سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہما کے اشعار کا بیان
۔ (۹۹۵۸)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا بَکْرٍ رضی اللہ عنہ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((مَنْ یَعْمَلْ سُوْئً ا یُجْزَ بِہٖفِیْ الدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۲۳)
۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے برا کام کیا، اس کو دنیا میں اس کا بدلہ دیا جائے گا۔
Takhreej
(۹۹۵۸) تخریج: حدیث صحیح بطرقہ وشواھدہ، أخرجہ الترمذی: ۳۰۳۹ (انظر: ۲۳)
Explanation
فوائد:… درج ذیل حدیث سے اس حدیث کا مفہوم واضح ہو گا:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہے: لَمَّا نَزَلَ {مَنْ یَعْمَلْ سُوء ًا یُجْزَ بِہِ} شَقَّ ذٰلِکَ عَلَی
الْمُسْلِمِینَ، فَشَکَوْا ذٰلِکَ إِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: ((قَارِبُوا وَسَدِّدُوا وَفِی کُلِّ مَا یُصِیبُ الْمُؤْمِنَ کَفَّارَۃٌ حَتَّی الشَّوْکَۃَیُشَاکُہَا أَوِ النَّکْبَۃَیُنْکَبُہَا۔)) … جب یہ آیت نازل ہوئی {مَنْ یَعْمَلْ سُوء ًا یُجْزَ بِہِ} (جو کوئی برا کام کرے گا، اس کی سزا دیجائے گی۔) تو مسلمانوں پر شاق گزرا اورانہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا شکوہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمام امور میں میانہ روی اختیار کرو اور راہِ صواب پر ڈٹے رہو، مومن کی ہر آزمائش میں اس کے گناہوں کا کفارہ ہے، یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا چبھ جائے یا کوئی مشکل پیش آجائے۔
(جامع ترمذی: ۲۹۶۴)
9958
Sahih