۔ سیدنا عمرو بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ایک سائل ان کے دروازے پر آ کر کھڑا ہو گیا، ان کی دادی سیدہ حوائ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا:اس کو کھجور دے دو، گھر والوں نے کہا: ہمارے پاس کھجوریں نہیں ہیں، اس نے پھر کہا: تو پھر اسے ستو پلا دو، اہل خانہ نے کہا: تجھ پر بھی تعجب ہے، جو چیز ہمارے پاس نہیں ہے، ہم اسے کیسے دیں؟ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: کسی سائل کو (خالی ہاتھ) واپس نہ لوٹنے دو،اگرچہ جو چیز اسے دی جائے، وہ جلایا ہوا کھر ہی ہو۔
Takhreej
(۳۵۴۸) تخر یـج: حدیث حسن وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ عمرو بن معاذ الانصاری۔ اخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر،: ۲۴/ ۵۵۸، وابن سعد: ۸/ ۳۶۰(انظر: ۲۷۴۵۱)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سائل نے آ کر ان سے سوال کیا، انہوں نے خادم سے کہا: اسے کچھ دے دو، پس وہ خادم اسے دینے کے لئے کوئی چیز لایا۔ دوسری روایت میں ہے:سیدہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ پہلے وہ چیز ان کے پاس لے کر آتا کہ وہ اس چیز کی مقدار کو دیکھ لے۔ (یہ سن کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: عائشہ! گن گن کر مت دیا کرو، پھر اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔
فوائد:… سنن نسائی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک دفعہ میرے پاس ایک سائل آیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی موجود تھے، میں نے اسے کچھ دینے کا حکم دیا، لیکن پہلے میں نے دینے والے کو بلایا اور اس چیز کو دیکھا (کہ وہ کیا دے رہا ہے اور کتنی مقدار میں دے رہا ہے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَمَا تُرِیْدِیْنَ اَنْ لَّا یَدْخُلَ بَیْتَکِ شَیْئٌ وَلَا یَخْرُجُ اِلَّا بِعِلْمِکِ؟)) ’’کیا تیرا ارادہ یہ ہے کہ تیرے گھر میں جو چیز لائی جائے اور جو نکالی جائے، اس کا تجھے علم ہونا چاہیے؟‘‘ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَھْلًا یَا عَائِشَۃُ! لَاتُحْصِیْ فَیُحْصِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْکِ۔)) ’’ٹھیرو عائشہ! گن گن کر مت دیا کرو، پھر اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔‘‘ اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا نہ ہونے پائے کہ آدمی صدقہ کی ہوئی چیزوں کا حساب کرے اور پھر ان کو زیادہ اور کافی سمجھ کر مزید صدقہ نہ کرے، اس طرح کرنے سے اللہ تعالیٰ بھی رزق کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ آدمی حیثیت کے مطابق صدقہ کرتا رہے اور صدقے کی بڑی بڑی مقداروں کو مد نظر رکھ کرآئندہ صدقہ کرنے سے رک نہ جائے اور اللہ تعالیٰ سے فقیری کا ڈر نہ رکھے۔
۔ سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ انصاری لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں عطا فرما دیا، ان میں سے جو آدمی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے وہ چیز دیتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جو کچھ تھا، وہ ختم ہو گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جو کچھ تھا، ختم ہوگیا تو آپ نے فرمایا: ہمارے پاس جو مال بھی ہو گا، ہم اس کو تم سے بچا کر نہیں رکھیں گے، لیکن حقیقتیہ ہے کہ جو کوئی مانگنے سے بچے گا، اللہ تعالٰ اسے مانگنے سے بچا لے گا، جو لوگوں سے استغناء کا اظہار کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے مستغنی کر دے گا اور جو صبر کو اپنائے گا، اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق سے نواز دے گا اور تم (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کوئی بھلائی نہیں دئیے جاؤ گے جو صبر سے بڑھی وسعت والی ہو۔
