TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - Book 66 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 66 of Musnad Ahmad, with 34 chapters and 211 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

211 Hadith · 34 Chapters
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۰۸) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ یَزِیْدَ الْخَطْمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ مَعْرُوْفٍ صَدَقَۃٌ)) (مسند احمد: ۱۸۹۴۸)
۔ سیدناعبد اللہ بن یزید خطمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نیکی صدقہ ہے۔
Takhreej
(۳۶۰۸) تخر یـج: اسنادہ قوی۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۸/ ۵۴۹(انظر: ۱۸۷۴۱)
3608
Sahih
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۰۹) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ اَبِی بُرْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَۃٌ۔)) قَالَ: اَفْرَاَیْتَ إِنْ لَّمْ یَجِدْ، قَالَ: ((یَعْمَلُ بِیَدِہِ فَیَنْفَعُ نَفْسَہُ وَیَتَصَدَّقُ۔)) قَالَ: اَفْرَاَیْتَ إِنْ لَمْ یَسْتَطِیْعْ اَنْ یَفْعَلَ، قَالَ: ((یُعِیْنُ ذَا الْحَاجَۃِ الْمَلْہُوْفَ۔)) قَالَ: اَرَاَیْتَ إِنْ لَمْ یَفْعَلُ؟ قَالَ: ((یَاْمُرُ بِالْخَیْرِ اَوْ بِالْعَدْلِ۔)) قَالَ: اَفْرَاَیْتَ إِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ اَنْ یَفْعَلَ؟ قَالَ: ((یُمْسِکُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّہُ لَہُ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۶۰)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صدقہ کرے۔ اس نے کہا: اگر آدمی میں صدقہ کرنے کی طاقت نہ ہو تو وہ کیا کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ اپنے ہاتھ سے کام کرکے خود بھی فائدہ اٹھائے اور صدقہ بھی کرے۔ اس نے کہا: اگر کسی میں کام کرنے کی طاقت نہ ہو تووہ کیا کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ پھر کسی مجبور ضرور مند کی مدد کر دے۔ اس نے کہا: اگر وہ یہ بھی نہ کر سکے تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ اچھائی کا یا عدل کا حکم دے دیا کرے۔ اس نے کہا: اگر اس میں اس کی استطاعت بھی نہ ہو تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ برائی سے بچے، یہ بھی اس کے لئے صدقہ ہی ہے۔
Takhreej
(۳۶۰۹) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۴۴۵، ۶۰۲۲، ومسلم:۱۰۰۸ (انظر: ۱۹۵۳۱)
Explanation
فوائد:… دور کوئی بھی ہو، مزاج اور حالات جیسے بھی ہوں، شریعت نے ہر زمان و مکاں سے نبٹنے کے لیے اہل اسلام کی مکمل رہنمائی کی ہے، انہی حالات و ظروف کو مد نظر رکھ کر ہر انسان سے باز پرس کی جائے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جن حالات سے گزر رہے ہوں، ان کا احکامِ شریعت کے ساتھ موازنہ کریں اور اپنے لیے راہِ نجات تلاش کریں۔ بعض لوگوں کییہ عادت ہوتی ہے کہ وہ ہر وقت زبان سے مجبوریوں کا، شکووں کا اور حالات کے ناسازگار ہونے کا اظہار کرتے رہتے ہیں، ایسے بے صبروں کو عقل کے ناخن لینے چاہئیں اور یہ سمجھ لینا چاہیے کہ زبان سے ادا کر دی جانے والی مجبوریوں اور شکووں کو اخروی زندگی میں بطورِ بہانہ پیش نہیں کیا جا سکتا۔ان لوگوں کو چاہیے کہ اسلامی احکام کی روشنی میں اپنے حالات کے مطابق کوئی راہِ ہدایت تلاش کریں اور اس معاملے میں کسی اہل علم سے رابطہ کریں۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کم از کم مسلمان کے شایانِ شان یہ بات ہے کہ وہ شرّ سے رکا رہے۔ ’’اَلْمَلْہُوْف‘‘ کا معنی ستم رسیدہ، حسرت زدہ، مجبور اور مظلوم ہے۔
3609
Sahih
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۱۰) عَنْ حُذَیْفَہَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَعْرُوْفُ کُلُّہُ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۴۱)
۔ سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نیکی صدقہ ہے۔
Takhreej
(۳۶۱۰) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۰۰۵(انظر: ۲۳۲۵۲)
3610
Sahih
جسم کے صدقہ کا بیان
۔ (۳۶۱۱) عَنْ بُرَیْدَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((فِی الْاِنْسَانِ سِتُّونَ وَثَلاثُمِائَۃِ مَفْصِلٍ فَعَلَیْہِ اَنْ یَتَصَدَّقَ عَنْ کُلِّ مَفْصِلٍ مِنْہَا صَدَقَۃً۔)) قَالُوْا: فَمَنِ الَّذِییُطِیْقُ ذٰلِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((اَلنُّخَاعَۃُ فِیْ الْمَسْجِدِ تَدْفِنُہَا وَالشَّیئُ تُنَحِّیہِ عَنِ الطَّرِیْقِ، فإِنْ لَمْ تَقْدِرْ فَرَکْعَتَا الضُّحٰی تُجْزِیُٔ عَنْکَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۸۶)
۔ سیدنابریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انسانی جسم میں (۳۶۰) جوڑ ہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزانہ ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ کرے۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! روزانہ ہر جوڑ کی طرف سے اتنا صدقہ کون کر سکتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد میں پڑی ہوئی تھوک کو وہیں دبا دینا بھی صدقہ ہے، راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا بھی صدقہ ہے اور اگر تجھے یہ اعمال کرنے کی طاقت بھی نہ ہو تو چاشت کی دو رکعتیں تجھ سے کفایت کریں گی (اور سارے جوڑوں کا صدقہ ادا ہو جائے گا)۔
Takhreej
(۳۶۱۱) تخر یـج: صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابوداود: ۵۲۴۲(انظر: ۲۲۹۹۸)
Explanation
فوائد:… انسان کے اندر جوڑوں کا نظام، یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے، اسی نظام کی وساطت سے انسان کا اٹھنا، بیٹھنا، چلنا، پکڑنا، بولنا وغیرہ ممکن ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ کرنا چاہیے، جس کی مقدار ایک آسان سی نیکی ہے اور اس صدقہ کی سب سے بہترین صورت نماز چاشت کی دو رکعتیں ہیں۔
3611
Sahih
جسم کے صدقہ کا بیان
