TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

زبان کی آفتوں کے مسائل - زبان کی آفتوں کے مسائل - Book 164 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 164 of Musnad Ahmad, with 30 chapters and 169 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

169 Hadith · 30 Chapters
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
۔ (۹۹۵۸)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ یَعْمَلْ سُوْئً ا یُجْزَ بِہٖفِیْ الدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۲۳)
۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے برا کام کیا، اس کو دنیا میں اس کا بدلہ دیا جائے گا۔
Takhreej
(۹۹۵۸) تخریج: حدیث صحیح بطرقہ وشواھدہ، أخرجہ الترمذی: ۳۰۳۹ (انظر: ۲۳)
Explanation
فوائد:… درج ذیل حدیث سے اس حدیث کا مفہوم واضح ہو گا: سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہے: لَمَّا نَزَلَ {مَنْ یَعْمَلْ سُوء ًا یُجْزَ بِہِ} شَقَّ ذٰلِکَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ، فَشَکَوْا ذٰلِکَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((قَارِبُوا وَسَدِّدُوا وَفِی کُلِّ مَا یُصِیبُ الْمُؤْمِنَ کَفَّارَۃٌ حَتَّی الشَّوْکَۃَیُشَاکُہَا أَوِ النَّکْبَۃَیُنْکَبُہَا۔)) … جب یہ آیت نازل ہوئی {مَنْ یَعْمَلْ سُوء ًا یُجْزَ بِہِ} (جو کوئی برا کام کرے گا، اس کی سزا دیجائے گی۔) تو مسلمانوں پر شاق گزرا اورانہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا شکوہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمام امور میں میانہ روی اختیار کرو اور راہِ صواب پر ڈٹے رہو، مومن کی ہر آزمائش میں اس کے گناہوں کا کفارہ ہے، یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا چبھ جائے یا کوئی مشکل پیش آجائے۔ (جامع ترمذی: ۲۹۶۴)
9958
Sahih
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
۔ (۹۹۵۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَقُوْلَنَّ اَحَدُکُمْ خَبُثَتْ نَفْسِیْ، وَلٰکِنْ لِیَقُلْ لَقِسَتْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۴۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اس طرح نہ کہے کہ خَبُثَتْ نَفْسِیْ، بلکہ اس مفہوم کو ادا کرنے کے لیے لَقِسَتْ نَفْسِیْ کہے۔
Takhreej
(۹۹۵۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۱۷۹، ومسلم: ۲۲۵۰ (انظر: ۲۴۲۴۴)
Explanation
فوائد:… خَبُثَتْْ اور لَقِسَتْ دونوں کے لغوی معانی ایک ہی ہیں، بظاہر انسان کے لیے اچھی بات نہیں ہے کہ وہ اپنے لیے خَبُثَتْْ کا لفظ استعمال کرے اور یہ آداب کا ایک طریقہ ہے کہ اچھے الفاظ استعمال کیے جائیں۔ ان دونوں الفاظ کے معانییہ ہیں: جی متلانا، جی بھاری ہونا، طبیعت سست ہونا،ردی اور خراب ہونا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بندے کو مہذب الفاظ بیان کرنے چاہئیں، تاکہ مقصد بھی پورا ہو جائے اور تہذیب بھی برقرار رہے۔
9959
Sahih
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
۔ (۹۹۶۰)۔ وَعَنْھَا اَیْضًا، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلشُّؤْمُ سُوْئُ الْخُلُقِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۰۵۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نحوست، بری عادات ہیں۔
Takhreej
(۹۹۶۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، فیہ انقطاع وضعف، حبیب بن عبید الرحبی لم یسمع من عائشۃ، وابوبکر بن عبد اللہ ضعیف(انظر: ۲۴۵۴۷)
Explanation