Explanation
فوائد:… کوئی مانے یا نہ مانے، اس وقت امت ِ مسلمہ پر مسلّط بڑی مصیبتوں میں سے ایک مصیبتیہ ہے کہ سوالی کے حق کی معرفت اور شناخت نہیں رہی،یتامی و فقراء و مساکین کے معاملے میں انتہائی لا پرواہی برتی جا رہی ہے، بلکہ بات یہاں تک جا پہنچی ہے کہ بعض مالدار لوگ اپنے ماحول میں غریبوں کے وجود کو تسلیم کرنے کے لیے ہی تیار نہیں، جبکہ ان ہی کے محلّوں میں اللہ تعالیٰ کی قابل ترس مخلوق فاقہ میں شب و روز گزار رہی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: {فَأَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْھَرْ۔ وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْھَرْ۔} (سورۂ ضحی: ۹، ۱۰)) … ’’پس یتیم پر تو سخی نہ کیا کر اور سوال کرنے والے کو ڈانٹ ڈپٹ نہ کر۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر سوالیوں سے نرمی کرنے اور ان کا حق ادا کرنے کی تلقین کی ہے۔ ایک اہم مسئلہ عصر حاضر کے سوالیوں اور بھکاریوں کا ہے، اگر کوئی آدمی کسی سائل کی تحقیق کرنا چاہتا ہو تو اس معاملے میں قطعی طور پر اس کو سختی کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے اور اگر اس کی تحقیق کے مطابق وہ سائل مستحق ثابت نہیں ہوتا تو اسے چاہیے کہ حسنِ اخلاق کے ساتھ اس کو سمجھا دے، تاکہ بات اس کے دل میں گھر کر جائے، جیسا کہ حدیث نمبر (۳۵۰۷) کا تقاضا ہے۔
۔ سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص تم کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پناہ طلب کرے، تم اسے پناہ دے دو اور جو کوئی تم سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کرے، تم اسے وہ چیز دے دو۔
۔ سیدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی تم کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دے دیا کرو، جو تم سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کرے تو اسے وہ چیز دے دیا کرو،جو تمہیں دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کیا کرو اور جو تمہارے ساتھ اچھا سلوک کرے تو تم اس کو بدلہ دو، اگر بدلہ دینے کے لیے تمہارے پاس کچھ نہ ہو تو تم اس کے لیے اتنی دعا کرو کہ تمہیں اندازہ ہو جائے کہ تم نے بدلہ چکا دیا ہے۔
فوائد:… ابن جریج کہتے ہیں: امام عطا نے اللہ تعالیٰ کے نام یا قرآن مجید کا واسطہ دے کر سوال کرنے کو ناپسند کیا ہے۔ (ابن ابی شیبہ (۴/۶۸) بہرحال اگر اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کوئی جائز مطالبہ کرتا ہے تو اس کا مطالبہ پورا کرنا چاہیے۔ اس مقام پر درج ذیل حدیثاور اس کے تقاضوںکا ذکر کرنا ضروری ہے۔ سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ((أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ النَّاسِ مَنْزِلَۃً؟)) قُلْنَا: بَلٰی قَالَ: ((رَجُلٌ مُمْسِکٌ بِرَأْسِ فَرَسِہٖ،أَوْقَالَ: فَرَسٍ،فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ حَتّٰییَمُوْتَ أَوْ یُقْتَلَ۔)) قَالَ: ((فَأُخْبِرُکُمْ بِالَّذِییَلِیْہِ؟)) فَقُلْنَا: نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِمْرُؤٌ مُعْتَزِلٌ فِی شَعْبٍ، یُقِیْمُ الصَّلَاۃَ، وََیُؤْتِی الزَّکاَۃَ وَیَعْتَزِلُ النَّاسَ۔)) قَالَ: ((فَأُخْبِرُکُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلَۃً؟))نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((الَّذِییُسْأَلُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَلَا یُعْطِیْ بِہٖ۔)) (نسائی: ۱/۳۵۸، ترمذی: ۳/۱۴، صحیحہ:۲۵۵)
’’کیا میں تمھیں اس شخص کے بارے میں بتاؤں جو مرتبے کے اعتبار سے سب سے بہتر ہے؟‘‘ ہم نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’وہ آدمی ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے گھوڑے کا سر تھاما ہوا ہے، (یعنی لڑنے کے لیے گھوڑے سمیت تیار ہے) حتی کہ وہ مر جاتا ہے یا اسے شہید کر دیا جاتا ہے۔‘‘ پھر فرمایا: ’’اب کیا میں تمھیں اس شخص کے بارے میں بتلاؤں جو اس کے قریب مرتبے والا ہے؟‘‘ ہم نے کہا: جی ہاں، اے رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ آدمی ہے جو کسی گھاٹی میںسکونت پذیر ہے اور نماز قائم کرتا ہے، زکاۃ ادا کرتا ہے اور لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے۔‘‘ پھر فرمایا: ’’اب کیا میں تمھیں اس شخص کے بارے میں بھی بتلا دوں جو مرتبے کے لحاظ سے سب سے برا ہے؟‘‘ ہم نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ ہے جس سے اللہ، جو عظمتوں والا ہے، کے نام پر سوال کیاجائے، لیکن وہ پھر بھی نہ دے۔‘‘
اس حدیث کے آخری حصے میں جس بدبخت کا ذکر کیا گیا ہے، اس سے دو افراد میں سے ایک مراد ہے، اگر آخری جملے کو ’’اَلَّذِییُسْأَلُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَلَا یُعْطِی بِہٖ۔‘‘ (وہہےجسسےاللہ،جوعظمتوںوالاہے،کےنامپرسوالکیاجائے، لیکن وہ پھر بھی نہ دے) پڑھا جائے، تو اس سے مراد وہ شخص ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کے نام پر جس سے کچھ مانگا جائے، لیکن وہ پھر بھی کچھ نہ دے۔ اگر اس جملے کو ’’الَّذِییَسْأَلُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَلَا یُعْطٰی بِہٖ۔‘‘ (وہشخصہےجوعظیم اللہ کے نام پر سوال کرتا ہے، لیکن اس کو پھر کچھ نہیں دیا جاتا) پڑھا جائے، تو اس سے سوال کرنے والا خود مراد ہو گا، جو لوگوں سے کچھ مانگنے کے لیے اللہ تعالیٰ کا نام استعمال کرتاہے، لیکن پھر بھی اسے کچھ نہیں دیا جاتا۔ امام البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: حدیث کے آخری حصے سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں سے دنیوی چیزوں کا سوال کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی ذات کا واسطہ دینا حرام ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی ذات کا واسطہ دے دے، اسے کچھ نہ دینا حرام ہے۔ امام سندھی رحمتہ اللہ علیہ ، سنن النسائی کے حاشیہ میں لکھتے ہیں: اگر صیغۂ معلوم کے ساتھ ’’الَّذِییَسْأَلُ بِاللّٰہِ‘‘ پڑھا جائے تو دو قباحتیں جمع ہو جاتی ہے: (۱) اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کرنا اور (۲) اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر سوال کرنے والے کو کچھ نہ دینا۔ قباحت کی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مبارک نام کی حرمت کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ لیکن صیغۂ مجہول کے ساتھ ’’الَّذِییُسْأَلُ‘‘ پڑھنا درست نہیں ہے، کیونکہ اس سلسلے میں اس بندے کا تو کوئی دخل اور قصور نہیں ہے کہ سائل جس سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کر رہا ہے۔ پس اس مقام پر اس کے اور نہ دینے کے مابین کوئی مناسبت نظر نہیں آ رہی۔ لیکن میں (البانی) کہتا ہوں: جس آدمی سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کیا جائے، تو اس کے مبارک نام کا لحاظ نہ کرتے ہوئے ایسے سائل کو کچھ نہ دینا بھی حرام ہے، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
((مَنِ اسْتَعَاذَ بِاللّٰہِ فَاَعِیْذُوْہُ وَمَنْ سَأَلَکُمْ بِوَجْہِ اللّٰہِ فَاَعْطُوْہُ۔)) (ابوداود، مسند احمد، صحیحہ: ۲۵۳)…
’’جو آدمی تم سے اللہ تعالیٰ کے نام پر پناہ طلب کرے، اسے پناہ دے دو اور جو آدمی اللہ تعالیٰ کی ذات کا واسطہ دے کر تم سے سوال کرے، اسے دے دیا کرو۔‘‘
یہی متن سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، دیکھیں: (صحیحہ: ۲۵۴) جبکہ امام عطا رحمتہ اللہ علیہ خود اس چیز کو مکروہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات یا قرآن کا واسطہ دے کر کسی دنیوی چیز کا سوال کیا جائے، جیسا کہ ابھییہ قول گزر چکا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کرنا حرام ہے، اس کی ایک اور دلیلیہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
((لَا یُسْأَلُ بِوَجْہِ اللّٰہِ اِلَّا الْجَنَّۃُ۔))
’’اللہ تعالیٰ کی ذات کا واسطہ دے کر صرف جنت کا سوال کیا جائے۔‘‘
لیکن اس حدیث کی سند ضعیف ہے، جیسا کہ علامہ منذری وغیرہ نے اس کی وضاحت کی ہے، بہرحال اس کو بطورِ شاہد پیش کیا جا سکتا ہے، کیونکہ سابقہ بحث سے یہ تو عیاں ہو چکا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے نام کا واسطہ دے کر سوال کرے، اس کا مطالبہ پورا کرنا ضروری ہے، لیکنیہ بھی ممکن ہے کہ سائل کا سوال مسئول کو اس حدیث کی مخالفت میں مبتلا کر دے اور یوں وہ اس کا مطالبہ پورا نہ کر کے حرام کا ارتکاب کر بیٹھے گا اور یہ قانون مسلّمہ ہے کہ جو چیز حرام کا سبب بنتی ہے، وہ بھی حرام ہوتی ہے، مزید آپ خود غور و فکر کر لیں۔ لیکنیہ بات ذہن نشین رہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام پیش کر کے جس چیز کا سوال کیا جائے، اس کی ادائیگی اس وقت واجب ہوتی ہے، جب مسئول دینے پر قادر ہو اور اسے یا اس کے اہل و عیال کو کوئی نقصان نہ پہنچتا ہو، بصورت ِ دیگر سائل کا مطالبہ پورا کرنا اس پر واجب نہیں ہو گا۔ واللہ اعلم۔ (صحیحہ: ۲۵۵) خلاصۂ کلام یہ ہے کہ لوگوںسے سوال کرتے وقت اللہ تعالیٰ کے نام کا واسطہ نہ دیا جائے، وگرنہ اللہ تعالیٰ کے نام کی حرمت کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے ہر ممکنہ صورت میں سائل کا مطالبہ پور کیا جائے۔
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں صدقہ کیا تھا، پھر جب انھوں نے دیکھا کہ اس کو یا اس کے بچے کو فروخت کیا جا رہا ہے تو انھوں نے اس کو خرید لینے کا ارادہ کیا اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب اس کو نہ خریدو، تاکہ (قیامت کے روز) وہ تجھے پورا پورا ملے (یا پھر راوی نے کہا) تم اس کا پورا اجر پا سکو۔ ایک دفعہ راوی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو منع کیا اور فرمایا: اسے مت خریدو اور اپنی صدقہ کی ہوئی چیز میں مت لوٹو۔
