۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صدقہ کرے۔ اس نے کہا: اگر آدمی میں صدقہ کرنے کی طاقت نہ ہو تو وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنے ہاتھ سے کام کرکے خود بھی فائدہ اٹھائے اور صدقہ بھی کرے۔ اس نے کہا: اگر کسی میں کام کرنے کی طاقت نہ ہو تووہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ پھر کسی مجبور ضرور مند کی مدد کر دے۔ اس نے کہا: اگر وہ یہ بھی نہ کر سکے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اچھائی کا یا عدل کا حکم دے دیا کرے۔ اس نے کہا: اگر اس میں اس کی استطاعت بھی نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ برائی سے بچے، یہ بھی اس کے لئے صدقہ ہی ہے۔
فوائد:… دور کوئی بھی ہو، مزاج اور حالات جیسے بھی ہوں، شریعت نے ہر زمان و مکاں سے نبٹنے کے لیے اہل اسلام کی مکمل رہنمائی کی ہے، انہی حالات و ظروف کو مد نظر رکھ کر ہر انسان سے باز پرس کی جائے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جن حالات سے گزر رہے ہوں، ان کا احکامِ شریعت کے ساتھ موازنہ کریں اور اپنے لیے راہِ نجات تلاش کریں۔ بعض لوگوں کییہ عادت ہوتی ہے کہ وہ ہر وقت زبان سے مجبوریوں کا، شکووں کا اور حالات کے ناسازگار ہونے کا اظہار کرتے رہتے ہیں، ایسے بے صبروں کو عقل کے ناخن لینے چاہئیں اور یہ سمجھ لینا چاہیے کہ زبان سے ادا کر دی جانے والی مجبوریوں اور شکووں کو اخروی زندگی میں بطورِ بہانہ پیش نہیں کیا جا سکتا۔ان لوگوں کو چاہیے کہ اسلامی احکام کی روشنی میں اپنے حالات کے مطابق کوئی راہِ ہدایت تلاش کریں اور اس معاملے میں کسی اہل علم سے رابطہ کریں۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کم از کم مسلمان کے شایانِ شان یہ بات ہے کہ وہ شرّ سے رکا رہے۔ ’’اَلْمَلْہُوْف‘‘ کا معنی ستم رسیدہ، حسرت زدہ، مجبور اور مظلوم ہے۔
۔ سیدنابریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انسانی جسم میں (۳۶۰) جوڑ ہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزانہ ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ کرے۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! روزانہ ہر جوڑ کی طرف سے اتنا صدقہ کون کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں پڑی ہوئی تھوک کو وہیں دبا دینا بھی صدقہ ہے، راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا بھی صدقہ ہے اور اگر تجھے یہ اعمال کرنے کی طاقت بھی نہ ہو تو چاشت کی دو رکعتیں تجھ سے کفایت کریں گی (اور سارے جوڑوں کا صدقہ ادا ہو جائے گا)۔
فوائد:… انسان کے اندر جوڑوں کا نظام، یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے، اسی نظام کی وساطت سے انسان کا اٹھنا، بیٹھنا، چلنا، پکڑنا، بولنا وغیرہ ممکن ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ کرنا چاہیے، جس کی مقدار ایک آسان سی نیکی ہے اور اس صدقہ کی سب سے بہترین صورت نماز چاشت کی دو رکعتیں ہیں۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم پر لازم ہے کہ وہ ہر روز صبح کے وقت اپنے ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ کرے۔ یہ بات صحابہ پر شاق گزری، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا لوگوں کو سلام کہنا بھی صدقہ ہے، ایذا دینے والی چیز کو راستے سے ہٹا دینا بھی صدقہ ہے، کسی کونیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کی کئی نیکیوں کا ذکر کیا، لیکن مجھے وہ یاد نہیں ہیں۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزانہ صدقہ کرے، اس کی بعض صورتیںیہ ہیں: دو آدمیوں کے مابین عدل کرنا صدقہ ہے، سوار ہوتے وقت کسی کی مدد کرنا اور اس کو اس کی سواری پر بٹھا دینا صدقہ ہے، کسی کا سامان اس کیسواری پر رکھ دینا صدق ہے، راستے سے ایذا دینے والی چیز کو ہٹا دینا صدقہ ہے، اچھی بات کہنا صدقہ ہے اورنماز کی طرف چلنے والا ہر قدم بھی صدقہ ہے۔