فوائد:… یعنی بداخلاقی اور بری عادات کے اندر نحوست پائی جاتی ہے۔
9960
Zaeef
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
۔ (۹۹۶۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَقُلْ اَحَدُکُمُ لِلْعِنَبِ الْکَرْمُ، اِنّمَا الْکَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ۔)) (مسند احمد: ۸۱۷۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی انگور کو کَرْم نہ کہے، کیونکہ کَرْم تو مسلمان آدمی ہوتا ہے۔
Takhreej
(۹۹۶۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۴۷ (انظر: ۸۱۹۰)
Explanation
فوائد:… عرب لوگ انگور کو اس وجہ سے کَرْم کہتے تھے، کیونکہ اس سے بنایا جانے والا شراب کَرَم یعنی سخاوت اور فیاضی پر ابھارتا تھا، جب شریعت نے شراب کو حرام کیا تو مدح والے اس نام سے بھی منع کر دیا، تاکہ نفسوں کا میلان اُدھر نہ ہو سکے اور اس خوبصورت نام کو مسلمان کے ساتھ خاص کر دیا۔ اس حدیث ِ مبارکہ کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مقصود یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو اپنی جگہ پر برقرار رکھا جائے {اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ} … بیشک تم میں سب سے زیادہ کرم اور عزت والا وہ ہے، جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مسلمان کی جو صفت بیان کی ہے، وہ اس لائق ہے کہ اس میں کسی اور چیز کی مشارکت نہ ہو۔
9961
Sahih
دو دو امور کا بیان
۔ (۹۹۶۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((شَرُّ مَا فِیْ رَجُلٍ شُحٌّ ھَالِعٌ، وَجُبْنٌ خَالِعٌ۔)) (مسند احمد: ۷۹۹۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سخت کنجوسی اور سخت بزدلی کسی آدمی میں پائی جانے والی بدترین صفات ہیں۔
Takhreej
(۹۹۶۲) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۲۵۱۱ (انظر: ۸۰۱۰)
Explanation
فوائد:… کنجوسی اور بزدلی، انسان کی کمینگی پر دلالت کرنے والی گھٹیا صفات ہیں، ایسی صفات دنیا چاہنے والوں کو دنیا میں بھی ذلیل کر دیتی ہیںاور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کی نظرِ رحمت سے محروم رہیں گے۔
9962
Sahih
دو دو امور کا بیان
۔ (۹۹۶۳)۔ عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ مِمَّا اَخْشٰی عَلَیْکُمْ شَھَوَاتِ الْغَیِّ فِیْ بُطُوْنِکُمْ وَفُرُوْجِکُمْ وَمُضِلَّاتِ الْھَوٰی، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) مُضِلِّاتِ الْفِتَنِ ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۱۱)
۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے تمہارے بارے میں سرکشی کی جن شہوتوں کا سب سے زیادہ ڈر ہے، ان کا تعلق تمہارے پیٹوں، شرمگاہوں، گمراہ کرنے والی خواہشوں اور فتنوں سے ہے۔
Takhreej
(۹۹۶۳) تخریج: رجالہ ثقات رجال الصحیح (انظر: ۱۹۷۷۳)
Explanation
فوائد:… نفس کی خواہش کے مطابق دنیا کی لذتوں کے پیچھے پڑ جانا، نوع بنوع ماکولات اور قسما قسم کے مشروبات کو ہی زندگی کا مقصد سمجھ لینا، وہ حلال ہوں یا حرام اور شہوت کو پورا کرنے کے لیے زنا کرنا۔ اگر پوری دنیا کے مسلمانوں کا جائزہ لیا جائے توتقریبا تمام سرمایہ دار کھانے پینے کی لذتوں کے غلام ہو کر رہ گئے ہیں، ایک وقت کا کھانا کھانے کے لیے مہنگے ہوٹلوں کا انتخاب کیا جاتا ہے، رات ایک دو دو بجے تک ہوٹلنگ ہوتی رہتی ہے، کوئی شام کا کھانا کھانے کے لیے شہر سے بیس کلو میٹر دور جا رہا ہے، کوئی آئس کریم کا لطف اٹھانے کے لیے شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے کی طرف جا رہا ہے، بلکہ لوگوں کو دوسرے ممالک سے کھانے کی چیزیں منگواتے ہوئے پایا گیا ہے، ایک ایک دعوت کے موقع پر پانچ چھ چھ ڈشیں دکھائی دیتی ہیں، جس ہوٹل پر جائیںسینکڑوں کھانوں پر مشتمل مینیو سامنے رکھ دیا جاتا ہے، بیس پچیس منٹ تو یہ فیصلہ کرنے میں لگ جاتے ہیں کہ کس کھانے کا انتخاب کیا جائے۔ غرضیکہ جس چیزکا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ڈر تھا، وہ اپنی انتہاء تک پہنچ گئی ہے۔ رہا مسئلہ زنا جیسی لعنت کا تو اسلام کا دعوی کرنے والوں کی خاصی تعداد اس کمینگی میں مبتلا ہو چکی ہے، بعض ممالک کا تو نام لے کر ذکر کیا جاتا ہے کہ اس کے اکثر وبیشتر باشندے بے حیا ہو چکے ہیں۔
9963
Sahih
دو کے عدد سے شروع ہونے والے دو دو امور کا بیان
۔ (۹۹۶۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثِنْتَانِ ھُمَا بِالنّاسِ کُفْرٌ، نِیَاحَۃٌ عَلَی الْمَیِّتِ، وَطَعْنٌ فِیْ النَّسَبِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۸۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو چیزیں لوگوں میںپائی جاتی ہیں، جبکہ وہ کفر ہیں، میت پر نوحہ کرنا اور نسب میں طعن کرنا ۔
Takhreej
(۹۹۶۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۶۷ (انظر: ۹۶۹۰)
Explanation
فوائد:… کفر سے مراد یہ ہے کہ ان افعال کا تعلق کافروں اور جاہلیت کے طور طریقوں سے ہے۔
9964
Sahih
دو کے عدد سے شروع ہونے والے دو دو امور کا بیان
۔ (۹۹۶۵)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ذَنْبَانِ مُعَجَّلَانِ لَا یُؤَخَّرَانِ اَلْبَغْیُ، وَقَطِیْعَۃُ الرَّحِمِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۵۱)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو گناہ ہیں، ان کی سزا جلدی دی جاتی ہے اور ان کے معاملے میں تاخیر نہیں کی جاتی، ایک سرکشی اور دوسرا قطع رحمی۔
Takhreej
(۹۹۶۵) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۱۷۷ (انظر: ۲۰۳۸۰)
9965
Sahih
تین تین امور کا بیان
۔ (۹۹۶۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَسْتَقْبِلُوْا، وَلَا تُحَفِّلُوْا، وَلَا یَنْعِقْ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۳)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قضائے حاجت کے وقت قبلہ رخ نہ ہوا کرو، (دھوکہ دینے کے لیے جانوروں کا) دودھ نہ روکا کرو اور بکریوں کے چرواہوں کی طرح ایک دوسرے کو آواز نہ دیا کرو۔
Takhreej
(۹۹۶۶) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۱۲۶۸ (انظر: ۲۳۱۳)
Explanation
فوائد:… آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ سنجیدگی اور وقار کے ساتھ بولنا چاہیے، چیخنے اور اونچی اونچی آوازیں دینے سے بچنا چاہیے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِکَ اِنَّ اَنْکَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۔} … اور اپنی چال میں میانہ روی رکھ اور اپنی آواز کچھ نیچی رکھ، بے شک سب آوازوں سے برییقینا گدھوں کی آواز ہے۔ (سورۂ لقمان: ۱۹)
9966
Sahih
تین تین امور کا بیان
۔ (۹۹۶۷)۔ عَنْ سَھْلٍ، عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اِنَّ لِلّٰہِ عِبَادًا لَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْھِمْ۔)) قِیْل لَہُ: مَنْ اُوْلٰئِکَ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِِ! قَالَ: ((مُتَبَرٍّ مِنْ وَالِدَیْہِ رَاغِبٌ عَنْھُمَا، وَمُتَبَرٍّ مِنْ وَلِدِہِ ، ورَجُلٌ اَنْعَمَ عَلَیْہِ قَوْمٌ فَکَفَرَ نِعْمَتَھُمْ وَتَبَرَّاَ مِنْھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۲۱)
