TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

زبان کی آفتوں کے مسائل - زبان کی آفتوں کے مسائل - Book 164 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 164 of Musnad Ahmad, with 30 chapters and 169 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

169 Hadith · 30 Chapters
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
۔ (۹۹۷۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ یَعْنِیْ ابْنَ اِسْحٰقَ، عَنْ سَعِیْدٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَلَاثٌ مِنْ عَمْلِ اَھْلِ الْجَاھِلیَّۃِ لَا یَتْرُکُھُنَّ اَھْلُ الْاِسْلَامِ، النِّیَاحَۃُ، وَالِْاسْتِسْقَائُ بِالْاَنْوَائِ۔)) وَکَذَا، قُلْتُ لِسَعِیْدٍ: وَمَاھُوَ؟ قَالَ: دَعْوَی الْجَاھِلیَّۃِیَا آلَ فُلَانٍ،یَا آلَ فُلَانٍ، یَا آلَ فُلَانٍ۔ (مسند احمد: ۷۵۵۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل جاہلیت کے تین امور ہیں، اہل اسلام بھی ان کو ترک نہیں کریں گے، نوحہ کرنا، ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا اور اس طرح جاہلیت کی پکار پکارنا کہ اے آلِ فلاں، اے آلِ فلاں۔
Takhreej
(۹۹۷۸) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابن حبان: ۳۱۴۱(انظر: ۷۵۶۰)
9978
Sahih
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
۔ (۹۹۷۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ : ((ثَلَاثُ دَعْوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَکَّ فِیْھِنِّ، دَعْوَۃُ الْمَظْلُوْمِ، وَدَعْوَۃُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَۃُ الْوَالِدِ عَلٰی وَلِدِہِ ۔)) (مسند احمد: ۸۵۶۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین دعائیں قبول کی جاتی ہیں، ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں ہے، مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور والدین کی اپنی اولاد کے حق میں دعا۔
Takhreej
(۹۹۷۹) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۱۵۳۶، والترمذی: ۱۹۰۵، ۳۴۴۸ (انظر: ۸۵۸۱)
9979
Sahih
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
۔ (۹۹۸۰)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَلَاثٌ لَایَکُلِّمُھُمُ اللّٰہُ، وَلَا یَنْظُرُ الَِیْھِمْ، وَلَا یُزَکِّیْھِمْ، وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ، رَجُلٌ عَلٰی فَضْلِ مَائٍ بِالْفَلَاۃِ،یَمْنَعُہُ مِنِ ابْنِ السَّبِیْلِ، وَرَجُلٌ بَایَعَ الْاِمَامَ وَلَا یُبَایِعُہُ اِلَّا لِدُنْیَا، فَاِنْ اَعْطَاہُ مِنْھَا وَفٰی لَہُ، وَاِنْ لَمْ یُعْطِہِ لَمْ یَفِ لَہُ، قَالَ: َورَجُلٌ بَایَعَ رَجُلًا سِلْعَۃً بَعْدَ الْعَصْرِ، فَحَلَفَ لَہُ بِاللّٰہِ لَاَخَذَھَا، بِکَذَا، وَکَذَا، فَصَدَّقَـہُ، وَھُوَ عَلیٰ غَیْرِ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۷۴۳۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نہ تین افراد سے کلام کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ان کو پاک صاف کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا، ایک وہ آدمی جو کسی بیابان میں زائد پانی پر قبضہ کر لے اور مسافر کو اس سے روک دے، دوسرا وہ آدمی جو صرف دنیا کے لیے حکمران کی بیعت کرے، اگر وہ اس کو دنیوی مال دے تو وہ بیعت کے تقاضے پورا کرتا ہے اور اگر کچھ نہ دے تو وہ پورا نہیں کرتا، تیسرا وہ آدمی جو عصر کے بعد اپنا سامان فروخت کرے اور اس بات پر قسم اٹھائے کہ اس نے یہ سامان اتنی قیمت کا لیا ہے، پس اس سے خریدنےوالے اس قسم کی وجہ سے اس کی تصدیق کرے، جبکہ حقیقت میں اس کا معاملہ جھوٹ پر ہو۔
Takhreej
(۹۹۸۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۳۵۸، ومسلم: ۱۰۸ (انظر: ۷۴۴۲)
9980
Sahih
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
