَارِہُ وَیَمُوْتُ اَحَدُھُمْ وَحَاجَتُہُ فِیْ صَدْرِہٖلَایَسْتَطِیْعُ لَھَا قَضَائً، قَالَ: فَتَاْتِیْہِمُ الْمَلَائِکَۃُ عِنْدَ ذٰلِکَ فَیَدْخُلُوْنَ عَلَیْہِمْ مِنْ کُلِّ بَابٍ: {سَلَامٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ} [الرعد: ۲۴]۔)) (مسند احمد: ۶۵۷۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے سب سے پہلے جنت میں کون جائے گا؟ صحابہ کرام نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے پہلے وہ فقراء اور مہاجرین جنت میں جائیںگے، جن کے ذریعے سرحدات کو تحفظ دیا جاتا ہے اور جن کے واسطے سے (دشمنوں کے) ناپسندیدہ امور سے بچا جاتا ہے، جبکہ وہ خود اس حال میں دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں کہ ان کی خواہشات ان کے دلوں میں ہی رہ جاتی ہیں اور وہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے، اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو حکم دے گا کہ جا کر ان لوگوں کو سلام کہو، فرشتے کہیں گے: اے اللہ!ہم تیرے آسمان کے رہنے والے ہیں اور تیری بہترین مخلوق ہیں، کیا تو ہمیں اس بات کا حکم دیتا ہے کہ ہم ان لوگوں کے پاس جا کر انہیں سلام کریں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ وہ لوگ ہیں، جو میری عبادت کیا کرتے تھے، میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے، ان کے ذریعے سرحدات کو تحفظ دیا جاتا تھا اور ان کے واسطے سے ناپسندیدہ امور سے بچا جاتا تھا، جبکہ یہ خود اس حال میں وفات پا گئے تھے کہ ان کی خواہشات ان کے دلوں میں ہی رہ گئی تھیں اور وہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے تھے، اس کے بعد یہ فرشتے ان کے پاس آئیںگے اور ہر دروازے سے داخل ہو کر یوں سلام پیش کریں گے: {سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ} (تم دنیا میں جو صبر کرتے رہے، اس کی وجہ سے تم پر سلام ہو، یہ تمہارا بہترین ٹھکانہ اور منزل ہے۔) (سورۂ رعد: ۲۲،۲۳)
Takhreej
(۱۳۳۰۰) تخریج: اسنادہ جید، أخرجہ الطبرانی،والبزار: ۳۶۶۵، وابن حبان: ۷۴۲۱(انظر: ۶۵۷۰)
13300
Sahih
جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے لوگوں اور ان کی صفات کا تذکرہ
۔ (۱۳۳۰۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اَوَّلَ ثُلَّۃٍ تَدْخُلُ الْجَنَّۃَ لَفُقَرَائُ الْمُہَاجِرِیْنَ الَّذِیْنَیُتَّقٰی بِہِمُ الْمَکَارِہُ وَاِذَا اُمِرُوْا سَمِعُوْا وَاَطَاعُوْا وَاِذَا کَانَتْ لِرَجُلٍ مِّنْہُمْ حَاجَۃٌ اِلَی السُّلْطَانِ لَمْ تُقْضَ لَہُ حَتّٰییَمُوْتَ وَھِیَ فِیْ صَدْرِہٖوَاِنَّاللّٰہَعَزَّوَجَلَّیَدْْعُوْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ الْجَنَّۃَ فَتَاْتِیْ بِزُخْرُفِہَا وَزِیْنَتِہَا، فَیَقُوْلُ: اَیْ عِبَادِیَ الَّذِیْنَ قَاتَلُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَقُتِلُوْا وَاُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَجَاھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ، اُدْخُلُوْا الْجَنَّۃَ فَیَدْخُلُوْنَہَا بِغَیْرِ حِسَابٍ وَلَاعَذَابٍ،…۔)) وَذَکَرَالْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۶۵۷۱)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والا گروہ ان فقراء مہاجرین کا ہوگا کہ جن کے ذریعے ناپسندیدہ امور سے بچا جاتا تھا،ان کو جب کوئی حکم دیا جاتا تھا تو یہ سنتے اور اس کی اطاعت کرتے، لیکن اگر ان میں سے کسی کو کسی بادشاہ سے کام پڑ جاتا تو مرتے دم تک اس کا کام نہیں کیا جاتا تھا، اور وہ اپنی خواہش دل میں ہی دبائے فوت ہو جاتا تھا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جنت کو بلائے گا، چنانچہ وہ اپنی تمام آرائشوں اور زینتوں کے ساتھ آئے گی، پھر اللہ تعالیٰ کہے گا: اے میرے وہ بندو! جنہوںنے میری راہ میں قتال کیا اور مارے گئے اور میری راہ میں جن کو ایذائیں دی گئیں اور جنہوں نے میری راہ میں جہاد کیا، جنت میں داخل ہو جاؤ، چنانچہ وہ حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہو جائیں گے، …۔
Takhreej