Takhreej
(۳۶۱۳) تخر یـج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… ’’سوار ہوتے وقت کسی کی مدد کرنا اور اس کو اس کی سواری پر بٹھا دینا‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی مریضیا کمزور ہے یا اس کی سواری بغاوت اور شرارت والی ہو، ایسی صورت میں دوسرے مسلمانوں کو اس کا تعاون کرنا چاہیے۔ اس سے ہمیں یہ اندازہ کر لینا چاہیے کہ حقوق العباد کے بارے میں اسلام کا ہم سے کیا مطالبہ ہے۔ لیکن ہماری صورتحال یہ ہے کہ اگر راستے میں کوئی تکلیف دہ چیز پڑھی ہے تو ممکن ہو گا کہ پیدل چلنے والے کو خیال آ جائے اور وہ اس چیز کو ہٹا دے، لیکن اگر کسی سائیکل سوار کی اس چیز پر نظر پڑ جاتی ہے تویہ مشکل ہو گا کہ وہ اتر کر یہ نیکی کرے، موٹر سائیکل والے کے لیےیہ عمل اور مشکل ہو جائے گا اور موٹر کار والے کے لیے ناممکن ہو جائے گا، حقیقتیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے ہمیں دھوکہ ہو گیا ہے اور ان نعمتوں کی وجہ سے ہم نیکیوں والے مزاج سے دور ہو گئے ہیں۔
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ بات دوہرائی کہ ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ روزانہ اپنے اوپر صدقہ کرے۔ اور پھر کہا: اے اللہ کے رسول! میں صدقہ کیسے کروں، ہمارے پاس تو مال ہی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ اور اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ کہنا بھی صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ اورلوگوں کے راستے سے کانٹے، ہڈی اور پتھر وغیرہ کو ہٹا دینا ، نابینا آدمی کو رہنمائی کر دینا، کسی گونگے بہرے کو بات سمجھا دینا، اگر تجھے علم ہو تو کسی ضرورت کے لیے رہنمائی طلب کرنے والے کی رہنمائی کرنا، مدد کے لیے پکارنے والے مصیبت زدہ کی مدد کے لیے تیزی کے ساتھ دوڑ کر جانا اور کمزور کی خوب مدد کرنا، یہ سارے امور تمہاری طرف سے تمہارے لیے صدقہ ہیں، بلکہ اپنی اہلیہ سے جماع کرنا بھی باعث ِ اجر ہے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے لیے میری شہوت میں اجر کیسے ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا تم مجھے بتلاؤ کہ اگر تمہارا بیٹا ہو، وہ بالغ ہو جائے اور تمہیں اس کی طرف سے خیر کی امید ہو، لیکن وہ فوت ہو جائے تو کیا تم اس پر صبر کرو گے؟ میںنے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اسے تم نے پیدا کیا؟ میں نے کہا: جی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اسے ہدایت دی؟ میں نے کہا: جی نہیں، بلکہ اسے تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اسے رزق دیتے رہے؟ میں نے کہا: جی نہیں،بلکہ اللہ تعالیٰ اسے رزق دیتا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بات ایسے ہی ہے، جس طرح بچے کی تمام ضروریات و حاجات اللہ تعالیٰ نے پوری کیں مگر تمہیں اس کی وفات پر اجر و ثواب ہوا پس اسی طرح تم اپنی شرم گاہ کو حلال مقام پر استعمال کرو اور حرام سے بچائو، اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا تو اسے بچا لے گا اور اگر اس نے چاہا تو اسے موت دے دے گا اور تمہیں ثواب ملے گا۔
Takhreej
(۳۶۱۴) تخر یـج:أخرجہ مسلم: ۱۰۰۶(انظر: ۲۱۴۸۴)
Explanation
فوائد:… پوری حدیث ِ مبارکہ واضح ہے، ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کی کے معمولات کا اس سے موازنہ کرے، آخری مسئلہ کی وضاحت یہ ہے کہ ایک باپ نہ تو اپنے بچے کو پیدا کرتا ہے، نہ اس کو رزق دیتا ہے، نہ اس کو ہدایت دیتا ہے، تو پھر اس کی وفات پر وہ اجر کا مستحق کیوں ہے، اس سوال کے جواب میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ گویا کہ یہ کہہ رہے ہیں کہ چونکہ وہ بحیثیت باپ اپنے بچے کے وجود کا سبب ہیں، اس لیے ان کو بھی اجر ملنا چاہیے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جیسے بچے کی وفات پر ثواب کی نیت سے صبر کرنے پر اجر ملتا ہے، اسی طرح بیوی سے ہم بستری کے وقت یہ نیت ہونی چاہیے کہ اس تعلق سے مسلمان بچہ پیدا ہو گا اور وہ میاں بیوی اس حق زوجیت کی وجہ سے زنا اور اس کے لوازمات و مقدّمات سے محفوظ رہیں گے، ان وجوہات کی بنا پر میاں بیوی کو مجامعت میں ثواب بھی ملے گا۔