۔ (۹۹۸۱)۔ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ کَرِہَ لَکُمْ ثَلَاثًا، قِیْلَ وَقَالَ، وَکَثْرَۃَ السُّؤَالِ، وَاِضَاعَۃَ الْمَالِ، وَحَرَّمَ عَلَیْکُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاْدَ الْبَنَاتِ، وَعُقُوْقَ الْاُمَّھَاتِ، وَمَنْعَ وَھَاتِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۳۲۸)
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین امور کو ناپسند کیا ہے، قیل و قال، کثرت سے سوال کرنا اور مال ضائع کرنا اور اس کے رسول نے تم پر تین چیزوںکو حرام قرار دیا ہے، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا، ماؤں کی نافرمانی کرنا اور روک لینا اور مانگنا۔
Takhreej
(۹۹۸۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۴۰۸، ومسلم: ۵۹۳(انظر: ۱۸۱۴۷)
Explanation
فوائد:… قیل و قال: اس سے مراد یہ ہے کہ کثرت سے باتیں کی جائیں اور بغیر تحقیق کے لوگوں کی باتیں بیان کی جائیں۔ کثرت سے سوال کرنا: اس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں سے مال و متاع کا سوال کیا جائے یا غیر ضروری مسائل اور لوگوں کے حالات کے بارے میں پوچھا جائے۔ آجکل گپ شب کے بہانے ان ہی دو چیزوں کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔ روک لینا اور مانگنا: اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی پر جس چیز کا خرچ کرنا ضروری ہو، وہ اس کو خرچ نہ کرے اور جس چیز میں اس کا حق نہ ہو، وہ لوگوں سے اس کا سوال کرے۔
9981
Sahih
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
۔ (۹۹۸۲)۔ عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِیْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَ: سَاَلْنَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ثَلَاثٍ، فَلَمْ یُرَخِّصْ لَنَا فِیْ شَیْئٍ مِنْھّنَّ، سَاَلْنَاہُ اَنْ یَرُدَّ اِلَیْنَا اَبَابَکْرَۃَ وَکَانَ مَمْلُوْکًا وَاَسْلَمَ قَبْلَنَا، فَقَالَ: ((لَا، ھُوَ طلِیْقُ اللہ، ثُمَّ طلِیْق رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔)) ثُمَّ سَاَلْنَاہُ اَنْ یُُرَخِّصَ لَنَا فِیْ الشِّتَائِ وَکَانَتْ اَرْضُنَا اَرْضًا بَارِدَۃًیَعْنِیْ فِیْ الطُّھُوْرِ فَلَمْ یُرَخِّصْ لَنَا، وَسَاَلْنَاہُ اَنْ یُرَخِّصَ لَنَا فِیْ الدُّبَّائِ، فَلَمْ یُرَخِّصْ لَنَا فِیْہِ ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۷۱)
۔ بنو ثقیف کے ایک آدمی سے روایت ہے، وہ کہتا ہے: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے تین چیزوں کا سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں کسی ایک میں بھی رخصت نہیں دی، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپ ابوبکرہ کو ہمیں لوٹا دیں، وہ غلام تھا اور ہم سے پہلے مسلمان ہو گیا تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، وہ تو اللہ تعالیٰ کا اور پھر اس کے رسول کا آزاد شدہ ہے۔ پھر ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سوال کیا کہ ہمارے علاقے میں بڑی سردی پڑتی ہے، اس لیے ہمیں طہارت کے بارے میں رخصت دی جائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں رخصت نہ دی، پھر ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ اجازت چاہی کہ ہمیں کدو کا برتن استعمال کرنے کی اجازت دی جائے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اس کی بھی رخصت نہ دی۔
Takhreej
(۹۹۸۲) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرج منہ قصۃ ابی بکرۃ الطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۴۲۷۳، وفی شرح معانی الآثار : ۳/ ۲۷۸ (انظر: ۱۷۵۳۰)
Explanation
فوائد:… جب کافروں کا غلام مسلمان ہو جائے تو وہ آزاد ہو جاتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بعد میں کدو کا برتن استعمال کرنے کی اجازت دے دی تھی، عذر کے وقت غسل اور وضو کے بجائے تیمم کرنا درست ہے، لیکن ان لوگوں کا عذر اس لائق نہیں تھا کہ ان کو یہ رخصت دی جائے۔
