TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - Book 66 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 66 of Musnad Ahmad, with 34 chapters and 211 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

211 Hadith · 34 Chapters
صدقۂ فطر دینے کے وقت کا بیان
۔ (۳۵۸۸) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّہُمْ ذَبَحُوْاشَاۃً، قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا بَقِیَ إِلَّا کَتِفُہَا، قَالَ: ((کُلُّہَا قَدْ بَقِیَ إِلَّا کَتِفُہَا۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۴۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے ایک بکری ذبح کی (اور اس کا گوشت تقسیم کر دیا)، پھر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلاتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بکری کا صرف ایک کندھے کا گوشت باقی بچا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حقیقت میں وہ ساری بچ گئی ہے، ما سوائے اس کندھے کے (جو گھر میں پڑا ہوا ہے)۔
Takhreej
(۳۵۸۸) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ الترمذی: ۲۴۷۰(انظر: ۲۴۲۴۰)
Explanation
فوائد:… یہ محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تصور تھا کہ بندے کا حقیقی خزانہ وہ ہے، جسے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے مستحق افراد میں تقسیم کر دے۔ سبحان اللہ! جو گوشت لوگوں میں تقسیم کر دیا، وہ اللہ تعالیٰ کے بینک میں جمع ہو گیا، جس میں اتنا اضافہ کر دیا جاتا ہے کہ ایک کھجور، پہاڑ کی مانند بن جاتی ہے۔
3588
Sahih
صدقۂ فطر دینے کے وقت کا بیان
۔ (۳۵۸۹) وَعَنْہَا اَیْضًا اَنَّہَا سَاَلَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ شَیْئٍ مِنْ اَمْرِ الصَّدَقَۃِ فَذَکَرَتْ شَیْئًا قَلَیْلاً، فَقَالَ لَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَعْطِی وَلَاتُوعِیْ، فَیُوعٰی عَلَیْکِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۸۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے صدقہ کے معاملے میں کوئی سوال کیا اور تھوڑی سی چیز کا ذکر کیا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: دے دو اور کنجوسی نہ کر، وگرنہ تجھ سے کنجوسی کر لی جائے گی۔
Takhreej
(۳۵۸۹) تخر یـج: حدیث صحیح۔ اخرجہ ابوداود: ۱۷۰۰، والنسائی: ۵/۷۳(انظر: ۲۵۲۶۷)
Explanation
فوائد:… یہ مصیبت ہمارے دور میں بھی بدرجۂ اتم پائی جا رہی ہے کہ لوگوں نے صدقہ و خیرات کی انتہائی معمولی مقدار کو اپنے لیے کافی و شافی سمجھ لیا ہے، اگر کوئی آدمی کسی فقیر کو سو پچاس دے دیتا ہے، وہ کئی دنوں تک اس کو بھولنے نہیں پاتا۔ قارئین کرام! کوئی مانے یا نہ مانے، ابھی تک عملی طور پر ہم یہ عقیدہ اور نظریہ قائم نہ کر سکے کہ سخاوت کی وجہ سے خزانوں میں اضافہ ہوتا ہے اور کئی نسلیں اس کی برکت سے مستفید ہوتی رہتی ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ کو شاہد بنا کر کہتا ہوں کہ جون ۲۰۱۲؁ءمیں ایک آدمی سے میری ملاقات ہوئی، چند برس پہلے اس کے پاس پانچ کروڑ روپیہ اور بہترین کاروبار موجود تھا، لیکن۲۵ جون کو ایک ہزار روپے کی بھیک مانگ کر اسے دیا گیا، تاکہ وہ اپنی ضرورت پوری کر سکے، جبکہ اس کا دعوییہ ہے کہ اس کو کوئی سمجھ آئی کہ اس کی اتنی بھاری رقم کہاں دفن ہو گئی۔ بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کنجوسی ہونے لگ جائے تو بندہ کرتا تو کچھ اور ہے، لیکن ہوتا کچھ اور ہے، آدمی اپنے لیے خود گڑھے کھودنے لگ جاتا ہے۔ العیاذ باللہ
3589
Sahih
صدقۂ فطر دینے کے وقت کا بیان
۔ (۳۵۹۰) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَظَرَ إِلٰی رَجُلٍ یَصْرِفُ رَاحِلَتَہُ فِی نَوَاحِیْ الْقَوْمِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ عِنْدَہُ فَضَلٌ مِنْ ظَہْرٍ فَلْیَعُدْ بِہِ عَلٰی مَنْ لَا ظَہْرَ لَہُ،وَمَنْ کَانَ لَہُ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ، فَلْیَعُدْ بِہِ عَلٰی مَنْ لَا زَادَ لَہُ۔)) حَتّٰی رَاَیْنَا اَنْ لَاحَقَّ لِاَحَدٍ ِمنَّا فِی فَضْلٍ۔ (مسند احمد: ۱۱۳۱۳)