۔ (۳۶۱۲) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَااَعْلَمُہُ إِلَّا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُلُّ سُلَامٰی مِنِ ابْنِ آدَمَ عَلَیْہِ صَدَقَۃٌ حِیْنَیُصْبِحُ۔)) فَشَقَّ ذَالِکَ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((إِنْسَلَامَکَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ صَدَقَۃٌ، وَإِمَاطَتُکَ الْاَذٰی عَنِ الطَّرِیْقِ صَدَقَۃٌ، وَإِنَّ اَمْرَکَ بِالْمَعْرُوْفِ صَدَقَۃٌ، وَنَہْیَکَ عَنِ الْمُنْکَرِ صَدَقَۃٌ۔)) وَحَدَّثَ بِاَشْیَائَ مِنْ نَحْوِ ھٰذَا لَمْ اَحْفَظْہَا۔ (مسند احمد: ۸۳۳۶)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن آدم پر لازم ہے کہ وہ ہر روز صبح کے وقت اپنے ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ کرے۔ یہ بات صحابہ پر شاق گزری، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا لوگوں کو سلام کہنا بھی صدقہ ہے، ایذا دینے والی چیز کو راستے سے ہٹا دینا بھی صدقہ ہے، کسی کونیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس طرح کی کئی نیکیوں کا ذکر کیا، لیکن مجھے وہ یاد نہیں ہیں۔
Takhreej
(۳۶۱۲) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۲۷۰۷، ۲۸۹۱، ۲۹۸۹، ومسلم: ۱۰۰۹(انظر: ۸۳۵۴)
3612
Sahih
جسم کے صدقہ کا بیان
۔ (۳۶۱۳) وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((کُلُّ نَفْسٍ کُتِبَ عَلَیْہَا الصَّدَقَۃُ کُلَّ یَوْمٍ طَلَعَتْ فِیْہِ الشَّمْسُ، فَمِنْ ذَالِکَ اَنْ یَعْدِلَ بَیْنَ الْاِثْنَیْنِ صَدَقَۃٌ وَاَنْ یُعِیْنَ الرَّجُلَ عَلٰی دَابَّتِہِ فَیَحْمِلَہُعَلَیہَا صَدَقَۃٌ وَیَرْفَعُ مَتَاعَہُ عَلَیْہَا صَدَقَۃٌ وَیُمِیْطُ الْاَذٰی عَنِ الطَّرِیْقِ صَدَقَۃٌ، وَالْکَلِمَۃُ الطَّیِّبَۃُ صَدَقَۃٌ وَکُلُّ خُطْوَۃٍیَمْشِی إِلَی الصَّلَاۃِ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۸۵۹۳)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزانہ صدقہ کرے، اس کی بعض صورتیںیہ ہیں: دو آدمیوں کے مابین عدل کرنا صدقہ ہے، سوار ہوتے وقت کسی کی مدد کرنا اور اس کو اس کی سواری پر بٹھا دینا صدقہ ہے، کسی کا سامان اس کیسواری پر رکھ دینا صدق ہے، راستے سے ایذا دینے والی چیز کو ہٹا دینا صدقہ ہے، اچھی بات کہنا صدقہ ہے اورنماز کی طرف چلنے والا ہر قدم بھی صدقہ ہے۔
Takhreej
(۳۶۱۳) تخر یـج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… ’’سوار ہوتے وقت کسی کی مدد کرنا اور اس کو اس کی سواری پر بٹھا دینا‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی مریضیا کمزور ہے یا اس کی سواری بغاوت اور شرارت والی ہو، ایسی صورت میں دوسرے مسلمانوں کو اس کا تعاون کرنا چاہیے۔ اس سے ہمیں یہ اندازہ کر لینا چاہیے کہ حقوق العباد کے بارے میں اسلام کا ہم سے کیا مطالبہ ہے۔ لیکن ہماری صورتحال یہ ہے کہ اگر راستے میں کوئی تکلیف دہ چیز پڑھی ہے تو ممکن ہو گا کہ پیدل چلنے والے کو خیال آ جائے اور وہ اس چیز کو ہٹا دے، لیکن اگر کسی سائیکل سوار کی اس چیز پر نظر پڑ جاتی ہے تویہ مشکل ہو گا کہ وہ اتر کر یہ نیکی کرے، موٹر سائیکل والے کے لیےیہ عمل اور مشکل ہو جائے گا اور موٹر کار والے کے لیے ناممکن ہو جائے گا، حقیقتیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے ہمیں دھوکہ ہو گیا ہے اور ان نعمتوں کی وجہ سے ہم نیکیوں والے مزاج سے دور ہو گئے ہیں۔
3613
Sahih
جسم کے صدقہ کا بیان
۔ (۳۶۱۴) عَنْ زَیْدِ بْنِ سَلاَّمٍ عَنْ اَبِی سَلاَّمٍ قَالَ اَبُوْ ذَرٍّ: عَلٰی کُلِّ نَفْسٍ فِی کُلِّ یَوْمٍ طَلَعَتْ فِیْہِ الشَّمْسُ صَدَقَۃٌ مِنْہُ عَلٰی نَفْسِہِ، قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مِنْ اَیْنَ اَتَصَدَّقُ ولَیْسَ لَنَا اَمْوَالٌ؟ قَالَ: ((لِاَنَّ مِنْ اَبْوَابِ الصَّدَقَۃِ التَّکْبِیْرَ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ، وَتَاْمُر بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہٰی عَنِ الْمُنْکَرِ، وَتَعْزِلُ الشَّوْکَ عَنْ طَرِیْقِ النَّاسِ وَالْعَظْمَ وَالْحَجَرَ، وَتَہْدِی الْاَعْمٰی۔وَتُسْمِعُ الْاَصَمَّ وَالْاَبْکَمَ حَتّٰییَفْقَہَ، وَتَدُلُّ الْمُسَتَدِلَّ عَلٰی حَاجَۃٍ لَہُ قَدْ عَلِمْتَ مَکَانَہَا وَتَسْعٰی بِشِدَّۃِ سَاقَیْکَ إِلَی اللَّہْفَانِ الْمُسْتَغِیْثِ، وَتَرْفَعُ بِشِدَّۃِ ذِرَاعَیْکَ مَعَ الضَّعِیْفِ، کُلُّ ذَلِکَ مِنْ اَبْوَابِ الصَّدَقَۃِ مِنْکَ عَلٰی نَفْسِکَ، وَلَکَ فِی جِمَاعِ زَوْجَتِکَ اَجْرٌ۔)) قَالَ اَبُوْ ذَرٍّ: کَیْفَیَکُوْنُ لِی اَجْرٌ فِیْ شَہْوتِیْ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((اَرَاَیْتَ لَوْ کَانَ لَکَ وَلَدٌ فَاَدْرَکَ وَرَجَوْتَ خَیْرَہُ فَمَاتَ اَکُنْتَ تَحْتَسِبُ بِہِ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَاَنْتَ خَلَقْتَہُ؟)) قَالَ: بَلِ اللّٰہُ خَلَقَہُ، قَالَ: ((فَاَنْتَ ھَدَیْتَہٗ؟)) قَالَ: بَلِ اللّٰہُ ھَدَاہُ، قَالَ: ((فَاَنْتَ تَرْزُقُہُ؟)) قَالَ: بَلِ اللّٰہُ کَانَ یَرْزُقُہٗ۔ قَالَ: ((کَذَالِکَ فَضَعْہُ فِی حَلاَلِہِ وَجَنِّبْہُ حَرَامَہُ، فَإِنْ شَائَ اللّٰہُ اَحْیَاہُ وَإِنْ شَائَ اَمَاتَہُ وَلَکَ اَجْرٌ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۱۶)
۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ بات دوہرائی کہ ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ روزانہ اپنے اوپر صدقہ کرے۔ اور پھر کہا: اے اللہ کے رسول! میں صدقہ کیسے کروں، ہمارے پاس تو مال ہی نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ اور اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ کہنا بھی صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ اورلوگوں کے راستے سے کانٹے، ہڈی اور پتھر وغیرہ کو ہٹا دینا ، نابینا آدمی کو رہنمائی کر دینا، کسی گونگے بہرے کو بات سمجھا دینا، اگر تجھے علم ہو تو کسی ضرورت کے لیے رہنمائی طلب کرنے والے کی رہنمائی کرنا، مدد کے لیے پکارنے والے مصیبت زدہ کی مدد کے لیے تیزی کے ساتھ دوڑ کر جانا اور کمزور کی خوب مدد کرنا، یہ سارے امور تمہاری طرف سے تمہارے لیے صدقہ ہیں، بلکہ اپنی اہلیہ سے جماع کرنا بھی باعث ِ اجر ہے۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرے لیے میری شہوت میں اجر کیسے ہو گا؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا تم مجھے بتلاؤ کہ اگر تمہارا بیٹا ہو، وہ بالغ ہو جائے اور تمہیں اس کی طرف سے خیر کی امید ہو، لیکن وہ فوت ہو جائے تو کیا تم اس پر صبر کرو گے؟ میںنے کہا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا اسے تم نے پیدا کیا؟ میں نے کہا: جی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اسے ہدایت دی؟ میں نے کہا: جی نہیں، بلکہ اسے تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اسے رزق دیتے رہے؟ میں نے کہا: جی نہیں،بلکہ اللہ تعالیٰ اسے رزق دیتا رہا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بات ایسے ہی ہے، جس طرح بچے کی تمام ضروریات و حاجات اللہ تعالیٰ نے پوری کیں مگر تمہیں اس کی وفات پر اجر و ثواب ہوا پس اسی طرح تم اپنی شرم گاہ کو حلال مقام پر استعمال کرو اور حرام سے بچائو، اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا تو اسے بچا لے گا اور اگر اس نے چاہا تو اسے موت دے دے گا اور تمہیں ثواب ملے گا۔
Takhreej
(۳۶۱۴) تخر یـج:أخرجہ مسلم: ۱۰۰۶(انظر: ۲۱۴۸۴)
Explanation
فوائد:… پوری حدیث ِ مبارکہ واضح ہے، ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کی کے معمولات کا اس سے موازنہ کرے، آخری مسئلہ کی وضاحت یہ ہے کہ ایک باپ نہ تو اپنے بچے کو پیدا کرتا ہے، نہ اس کو رزق دیتا ہے، نہ اس کو ہدایت دیتا ہے، تو پھر اس کی وفات پر وہ اجر کا مستحق کیوں ہے، اس سوال کے جواب میں سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌گویا کہ یہ کہہ رہے ہیں کہ چونکہ وہ بحیثیت باپ اپنے بچے کے وجود کا سبب ہیں، اس لیے ان کو بھی اجر ملنا چاہیے، اس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جیسے بچے کی وفات پر ثواب کی نیت سے صبر کرنے پر اجر ملتا ہے، اسی طرح بیوی سے ہم بستری کے وقت یہ نیت ہونی چاہیے کہ اس تعلق سے مسلمان بچہ پیدا ہو گا اور وہ میاں بیوی اس حق زوجیت کی وجہ سے زنا اور اس کے لوازمات و مقدّمات سے محفوظ رہیں گے، ان وجوہات کی بنا پر میاں بیوی کو مجامعت میں ثواب بھی ملے گا۔
3614
Sahih
جسم کے صدقہ کا بیان
۔ (۳۶۱۵) عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَصَدَّقَ عَنْ جَسَدِہِ بِشَیْئٍ کَفَّرَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بِقَدْرِ ذُنُوْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۸۰)
۔ سیدناعبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے جسم کی طرف سے کوئی چیز صدقہ کرے گا،اللہ تعالیٰ اس کو اس کے گناہوں کی اتنی ہی مقدار کے لیے کفارہ بنا دے گا۔
Takhreej
(۳۶۱۵) تخر یـج: صحیح بالشواھد۔ اخرجہ النسائی فی ’’الکبری‘‘: ۱۱۱۴۶(انظر: ۲۲۷۹۴)
Explanation
فوائد:… ان دو ابواب کی احادیث میں جتنے حقوق العباد کا ذکر کیا گیا ہے، اِس وقت امت ِ مسلمہ ان حقوق کی ادائیگی سے بری طرح غافل ہے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ لوگوں کو اپنے سے کم تر خلق اللہ کے حقوق کا شعور ہی نہیں ہے، بیس بیس اور چالیس چالیس لاکھ کی گاڑیوں میں سفر کرنے والوں کے ذہنوں میں اس فکر کی گنجائش ہی نہیں کہ کس غریب کو سائیکل وغیرہ کی ضرورت ہے، ، موٹر سائیکل اور رکشہ کی تو بات کرنا ہی فضول ہے، کن لوگوں کے بچے تعلیم حاصل کرنے کیلئے دور دور سے پیدل چل کر آتے ہیں، کن گھروں کے بچے سکول فیس اور تعلیمی اخراجات برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے گلی محلوں میں وقت ضائع کر رہے ہیں، بلکہ مستقبل کے لیے خوشحال لوگوں کیلئے بڑا خطرہ کی علامت بھی ہیں۔ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے، لوگوں نے اپنے ذہن کے مطابق چند عبادات کو حقیقی اسلام سمجھ لیا، اس سلسلے میں ان کے ذہنوں پر جمود سوار ہے، ان کو اپنی عادات میں تبدیلی لانا گوارا ہی نہیں ہے۔ لیکن جن لوگوں کے بارے میں یہ گزارشات پیش کی جا رہی ہیں، سرے سے وہ ان کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں، کیونکہ جب تک ہم یہ حقیقت سمجھ نہیں پائیں گے کہ اسلام کا ہم سے مطالبہ کیا ہے، اس وقت تک ہم بزعم خود کامل مسلمان ہوں گے اور درج بالا حقائق کو بے سر وپا سمجھیں گے۔
3615
Sahih
جسم کے صدقہ کا بیان
۔ (۳۶۱۶) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌جَائَ ثَـلَاثَۃُ نَفَرٍ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ اَحَدُہُمْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَانَتْ لِی مِائَۃُ دِیْنَارٍ فَتَصَدَّقْتُ مِنْہَا بِعَشَرَۃِ دَنَانِیْرَ، وَقَالَ الْآخَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَانَتْ لِی عَشَرَۃُ دَنَانِیْرَفَتَصَدَّقْتُ مِنْہَا بِدِیْنَارٍ، وَقَالَ الْآخَرُ: کَانَ لِی دِیْنَارٌ فَتَصَدَّقْتُ بِعُشْرِہِ؟قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّکُمْ فِی الْاَجْرِ سَوَائٌ کُلُّکُمْ تَصَدَّقَ بِعُشْرِ مَالِہِ۔)) (مسند احمد: ۷۴۳)
۔ سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ تین آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور ان میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک سو دینار تھے اور میں نے ان میں سے دس دینار صدقہ کر دیئے، دوسرے نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس دس دینار تھے، میں نے ان میں سے ایک دینار صدقہ کر دیا۔ تیسرے نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار تھا، میں نے اس کا دسواں حصہ صدقہ کر دیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی باتیں سن کر فرمایا: ثواب کے لحاظ سے تم سب برابر ہو، کیونکہ تم میں سے ہر ایک نے اپنے مال کا دسواں حصہ صدقہ کیا۔
Takhreej
(۳۶۱۶) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، لضعف ثویر بن ابی فاختہ۔ اخرجہ البزار: ۷۷۵ (انظر: ۷۴۳)
Explanation
