سیدنا ا نس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اہل جنت کی بیویوں میں سے ایک خاتون زمین کی طرف جھانک جائے تو اس کی خوشبو سے زمین و آسمان کے درمیان والا خلا بھر جائے اور ان دونوں کے درمیان والی ہر چیز معطر ہو جائے، اس کے سر کا ایک دوپٹہ دنیا وما فیہا سے بڑھ کر ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موٹھی آنکھوں والی حوروں میں سے ہر جنتی کی دو دو بیویاں ہوں گی، ہر ایک کے جسم پر ستر ستر لباس ہوں گے، (لیکن نزاکت اور شفافیت کا یہ عالَم ہو گا کہ) ان کپڑوں کے پیچھے سے ان کی ران کا مغز دکھائی دے رہا ہوگا۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک آدمی ستر سال تک جگہ تبدیل کیے بغیر ایک مقام میں بیٹھا رہے گا، اس کے بعد اس کی بیوی اس کے پاس آکر اس کے کندھوں پرہاتھ رکھے گی، اسے اس بیوی کے رخساروں میںاپنا چہرہ نظر آئے گا، بیوی کا چہرہ آئینے سے بھی زیادہ شفاف ہوگا، اس کے جسم پر لگے ہوئے موتیوں میں سب سے کم تر موتی اس قدر خوبصورت ہوگا کہ وہ مشرق و مغرب کے درمیان کا علاقہ روشن کر دے گا، وہ اپنے شوہر کو سلام کہے گی اور وہ اسے سلام کا جواب دے گا اور اس سے پوچھے گا کہ تم کون ہو؟ وہ جواب دے گی: میں تمہارے لیے مزید نعمتوں میں سے ہوں، اس کے جسم پر ستر لباس ہوں گے، ان میں ہلکے سے ہلکا لباس طوبیٰ کے پہاڑ کے گل لالہ جیسا ہوگا، اس کی نظر ان تمام لباسوں کو پارکر کے اس کی پنڈلی کے گودے تک کو دیکھ رہی ہوگی، اس کے اوپرکئی تاج ہوں گے، ان تاجوں پر ٹانکا ہوا کم تر موتی اس قدر خوبصورت ہو گا کہ شرق و غرب کے درمیان خلا کو روشن کر دے گا۔
Takhreej
(۱۳۲۸۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ ولضعف دراج بن سمعان فی روایتہ عن ابی الھیثم، أخرجہ الترمذی: ۲۵۶۲(انظر: ۱۱۷۱۵)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالیٰ ہے : {لَہُمْ مَا یَشَائُ وْنَ فِیْہَا وَلَدَیْنَا مَزِیْدٌ} … جنتی جنت میں جو چاہیں گے انہیں ملے گا، اس کے علاوہ بھی ہمارے پاس بہت کچھ ہے۔ (سورۂ ق: ۳۵)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا، نماز قائم کی اور ماہِ رمضان کے روزے رکھے، تو اس کا اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے، اس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کی ہو یا اپنی جائے پیدائش میں ہی زندگی گزار دی ہو۔ صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم لوگوں کو آپ کی یہ بات بتلا نہ دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (یاد رکھو کہ) جنت میں سو درجے ہیں،اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے ان کو تیار کر رکھا ہے، ان میں سے ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے، تم جب بھی اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو تو جنت الفردوس کا سوال کیا کرو، وہ جنت کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے، اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔
Takhreej
(۱۳۲۸۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۷۹۰ (انظر: ۸۴۱۹)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ توحید و اعتقاد اور نماز روزے کے علاوہ دوسرے اعمالِ صالحہ کا اہتمام بھی کرنا چاہیے۔
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کے سو درجے ہیں، ہر دو درجوں کے مابین ایک سو سال کی مسافت کا یا زمین و آسمان کے درمیان کا فاصلہ ہے، سب سے اعلیٰ درجہ جنت الفردوس ہے، اسی سے چار نہریں نکلتی ہیں، اسی درجے پراللہ تعالیٰ کا عرش ہے، تم جب بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرو تو جنت الفردوس طلب کیا کرو۔
سیدناابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنات الفردوس چا رہیں، ان میں دو ایسی ہیں کہ ان میں رہنے والوں کا لباس، برتن اور ان کی ہر چیز سونے کی ہے اور دو ایسی ہے کہ ان کے برتن، ان میں رہنے والے کا لباس اور ان کی ہر چیز چاندی کی ہے، عدن والی بہشت میں اہل جنت اور اللہ تعالیٰ کی رؤیت کے درمیان صرف اللہ تعالیٰ کی کبریائی کی چادر ہو گی، یہ نہریں عدن بہشت سے ہی شروع ہوتی ہیں، اس کے بعد ان سے مزید نہریںنکل جاتی ہیں۔
Takhreej
