۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ میرا شوہر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سخت مزاج آدمی ہے، تو کیا جب میرے پاس کوئی مسکین آجائے تو میں اس کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر صدقہ کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے تھوڑی سی چیز دے دیا کرو اور بخل نہ کرو، وگرنہ اللہ تعالیٰ بھی تم پر بخل کرنے لگے گا۔
۔ (دوسری سند) سیدہ اسمائ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: میرے پاس وہی کچھ ہے جو میرا خاوند سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ میرے گھر میں لاتا ہے،(تو کیا میں اس سے صدقہ کر دیا کروں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خرچ کیا کر اور نہ رک، وگرنہ تجھ سے بھی روک لیا جائے گا۔
۔ (تیسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خرچ کیا کر اور بچا بچا کر نہ رکھا کر، وگرنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے بچا بچا کر رکھے گا، اورگن گن کر نہ دے، وگرنہ اللہ تعالیٰ بھی گن گن کر تجھے دے گا۔
Takhreej
(۳۶۳۰) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… گن گن کر دینے سے مراد معمولی چیز کا صدقہ کرنا ہے، یعنی مسلمان کو چاہیے کہ وہ دل کھول کر اللہ تعالیٰ کے لیے خرچ کیا کرے۔ یہ ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے کہ کوئی عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر مال و دولت میں تصرّف کر سکتی ہے یا نہیں، پہلے آپ دوسری احادیث بھی ملاحظہ کر لیں: سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا مَلَکَ الرَّجُلُ الْمَرْأَۃَ، لَمْ تَجُزْ عَطِیَّتُھَا إِلاَّ بِإِذْنِہٖ۔)) ’’جبمرد ( نکاحکےذریعے) کسی عورت کا مالک بن جاتا ہے تو خاوند کی اجازت کے بغیر اس کا (کسی کو) عطیہ دینا جائز نہیں ہوتا۔‘‘ (ابو داود: ۱/ ۱۱۰، والنسائی: ۱/۳۵۲، صحیحہ: ۲۵۷۱)
سیدنابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع والے سال اپنے خطبہ میں فرمایا: ((لَاتُنْفُِِق اِمْرَأَۃٌ شَیْئًا مِنْ بَیْتِ زَوْجِھَا اِلَّا بِاِذْنِ زَوْجِھَا۔)) قِیْلَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَلَاالطَّعَامَ؟ قَالَ: (ذٰلِکَ مِن اَفْضَلِ اَمْوَالِنَا۔)) ’’کوئی عورت اپنے خاوند کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز خرچ نہ کرے۔‘‘ کسی نے کہا: اے اللہ رسول! کسی کو کھانابھی نہیں دے سکتی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ تو ہمارے افضل (اور قیمتی) اموال میں سے ہے۔‘‘(ترمذی، ابن ماجہ)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تَصَدَّقُ الْمَرْأَۃُ مِنْ بَیْتِ زَوْجِھَا اِلَّا بِاِذْنِہٖ۔)) ’’عورتاپنےخاوندکےگھرسےاسکی اجازت کے بغیر صدقہ نہ کرے۔‘‘ (المعجم الاوسط للطبرانی وفیہ رشیدین بن کریب ضعفہ احمد و جماعۃ، لکن لہ شواہد)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ کَسْبِہٖمِنْغَیْرِ أَمْرِہٖفَاِنَّنِصْفَأَجْرِہٖلَہٗ۔)) ’’جبعورتاپنےخاوندکی کمائی سے اس کے حکم کے بغیر خرچ کرتی ہے تو اسے نصف اجر ملتاہے۔‘‘ (بخاری، مسلم، واللفظ لہ)