فوائد:… معنوی اعتبار سے اس حدیث ِ مبارکہ میں بیان شدہ مسئلہ درست ہے، کئی احادیث میں کم سرمائے والے آدمی کے معمولی مقدار کے صدقہ کو افضل قرار دیا گیا ہے، درج ذیل حدیث ِ مبارکہ بھی اسی حقیقت کی غماز ہے: سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((سَبَقَ دِرْھَمٌ مِائَۃَ اَلْفِ دِرْھَمٍ۔)) قَالُوْا: وَکَیْفَ؟ قَالَ: ((لِرَجُلٍ دِرْہَمَانِ تَصَدَّقَ بِاَحَدِھِمَا وَانْطَلَقَ رَجُلٌ اِلٰی عَرْضِ مَالٍ فَأَخَذَ مِنْہُ مِائَۃَ اَلْفِ دِرْھَمٍ فَتَصَدَّقَ بِہٖ۔)) …ایک درہم، ایک لاکھ درہم سے سبقت لے گیا۔‘‘ صحابہ نے پوچھا: وہ کیسے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’ایک آدمی کے پاس دو درہم تھے، اس نے ایک درہم صدقہ کر دیا اور ایک آدمی اپنے بڑی مقدار والے مال کی طرف گیا اور اس میں سے ایک لاکھ درہم صدقہ کیا۔‘‘ (نسائی: ۲۵۲۷) معلوم ہوا کہ فقیر اور کم سرمائے والے آدمی کو بھی اپنی حیثیت کے مطابق اس کارِ خیر میں حصہ لینا چاہیے۔
3616
Zaeef
جسم کے صدقہ کا بیان
۔ (۳۶۱۷) عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ اَبِی لُبَابَۃَ اَخْبَرَہٗاَنَّاَبَالُبَابَۃَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ لَمَّا تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ مِنْ تَوْبَتِیْ اَنْ اَہْجُرَ دَارَقوَمْیِ وَاُسَاکِنَکَ وَاَنْ اَنْخَلِعَ مِنْ مَالِیْ صَدَقَۃً لِّلّٰہِ وَلِرَسُوْلِہِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُجْزِیئُ عَنْکَ الثلُثُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۷۸)
۔ سیدنا ابولبابہ بن عبد المنذر سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری توبہ قبول ہو نے کا تقاضا یہ ہے کہ میں اپنی قوم کا گھر چھوڑ دوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رہوں اور اپنا تمام مال اللہ اور اس کے رسول کے لئے صدقہ کردوں۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک تہائی مال صدقہ کر دینا تجھے کفایت کرے گا۔
Takhreej
(۳۶۱۷) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، الحسین بن السائب، روی عنہ اثنان، وذکرہ ابن حبان فی ’’الثقات‘‘۔ اخرجہ ابوداود: ۳۳۱۹، ۳۳۲۰(انظر: ۱۶۰۸۰)
Explanation
فوائد:… جب سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کی توبہ قبول ہوئی تھی تو انھوں نے بھی سارے مال کا صدقہ کرنے کا اظہار کیا تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مقدار کو کم کرنے کی ترغیب دی تھی، پھر ان کی بات مال کی ایک تہائی مقدار کو صدقہ کرنے پر طے ہوئی تھی۔ (ملاحظہ ہو: بخاری: ۴۴۱۸، مسلم: ۲۷۶۹، ابوداود: ۳۳۲۱) زندگی میں نصف، دوتہائی بلکہ سارا مال بھی صدقہ کر دینا درست ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ صدقہ وصول کرنے والا حاکم یا اس کا مسئول حکیم، دانا اور عاقبت اندیش ہو، وہ یہ سمجھتا ہو کہ اس آدمی کا مزاج کیسا ہے، یہ بڑی مقدار میں صدقہ کرنے پر کیوں آمادہ ہو گیا ہے، بظاہر اس کے حق میں اس کا کیا انجام ہو گا، اس کے بعد اس کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے، یہ کتنے اور کون کون سے لوگوں کا کفیل ہے، اِن چیزوں کو مدنظر رکھ کر حاکم خود ایک مقدار کا فیصلہ کر سکتاہے۔ مال خرچ کرنے والے کو اپنے ورثاء کا لحاظ رکھنا چاہیے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اپنے ورثاء کو مالدار حالت میں چھوڑے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تو ان کو اس طرح چھوڑے کہ وہ تنگ دست اور فقیر ہوں۔ اور وہ لوگوں کے آگے دست سوال دراز کریں۔(بخاری: ۲۷۴۲، مسلم: ۱۶۲۸) آپ نے یہ بھی فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد بھی آدمی کے پاس مال باقی رہے۔ (بخاری: ۱۴۲۶) صدقہ وصول کرنے والے کو بھی مال خرچ کرنے والے کے حالات کو سامنے رکھ کر اچھا مشورہ دینا چاہیے جیسا کہ صاحب فوائد فاضل بھائی نے بھی آگے لکھا ہے، ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کے واقعہ (ترمذی: ۳۶۷۵) سے سارا مال خرچ کرنے کا استدلال کرتے ہیں لیکن اس میں یہ ہے کہ انہوں نے گھر میں موجود سارا مال پیش کیا تھا نہ کہ گھر سمیت تمام جائیداد پیش کی تھی۔ اس لیے سارا مال خرچ کی کوئی دلیل نہیں ہے، اس سے بچنا چاہیے۔ (عبداللہ رفیق)
3617
Zaeef
جسم کے صدقہ کا بیان
۔ (۳۶۱۸) عن اَبِی السَّلِیْلِ قَالَ: وَقَفَ عَلَیْنَا رَجُلٌ فِی مَجْلِسِنَا بِالْبَقِیْعِ فَقَالَ: حَدَّثَنِی اَبِیْ اَوْ عَمِّی اَنَّہُ رَاٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْبَقِیْعِ وَہُوَ یَقُوْلُ: ((مَنْ یَتَصَدَّقُ بِصَدََقَۃٍ اَشْہَدُ لَہُ بِہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: فَحَلَلْتْ مِنْ عِمَامَتِی لَوْثًا اَوْ لَوْثَیْنِ وَأَنَا اُرِیْدُ اَنْ اَتَصَدَّقَ بِہِمَا، فاَدْرَکَنِی مَا یُدْرِکُ بَنیِ آدَمَ، فَعَقَدْتُّ عَلَیَّ عِمَامَتِیْ، فَجَائَ رَجُلٌ وَلَمْ اَرَ بِالْبَقِیْعِ رَجُلاً اَشَدَّ سَوَادًا اَصْفَرَ مِنْہُ وَلَا آدَمَ یَعْبُرُ بِنَاقَۃٍ لَمْ اَرَ بِالْبَقِیْعِ نَاقَۃً اَحْسَنَ مِنْہَا، فَقَالَ: یاَ رسَوُلَ اللّٰہِ! اَصَدَقَۃً؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قاَلَ: دُوْنَکَ ھٰذِہِ النَّاَقَۃَ، قَالَ: فَلَمَزہٗرَجُلٌفَقَالَ: ھٰذَا یَتَصَدَّقُ بِھٰذِہٖ؟فَوَاللّٰہِ! لَہِیَ خَیْرٌ مِنْہُ، قَالَ: فَسَمِعَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِوَعَلٰی وآلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((کَذَبْتَ ، بَلْ ہُوَ خَیْرٌ مِنْکَ وَمِنْہَا۔)) ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَالَ: ((وَیْلٌ لِاَصْحَابِ الْمِئِینَ مِنَ الإِبِلِ۔)) ثَلَاثًا، قَالُوْا: إِلاَّ مَنْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ ہٰکَذَا وَہٰکَذَا۔)) وَجَمَعَ بَیْنَ کَفَّیْہِ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ، ثُمَّ قَالَ: ((قَدْ اَفْلَحَ الْمُزْہِدُ الْمُجْہِدُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۳۰)
