TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل - جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل - Book 177 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 177 of Musnad Ahmad, with 33 chapters and 157 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

157 Hadith · 33 Chapters
جہنم والوں اور ان کی صفات کا بیان
۔ (۱۳۲۲۵)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَعْظُمُ اَھْلُ النَّارِ فِی النَّارِ حَتّٰی اِنَّ بَیْنَ شَحْمَۃِ اُذُنِ اَحَدِھِمْ اِلٰی عَاتِقِہٖمَسِیْرَۃَ سَبْعِمِائَۃِ عَامٍ، وَاِنَّ غِلَظَ جِلْدِہٖسَبْعُوْنَذِرَاعًاوَاِنَّضِرْسَہُ مِثْلُ اُحُدٍ۔)) (مسند احمد: ۴۸۰۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم میں اہل ِ جہنم کے جسم اتنے بڑے ہوجائیں گے کہ ان کے کانوں اور کندھوں کے درمیان سات سو برس کی مسافت کے برابر فاصلہ ہوگا اور ان کی جلد کی موٹائی ستر ہاتھ اور ان کی ایک ایک داڑھ اُحد پہاڑ کے برابر ہوگی۔
Takhreej
(۱۳۲۲۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابی یحیی الطویل، وابویحیی القتات مختلف فی الاحتجاج بہ علی ضعف فیہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۳۴۸۲، وعبد بن حمید: ۸۰۸ (انظر: ۴۸۰۰)
13225
Zaeef
جہنم والوں اور ان کی صفات کا بیان
۔ (۱۳۲۲۶)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ضِرْسُ الْکَافِرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِثْلُ اُحُدٍ وَعَرَضُ جِلْدِہٖسَبْعُوْنَذِرَاعًاوَفَخِذُہُمِثْلُوَرِقَانِوَمَقْعَدُہُمِنَالنَّارِمِثْلُمَابَیْنِیْ وَبَیْنَ الرَّبَذَۃِ۔)) (مسند احمد: ۸۳۲۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ تعالیٰ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن کافر کی داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی، اس کی جلد کی موٹائی ستر ہاتھ ہوگی، اس کی ران و رقان پہاڑ کے برابر ہو گی اوراس کے سرین یہاں سے ربذہ مقام تک مسافت جتنے بڑے ہو جائیں گے۔
Takhreej
(۱۳۲۲۶) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الترمذی: ۲۵۷۹، ۲۵۷۸، ۲۵۷۷، وأخرج قصۃ ضرس الکافر فقط مسلم: ۲۸۵۱ (انظر: ۸۳۴۵)
13226
Sahih
جہنم والوں اور ان کی صفات کا بیان
۔ (۱۳۲۲۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوَہُ وَفِیْہِ: ((وَفَخِذُہُ مِثْلُ الْبَیْضَائِ وَمَقْعَدُہُ مِنَ النَّارِ کَمَا بَیْنَ قَدِیْدٍ اِلٰی مَکَّۃَ وَکَثَافَۃُ جِلْدِہٖاِثْنَانِوَاَرْبَعُوْنَذِرَاعًابِذِرَاعِالْجَبَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۴۴)
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنمی کی ران بیضاء پہاڑ کے برابر، اس کے سرین اتنے برے ہو جائیں گے کہ جیسے قدید سے مکہ تک کی مسافت ہے اور اس کی جلد کی موٹائی کسی بڑے آدمی کے ہاتھ کے حساب سے بیالیس ہاتھ ہو جائے گی۔
Takhreej
(۱۳۲۲۷) تخریج: صحیح بطرقہ، وانظر الحدیث بالطریق الاول
13227
Sahih
جہنم والوں اور ان کی صفات کا بیان
۔ (۱۳۲۲۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَقْعَدُ الْکَافِرِ فِی النَّارِ مَسِیْرَۃُ ثَلَاثَۃُ اَیَّامٍ، وَکُلُّ ضِرْسٍ مِثْلُ اُحُدٍ، وَفَخِذُہُ مِثْلُ وَرِقَانِ، وَجِلْدُہُ سِوٰی لَحْمِہٖوَعِظَامِہٖاَرْبَعُوْنَذِرَاعًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۵۲)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم میں کافر کے سرین تین دنوں کے سفر کے برابر ہوجائیں گے،اس کی ہر داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہو جائے گی، اس کی ران ورقان پہاڑ کے برابر ہو جائے گی اور اس کی جلد کی موٹائی چالیس ہاتھ ہو گی، جبکہ گوشت اور ہڈیاں اس کے علاوہ ہوں گی۔
Takhreej
(۱۳۲۲۸) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابویعلی: ۱۱۲۳۲، والحاکم: ۴/۵۹۸(انظر: ۱۱۲۳۲)
Explanation
فوائد:… چونکہ اہل ِ جہنم کو تعذیب دینا مقصود ہو گاِ اس لیے ان کے اجسام اور اعضاء بہت بڑے بڑے کر دئیے جائیں گے۔
13228
Sahih
اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان
۔ (۱۳۲۲۹)۔ عَنْ مُجَاہِدٍ اَنَّ النَّاسَ کَانُوْا یَطُوْفُوْنَ بِالْبَیْتِ وَابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسٌ مَعَہُ مِحْجَنٌ، فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (({یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖوَلَاتَمُوْتُنَّاِلَّاوَاَنْتُمْمُّسْلِمُوْنَ} لَوْاَنَّقَطْرَۃً مِّنَ الزَّقُّوْمِ قُطِرَتْ لَاَمَرَّتْ عَلٰی اَھْلِ الْاَرْضِ عَیْشَہُمْ، کَیْفَ مَنْ لَیْسَ لَھُمْ طَعَامٌ اِلَّا الزَّقُّوْمُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۳۵)
