سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر یہ سوال کیا: اے اللہ کے رسول! اہل ِ جنت کے لباس کے بارے میں فرمائیے کہ وہ بُنا جائے گا یا وہ جنت کے پھلوں سے ہی بنا لیا جائے گا؟ اس بدّو کے سوال سے یوں محسوس ہوا کہ لوگوں کو حیرت ہوئی ہے؟ یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس بات سے تعجب ہو رہا ہے کہ ایک بے علم،علم والے سے ایک سوال کر رہا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر کے لیے خاموش رہے اور پھر فرمایا: وہ سائل کہاں ہے، جو اہل ِ جنت کے لباس کے بارے میں دریافت کر رہا تھا؟ وہ بولا: جی میں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ـ اس لباس کو بُنا نہیں جائے گا، بلکہ وہ جنت کے پھلوں سے نکلے گا۔
Takhreej
(۱۳۳۲۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ شیخ العلاء بن رافع، وھو حنان بن خارجۃ، أخرجہ البزار والطبرانی (انظر: ۶۸۹۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک علوی اور جرأت مند بدّو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں اپنی طرف ہجرت کے متعلق بتلائیں کہ آیا ہجرت اُدھر ہی کی جاسکتی ہے، جہاں آپ تشریف فرما ہوں یا ہجرت کا کسی مخصوص قوم کے ساتھ ہی تعلق ہے کہ وہی قوم ہجرت کر سکتی ہے یا ہجرت کا تعلق کسی مخصوص زمین کے ساتھ ہے یا جب آپ وفات پا جائیں گے تو کیا ہجرت کا سلسلہ منقطع ہوجائے گا؟ یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے اور پھر فرمایا: وہ سائل کہاں ہے؟ وہ بولا: جی میں ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اصل ہجرت تو یہی ہے کہ تو ظاہری اور باطنی گناہ کو اور برائی کو ترک کر دے، اور نماز قائم کر اور زکوٰۃ ادا کر، بس پھر تو صحیح معنوں میں مہاجر ہوگا، خواہ تجھے تیرے اپنے شہر میں ہی موت آ جائے۔ بعد ازاں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اپنی طرف سے شروع کرتے ہوئے کہا: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں اہل ِ جنت کے لباس کے بارے میں آگاہ فرمائیں کہ اسے الگ سے پیدا کیا جائے گا یا اس کو بُنا جائے گا؟ اس کا سوال سن کر بعض لوگ ہنس پڑے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس سے کیوں ہنس رہے ہوکہ ایک بے علم نے ایک علم والے سے ایک مسئلہ پوچھا ہے؟ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر جھکا لیا اور پھر فرمایا: وہ سائل کہاں ہے؟ وہ بولا: جی یہ میں موجود ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمایا: نہیں، بلکہ اس سے جنت کے پھل نکلتے ہیں۔
فوائد:… اس فصل میں بعض ایسے اہم امور کی نشان دہی کی گئی ہے جن پر عمل کرنے والے لوگ جنتی ہوں گے:
(۱) ایسا حکمران جو عادل ہو، سچ بولتا ہو اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تعلیمات پر دل وجان سے یقین رکھتا ہو۔
(۲) ایسا آدمی جو مہربان ہو اور ہر رشتہ دار بلکہ ہر مسلمان کے حق میں نرم دل ہو۔
(۳) ایسا غریب آدمی جو دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے گریز کرتا ہو اور فقیرو تہی دست کے باوجود کچھ نہ کچھ صدقہ خیرات کرتا ہو۔
(۴) ۱سی طرح نبی ، شہید، کم سنی میں فوت ہوجانے والا ہر بچہ اور وہ بچی جسے زندہ درگور کر دیا گیا ہو۔
نیز معلوم ہوا کہ اہل جنت کے دل پرندوں کے دلوں کی طرح انتہائی نازک اور نرم ہوں گے۔
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اوراس نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے گھوڑے پسند ہیں، کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ تجھے جنت میں داخل کرے،تو جب تو چاہے گا کہ سرخ رنگ کے یاقوت کے گھوڑے پر سوار ہو، جو تجھے تیری مرضی کے مطابق جنت میں لے کر اڑے، تو تو سوار ہو جائے گا۔ ایک اور آدمی نے آپ کی خدمت میں آکر کہا: اے اللہ کے رسول! کیا جنت میں اونٹ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندے! اگر اللہ تعالیٰ تجھے جنت میں داخل کر دے تو تیرے لیے وہاں ہر وہ چیز ہو گی جو تو چاہے گا اور تیری آنکھ پسند کرے گی۔