۔ سیدناعبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے جسم کی طرف سے کوئی چیز صدقہ کرے گا،اللہ تعالیٰ اس کو اس کے گناہوں کی اتنی ہی مقدار کے لیے کفارہ بنا دے گا۔
فوائد:… ان دو ابواب کی احادیث میں جتنے حقوق العباد کا ذکر کیا گیا ہے، اِس وقت امت ِ مسلمہ ان حقوق کی ادائیگی سے بری طرح غافل ہے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ لوگوں کو اپنے سے کم تر خلق اللہ کے حقوق کا شعور ہی نہیں ہے، بیس بیس اور چالیس چالیس لاکھ کی گاڑیوں میں سفر کرنے والوں کے ذہنوں میں اس فکر کی گنجائش ہی نہیں کہ کس غریب کو سائیکل وغیرہ کی ضرورت ہے، ، موٹر سائیکل اور رکشہ کی تو بات کرنا ہی فضول ہے، کن لوگوں کے بچے تعلیم حاصل کرنے کیلئے دور دور سے پیدل چل کر آتے ہیں، کن گھروں کے بچے سکول فیس اور تعلیمی اخراجات برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے گلی محلوں میں وقت ضائع کر رہے ہیں، بلکہ مستقبل کے لیے خوشحال لوگوں کیلئے بڑا خطرہ کی علامت بھی ہیں۔ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے، لوگوں نے اپنے ذہن کے مطابق چند عبادات کو حقیقی اسلام سمجھ لیا، اس سلسلے میں ان کے ذہنوں پر جمود سوار ہے، ان کو اپنی عادات میں تبدیلی لانا گوارا ہی نہیں ہے۔ لیکن جن لوگوں کے بارے میں یہ گزارشات پیش کی جا رہی ہیں، سرے سے وہ ان کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں، کیونکہ جب تک ہم یہ حقیقت سمجھ نہیں پائیں گے کہ اسلام کا ہم سے مطالبہ کیا ہے، اس وقت تک ہم بزعم خود کامل مسلمان ہوں گے اور درج بالا حقائق کو بے سر وپا سمجھیں گے۔
۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تین آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور ان میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک سو دینار تھے اور میں نے ان میں سے دس دینار صدقہ کر دیئے، دوسرے نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس دس دینار تھے، میں نے ان میں سے ایک دینار صدقہ کر دیا۔ تیسرے نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار تھا، میں نے اس کا دسواں حصہ صدقہ کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی باتیں سن کر فرمایا: ثواب کے لحاظ سے تم سب برابر ہو، کیونکہ تم میں سے ہر ایک نے اپنے مال کا دسواں حصہ صدقہ کیا۔
فوائد:… معنوی اعتبار سے اس حدیث ِ مبارکہ میں بیان شدہ مسئلہ درست ہے، کئی احادیث میں کم سرمائے والے آدمی کے معمولی مقدار کے صدقہ کو افضل قرار دیا گیا ہے، درج ذیل حدیث ِ مبارکہ بھی اسی حقیقت کی غماز ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((سَبَقَ دِرْھَمٌ مِائَۃَ اَلْفِ دِرْھَمٍ۔)) قَالُوْا: وَکَیْفَ؟ قَالَ: ((لِرَجُلٍ دِرْہَمَانِ تَصَدَّقَ بِاَحَدِھِمَا وَانْطَلَقَ رَجُلٌ اِلٰی عَرْضِ مَالٍ فَأَخَذَ مِنْہُ مِائَۃَ اَلْفِ دِرْھَمٍ فَتَصَدَّقَ بِہٖ۔)) …ایک درہم، ایک لاکھ درہم سے سبقت لے گیا۔‘‘ صحابہ نے پوچھا: وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’ایک آدمی کے پاس دو درہم تھے، اس نے ایک درہم صدقہ کر دیا اور ایک آدمی اپنے بڑی مقدار والے مال کی طرف گیا اور اس میں سے ایک لاکھ درہم صدقہ کیا۔‘‘ (نسائی: ۲۵۲۷) معلوم ہوا کہ فقیر اور کم سرمائے والے آدمی کو بھی اپنی حیثیت کے مطابق اس کارِ خیر میں حصہ لینا چاہیے۔