(۱۳۲۹۱) تخریج: اسنادہ ضعیف بھذہ السیاقۃ لضعف ابی قدامۃ الحارث بن عبید الایادی أخرجہ الطیالسی: ۵۲۹، وابن ابی شیبۃ: ۱۳/ ۱۴۸، والدارمی: ۲۸۲۲، وابوعوانۃ: ۱/ ۱۵۷ (انظر: ۱۹۷۳۱)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کے سو درجے ہیں اور اس کے ہر دو درجوں کے درمیان سو سال کی مسافت ہے۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کے سو درجے ہیں اور ہر درجہ اس قدر وسیع ہے کہ اگر دنیا کے تمام لوگ کسی ایک درجہ میں جمع ہوجائیں تو وہ اس میں سما جائیں گے۔
Takhreej
(۱۳۲۹۳) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ: لو ان العالمین … وھذا اسناد ضعیف لضعف دراج بن سمعان فی روایتہ عن ابی الھیثم، أخرجہ الترمذی: ۲۵۳۲(انظر: ۱۱۲۳۶)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت، جنت میں درجات کے تفاوت کے باوجود ایک دوسرے کو اس طرح دیکھیں گے، جیسے تم آسمان کے مشرقی یا مغربی کنارے پر غروب ہوتے، طلوع ہوتے ہوئے ستارے کو دیکھ لیتے ہو۔ صحابہ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ انبیاء ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! یہ درجات ان لوگوں کے ہوں گے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور تمام رسولوں کی تصدیق کی۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں نچلے درجات والے لوگ اونچے درجات والوں کو اس طرح دیکھ سکیں گے، جیسے تم آسمان کے دوردراز کناروں پر چمکتے ستاروں کو دیکھتے ہو اور سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہما بھی ایسے ہی جنتیوں میں سے ہیں، (جو جنت کے اعلی درجات پر فائز ہوں گے)، اور کیا خوب مقام ہے ان کا۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں بلند درجات والے کو ان سے کم درجوں والے لوگ اس طرح دیکھیںگے، جیسے تم لوگ آسمان کے کنارے پر دمکتے ستارے کو دیکھتے ہو، اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسے ہی بلند مقام لوگوں میں سے ہیں اور کیا خوب مقام ہے ان کا۔
Takhreej
(۱۳۲۹۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… بات تو جنت کے درجات کی چل رہی تھی، بیچ میں ان درجات کے حقداروں خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر صدیق اور خلیفۂ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی بات چل پڑی، کیا مقام ہے صدیق و فاروق کا۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن جنت کے دروازے پر جا کر دروازہ کھولنے کا مطالبہ کروں گا، دروازے کا نگہبان پوچھے گا:تم کون ہو؟میں کہوں گا: جی میںمحمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوں، وہ کہے گا: آپ کے بارے میں ہی مجھے حکم دیا گیا تھا کہ میں آپ سے پہلے کسی کے لیے دروازہ نہ کھولوں۔
Takhreej
(۱۳۲۹۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۷(انظر: ۱۲۳۹۷)
Explanation
فوائد:… سبحان اللہ! گویا جنت کا افتتاح سید الاولین والآخرین جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے کیا جائے گا۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم زمانہ کے لحاظ سے سب سے آخر میں آئے ہیں، تاہم قیامت کے دن ہم سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے، بس فرق یہ ہے کہ ان لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور ہمیں بعد میں دی گئی، ان لوگوں نے جس دن کے بارے میں آپس میں اختلاف کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں ہماری رہنمائی فرما دی اور لوگ اس سلسلے میں ہمارے تابع ہیں، (پہلا دن جمعہ ہے، جو کہ ہمارا ہے)، اس سے اگلا دن (ہفتہ) یہودیوں کا ہے اور اس سے اگلا دن (اتوار) عیسائیوں کا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے سب سے پہلے جنت میں کون جائے گا؟ صحابہ کرام نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے پہلے وہ فقراء اور مہاجرین جنت میں جائیںگے، جن کے ذریعے سرحدات کو تحفظ دیا جاتا ہے اور جن کے واسطے سے (دشمنوں کے) ناپسندیدہ امور سے بچا جاتا ہے، جبکہ وہ خود اس حال میں دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں کہ ان کی خواہشات ان کے دلوں میں ہی رہ جاتی ہیں اور وہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے، اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو حکم دے گا کہ جا کر ان لوگوں کو سلام کہو، فرشتے کہیں گے: اے اللہ!