صدقۂ فطر دینے کے وقت کا بیان
۔ (۳۵۸۸) عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہا اَنَّہُمْ ذَبَحُوْاشَاۃً،
قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا بَقِیَ إِلَّا کَتِفُہَا، قَالَ: ((کُلُّہَا قَدْ بَقِیَ إِلَّا کَتِفُہَا۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۴۴)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے ایک بکری ذبح کی (اور اس کا گوشت تقسیم کر دیا)، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلاتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بکری کا صرف ایک کندھے کا گوشت باقی بچا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حقیقت میں وہ ساری بچ گئی ہے، ما سوائے اس کندھے کے (جو گھر میں پڑا ہوا ہے)۔
Takhreej
(۳۵۸۸) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ الترمذی: ۲۴۷۰(انظر: ۲۴۲۴۰)
Explanation
فوائد:… یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تصور تھا کہ بندے کا حقیقی خزانہ وہ ہے، جسے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے مستحق افراد میں تقسیم کر دے۔ سبحان اللہ! جو گوشت لوگوں میں تقسیم کر دیا، وہ اللہ تعالیٰ کے بینک میں جمع ہو گیا، جس میں اتنا اضافہ کر دیا جاتا ہے کہ ایک کھجور، پہاڑ کی مانند بن جاتی ہے۔
3588
Sahih