۔ سیدنا ابولبابہ بن عبد المنذر سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری توبہ قبول ہو نے کا تقاضا یہ ہے کہ میں اپنی قوم کا گھر چھوڑ دوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہوں اور اپنا تمام مال اللہ اور اس کے رسول کے لئے صدقہ کردوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک تہائی مال صدقہ کر دینا تجھے کفایت کرے گا۔
Takhreej
(۳۶۱۷) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، الحسین بن السائب، روی عنہ اثنان، وذکرہ ابن حبان فی ’’الثقات‘‘۔ اخرجہ ابوداود: ۳۳۱۹، ۳۳۲۰(انظر: ۱۶۰۸۰)
Explanation
فوائد:… جب سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی توبہ قبول ہوئی تھی تو انھوں نے بھی سارے مال کا صدقہ کرنے کا اظہار کیا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقدار کو کم کرنے کی ترغیب دی تھی، پھر ان کی بات مال کی ایک تہائی مقدار کو صدقہ کرنے پر طے ہوئی تھی۔ (ملاحظہ ہو: بخاری: ۴۴۱۸، مسلم: ۲۷۶۹، ابوداود: ۳۳۲۱) زندگی میں نصف، دوتہائی بلکہ سارا مال بھی صدقہ کر دینا درست ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ صدقہ وصول کرنے والا حاکم یا اس کا مسئول حکیم، دانا اور عاقبت اندیش ہو، وہ یہ سمجھتا ہو کہ اس آدمی کا مزاج کیسا ہے، یہ بڑی مقدار میں صدقہ کرنے پر کیوں آمادہ ہو گیا ہے، بظاہر اس کے حق میں اس کا کیا انجام ہو گا، اس کے بعد اس کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے، یہ کتنے اور کون کون سے لوگوں کا کفیل ہے، اِن چیزوں کو مدنظر رکھ کر حاکم خود ایک مقدار کا فیصلہ کر سکتاہے۔
مال خرچ کرنے والے کو اپنے ورثاء کا لحاظ رکھنا چاہیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اپنے ورثاء کو مالدار حالت میں چھوڑے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تو ان کو اس طرح چھوڑے کہ وہ تنگ دست اور فقیر ہوں۔ اور وہ لوگوں کے آگے دست سوال دراز کریں۔(بخاری: ۲۷۴۲، مسلم: ۱۶۲۸)
آپ نے یہ بھی فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد بھی آدمی کے پاس مال باقی رہے۔ (بخاری: ۱۴۲۶)
صدقہ وصول کرنے والے کو بھی مال خرچ کرنے والے کے حالات کو سامنے رکھ کر اچھا مشورہ دینا چاہیے جیسا کہ صاحب فوائد فاضل بھائی نے بھی آگے لکھا ہے، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے واقعہ (ترمذی: ۳۶۷۵)
سے سارا مال خرچ کرنے کا استدلال کرتے ہیں لیکن اس میں یہ ہے کہ انہوں نے گھر میں موجود سارا مال پیش کیا تھا نہ کہ گھر سمیت تمام جائیداد پیش کی تھی۔ اس لیے سارا مال خرچ کی کوئی دلیل نہیں ہے، اس سے بچنا چاہیے۔ (عبداللہ رفیق)
۔ ابو سلیل کہتے ہیں: ہم بقیع میں تھے کہ ہمارے پاس ایک آدمی آ کھڑاہوا اور اس نے کہا کہ میرے والد یا چچا نے مجھے بیان کیا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بقیع مقام پر دیکھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرما رہے تھے: کیا کوئی ہے جو صدقہ کرے، تاکہ میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہیدوں؟ میرے والد یا چچا نے کہا: میں نے بھی اپنی پگڑی کے ایک دو بل کھولے تاکہ وہی صدقہ کر دوں، لیکن پھر مجھے اسی چیز نے آ لیا، جو بنو آدم کو گھیر لیتی ہے، چنانچہ میں نے وہی پگڑی دوبارہ سر پر لپیٹ لی۔ اتنے میں ایک آدمی آیا، میں نے بقیع میں اس سے زیادہ کالے اورگندمی رنگ کا کوئی شخص نہیں دیکھا تھا، اس کے پاس ایک عمدہ اونٹنی تھی، میں نے بقیع کے علاقہ میں اس سے زیادہ عمدہ اور خوبصورت اونٹنی نہیں دیکھی تھی۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کا ارادہ صدقے کا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: توپھر یہ اونٹنی قبول فرمایئے۔ ایک آدمی نے کہا: کیایہ شخص اتنی عمدہ اونٹنی صدقہ کر رہا ہے، اللہ کی قسم ہے کہ اس کی اونٹنی اس سے زیادہ عمدہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بات سن لی اور تین بار فرمایا: تو غلط کہہ رہا ہے، بلکہ وہ صدقہ کرنے والا تجھ سے بھی بہتر ہے اور اس اونٹنی سے بھی بہتر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سینکڑوں اونٹوں والوں کے لئے ہلاک ہے۔ یہ بھی تین مرتبہ فرمایا، صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ان میں سے مستثنیٰ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں جو آدمی اپنا مال اس طرح تقسیم کرتا ہے، اس طرح لٹاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں ہھتیلیوں کو جمع کرکے دائیں بائیں ڈالا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ فرد کامیاب ہو گیا، جو تھوڑے مال والا ہے اور عبادت میں اپنے آپ کو کھپا دینے والا ہے۔
فوائد:… ’’لیکن پھر مجھے اسی چیز نے آ لیا، جو بنو آدم کو گھیر لیتی ہے۔‘‘اس کا مفہوم حریص ہونا اور معمولی مقدار کا ناکافی سمجھنا ہے۔ ان لوگوں کی مذمت ہے جو کثیر المال ہونے کے باوجود بخل کرتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، مال کی کثرت کا تقاضا یہ ہے کہ صدقہ کی مقدار بھی زیادہ ہو، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
۔ سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ جمعہ کے روز ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا ، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلایا اور دو رکعت نماز پڑھنے کا حکم دیا، وہ اگلے جمعہ کو بھی آیا تھا، اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے کی طرح اسے بلایا اور (دو رکعت نماز پڑھنے کا) حکم دیا، پھر وہ تیسرے جمعہ کو بھی آیا،اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دو رکعت نماز ادا کرنے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صدقہ کرو۔ لوگوں نے ایسے ہی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمع شدہ صدقات میں سے دو کپڑے اس شخص کو بھی دیئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: صدقہ کرو۔ تو اس نے بھی انہیں ہی دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا صدقہ میں دے دیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ڈانٹا اور اس کے فعل پر ناگواری کا اظہار کیا اور فرمایا: اس کو دیکھو،یہ انتہائی کسمپرسی والی حالت میں مسجد میںآیا،میں نے اس کو بلایا، کیونکہ مجھے یہ امید تھی کہ تم اس کی حالت دیکھ کر اس پر صدقہ کرتے ہوئے اسے کچھ دو گے اور اسے لباس عطا کرو گے، لیکن تم نے ایسے نہیں کیا، اس لے میں نے تمہیں کہا: صدقہ کرو، پھر تم نے جو صدقہ کیا، اس میں سے میں نے اس کو دوکپڑے دیئے، میں نے پھر تم سے کہا کہ صدقہ کرو، اب کی بار اس نے بھی ان دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا صدقے میں دیا۔پکڑ لے اپنا کپڑا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ڈانٹا۔
فوائد:… دونوں موقعوں پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس بندے کو حکم دینا کہ وہ دو رکعتیں ادا کر کے بیٹھے، اس سے تحیۃ المسجد کی اہمیت ثابت ہو رہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دورانِ خطبہ حکم دے رہے ہیں اور خطبہ کے باوجود اس کو یہ حق ادا کرنے کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فقیروں کے ساتھ نرم اور ان کی مصلحتوں کے حریص تھے، اس لیے اس فقیر پر صدقہ کرنے کی لوگوں کو ترغیب دلائی۔ اسی فقیر کو صدقہ کرنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس کو ڈانٹ دینا، اس سے درج ذیل دو اہم باتیں ثابت ہوتی ہیں:
(۲) اگر کوئی شخص کسی چیز کا خود حقیقی محتاج ہو تو وہ اس کا صدقہ نہ کرے۔
(۱) حاکم کو دانا اور حکیم ہونا چاہیے تاکہ وہ اس مسئلے میں یہ فیصلہ کر سکے کہ کون سے آدمی سے کس قسم کا صدقہ نہیں لینا چاہیے۔