۔ سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ لوگوں کی ایک طرف اپنی سواری کو گھما رہا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کسی کے پاس زائد سواری ہو تو وہ ایسے آدمی کو دے دے جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پاس زائد زادِ راہ ہو تو وہ ایسے آدمی کو دے دے جس کے پاس زاد نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمان سن کر ہمیں یہ خیال آنے لگا کہ ضرورت سے زائد چیز میں ہم میں سے کسی کا کوئی حق نہیں ہے۔
Takhreej
(۳۵۹۰) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۷۲۸(انظر: ۱۱۲۹۳)
Explanation
فوائد:… لیکن کیا مجھے اپنے ضمیروں سے یہ سوال کرنے کا حق حاصل ہے کہ کیا ہم نے کسی محتاج کو تلاش کر کے اور اس پر ترس کھا کر اسے بھی سائیکل، موٹر سائیکل، رکشہ یا موٹر کار کا مستحق سمجھا ہو؟! یا اس کے گھر میں بھی راشن پہنچانے کو اپنے لیے باعث ِ اعزاز سمجھا ہو؟! ہر گز نہیں، ممکن ہے کہ ہمارا نظریہ ہییہ ہو کہ اس قسم کا محتاج تو ہمارے معاشرے پایا ہی نہیں جاتا، جبکہ یہ بھی عین ممکن ہے کہ رزق کی تنگیوں نے لوگوں کے سکون کو اس طرح تباہ کیا ہو کہ وہ مستقل طور پر کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہو گئے ہوں۔
3590
Sahih
سب سے زیادہ فضیلت والے صدقے کا بیان
۔ (۳۵۹۱) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ الصَّدَقَۃِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: ((اَنْ تَصَدَّقَ، وَاَنْتَ شَحِیْحٌ صَحِیْحٌ تَاْمُلُ الْعَیْشَ،وَتَخْشَی الْفَقْرَ، وَلَا تُمْہِلْ حَتّٰی إِذَا کَانَتْ بِالْحُلْقُوْمِ قُلْتَ: لِفُلَانٍ کَذَا وَلِفُلَانٍ کَذَا وَقَدْ کَانَ (وَفِی لَفْظٍ) اَلاوَقَدْ کَانَ لِفُلَانٍ۔)) (مسند احمد: ۹۷۶۷)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! بہترین صدقہ کونسا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا اس وقت اور اس حال میں صدقہ کرنا کہ جب تم حریص اور صحت مند ہو، زندگی کی امید ہو اور فقیری کا ڈر ہو اور اس قدر تاخیر نہ کرو کہ جب روح حلق تک آن پہنچے تو تم کہنا شروع کر دو کہ فلاں کو اتنا دے دینا، فلاں کو اس قدر دے دینا، حالانکہ اس وقت تو وہ مال دوسروں کا ہو چکا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۵۹۱) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۲۷۴۸، ومسلم: ۱۰۳۲ (انظر: ۹۷۶۸)
Explanation
فوائد:… جب انسان کو مال و دولت کی زیادہ ضرورت اور حرص ہو تی ہے‘ اس وقت انسان کا صدقہ کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے‘ کیونکہ ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و رضامندی کے حصول کے لئے اپنے نفس کو شکست دینا صبر آزما اور مشکل کام ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں نفس کو مغلوب کرنا ہی مقصودِ الہی ہے۔ موت کے غرغرہ (یعنی جان کنی) کے وقت انسان کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا‘ اس وقت کے نیک اعمال‘ وصیتیں اور صدقہ و خیرات بے اثر‘ بے فائدہ اور بے نتیجہ ہو جاتے ہیں‘ لہذا ہم کو چاہئے کہ اپنی عمر کے ابھرتے اور نمایاں دور میں اپنی مالی حالت کے مطابق صدقہ و خیرات کر کے توشۂ آخرت تیار کریں۔
3591
Sahih
سب سے زیادہ فضیلت والے صدقے کا بیان
۔ (۳۵۹۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی اَبِیْ ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ اَیُوْبَ عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُ الصَّدَقَۃِ مَا کَانَ عَنْ ظَہْرِ غِنیً، وَابْدَاْ بِمَنْ تَعُوْلُ، وَالْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنَ الْیَدِ السُّفْلٰی۔)) قُلْتُ لِاَیُّوْبَ: مَا عَنْ ظَہْرِ غِنًی؟ قَالَ: عَنْ فَضْلِ غِنَاکَ۔ (مسند احمد: ۷۷۲۷)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جو اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد کیا جائے اور خرچ کرتے وقت ان لوگوں سے ابتدا کرو جن کی کفالت کا تو ذمہ دار ہے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ معمر کہتے ہیں: میں نے ایوب سے کہا: عَنْ ظَہْرِ غِنًی کا کیا معنی ہے؟ انھوں نے کہا: جو تیری ضرورت اور غِنٰی سے زائد ہو۔
Takhreej
(۳۵۹۲) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۴۲۸(انظر: ۷۷۴۱)
3592
Sahih
سب سے زیادہ فضیلت والے صدقے کا بیان