۔ ابو سلیل کہتے ہیں: ہم بقیع میں تھے کہ ہمارے پاس ایک آدمی آ کھڑاہوا اور اس نے کہا کہ میرے والد یا چچا نے مجھے بیان کیا کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بقیع مقام پر دیکھا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ فرما رہے تھے: کیا کوئی ہے جو صدقہ کرے، تاکہ میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہیدوں؟ میرے والد یا چچا نے کہا: میں نے بھی اپنی پگڑی کے ایک دو بل کھولے تاکہ وہی صدقہ کر دوں، لیکن پھر مجھے اسی چیز نے آ لیا، جو بنو آدم کو گھیر لیتی ہے، چنانچہ میں نے وہی پگڑی دوبارہ سر پر لپیٹ لی۔ اتنے میں ایک آدمی آیا، میں نے بقیع میں اس سے زیادہ کالے اورگندمی رنگ کا کوئی شخص نہیں دیکھا تھا، اس کے پاس ایک عمدہ اونٹنی تھی، میں نے بقیع کے علاقہ میں اس سے زیادہ عمدہ اور خوبصورت اونٹنی نہیں دیکھی تھی۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کا ارادہ صدقے کا تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: توپھر یہ اونٹنی قبول فرمایئے۔ ایک آدمی نے کہا: کیایہ شخص اتنی عمدہ اونٹنی صدقہ کر رہا ہے، اللہ کی قسم ہے کہ اس کی اونٹنی اس سے زیادہ عمدہ ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی بات سن لی اور تین بار فرمایا: تو غلط کہہ رہا ہے، بلکہ وہ صدقہ کرنے والا تجھ سے بھی بہتر ہے اور اس اونٹنی سے بھی بہتر ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سینکڑوں اونٹوں والوں کے لئے ہلاک ہے۔ یہ بھی تین مرتبہ فرمایا، صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ان میں سے مستثنیٰ کون ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں جو آدمی اپنا مال اس طرح تقسیم کرتا ہے، اس طرح لٹاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دونوں ہھتیلیوں کو جمع کرکے دائیں بائیں ڈالا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ فرد کامیاب ہو گیا، جو تھوڑے مال والا ہے اور عبادت میں اپنے آپ کو کھپا دینے والا ہے۔
Takhreej
(۳۶۱۸) تخر یـج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ الراوی عنہ ابو السلیل، واذا کان ھذا مجھولا فأبوہ أو عمہ مجھول مثلہ (انظر: ۲۰۳۶۰)
Explanation
فوائد:… ’’لیکن پھر مجھے اسی چیز نے آ لیا، جو بنو آدم کو گھیر لیتی ہے۔‘‘اس کا مفہوم حریص ہونا اور معمولی مقدار کا ناکافی سمجھنا ہے۔ ان لوگوں کی مذمت ہے جو کثیر المال ہونے کے باوجود بخل کرتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، مال کی کثرت کا تقاضا یہ ہے کہ صدقہ کی مقدار بھی زیادہ ہو، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
3618
Zaeef
اس آدمی کا بیان جسے دو کپڑے بطورِ صدقہ دیئے گئے، لیکن اس نے ان میں سے ایک کپڑا صدقہ کی نیت سے ڈال دیا
۔ (۳۶۱۹) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ یَوْمَ الْجُمْعَۃِ وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ، فَدَعَاہُ فَاَمَرَہُ اَنْ یصُلِّیَ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَۃَ الثَّانِیَۃَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ فَدَعَاہُ فَاَمَرَہُ، ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَۃَ الثَّاِلَثۃَ فَاَمَرَہُ اَنْ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ قَالَ: ((تَصَدَّقُوْا۔)) فَفَعَلُوْا، فَاَعْطَاہُ ثَوْبَیْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوْا، ثُمَّ قَالَ: ((تَصَدَّقُوْا۔)) فَاَلْقٰی اَحَدَ ثَوْبَیْہِ، فَانْتَہَرَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَرِہَ مَا صَنَعَ ، ثُمَّ قَالَ: ((اُنْظُرُوْا إِلٰی ھٰذَا فَإِنَّہُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فِی ہَیْئَۃٍ بَذَّۃٍ، فَدَعَوْتُہُ فَرَجَوْتُ اَنْ تُعْطُوْا لَہُ فَتَصَدَّقُوا عَلَیْہِ وَتَکْسُوْہُ فَلَمْ تَفْعَلُوْا، فَقُلْتُ: تَصَدَّقُوْا فَتَصَدَّقُوْا، فَاَعْطَیْتُہُ ثَوْبَیْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوْا، ثُمَّ قُلْتُ: تَصَدَّقُوْا فَاَلْقٰی اَحَدَ ثَوْبَیْہِ، خُذْ ثَوْبَکَ۔)) وَانْتَہَرَہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۲۱۵)
۔ سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ جمعہ کے روز ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا ، جبکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بلایا اور دو رکعت نماز پڑھنے کا حکم دیا، وہ اگلے جمعہ کو بھی آیا تھا، اس وقت بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پہلے کی طرح اسے بلایا اور (دو رکعت نماز پڑھنے کا) حکم دیا، پھر وہ تیسرے جمعہ کو بھی آیا،اس وقت بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے دو رکعت نماز ادا کرنے کا حکم دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صدقہ کرو۔ لوگوں نے ایسے ہی کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جمع شدہ صدقات میں سے دو کپڑے اس شخص کو بھی دیئے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: صدقہ کرو۔ تو اس نے بھی انہیں ہی دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا صدقہ میں دے دیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ڈانٹا اور اس کے فعل پر ناگواری کا اظہار کیا اور فرمایا: اس کو دیکھو،یہ انتہائی کسمپرسی والی حالت میں مسجد میںآیا،میں نے اس کو بلایا، کیونکہ مجھے یہ امید تھی کہ تم اس کی حالت دیکھ کر اس پر صدقہ کرتے ہوئے اسے کچھ دو گے اور اسے لباس عطا کرو گے، لیکن تم نے ایسے نہیں کیا، اس لے میں نے تمہیں کہا: صدقہ کرو، پھر تم نے جو صدقہ کیا، اس میں سے میں نے اس کو دوکپڑے دیئے، میں نے پھر تم سے کہا کہ صدقہ کرو، اب کی بار اس نے بھی ان دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا صدقے میں دیا۔پکڑ لے اپنا کپڑا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو ڈانٹا۔
Takhreej
(۳۶۱۹) تخر یـج: اسنادہ قوی۔ اخرجہ ابوداود: ۱۶۷۵، والترمذی: ۵۱۱، والنسائی: ۳/ ۱۰۶، وابن ماجہ: ۱۱۱۳(انظر: ۱۱۱۹۷)
Explanation