(۱۳۳۰۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ان کی خواہشات ان کے دلوں میں ہی رہ جاتی ہیں اچھا کھانا، اچھا پہننا، مال و دولت، مقام و مرتبہ اور دنیا کے دوسرے تقاضے، حدیث ِ مبارکہ میںجن فقراء کا ذکر کیا گیا، وہ یہ نعمتیں حاصل کیے بغیر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، جبکہ زندگی شریعت کے مطابق گزارتے ہیں۔
13301
Sahih
جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے لوگوں اور ان کی صفات کا تذکرہ
۔ (۱۳۳۰۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَوَّلُ زُمْرَۃٍ تَلِجُ الْجَنَّۃَ صُوْرَتُہُمْ عَلٰی صُوْرَۃِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ لَایَبْصُقُوْنَ وَلَایَتْفِلُوْنَ فِیْہَا وَلَایَتَخَمَّطُوْنَ فِیْہَا وَلَایَتَغَوَّطُوْنَ فِیْہَا، آنِیَتُہُمْ وَاَمْشَاطُہُمُ الذَّھَبُ وَالْفِضَّۃُ وَمَجَامِرُھُمُ الْاُلُوَّۃُ وَرَشْحُہُمُ الْمِسْکُ، وَلِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمْ زَوْجَتَانِ یُرٰی مُخُّ سَاقَیْہِمَا مِنْ وَّرَائِ اللَّحْمِ مِنَ الْحُسْنِ لَااخْتِلَافَ بَیْنَہُمْ وَلَاتَبَاغُضَ، قُلُوْبُہُمْ عَلٰی قَلْبٍ وَاحِدٍ یُسَبِّحُوْنَ اللّٰہَ بُکْرَۃً وَعَشِیًّا۔)) (مسند احمد: ۸۱۸۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں داخل ہونے والے سب سے پہلے گروہ کی صورتیں چودھویں شب کے چاند کی طرح روشن ہوںگی، ان کو جنت میں نہ لعاب آئے گا، نہ وہ وہاں تھوکیں گے، نہ ان کے ناکوں میں کوئی فضلہ ہوگا اور نہ وہ قضائے حاجت کریں گے، ان کے استعمال کے برتن اور کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی، ان کی انگیٹھیوں میں (جلانے کے لئے) خوشبودار لکڑی ہو گی، ان کا پسینہ کستوری ہو گا، ہر جنتی کی دو دو بیویاں ہوں گی، ان کے حسن و لطافت کی بناء پر ان کی پنڈلیوں کا گودا گوشت میں سے نظر آ رہا ہوگا، اہل جنت کا آپس میں کسی قسم کا اختلاف یا جھگڑا نہیں ہوگا۔ ان کے دل ایک دوسرے کے بغض سے یکسر پاک صاف ہوںگے گویا ان سب کا دل ایک ہوگا۔ وہ صبح شام اللہ تعالیٰ کی تسبیحات کریں گے۔
Takhreej
(۱۳۳۰۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۴۵، ومسلم: ۲۸۳۴ (انظر: ۸۱۹۸)
13302
Sahih
جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے لوگوں اور ان کی صفات کا تذکرہ
۔ (۱۳۳۰۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیًْقٍ آخَرَ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَوَّلَ زُمْرَۃٍ تَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَلٰی صُوْرَۃِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ ثُمَّ الَّذِیْنَیَلُوْنَہُمْ عَلٰی اَشَدِّ ضَوْئِ کَوْکَبٍ دُرِّیٍّ فِی السَّمَائِ اِضَائَ ۃً لَایَبُوْلُوْنَ وَلَایَتَغَوَّطُوْنَ وَلَایَتْفُلُوْنَ وَلَایَتَخَمَّطُوْنَ اَمْشَاطُہُمُ اَلذَّھَبُ وَرَشْحُہُمُ الْمِسْکُ وَمَجَامِرُھُمُ الْاُلُوَّۃُ وَاَزْوَاجُہُمُ الْحُوْرُ الْعِیْنُ، اَخْلَاقُہُمْ عَلٰی خَلْقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلٰی صُوْرَۃِ اَبِیْہِمْ آدَمَ فِیْ طُوْلِ سِتِّیْنَ ذِرَاعًا۔)) (مسند احمد: ۷۱۶۵)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے گروہ کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی مانند روشن اور صاف ہوں گے، ان سے کم مرتبہ والوں کے چہرے آسمان پر سب سے زیادہ دمکتے ستارے جیسے ہوں گے، وہ جنت میں نہ پیشاب کریں گے،نہ تھوکیں گے، نہ ان کے ناکوں میں کوئی فضلہ ہو گا، ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی، ان کا پسینہ کستوری ہو گا، ان کی انگیٹھیوں میں (جلانے کے لئے) خوشبودار لکڑی ہو گی اور کی بیویاں موٹی آنکھوں والی حوریں ہوں گی،ان کے اخلاق ایک آدمی کے اخلاق کی مانند ہوں گے ( یعنی ان کا آپس میں کسی قسم کا اختلاف، ناراضگی اور بغض و حسد نہیں ہو گا)، ان سب کے قد ان کے باپ آدم علیہ السلام کے قد جتنا ہو گا، یعنی ساٹھ ہاتھ لمبے ہوں گے۔
Takhreej
(۱۳۳۰۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
13303
Sahih
جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے لوگوں اور ان کی صفات کا تذکرہ