۔ (۳۵۹۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی اَبِیْ ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ اَیُوْبَ عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُ الصَّدَقَۃِ مَا کَانَ عَنْ ظَہْرِ غِنیً، وَابْدَاْ بِمَنْ تَعُوْلُ، وَالْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنَ الْیَدِ السُّفْلٰی۔)) قُلْتُ لِاَیُّوْبَ: مَا عَنْ ظَہْرِ غِنًی؟ قَالَ: عَنْ فَضْلِ غِنَاکَ۔ (مسند احمد: ۷۷۲۷)
۔ (دوسری سند) سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جو اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد کیا جائے اور اوپروالا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے،جو افراد تیری کفالت میں ہیں، تو ان سے خرچ کرنا شروع کیا کر۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیاگیاکہ زیر کفالت افراد سے مراد کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: تمہاری بیوی جو کہتی ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ اور نان ونفقہ دو، وگرنہ مجھے طلاق دے دو، تمہارا خادم جو کہتا ہے کہ مجھے پہلے خوراک دو، تب مجھ سے کام لو اور تمہاری بیٹی جو کہتی ہے کہ اگر تم خود میری ضرورت پوری نہیں کرو گے، تو مجھے کس کے حوالے کرو گے۔
Takhreej
(۳۵۹۳) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۵۳۵۵ (انظر: ۱۰۷۸۵)
3593
Sahih
سب سے زیادہ فضیلت والے صدقے کا بیان
۔ (۳۵۹۴) وَعَنْ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۳۹۱)
۔ سیدناحکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۳۵۹۴) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۴۲۷، ومسلم: ۱۰۳۴(انظر: ۱۵۳۱۷)
3594
Sahih
سب سے زیادہ فضیلت والے صدقے کا بیان
۔ (۳۵۹۵) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَنَّہُ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ الصَّدَقَۃِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: ((جُہْدُ الْمُقِلِّ وَابْدَاْ بِمَنْ تَعُوْلُ۔)) (مسند احمد: ۸۶۸۷)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: میں نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! کونسا صدقہ سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کم سرمائے والے آدمی کی محنت کا صدقہ افضل ہے اور جن افراد کی کفالت کا توذمہ دار ہے، (مال خرچ کرنے کے سلسلے میں) ان کے ساتھ ابتدا کیا کر۔
Takhreej
(۳۵۹۵) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ ابوداود: ۱۶۷۷(انظر: ۸۷۰۲)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَلَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا} (سورۂ ملک: ۲) یعنی: ’’اس اللہ) نے موت و حیات کا (نظام) پیدا کیا تاکہ تم (انسانوں) کو آزمائے کہ تم میں کون ہے جو اچھے عمل کرے گا۔‘‘ بڑی شاندار حدیث ِ مبارکہ: سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((سَبَقَ دِرْھَمٌ مِائَۃَ اَلْفِ دِرْھَمٍ۔)) قَالُوْا: وَکَیْفَ؟ قَالَ: ((لِرَجُلٍ دِرْہَمَانِ تَصَدَّقَ بِاَحَدِھِمَا وَانْطَلَقَ رَجُلٌ اِلٰی عَرْضِ مَالٍ فَأَخَذَ مِنْہُ مِائَۃَ اَلْفِ دِرْھَمٍ فَتَصَدَّقَ بِہٖ۔)) …ایک درہم، ایک لاکھ درہم سے سبقت لے گیا۔‘‘ صحابہ نے پوچھا: وہ کیسے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’ایک آدمی کے پاس دو درہم تھے، اس نے ایک درہم صدقہ کر دیا اور ایک آدمی اپنے بڑی مقدار والے مال کی طرف گیا اور اس میں سے ایک لاکھ درہم صدقہ کیا۔‘‘ (نسائی: ۲۵۲۷) دراصل اللہ تعالیٰ کی قدردان نگاہ سب سے پہلے عمل کے حسن پر پڑتی ہے اور پھر عمل کی کثرت پر، ایک غریب آدمی نے محنت و مشقت کر کے معمولی مقدار میں مال و دولت اکٹھا کیا اور بمشکل اپنے اخراجات پورے کر کے اس کی انتہائی معمولی مقدار اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس تڑپ سے خرچ کی کہ اس کا نام بھی صدقہ کرنے والوں کی فہرست میں آجائے۔ ایسے آدمی کے عمل کی قدر بہرحال ایک امیر زادے کے عمل سے زیادہ ہے، جو نعمتوں کی فراوانیوں کے ماحول میں پالاپوسا گیا ہو اور وہ اپنی آمدن کا کچھ حصہ اللہ تعالیٰکے راستے میں خرچ کر دے۔
3595
Sahih
عاریۃً دی ہوئی چیزکا بیان
۔ (۳۵۹۶) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَتَدْرُوْنَ اَیُّ الصَّدَقَۃِ اَفْضَلُ؟)) قَالُوْا: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((الْمَنِیْحَۃُ، اَنْ یَمْنَحَ اَحَدُکُمْ اَخَاہُ الدِّرْہَمَ اَوْ ظَہْرَ الدَّابَّۃِ اَوْ لَبَنَ الشَّاۃِ اَوْ لَبَنَ الْبَقَرَۃِ۔)) (مسند احمد: ۴۴۱۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ سب سے افضل صدقہ کونسا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جاتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی کو کوئی چیز عاریۃً دے دینا، مثلاً تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کو درہمیا سوارییا بکری کا دودھ یا گائے کا دودھ دے دے۔
Takhreej
(۳۵۹۶) تخر یـج: حسن لغیرہ۔ اخرجہ ابویعلی: ۵۱۲۱، والبزار: ۹۴۷ (انظر: ۴۴۱۵)
Explanation
فوائد:… کوئی چیز عاریۃً دینے کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو کچھ عرصہ کے لیے کوئی چیز اس نیت سے دی جائے کہ وہ یہ اس عرصہ میں اس کی منفعت سے فائدہ اٹھاتا رہے، جیسے دودھ کے لیے جانور، کھیتی باڑی کرنے کے لیے زمین، پھل کے لیے پھلدار درخت اور سواری کے لیے سواری والا جانور عارضی طور پر دینا۔ اس سے مستقل دی ہوئی چیز کی اہمیت کا اندازہ لگالینا چاہیے۔
3596
Sahih
عاریۃً دی ہوئی چیزکا بیان
۔ (۳۵۹۷) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خَیْرُ الصَّدَقَۃِ الْمَنِیْحَۃُ تَغْدُوْا بِاَجْرٍ وَ تَرُوْحُ بِاَجْرٍ، مَنِیْحَۃُ النَّاقَۃِ کَعَتَاقَۃِ الْاَحْمَرِ، وَمَنِیْحَۃُ الشَّاۃِ کَعَتَاقَۃِ الْاَسْوَدِ۔)) (مسند احمد: ۸۶۸۶)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی کو کوئی چیز عاریۃً دے دینا بہترین صدقہ ہے، وہ چیز صبح بھی اجر کا سبب بنتی ہے اور شام کو بھی، کسی کو اونٹنی عاریۃً دے دینا سرخ رنگ کا غلام آزاد کرنے کے برابر ہے اور کسی کو بکری عاریۃً دے دینا سیاہ رنگ کے غلام کو آزاد کرنے کی مانند ہے۔
Takhreej
(۳۵۹۷) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، عبید اللہ بن صبیحۃ فی عداد المجھولین، ومثلہ محمد بن عبد اللہ، وفلیح لیس بذاک، یعتبر بہ فی الشواھد والمتابعات۔ اخرجہ البخاری: ۲۶۲۹، بلفظ: ((نعم المنیحۃ اللقحۃ الصفی منحۃ، والشاۃ الصفی تغدو باناء وتروح بانائ۔)) ومسلم: ۱۰۱۹، ۱۰۲۰، ولفظہ فی روایۃ: ((الا رجل یمنح اھل بیت ناقۃ بغدو یعس وتروح بعس، ان اجرھا لعظیم۔)) (انظر: ۸۷۰۱)
Explanation
فوائد:… تخریج میں دیئے گئے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے الفاظ کا بالترتیب ترجمہ یہ ہے: ’’سب سے بہترین چیز، جو عاریۃً دی جائے، وہ اونٹنی ہے، جس نے نیا بچہ دیا ہواہو اور زیادہ دودھ والی ہے اور وہ بکری ہے، جو زیادہ دودھ والی ہو اور صبح کو ایک پیالہ دودھ کا دے دیتی ہو اور ایک شام کو۔‘‘ ’’کیا کوئی ایسا آدمی نہیں ہے، جو کسی گھر والوں کو ایک اونٹنی بطورِ عاریہ دے دے، جو ایک بڑا پیالہ صبح کو دودھ کا دے دے اور ایک شام کو، اس عمل کا اجر بہت زیادہ ہے۔‘‘
3597
Zaeef
عاریۃً دی ہوئی چیزکا بیان
۔ (۳۵۹۸) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَرْبَعُوْنَ حَسَنَۃً،اَعْلَاہُنَّ مَنِیْحَۃُ الْعَنْزِ، لَایَعْمَلُ الْعَبْدُ بِحَسَنَۃٍ مِنْہَا رَجَائَ ثَوَابِہَا وَتَصْدِیْقَ مَوْعُوْدِہَا إلِاَّ اَدْخَلَہُ اللّٰہُ بِہَا الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۶۴۸۸)
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چالیس نیکیاں ہیں، ان میں سب سے بڑی نیکییہ ہے کہ دودھ والی بکری کسی کو عاریۃً دے دی جائے، جو آدمی ثواب کی امیدرکھتے ہوئے اور وعدہ کی ہوئی چیز کی تصدیق کرتے ہوئے ان چالیس میں سے ایک نیکی بھی سر انجام دے گا تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے گا۔
Takhreej
(۳۵۹۸) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۲۶۳۱(انظر: ۶۴۸۸)
Explanation
فوائد:… صحیح بخاری اور سنن ابو داود میںان الفاظ کی زیادتی ہے: راویٔ حدیث حسان بن عطیہ نے کہ: دودھ والی بکری عاریۃً دینا، ہم نے اس نیکی سے کم مرتبہ نیکیوں کو شمار کیا، مثلا سلام کا جواب دینا، چھینکنے والے کو ’’یَرْحَمُکَ اللّٰہ‘‘ کہنا، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا، وغیرہ وغیرہ، لیکن ہم پندرہ سے زائد نیکیاں شمار نہ کر سکے۔ یقینا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اِن چالیس نیکیوں کا علم ہو گا، لیکن ان کو ذکر نہ کرنا ہمارے لیے زیادہ فائدہ مند ہے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ ہم ان چالیس اعمالِ صالحہ کے پابند ہو جائیں اور باقی نیکیوں کو ترک کر دیں، جبکہ شریعت ِ مطہرہ میں ہر قسم کی نیکی اور اس کے اجر وثواب کا تعین کر دیا گیا ہے، انسان پر کوئی ایسی حالت طاری نہیں ہو سکتی، جس میں وہ یہ شکوہ کر سکے کہ اس ہیئت میں کوئی نیکی نہیں کی جا سکتی۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمان کو صدقہ کرتے وقت یا کوئی مالی احسان کرتے وقت اپنے عزم کے اندر مختلف انداز میں پاکیزگی پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ اس کا اس عمل سے مقصود کیا ہے۔