۔ عمرو بن حارث کہتے ہیں کہ سیدہ زینب زوجہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواتین سے فرمایا: صدقہ کیا کرو، اگرچہ وہ تمہارے زیورات کی صورت میں ہو، ایک روایت میں ہے: وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، اگرچہ وہ اپنے زیورات سے ہی دینا پڑے، کیونکہ قیامت کے دن جہنم کی اکثریت تم ہو گی۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرے شوہر سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تنگ دست تھے، ایک دن میں نے ان سے کہا: کیایہ ہو سکتا ہے میں اپنا صدقہ آپ اور اپنے یتیم بھتیجوں کو دے دوں؟ انھوں نے جواباً کہا: تم یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ کر آئو، چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر زینب نامی ایک انصاری خاتون پہلے سے بیٹھی تھی، اس کا سوال بھی وہی تھا، جس کے بارے میں میں پوچھنے گئی تھی، بہرحال سیدنا بلال رضی اللہ عنہ باہر آئے اور ہم نے ان سے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور ہمارے اس مسئلے کے بارے میں دریافت کرو، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمارے بارے میں نہیں بتانا کہ ہم کون ہیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ یہ عورتیں کون ہیں؟ انہوں نے کہا : سیدہ زینب، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کونسی زینب؟ انھوں نے کہا: ایک تو سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہے اور دوسری زینب انصاری ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ اپنے شوہروں کو صدقہ دے سکتی ہیں، بلکہ انہیں دواجر ملیں گے، ایک رشتہ داری کا اور دوسرا صدقہ کرنے کا۔
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی کا نام زینب تھا، لیکن ان کو رائطہ بھی کہتے تھے، اس نام کا ذکر اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔ مالدار لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے صدقہ کے لیے محتاج رشتہ داروں کو ترجیح دیں، اگرچہ عصر حاضر کا معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے، آج کل جو جتنا بڑا سرمایہ دار ہو گا، وہ اتنا ہی اپنے غریب رشتہ داروں سے دور ہونے کی کوشش کرے گا۔ بیوی اپنے شوہر کو زکوۃ کا مال دے سکتی ہے، لیکن شوہر اپنی زکوۃ کی رقم بیوی پر خرچ نہیں کر سکتا ہے، کیونکہ وہ اس کی کفالت کا شرعی طور پر ذمہ دار ہے۔
۔ سیدہ رائطہ زوجہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا ، جو کہ ان کے بچوں کی ماں بھی تھیں، سے مروی ہے کہ وہ ایک ہنر مند خاتون تھی اور اپنے ہنر کی کمائی میں سے اپنے خاوند اور اس کی اولاد پر خرچ کرتی تھی، وہ کہتی ہیں: ایک دن میں نے اپنے خاوند سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے اور آپ کی اولاد نے مجھے صدقہ کرنے سے محروم کر رکھا ہے، آپ لوگوں کی وجہ سے میں کوئی چیز صدقہ نہیں کرسکتی۔ آگے سے سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اگر تمہیں اس میں اجر نہیں ملتا کہ میں تمہارے لیے اس صدقہ کو پسند نہیں کرتا، یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں چلی گئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایک ہنر خاتون ہوں اور چیزیں بنا کر فروخت کرتی ہوں، لیکن میری اور میری اولاد اور شوہر کا اس کے علاوہ کوئی ذریعۂ آمدن نہیں ہے، اس لیے میں ان لوگوں پر خرچ کرنے کی وجہ سے صدقہ کرنے سے محروم رہتی ہوں، تو کیا ان لوگوں پر خرچ کرنے سے مجھے اجر ملے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان پر خرچ کیا کرو، کیونکہ تم ان پر جس قدر خرچ کرو گی، تمہیں ثواب ملے گا۔
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے آپ کو جو کھلاؤ گے، وہ تمہارے لیے صدقہ ہو گا، تم اپنی اولاد کو جو کچھ کھلائو گے، وہ بھی تمہاری طرف سے صدقہ ہو گا،تم اپنی بیوی کو جو کچھ کھلائو گے، وہ بھی تمہارا صدقہ ہو گا اور تم اپنے خادم کو جو کچھ کھلاؤ گے، وہ بھی تمہاری طرف سے صدقہ ہو گا۔