ان احادیث میں جمع تطبیق کی صورت یہ ہے کہ جن احادیث میں عورت کو خاوندکی اجازت کے بغیر خرچ کرنے کی اجازت دی گئی ہے، ان کا تعلق ان معمولی چیزوں سے ہے جو عام طور پر صدقہ کی جاتی ہیںیا جن کے بارے میں بیوی کو یہ ظن غالب ہوتا ہے کہ خاوند بھی رضامند ہو جائے گا، اسی طرح اگر خاوند بہت سخت مزاج اور بخیل ہو تو پھر بھی اس کے فائدے کے لیے اس کی بیوی کو تھوڑا بہت خرچ کرنے کی اجازت ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (۳۶۲۸) سے معلوم ہوتا ہے۔ اگر مذکورہ بالا دو صورتیں نہ ہوں تو ہر صورت میں عورت کو پہلے اپنے خاوند سے اجازت لینی چاہیے۔ اس موضوع پر شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک خوبصورت بحث کی ہے، ہم قارئین کے فائدے کے لیے اس کو نقل کر دیتے ہیں: آپ کو علم ہونا چاہیے کہ کہ بعض سلف نے اس حدیث پر عمل کیا ہے، جیساکہ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ نے (شرح المعانی: ۲/ ۴۰۳) میں وضاحت کی ہے اور امام ابن حزم رحمتہ اللہ علیہ نے (المحلی: ۸/ ۳۱۰۔ ۳۱۱) میں سیدنا انس بن مالک، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما ، امام طاوس، امام حسن اور امام مجاہدM کے نام ذکر کیے ہیں، مزید انھوں نے کہا: ’’لیث بن سعد رحمتہ اللہ علیہ کا بھییہی قول ہے، وہ اس چیز کو جائز نہیں سمجھتے کہ بیوی خاوند کی اجازت کے بغیر مالیمعاملات میں تصرف کرے، ہاں معمولی چیز کی گنجائش موجود ہے، جوصلہ رحمییا اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔‘‘
امام ابن حزم رحمتہ اللہ علیہ نے دوسرے علماء کے اقوال ذکر کیے اور ان کے دلائل کا مناقشہ بھی کیا ہے، وہ خود اس بات کے قائل ہیں کہ بیوی اپنے ذاتی مال میں خاوند کی اجازت کے بغیر تصرف کر سکتی ہے۔ انھوں نے اپنے مسلک کے حق میں بعض احادیث ِ صحیحہ پیش کی ہیں، جیسے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید کے خطبہ میں عورتوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیا، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی انگوٹھیاں اور کڑے وغیرہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈال دے۔
میں (البانی) کہتا ہوں کہ ابن حزم کی بیان کردہ ان احادیث ِ مبارکہ میں ان کے مسلک کی کوئی دلیل نظر نہیں آتی، کیونکہیہ مخصوص واقعات پر مشتمل ہیں اور اس باب کی درج ذیل اور دوسری احادیث سے متعارض نہیں ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا مَلَکَ الرَّجُلُ الْمَرْأَۃَ، لَمْ تَجُزْ عَطِیَّتُھَا إِلاَّ بِإِذْنِہٖ۔)) (صحیحہ: ۲۵۷۱)…’’جب مرد ( نکاح کے ذریعے) کسی عورت کا مالک بن جاتا ہے تو خاوند کی اجازت کے بغیر اس کا (کسی کو) عطیہ دینا جائز نہیں ہوتا۔‘‘
آپ خود سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث ، جس میں عید کا ذکر ہے، پر غور کریں، اس میں یہ وضاحت موجود ہے کہ عورتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے صدقہ کیا۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ ان کو خاوندوں کی طرف سے صدقہ کرنے کی اجازت نہ تھی، بلکہ یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ انھوں نے ان کو منع کر رکھا تھا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مخصوص موقع پر ان کو براہِ راست حکم دیا، توانھوں نے اس حکم نبوی کی تعمیل کی۔ اب کیا کوئی عاقل یہ کہہ سکتا ہے کہ خاوندوں کی پابندی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر مقدم تھی۔ حقیقتیہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واقعی عورتوں کو ان کے خاوندوں کی اجازت کے بغیر صدقہ کرنے سے منع کیا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی مناسبت کی وجہ سے ان کو صدقہ کرنے کا حکم صادر فرمائیں گے، تو اس حکم کو خاوندوں کی نہی پر مقدم سمجھا جائے گا، حالانکہ کوئی ایسی دلیل بھی نہیں ہے کہ انھوں نے اپنی بیویوں کو منع کر رکھا تھا۔ حقیقتیہ ہے کہ امام ابن حزم نے جو مسلک اختیار کیا ہے، ممکن ہے کہ ان کی طرف سے یہ عذر پیش کیا جائے کہ ان کے نزدیک وہ احادیث درجۂ صحت کو نہ پہنچ سکتی ہوں، جن میں بیویوں کے صدقہ و خیرات کو خاوندوں کی اجازت کے ساتھ معلق کیا گیا ہے، وگرنہ امام صاحب ان کی فوراً تعمیل کرتے،کیونکہیہ ایک مخصوص اورزائد حکم پر مشتمل ہیں، جس سے ان کی بیان کردہ احادیث خالی ہیں۔ لیکن انھوں نے عمرو بن شعیب عن ابیہ … کی اس حدیث کو اس بنا پر معلول قرار دیا ہے کہ یہ صحیفہ منقطع ہے، جبکہ امام احمد سمیت جمہور علمائے حدیث کے نزدیک عمرو بن شعیب کا صحیفہ موصول ہے۔ پھر ابن حزم نے یہ کہا کہ اگر یہ حدیث صحیح ثابت ہو جائے تو اسے منسوخ سمجھا جائے گا، اس کا جواب دیا جا چکا ہے، اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جزئ، کل کو اور خاص، عام کو منسوخ کر دے؟ کافروں کی تہذیبوں کی موافقت کے خواہاں اور اسلام میں حقوقِ نسواں پر بحث کرنے والے نام نہاد مسلمان اس موضوع پر دلالت کرنے والی احادیث سے غافل اور جاہل ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ علمی اعتبار سے ابن حزم کا مذہب ان کے نزدیک راجح ہے، وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ اسلام کی ہدایات کو مغربی کلچر کے قریب تر کر دیا جائے، اس کی ایک شقّ یہ ہے کہ عورت اپنے مال میں خود تصرف کرے۔ لیکن ان بیچاروں کو علم ہونا چاہیے کہ ان دلائل سے ان کو ذرہ برابر فائدہ نہیں ہو گا، کیونکہ وہ تو عورت کو غیر کے مال میں بھی تصرف کرنے اور اسے اولیا کی اجازت کے بغیر شادی کرنے اور اسے ہم راز اور یاربنانے کی بھی اجازت دیتے ہیں۔ ہمارے اللہ نے سچ فرمایا: {وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَلَا النَّصَارٰی حَتَّی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ} (سورۂ بقرہ: ۱۲۰) … ’’یہودی اور عیسائی اس وقت تک آپ سے ہر گز راضی نہیں ہوں گے، جب تک آپ ان کی ملت کی پیروی نہیں کریںگے۔‘‘ (صحیحہ: ۲۵۷۱)
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سات قسم کے افراد کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سائے میں جگہ دے گا، جس دن صرف اسی کا سایہ ہو گا: (۱)عادل حکمران،(۲) وہ نوجوان، جو جوانی کے عالم میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے، (۳)وہ آدمی جس کا دل مسجد کے ساتھ لگا رہے، (۴)وہ دو آدمی، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کی، وہ اسی بنیاد پر جمع ہوئے او راسی پر ایک دوسرے سے الگ ہوئے، (۵)وہ آدمی جو اس قدر مخفی طور پر صدقہ کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھییہ علم نہ ہو سکے کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے، (۶)وہ آدمی، جس نے علیحدگی میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، اور (۷)وہ آدمی جسے منصب و جمال والی کوئی عورت اپنی طرف برائی کی دعوت دے، لیکن وہ یہ کہہ کر باز رہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔
فوائد:… ’’جوانی کے عالم میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے۔‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ زندگی کا یہ مرحلہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق گزرنا چاہیے، عبادات ہوں یا معاملات، حقوق اللہ ہوں یا حقوق العباد، اپنوں کا مسئلہ ہو یا بیگانوں کا، صلہ رحمی کا مسئلہ ہو یا قطعی رحمی کا، دنیا کا معاملہ ہو یا آخرت کا، ایسا نوجوان اپنی زندگی سے متعلقہ ہر چیز کو شریعت کی روشنی میں سر انجام دیتا ہے۔ قارئین کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ایسا جوان انتہائی آسان اور سہولت آمیز زندگی گزارتا ہے اور دلی فرحت و مسرت محسوس کرتا ہے۔ ’’وہ آدمی جس کا دل مسجد کے ساتھ لگا رہے۔‘‘ یہ کسی بڑے عمل کا نام نہیں ہے، صرف ایک فکر کا نام ہے، دو آدمی نمازِ ظہر ادا کر کے اپنے کام کاج میں مصروف ہو گئے، پھر نمازِ عصر پر اکٹھے ہوئے، لیکن ان میں سے ایک کا دل مسجد سے لگا رہا اور دوسرا اس کا تصور ہی نہ کر سکا، پھر اول الذکر فرصت کے لمحات میں سے کچھ وقت مسجد میں بیٹھنے کے لیے صرف کرتا ہے، سیدھی سی بات یہ ہے کہ ایسی رغبت کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے، یہ دل کی چاہت کامسئلہ ہے، جس سے عوام الناس کی اکثریت غافل ہے۔
دائیں کا خرچ کرنا اور بائیں کو علم نہ ہونا، یہ بات مبالغہ کے طور پر بیان کی گئی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ کسی دوسرے بندے کو پتہ نہ چلے، اگر صدقہ کرنے والا ایسا طریقہ اختیار کرے کہ صدقہ لینے والے کو بھی پتہ نہ چلے تو یہ بہت بہتر ہو گا، مثلا منی آڈر وغیرہ کے ذریعے۔مخفی صدقہ اخلاص کے زیادہ قریب اور ریاکاری سے زیادہ دور ہوتا ہے۔
۔ سیدناابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متعدد سوالات کئے، ان میں سے ایک سوال صدقہ کے بارے میں تھا۔ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! صدقہ کے بارے میں آپ کیا فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا ثواب کئی گنا بڑھا کر دیا جائے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی کون سی صورت سب سے زیادہ فضیلت والی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کم سرمائے والے آدمی کی محنت کا صدقہ یا فقیر کو پوشیدہ انداز میں صدقہ دینا افضل ہے۔
Takhreej
(۳۶۳۲) تخر یـج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عبید بن الخشخاش ولضعف ابی عمر الدمشقی، وقال الدارقطنی: المسعودی عن ابی عمر الدمشقی متروک۔ اخرجہ الطیالسی: ۴۷۸، والبزار فی ’’مسندہ‘‘: ۴۰۳۴، والبیقھی فی ’’الشعب‘‘: ۳۵۷۶ (انظر: ۲۱۵۵۲)
۔ سیدناعقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلند آواز میں قرآن پڑھنے والا اس آدمی کی مانند ہے جو اعلانیہ صدقہ کرتا ہے اور آہستہ قرآن پڑھنے والا اس آدمی کی طرح ہے جو مخفی طور پر صدقہ کرنے والا ہے۔
فوائد:… معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی سرّی تلاوت افضل ہے، اگر کوئی آدمی ایسے مقام پر جہری تلاوت کرتا ہے، جہاں اس کو سننے یا دیکھنے والا کوئی بشر نہیں ہوتا تو اس کا حکم بھی سرّی تلاوت والا ہو گا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، اجرو ثواب والے امور کو مخفی رکھنا چاہیے، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے: سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ اَنْ یَکُوْنَ لَہٗخَبْیئٌ مِنْ عَمَلٍ صَالِحٍ فَلْیَفْعَلْ۔)) ’’جس میں عملِ (صالح) کو مخفی رکھنے کی استطاعت ہو تو وہ اسے مخفی ہی رکھے۔‘‘ (الخطیب فی ’’التاریخ‘‘:۱۱/۲۶۳، ، والضیاء فی ’’الاحادیث المختارۃ‘‘: ۱/ ۳۹۶الخطیب فی ’’التاریخ‘‘:۱۱/۲۶۳، صحیحہ: ۲۳۱۳)