3598
Sahih
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۵۹۹) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ اَنْفَقَ زَوْجَیْنِ مِنْ مَالِہِ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ دُعِیَ مِنْ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ، وَلِلْجَنَّۃِ اَبْوَابٌ، فَمَنْ کَانَ مِنْ اَہْلِ الصَّلَاۃِ، دُعِیَ مِنْ بَابِ الصَّلَاۃِ، وَمَنْ کَانَ مِنْ اَہْلِ الصَّدَقَۃِ، دُعِیَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَۃِ، وَمَنْ کَانَ مِنْ اَہْلِ الْجِہَادِ، دُعِیَ مِنْ بَابِ الْجِہَادِ، وَمَنْ کَانَ مِنْ اَہْلِ الصِّیَامِ دُعِیَ مِنْ بَابِ الرَّیَّانِ۔)) فَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ: وَاللّٰہِ! یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا عَلٰی اَحَدٍ مِنْ ضَرُوْرَۃٍ مِنْ اَیِّہَا دُعِیَ، فَہَلْ یُدْعٰی مِنْہَا کُلِّہَا اَحَدٌ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((نَعَمْ وَإِنِّی اَرْجُوْا اَنْ تَکُوْنَ مِنْہُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۶۲۱)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے مال میں سے کسی چیز کا جوڑا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو اسے جنت کے دروازوں سے آواز دی جائے گی، جنت کے کئی دروازے ہیں، جو آدمی نمازی ہو گا، اسے بَابُ الصَّلَاۃ سے بلایا جائے گا، جو آدمی صدقہ کرتا ہو گا، اسے بَابُ الصَّدَقَۃ سے بلایا جائے گا، جو آدمی جہاد کرتا ہو گا، اسے بَابُ الْجِہَاد سے بلایا جائے گا اور جو آدمی روزہ رکھتا ہو گا، اسے بَابُ الرَّیَّان سے بلایا جائے گا۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! اس کی تو کسی کو کوئی حاجت نہیں ہوگی کہ اسے جنت کے جس دروازے سے مرضی بلا لیا جائے (کیونکہ مقصود جنت میں داخل ہونا ہو گا)، لیکن میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کوئی ایسا شخص بھی ہو گا، جس کو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے گا؟ اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں! اور مجھے امید ہے کہ تم بھی انہی میں سے ہو گے۔
Takhreej
(۳۵۹۹) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۸۹۷، ومسلم: ۱۰۲۷(انظر: ۷۶۳۳)
3599
Sahih
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۰۰) وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ اَنْفَقَ زَوْجًا اَوْ زَوْجَیْنِ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ دَعَتْہُ خَزَنَۃُ الْجَنَّۃِ: یَا مُسْلِمُ! ھٰذَا خَیْرٌ ہَلُمَّ إِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۸۷۷۶)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی چیز کا جوڑا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرے گا، اسے جنت کے دربان یوں آواز دیں گے: اے مسلمان! یہ دروازہ بہتر ہے، ادھر آ جائو۔
Takhreej
(۳۶۰۰) تخر یـج:اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین (انظر: ۸۷۹۰)
Explanation
فوائد:… جوڑے کی وضاحت اگلی حدیث میں آ رہی ہے۔
3600
Sahih
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۰۱) عَنْ صَعْصَعَۃَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یُنْفِقُ مِنْ کُلِّ مَالٍ لَہُ زَوْجَیْنِ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ إِلَّا اسْتَقْبَلَتْہُ حَجَبَۃُ الْجَنَّۃِ کُلُّہُمْ یَدْعُوْہُ إِلٰی مَا عِنْدَہُ۔)) قُلْتُ: وَکَیْفَ ذاَکَ؟ قَالَ: ((اِنْ کَانَتْ رِجَالًا فَرَجُلَیْنِ وَإِنْ کَانَتْ إِبِلًا فَبَعِیْرَیْنِ، وَإِنْ کَانَتْ بَقَرًا فَبَقَرَتَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۶۸)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان اپنے ہر مال میں سے ایک ایک جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا تو جنت کے دربان اس کا استقبال کریں گے اور سب ہی اسے اپنی طرف بلائیں گے۔ میں نے کہا: جوڑا خرچ کرنے کا کیا مطلب ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مثال کے طور پر اگر وہ غلاموں کا مالک ہے تو دو غلام، اگر وہ اونٹوں کا مالک ہے تو دو اونٹ اور اگر وہ گائیوں کا مالک ہے تو دو گائیں۔