۔ (دوسری سند) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں ایک گھوڑا اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کیا، لیکن اس کے مالک نے اس کو ضائع کر دیا، اس لیے میں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا، جبکہ مجھے یہ توقع بھی تھی کہ وہ اسے سستے داموں بیچ دے گا، پھر میں نے سوچا کہ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کر لوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے مت خریدو، خواہ وہ تمہیں ایک درہم کے عوض دے دے، صدقہ کرکے اسے واپس لینے والے کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قے کرکے چاٹ لیتا ہے۔
۔ سیدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کیا اور بعد میں دیکھا کہ اسے فروخت کیا جا رہا ہے، اس لیے انہوں نے اسے خریدنا چاہا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اپنے صدقہ میں مت لوٹو۔
۔ سیدنازبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے غمرہ یا غمراء نامی ایک گھوڑی کا اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کیا، بعد میں اس نے دیکھا کہ اسی گھوڑی کویا اس کے بچے، جو اسی گھوڑی کی طرف منسوب کیا گیا، کو فروخت کیا جا رہا تھا، لیکن اسے ایسے کرنے سے منع کر دیا گیا۔
Takhreej
(۳۵۵۶) تخر یـج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ اخرجہ ابن ماجہ: ۲۳۹۳(انظر: ۱۴۱۰)
۔ ابو عریف بن سریع سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا: میری کفالت میں ایکیتیم بچہ تھا، میں نے اسے ایک لونڈی بطور صدقہ دی تھی، پھر وہ بچہ فوت ہو گیا اورمیں ہی اس کا وارث ہوں، (اب اس لونڈی کا کیا بنے گا)؟ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: میں تمہیں ایسی حدیث سناتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خود سنی ہے، بات یہ ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کیا، پھر جب انھوں نے دیکھا کہ اس آدمی نے اس کو بیچنے کے لیے ایک مقام پر پیش کر دیا، تو انھوں نے اس کو خرید لینے کا ارادہ کیا، لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے سے منع کر دیا اور فرمایا: جب ایک دفعہ صدقہ کر دو تو جاری کر دیا کرو (یعنی کسی طرح سے واپس لینے کا نہ سوچا کرو)۔
Takhreej
(۳۵۵۷) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، رشدین بن سعد ضعیف، و عریف بن سریع لم یوثقہ غیر ابن حبان ولم یرو عنہ غیر توبہ بن نمر، وقصۃ حمل عمر علی فرس صحیحۃ۔ اخرجہ البخاری فی ’’تاریخہ‘‘: ۲/ ۱۵۲ (انظر: ۶۶۱۶)
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی بطور صدقہ دی تھی، لیکن ہوا یوں کہ میری امی جان فوت ہو گئی ہیں اور وہ لونڈی میراث میں مجھے مل گی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں اجر بھی دے دیا ہے اور اسی لونڈی کو میراث کی صورت میں تمہیں واپس کر دیا ہے۔ اسی خاتون نے کہا: میری والدہ حج کئے بغیر فوت ہو گئی ہیں،اب اگر میں ان کی طرف سے حج کروں تو یہ اُن کو کفایت کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے پھر کہا: میری والدہ کے ذمے ایک ماہ کے روزے بھی تھے، اگر میں ان کی طرف سے روزے رکھ لوں تو آیا ان کو کفایت کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔
Takhreej
(۳۵۵۸) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۱۴۹(انظر: ۲۲۹۵۶)
Explanation