ہم تیرے آسمان کے رہنے والے ہیں اور تیری بہترین مخلوق ہیں، کیا تو ہمیں اس بات کا حکم دیتا ہے کہ ہم ان لوگوں کے پاس جا کر انہیں سلام کریں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ وہ لوگ ہیں، جو میری عبادت کیا کرتے تھے، میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے، ان کے ذریعے سرحدات کو تحفظ دیا جاتا تھا اور ان کے واسطے سے ناپسندیدہ امور سے بچا جاتا تھا، جبکہ یہ خود اس حال میں وفات پا گئے تھے کہ ان کی خواہشات ان کے دلوں میں ہی رہ گئی تھیں اور وہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے تھے، اس کے بعد یہ فرشتے ان کے پاس آئیںگے اور ہر دروازے سے داخل ہو کر یوں سلام پیش کریں گے: {سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ} (تم دنیا میں جو صبر کرتے رہے، اس کی وجہ سے تم پر سلام ہو، یہ تمہارا بہترین ٹھکانہ اور منزل ہے۔) (سورۂ رعد: ۲۲،۲۳)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والا گروہ ان فقراء مہاجرین کا ہوگا کہ جن کے ذریعے ناپسندیدہ امور سے بچا جاتا تھا،ان کو جب کوئی حکم دیا جاتا تھا تو یہ سنتے اور اس کی اطاعت کرتے، لیکن اگر ان میں سے کسی کو کسی بادشاہ سے کام پڑ جاتا تو مرتے دم تک اس کا کام نہیں کیا جاتا تھا، اور وہ اپنی خواہش دل میں ہی دبائے فوت ہو جاتا تھا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جنت کو بلائے گا، چنانچہ وہ اپنی تمام آرائشوں اور زینتوں کے ساتھ آئے گی، پھر اللہ تعالیٰ کہے گا: اے میرے وہ بندو! جنہوںنے میری راہ میں قتال کیا اور مارے گئے اور میری راہ میں جن کو ایذائیں دی گئیں اور جنہوں نے میری راہ میں جہاد کیا، جنت میں داخل ہو جاؤ، چنانچہ وہ حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہو جائیں گے، …۔
Takhreej
(۱۳۳۰۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ان کی خواہشات ان کے دلوں میں ہی رہ جاتی ہیں اچھا کھانا، اچھا پہننا، مال و دولت، مقام و مرتبہ اور دنیا کے دوسرے تقاضے، حدیث ِ مبارکہ میںجن فقراء کا ذکر کیا گیا، وہ یہ نعمتیں حاصل کیے بغیر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، جبکہ زندگی شریعت کے مطابق گزارتے ہیں۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں داخل ہونے والے سب سے پہلے گروہ کی صورتیں چودھویں شب کے چاند کی طرح روشن ہوںگی، ان کو جنت میں نہ لعاب آئے گا، نہ وہ وہاں تھوکیں گے، نہ ان کے ناکوں میں کوئی فضلہ ہوگا اور نہ وہ قضائے حاجت کریں گے، ان کے استعمال کے برتن اور کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی، ان کی انگیٹھیوں میں (جلانے کے لئے) خوشبودار لکڑی ہو گی، ان کا پسینہ کستوری ہو گا، ہر جنتی کی دو دو بیویاں ہوں گی، ان کے حسن و لطافت کی بناء پر ان کی پنڈلیوں کا گودا گوشت میں سے نظر آ رہا ہوگا، اہل جنت کا آپس میں کسی قسم کا اختلاف یا جھگڑا نہیں ہوگا۔ ان کے دل ایک دوسرے کے بغض سے یکسر پاک صاف ہوںگے گویا ان سب کا دل ایک ہوگا۔ وہ صبح شام اللہ تعالیٰ کی تسبیحات کریں گے۔
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے گروہ کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی مانند روشن اور صاف ہوں گے، ان سے کم مرتبہ والوں کے چہرے آسمان پر سب سے زیادہ دمکتے ستارے جیسے ہوں گے، وہ جنت میں نہ پیشاب کریں گے،نہ تھوکیں گے، نہ ان کے ناکوں میں کوئی فضلہ ہو گا، ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی، ان کا پسینہ کستوری ہو گا، ان کی انگیٹھیوں میں (جلانے کے لئے) خوشبودار لکڑی ہو گی اور کی بیویاں موٹی آنکھوں والی حوریں ہوں گی،ان کے اخلاق ایک آدمی کے اخلاق کی مانند ہوں گے ( یعنی ان کا آپس میں کسی قسم کا اختلاف، ناراضگی اور بغض و حسد نہیں ہو گا)، ان سب کے قد ان کے باپ آدم علیہ السلام کے قد جتنا ہو گا، یعنی ساٹھ ہاتھ لمبے ہوں گے۔
۔ (تیسری سند) اس میں ہے: ہرجنتی کی دو دو بیویاں ہوں گی، ان کے گوشت سے ان کی پنڈلیوں کا گودا نظر آ رہا ہو گا اور جنت میں کوئی آدمی بھی بیوی کے بغیر نہیں ہوگا۔