Takhreej
(۳۶۰۱) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ النسائی: ۴/ ۲۴ (انظر: ۲۱۳۴۱)
3601
Sahih
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۰۲) عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْبَجَلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَجُلاً مِنَ الْاَنْصَارِ جَائَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِصُرَّۃٍ مِنْ ذَہَبٍ تَمْلَاُ مَا بَیْنَ اَصَابِعِہِ، فَقَالَ : ھٰذِہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، ثُمَّ قَامَ اَبُوْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فَاَعْطٰی، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فَاَعْطٰی، ثُمَّ قَامَ الْمُہَاجِرُوْنَ فَاَعْطَوْا، قَالَ: فَاَشْرَقَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی رَاَیْتُ الْإِشْرَاقَ فِی وَجْنَتَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((مَنْ سَنَّ سُنَّۃً صَالِحَۃً فِی الإِسْلَامِ فَعُمِلَ بِہَا بَعْدَہُ کَانَ بِہِ مِثْلُ اُجُوْرِہِمْ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَنْتَقِصَ مِنْ اُجُوْرِہِمْ شَیْئٌ وَمَنْ سَنَّ فِی الإِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً فَعُمِلَ بِہَا بَعْدَہُ کَانَ عَلَیْہِ مِثْلُ اَوزْاَرِہِمْ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَنْتَقِصَ مِنْ اَوْزَارِہِمْ شَیْئٌ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۹۷)
۔ سیدناجریر بن عبد اللہ بَجَلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری، نبی کریم صلی اللہ علی وآلہ وسلم کی خدمت میں سونے سے بھری ہوئی ایک تھیلی لئے ہوئے آیا، اس تھیلی نے اس آدمی کی مٹھی کو بھرا ہوا تھا۔ اس نے آ کر کہا: یہ تھیلی اللہ کی راہ میں وقف ہے، پھر سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اٹھے اور انہوں نے بھی کوئی چیز صدقہ کی، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اٹھے اوربطورِ صدقہ کچھ دیا، پھر مہاجرین کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی صدقہ کیا،یہ دیکھ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ اس حد تک دمک اٹھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرۂ مبارک پر چمکنے کے آثار نظر آ رہے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کوئی اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے اور پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے تو اسے ان تمام عمل کرنے والوں کے برابر ثواب ملے گا، جبکہ ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی بھی نہیں آئے گی، اسی طرح جوکوئی اسلام میں برا طریقہ رائج کرے اور پھر اس کے بعد اس پرعمل کیا جائے تو اس کو ان تمام عمل کرنے والوں کے برابر گناہ ہوگا، جبکہ اِن کے گناہ میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔
Takhreej
(۳۶۰۲) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۰۱۷(انظر: ۱۹۱۸۳)
3602
Sahih
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۰۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَثَّنَا عَلَی الصَّدَقَۃِ فَاَبْطَاَ النَّاسُ، حَتّٰی رُؤِیَ فِی وَجْہِہِ الْغَضَبُ (وَقَالَ مَرَّۃً: بَانَ) ثُمَّ إِنَّ رَجُلاً مِنَ الاَنْصَارِ جَائَ بِصُرَّۃٍ فَاَعْطَاہَا إِیَّاُہ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ فَاَعْطَوْا حَتّٰی رُؤِیَ فِی وَجْہِہِ السُّرُوْرُ فَقَالَ: ((مَنْ سَنَّ سُنَّۃ حَسَنَۃً……۔)) فَذکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۱۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور اس میںصدقہ کرنے کی ترغیب دلائی، لیکن لوگوں نے صدقہ کرنے میں تاخیر کی، اس وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرۂ مبارک پر غصے کے آثار نظر آنے لگے، پھر ایک انصاری ایک تھیلیلے کر آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیشکی، اس کے بعد لوگ پے در پے صدقہ کرنے لگے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرہ پر خوشی کے اثرات نمایاں ہونے لگے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اچھا طریقہ جاری کرتا ہے، ……۔ سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔
Takhreej
(۳۶۰۳) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
3603
Sahih
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۰۴) عَنْ اَبِی اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَنَّ رَجُلاً سَاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَیُّ الصَّدَقَۃِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: ((ظِلُّ فُسْطَاطٍ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، اَوْ خِدْمَۃُ خَادِمٍ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوْ طَرُوْقَۃُ فَحْلٍ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۷۷)
۔ سیدناابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ کونسا صدقہ افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سائے کے لیے اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیا ہوا خیمہیا خدمت کے لیے اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیا ہوا خادم یا اللہ تعالیٰ کی راہ میں دی ہوئی اونٹنی۔
Takhreej
(۳۶۰۴) حدیث حسن، وھذا اسناد ضعیف۔ اخرجہ الترمذی: ۱۶۲۶، ۱۶۲۷(انظر: ۲۲۶۲۱)
3604
Sahih
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۰۵) عَنْ اَبِی مَسْعُوْدٍ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنْ رَجُلاً تَصَدَّقَ بِنَافَۃٍ مَخْطُوْمَۃٍ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لیَاَتِیَنَّ اَوْ لَتَاْتِیَنَّ بِسَبْعِائَۃِ نَاقَۃٍ مَخْطُوْمَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۱۴)
۔ سیدناابو مسعود انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کہ ایک آدمی نے مہار والی ایک اونٹنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ اونٹنی ایسی ہی سات سواونٹنیاں لے کر آئے گی۔
Takhreej
(۳۶۰۵) تخر یـج:اخرجہ مسلم: ۱۸۹۲(انظر: ۲۲۳۵۷)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کے راستے یعنی جہادمیں خرچ کرنا باعث ِ اجر ِ عظیم ہے، آخری حدیث ِ مبارکہ اس معاملے میں انتہائی واضح ہے۔
3605
Sahih
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۰۶)عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْکَلِمَۃُ اللَّیِّنَۃُ صَدَقَۃٌ، وَکُلُّ خُطْوَۃٍیَمْشِیْہَا إِلَی الصَّلَاۃِ اَوْ قَالَ: إِلَی الْمَسْجِدِ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۸۰۹۶)
۔ سیدناابوہرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نرم بات بھی صدقہ ہے اور نماز کے لئے یا مسجد کی طرف اٹھا ہوا قدم بھی صدقہ ہے۔ آدمی پاؤں پر چل کر جائے وہ بھی صدقہ ہے۔
Takhreej
(۳۶۰۶) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۲۷۰۷، ۲۸۹۱، ومسلم: ۱۰۰۹(انظر: ۸۱۱۱)
Explanation
فوائد:… نرم بات، نیکی کے جلیل القدر اعمال میں سے ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ} ’’برائی کو اس طریقے سے دور کریں جو سراسر بھلائی والا ہو۔‘‘ (سورۂ مؤمنون: ۹۶) اور یہ طریقہ کبھی فعل کے ذریعے اختیار کیا جاتا ہے اور کبھی قول کے ذریعے۔ نرم بات کو صدقہ کیوں کہا گیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسے صدقہ وصول کرنے والے کا دل مال سے خوش ہو جاتا ہے اور دینے والے کے بارے میں اس کا دل صاف ہو جاتا ہے، بالکل اسی طرح نرم بات کے نتائج ہوتے ہیں۔ صدقہ کا ایک مفہوم ہمارے ہاں مروّج ہے، جس کا تعلق مادی چیزوں سے ہے، سوال یہ ہے کہ دوسرے عام نیکیوں کو صدقہ کیوں کہا جاتا ہے، جیسا کہ اس باب کی احادیث سے بھی معلوم ہو رہا ہے ؟ اس کے دو جوابات دیئے جا سکتے ہیں: ایکیہ ہے کہ جیسے صدقے کا اجر و ثواب ہوتا ہے، اسی طرح دوسری نیکیوں کا اجرو ثواب ہوتا ہے، کیونکہ دونوں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کام ہیں، اس لیے اس مشابہت کی وجہ سے دوسری نیکیوں کو بھی صدقہ کہہ دیا جاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ بندہ عام نیکیوں کے ذریعے اپنے نفس پر صدقہ کرتا ہے، اس وجہ سے ان کو صدقہ کہا جاتا ہے۔ نیکی کو صدقہ کہنے کییہ توجیہ بھی کی گئی ہے کہ صدقہ صدق (سچ بولنا) سے ہے اور ہر نیکی آدمی کے دل کی سچائی کی علامت ہوتی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