فوائد:… اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ جب ایک چیز بطورِ صدقہ دے دی جائے، تو اس کی واپسی کا خیال ترک کر دیا جائے، اگرچہ وہ خرید لینے کی صورت میں ہو۔ دراصل جب آدمی ایک چیز کو اللہ تعالیٰ کے لیے کسی کی ملکیت میں دے دیتا ہے، تو پھر اسے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ دوبارہ اس چیز کامالک بنے، اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے مہاجرین کو مکہ مکرمہ میں سکونت اختیار کرنے کی اجازت نہیں تھی، کیونکہ وہ اس گھر کو اللہ تعالیٰ کے لیے چھوڑ چکے تھے۔ اس باب سے تو یہ ثابت ہوا کہ ہبہ کی ہوئی چیز کو واپس نہیں لیا جا سکتا، اس سے منع بھی کیا گیا ہے اور ایسا کرنے والے کی گندی مثال بیان کی گئی ہے، لیکن اس موضوع سے متعلقہ درج ذیل حدیث قابل توجہ ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
((مَثَلُ الَّذِیْیَسْتَرِدُّ مَا وَھَبَ کَمَثَلِ الْکَلْبِ یَقِیْئُ فَیَأْکُلُ قَیْئَہٗ، فَاِذَا اسْتَرَدَّ الْوَاھِبُ فَلْیُوَقَّفْ فَلْیُعَرَّفْ بِمَا اسْتَرَدَّ ثُمَّ لِیُدْ فَعْ اِلَیْہِ مَا وَھَبَ)) (ابوداود: ۳۵۴۰، نسائی: ۳۶۸۹)
’’جو آدمی ہبہ دینے کے بعد اس کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے، وہ اس کتے کی مانند ہے، جو قے کر کے اس کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے، لیکن جب ہبہ کرنے والا ہبہ کی واپسی کا مطالبہ کر دے تو اس کوکھڑا کیا جائے اور اس سے پوچھا جائے کہ وہ کیوں واپس لے رہا ہے، پھر جو چیز اس نے ہبہ میں دی تھی، وہ اسے واپس کر دی جائے۔‘‘
شارح ابوداود علامہ عظیم آبادی نے اس حدیث کا دو مفہوم بیان کیے ہیں:
(۱) ہبہ کرنے والے شخص سے پوچھا جائے کہ وہ واپسی کا مطالبہ کیوں کر رہا ہے، پھر اس کی چیز اس کو واپس لوٹا دی جائے، کیونکہ ممکن ہے کہ اس نے متبادل لینے کے لیےیہ چیز ہبہ کی ہو،ا ب اگر اسے متبادل مل جائے تو وہ یہ چیز واپس نہیں لے گا،وگرنہ واپس لے لے گا۔
(۲) ہبہ کی واپسی کا مطالبہ کرنے والے شخص کو کھڑا کر کے ہبہ کا مسئلہ سمجھایا جائے، تاکہ اس کی جہالت ختم ہو جائے، پھر اسے کہا جائے کہ تیری مثال فلاں کتے کی طرح ہے، اب اگر تو کتے کی مشابہت سے بچنا چاہتا ہے تو اپنے مطالبہ سے باز آ جا، اور اگر تو چاہتا ہے کہ ہبہ واپس لے کر قے کو چاٹنے والے کتے کی طرح ہو جائے تو واپس لے لے، اگر پھر بھی وہ اپنے مطالبے پر ڈٹا رہے تو اس کی چیز اس کو واپس کر دی جائے۔ (عون المعبود: ۲/ ۱۶۰۹)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
((لَیْسَ لَنَا مَثَلُ السُّوْئِ، اَلْعَائِدُ فِیْ ھِبَتِہٖکَالْکَلْبِیَعُوْدُ فِیْ قَیْئِہٖ)) (ترمذی: ۱۲۹۸، نسائی: ۳۶۹۸)
’’ہمارے لیے بری مثال نہیں ہے، ہبہ کی ہوئی چیز کو واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے، جو اپنی قے کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے۔‘‘
امام مبارکپوری نے اس حدیث کی شرح بیان کرتے ہوئے کہا: ہم مسلمانوں کی جماعت کو یہ زیب نہیں دیتا کہ ہم ایسی قابل مذمت صفات کو اپنا لیں، کہ جن کی وجہ سے ہمیں گھٹیا ترین مخلوق کی انتہائی گھٹیا حالت سے تشبیہ دے دی جائے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{لِلَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِالْآخِرَۃِ مَثَلُ السُّوْئِ وَلِلّٰہِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰی}