۔ سہل اپنے باپ سیدنا معاذبن انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ ان سے کلام کرے گا، نہ ان کو پاک کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے والدین سے براء ت اور بے رغبتی کا اظہار کرنے والا، اپنی اولاد سے بری ہونے والا اور وہ آدمی کہ بعض لوگوں نے اس پر انعام کیا، لیکن اس نے ان کی نعمت کی ناشکری کی اور ان سے براء ت کا اظہار کیا۔
Takhreej
(۹۹۶۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، لضعف زبان بن فائد وسھل فی روایۃ زبان عنہ، ورشدین ایضا ضعیف، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۴۳۷(انظر: ۱۵۶۳۶)
9967
Zaeef
تین تین امور کا بیان
۔ (۹۹۶۸)۔ عَنْ اَبِیْ شُرَیْحٍ الْخُزَاعِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ مِنْ اَعْتَی النَّاسِ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مَنْ قَتَلَ غَیْرَ قَاتِلِہِ، اَوْ طَلَبَ بِدَمِ الْجَاھِلیَّۃِ مِنْ اَھْلِ الْاِسْلَامِ، اَوْ بَصَّرَعَیْنَیْہِ فِیْ النُّوْمِ مَالَمْ تُبْصِرْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۹۱)
۔ سیدنا ابو شریح خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر سب سے بڑا سرکش وہ ہے، جو غیر قاتل کو قتل کر دے، یا اہل اسلام سے جاہلیت والے خون کا مطالبہ کرے، یا اپنے آنکھوں کو نیند میں وہ کچھ دکھائے، جو انھوں نے دیکھا نہ ہو (یعنی جھوٹے خواب بیان کرے)۔
Takhreej
(۹۹۶۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد الرحمن بن اسحاق المدنی فیہ کلام من جھۃ حفظہ، وقال البخاری: لیس ممن یعتمد علی حفظہ اذا خالف من لیس بدونہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : (انظر: ۱۶۳۷۸)
9968
Zaeef
تین تین امور کا بیان
۔ (۹۹۶۹)۔ عَنْ رُوَیْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَارُوَیْفِعُ! لَعَلَّ الْحَیَاۃَ سَتَطُوْلُ بِکَ فَاَخْبِرِ النَّاسَ اَنَّہُ مَنْ عَقَدْ لِحْیَتَہُ، اَوْ تَقَلَّدَ وَتَرًا، اَوِ اسْتَنْجٰی بِرَجِیْعِ دَابَۃٍ، اَوْ عَظْمٍ، فَاِنَّ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْہُ بِرِیْئٌ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَقَدْ بَرِیئَ مِمَّا اَنْزَلَ عَلیٰ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )) (مسند احمد: ۱۷۱۲۰)
۔ سیدنا رویفع بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے رویفع! ممکن ہے کہ تیری زندگی لمبی ہو جائے، پس لوگوں کو بتلانا کہ جس نے اپنی داڑھی کو گرہ لگائی،یا تانت کا قلادہ ڈالا ، یا جانور کی لیدیا ہڈی سے استنجاء کیا تو محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اس سے بری ہو جا ئے گا۔ ایک روایت میں ہے: ایسا شخص اس چیز سے بری ہو جائے گا، جو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل ہوئی۔
Takhreej
(۹۹۶۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، أخرجہ النسائی: ۸/ ۱۳۵ (انظر: ۱۶۹۹۵)
9969
Zaeef
تین تین امور کا بیان
۔ (۹۹۷۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَقَوَّلَ عَلَیَّ مَالَمْ اَقُلْ، فَلْیَتَبَوَّاْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ، وَمَنِ اسْتَشَارَہُ اَخُوْہُ الْمُسْلِمُ فَاَشَارَ عَلَیْہِ بِغَیْرِ رُشْدٍ فَقَدْ خَانَہُ، وَمَنْ اَفْتٰی بِفُتْیَا غَیْرِ ثَبْتٍ، فَاِنّمَا اِثْمُہُ عَلیٰ مَنْ اَفْتَاہُ۔)) (مسند احمد: ۸۲۴۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے میری طرف وہ بات منسوب کی، جو میں نے نہیں کہی، وہ آگ سے اپنا ٹھکانہ تیار کر لے، جس سے اس کے مسلمان بھائی نے مشورہ طلب کیا، لیکن اس نے عقل اور راست روی کے بغیر اس کو مشورہ دے دیا، پس اس نے اس سے خیانت کی اور جس نے تحقیق کے بغیر فتوی دیا، پس اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہو گا۔