3606
Sahih
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۶۰۷) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ مَعْرُوْفٍ صَدَقَۃٌ، وَمِنَ الْمَعْرُوْفِ اَنْ تَلْقٰی اَخَاکَ بِوَجْہٍ طَلْقٍ، وَاَنْ تُفْرِ غَ مِنْ دَلْوِکَ فِی إِنَائِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۶۶)
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نیکی صدقہ ہے اور یہ بھی نیکی ہے کہ تم اپنے بھائی کو کشادہ روئی کے ساتھ ملو اور اپنے ڈول میں سے اس کے برتن میں پانی ڈال دو۔
Takhreej
(۳۶۰۷) تخر یـج: صحیح بطرقہ و شواہدہ۔ اخرجہ الترمذی: ۱۹۷۰، وأخرجہ البخاری: ۶۰۲۱ بلفظ: ((کل معروف صدقۃ۔)) (انظر: ۱۴۷۰۹)
Explanation
فوائد:… نیکی کے بارے میں اس قانون کو کبھی بھی نہیں بھلانا چاہیے کہ ہر قسم کی نیکی کو سرانجام دینے کی کوشش کی جائے، اس کو چھوٹا سمجھا جا رہا ہو یا بڑا، آخر پیاسے کتے کو پانی پلانے کی وجہ سے بدکار عورت کو بخش دیا گیا تھا۔
3607
Sahih

Chapters

34
01
زکوۃ ادا کرنے میں جلدی کرنے، وقت سے پہلے ادا کردینے اور امام کا زکوۃ دینے والے کے حق میں دعا کرنے کا بیان
7 Hadith
02
اس امر کا بیان کہ انسان کسی کو مستحق سمجھ کرصدقہ ادا کر دے، لیکن بعد میں پتہ چلے کہ وہ صدقہ کا مستحق نہ تھا
3 Hadith
03
مالک کے ساتھ نرمی کرنے اور زکوۃ وصول کرنے والے نمائندے کا خود اس کی طرف چلے جانے اور اس پر زیادتی نہ کرنے کا بیان
3 Hadith
04
زکوۃ وصول کنندہ کو راضی کرنا
3 Hadith
05
حقیر قسم کی چیز کا قصد کرنے اور اس کا صدقہ کرنے کی کراہت اور عمدہ چیز کا صدقہ کرنے کی فضلیت کی بیان
6 Hadith
06
حکمران کا کسی مصلحت کی بنا پر بعض لوگوں کو دینا اور بعض کو محروم کر دینا
3 Hadith
07
فقیر اور مسکین کا بیان
7 Hadith
08
عاملینِ زکوۃ
7 Hadith
09
ان لوگوںکا بیان، جن کو تالیف ِ قلبی کے لیے زکوۃ دی جاتی ہے
3 Hadith
10
غلاموں کی آزادی پر زکوۃ صرف کرنا
2 Hadith
11
قرض داروں کو زکوۃ دینا
5 Hadith
12
اللہ کی راہ میں اور مسافروں کو صدقہ دینے اور مصارفِ زکوٰۃ کی تمام اصناف کو صدقہ دینے کا بیان
3 Hadith
13
بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌
15 Hadith
14
صدقہ میں خیانت کرنے اور ایسا کرنے والے کے لئے وعید کا بیان
20 Hadith
15
اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان
8 Hadith
16
بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
11 Hadith
17
سوال کرنے سے بچنے اور اس کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
18
سوال نہ کرنے پر بیعت کرنا
3 Hadith
19
اگر بن مانگے کچھ مل جانے تو اسے قبول کر لینے اور اگر مانگنے کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو تو نیک لوگوں سے سوال کر لینے کا بیان
5 Hadith
20
سائل کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے اور خواہ وہ گھوڑے پر آئے، اس کو کچھ نہ کچھ دینے کا بیان
6 Hadith
21
اللہ تعالیٰ کے نام پر یا اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر سوال کرنے کا بیان
8 Hadith
22
صدقہ فطر کی مشروعیت اور حکم کا اور جن لوگوں پر یہ فرض ہے، ان کا بیان
6 Hadith
23
گندم کے نصف صاع کی روایت بیان کرنے والے
6 Hadith
24
صدقۂ فطر دینے کے وقت کا بیان
20 Hadith
25
سب سے زیادہ فضیلت والے صدقے کا بیان
5 Hadith
26
عاریۃً دی ہوئی چیزکا بیان
3 Hadith
27
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
28
جسم کے صدقہ کا بیان
8 Hadith
29
اس آدمی کا بیان جسے دو کپڑے بطورِ صدقہ دیئے گئے، لیکن اس نے ان میں سے ایک کپڑا صدقہ کی نیت سے ڈال دیا
1 Hadith
30
شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
6 Hadith
31
نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
2 Hadith
32
بیوی کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے صدقہ کرنے کا بیان
3 Hadith
33
مخفی طور پر صدقہ کرنے کی فضیلت
3 Hadith
34
صدقہ جاریہ کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.