’’آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کی مثال بری ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے تو اعلی مثال (بہت بلند صفت) ہے۔‘‘
ایسے معلوم ہوتا ہے ایسے فعل سے ڈانٹ ڈپٹ کرنے اور اس کو حرام قرار دینے کا یہ انداز اس طرح کہنے سے زیادہ بلیغ ہے: ’’لَا تَعُوْدُوْا فِیْ الْھِبَۃِ۔‘‘ (ہبہ کی ہوئی چیز واپس نہ لو)۔ (تحفۃ الاحوذی: ۴/ ۴۳۵) مؤخر الذکر حدیث ِ مبارکہ اور اس کی تشریح سے معلوم ہوا کہ ہبہ کی ہوئی چیز واپس لینا ناجائز ہے۔
زَکَاۃُ الْفِطْرِ
صدقۂ فطر کے ابواب
صدقۂ فطر: اس سے مراد ماہِ رمضان کے اختتام پر نمازِ عید سے پہلے فطرانہ ادا کرنا ہے، تاکہ روزے لغو باتوں اور فحش گوئیوں سے پاک ہو جائیں اور مسکینوں کو کھانا کھلایا جا سکے۔ فطرانہ کی ادائیگی کے لیے صاحب ِ نصابِ زکوۃ کی شرط لگانا درست نہیں ہے، یہ صدقہ ہر اس شخص پر فرض ہے جو متعلقہ جنس کا ایک صاع صدقہ کرنے پر قدرت رکھتا ہو، وگرنہ {لَایُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلّٰا وُسْعَھَا}، آنے والے چار ابواب کا تعلق صدقۂ فطر سے ہے، اس لیے اس سے متعلقہ تمام مسائل کے لیے چاروں ابواب کا مطالعہ کریں۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر مسلمان ، وہ آزاد ہو یا غلام اور مرد ہو یا عورت، پر ایک صاع کھجور یا جو کی صورت میں رمضان کا صدقۂ فطر فرض کیا ہے۔
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر چھوٹے بڑے اور آزاد و غلام پر کھجور یا جو کا ایک ایک صاع بطور صدقۂ فطر فرض کیا ہے۔
Takhreej
(۳۵۶۰)تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ایک صاع کا وزن دو کلو اور سو گرام ہے، تخمینی وزن اڑھائی کلو بتا دیا جاتا ہے۔ جو کہ درست نہیں۔ حدیث نمبر (۳۳۸۲) میں صاع کی مقدار کی مکمل تفصیل بیان کی گئی ہے، قارئین کو اُس مفید بحث کا مطالعہ کر لینا چاہیے۔
۔ ابو عمار کہتے ہیں: میں نے سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے صدقۂ فطر کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں زکوٰۃ کی فرضیت سے پہلے تو صدقۂ فطر کی ادائیگی کا حکم دیا تھا، البتہ جب زکوٰۃ (کی فرضیت) نازل ہو گئی تو اس کے بعد نہ اس صدقہ سے ہمیں روکا گیا اور نہ از سرِ نو اس کا حکم دیا گیا، البتہ ہم ادا کرتے آ رہے ہیں۔ پھر میں نے ان سے یومِ عاشوراء کے روزے کے بارے میں سوال کیا،انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا، اس کے بعد جب ماہِ رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو نہ ہمیں از سرِ نو اس روزے کا حکم دیا گیا اور نہ اس سے منع کیا گیا، البتہ ہم اس کا روزہ رکھتے ہیں۔
فوائد:… صدقۂ فطر اب بھی مشروع ہے، زکوۃ کی فرضیت سے اس کی فرضیت میں کوئی فرق نہیں پڑا، زکوۃ کے حکم کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صدقۂ فطر کے بارے میں از سرِ نو حکم نہ دینا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
۔ سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں جو، کھجور، منقی اور پنیر کا ایک ایک صاع بطور صدقۂ فطر ادا کیا کرتے تھے، لیکن جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ (اپنے دور میں حج یا عمرہ ادا کرنے کے لیے) تشریف لائے تو اس وقت شامی گندم بھی آ گئی تھی، انہوں نے یہ خیال ظاہر کیاکہ گندم کا ایک مُدّ دیگر اجناس کے دو مُد کے برابر ہے۔