مجاہد سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خمد دار چھڑی لیے بیٹھے تھے، جبکہ لوگ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، انھوں نے کہا: کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: {یٰـــٓـــاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ} (اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حالت میں کہ تم اسلام پر قائم دائم ہو۔) (سورۂ آل عمران:۱۰۲) اور اگر جہنم کے زقوم کا ایک قطرہ زمین پر ٹپکا دیا جائے تو وہ روئے زمین پر بسنے والوں کی زندگی کو کڑوا کر دے گا، (ذرا سوچو کہ) ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جن کی خوراک ہی زقوم ہوگا۔
Takhreej
(۱۳۲۲۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ الترمذی: ۵۲۸۵، وابن ماجہ: ۴۳۲۵(انظر: ۲۷۳۵)
Explanation
فوائد:… زقوم: ایک کڑوا اور بد بودار درخت، جس کا پھل اہل دوزخ کی غذا ہے۔
13229
Sahih
اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان
۔ (۱۳۲۳۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ اَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاقٍ یُہْرَاقُ فِی الدُّنْیَا لَاَنْتَنَ اَھْلَ الدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۴۹)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر جہنم میں سے پیپ کا ایک ڈول دنیا میں بہادیا جائے تو تمام دنیا والوں کو اپنی بد بو سے بے چین اور بدبودار کر دے گا۔
Takhreej
(۱۳۲۳۰) تخریج: حدیث حسن لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۲۵۸۴(انظر: ۱۱۲۳۰/۲)
Explanation
فوائد:… اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَیْہِ۔ (میں اپنے ربّ اللہ سے ہر گناہ کی بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں)۔
13230
Sahih
اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان
۔ (۱۳۲۳۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْحَمِیْمَ لَیُصَبُّ عَلٰی رُؤُوْ سِہِمْ فَیَنْفُذُ الْجُمْجُمَۃَ حَتّٰییَخْلُصَ اِلٰی جَوْفِہٖفَیَسْلُتُ مَا فِیْ جَوْفِہٖحَتّٰییَمْرُقَ مِنْ قَدَمَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۸۸۵۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم کا کھولتا ہوا پانی جہنمیوں کے سروں پر ڈالا جائے گا، وہ کھوپڑی کے اندر سے ہوتا ہوا ان کے پیٹ میں جا پہنچے گا، پھر ان کے پیٹ کے اندر والے اعضاء کو کاٹ اور جلا کر ان کے قدموں کے نیچے سے جا نکلے گا۔
Takhreej
(۱۳۲۳۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابی السمح دراج بن سمعان القرشی، أخرجہ الترمذی: ۲۵۸۲(انظر: ۸۸۶۴)
13231
Zaeef
اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان
۔ (۱۳۲۳۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ اِسْحٰقَ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَخْطُبُ وَھُوَ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اَھْوَنَ اَھْلِ النَّارِ عَذَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ رَجُلٌ یُجْعَلُ فِی اَخْمَصِ قَدَمَیْہِ نَعْلَانِ مِنْ نَّارٍ یَغْلِیْ مِنْہُمَا دِمَاغُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۰۳)
سیدنانعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک خطبے میں کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جہنم میں سب سے کم عذاب والا آدمی وہ ہے کہ جس کے پاؤں میں آگ کے دو جوتے پہنا دیئے جائیں گے، جن کی حرارت سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔
Takhreej
(۱۳۲۳۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۵۶۱، ومسلم: ۲۱۳ (انظر: ۱۸۴۱۳)
13232
Sahih
اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان
۔ (۱۳۲۳۳)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَھْوَنُ اَھْلِ النَّارِ عَذَابًا رَجُلٌ عَلَیْہِ نَعْلَانِ یَغْلِیْ مِنْہُمَا دِمَاغُہُ۔)) (مسند احمد: ۹۵۷۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے فرمایا: جہنم میں سب سے کم اور ہلکے عذاب والا آدمی وہ ہوگا جسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے اور ان کی وجہ سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔
Takhreej
(۱۳۲۳۳) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن حبان: ۷۴۷۲، والدارمی: ۲۸۴۸، والحاکم: ۴/ ۵۸۰(انظر: ۹۵۷۶)
13233
Sahih
اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان
۔ (۱۳۲۳۴)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((اَھْوَنُ اَھْلِ النَّارِ عَذَابًا رَجُلٌ فِیْ رِجْلَیْہِ نَعْلَانِ یَغْلِیْ مِنْہُمَا دِمَاغُہُ، وَمِنْہُمْ فِی النَّارِ اِلٰی کَعْبَیْہِ مَعَ اِجْرَائِ الْعَذَابِ، وَمِنْہُمْ مَنْ فِی النَّارِ اِلٰی رُکْبَتَیْہِ مَعَ اِجْرَائِ الْعَذَابِ وَمِنْہُمْ مَنْ ھُوَ فِی النَّارِ اِلٰی صَدْرِہٖمَعَاِجْرَائِالْعَذَابِ،وَمِنْہُمْمَنْقَدِاغْتُمِرَفِی النَّارِ۔)) قَالَ عَفَّانٌ: (اَحَدُ الرُّوَاۃِ) ((مَعَ اِجْرَا ئِ الْعَذَابِ قَدِ اغْتُمِرَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۱۶)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنمیوں میں سب سے کم عذاب والا آدمی وہ ہوگا، جسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے، ان کی وجہ سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا، بعض جہنمی ایسے ہوں گے کہ ان کے ٹخنوں تک آگ ہوگی اور اس کے ساتھ ان کو مزید عذاب بھی دیاجائے گا، بعض کے گھٹنوں تک آگ ہو گی اور اس کے ساتھ اور عذاب بھی دیا جائے گا، بعض کے سینہ تک آگ ہوگی اور اس کے سا تھ ان کو مزید عذاب بھی دیا جائے گا اور بعض تو ایسے ہوں گے کہ مکمل طور پر آگ میںڈوبے ہوئے ہوں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو مزید عذاب بھی دیا جائے گا۔
Takhreej
(۱۳۲۳۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ البزار: ۳۵۰۲، والحاکم: ۴/ ۵۸۱(انظر: ۱۱۱۰۰)
Explanation
فوائد: … انسان کے اندر اتنی جرأت نہیں ہے کہ وہ دنیا میں پائی جانے والی آگ کا ایک انگارہ اپنے ہاتھ پر رکھ سکے، لیکن اس آگ سے انہتر گنا زیادہ آگ کا کیا بنے گا۔ نَسْأَلُ اللّٰہَ الْعَافِیَۃَ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ
13234
Sahih
اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان
۔ (۱۳۲۳۵)۔ وَعَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہٗسَمِعَنَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ مِنْہُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی کَعْبَیْہِ، وَمِنْہُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی رُکْبَتَیْہِ، وَمِنْہُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی حُجْزَتِہٖ،وَمِنْہُمْمَنْتَاْخُذُہُالنَّارُاِلٰی تَرْقُوْتِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۰۳۶۳)
سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بعض جہنمیوں کے ٹخنوں تک ، بعض کے گھٹنوں تک، بعض کی کمر تک اور بعض کے سینہ تک آگ ہوگی۔
Takhreej
(۱۳۲۳۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۴۵ (انظر: ۲۰۱۰۳)
13235
Sahih
اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان
۔ (۱۳۲۳۶)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُنْصَبُ لِلْکَافِرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِقْدَارُ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ کَمَا لَمْ یَعْمَلْ فِی الدُّنْیَا، وَاِنَّ الْکَافِرَ یَرٰی جَہَنَّمَ وَیَظُنُّ اَنَّہَا مُوَاقِعَتُہُ مِنْ مَسِیْرَۃِ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۳۷)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کافر کے لیے قیامت کے دن پچاس ہزار سال کی مدت مقرر کی جائے گی، جیسا کہ اس نے دنیا میں عمل نہیں کیا تھا اور کافر جہنم کو دیکھ رہا ہوگا اور اسے یہ خیال آ رہا ہو گا کہ جہنم اسے چالیس برس کی مسافت سے بھی اپنی طرف کھینچ لے گی۔
Takhreej
(۱۳۲۳۶) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابویعلی: ۱۳۸۵، والحاکم: ۴/ ۵۹۷(انظر: ۱۱۷۱۴)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے عذاب سے محفوظ رکھے۔ آمین!
13236
Sahih
ابلیس اور اس کی اولاد کے عذاب کی کیفیت اور ان کا ہلاکتوں کو پکارنے کابیان
۔ (۱۳۲۳۷)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَوَّلُ مَنْ یُّکْسٰی حُلَّۃً مِنَ النَّارِ اِبْلِیْسُ فَیَضَعُہَا عَلٰی حَاجِبِہٖوَیَسْحَبُہَا مِنْ خَلْفِہِ وَذُرِّیُّتُہُ مِنْ بَعْدِہٖوَھُوَیُنَادِیْ: وَا ثُبُوْرَاہ وَیُنَادُوْنَ: یَاثُبُوْرَھُمْ۔)) قَالَ عَبْدُ الصَّمَدُ: قَالَھَا: مَرَّتَیْنِ ((حَتّٰییَقِفُوْا عَلٰی النَّارِ فَیَقُوْلُ: یَاثُبُوْرَاہ وَیَقُوْلُوْنَ: یَا ثُبُوْرَھُمْ، فَیُقَالُ لَھُمْ: { لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّادْعُوْا ثُبُوْرًا کَثِیْرًا}۔)) قَالَ عَفَّانٌ: وَذُرِّیَّتُہُ خَلْفَہُ وَھُمْ یَقُوْلُوْنَیَا ثُبُوْرَھُمْ قَالَ عَفَّانٌٌ: حَاجِبَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۵۶۴)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے ابلیس کو آگ کا لباس پہنایا جائے گا، وہ اسے اپنی پلکوں پر رکھ کر پیچھے کو کھینچے گا، اس کے بعد اس کی اولاد کو بھی ایسا ہی لباس پہنایا جائے گا، ابلیس کہے گا: ہائے میری ہلاکت، اور اس کی اولاد کہے گی: ہائے ہماری ہلاکت۔ دو دفعہ یہ بات ارشاد فرمائی، یہاں تک کہ وہ آگ پر کھڑے ہو جائیں گے، پھر ابلیس کہے گا: ہائے میری ہلاکت، اور اس کی اولاد کہے گی: ہائے ہماری ہلاکت، اس وقت ان سے کہا جائے گا: { لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّادْعُوْا ثُبُوْرًا کَثِیْرًا} (آج تم ایک ہلاکت کو مت پکارو، بلکہ بہت ساری ہلاکتوں کو پکارو)(سورۂ فرقان: ۱۴)۔
Takhreej
(۱۳۲۳۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۳/ ۱۶۸، والبزار: ۳۴۹۵، والبیھقی فی البعث والنشور : ۵۹۰ (انظر: ۱۲۵۳۶)
Explanation