ریاکاری اور نمودو نمائش اعمالِ صالحہ کو راکھ کر دینے والے عناصر میں سے ہیں، لہٰذا بندے کو چاہئے کہ جہاں تک ممکن ہو سکے اپنے اعمال کو مخفی رکھے، مثلا صدقہ و خیرات کرنا، نفلی نماز پڑھنا، حج وعمرہ کرنا، نفلی روزے رکھنا۔ لیکنیہیادرہے کہ جن اعمال کا تعلق جماعت سے یا لوگوں سے ہے، ان میں کوئی اخفاء نہیں ہے، مثال کے طور پرفرضی نماز، نمازِ عیدین، خوش خلقی، وغیرہ۔ عصرِ حاضر میں بعض نیکیوں کے موقعوں پر مبارکباد کے سلسلے میں اعمالِ صالحہ کی اتنی شہرت ہو جاتی ہے کہ عامل کے عمل کے ضائع ہونے کے خطرات و شبہات لاحق ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر حج وعمرہ کے لیے روانگی اور واپسی کے موقع پر، قرآن مجید کا حفظ مکمل کرنے پر، رمضان میں قرآن مجید کی تلاوت کی تکمیل پر اور اعتکاف سے واپسی پر، عقیقہ کے موقع پر، وغیرہ وغیرہ۔ فی الحال ہمارے ہاں ان مواقع پر جو کچھ ہوتا ہے، شاید وہ روحِ اسلام کے منافی ہو۔
لَّکُمْ} ’’اگر تم صدقہ وخیرات کو ظاہر کرو تو وہ اچھا ہے اور اگر تم انہیں پوشیدہ طور پر مسکینوں کو دے دو تو یہ تمہارے حق میں بہت اچھا ہے۔‘‘ معلوم ہوا کہ عام حالات میں خفیہ طور پر صدقہ کرنا افضل ہے، سوائے کسی ایسی صورت کے کہ علانیہ صدقہ دینے میں لوگوںکے لیےترغیب کا پہلو ہو، اگر ریاکاری کا جذبہ شامل نہ ہو تو ایسے موقعوں پر پہل کرنے والے جو خاص فضیلت حاصل کر سکتے ہیں، وہ احادیث سے واضح ہے، تاہم اس قسم کی مخصوص صورتوں کے علاوہ دیگر مواقع پر خاموشی سے صدقہ و خیرات کرنا ہی بہتر ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ مخفیرکھنے کی فضیلت صرف نفلی صدقات تک محدود ہے،زکوۃ کی ادائیگی میں اظہار بہتر ہے، لیکن قرآن و حدیث کا عموم صدقات نافلہ اور واجبہ دونوں کو شامل ہے، اس لیے اگر اظہار و اعلان میں کوئی بڑی مصلحت نظر نہ آ رہی ہو تو سرّی عمل کو ہی ترجیح دی جائے۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے سارے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، البتہ تین عمل باقی رہتے ہیں: (۱) صدقہ جاریہ، (۲) ایسا علم، جس سے نفع اٹھایا جاتا ہے اور (۳) نیک اولاد، جو اس کے لیے دعا کرے۔
Takhreej
(۳۶۳۴) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۶۳۱(انظر: ۸۸۴۴)
Explanation
فوائد:… دوسرے لوگوں کی دعائیں بھی فائدہ بخش ہوتی ہیں، نیک اولاد کو خصوصیت کے ساتھ ذکر کرنے کی دو وجوہات ہیں، ایکیہ کہ اولاد زیادہ رغبت کے ساتھ دعا کرتی ہے اور دوسرے یہ کہ اولاد کو ایسا کرنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے، کیونکہ انھوں نے ہی زیادہ عرصہ تک اپنے والدین کو یاد رکھنا ہے۔
۔ سیدناابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار قسم کے آدمیوں کو ان کی موت کے بعد بھی ثواب ملتا رہتا ہے: (۱)وہ آدمی جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے انتقال کر گیا، (۲) وہ آدمی جو لوگوں کو علم سکھائے،تو جب تک اس پرعمل ہوتا رہے گا، اسے اجر ملتا رہے گا، (۳) وہ آدمی جو صدقہ کرے تو جب تک لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے اسے اجر و ثواب ملتا رہے گا اور (۴) وہ آدمی جو نیک اولاد چھوڑ جائے، جو اس کے حق میں دعا کرتی رہے۔