۔ (دوسری سند)سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:جب ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود تھے تو ہم کھانے، کھجور، جو، منقیٰ اور پنیر کا ایک ایک صاع بطور صدقہ فطر ادا کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ ہمارے پاس سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔
Takhreej
(۳۵۶۳) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… گندم میں سے پورا یا نصف صاع صدقہ فطر دیا جائے گا؟ یہ صحابہ کرام میں بھی ایک مختلف فیہ مسئلہ تھا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جس طرح ہمارے ہاں پاکستان میں گندم سستی اور کھجور مہنگی ہے، اسی طرح اُس وقت عرب میں کھجور سستی اور گندم مہنگی ہوتی تھی۔ جب سیدناامیر معاویہ رضی اللہ عنہ حج یا عمرے کے موقع پر مکہ مکرمہ تشریف لائے، تو لوٹنے سے پہلے لوگوں سے خطاب کیا اور کہا: میرا خیال ہے کہ شام کی گندم کا نصف صاع (قیمت میں) کھجور کے ایک صاع کے برابر ہے، لہٰذا آئندہ گندم کا نصف صاع ادا کیا کریں گے۔ لیکن سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ہمیشہ اسی طرح (ایک صاع) ہی ادا کرتا رہوں گا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں تھا۔ (مسلم) اس حدیث سے یوں معلوم ہو رہا ہے کہ گندم کا نصف صاع بطورِ صدقۂ فطر ادا کرنا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اجتہاد ہے۔ اگلے باب میں اس مسئلہ کی وضاحت آ رہی ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مذکرو مونث اور آزاد و غلام پر کھجور یا جو کا ایک ایک صاع بطور صدقۂ فطر فرض کیا ہے، بعد میں لوگوں نے گندم کے نصف صاع کو ان اجناس کے ایک صاع کے مساوی قرار دیا تھا۔ امام نافع کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ صدقۂ فطر کے سلسلہ میں کھجور ہی ادا کیا کرتے تھے، لیکن ایک سال کھجور کی قلت ہو گئی تھی، اس لیے انھوں نے جو عطا کیے تھے۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر آزادو غلام، مرد و زن ، چھوٹے بڑے اور فقیر اور غنی پر کھجور کا ایک صاع اور گندم کا نصف صاع بطورِ صدقۂ فطر فرض ہے۔ معمر کہتے ہیں: مجھے یہ خبرملی ہے کہ امام زہری اس حدیث کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرفوعاً بیان کرتے تھے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقۂ فطر کے سلسلہ میں فلاں فلاں جنس کا ایک ایک صاع اور گندم کا نصف صاع مقرر فرمایا ہے۔
Takhreej
(۳۵۶۶) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، الحسن بن ابی الحسن البصری مدلس وقد عنعن۔ اخرجہ النسائی: ۵/ ۵۰ (انظر: ۲۰۱۸)
۔ حسن بصری کہتے ہیں: سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ماہِ رمضان کے آخری دنوں میں خطبہ دیا اور کہا: اسے اہل بصرہ! تم اپنے روزوں کی زکوٰۃ ادا کرو۔ یہ سن کر لوگ حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، انہوں نے کہا: یہاں مدینہ منورہ سے تعلق رکھنے والے افراد کون ہیں؟ اٹھو ذرا اور اپنے بھائیوں کو یہ تعلیم دو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر غلام و آزاد اور مردوزن پر صدقۂ فطر کے سلسلہ میں گندم کا نصف صاع اور جو اور کھجور کا ایک ایک صاع فرض کیا ہے۔
Takhreej
(۳۵۶۷) تخر یـج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، الحسن لم یسمع من ابن عباس، جزم کثیر من العلماء علی ھذا۔ اخرجہ النسائی: ۳/ ۱۹۰(انظر:)