Takhreej
(۹۹۷۰) تخریج: حسن، قالہ الالبانی، أخرجہ ابوداود: ۳۶۵۷، وابن ماجہ: ۵۳ (انظر: ۸۲۶۶)
Explanation
فوائد:… مشورہ اور فتوی دینے والے افراد کو متنبہ رہنا چاہیے، صرف وہ مشورہ دیا جائے، جس میں مسلمان کے لیے خیر و بھلائی ہو اور مکمل تحقیق، محنت اور یقینیا ظن غالب کے بعد شریعت سے متعلقہ امور کا فتوی دیا جائے۔
9970
Sahih
تین تین امور کا بیان
۔ (۹۹۷۱)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی اَنْ یَشْرَبَ الرَّجُـلُ قَائِمًا، وَعَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِیْ السِّقَائِ، وَاَنْ یَمْنَعَ الرَّجُـلُ جَارَہُ اَنْ یَضَعَ خَشَبَۃً فِیْ حَائِطِہِ۔)) (مسند احمد: ۸۳۱۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی کھڑے ہو کر پانی پئے، مشکیزے کے منہ سے پانی پئے اور اس سے کہ آدمی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار پر لکڑی رکھنے سے منع کرے۔
Takhreej
(۹۹۷۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الصحیح، أخرجہ البیھقی: ۶/ ۶۸ (انظر: ۸۳۱۷)
9971
Sahih
تین تین امور کا بیان
۔ (۹۹۷۲)۔ عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الْاَسْقَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ النَّبیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ اَعْظَمِ الْفِـرٰی اَنْیُدْعَی الرَّجُلُ اِلٰی غَیْرِ اَبِیْہِ اَوْ یُرِیَ عَیْنَیْہِ فِیْ الْمَنَامِ مَالَمْ تَرَیَا، اَوْ یَقُوْلَ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَالَمْ یَقُلْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۰۵)
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ آدمی غیر باپ کی طرف منسوب ہو یا اپنی آنکھوں کو وہ کچھ دکھائے، جو انھوں نے نہ دیکھا ہو(یعنی جھوٹے خواب بیان کرے)، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف ایسی بات منسوب کرے، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ فرمائی ہو۔
Takhreej
(۹۹۷۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۵۰۹ (انظر: ۱۶۹۸۰)
9972
Sahih
تین تین امور کا بیان
۔ (۹۹۷۳)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنِ اَبِیْ التَّیَّاحِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِیْ لَیْثٍ، قَالَ: اَشْھَدُ عَلَی عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ، قَالَ شُعْبَۃُ: اَوْ قَالَ عِمْرَانُ: اَشْھَدُ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ نَھٰی عَنِ الْحَنَاتِمِ۔ اَوْ قَالَ: الْحَنْتَمِ۔ (وَفِیْ لَفْظٍ: عَنِ الشُّرْبِ فِیْ الْحَنَاتِمِ وَخَاتَمِ الذَّھَبِ وَالْحَرِیْرِ۔))) (مسند احمد: ۲۰۰۷۷)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر گواہی دیتا ہوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہرے رنگ کے گھڑوں میں پینے سے، سونے کی انگوٹھی سے اور ریشم سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۹۹۷۳) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ مقطعا الترمذی: ۱۷۳۸، والنسائی: ۸/ ۱۷۰ (انظر: ۱۹۸۳۸)
Explanation
فوائد:… حرمت ِ شراب کے وقت ہرے رنگ کے گھڑوں اور دیگر برتنوں کو استعمال کرنے سے عارضی طور پر منع کیا گیا تھا، بعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس قسم کے برتنوں کے استعمال کی اجازت دے دی تھی۔