فوائد:… پہلی صورت یعنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے اثرات بھی عام طور پر آدمی کے بعد باقی رہتے ہیں، اخلاص کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے شہادت کے مرتبے پر فائز ہونے سے بعد والے لوگوں ایمانی حرارت اور کافروں کے خلاف غیظ و غضب کے جذبات میں تیزی آتی ہے، ایمان والوں کی عملی زندگیوں میں تبدیلیاں آتی ہیں، وہ اسلام کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں اور دعوت و جہاد کے راستے کھلتے ہیں۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی نیک بندے کا جنت میں درجہ بلند کرے گا، تو وہ پوچھے گا:اے میرے رب! یہ درجہ میرے لیے کہاں سے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تمہارے حق میں تمہارے بیٹے کی دعائے مغفرت کی وجہ سے۔
فوائد:… اتنی بڑی منقبت کے باوجود عصرِ حاضر میں عجلت پسندی اور مفاد پرستی کا ایسا بھوت رقص کناں ہے کہ لوگوں نے اپنے آباء و اجداد اور امہات و جدات کو بری طرح بھلا دیا ہے۔ ہم نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں کہ جن کے لب اپنے باپ اور ماں کی وفات کے دوسرے دن بھی ان کے حق میں حرکت نہیں کر سکتے۔
۔ سیدنامعاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: اگر کوئی آدمی ظلم و زیادتی کے بغیر کوئی عمارت تعمیر کرتا ہے یا ظلم و زیادتی کے بغیر کوئی درخت لگاتا ہے، تو جب تک اللہ تعالیٰ کی مخلوق اس سے فائدہ اٹھاتی رہے گی، اسے اجر ملتا رہے گا۔
Takhreej
(۳۶۳۷) تخر یـج: اسنادہ ضعیف لضعف زبان بن فائد، سھل بن معاذ فی روایۃ زبان عنہ، وابن لھیعۃ۔ اخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۰/ ۴۱۰، والطحاوی فی ’’شرح مشکل الآثار‘‘: ۹۵۷(انظر: ۱۵۶۱۶)
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی زبان کو ایسی نیکی کے لیے استعمال کرتا ہے کہ جس پر اس کے بعد بھی عمل کیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن تک ثواب سے نوازتا رہتا ہے اور قیامت کے روز اسے پورا پورا ثواب عطا کرے گا۔
فوائد:… حافظ سیوطی نے مختلف احادیث سے ثابت ہونے والے دس ایسے اعمال کو نظم کی صورت میں پیش کیا ہے، جن کا ثواب انسان کو اس کے مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے، وہ اشعار درج ذیل ہیں:
اِذَا مَاتَ ابْنُ آدَمَ لَیْسَیَجْرِیْ عَلَیْہِ مِنْ فِعَالٍ غَیْرِ عَشْرٍ
عُلُوْمٌ بَثَّھَا وَ دُعَائُ نَجْلٍ وَغَرْسُ النَّخْلِ وَ الصَّدَقَاتُ تَجْرِیْ
وِرَاثَۃُ مُصْحَفٍ وَرِبَاطُ ثغْرٍ وَحَفْرُ الْبِئْرِ اَوْاِجْرَائُ نَھْرٍ
وَبَیْتٌ لِّلْغَرِیْبِ بَنَاہُ یَأْوِیْ اِلَیْہِ اَوْبِنَائُ مَحَلِّ ذِکْرٍ
وَ تَعْلِیْمٌ لِقُرْآنٍ کَرِیْمٍ فَخُذْھَا مِنْ اَحَادِیْثَ بِحَصْرٍ
ترجمہ: ’’جب انسان مر جاتا ہے تو اس کو صرف دس اعمال کا ثواب ملتا رہتا ہے ایسا علم جو وہ لوگوں کو سکھا جائے، اولاد کی دعا، درخت لگانا، صدقہ جاریہ، قرآن کریم کی وراثت، اللہ کی راہ میں پہرہ دینا، کنواںکھدوا نا ، نہر کھدوا دینا، کسی غریب کے لئے مکان بنا دینا،تاکہ وہ اس میںپناہ لے سکے یا ذکر ِ الٰہی کا محل بنا دینا قرآن مجید کی تعلیم دینا، لیجیے صرف یہ احادیث سے ثابت ہیں۔ صدقہ جاریہ کی تمام اقسام میت کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ‘‘