فوائد:… دونوں موقعوں پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اس بندے کو حکم دینا کہ وہ دو رکعتیں ادا کر کے بیٹھے، اس سے تحیۃ المسجد کی اہمیت ثابت ہو رہی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دورانِ خطبہ حکم دے رہے ہیں اور خطبہ کے باوجود اس کو یہ حق ادا کرنے کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ چونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقیروں کے ساتھ نرم اور ان کی مصلحتوں کے حریص تھے، اس لیے اس فقیر پر صدقہ کرنے کی لوگوں کو ترغیب دلائی۔ اسی فقیر کو صدقہ کرنے کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اس کو ڈانٹ دینا، اس سے درج ذیل دو اہم باتیں ثابت ہوتی ہیں: (۲) اگر کوئی شخص کسی چیز کا خود حقیقی محتاج ہو تو وہ اس کا صدقہ نہ کرے۔ (۱) حاکم کو دانا اور حکیم ہونا چاہیے تاکہ وہ اس مسئلے میں یہ فیصلہ کر سکے کہ کون سے آدمی سے کس قسم کا صدقہ نہیں لینا چاہیے۔
3619
Sahih
شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
۔ (۳۶۲۰) عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَیْنَبَ اِمْرَاَۃِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّہَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ لِلنِّسَائِ: ((تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِیِّکُنَّ (وَفِی رِوَایَۃٍ: قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَامَعْشَرَ النِّسَائِ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِیِّکُنَّ فَإِنَّکُنَّ اَکْثَرُ اَہْلِ جَہَنَّمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَتْ: فَکَانَ عَبْدُاللّٰہِ خَفِیْفَ ذَاتِ الْیَدِ، فَقَالَتْ لَہُ: اَیَسَعُنِیْ اَنْ اَضَعَ صَدَقَتِیْ فِیْکَ، وَفِی بَنِیْ اَخِیْ اَوْ بَنِیْ اَخٍ لِیْیَتَامٰی، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: سَلِی عَنْ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: فَاَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَإِذَا عَلٰی بَابِہِ امْرَاَۃٌ مِنَ الْاَنْصَارِ یُقَالُ لَہَا زَیْنَبُ تَسْاَلُ عَمَّا اَسْاَلُ عَنْہُ، فَخَرَجَ إِلَیْنَا بِلَالٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقُلْنَا: اِنْطَلِقْ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَلْہُ عَنْ ذٰلِکَ وَلَا تُخْبِرْ مَنْ نَحْنُ، فَانْطَلَقَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَنْ ہُمَا؟)) فَقَالَ: زَیْنَبُ، فَقَالَ: ((اَیُّ الزَّیَانِبِ؟)) فَقَالَ: زَیْنَبُ اِمْرَاَۃُ عَبْدِ اللّٰہِ وَزَیْنَبُ الْاَنْصَارِیَّۃُ، فَقَالَ: ((نَعَمْ لَہُمَا اَجْرَانِ، اَجْرُ القَرَابَۃِ وَاَجْرُ الصَّدَقَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۸۰)
۔ عمرو بن حارث کہتے ہیں کہ سیدہ زینب زوجہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خواتین سے فرمایا: صدقہ کیا کرو، اگرچہ وہ تمہارے زیورات کی صورت میں ہو، ایک روایت میں ہے: وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، اگرچہ وہ اپنے زیورات سے ہی دینا پڑے، کیونکہ قیامت کے دن جہنم کی اکثریت تم ہو گی۔ سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میرے شوہر سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تنگ دست تھے، ایک دن میں نے ان سے کہا: کیایہ ہو سکتا ہے میں اپنا صدقہ آپ اور اپنے یتیم بھتیجوں کو دے دوں؟ انھوں نے جواباً کہا: تم یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھ کر آئو، چنانچہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چلی گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دروازے پر زینب نامی ایک انصاری خاتون پہلے سے بیٹھی تھی، اس کا سوال بھی وہی تھا، جس کے بارے میں میں پوچھنے گئی تھی، بہرحال سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ باہر آئے اور ہم نے ان سے کہا: تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جاؤ اور ہمارے اس مسئلے کے بارے میں دریافت کرو، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ہمارے بارے میں نہیں بتانا کہ ہم کون ہیں، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں چلے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا کہ یہ عورتیں کون ہیں؟ انہوں نے کہا : سیدہ زینب، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کونسی زینب؟ انھوں نے کہا: ایک تو سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اہلیہ ہے اور دوسری زینب انصاری ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ اپنے شوہروں کو صدقہ دے سکتی ہیں، بلکہ انہیں دواجر ملیں گے، ایک رشتہ داری کا اور دوسرا صدقہ کرنے کا۔
Takhreej
(۳۶۲۰) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۴۶۶، ومسلم: ۱۰۰۰(انظر: ۱۶۰۸۲)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کی بیوی کا نام زینب تھا، لیکن ان کو رائطہ بھی کہتے تھے، اس نام کا ذکر اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔ مالدار لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے صدقہ کے لیے محتاج رشتہ داروں کو ترجیح دیں، اگرچہ عصر حاضر کا معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے، آج کل جو جتنا بڑا سرمایہ دار ہو گا، وہ اتنا ہی اپنے غریب رشتہ داروں سے دور ہونے کی کوشش کرے گا۔ بیوی اپنے شوہر کو زکوۃ کا مال دے سکتی ہے، لیکن شوہر اپنی زکوۃ کی رقم بیوی پر خرچ نہیں کر سکتا ہے، کیونکہ وہ اس کی کفالت کا شرعی طور پر ذمہ دار ہے۔
3620
Sahih
شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
۔ (۳۶۲۱) عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَہَ عَنْ رَائِطَۃَ اِمْرَاَۃِ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ وَاُمِّ وَلَدِہِ وَکَانَتِ امْرَاَۃٌ صَنَّاعَ الیَدِ، قَالَ: فَکَانَتْ تُنْفِقُ عَلَیْہِ وَعَلٰی وَلَدِہِ مِنْ صَنْعَتِہَا، قَالَتْ: فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ: لَقَدْ شَغَلْتَنِیْ اَنْتَ وَوَلَدُکَ عَنِ الصَّدَقَۃِ فَمَا اَسْتَطِیْعُ اَنْ اَتَصَدَّقَ مَعَکُمْ بِشَیْئٍ، فَقَالَ لَہَا عَبْدُ اللّٰہِ: وَاللّٰہِ! مَا اُحِبُّ إِنْ لَمْ یَکُنْ فِی ذٰلِکَ اَجْرٌ اَنْ تَفْعَلِیْ، فَاَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ اِمْرَاَۃٌ ذَاتُ صَنْعَۃٍ اَبِیْعُ مِنْہَا وَلَیْسَ لِیْ وَلَالِوَلَدِیْ وَلَا لِزَوْجِیْ نَفَقَۃٌ غَیْرُہَا، وَقَدْ شَغَلُوْنِیْ عَنِ الصَّدَقَۃِ، فَمَا اَسْتَطِیْعُ بِشَیْئٍ فَہَلْ لِیْ مِنْ اَجْرٍ فِیْمَا اَنْفَقْتُ؟ قَالَ: فَقَالَ لَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنْفِقِیْ عَلَیْہِمْ فَإِنَّ لَکِ فِیْ ذَالِکِ اَجْرٌ مَا اَنْفَقْتِ عَلَیْہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۸۴)