9982
Sahih
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
۔ (۹۹۸۳)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَلَاثَۃٌ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ، مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَقَاطِعُ رَحِمٍ، وَمُصَدِّقٌ بِالسِّحْرِ، وَمَنْ مَاتَ مُدْمِنًا لِلْخَمْرِ سَقَاہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْ نَّھْرِ الْغُوْطَۃِ۔)) قِیْلَ: وَمَا نَھْرُ الْغُوْطَۃِ؟ قَالَ: ((نَھْرٌ یَجْـرِیْ مِنْ فُرُوْجِ الْمُوْمِسَاتِ یُؤْذِیْ اَھْلَ النَّارِ رِیْحُ فُرُوْجِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۹۸)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین افراد جنت میں داخل نہیں ہوں گے، شراب پر ہمیشگی کرنے والا، قطع رحمی کرنے والا اور جادو کی تصدیق کرنے والا۔ اور جو آدمی شراب پر ہمیشگی والی حالت پر مرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو غوطہ کی نہر سے پلائے گا۔ کسی نے کہا: غوطہ کی نہر سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ زانی عورتوں کی شرمگاہوں سے نکلنے والی نہر ہو گی، ان کی شرمگاہوں کی بدبو جہنمیوں کو تکلیف دے گی۔
Takhreej
ٍ(۹۹۸۳) تخریج: قولہ منہ: ثلاثۃلایدخلون الجنۃ: مدمن خمر، وقاطع رحم، ومصدق بالسحر۔ حسن لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لضعف ابی حریز، أخرجہ ابن حبان: ۵۳۴۶، وابویعلی: ۷۲۴۸، والحاکم: ۴/ ۱۴۶(انظر: ۱۹۵۶۹)
9983
Zaeef
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
۔ (۹۹۸۴)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((ثَلَاثَۃٌ لَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلُ اللّٰہِ! مَنْ ھُمْ خَسِرُوْا وَخَابُوْا قَالَ: فَاَعَادَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: ((الْمُسْبِلُ، وَالْمُنْفِقُ سِلْعَتَہُ بِالْحَلْفِ الْکَاذِبِ اَوِ الْفَاجِرِ، وَالْمَنَّانُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۴۴)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تین افراد سے نہ کلام کرے گا، نہ ان کو پاک صاف کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟یہ تو خسارہ پانے والے اور ناکام ہونے والے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار وہی بات دوہرائی اور پھر فرمایا: کپڑے کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا، جھوٹی قسم اٹھا کر سامان فروخت کرنے والا اور احسان جتلانے والا۔
Takhreej
(۹۹۸۴) تخریج: أخرجہ مسلم:۱۰۶ (انظر: ) ۲۱۳۱۸
9984
Sahih
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
۔ (۹۹۸۵)۔ عَنْ ثَوْبَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ فَارَقَ الرُّوْحُ الْجَسَدَ وَھُوَ بَرِیْیئٌ مِنْ ثَلَاثٍ دَخَلَ الْجَنَّۃَ، الْکِبْرَ، وَالدَّیْنَ، وَالْغُلُوْلَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۲۷)
۔ سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کی روح اس حال میں اس کے جسم سے جدا ہو کہ وہ تین چیزوں سے بری ہو، تو وہ جنت میں داخٰل ہو گا، ایک تکبر، دوسری قرض اور تیسری خیانت۔
Takhreej
(۹۹۸۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الترمذی: ۱۵۷۲(انظر: ۲۲۳۶۹)
9985
Sahih
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
۔ (۹۹۸۶)۔ عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((ثَلَاثَۃٌ لَا تَسْاَلْ عَنْھُمْ، رَجُلٌ فَارَقَ الْجَمَاعَۃَ، وَعَصٰی اِمَامَہُ، وَمَاتَ عَاصِیًا، وَاَمَۃٌ اَوْعَبْدٌ اَبَقَ فَمَاتَ، وَامْرَاَۃٌ غَابَ عَنْھَا زَوْجُھَا، قَدْ کَفَاھَا مُؤُنَۃَ الدُّنْیَا، فَتَبَرَّجَتْ بَعْدَہُ، فَـلَا تَسْاَلْ عَنْھُمْ، وَثَلَاثَۃٌ لَا تَسْاَلْ عَنْھُمْ، رَجُلٌ نَازَعَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ رِدَائَ ہُ، فَاِنَّ رِدَائَ ہُ الْکِبْرِیَائُ، وَاِزَارَہُ الْعِـزِّۃُ، وَرَجُلٌ شَکَّ فِیْ اَمْرِ اللّٰہِ، وَالْقُنُوْطُ مِنْ رَحْمَـۃِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۴۱)