9973
Sahih
تین تین امور کا بیان
۔ (۹۹۷۴)۔ عَنْ ثَوْبَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((لَا یَحِلُّ لِاِمْرِیئٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ اَنْ یَنْظُرَ فِیْ جَوْفِ بَیْتِ امْرِیئٍ حَتّٰییَسْتَاْذِنَ، فَاِنْ نَظَرَ فَقَدْ دَخَلَ، وَلَا یَؤُمُّ قَوْمًا فَیَخْتَصَّ نَفْسَہَ بِدُعَائٍ دُوْنَھُمْ، فَاِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَھُمْ، وَلَا یُصَلِّیْ وَھُوَ حَقِنٌ حَتّٰییَتَخَفَّفَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۷۹)
۔ سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اجازت لیے بغیر کسی آدمی کے گھرکے اندر دیکھے، اگر وہ وہ دیکھتا ہے تو اس کا معنییہ ہو گا کہ وہ داخل ہو گیا ہے، نیز کوئی آدمی لوگوں کو اس طرح امامت نہ کروائے کہ دعا صرف اپنے نفس کے لیے کرتا رہے، پس اگر وہ اس طرح کرے گا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے ان سے خیانت کی ہے اور کوئی آدمی اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ وہ پیشاب پائخانہ کو روک رہا ہو، اسے چاہیے کہ پہلے قضائے حاجت سے فارغ ہو جائے۔
Takhreej
(۹۹۷۴) تخریج: صحیح لغیرہ دون قصۃ دعاء الامام لنفسہ، فانہ تفرد بھا یزید بن شریح الحضرمی، وھو یعتبر بہ فی المتابعات والشواھد، أخرجہ ابوداود: ۹۰، والترمذی: ۳۵۷(انظر: ۲۲۴۱۵)
Explanation
فوائد: … نظر کی وجہ سے ہی بلا اجازت کسی کے گھر میں داخل ہونے سے منع کیا گیا ہے، اس لیے دوسرے کے گھروں میں جھانکنا اور سوراخوں سے دیکھنا منع ہے۔
9974
Sahih
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
۔ (۹۹۷۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَلَاثَۃٌ قَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمُ الْجَنَّۃَ، مُدْمِنُ الْخَمْرِ، وَالْعَاقُّ، وَالدَّیُّوْثُ الَّذِیْیُقِرُّ فِیْ اَھْلِہِ الْخَبَثَ۔)) (مسند احمد: ۵۳۷۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین افراد ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان پر جنت کو حرام قرار دیا ہے، شراب پر ہمیشگی اختیار کرنے والا، والدین کا نافرمان اور وہ دیوث جو اپنے گھر کے اندر برائی کو برقرار رکھتا ہے۔
Takhreej
(۹۹۷۵) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۵۳۷۲)
Explanation
فوائد:… اپنے گھر والے افراد کے بارے میں غیرت نہ رکھنے والے کو دیوث کہتے ہیں، دوسرے الفاظ میں دیوث کا معنی بے غیرت ہے۔
9975
Sahih
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
۔ (۹۹۷۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَلَاثٌ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ، وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْھِمْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، الْعَاقُّ وَالِدَیْہِ، وَالْمُدْمِنُ الْخَمْرِ، وَالْمَرْاَۃُ الْمُتَرَجِّلَۃُ الْمُتََشَبِّھَۃُ بِالرِّجَـالِ، وَالدَّیُّوْثُ، وَثَلَاثٌ لَا یَنْظُرُ اللّٰہُ اِلَیْھِمْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، الْعَاقُّ بِوَالِدَیْہِ، وَالْمُدْمِنُ الْخَمْرِ، وَالْمَنَّانُ بِمَا اَعْطیٰ۔)) (مسند احمد: ۶۱۸۰)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین افراد نہ جنت میں داخل ہوں گے اور نہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کی طرف دیکھے گا: والدین کا نافرمان، شراب پر ہمیشگی کرنے والے،مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی خاتون اور دیوث اور اللہ تعالیٰ بروز قیامت تین افراد کی طرف نہیں دیکھے گا: والدین کا نافرمان، شراب پر ہمیشگی کرنے والا اور اپنے دیئے پر احسان جتلانے والا۔