فوائد:… بہرحال ابلیس اور اس کی طرح کی اس کی نسل کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے۔
13237
Zaeef
اہل ِ توحید میں سے جہنم سے سب سے آخر میں رہائی پانے والا اور سب سے آخر میں جنت میں جانے والے کا تذکرہ
۔ (۱۳۲۳۸)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّیْ لَاَعْرِفَ آخِرَ اَھْلِ النَّارِ خُرُوْجًا مِّنَ النَّارِ، رَجُلٌ یَخْرُجُ مِنْہَا زَحْفًا فَیُقَالُ لَہُ: اِنْطَلِقْ فَادْخُلِ الْجَنَّۃَ، قَالَ: فَیَذْھَبُیَدْخُلُ فَیَجِدُ النَّاسَ، قَدْ اَخَذُوا الْمَنَازِلَ، قَالَ: فَیَرْجِعُ، فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّّ! قَدْ اَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ، قَالَ: فَیُقَالُ لَہُ: اَتَذْکُرُ الزَّمَانَ الَّذِیْ کُنْتَ فِیْہِ؟ قَالَ: فَیَقُوْلُ: نَعَمْ، قَالَ: فَیُقَالُ لَہُ: تَمَنَّہْ، فَیَتَمَنّٰی فَیُقَالُ: اِنَّ لَکَ الَّذِیْ تَمَنَّیْتَ وَعَشَرَۃَ اَضْعَافِ الدُّنْیَا قَالَ: فَیَقُوْلُ: اَتَسْخَرُ وَاَنْتَ الْمَلِکُ۔)) قَالَ: فَلَقَدْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضَحِکَ حَتّٰی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ۔ (مسند احمد: ۳۵۹۵)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی سب سے آخر میں جہنم سے رہا ہو کر آئے گا، میں اسے پہچانتا ہوں، وہ آدمی گھسٹ کر وہاں سے نکلے گا، اس سے کہا جائے گا: جا اورجنت میں داخل ہو جا، لیکن جب وہ جنت میں داخل ہو گا تو وہ دیکھے گا کہ سب لوگ اپنے مقامات میں سکونت پذیر ہیں (اور کوئی جگہ باقی نہیں رہی)، اس لیے وہ واپس آ جائے گا اور کہے گا: اے میرے رب! جنت میں تو لوگ اپنی اپنی منزلوں میں رہ رہے ہیں۔ اس سے کہا جائے گا: کیا تجھے دنیا والا زمانہ یاد ہے، جس میں تو رہتا تھا؟ وہ کہے گا: جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سے کہاجائے گا: تو تمنا کر، چنانچہ وہ تمنا کرے گا پھراسے کہا جائے گا:تو نے جو تمنا کی ہے، وہ بھی تیرے لیے ہے اور دنیا کا دس گنا بھی تجھے ملے گا۔ وہ کہے گا: اے اللہ! تو توبادشاہ ہے، پھر بھی مجھ سے مذاق کرتا ہے۔ اس وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قدر مسکرائے کہ آپ کی داڑھیں نمایاں ہوگئیں۔
Takhreej
(۱۳۲۳۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۵۷۱، ۷۵۱۱، ومسلم: ۱۸۶(انظر: ۳۵۹۵)
13238
Sahih
اہل ِ توحید میں سے جہنم سے سب سے آخر میں رہائی پانے والا اور سب سے آخر میں جنت میں جانے والے کا تذکرہ
۔ (۱۳۲۳۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ آخِرَ اَھْلِ الْجَنَّۃِ دُخُوْلًا الْجَنَّۃَ وَآخِرَ اَھْلِ النَّارِ خُرُوْجًا مِنَ النَّارِ رَجُلٌ یَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ: اِذْھَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّۃَ، فَیَاْتِیْہَا فَیُخَیَّلُ اِلَیْہِ اَنَّہَا مَلْاٰی، فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! وَجَدْتُّہَا مَلْاٰی، فَیَقُوْلُ: اِذْھَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّۃَ، فَیَاْتِیْہَا فَیُخَیَّلُ اِلَیْہِ اَنَّہَا مَلْاٰی، فَیَرْجِعُ فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ! قَدْ وَجَدْتُّہَا مَلْاٰی، فَیَقُوْلُ: اِذْھَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّۃَ، فَیَاْتِیْہَا فَیُخَیَّلُ اِلَیْہِ اَنَّہَا مَلْاٰی، فَیَرْجِعُ اِلَیْہِ، فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ! وَجَدْتُّہَا مَلْاٰی، ثَلَاثًا، فَیَقُوْلُ: اِذْھَبْ فَاِنَّ لَکَ مِثْلَ الدُّنْیَا وَعَشْرَۃَ اَمْثَالِھَا اَوْ وَعَشْرَۃَ اَمْثَالِ الدُّنْیَا، قَالَ: فَیَقُوْلُ: رَبِّ اَتَضْحَکُ مِنِّیْ وَاَنْتَ الْمَلِکُ۔ قَالَ: وَکَانَ یُقَالُ: ہٰذَا اَدْنٰی اَھْلِ الْجَنَّۃِ مَنْزِلَۃً۔)) (مسند احمد: ۴۳۹۱)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل جنت میں سے سب سے آخر میں جنت میں جانے والا اور سب سے آخر میں جہنم سے نکلنے والا آدمی وہ ہے جو گھسٹتا ہوا جہنم سے نکلے گا، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: جا جنت میں چلا جا۔ وہ وہاں آکر یوں محسوس کرے گا کہ جنت تو بھری ہوئی ہے، وہ کہے گا: اے میرے ربّ! یہ تو ساری بھری ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جا جنت میں داخل ہوجا، وہ اسے پہلے کی طرح بھری ہوئی سمجھ کر واپس آجائے گا اور کہے گا: اے میرے رب! وہ تو مکمل طور پر بھری ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جا اورجنت میں داخل ہو جا، لیکن وہ آکر پھر یہی محسوس کرے گا کہ جنت تو بھری ہوئی ہے۔ وہ پھر واپس آکر عرض کرے گا:اے میرے رب! جنت تو مکمل طور پر بھری ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جا، تیرے لیے جنت میں پوری دنیا بلکہ اس سے دس گنا زیادہ جگہ موجود ہے، وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تو مجھ سے مذاق کرتا ہے، حالانکہ تو تو بادشاہ ہے۔ سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ کہا جاتا تھا کہ یہ شخص سب سے کم تر جنتی ہو گا۔