Takhreej
(۱۳۳۲۷) تخریج: حدیث ضعیف، عبد الرحمن المسعودی اختلط باخرہ، وکل من روی عنہ ھذا الحدیث ممن روی عنہ بعد الاختلاط، ثم فیہ علۃ اخری، وھی الاختلاف فی اسنادہ علی علقمۃ بن مرثد، أخرجہ الترمذی: ۲۵۴۳ (انظر: ۲۲۹۸۲)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اَتَی النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّيْ اُحِبُّ الْخَیْلَ، اَفِيْالْجَنَّۃِ خَیْلٌ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((اِنْ اُدْخِلْتَ الْجَنَّۃَ، اُتِیْتَ بِفَرَسٍ مِنْ یَاقُوْتَۃٍ لَہٗ جَنَاحَانَ، فَحُمِلْتَ عَلَیْہِ، ثُمَّ طَارَبِکَ حَیْثُ شِئْتَ۔))… ایک بدو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں گھوڑے پسند کرتا ہوں، کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تجھے جنت میں داخل کر دیا جائے گا تو تیرے پاس یاقوت کا گھوڑا لایا جائے گا، اس کے دو پر ہوں گے، تجھے اس پر سوار کیا جائے گا اور جہاں تو چاہے گا وہ پرواز کر کے تجھے وہیں لے جائے گا۔ (ترمذی: ۲۵۴۷، صحیحہ:۳۰۰۱)
واقعی کسی انسان کا دماغ یہ تصوّر ہی نہیں کر سکتا ہے کہ جنت میں پائے جانے والی نعمتوں کی ایسی ویسی کیفیت و نوعیت ہو گی۔ خون اور گوشت سے مرکب گھوڑے تو ہمارے ہاں بھی پائے جاتے ہیں، لیکن جنت کا گھوڑا یاقوت کا ہو گا اور حیرانی کی بات ہے کہ اس کے دو پر بھی ہوں گے، جن کے ذریعے وہ پرواز کرے گا۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن گفتگو کر رہے تھے اورایک دیہاتی آپ کے قریب بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دورانِ گفتگو فرمایا: ایک جنتی اپنے ربّ سے زراعت کی اجازت طلب کرے گا، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: کیا تجھے ہر وہ چیز مل نہیں گئی جو تو چاہتا تھا؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں، تاہم میں زراعت پسند کرتا ہوں، چنانچہ وہ بیج ڈالے گا۔ اور پلک جھپکنے کی دیر میں کھیتی اُگ آئے گی، بڑی ہوجائے گی اور کٹائی بھی ہوجائے گی اور پہاڑوں کے برابر کھیتی کے ڈھیر لگ جائیں گے، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: اے ابن آدم! سنبھال لے اس کو،کوئی چیز تجھے سیر نہیں کرتی۔ وہ بدّو کہنے لگا: اللہ کی قسم جنت میں ایسی خواہش کرنے والا کوئی قریشی ہو گا یا انصاری، کیونکہ یہی لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں، ہم تو کھیتی باڑی کرنے والے ہیں ہی نہیں، یہ بات سن کررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس دئیے۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مومن جنت میںبچے کی تمنا کرے گا تو اس کا حمل، وضعِ حمل اور اس کی مطلوبہ اور پسندیدہ عمر، یہ سارے مراحل لمحہ بھر میں ہو جائیں گے۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اہل ِ جنت سے فرمائے گا: اے جنت والو! وہ سب کہیں گے: ہم حاضر ہیں، اے ہمارے رب! ہم حاضر ہیں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم راضی ہو گئے ہو؟ وہ عرض کریں گے: اور ہم راضی کیوںنہ ہوں، تو نے تو ہمیںوہ کچھ عنایت کر دیا ہے، جو مخلوقات میں سے کسی کو بھی نہیں دیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اب میں تمہیں سب سے افضل چیز دینے لگا ہوں، وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ان نعمتوں سے بڑھ کر بھی کوئی نعمت ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں تمہیں اپنی رضامندی کا مستحق ٹھہراتا ہوں اور اب میں تم سے کبھی بھی ناراض نہیں ہوں گا۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن موت کو لا کر صراط کے اوپر کھڑا کر دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے جنت والو! وہ خوف زدہ ہو کر اور گھبرا کر ادھر دیکھیں گے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو ان کے مقام سے نکال دیا جائے، ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم اس چیز کو پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے: جی ہاں اے ہمارے رب! یہ موت ہے، پھر کہا جائے گا: اے جہنم والو! وہ خوش ہو کر اُدھر دیکھیں گے کہ شاید ان کو ان کی اس جگہ سے نکلنے کا حکم دیا جانے والا ہے، ان سے بھی دریافت کیاجائے گا کہ کیا تم اس چیز کو پہچانتے ہو؟ وہ بھی کہیں گے: جی ہاں اے ہمارے ربّ! یہ موت ہے۔ تب اللہ تعالیٰ اس موت کے بارے میں حکم دے گا اور اس کو صراط پر ذبح کردیا جائے اور پھر دونوں فریقوں سے کہا جائے گا:تم جہاں بھی ہو، یہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہو گے، اب کسی کو کبھی بھی موت نہیں آئے گی۔
Takhreej
(۱۳۳۳۱) تخریج: صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۳۲۷ (انظر: ۷۵۴۶)
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل ِ جنت، جنت میں اور اہل ِ جہنم، جہنم میں چلے جائیں گے تو موت کو ایک سیاہ مینڈھے کی شکل میں جنت اور دوزخ کے درمیا ن کھڑا کر دیا جائے گا، پھر آواز دی جائے گی: اے جنت والو! … سابقہ حدیث کی مانند ہے …، مزید اس میں ہے: پھر موت کو ذبح کرنے کا حکم دیا جائے گا اور کہا جائے گا: اے جنت والو! اب تم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہیں رہو گے اور کبھی موت نہیں آئے گی اور اے جہنم والو! اب تم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس میں رہو گے، کبھی موت نہیںآئے گی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَ اَنْذِرْھُمْ یَوْمَ الْحَسْرَۃِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ ھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ} (اور آپ ان کو حسرت والے دن سے ڈرائیں، جب سارے امور چکا دیئے جائیں گے اور یہ اس وقت غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل ِجنت جنت میں اور اہل ِ جہنم جہنم میں پہنچ جائیں گے تو موت کو لا کر جنت اور دوزخ کے درمیان کھڑا کر کے ذبح کر دیا جائے گا اور ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: اے جنت والو! اب تم ہمیشہ کے لیے یہیں رہو گے، کبھی موت نہیں آئے گی۔ اور اے جہنم والو! اب تم بھی ہمیشہ کے لیے یہیں رہو گے اور کبھی موت نہیںآئے گی، یہ اعلان سن کر اہل ِ جنت کی خوشی میں اضافہ ہو جائے گی اور اہل جہنم کا غم اور افسوس بڑھ جائے گا۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: جب اہل ِ جنت بہشت میں اور اہل ِ جہنم دوزخ میں پہنچ جائیں گے تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: اے جنت والو! اب تم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہیں رہو گے، یہاں کسی کو موت نہیں آئے گی۔ اور اے جہنم والو! اب تم بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہیں رہو گے، اس میں کسی کو موت نہیں آئے گی۔ ابوزبیر بھی جابر اور عبید بن عمیر سے اس قسم کی روایت بیان کرتے ہیں، لیکن وہ بھی بیان کرتے ہیں کہ موت کے ذبح ہونے کا یہ وقوعہ اس وقت پیش آئے گا، جب سفارشیں ہو چکی ہوں گی اور عارضی طور پر جہنم میں جانے والے جہنم سے باہر آ چکے ہوں گے۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: اے جنت والو! اب تم ہمیشہ زندہ رہو گے، کبھی مرو گے نہیں،تم تندرست رہو گے، کبھی بیمار نہیں ہو گے، تم ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہیں ہو گے، تم ہمیشہ خوشحال رہو گے، کبھی بدحال نہیں ہو گے، اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا یہی مفہوم ہے: { وَنُوْدُوْا اَنْ تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ اُوْرِثْتُمُوْھَا بِمَاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔} (اور اعلان کر کے ان سے کہاجائے گا کہ تمہیں تمہارے اعمال کے نتیجے میں اس جنت کا وارث بنایا گیا)۔
Takhreej
(۱۳۳۳۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۳۷ (انظر: ۱۱۹۰۵)
Explanation