Takhreej
(۹۹۷۶) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ النسائی: ۵/ ۸۰ (انظر: ۶۱۸۰)
9976
Sahih
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
۔ (۹۹۷۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَلَاثٌ اِذَا کُنَّ فِیْ الرِجَّالِ، فَھُوَ الْمُنَافِقُ الْخَالِصُ، اِنْ حَدَّثَ کَذَبَ، وَاِنْ وَعَدَ اَخْلَفَ، وَاِنِ ائْتُمِنَ خَانَ، وَمَنْ کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِنْھُنَّ لَمْ یَزَلْیَعْنِیْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتّٰییَدَعَھَا۔)) (مسند احمد: ۶۸۷۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین خصلتیں ہیں، جب وہ کسی آدمی میں پائی جائیں گی تو وہ خالص منافق ہو گا، جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اس کی مخالفت کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو وہ خیانت کرے، اور جس فرد میں ان میں ایک خصلت ہو گی تو اس میں وہ دراصل نفاق کی خصلت ہو گی،یہاں تک کہ وہ اس کو ترک کر دے۔
Takhreej
(۹۹۷۷) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۶۸۷۹)
Explanation
فوائد:… ان تین برائیوں کا تعلق منافقوں کے اعمال سے ہے۔
9977
Sahih

Chapters

30
01
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
13 Hadith
02
خاموشی کا بیان
3 Hadith
03
غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
04
چغلخوری سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
05
جھوٹ سے ترہیب کا بیان
7 Hadith
06
ان لوگوں کا بیان، جن کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے
2 Hadith
07
ان امور کا بیان، جن میں جھوٹ بولنا جائز ہوتا ہے
2 Hadith
08
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
11 Hadith
09
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
13 Hadith
10
جھگڑا کرنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
11
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
9 Hadith
12
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
13
شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
6 Hadith
14
لبید اور امیہ بن ابی صلت کے اشعار کا بیان
5 Hadith
15
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
9 Hadith
16
دو دو امور کا بیان
2 Hadith
17
دو کے عدد سے شروع ہونے والے دو دو امور کا بیان
2 Hadith
18
تین تین امور کا بیان
9 Hadith
19
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
15 Hadith
20
چار چار امور کا بیان
5 Hadith
21
چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان
6 Hadith
22
پانچ پانچ امور کا بیان
5 Hadith
23
عدد سے شروع ہونے والے پانچ پانچ امور کا بیان
3 Hadith
24
چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
6 Hadith
25
سات سات امور کا بیان
2 Hadith
26
سات کے عدد سے شروع ہونے والے سات سات امور والی احادیث کا بیان
2 Hadith
27
آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
28
آٹھ کے عدد سے شروع ہونے والی آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
1 Hadith
29
دس دس امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
30
دس کے عدد سے شروع ہونے والے دس دس امور کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.