Takhreej
(۳۶۲۲) تخر یـج: حدیث حسن۔ اخرجہ ابن ماجہ: ۲۱۳۸(انظر: ۱۷۱۷۹)
Explanation
فوائد:… جب آدمی اپنی ذات اور بالخصوص اپنی اولاد، بیوی اور خادم پر خرچ کرے تو اس کے ذہن میں یہ تصور ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے ماتحت افراد کی کفالت کر رہا ہے، ان اخراجات کو محض متعلقہ لوگوں کے مطالبات کا تقاضا نہیں سمجھنا چاہیے۔
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی خود ضرورت مند ہو تو وہ اپنے آپ پر خرچ کرنے سے ابتدا کرے، اگر اس سے کچھ بچ جائے تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، اگر پھر بھی مال بچ جائے تو دوسرے رشتہ داروں پر خرچ کرے اور اگر مزید گنجائش ہو تو ادھر ادھر دوسرے ضرورت مندوں پر خرچ کرے۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! صدقہ کرو۔ ایک آدمی نے کہا: میرے پاس ایک دینار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اپنے آپ پر خرچ کر۔ اس نے کہا، میرے پاس ایک دینار اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی بیوی پر صدقہ کرو۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک دینار اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنی اولاد پر صدقہ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک دینار اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے خادم پر خرچ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک دینار اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تو خود بہتر جانتا ہے۔
فوائد:… ’’اب تو خود بہتر جانتا ہے۔‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کو یہ علم ہوتا ہے کہ اس کے رشتہ داروں میں کون کس قدر محتاج ہے یا شریعت کی روشنی میں کس کو ترجیح دینی چاہیےیا دوسری نیکیوں کی کیا صورتحال ہے۔ اپنی بیوی بچوں سے اخراجات کا سلسلہ شروع کرنے سے ان کا پر تکلف طرزِ حیات مراد نہیں ہے، جیسا کہ آج کل اکثر لوگوں کی عادت بن چکی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو درست ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں جتنی عبادات سر انجام دیں، ان میں سب سے زیادہ مقدار صدقہ و خیرات کی تھی ۔
۔ سیدناسلیمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسکین پر صدقہ کرنے سے صرف صدقے کا ثواب ملتا ہے اور رشتہ دار پر صدقہ کرنے سے دو اجر ملتے ہیں، ایک صلہ رحمی کا اور دوسرا صدقے کا۔
۔ سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن اورایمان کی مثال اس گھوڑے کی سی ہے جسے اس کے کھونٹے پر باندھ دیا گیا ہو، وہ اِدھر اُدھر چکر کاٹ کر کھونٹے کے پاس آ کر کھڑا ہو جاتا ہے، اسی طرح مومن بھی بھول تو جاتا ہے، لیکن پھر وہ ایمان کی طرف لوٹ آتا ہے، تم نیک لوگوں کو کھانا کھلایا کرو اور اہل ایمان کو ہر قسم کی نیکی سے نوازا کرو۔
Takhreej
(۳۶۲۶) اسنادہ ضعیف، ابو سلیمان اللیثی مجھول، وعبد اللہ بن الولید لین الحدیث، قالہ ابن حجر وقال الدار قطنی: لایُعتبر بہ۔ اخرجہ ابن حبان: ۶۱۶، والبیھقی فی ’’الشعب‘‘: ۱۰۹۶۴(انظر: ۱۱۵۲۶)
Explanation
فوائد:… مؤمن کا اصل ایمان تو ثابت ہی رہتا ہے، بسااوقات بھول جاتاہے اور اپنے مرکز کو چھوڑ کر گناہوں کی گھاٹیوں میں پھرنے لگتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ سے دور ہو جاتا ہے، لیکن پھر جب اسے اصل احساس ہوتا ہے تو اپنے کیے پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ربّ کی طرف واپس آ جاتا ہے۔
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی صدقہ کرنے کا ارادہ کرے، لیکن اگر اسے صرف بے دین قسم کا بندہ ہی ملے تو وہ اپنا صدقہ واپس لے جائے۔
فوائد:… تالیف ِ قلبی کی نیت سے برے لوگوں بلکہ کافروں کی بھی صدقہ و زکوۃ سے امداد کی جا سکتی ہے، تالیف ِ قلبی کی صورتوں کی وضاحت حدیث نمبر (۳۴۶۷) والے باب میں ہو چکی ہے۔