۔ سیدہ رائطہ زوجہ عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، جو کہ ان کے بچوں کی ماں بھی تھیں، سے مروی ہے کہ وہ ایک ہنر مند خاتون تھی اور اپنے ہنر کی کمائی میں سے اپنے خاوند اور اس کی اولاد پر خرچ کرتی تھی، وہ کہتی ہیں: ایک دن میں نے اپنے خاوند سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ نے اور آپ کی اولاد نے مجھے صدقہ کرنے سے محروم کر رکھا ہے، آپ لوگوں کی وجہ سے میں کوئی چیز صدقہ نہیں کرسکتی۔ آگے سے سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: اگر تمہیں اس میں اجر نہیں ملتا کہ میں تمہارے لیے اس صدقہ کو پسند نہیں کرتا، یہ سن کر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں چلی گئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایک ہنر خاتون ہوں اور چیزیں بنا کر فروخت کرتی ہوں، لیکن میری اور میری اولاد اور شوہر کا اس کے علاوہ کوئی ذریعۂ آمدن نہیں ہے، اس لیے میں ان لوگوں پر خرچ کرنے کی وجہ سے صدقہ کرنے سے محروم رہتی ہوں، تو کیا ان لوگوں پر خرچ کرنے سے مجھے اجر ملے گا؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ان پر خرچ کیا کرو، کیونکہ تم ان پر جس قدر خرچ کرو گی، تمہیں ثواب ملے گا۔
Takhreej
(۳۶۲۱) تخر یـج: انظر الحدیث السابق، وھذا نحوہ
3621
Sahih
شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
۔ (۳۶۲۲) عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا اَطْعَمْتَ نَفْسَکَ فَہُوَلَکَ صَدَقَۃٌ، وَمَا اَطْعَمْتَ وَلَدَکَ فَہُوَ لَکَ صَدَقَۃٌ، وَمَا اَطْعَمْتَ زَوْجَکَ فَہُوَ لَکَ صَدَقَۃٌ، وَمَا اَطْعَمْتَ خَادِمَکَ فَہُوَ لَکَ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۱۱)
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے آپ کو جو کھلاؤ گے، وہ تمہارے لیے صدقہ ہو گا، تم اپنی اولاد کو جو کچھ کھلائو گے، وہ بھی تمہاری طرف سے صدقہ ہو گا،تم اپنی بیوی کو جو کچھ کھلائو گے، وہ بھی تمہارا صدقہ ہو گا اور تم اپنے خادم کو جو کچھ کھلاؤ گے، وہ بھی تمہاری طرف سے صدقہ ہو گا۔
Takhreej
(۳۶۲۲) تخر یـج: حدیث حسن۔ اخرجہ ابن ماجہ: ۲۱۳۸(انظر: ۱۷۱۷۹)
Explanation
فوائد:… جب آدمی اپنی ذات اور بالخصوص اپنی اولاد، بیوی اور خادم پر خرچ کرے تو اس کے ذہن میں یہ تصور ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے ماتحت افراد کی کفالت کر رہا ہے، ان اخراجات کو محض متعلقہ لوگوں کے مطالبات کا تقاضا نہیں سمجھنا چاہیے۔
3622
Sahih
شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
۔ (۳۶۲۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا کَانَ اَحَدُکُمْ فَقِیْرًا، فَلْیَبْدَأْ بِنَفْسِہٖ،وَإِنْکَانَفَضْلٌ فَعَلٰی عِیَالِہٖ، وَإِنْ کَانَ فَضْلٌ فَعَلٰی ذَوِیْ قَرَابَتِہٖاَوْقَالَ،عَلٰی ذَوِیْ رَحِمِہٖ،وَإِنْکَانَفَضْلٌفَہَاہُنَاوَہٰہُنَا)) (مسنداحمد: ۱۴۳۲۴)
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی خود ضرورت مند ہو تو وہ اپنے آپ پر خرچ کرنے سے ابتدا کرے، اگر اس سے کچھ بچ جائے تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، اگر پھر بھی مال بچ جائے تو دوسرے رشتہ داروں پر خرچ کرے اور اگر مزید گنجائش ہو تو ادھر ادھر دوسرے ضرورت مندوں پر خرچ کرے۔
Takhreej
(۳۶۲۳) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۹۹۷(انظر: ۱۴۲۷۳)
3623
Sahih
شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
۔ (۳۶۲۴) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃ َ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَصَدَّقُوْا۔)) قَالَ: رَجُلٌ عِنْدِی دِیْنَارٌ، قَالَ: ((تَصَدَّقْ بِہِ عَلٰی نَفْسِکَ۔)) قَالَ: عِنْدِی دِیْنَارٌ آخَرُ، قَالَ: ((تَصَدَّقْ بِہِ عَلٰی زَوْجَتِکَ۔)) قَالَ: عِنْدِی دِیْنَارٌ آخَرُ، قَالَ: ((تَصَدَّقْ بِہِ عَلَی وَلَدِکَ۔)) قاَلَ عِنْدِی دِیْنَارٌ آخَرُ، قَالَ: ((تَصَدَّقْ بِہِ عَلٰی خَادِمِکَ۔)) قَالَ: عِنْدِی دِیْنَارٌ آخَرُ، قَالَ: ((اَنْتَ اَبْصَرُ۔)) (مسند احمد: ۷۴۱۳)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! صدقہ کرو۔ ایک آدمی نے کہا: میرے پاس ایک دینار ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو اپنے آپ پر خرچ کر۔ اس نے کہا، میرے پاس ایک دینار اور ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ اپنی بیوی پر صدقہ کرو۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک دینار اور ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے اپنی اولاد پر صدقہ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک دینار اور ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے اپنے خادم پر خرچ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک دینار اور ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب تو خود بہتر جانتا ہے۔
Takhreej
(۳۶۲۴) تخر یـج: اسنادہ قوی۔ اخرجہ ابوداود: ۱۶۹۱ (انظر: ۷۴۱۹)
Explanation
فوائد:… ’’اب تو خود بہتر جانتا ہے۔‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کو یہ علم ہوتا ہے کہ اس کے رشتہ داروں میں کون کس قدر محتاج ہے یا شریعت کی روشنی میں کس کو ترجیح دینی چاہیےیا دوسری نیکیوں کی کیا صورتحال ہے۔ اپنی بیوی بچوں سے اخراجات کا سلسلہ شروع کرنے سے ان کا پر تکلف طرزِ حیات مراد نہیں ہے، جیسا کہ آج کل اکثر لوگوں کی عادت بن چکی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو درست ہو گا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی زندگی میں جتنی عبادات سر انجام دیں، ان میں سب سے زیادہ مقدار صدقہ و خیرات کی تھی ۔
3624
Sahih
شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