۔ (۱۳۳۰۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ ((لِکُلِّ امْرِیئٍ مِّنْہُمْ زَوْجَتَانِ ثِنْتَانِ، یُرٰی مُخُّ سَاقِہِمَا مِنْ وَّرَائِ اللَّحْمِ وَمَا فِی الْجَنَّۃِ اَعْزَبُ۔)) (مسند احمد: ۷۱۵۲)
۔ (تیسری سند) اس میں ہے: ہرجنتی کی دو دو بیویاں ہوں گی، ان کے گوشت سے ان کی پنڈلیوں کا گودا نظر آ رہا ہو گا اور جنت میں کوئی آدمی بھی بیوی کے بغیر نہیں ہوگا۔
Takhreej
(۱۳۳۰۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
13304
Sahih

Chapters

33
01
جنت اور جہنم کا تذکرہ جنت اور جہنم والوں کا بیان
6 Hadith
02
جنت اور جہنم کا تکرار
2 Hadith
03
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمان: جنت کو ناپسندیدہ امور سے گھیرا گیا ہے…
3 Hadith
04
اہل ِ جہنم کی بدبختی اور اہل جنت کی نعمتوں کا بیان
4 Hadith
05
جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے اور اس سے جنت کا سوال کرنے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ دونوں انسان کے تسمے سے زیادہ قریب ہیں
2 Hadith
06
اس کی گرمی اور اس کے زمہریر کی ٹھنڈک کا بیان
4 Hadith
07
جہنم کی گہرائی، اس کی وادیوں اور عذاب کے ذرائع کا بیان ، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
6 Hadith
08
جہنم کی وسعت اور اس کی دیواروں کا بیان
2 Hadith
09
قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن کا ظہور اور جہنم کا کہنا کہ کیا مزید افراد ہیں
3 Hadith
10
جہنم سے ڈرانے کا بیان
4 Hadith
11
جہنم والوں اور ان کی صفات کا بیان
8 Hadith
12
اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان
8 Hadith
13
ابلیس اور اس کی اولاد کے عذاب کی کیفیت اور ان کا ہلاکتوں کو پکارنے کابیان
1 Hadith
14
اہل ِ توحید میں سے جہنم سے سب سے آخر میں رہائی پانے والا اور سب سے آخر میں جنت میں جانے والے کا تذکرہ
5 Hadith
15
وہ امور جن میں مسلمانوں کی اولاد اور کافروں کی اولاد کاایک ہی حکم ہے
5 Hadith
16
مشرکوں کی اولاد کا بیان
3 Hadith
17
اس امر کا بیان کہ ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، نیز پیدا ہونے والے ہر بچے کو شیطان کے چو کا دینے کا بیان
5 Hadith
18
اہل ِ اسلام کی اولادکے بارے میں
3 Hadith
19
اہلِ فترہ، بے شعور، بہرے اور انتہائی بوڑھے افراد کے انجام کا بیان
2 Hadith
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے والدین کا تذکرہ
4 Hadith
21
جنت کی نعمتوں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس قول کا بیان کہ اس میں وہ کچھ ہے جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا
4 Hadith
22
جنت کی عمارت، مٹی، کمروں اور خیموں کا تذکرہ
7 Hadith
23
جنت کے درختوں، پرندوں اور نہروں کی کیفیت کا تذکرہ
7 Hadith
24
جنت کے بازار ، جنتی عورتوں کی صفات اور جنت میں موتی آنکھوں والی حوروں کے گاہنے کا بیان
5 Hadith
25
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
9 Hadith
26
جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے لوگوں اور ان کی صفات کا تذکرہ
8 Hadith
27
حساب کتاب کے بغیر جنت میں جانے والوں کی تعداد اور ان کی صفات کا بیان
6 Hadith
28
سب سے کم درجہ والے اور سب سے بلند درجہ والے جنتی کے انعامات کا بیان
5 Hadith
29
اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
11 Hadith
30
جو جنتی جنت میں جس چیز کی خواہش کرے گا، وہ اسے مل جائے گی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور جنت میں ہر وہ چیز مہیا ہوگی جسے دل چاہیں گے اور آنکھیں پسند کریں گی۔
3 Hadith
31
اہل جنت پر اللہ تعالیٰ کی رضا مندی، اور یہی چیز اہل جنت پر سب سے بڑی نعمت ہوگی
1 Hadith
32
موت کو ذبح کر دینے اور جہنمیوں کا ہمیشہ جہنم میں رہنے اور جنتیوں کا ہمیشہ جنت میں رہنے کا بیان
5 Hadith
33
اہل ایمان کا جنت میں اپنے ربّ کا دیدار کرنا اور یہ سب سے بڑی نعمت ہو گی، جو اللہ تعالیٰ ان کو عطا کرے گا، اللہ ہمیں اس سے محروم نہ رکھے (آمین)نیز اس باب میں موقف سے موت کے ذبح ہونے تک کے ابواب کی تلخیص بھی ہے
6 Hadith
No chapter matched that.