Takhreej
(۱۳۲۳۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
13239
Sahih
اہل ِ توحید میں سے جہنم سے سب سے آخر میں رہائی پانے والا اور سب سے آخر میں جنت میں جانے والے کا تذکرہ
۔ (۱۳۲۴۰)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ آخِرَ مَنْ یَدُخُلُ الْجَنَّۃَ رَجُلٌ یَمْشِیْ عَلٰی الصِّرَاطِ فَیَنْکِبُ مَرَّۃً وَیَمْشِیْ مَرَّۃً وَتَسْفَعُہُ النَّارُ مَرَّۃً فَاِذَا جَاوَزَ الصِّرَاطَ اِلْتَفَتَ اِلَیْہَا فَقَالَ: تَبَارَکَ الَّذِیْ نَجَّانِیْ مِنْکَ لَقَدْ اَعْطَانِی اللّٰہُ مَالَمْ یُعْطِ اَحَدًا مِنَ الْاَوَّلِیْنَ وَالْآخِرِیْنَ قَالَ: فَتُرْفَعُ لَہُ شَجَرَۃٌ فَیَنْظُرُ اِلَیْہَا، فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ اَدْنِنِیْ مِنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ فَاَسْتَظِلَّ بِظِلِّہَا وَاَشْرَبَ مِنْ مَائِہَا، فَیَقُوْلُ: اَیْ عَبْدِیْ! فَلَعَلِّیْ اِنْ اَدْنَیْتُکَ مِنْہُمَا سَاَلْتَنِیْ غَیْرَھَا؟ فَیَقُوْلُ: لَا، یَارَبِّ وَیُعَاھِدُ اللّٰہَ اَنْ لَّا یَسْاَلَہُ غَیْرَھَا وَالرَّبُّ عَزَّوَجَلَّ یَعْلَمُ اَنَّہُ سَیَسْاَلُہُ لِاَنَّہُ یَرٰی مَالَاصَبَرْ لَہُ یَعْنِیْ عَلَیْہِ فَیُدْنِیْہِ مِنْہَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَہُ شَجَرَۃٌ وَھِیَ اَحْسَنُ مِنْہَا فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! اَدْنِنِیْ مِنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ فَاَسْتَظِلَّ بِظِلِّہَا وَاَشْرَبَ مِنْ مَائِھَا، فَیَقُوْلُ: اَیْ عَبْدِیْ! اَلَمْ تُعَاھِدْنِیْیَعْنِیْ اَنَّکَ لَا تَسْاَلُنِیْ غَیْرَھَا فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! ہٰذِہِ، لَا اَسْاَلُکَ غَیْْرَھَا وَیُعَاہِدُہُ وَالرَّبُّ یَعْلَمُ اَنَّہُ سَیَسْاَلُہُ غَیْرَھَا فَیُدْنِیْہِ مِنْہَا، فَتُرْفَعُ لَہُ شَجَرَۃٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّۃِ ھِیَ اَحْسَنُ مِنْہَا، فَیَقُوْلُ: رَبِّ اَدْنِنِیْ مِنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ اَسْتَظِلُّ بِظِلِّہَا وَاَشْرَبُ مِنْ مَائِہَا، فَیَقُوْلُ: اَیْ عَبْدِیْ اَلَمْ تُعَاھِدْنِیْ اَنَّکَ لَا تَسْاَلُ غَیْرَھَا، فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ! ہٰذِہِ الشَّجَرَۃُ، لَااَسْاَلُکَ غَیْرَھَا وَیُعَاھِدُہُ وَالرَّبُّ یَعْلَمُ اَنَّہُ سَیَسْاَلُہُ غَیْرَھَا لِاَنَّہُ یَرٰی مَالَا صَبَرْلَہُ عَلَیْہَا فَیُدْنِیْہِ مِنْہَا، فَیَسْمَعُ اَصْوَاتَ اَھْلِ الْجَنَّۃِ فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ! الْجَنَّۃَ اَلْجَنَّۃَ، فَیَقُوْلُ: عَبْدِیْ اَلَمْ تُعَاھِدْنِیْ اَنَّکَ لاَ تَسْاَلُنِیْ غَیْرَھَا؟ فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ اَدْخِلْنِیَ الْجَنَّۃَ، قَالَ: فَیَقُوْلُ عَزَّوَجَلَّ: مَا یَصْرِیْنِیْ مِنْکَ اَیْ عَبْدِیْ، اَیُرْضِیْکَ اَنْ اُعْطِیَکَ مِنَ الْجَنَّۃِ الدُّنْیَا وَمِثْلَہَا مَعَہَا، قَالَ: فَیَقُوْلُ: اَتَہْزَأُ بِیْ وَاَنْتَ رَبُّ الْعِزَّۃِ۔)) قَالَ: فَضِحَک عَبْدُاللّٰہِ حَتّٰی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ، ثُمَّ قَالَ: اَلَا تَسْاَلُوْنِیْ لِمَ ضَحِکْتُ؟ قَالُوْا لَہُ: لِمَ ضَحِکْتَ؟ قَالَ: لِضِحْکِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ لَنَا: ((اَلَا تَسْاَلُوْنِیْ لِمَ ضَحِکْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((لِضِحْکِ الرَّبِّ حِیْنَ قَالَ: اَتَہْزَاُ بِیْ وَاَنْتَ رَبُّ الْعِزَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۳۷۱۴)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے آخر میں جنت میں جانے والا پل صراط کے اوپر سے گزرے گا، وہ کبھی گرے گا اور کبھی چلے گا اور کبھی آگ اسے جھلسائے گی، بالآخر جب وہ پل صراط کو پار کر جائے گا تو جہنم کی طرف دیکھ کر کہے گا: وہ اللہ تعالیٰ برکتوں والا ہے، جس نے مجھے تجھ سے نجات دلائی، اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ایسا کرم کیا ہے کہ اس نے اگلوں پچھلوں میں سے کسی پر بھی ایسا کرم نہیں کیا، پھر اسے ایک درخت دکھائی دے گا، چنانچہ وہ اسے دیکھ کر عرض کرے گا: اے میرے ربّ! مجھے اس درخت کے قریب کر دے، تاکہ میں اس کے سایہ میں بیٹھ سکوں اور اس کا پانی پی سکوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے بندے! اگر میں تجھے اس کے قریب کر دوں تو کیا تو مجھ سے اور تو کچھ نہیں مانگے گا؟ وہ کہے گا: اے میرے ربّ! ! میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں تجھ سے اس کے علاوہ مزید کوئی چیز نہیں مانگوں گا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہو گا کہ وہ ہر صورت میں اس سے مزید سوال کرے گا، کیونکہ وہ وہاں پہنچنے کے بعد ایسی چیزیں دیکھے گا کہ وہ صبر نہیں کر سکے گا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے قریب جانے کی اجازت دے دے گا، اس کے بعد اسے ایک اور درخت دکھائی دے گا، جو پہلے درخت سے زیادہ خوبصورت ہوگا، وہ کہے گا: اے میرے ربّ! مجھے اس درخت کے قریب جانے کی اجازت دے دے، تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کر سکوں اور وہاں کا پانی پی سکوں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے میرے بندے ! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مجھ سے مزید کوئی چیز طلب نہیں کرے گا، وہ کہے گا: اے میرے رب! بس میری یہی گزارش ہے، اسے پورا کر دے، میں اس کے علاوہ تجھ سے کچھ نہیں مانگوں گا، پھر وہ اللہ تعالیٰ سے اس بات کا پختہ عہد کرے گا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہو گا کہ وہ عنقریب مزید سوال کرے گا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے قریب جانے کی اجازت دے دے گا، اس کے بعد اسے جنت کے دروازے کے قریب پہلے درختوںسے زیادہ حسین درخت دکھائی دے گا، وہ کہے گا: اے میرے ربّ! مجھے اس درخت کے قریب جانے کی اجازت دے دے، تاکہ میں اس کے سائے میں آرام کر سکوں اور اس کا پانی پی سکوں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے میرے بندے! کیا تو نے مجھے سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مجھ سے مزید سوال نہیں کرے گا؟ وہ کہے گا: اے میرے ربّ! مجھے اس درخت تک جانے کی اجازت دے دے، میں پختہ وعدہ کرتا ہوں کہ میں اس کے بعد تجھ سے مزید کچھ نہیں مانگوں گا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کو تو علم ہے کہ وہ عنقریب مزید سوال کرے گا، کیونکہ وہ ایسی چیزیں دیکھے گا کہ اس سے صبر نہیں ہو سکے گا، بہرحال اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے قریب جانے کی اجازت دے دے گا، جب وہ وہاں پہنچ کر اہل ِ جنت کی آوازیں سنے گا تو عرض کرے گا: اے میرے ربّ!مجھے جنت میں داخل کر دے، جنت میں داخل کر دے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے بندے! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مجھ سے مزید کوئی چیز نہیں مانگے گا؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! بس تو مجھے جنت میں داخل کر دے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: میرے بندے ! کون سی چیز مجھے تجھ سے روک سکتی ہے،کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ میں تجھے جنت میں پوری دنیا، بلکہ اس کی مثل ایک اور دنیا بھی دے دوں؟ وہ کہے گا: اے اللہ!تو تو ربّ العزت ہے، میرے ساتھ مذاق کیوں کرتا ہے؟ یہ بات بیان کر کے سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس قدر زور سے ہنسے کہ ان کی داڑھیں نظر آنے لگیں، پھر انھوں نے پوچھا: تم مجھ سے میرے اس قدر زور سے ہنسنے کی وجہ کیوں نہیں پوچھتے؟ ان کے شاگردوں نے کہا: جی بتلائیں کہ آپ کیوں ہنسے ہیں؟ انھوں نے کہا: بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ حدیث بیان کر کے ہنسے تھے اور پھر ہم سے فرمایا تھا: تم مجھ سے میرے ہنسنے کی وجہ کیوں نہیں پوچھتے؟ ہم نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنسے ہیں؟ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس بندے نے جب کہا کہ اے اللہ ! تو تو ربّ العزت ہے، تو میرے ساتھ مذاق کیوں کرتا ہے؟ تو اس کی بات سن کر اللہ تعالیٰ مسکرا دیئے۔
Takhreej
(۱۳۲۴۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۷ (انظر: ۳۷۱۴)
13240
Sahih
اہل ِ توحید میں سے جہنم سے سب سے آخر میں رہائی پانے والا اور سب سے آخر میں جنت میں جانے والے کا تذکرہ
۔ (۱۳۲۴۱)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَخْرُجُ مِنَ النَّارِ اَرْبَعَۃٌ،یُعْرَضُوْنَ عَلٰی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَیَاْمُرُ بِہِمْ اِلَی النَّارِ، فَیَلْتَفِتُ اَحَدُھُمْ فَیَقُوْلُ: اَیْ رَبِّ قَدْ کُنْتُ اَرْجُوْ اِنْ اَخْرَجْتَنِیْ مِنْہَا اَنْ لَّا تُعِیْدَنِیْ فِیْہَا، فَیَقُوْلُ: فَلَا نُعِیْدُکَ فِیْہَا۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۴۶)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار آدمیوں کو جہنم سے نکال کر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ پھر ان کو جہنم کی طرف واپس لے جانے کا حکم دے گا۔ ان میں سے ایک آدمی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر عرض کرے گا: اے میرے ربّ ! مجھے توا مید تھی کہ جب تو مجھے جہنم سے نکال دے گا تو دوبارہ اس میں نہیں لوٹائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ٹھیک ہے، ہم تجھے دوبارہ اس میں نہیں بھیجتے۔
Takhreej
(۱۳۲۴۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۲ (انظر: ۱۳۳۱۳)
13241
Sahih
اہل ِ توحید میں سے جہنم سے سب سے آخر میں رہائی پانے والا اور سب سے آخر میں جنت میں جانے والے کا تذکرہ
۔ (۱۳۲۴۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ عَبْدًا فِیْ جَہَنَّمَ لَیُنَادِیْ اَلْفَ سَنَۃٍ: یَا حَنَّانُ! یَا مَنَّانُ! قَالَ: فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِجِبْرِیْلَ: اِذْھَبْ فَائْتِنِیْ بِعَبْدِیْ ہٰذَا، فَیَنْطَلِقُ جِبْرِیْلُ فَیَجِدُ اَھْلَ النَّارِ مُکِبِّیْنَیَبْکُوْنَ، فَیَرْجِعُ اِلٰی رَبِّہِ فَیُخْبِرُہُ فَیَقُوْلُ: اِئْتِنِیْ بِہٖفِیْ مَکَانِ کَذَا وَکَذَا، فَیَجِیْئُ بِہٖفَیُوْقِفُہُ عَلٰی رَبِّہِ عَزَّوَجَلَّ فَیَقُوْلُ لَہُ: یَا عَبْدِیْ کَیْفَ وَجَدْتَّ مَکَانَکَ وَمَقِیْلَکَ، فَیَقُوْلُ: اَیْ رَبِّ شَرَّ مَکَانٍ وَشَرَّ مَقِیْلٍ فَیَقُوْلُ: رُدُّوْا عَبْدِیْ فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ مَا کُنْتُ اَرْجُوْا اِذَا اَخْرَجْتَنِیْ مِنْہَا اَنْ تَرُدَّنِیْ فِیْہَا فَیَقُوْلُ: دَعُوْا عَبْدِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۴۴۴)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک بندہ جہنم میںایک ہزار سال تک ان الفاظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارتا رہے گا: یَا حَنَّانُ! یَا مَنَّانُ!، بالآخراللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا: جاؤ اورمیرے اس بندے کو میرے پاس لے آؤ، جب وہ وہاں جا کر دیکھیں گے کہ جہنمی تو منہ کے بل پڑے رو رہے ہوں گے، وہ واپس آجائیں گے اور آ کر اللہ تعالیٰ کو یہ صورتحال بتائیں گے، لیکن اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فلاں جگہ میں پڑے ہوئے میرے بندے کو لے آؤ، پس وہ اسے لا کر اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کر دیں گے، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: اے میرے بندے! تو نے اپنی جگہ اور ٹھکانے کو کیسا پایا؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے ربّ! بہت بری جگہ ہے، بدترین ٹھکانہ ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فرشتو! میرے بندے کو وہیں واپس لے جاؤ، وہ عرض کرے گا : اے میرے ربّ! مجھے تو یہ امید نہیں تھی کہ جب تو مجھے جہنم سے نکال لے گا تو دوبارہ اس میں بھیج دے گا، یہ سن کر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے بندے کو چھوڑ دو۔
Takhreej
(۱۳۲۴۲) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، ابو ظلال ھلال بن ابی ھلال القسملی مجمع علی ضعفہ، أخرجہ ابویعلی: ۴۲۱۰، والبیھقی فی الاسماء والصفات : ص ۸۴، وابن خزیمۃ فی التوحید : ۲/ ۷۴۹ (انظر: ۱۳۴۱۱)
13242
Zaeef
وہ امور جن میں مسلمانوں کی اولاد اور کافروں کی اولاد کاایک ہی حکم ہے
۔ (۱۳۲۴۳)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَاَلَتْ خَدِیْجَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ وَلَدَیْنِ مَاتَا لَھَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھُمَا فِی النَّارِ۔)) قَالَ: فَلَمَّا رَاٰی الْکَرَاھِیَۃَ فِیْ وَجْہِہَا قَالَ: ((لَوْ رَاَیْتِ مَکَانَہُمَا لَاَبْغَضْتِہِمَا۔)) قَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَوَلَدِیْ مِنْکَ قَالَ: ((فِی الْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْمُوْمِنِیْنَ وَاَوْلَادَھُمْ فِی الْجَنَّۃِ،وَاِنَّ الْمُشْرِکِیْنَ وَاَوْلَادَھُمْ فِی النَّارِ۔)) ثُمَّ قَرَاَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَابِھِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ} [الطور: ۲۱]۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۱)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے ان دو بچوں کے انجام کے بارے میں پوچھا جو دورِ جاہلیت میں مر گئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جہنم میں جائیں گے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے چہرے پر پریشانی کے آثار محسوس کیے تو فرمایا: اگر تم ان کا ٹھکانہ دیکھ لو تو تم بھی ان سے نفرت کرنے لگو گی۔ پھر انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میری جو اولاد آپ سے ہوئی ہے، اس کا انجام؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جنت میں جائے گی، بیشک اہل ِ ایمان اور ان کی اولادیں جنت میں جائیں گی اور مشرکین اور ان کی اولادیں جہنم میں جائیں گی۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَابِھِمْ ذُرِّیَّتَہُم} (اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان لانے میں ان کی پیروی کی تو ہم ان کی اولاد کو (جنت میں)ان سے ملا دیں گے۔) (سورۂ طور: ۲۱)
Takhreej
(۱۳۲۴۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ محمد بن عثمان(انظر: ۱۱۳۱)
13243
Zaeef
وہ امور جن میں مسلمانوں کی اولاد اور کافروں کی اولاد کاایک ہی حکم ہے
۔ (۱۳۲۴۴)۔ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَتٰی عَلَیَّ زَمَانٌ وَاَنَا اَقُوْلُ: اَوْلَادُ الْمُسْلِمِیْنَ مَعَ الْمُسْلِمِیْنَ ، وَاَوْلَادُ الْمُشْرِکِیْنَ مَعَ الْمُشْرِکِیْنَ، حَتّٰی حَدَّثَنِیْ فُلَانٌ عَنْ فُلَانٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : سُئِلَ عَنْہُمْ فَقَالَ: ((اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا عَامِلِیْنَ۔)) قَالَ: فَلَقِیْتُ الرَّجُلَ، فَاَخْبَرَنِیْ، فَاَمْسَکْتُ عَنْ قَوْلِیْ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۷۳)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ پر ایک ایسا دور بھی رہا کہ جس میں میں یہ فتوی دیا کرتا تھا کہ آخرت میں مسلمانوں کی اولاد مسلمانوں کے ساتھ اورمشرکوں کی اولادمشرکوں کے ساتھ ہوں گی، یہاں تک کہ فلاں آدمی نے فلاں آدمی کے حوالے سے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جب ان کی اولادوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ انھوں نے کون سے عمل کرنے تھے؟ پھر میں یہ حدیث بیان کرنے والے اُس آدمی کو جا کر ملا، اس نے مجھے اس حدیث کی خبردی، پھر میں نے اپنی پہلی بات کہنا چھوڑ دی۔
Takhreej
(۱۳۲۴۴) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرج المرفوع منہ البخاری: ۶۵۹۷، ومسلم: ۲۶۶۰(انظر: ۲۰۶۹۷)
13244
Sahih

Chapters

33
01
جنت اور جہنم کا تذکرہ جنت اور جہنم والوں کا بیان
6 Hadith
02
جنت اور جہنم کا تکرار
2 Hadith
03
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمان: جنت کو ناپسندیدہ امور سے گھیرا گیا ہے…
3 Hadith
04
اہل ِ جہنم کی بدبختی اور اہل جنت کی نعمتوں کا بیان
4 Hadith
05
جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے اور اس سے جنت کا سوال کرنے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ دونوں انسان کے تسمے سے زیادہ قریب ہیں
2 Hadith
06
اس کی گرمی اور اس کے زمہریر کی ٹھنڈک کا بیان
4 Hadith
07
جہنم کی گہرائی، اس کی وادیوں اور عذاب کے ذرائع کا بیان ، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
6 Hadith
08
جہنم کی وسعت اور اس کی دیواروں کا بیان
2 Hadith
09
قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن کا ظہور اور جہنم کا کہنا کہ کیا مزید افراد ہیں
3 Hadith
10
جہنم سے ڈرانے کا بیان
4 Hadith
11
جہنم والوں اور ان کی صفات کا بیان
8 Hadith
12
اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان
8 Hadith
13
ابلیس اور اس کی اولاد کے عذاب کی کیفیت اور ان کا ہلاکتوں کو پکارنے کابیان
1 Hadith
14
اہل ِ توحید میں سے جہنم سے سب سے آخر میں رہائی پانے والا اور سب سے آخر میں جنت میں جانے والے کا تذکرہ
5 Hadith
15
وہ امور جن میں مسلمانوں کی اولاد اور کافروں کی اولاد کاایک ہی حکم ہے
5 Hadith
16
مشرکوں کی اولاد کا بیان
3 Hadith
17
اس امر کا بیان کہ ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، نیز پیدا ہونے والے ہر بچے کو شیطان کے چو کا دینے کا بیان
5 Hadith
18
اہل ِ اسلام کی اولادکے بارے میں
3 Hadith
19
اہلِ فترہ، بے شعور، بہرے اور انتہائی بوڑھے افراد کے انجام کا بیان
2 Hadith
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے والدین کا تذکرہ
4 Hadith
21
جنت کی نعمتوں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس قول کا بیان کہ اس میں وہ کچھ ہے جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا
4 Hadith
22
جنت کی عمارت، مٹی، کمروں اور خیموں کا تذکرہ
7 Hadith
23
جنت کے درختوں، پرندوں اور نہروں کی کیفیت کا تذکرہ
7 Hadith
24
جنت کے بازار ، جنتی عورتوں کی صفات اور جنت میں موتی آنکھوں والی حوروں کے گاہنے کا بیان
5 Hadith
25
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
9 Hadith
26
جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے لوگوں اور ان کی صفات کا تذکرہ
8 Hadith
27
حساب کتاب کے بغیر جنت میں جانے والوں کی تعداد اور ان کی صفات کا بیان
6 Hadith
28
سب سے کم درجہ والے اور سب سے بلند درجہ والے جنتی کے انعامات کا بیان
5 Hadith
29
اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
11 Hadith
30
جو جنتی جنت میں جس چیز کی خواہش کرے گا، وہ اسے مل جائے گی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور جنت میں ہر وہ چیز مہیا ہوگی جسے دل چاہیں گے اور آنکھیں پسند کریں گی۔
3 Hadith
31
اہل جنت پر اللہ تعالیٰ کی رضا مندی، اور یہی چیز اہل جنت پر سب سے بڑی نعمت ہوگی
1 Hadith
32
موت کو ذبح کر دینے اور جہنمیوں کا ہمیشہ جہنم میں رہنے اور جنتیوں کا ہمیشہ جنت میں رہنے کا بیان
5 Hadith
33
اہل ایمان کا جنت میں اپنے ربّ کا دیدار کرنا اور یہ سب سے بڑی نعمت ہو گی، جو اللہ تعالیٰ ان کو عطا کرے گا، اللہ ہمیں اس سے محروم نہ رکھے (آمین)نیز اس باب میں موقف سے موت کے ذبح ہونے تک کے ابواب کی تلخیص بھی ہے
6 Hadith
No chapter matched that.