۔ (۳۶۲۵) عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍِالضَّبِّیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الصَّدَقَۃُ عَلَی الْمِسْکِیْنِ صَدَقَۃٌ، وَعَلٰی ذِی الْقَرَابَۃِ اثْنَتَانِ، صِلَۃٌ وَصَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۳۱)
۔ سیدناسلیمان بن عامر ضبی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسکین پر صدقہ کرنے سے صرف صدقے کا ثواب ملتا ہے اور رشتہ دار پر صدقہ کرنے سے دو اجر ملتے ہیں، ایک صلہ رحمی کا اور دوسرا صدقے کا۔
Takhreej
(۳۶۲۵) حدیث صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الترمذی: ۶۵۸، ۶۹۵، ابن ماجہ: ۱۸۴۴، والنسائی: ۵/ ۹۲(انظر: ۱۶۲۲۷)
3625
Sahih
نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
۔ (۳۶۲۶) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِ وَمَثَلُ الْإِیْمَانِ کَمَثَلِ الْفَرَسِ فِی آخِیَّتِہِ،یَجُوْلُ ثُمَّیَرْجِعُ إِلَی آخِیَّتِہِِ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ یَسْہُوْ ثُمَّ یَرْجِعُ إِلَی الإِیْمَانِ فَاَطْعِمُوْا طَعَامَکُمْ الْاَتْقِیَائَ وَاَوْلُوْا مَعْرُوْفَکُمْ الْمُؤْمِنِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۴۶)
۔ سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن اورایمان کی مثال اس گھوڑے کی سی ہے جسے اس کے کھونٹے پر باندھ دیا گیا ہو، وہ اِدھر اُدھر چکر کاٹ کر کھونٹے کے پاس آ کر کھڑا ہو جاتا ہے، اسی طرح مومن بھی بھول تو جاتا ہے، لیکن پھر وہ ایمان کی طرف لوٹ آتا ہے، تم نیک لوگوں کو کھانا کھلایا کرو اور اہل ایمان کو ہر قسم کی نیکی سے نوازا کرو۔
Takhreej
(۳۶۲۶) اسنادہ ضعیف، ابو سلیمان اللیثی مجھول، وعبد اللہ بن الولید لین الحدیث، قالہ ابن حجر وقال الدار قطنی: لایُعتبر بہ۔ اخرجہ ابن حبان: ۶۱۶، والبیھقی فی ’’الشعب‘‘: ۱۰۹۶۴(انظر: ۱۱۵۲۶)
Explanation
فوائد:… مؤمن کا اصل ایمان تو ثابت ہی رہتا ہے، بسااوقات بھول جاتاہے اور اپنے مرکز کو چھوڑ کر گناہوں کی گھاٹیوں میں پھرنے لگتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ سے دور ہو جاتا ہے، لیکن پھر جب اسے اصل احساس ہوتا ہے تو اپنے کیے پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ربّ کی طرف واپس آ جاتا ہے۔
3626
Zaeef
نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
۔ (۳۶۲۷) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ اَخْرَجَ صَدَقَۃً فَلَمْ یَجِدْ إِلاَّ بَرْبَرِیًّا، فَلْیَرُدَّہَا۔)) (مسند احمد: ۷۰۶۴)
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کوئی صدقہ کرنے کا ارادہ کرے، لیکن اگر اسے صرف بے دین قسم کا بندہ ہی ملے تو وہ اپنا صدقہ واپس لے جائے۔
Takhreej
(۳۶۲۷) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، ابن لھیعۃ سییٔ الحفظ (انظر: ۷۰۶۴)
Explanation
فوائد:… تالیف ِ قلبی کی نیت سے برے لوگوں بلکہ کافروں کی بھی صدقہ و زکوۃ سے امداد کی جا سکتی ہے، تالیف ِ قلبی کی صورتوں کی وضاحت حدیث نمبر (۳۴۶۷) والے باب میں ہو چکی ہے۔
3627
Zaeef

Chapters

34
01
زکوۃ ادا کرنے میں جلدی کرنے، وقت سے پہلے ادا کردینے اور امام کا زکوۃ دینے والے کے حق میں دعا کرنے کا بیان
7 Hadith
02
اس امر کا بیان کہ انسان کسی کو مستحق سمجھ کرصدقہ ادا کر دے، لیکن بعد میں پتہ چلے کہ وہ صدقہ کا مستحق نہ تھا
3 Hadith
03
مالک کے ساتھ نرمی کرنے اور زکوۃ وصول کرنے والے نمائندے کا خود اس کی طرف چلے جانے اور اس پر زیادتی نہ کرنے کا بیان
3 Hadith
04
زکوۃ وصول کنندہ کو راضی کرنا
3 Hadith
05
حقیر قسم کی چیز کا قصد کرنے اور اس کا صدقہ کرنے کی کراہت اور عمدہ چیز کا صدقہ کرنے کی فضلیت کی بیان
6 Hadith
06
حکمران کا کسی مصلحت کی بنا پر بعض لوگوں کو دینا اور بعض کو محروم کر دینا
3 Hadith
07
فقیر اور مسکین کا بیان
7 Hadith
08
عاملینِ زکوۃ
7 Hadith
09
ان لوگوںکا بیان، جن کو تالیف ِ قلبی کے لیے زکوۃ دی جاتی ہے
3 Hadith
10
غلاموں کی آزادی پر زکوۃ صرف کرنا
2 Hadith
11
قرض داروں کو زکوۃ دینا
5 Hadith
12
اللہ کی راہ میں اور مسافروں کو صدقہ دینے اور مصارفِ زکوٰۃ کی تمام اصناف کو صدقہ دینے کا بیان
3 Hadith
13
بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌
15 Hadith
14
صدقہ میں خیانت کرنے اور ایسا کرنے والے کے لئے وعید کا بیان
20 Hadith
15
اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان
8 Hadith
16
بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
11 Hadith
17
سوال کرنے سے بچنے اور اس کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
18
سوال نہ کرنے پر بیعت کرنا
3 Hadith
19
اگر بن مانگے کچھ مل جانے تو اسے قبول کر لینے اور اگر مانگنے کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو تو نیک لوگوں سے سوال کر لینے کا بیان
5 Hadith
20
سائل کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے اور خواہ وہ گھوڑے پر آئے، اس کو کچھ نہ کچھ دینے کا بیان
6 Hadith
21
اللہ تعالیٰ کے نام پر یا اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر سوال کرنے کا بیان
8 Hadith
22
صدقہ فطر کی مشروعیت اور حکم کا اور جن لوگوں پر یہ فرض ہے، ان کا بیان
6 Hadith
23
گندم کے نصف صاع کی روایت بیان کرنے والے
6 Hadith
24
صدقۂ فطر دینے کے وقت کا بیان
20 Hadith
25
سب سے زیادہ فضیلت والے صدقے کا بیان
5 Hadith
26
عاریۃً دی ہوئی چیزکا بیان
3 Hadith
27
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
28
جسم کے صدقہ کا بیان
8 Hadith
29
اس آدمی کا بیان جسے دو کپڑے بطورِ صدقہ دیئے گئے، لیکن اس نے ان میں سے ایک کپڑا صدقہ کی نیت سے ڈال دیا
1 Hadith
30
شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
6 Hadith
31
نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
2 Hadith
32
بیوی کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے صدقہ کرنے کا بیان
3 Hadith
33
مخفی طور پر صدقہ کرنے کی فضیلت
3 Hadith
34
صدقہ جاریہ کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.