فوائد:… جب اہل جنت جنت میں اور اہل جہنم جہنم میں جا پہنچیں گے اور اہل ِ شفاعت کی شفاعتوں کے بعد اور اپنے جرائم کی سزا پانے کے بعد جہنم سے رہائی اور نجات پانے والے جب رہا ہو کر اور نجات پاکر جنت میں چلے جائیں گے تو موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں جنت اور دوزخ کے درمیان صراط کے اوپر ذبح کر دیا جائے گا اور اعلان کیا جائے گا کہ جو لوگ جنت میں ہیں، وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے کسی پر موت نہیں آئے گی، اسی طرح جو لوگ جہنم میں ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے او ر کسی کو موت نہیں آئے گی۔ اس اعلان سے اہل ِ جنت کی خوشیوں میں اضافہ ہوجائے گا اور اہل جہنم ِ مزید غمگین اور مایوس ہو جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کے ارشاد {کُلُّ اُمَّۃٍ تُدْعِی اِلٰی کِتاَبھَا}( ہر گروہ کو اس کے نامہ ٔ اعمال کی طرف بلایاجائے گا۔) کی تفسیر میں امام زہری، عطاء بن یزید لیثی سے اور وہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آیا قیامت کے دن ہم اپنے ربّ کا دیدار کریں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا چودھویں شب کے چاند کو دیکھنے میں تمہیں کوئی مشقت پیش آتی ہے، جبکہ اس کے سامنے بادل بھی نہ ہوں؟ صحابہ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! بالکل نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ کا دیدار کرو گے، اللہ تعالیٰ سب لوگوں کو جمع کر ے گا اور کہے گا: تم دنیامیں جس جس کی عبادت کرتے تھے، اس کے پیچھے چلے جاؤ، چنانچہ چاند کی عبادت کرنے والے چاند کے پیچھے ، سورج کی پوجا کرنے والے سورج کے پیچھے اور دوسرے طاغوتوں کی پوجا پاٹ کرنے والے ان کے پیچھے چل پڑیں گے، اس امت کے لوگ کھڑے رہ جائیںگے، ان میں منافقین بھی ہوںگے، تم اللہ تعالیٰ کی جو صور ت پہچانتے ہو، وہ اس کے علاوہ کسی اور صورت میں تمہارے پاس آکر کہے گا: میں تمہارا ربّ ہوں، وہ کہیں گے: ہم تو تیرے شرّ سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں، ہم تو یہیں ٹھہرے رہیں گے تاآنکہ ہمارا ربّ ہمارے پاس آ جائے، جب ہمارا ربّ ہمارے پاس آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس صورت میں آئے گا، جسے وہ پہچانتے ہوںگے، وہ کہے گا: میں تمہارا ربّ ہوں۔ وہ کہیں گے: واقعی تو ہمارا ربّ ہے، سو وہ اس کے پیچھے چل پڑیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم کے اوپر ایک پل نصب کیا جائے گا، سب سے پہلے میں اسے عبور کروں گا، اس دن تمام انبیاء و رسل بھی خوف اور ڈر کے مارے یہ کہہ رہے ہوں گے: اے اللہ بچانا، اے اللہ محفوظ رکھنا، اس پل پر سعدان کے کانٹوں کی طرح خمدار کانٹے ہوں گے، کیا تم نے سعدان کے کانٹے دیکھے ہیں؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بات ضرور ہے کہ ان کانٹوں کی ضخامت کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے،لوگوں کو ان کے اعمال کے حساب سے اچک لیاجائے گا،کوئی تو یوں ہی ہلاک ہو جائے گا اور کسی کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہلاک کیا جائے گا،یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلے کر کے فارغ ہوگا اور وہ توحید کی گواہی دینے والے اہل جہنم میں سے بعض پر رحم کرتے ہوئے ان کو جہنم سے نکالنے کا ارادہ کرے گا تو فرشتوں کو حکم دے گا کہ وہ ان کو جہنم سے نکال لائیں، فرشتے ان اہل توحید کو سجدوں کے نشانات کی وجہ سے پہچان لیں گے، اللہ تعالیٰ نے آگ پر حرام کیا ہے کہ وہ سجدوں کے نشانات کو کھائے، بہرحال فرشتے ان کو نکال کر لائیں گے، وہ جل جل کر کوئلہ بن چکے ہوں گے، ان پر مائُ الحیاۃ ڈالا جائے گا، اس سے وہ یوں اگیں گے جیسے سیلاب کی جھاگ وغیرہ میں دانے اگتے ہیں، ایسے لوگوں میں سے ایک آدمی باقی رہ جائے گا، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر کہے گا: اے میرے رب! مجھے جہنم کی ہوا نے تکلیف دی ہے اور اس کی گرمی کی شدت نے مجھے جلا کر رکھ دیا ہے، لہذا تو میرے چہرے کو آگ سے پھیر دے، وہ مسلسل دعائیں کرتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: اگر میں تیری یہ دعا قبول کر لوں تو کیا تواس کے علاوہ کوئی سوال تو نہیں کرے گا؟ وہ کہے گا: اے اللہ! مجھے تیری عزت کی قسم ہے کہ میں تجھ سے مزید کوئی مطالبہ نہیں کروں گا، چنانچہ اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو آگ سے پھیر دے گا، لیکن اس کے بعد وہ پھر کہے گا: اے میرے ربّ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مزید کوئی مطالبہ نہیں کرے گا؟ اے ابن آدم! تجھ پر بڑا افسوس ہے، تو کس قدر وعدہ خلاف ہے، لیکن وہ مسلسل اللہ تعالیٰ کو پکارتا رہے گا اور اس سے دعائیں کرتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: اگر میں تیری یہ بات قبول کر لوں تو تو مزید تو کچھ نہیں مانگے گا؟ وہ کہے گا: اے اللہ! تیری عزت کی قسم! میں تجھ سے مزید کوئی مطالبہ نہیں کروں گا، وہ اس پر اللہ تعالیٰ سے پختہ وعدہ کرے گا، پس اللہ تعالیٰ اسے جنت کے دروازے کے قریب کر دے گا، پھر جب وہ جنت کے دروازے کے قریب پہنچ جائے گا، تو جنت اس کے لیے نمایاں اور وسیع ہوجائے گی، جب وہ جنت کے اندر کی راحتیںاور خوشیاں ملاحظہ کرے گا تو کچھ دیر تو خاموش رہے گا، لیکن بالآخر یوں بول پڑے گا: اے میرے رب! مجھے جنت میں داخل کر دے، اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا: کیا تو نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مزید کوئی مطالبہ نہیں کرے گا؟ جبکہ تو اس سلسلہ میں میرے ساتھ پختہ وعدے کر چکا ہے، وہ کہے گا: اے رب! تو اپنی مخلوق میں سے مجھے اپنی نعمتوں سے محروم نہیں رکھ، چنانچہ وہ مسلسل اللہ تعالیٰ کو پکارتا اور دعائیں کرتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی باتوں پر ہنس دے گا، جب اللہ تعالیٰ اس کی باتوں پر ہنسے گا تو اسے جنت میں داخل ہونے کی اجازت بھی دے دے گا، جب وہ جنت میں جائے گا تو اس سے کہا جائے گا: تو جو تمنا کر سکتا ہے کر لے، یعنی جو مانگ سکتا ہے مانگ لے، چنانچہ وہ خوب مانگے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ تو مزید مانگ لے چنانچہ وہ مزید مانگے گا، یہاں تک کہ اس کی خواہشات ختم ہوجائیں گے، اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سے کہاجائے گا: تو نے جو کچھ مانگا ہے، یہ سب اور اتنا مزید تجھے دیا جاتا ہے۔ جب سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بھی ان کے قریب تشریف فرما تھے، انھوں نے ان کی بیان کردہ کسی بھی بات میں کوئی تبدیلی نہیں کی، البتہ آخری بات کے بارے میں سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: میںنے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا تھا: تو نے جو کچھ مانگا، تجھے وہ بھی ملے گا اور اس سے مزید دس گنا دیا جاتا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے تو اسی طرح یاد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ تو نے جو کچھ مانگا تجھے یہ اور اتنا مزید دیا جاتا ہے، ساتھ ہی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا:جنت میں جانے والا سب سے آخری آدمی یہ ہوگا۔
۔ (دوسری سند) اسی قسم کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: پھر پل صراط نصب کر دیا جائے گا، لوگ اس کے اوپر سے بہترین گھوڑوں اور سواروں کی رفتار سے گزریں گے اور صورتحال یہ ہو گی کہ انبیاء ورسل بھی خوف کے مارے کہہ رہے ہوں گے: بچانا، محفوظ رکھنا، جہنمی لوگ باقی رہ جائیں گے، ان کی ایک فوج کو جہنم میں ڈال کر اس سے پوچھا جائے گا: کیا تو بھر گئی ہے؟ جہنم کہے گی: کیا مزید لوگ ہیں، اس کے بعد پھر ایک گروہ کو اس میں پھینکا جائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا: کیا اب تو بھر گئی ہے؟ وہ کہے گی: مزید لاؤ، یہاں تک کہ جب سب جہنمی جہنم میں ڈال دئیے جائیں گے اور وہ مزید لوگوں کو اپنے اندر ڈالے جانے کا مطالبہ کر رہی ہو گی تو آخرمیں اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے گا، اس کے کنارے ایک دوسرے سے مل جائیںگے اور وہ کہے گی: بس،بس، بس۔ جب تمام جنتی لوگ جنت میں اور تمام جہنمی لوگ جہنم میں پہنچ جائیں گے تو جنت اور جہنم کے درمیان والی دیوار پر موت کو لا کر کھڑا کر دیا جائے گا، پھر یوں آواز دی جائے گی: او جنتیو! وہ خوف زدہ ہو کر ادھر دیکھیں گے، پھر کہا جائے گا: او جہنمیو! وہ خوش ہو کر اور جہنم سے رہائی کی امید لے کر ادھر دیکھیں گے،پھر اہل جنت اور اہل جہنم دونوں سے کہا جائے گا: کیا تم اس چیز کو جانتے ہو؟ وہ سب کہیں گے:جی ہم اسے جانتے ہیں، یہ و ہ موت ہے، جو ہمارے اوپر مسلط کی گئی تھی، پھر اسے لٹا کر اسی دیوار کے اوپر ذبح کر دیا جائے گا اور کہا جائے گا: جنتیو!اب تم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس جنت میں رہو گے، تم میں سے کسی پر موت نہیں آئے گی اور جہنمیو! اب تم بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اسی میں رہو گے، تم میں سے کسی کو بھی موت نہیں آئے گی۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! کیا قیامت کے دن ہم اللہ تعالیٰ کا دیدار کر سکیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بادل نہ ہوں تو کیا سورج کو دیکھنے میں تمہیں کوئی مشقت ہوتی ہے؟ ہم نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چودھویں کی رات کو جب بادل نہ ہوں تو کیا چاند کو دیکھنے میں تمہیں کوئی تکلیف ہوتی ہے؟ ہم نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم قیامت کے دن اپنے ربّ کو اسی طرح بسہولت دیکھو گے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو ایک کھلے میدان میں جمع کر ے گا اور اعلان کیا جائے گا کہ دنیا میںجو کوئی جس کی عبادت کیا کرتا تھا، وہ اس کے پیچھے چلا جائے، چنانچہ سورج کی پوجا کرنے والے اس کے پیچھے چل پڑے گے اور وہ ان کو جہنم میں جا گرائے گا، چاند کی پرستش کرنے والے اس کے پیچھے چل پڑیں گے اور جہنم میں جا گریں گے اور دوسرے مختلف بتوں کی عبادت کرنے والے ان کے پیچھے چل پڑیں اور اس طرح جہنم میںجا گریں گے۔ صرف اہل ایمان باقی رہ جائیں گے، جبکہ ان میں منافقین اور کچھ اہل ِ کتاب بھی ہوں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ کے اشارہ سے اہل کتاب کی تعداد کی قلت کی طرف اشارہ کیا، پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس آکر ان سے کہے گا: تم جس کی عبادت کیا کرتے تھے، اس کے پیچھے کیوں نہیں جاتے؟ وہ کہیں گے: ہم تو ایک اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے اور ہم نے ابھی تک اس کو دیکھا ہی نہیں، پھر اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کو نمایاں کرے گا، جو لوگ صرف اللہ تعالیٰ کو سجدہ کیا کرتے تھے، وہ فوراً اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوجائیں گے اور جو لوگ محض دکھلاوے اور شہرت کے لیے سجدے کیا کرتے تھے، وہ سجدہ نہیں کر سکیں گے بلکہ گدی کے بل گر جائیں گے، اس کے بعد جہنم پر پل صراط نصب کیا جائے گا، انبیاء و رسل اس کی دونوں اطراف میں کھڑے ہر یہ دعائیں کر رہے ہوں گے: اے اللہ! محفوظ رکھنا، محفوظ رکھنا، اے اللہ! بچانا ، بچانا، اس پل پر شدید قسم کی پھسلن ہوگی اور وہاںبے شمارخمدار سلاخین اور کنڈیاں لگی ہوں گی،وہ گزرنے والوں کو اچک لیں گی اور وہاں نجد کے علاقے میں اگنے والے سعدان درخت کے کانٹوں کی طرح کے کانٹے ہوں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کانٹوں کی صفات بھی بیان کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اور میری امت سب سے پہلے اس پل کو پار کریں گے، اس کے اوپر سے لوگ بجلی کی رفتار سے، تیز ہوا کی رفتار سے، بہترین تیز رفتار گھوڑوں کی رفتار سے اور تیز اونٹوں کی رفتار سے گزریں گے، بعض لوگ صحیح سالم نجات پا جائیں گے اور بعض گرتے پڑتے زخمی ہو کر گزریں گے اور گر جانے والے جہنم میں جاگریں گے، اس پل کو پار کرجانے والے لوگ دنیا میں اپنے یقینی حق پر جو جھگڑا کرتے تھے، اس سے زیادہ تکرار وہ اپنے ان بھائیوں کے حق میں کریں گے، جو جہنم میں گر جائیں گے، وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم اکٹھے جہاد کرتے تھے، مل کر حج وعمرہ کرتے تھے، تو پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم نجات پا گئے اور وہ ہلاک ہو گئے؟ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: دیکھو، جن لوگوں کے دلوںمیں ایک دینار کے برابر ایمان ہو ان کو نکال لاؤ، چنانچہ ایسے لوگوں کو جہنم سے باہر نکال لیا جائے گا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جن کے دلوں میں ایک قیراط کے برابر ایمان ہو، ان کو بھی نکال لاؤ۔ چنانچہ ایسے لوگوں کو بھی نکال لیاجائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جن لوگوں کے دلوں میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی ایمان ہو، ان کو بھی نکال لاؤ، چنانچہ ایسے لوگوں کو بھی جہنم سے نکال لیاجائے گا۔ اس کے بعد سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: اس بات کی تائید کے لیے میرے اور تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب کافی ہے، عبدالرحمن بن اسحاق کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ان کا اشارہ اس آیت کی طرف تھا: {وَاِنْ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِھَا وَ کَفٰی بِنَا حَاسِبِیْنَ} (اور اگر کسی کے پاس رائی کے ایک دانے کے برابر ایمان ہوا تو ہم اسے سامنے لے آئیں گے اور محاسبہ کرنے میں ہم کافی ہیںـ)۔ آگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور اِن جہنمیوں کو جہنم سے نکال کر نہر الحیوان میں ڈالا جائے گا، اس میں وہ لوگ اس طرح اگیں گے، جیسے سیلاب کی لائی ہوئی مٹی وغیرہ میں دانے اگتے ہیں، کیا تم دیکھتے ہو کہ جو پودا سورج کی طرف ہو وہ سبز ہوتا ہے اور جو سائے میں ہو وہ زرد ہوتا ہے۔ صحابہ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! معلوم ہوتا ہے کہ آپ بکریاں چراتے رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، میں نے بکریاں چرائی ہیں۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم عنقریب اپنے ربّ تعالیٰ کا دیدار کرو گے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے ربّ کا دیدار کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا دوپہر کے وقت سورج کو دیکھنے میں تمہیں کوئی دقت ہوتی ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتاؤ کہ کیا چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں تمہیں کوئی مشقت ہوتی ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنے میں بھی تمہیں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی، مگر اسی طرح کہ جتنی سورج اور چاند کو دیکھتے وقت دقت پیش آتی ہے۔ اعمش نے لا تضارون کا معنی لا تمارون کیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار کرتے ہوئے دھکم پیل نہیں ہوگی۔
سیدنا ابو رزین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم سب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے اور اس کی مخلوق میں اس کی کوئی مثال دی جا سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو رزین! کیا تم میں سے ہر کوئی اپنی اپنی جگہ سے چاندکو نہیں دیکھ لیتا؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تو اس سے عظیم ہے۔
Takhreej
(۱۳۳۴۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال وکیع بن حدس، أخرجہ ابوداود: ۴۷۳۱، وابن ماجہ: ۱۸۰ (انظر: ۱۶۱۹۲)
سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل جنت، جنت میں داخل ہوجائیں گے تو ان کو یہ آواز دی جائے گی: اے اہل جنت! تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کا ایک وعدہ پورا ہونا باقی ہے، ابھی تک تم نے اسے نہیں دیکھا، وہ کہیں گے: اے اللہ! کیا تو نے ہمارے چہروں کو سفید کر کے اور جہنم سے محفوظ رکھ کر ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا، ایک روایت میں ہے: وہ کہیں گے: کیا اللہ نے ہمارے میزانوں کو بھاری نہیں کیا اور کیا ہمارے نامہ ہائے اعمال ہمارے دائیں ہاتھوں میں پکڑا کر ہمیں جہنم سے بچا کر جنت میں داخل نہیں کیا۔ اتنے میں وہ حجاب اٹھائے گا اور اللہ تعالیٰ ان کے سامنے جلوہ فرمائے گا اور وہ اس کا دیدار کریں گے، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بہتر اور پسندیدہ کوئی چیز نہیں دی ہوگی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَ زِیَادَۃٌ} (جو لوگ دنیا میں نیکوکار ہیں، ان کو ان کے اعمال کا اچھا بدلہ ملے گا اور مزید ایک نعمت بھی ملے گی۔ (سورۂ یونس: ۲۶)
Takhreej
(۱۳۳۴۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۱ (انظر: ۱۸۹۳۵)
Explanation
فوائد:… اس باب سے معلوم ہوا کہ اہل ایمان کو قیامت کے دن اپنے ربّ کی زیارت اور دیدار نصیب ہوگا،اور جس طرح سورج یا چودھویں رات کے چاند کے سامنے بادل نہ ہوں تو سورج اور چاند کو دیکھنے میں کچھ دقت و مشقت نہیں آتی ہر آدمی اپنی اپنی جگہ پر موجود رہتے ہوئے سورج اور چاند کو دیکھ لیتا ہے، اس طرح اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنے میں بھی لوگوں کو دھکم پیل پیش نہیں آئے گی بلکہ ہر شخص اپنی اپنی جگہ پر ہی اللہ تعالیٰ ربّ العزت کے دیدار سے مشرف ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہم کو ایسی موت نصیب فرمائے کہ جس کے بعد ہم حشر میں اپنے ربّ کا انتظار کریں اور کسی معبودِ باطل کے پیچھے نہ چلیں۔ (آمین)
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اَزْوَاجِہٖ وَ ذُرِّیِّتِہٖ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ اِبْرَاہِیْمَ
وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اَزْوَاجِہٖ وَ ذُرِّیِّتِہٖ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرِاہِیْمَ
اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لَلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
تاریخ تکمیل: سینچر وار ، 5شوال 1435ھـ (2اگست 2014ئ)
مقام تکمیل: آبائی گاؤں کوٹ شیرا، ملتان خورد، ضلع چکوال (پاکستان)
لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ
اللہ تعالی ہی ہے جو خیر و بھلائی کے امور کو آسان کر دیتا ہے، اسی کی توفیق سے ہر نیکی کرنے کی طاقت اور ہر برائی سے بچنے کی قوت ملتی ہے، ہم اس موقع پر ربّ جلیل کا جوشکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں، قلوب و اذہان کے تصورات کو الفاظ شرمندۂ تعبیر نہیں کر سکتے، اگر سارا مال و متاع اس کے راستے میں وقف کر دیا جائے اور زبانیں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا کہتے کہتے ساکن ہو جائیں، تو شاید اس کے ہزارویں حصے کا بھی حق ادا نہ ہو سکے۔ (تَقَبَّلَ اللّٰہُ مِنَّا جُھْدَنَا ھٰذَا وَ اَعَاذَنَا مِنَ الشَّرِّ الْعَاجِلِ وَالْآجِلِ)
اے ربّ شکور! گنہگاروں کی نیکیوں کے قدردان ربّ! وسیع و عریض رحمت والے ربّ! بخش دینے والے ربّ! اے وہ ربّ جلیل کہ جس کی رحمت اس کے غضب پہ غالب آگئی! اے وہ ربّ عظیم جو اپنے بندے کو بخشنے کے لیے اس کی نیکیوں کے ہونے اور برائیوں کے نہ ہونے کا محتاج نہیں ہے!
ہماری اس ادنی سی کاوش کو شرفِ قبولیت سے نواز دے اور اس محنت کو ہمارے لیے صدقہ جاریہ بنا دے۔ (آمین)
تیری رحمت کے سہارے ہمارا جو حصہ بنتا ہے، ہمیں اس سے کئی گنا زیادہ عطا فرما۔ (آمین)
اور اگر ہم اپنی خطاؤں کی وجہ سے اپنے حصے سے محروم قرار پائیں، تو ہمیں بلاسبب اپنی رحمت کا مستحق قرار دے، اے عزتیں دینے والے ربّ! (آمین)
الٰہی! ہمیں ریاکاری، نمودو نمائش اور تمام روحانی اور اخلاقی بیماریوں سے محفوظ فرما۔ (آمین)
الٰہی! ہمیں عزت والی زندگی عطا فرمایا اور ہمارے وطن اور عالم اسلام پر رحم فرما دے۔ (آمین)
اے ربّ کریم! ہمیں اپنے پیارے نبی کی سنتوں کا حقیقی خادم بنا دے۔ (آمین ثم آمین یا ربّ العالمین)
سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ،أَشْہَدُ أَنْ لا إِلَہَ إِلا أَنْتَ،أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَیْکَ