TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل - جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل - Book 177 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 177 of Musnad Ahmad, with 33 chapters and 157 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

157 Hadith · 33 Chapters
حساب کتاب کے بغیر جنت میں جانے والوں کی تعداد اور ان کی صفات کا بیان
۔ (۱۳۳۰۵)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ بَکْرِ نِ السَّہْمِیُّ ثَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مِہْرَانَ عَنْ مُوْسٰی بْنِ عُبَیْدٍ عَنْ مَیْمُوْنِ بْنِ مِہْرَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ رَبِّیْ اَعْطَانِیْ سَبْعِیْنَ اَلْفًا مِّنْ اُمَّتِیْیَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ۔)) فَقَالَ عُمَرُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَہَلَّا اِسْتَزَدْتَّہُ، قَالَ: ((قَدِ اسْتَزَدْتُّہُ فَاَعْطَانِیْ مَعَ کُلِّ رَجُلٍ سَبْعِیْنَ اَلْفًا۔)) قَالَ عُمَرُ: فَہَلَّا اِسْتَزَدْتَّہُ، قَالَ: ((قَدِ اسْتَزَدْتُّہُ فَاَعْطَانِیْ ہٰکَذَا۔)) وَفَرَّجَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بَکْرٍ بَیْنَیَدَیْہِ وَقَالَ عَبْدُاللّٰہِ: وَبَسَطَ بَاعَیْہِ وَحَثَا عَبْدُ اللّٰہِ، وَقَالَ ہِشَامٌ: وَہٰذَا مِنَ اللّٰہِ لَایُدْرٰی مَا عَدَدُہُ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۶)
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ربّ نے مجھ سے وعدہ کیا کہ میری امت کے سترہزر افراد بغیر حساب و کتاب کے جنت میںجائیں گے۔ یہ سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس تعداد میں مزید اضافے کی درخواست کیوں نہیں کی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے مزید اضافے کی درخواست کی تھی اوراللہ تعالیٰ نے ان ستر ہزار میں سے ہر فرد کے ساتھ ستر ستر ہزار آدمی بھیجنے کا وعدہ کیا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مزید اضافے کی درخواست کیوں نہیں کی تھی؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میںنے درخواست کی تھی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے دو بازوؤں کو پھیلا کر اشارہ کر کے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مزید اتنے افراد کو بھی بغیر حساب کتاب جنت میں بھیجنے کا وعدہ کیا۔ امام احمد کے شیخ عبد اللہ بن بکر نے اپنے دونوں ہاتھوں کو سامنے کی طرف پھیلاکر اور عبد اللہ بن امام احمد نے اپنے پہلوؤں کی طرف دونوں بازوؤں کو پھیلا کر ان کو بھرنے کا اشارہ کیا۔ ہشام نے کہا: یہ تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، کوئی نہیں جانتا کہ اس کی تعداد کتنی ہو گی۔
Takhreej
(۱۳۳۰۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، القاسم بن مھران لا یعرف، وموسی بن عبید مجھول،وقولہ: اِنَّ رَبِّیْ اَعْطَانِیْ سَبْعِیْنَ اَلْفًا مِّنْ اُمَّتِیْ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ لہ شواھد، أخرجہ البزار: ۳۵۴۶ (انظر: ۱۷۰۶)
13305
Zaeef
حساب کتاب کے بغیر جنت میں جانے والوں کی تعداد اور ان کی صفات کا بیان
۔ (۱۳۳۰۶)۔ وَعَنْ اَبِیْ بَکْرِ نِ الصِّدِّیْقِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُعْطِیْتُ سَبْعِیْنَ اَلْفًا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ وُجُوْہُہُمْ کَالْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ وَقُلُوْبُہُمْ عَلٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ فَاسْتَزَدْتُّ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ فَزَادَنِیْ مَعَ کُلِّ وَاحِدٍ سَبْعِیْنَ اْلَفًا۔)) قَالَ اَبُوْبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: فَرَأَیْتُ اَنَّ ذٰلِکَ اَتٰی عَلٰی اَھْلِ الْقُرٰی وَمُصِیْبٌ مِنْ حَافَّاتِ الْبَوَادِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۲)
ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: : میری امت کے ستر ہزار افراد بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے‘ ان کے چہرے بدر والی رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے اور ان کے دل ایک انسان کے دل کی مانند ہوں گے۔ جب میں نے اپنے ربّ سے مزید مطالبہ کیا تو اس نے ہر ایک کے ساتھ مزید ستر ہزار افراد کا اضافہ کر دیا۔ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ چیز تو بستیوں والوں پر آئے گی اور دیہاتوں کے کناروں تک پہنچ جائے گی۔
Takhreej
(۱۳۳۰۶) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ ابویعلی: ۱۱۲ (انظر: ۲۲)
Explanation
فوائد:… بغیر حساب وکتاب کے جنت میں داخل ہونے والوں کی تفصیلی تعداد درج ذیل ہے، تمام احادیث کو اس بحث کی روشنی میں سمجھیں: مذکورہ بالا حدیث کے مطابق چار ارب، نوے کروڑ اور ستر ہزار (۰۰۰،۷۰،۰۰،۹۰،۴) افراد حساب وکتاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔ (سبحان اللہ)یہ کون لوگ ہیں؟ ان کی صفات کیا ہیں؟ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ پر سابقہ امتیں پیش کی گئیں، … …۔ پس میں نے ایک بہت بڑا لشکر دیکھا، جبریل نے مجھے کہا: یہ آپ کی امت ہے اور ان کے سامنے جو ستر ہزار افراد ہیں، ان کا کوئی حساب و کتاب نہیں ہے۔ میں نے کہا: اس کی کیا وجہ ہے؟ اس نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں، جو نہ داغ لگواتے ہیں، نہ دم کرواتے ہیں، نہ برا شگون لیتے ہیں اور صرف اپنے ربّ پر توکل کرتے ہیں۔ (بخاری: ۶۵۴۱، مسلم: ۲۲۰) ہماری شریعت میں دم کروانا ،زخم پر داغ لگانا اور علاج کروانا جائز ہے، لیکن توکل کی اعلی قسم یہ ہے کہ ان سے بھی گریز کرتے ہوئے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے۔ یعنی جس نے بیماری لگائی، وہی دور کرے گا۔ (۰۰۰،۷۰،۰۰،۹۰،۴) افراد کے علاوہ اللہ کریم کی تین مٹھیاں بھی ہوں گی، جیسا کہ اس باب کی آخری حدیث سے پتہ چل رہا ہے، معلوم نہیں اللہ تعالیٰ کی مٹھی میں کتنے لوگ سما جائیں گے۔ جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنْھُمْ۔
13306
Sahih
حساب کتاب کے بغیر جنت میں جانے والوں کی تعداد اور ان کی صفات کا بیان
۔ (۱۳۳۰۷)۔ وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((سَاَلْتُ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ فَوَعَدَنِیْ اَنْ یُّدْخِلَ مِنْ اُمَّتِیْ سَبْعِیْنَ اَلْفًا عَلٰی صُوْرَۃِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدَرِ فَاسْتَزَدْتُّ فَزَادَنِیْ مَعَ کُلِّ اَلْفٍ سَبْعِیْنَ اَلْفًا فَقُلْتُ: اَیْ رَبِّ! اِنْ لَّمْ یَکُنْ ھٰوُلَائِ مُہَاجِرِیْ اُمَّتِیْ، قَالَ: اِذَنْ اُکْمِلُہُمْ لَکَ مِنَ الْاَعْرَابِ۔)) (مسند احمد: ۸۶۹۲)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ سے درخواست کی اور اس نے میرے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار افراد کو جنت میں داخل کرے گا، ان افراد کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح منور ہوں گے، جب میںنے اس تعداد میں اضافے کی درخواست کی تو اس نے اس تعداد کے ہر فرد کے ساتھ ستر ستر ہزار کا مزید اضافہ کر دیا، میں نے کہا: اے میرے رب! اگر میری امت کے مہاجرین کی تعداد اس قدر نہ ہوئی تو؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں پھر عام دیہاتیوں سے اس عدد کو پورا کر د وں گا۔
Takhreej
(۱۳۳۰۷) تخریج: صحیح دون قولہ: فاستزدت فزادنی … ویغلب علی الظن ان ھذا الحدیث من مناکیر زھیر بن محمد (انظر: ۸۷۰۷)
13307
Sahih
حساب کتاب کے بغیر جنت میں جانے والوں کی تعداد اور ان کی صفات کا بیان
۔ (۱۳۳۰۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَدْخُلُ سَبْعُوْنَ اَلْفًا مِنْ اُمَّتِیَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: اُدْعُ اللّٰہَ اَنْ یَجَعَلَنِیْ مِنْہُمْ، فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہُ مِنْہُمْ۔)) ثُمَّ قَامَ آخَرُ، فَقَالَ: اُدْعُ اللّٰہَ اَنْ یَّجْعَلَنِیْ مِنْہُمْ، فَقَالَ: ((سَبَقَکَ بِہَا عُکَاشَۃُ۔)) (مسند احمد: ۸۰۰۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ستر ہزار افراد بغیر حساب وکتاب کے جنت میں جائیں گے۔ ایک آدمی نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے ان لوگوں میں شامل کر دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے حق میں یہ دعا کی: یا اللہ! اس کو ان لوگوں میں شامل کر دے۔ اس کے بعد ایک اور آدمی نے کھڑا ہوا اور کہا: آپ میرے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیں کہ وہ مجھے بھی ان لوگوں میں شامل کر لے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عکاشہ تجھ سے سبقت لے گیا ہے۔
Takhreej
(۱۳۳۰۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۵۴۲، ومسلم: ۲۱۶(انظر: ۸۰۱۶)
13308
Sahih
حساب کتاب کے بغیر جنت میں جانے والوں کی تعداد اور ان کی صفات کا بیان
۔ (۱۳۳۰۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ اُمَّتِیْ زُمْرَۃٌ ھُمْ سَبْعُوْنَ اَلْفًا تُضِیْئُ وُجُوْھُہُمْ اِضَائَ ۃَ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ۔)) فَقَالَ اَبُوْ ھُرَیْرَۃُ: فَقَامَ عُکَاشَۃُ بْنُ مِحْصَنِ نِ الْاَسْدِیُّ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) یَرْفَعُ نَمِرَۃً عَلَیْہِ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اُدْعُ اللّٰہَ اَنْ یَّجْعَلَنِیْ مِنْہُمْ، فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہُ مِنْہُمْ۔)) ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِّنَ الْاَنْصَارِ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اُدْعُ اللّٰہَ اَنْ یَّجْعَلَنِیْ مِنْہُمْ قَالَ: ((سَبَقَکَ عُکَاشَۃُ۔)) (مسند احمد: ۹۱۹۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ستر ہزار افراد کی ایک جماعت جنت میںاس حال میں جائے گی کہ ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی چادر کو سنبھالتے ہوئے کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان لوگوں میں شامل کر دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے لے یوں دعا کی: اے اللہ! اسے ان لوگوں میں شامل کر دے۔ اس کے بعد ایک انصاری آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان لوگوں میں شامل کر دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عکاشہ تم سے سبقت لے گیا ہے۔
Takhreej
(۱۳۳۰۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
13309
Sahih
حساب کتاب کے بغیر جنت میں جانے والوں کی تعداد اور ان کی صفات کا بیان
۔ (۱۳۳۱۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَعَدَنِیْ اَنْ یُّدْخِلَ مِنْ اُمَّتِیَ الْجَنَّۃَ سَبْعِیْنَ اَلْفًا بِغَیْرِ حِسَابٍ۔)) فَقَالَ یَزِیْدُ بْنُ الْاَخْنَسِ السُّلَمِیُّ: وَاللّٰہِ! مَا اُولٰئِکَ فِیْ اُمَّتِکَ اِلَّا کَالذُّبَابِ الْاَصْہَبِ فِی الذُّبَابِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَانَ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ قَدْ وَعَدَنِیْ سَبْعِیْنَ اَلْفًا مَعَ کُلِّ اَلْفٍ سَبْعِیْنَ اَلْفًا وَزَادنِیْ ثَلَاثَ حَثَیَاتٍ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ مِنْ حَثَیَاتِ الرَّبِّ)۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۰۸)
سیدناابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار افراد کو بلا حساب جنت میں داخل فرمائے گا۔ یہ سن کر سیدنا یزید بن اخنس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تعداد تو آپ کی امت میں ایسے ہی ہے، جیسے عام مکھیوں میں زرد رنگ کی مکھیوںکی قلیل سی تعداد ہوتی ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ربّ نے میرے ساتھ ستر ہزار کا وعدہ کیا اور ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار کا بھی وعدہ کیا اور اس پر مستزاد یہ کہ اللہ تعالیٰ کے تین چلو اس تعداد کے علاوہ ہیں۔
Takhreej
(۱۳۳۱۰) تخریج: صحیح، أخرجہ ابن حبان: ۶۴۵۷، والطبرانی فی الکبیر : ۷۶۷۲ (انظر: ۲۲۱۵۶)
13310
Sahih
سب سے کم درجہ والے اور سب سے بلند درجہ والے جنتی کے انعامات کا بیان
۔ (۱۳۳۱۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَدْنٰی مَقْعَدِ اَحَدِکُمْ مِنَ الْجَنَّۃِ اَنْ یَّقُوْلَ تَمَنَّ وَیَتَمَنّٰی فَیَقُوْلُ لَہُ: ھَلْ تَمَنَّیْتَ؟ فَیَقُوْلُ: نَعَمْ، فَیَقُوْلُ لَہُ: فَاِنَّ لَکَ مَا تَمَنَّیْتَ وَمِثْلَہُ مَعَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۱۵۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی جنت میں سب سے کم درجہ والا ہو گا، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: تو جو کچھ مانگنا چاہتا ہے، اس کی تمنا کر، وہ آدمی تمناکرے گا، پھراللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: کیا تو نے تمنا کر لی ہے؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں، پھر اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: تو نے جو تمنا کی ہے، تجھے وہ کچھ بھی ملے گا اور اس جتنا مزید بھی۔
Takhreej
(۱۳۳۱۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۲ (انظر: ۸۱۶۸)
13311
Sahih
سب سے کم درجہ والے اور سب سے بلند درجہ والے جنتی کے انعامات کا بیان
۔ (۱۳۳۱۲)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَدْنٰی اَھْلِ الْجَنَّۃِ مَنْزِلَۃً لَیَنْظُرُ فِیْ مُلْکِہٖاَلْفَیْ سَنَۃٍیَرٰی اَقْصَاہُ کَمَا یَرٰی اَدْنَاہُ یَنْظُرُ فِیْ اَزْوَاجِہٖوَخَدَمِہٖ،وَاِنَّاَفْضَلَہُمْمَنْزِلَۃً لَیَنْظُرُ فِیْ وَجْہِ اللّٰہِ تَعَالٰی کُلَّ یَوْمٍ مَرَّتَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۴۶۲۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل جنت میں سے سب سے کم مرتبے والا آدمی اپنے ملک میں دو ہزار سال کے عرصہ میں محض ایک بار نظر ڈال سکے گا، وہ دور والے مقامات کو بھی اسی طرح دیکھے گا جیسے قریب والی جگہ کو دیکھے گا، اسی طرح وہ اپنی بیویوں اور خادموں کو دیکھے گا اور اہل جنت میں سے اعلیٰ ترین درجے والے جنتی وہ ہو گا جو روزانہ دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کرے گا۔
Takhreej
(۱۳۳۱۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، ثویر بن ابی فاختۃ ضعفہ ابن معین و ابو زرعۃ وابو حاتم وغیرھم، وقال الدارقطنی وعلی بن جنید: متروک، أخرجہ الترمذی : ۲۵۵۳،۳۳۳۰ (انظر: ۴۶۲۳)
13312
Zaeef
سب سے کم درجہ والے اور سب سے بلند درجہ والے جنتی کے انعامات کا بیان
۔ (۱۳۳۱۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) رَفَعَہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اَدْنٰی اَھْلِ الْجَنَّۃِ مَنْزِلَۃً اَلَّذِیْیَنْظُرُ اِلٰی جِنَانِہٖوَنَعِیْمِہٖ وَخَدَمِہٖوَسُرُرِہٖمِنْمَسِیْرَۃِ اَلْفِ سَنَۃٍ، اِنَّ اَکْرَمَہُمْ عَلٰی اللّٰہِ مَنْیَّنْظُرُ اِلٰی وَجْہِہٖغُدْوَۃً وَعَشِیَّۃً ثُمَّ تَلَاہٰذِہِ الْاَیَۃَ {وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ}۔ (مسند احمد: ۵۳۱۷)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل جنت میں سب سے کم درجہ والا جنتی ایک ہزار سال کی مسافت سے اپنے باغات، نعمتوں ، خادموں اور تختوں کودیکھے گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ معزز وہ جنتی ہوگا جو ہر صبح شام کو اللہ تعالیٰ کا دیدار کرے گا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ} (اس دن بہت سے چہرے پر رونق ہوں گے اور اپنے ربّ کا دیدار کر رہے ہوں گے۔) (سورۂ قیامہ: ۲۲،۲۳)
Takhreej
(۱۳۳۱۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
13313
Zaeef
سب سے کم درجہ والے اور سب سے بلند درجہ والے جنتی کے انعامات کا بیان
۔ (۱۳۳۱۴)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَدْنٰی اَھْْلِ الْجَنَّۃِ مَنْزِلَۃً مَنْ یَّتَمَنّٰی عَلٰی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَیُقَالُ: لَکَ ذٰلِکَ وَمِثْلُہُ مَعَہُ اِلَّا اَنَّہُ یُلَقَّنُ فَیُقَالُ لَہُ: کَذَا وَکَذَا، فَیُقَالُ: لَکَ ذٰلِکَ وَمِثْلُہُ۔)) فَقَالَ اَبُوْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌): قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَیُقَالُ: لَکَ ذٰلِکَ وَعَشْرَۃُ اَمْثَالِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۹۸۱۴)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل جنت میں سب سے کم درجے والا شخص وہ ہو گا جو اللہ تعالیٰ پر تمنائیں کرے گا اور اس سے کہا جائے گا: یہ سب کچھ تیرے لیے ہے، بلکہ اتنا مزید بھی دیا جاتا ہے، پھر اسے یہ لقمہ دیا جائے گا کہ فلاں فلاں چیز بھی مانگ لے ۔ پھر اسے کہاجائے گا یہ سب کچھ تجھے دیا جاتا ہے اور اس کا ایک گنا مزید بھی عطا کیا جاتا ہے۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے کہا جائے گا کہ یہ سب کچھ تجھے دیا جا رہا ہے، بلکہ اس کے ساتھ اس کا دس گنا مزید بھی دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۱۳۳۱۴) تخریج: أخرجہ مطولا البخاری: ۶۵۷۳، مسلم: ۱۸۲ (انظر: ۹۸۱۵)
13314
Sahih
سب سے کم درجہ والے اور سب سے بلند درجہ والے جنتی کے انعامات کا بیان
۔ (۱۳۳۱۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَدْنٰی اَھْلِ الْجَنَّۃِ مَنْزِلَۃً اَنَّ لَہُ لَسَبْعَ دَرَجَاتٍ وَھُوَ عَلٰی السَّادِسَۃِ وَفَوْقَہُ السَّابِعَۃُ وَاِنَّ لَہُ لَثَلٰثُمِائَۃِ خَادِمٍ وَیُغْدٰی عَلَیْہِ وَیُرَاحُ کُلَّ یَوْمٍ ثَلٰثُمِائَۃِ صَحْفَۃٍ وَلَااَعْلَمُہُ اِلَّا قَالَ: مِنْ ذَھَبٍ فِیْ کُلِّ صَحْفَۃٍ لَوْنٌ لَیْسَ فِی الْاُخْرٰی، وَاِنَّہ لَیَلَذُّ اَوَّلُہُ کَمَا یَلَذُّ آخِرُہُ وَاِنَّہُ لَیَقُوْلُ: یَارَبِّ! لَوْ اَذِنْتَ لِیْ لَاَطْعَمْتُ اَھْلَ الْجَنَّۃِ وَلَسَقَیْتُہُمْ لَمْ یَنْقُصْ مِمَّا عِنْدِیْ شَیْئٌ وَاِنَّ لَہُ لَاِثْنَتَیْنِ وَسَبْعِیْنَ زَوْجَۃً سِوٰی اَزْوَاجِہٖمِنَالدُّنْیَا وَاِنَّ الْوَاحِدَۃَ مِنْہُمْ لِیَأْخُذُ مَقْعَدُھا قَدْرَ مِیْلٍ مِنَ الْاَرْضِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۴۵)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے کم مرتبے والے جنتی کے سات درجات ہوںگے، وہ چھٹے درجے پر ہو گا اور اس سے اوپر ساتواں ہوگا، اس کے تین سو خادم ہوں گے، صبح شام سونے کے تین سو برتن اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور ہر برتن میں ایسا کھانا ہوگا جو دوسرے برتن میں نہیں ہوگا اور اس کا پہلا حصہ جتنا لذید ہو گا، اس کا آخری بھی اتنا ہی مزیدار ہو گا۔وہ کہے گا: اے میرے ربّ! اگر تو مجھے اجازت دے اور میں اہل جنت کو کھانا پیش کروں اور مشروبات پلاؤں، اس سے میری نعمتوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی، نیز اسے دنیا والی بیویوں کے علاوہ بہتر جنتی بیویاں ملیں گی، ان میں سے ایک ایک بیوی کے بیٹھنے کی جگہ ایک میل زمین کے برابر ہوں گی۔
Takhreej
(۱۳۳۱۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شھر بن ھوشب، وسُکین بن عبد العزیز فیہ کلام (انظر: ۱۰۹۳۲)
Explanation
فوائد:… جنت میں اہل ِ جنت کے مراتب اور مختلف درجے ہوںگے، ان میں سے بعض بہت اعلیٰ درجات پر فائز ہوںگے، بعض ان سے نیچے اور بعض ان سے بھی نیچے ہوں گے، لیکن کسی کو اپنی کمی یا حقارت کا احساس نہیں ہوگا۔
13315
Zaeef
اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
۔ (۱۳۳۱۶)۔ عَنْ عِیَاضِ بْنِ حِمَارٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَھْلُ الْجَنَّۃِ ثَلَاثَۃٌ ذُوْ سُلْطَانٍٍ مُقْسِطٌ مُتَصَدِّقٌ مُوَفَّقٌ، وَرَجُلٌ رَحِیْمٌ رَقِیْقُ الْقَلْبِ بِکُلِّ ذِیْ قُرْبٰی وَمُسْلِمٍ ، وَرَجُلٌ عَفِیْفٌ فَقِیْرٌ مُتَصَدِّقٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۲۳)
سیدنا عیاض بن حمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین قسم کے لوگ جتنی ہیں: (۱) وہ بادشاہ جو عادل ہو، صدقہ کرتا ہو اور اسے خاص توفیق سے نوازا گیا ہو،(۲) وہ آدمی جو مہربان اور ہر رشتہ دار اور ہر مسلمان کے حق میں نرم دل والا ہو اور(۳) وہ پاکدامن آدمی جو فقیر ہو، لیکن پھر بھی صدقہ کرتا ہو۔
Takhreej
(۱۳۳۱۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۶۵(انظر: ۱۷۴۸۴)
Explanation
فوائد:… ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ دور کی مادہ پرستی اور ظاہر پرستی سے بالا تر ہو کر جنتی لوگوں کی صفات سے متصف ہونے کی کوشش کی جائے۔
13316
Sahih
اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
۔ (۱۳۳۱۷)۔ وَعَنْ حَسْنَائَ ابْنَۃِ مُعَاوِیَۃَ الصَّرِیْمِیَّۃِ عَنْ عَمِّہَا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ فِی الْجَنَّۃِ؟ قَالَ: ((اَلنَّبِیُّ فِی الْجَنَّۃِ، وَالشَّہِیْدُ فِی الْجَنَّۃِ، وَالْمَوْلُوْدُ فِی الْجَنَّۃِ، وَالْمَوْؤُدَۃُ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۵۹)
بنو صریم کی خاتون حسناء بنت معاویہ اپنے چچا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتی ہے، وہ کہتے ہیں:میںنے کہا: اے اللہ کے رسول! کون لوگ جنتی ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نبی جنتی ہے، شہید جنتی ہے، بچہ جنتی ہے اور زندہ در گور کی گئی لڑکی جنتی ہے۔
Takhreej
(۱۳۳۱۷) تخریج: صحیح بالشواھد ، أخرجہ ابوداود: ۲۵۲۱ (انظر: ۲۰۵۸۳)
Explanation
فوائد:… بچوں کے جنتی ہونے کی وضاحت (۱۳۲۵۰) کے فوائد اور اس کے بعد والے ابواب میں ہو چکی ہے۔
13317
Sahih
اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
۔ (۱۳۳۱۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ اَقْوَامٌ اَفْئِدَتُہُمْ مِثْلُ اَفْئِدَۃِ الطَّیْرِ۔)) (مسند احمد: ۸۳۶۴)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں وہ لوگ داخل ہوں گے، جن کے دل پرندوں کے دلوں جیسے نرم ہوںگے۔
Takhreej
(۱۳۳۱۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۴۰(انظر: ۸۳۸۲)
13318
Sahih
اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
۔ (۱۳۳۱۹)۔ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَھْلُ الْجَنَّۃِ عِشْرُوْنَ وَمِائَۃُ صَفٍّ، ہٰذِہِ الْاُمَّۃُ مِنْ ذٰلِکَ ثَمَانُوْنَ صَفًّا۔)) قَالَ اَبُوْعَبْدِالرَّحْمٰنِ: مَاتَ بِشْرُ بْنُ الْحَارِثِ وَاَبُو الْاَحْوَصِ وَالْھَیْثَمُ بْنُ خَارِجَۃَ فِیْ سَنَۃِ سَبْعٍ وَّعِشْرِیْنَ۔ (مسند احمد: ۲۳۴۴۹)
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی، ان میں سے اسی (۸۰) صفیں اس امت کے لوگوں کی ہوں گی۔
Takhreej
(۱۳۳۱۹) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۵۴۶، وابن ماجہ: ۴۲۸۹(انظر: ۲۳۰۶۱)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان اسی صفوں میں سے کسی صف میں کھڑا کر دے۔ (آمین)
13319
Sahih
اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
۔ (۱۳۳۲۰)۔ وَعَنْْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَدْخُلُ اَھْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ جُرْدًا مُرْدًا بِیْضًا جُعَادًا مُکْحَلِیْنَ اَبْنَائُ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِیْنَ عَلٰی خَلْقِ آدَمَ سِتُّوْنَ ذِرَاعًا فِیْ عَرْضِ سَبْعَۃِ اَذْرُعٍ۔)) (مسند احمد: ۷۹۲۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اہل جنت، جنت میں جائیں گے تو ان کے جسموں پر بال نہیں ہوں گے، اور وہ بے ریش نوجوان ، سفید رنگ، گھنگریالے بالوں والے اور سر مگیں آنکھوں والے ہوں گے، ان کی عمریں تینتیس برس کی اور قد آدم علیہ السلام کے قد کے برابر سا ٹھ ہاتھ اور جسم کی چوڑائی سات ہاتھ ہوگی۔
Takhreej
(۱۳۳۲۰) تخریج: ھدیث حسن بطرقہ وشواھدہ دون قولہ: فی عرض سبع اذرع فقد تفرد بھا علی بن زید بن جدعان، وھو ضعیف، أخرجہ الطبرانی فی الصغیر : ۸۰۸، وابن ابی شیبۃ: ۱۳/۱۱۴، والبیھقی فی البعث : ۴۱۹(انظر: ۷۹۳۳)
13320
Sahih
اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
۔ (۱۳۳۲۱)۔ وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُبْعَثُ الْمُوْمِنُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ جُرْدًا مُرْدًا مُکْحَلِیْنَ بَنِیْ ثَلَاثِیْنَ سَنَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۳۱)
سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اہل ایمان کو اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ وہ بے ریش ہوں گے، جسم پر بھی بال نہیں ہوں گے، آنکھیں سرمگیں ہوں گی اور عمریں تیس سال کی ہوں گی۔
Takhreej
(۱۳۳۲۱) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۲۵۴۵(انظر: ۲۲۰۸۱)
13321
Sahih
اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
۔ (۱۳۳۲۲)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَھْلُ الْجَنَّۃِیَاْکُلُوْنَ فِیْہَا وَیَشْرَبُوْنَ وَلَایَتَغَوَّطُوْنَ وَلَایَبُوْلُوْنَ وَلَایَتَمَخَّطُوْنَ وَلَایَبْزُقُوْنَ، طَعَامُہُمْ جُشَائٌ وَرَشْحٌ کَرَشْحِ الْمِسْکِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۵۴)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل جنت، جنت میں کھائیں گے اور پئیں گے، لیکن وہ پائخانہ کریں گے نہ پیشاب اور ان کے ناک سے فضلہ آئے گا نہ منہ سے تھوک، ان کا کھانا تو ایک ڈکار سے ہضم ہو جائے گا اور ان کا پسینہ کستوری کی خوشبو جیسا ہوگا۔
Takhreej
(۱۳۳۲۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۳۵ (انظر: ۱۴۴۰۱)
13322
Sahih
اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
۔ (۱۳۳۲۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَیَاْکُلُ اَھْلُ الْجَنَّۃِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ وَیَشْرَبُوْنَ وَلَایَبُوْلُوْنَ فِیْہَا وَلَایَتَغَوَّطُوْنَ وَلَا یَتَنَخَّمُوْنَ، اِنَّمَا یَکُوْنُ ذٰلِکَ جُشَائً وَرَشْحًا کَرَشْحِ الْمِسْکِ وَیُلْہَمُوْنَ التَّسْبِیْحَ وَالتَّحْمِیْدَ کَمَا تُلْہَمُوْنَ النَّفَسَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۷۵)
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ پوچھا گیا کہ آیا جنتی لوگ کچھ کھایا کریں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ کھائیں گے اورپئیں گے، لیکن نہ وہ پیشاب کریں گے، نہ پائخانہ کریں گے اور نہ ان کو بلغم آئے گی، ایک ڈکار سے ان کا کھانا ہضم ہوجائے گا، ان کا پسینہ کستوری کی طرح عمدہ اور خوش بو دار ہوگا اوراللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کرنے لیے ان کے دل میں یوں خیال ڈال دیا جائے گا، جیسے تمہارے دل میں سانس لینے کا خیال ڈالا گیا ہے۔
Takhreej
(۱۳۳۲۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
13323
Sahih
اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
۔ (۱۳۳۲۴)۔ وَعَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ مِنَ الْیَہُوْدِ فَقَالَ: یَااَبَاالْقَاسِمِ! اَلَسْتَ تَزْعُمُ اَنَّ اَھْلَ الْجَنَّۃِیَاْکُلُوْنَ فِیْہَا وَیَشْرَبُوْنَ؟ وَقَالَ لِاَصْحَابِہٖ: اِنْاَقَرَّلِیْ بِہٰذِہٖخَصَمْتُہُ،قَالَ: فَقَالَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَلٰی وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ اِنَّ اَحَدَھُمْ لَیُعْطٰی قُوَّۃَ مِائَۃِ رَجُلٍ فِی الْمَطْعَمِ وَالْمَشْرَبِ وَالشَّہْوَۃِ وَالْجِمَاعِ۔)) قَالَ: فَقَالَ لَہُ الْیَہُوْدِیُّ: فَاِنَّ الَّذِیْیَاْکُلُ وَیَشْرَبُ تَکُوْنُ لَہُ الْحَاجَۃُ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حَاجَۃُ اَحَدِھِمْ عِرْقٌ یَفِیْضُ مِنْ جُلُوْدِھِمْ مِثْلَ رِیْحِ الْمِسْکِ، فَاِذَا الْبَطْنُ قَدْ ضُمِّرَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۸۴)
سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں خدمت میں آیا اور اس نے پوچھا: اے ابوالقاسم! آپ یہ کہتے ہیں ناں کہ جنتی جنت میں کھائیں گے اور پئیں گے؟ وہ اپنے ساتھیوں سے کہہ چکا تھا کہ اگر محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دو باتوں کا اقرار کر لیا تو میں ان پر غالب آ جاؤں گا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا: ہاں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ایک ایک جنتی کو کھانے پینے اور شہوت و جماع کے سلسلے میں سو سو آدمیوں کے برابر قوت دی جائے گی۔ یہ سن کر یہودی نے کہا: تو پھرجو آدمی کھاتا پیتا ہے، اسے بول و براز کی حاجت بھی پیش آتی ہے؟رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کی یہ حاجت اس طرح پوری ہو جائے گی کہ ان کے جسموں سے پسینہ خارج ہوگا، جس کی خوشبو کستوری جیسی ہوگی، اسی سے ان کے پیٹ ہلکے ہو جایا کریں گے۔
Takhreej
(۱۳۳۲۴) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ النسائی فی الکبری : ۱۱۴۷۸، وابن حبان: ۷۴۲۴، والبزار: ۳۵۲۲، والبیھقی: فی البعث والنشور : ۳۵۲، والدارمی: ۲۸۲۵ (انظر: ۱۹۲۶۹)
13324
Sahih

Chapters

33
01
جنت اور جہنم کا تذکرہ جنت اور جہنم والوں کا بیان
6 Hadith
02
جنت اور جہنم کا تکرار
2 Hadith
03
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمان: جنت کو ناپسندیدہ امور سے گھیرا گیا ہے…
3 Hadith
04
اہل ِ جہنم کی بدبختی اور اہل جنت کی نعمتوں کا بیان
4 Hadith
05
جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے اور اس سے جنت کا سوال کرنے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ دونوں انسان کے تسمے سے زیادہ قریب ہیں
2 Hadith
06
اس کی گرمی اور اس کے زمہریر کی ٹھنڈک کا بیان
4 Hadith
07
جہنم کی گہرائی، اس کی وادیوں اور عذاب کے ذرائع کا بیان ، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
6 Hadith
08
جہنم کی وسعت اور اس کی دیواروں کا بیان
2 Hadith
09
قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن کا ظہور اور جہنم کا کہنا کہ کیا مزید افراد ہیں
3 Hadith
10
جہنم سے ڈرانے کا بیان
4 Hadith
11
جہنم والوں اور ان کی صفات کا بیان
8 Hadith
12
اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان
8 Hadith
13
ابلیس اور اس کی اولاد کے عذاب کی کیفیت اور ان کا ہلاکتوں کو پکارنے کابیان
1 Hadith
14
اہل ِ توحید میں سے جہنم سے سب سے آخر میں رہائی پانے والا اور سب سے آخر میں جنت میں جانے والے کا تذکرہ
5 Hadith
15
وہ امور جن میں مسلمانوں کی اولاد اور کافروں کی اولاد کاایک ہی حکم ہے
5 Hadith
16
مشرکوں کی اولاد کا بیان
3 Hadith
17
اس امر کا بیان کہ ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، نیز پیدا ہونے والے ہر بچے کو شیطان کے چو کا دینے کا بیان
5 Hadith
18
اہل ِ اسلام کی اولادکے بارے میں
3 Hadith
19
اہلِ فترہ، بے شعور، بہرے اور انتہائی بوڑھے افراد کے انجام کا بیان
2 Hadith
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے والدین کا تذکرہ
4 Hadith
21
جنت کی نعمتوں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس قول کا بیان کہ اس میں وہ کچھ ہے جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا
4 Hadith
22
جنت کی عمارت، مٹی، کمروں اور خیموں کا تذکرہ
7 Hadith
23
جنت کے درختوں، پرندوں اور نہروں کی کیفیت کا تذکرہ
7 Hadith
24
جنت کے بازار ، جنتی عورتوں کی صفات اور جنت میں موتی آنکھوں والی حوروں کے گاہنے کا بیان
5 Hadith
25
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
9 Hadith
26
جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے لوگوں اور ان کی صفات کا تذکرہ
8 Hadith
27
حساب کتاب کے بغیر جنت میں جانے والوں کی تعداد اور ان کی صفات کا بیان
6 Hadith
28
سب سے کم درجہ والے اور سب سے بلند درجہ والے جنتی کے انعامات کا بیان
5 Hadith
29
اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
11 Hadith
30
جو جنتی جنت میں جس چیز کی خواہش کرے گا، وہ اسے مل جائے گی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور جنت میں ہر وہ چیز مہیا ہوگی جسے دل چاہیں گے اور آنکھیں پسند کریں گی۔
3 Hadith
31
اہل جنت پر اللہ تعالیٰ کی رضا مندی، اور یہی چیز اہل جنت پر سب سے بڑی نعمت ہوگی
1 Hadith
32
موت کو ذبح کر دینے اور جہنمیوں کا ہمیشہ جہنم میں رہنے اور جنتیوں کا ہمیشہ جنت میں رہنے کا بیان
5 Hadith
33
اہل ایمان کا جنت میں اپنے ربّ کا دیدار کرنا اور یہ سب سے بڑی نعمت ہو گی، جو اللہ تعالیٰ ان کو عطا کرے گا، اللہ ہمیں اس سے محروم نہ رکھے (آمین)نیز اس باب میں موقف سے موت کے ذبح ہونے تک کے ابواب کی تلخیص بھی ہے
6 Hadith
No chapter matched that.