۔ سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’تین افراد کے (جرم کی سنگینی) بارے میں سوال نہ کر، (۱) وہ آدمی جو جماعت سے علیحدہ ہو گیا، اپنے امام کی نافرمانی کی اور اس نافرمانی کے دوران ہی فوت ہو گیا، (۲) وہ لونڈییا غلام جو آقا سے بھاگ گیااور اسی حالت میں مر گیا، اور (۳) وہ عورت کہ جس کا خاوند اس سے غائب تھا، جبکہ اس نے اس کے دنیا کے اخراجات پورے کیے ہوئے تھے، لیکن اس خاتون نے اپنے خاوند کے بعد (غیروں کے لیے) بناؤ سنگھار کیا، پس تو ان نافرمانوں کے بارے میں سوال نہ کر۔ تین افراد اور بھی ہیں، ان کے (جرم کی سنگینی) کے بارے میں بھی سوال نہ کر، (۱) وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ سے اس کی چادر چھیننا چاہییعنی تکبر کرنا چاہا، پس بیشک اس کی چادر تکبر ہیں اور اس کا ازار اس کی بڑائی ہے، (۲) وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ کے معاملے میں شک کیا اور (۳) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہونا۔
Takhreej
(۹۹۸۶) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ البزار: ۳۷۴۹، وابن حبان: ۴۵۵۹، والحاکم: ۱/ ۱۱۹، والطبرانی فی الکبیر : ۱۸/ ۷۹۰ (انظر: ۲۳۹۴۳)
9986
Sahih
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
۔ (۹۹۸۷)۔ عَنِ الشَّعْبِیِّ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، لِاِبْنِ السَّائِبِ قَاصِّ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ: ثَلَاثَۃٌ لَتُتَابِعَنِّیْ عَلَیْھِنِّ اَوْ لَاُنَاجِزَنَّکَ، فَقَالَ: مَاھُنَّ؟ بَلْ اَنَا اُتَابِعُکِ یَا اُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ! قَالَتِ: اجْتَنِبِ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَائِ، فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَصْحَابَہُ کَانُوْا لَا یَفْعَلُوْنَ ذٰلِکَ، وَقَالَ اِسْمَاعِیْلُ مَرَّۃً: فَقَالَت: اِنِّیْ عَھِدْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَصْحَابَہُ وَھُمْ لَا یَفْعَلُوْنَ ذٰلِکَ، وَقُصَّ عَلَی النَّاسِ فِیْ کُلِّ جُمُعَۃٍ مَرَّۃً، فَاِنْ اَبَیْتَ فَثِنْتَیِنْ، فَاِنْ اَبَیْتَ فَثَلَاثًا، فَـلَا تُمِلَّ النَّاسَ ھٰذَا الْکِتَابَ، وَلَا اُلْفِیَنَّکَ تَاْتِیْ الْقَوْمَ وَھُمْ فِیْ حَدِیْثٍ مِنْ حَدِیْثِھِمْ فَتَقْطَعُ عَلَیْھِمْ حَدِیْثَھُمْ، وَلٰکِنِ اتْرُکْھُمْ، فَاِذَا جَرَّئُ وْکَ عَلَیْہِ وَاَمَرُوْکَ بِہٖفَحَدِّثْھُمْ۔ (مسنداحمد: ۲۶۳۴۰)
۔ امام شعبی کہتے ہیں: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اہل مدینہ کے واعظ ابن سائب سے کہا: یا تو تو تین چیزوں پر میری موافقت کرے گا، یا میں تجھ سے مقابلہ کروں گی، انھوں نے کہا: وہ کون سی چیزیں ہیں؟ اے ام المؤمنین! میں آپ کی موافقت کروں گا، سیدہ نے کہا: (۱)دعا میں سجع کلام سے بچ، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ ایسے نہیں کرتے تھے، (۲)لوگوں کو ایک ہفتے میں ایک دفعہ وعظ کر، اگر تو انکار کرے تو دو بار کر لے، اگر یہ بھی تسلیم نہ کرے تو تین دفعہ کر لیا کر، لوگوں کو اس کتاب سے اکتا نہ دینا، اور (۳) میں تجھے اس حالت میں نہ پاؤں کہ تو لوگوں کے پاس آئے، جبکہ وہ آپس میں گفتگو کر رہے ہوں اور تو آ کر ان کی بات کو کاٹ دے، تو نے ان کو چھوڑے رکھنا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ خود تجھے جرأت دلائیں اور بات کرنے کا حکم دیں تو پھر تو ان سے باتیں کر۔
Takhreej
(۹۹۸۷) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۱۹۹، وابن حبان: ۹۷۸ (انظر: ۲۵۸۲۰)
Explanation
فوائد:… کیا کمال نصیحتیں کی ہیں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے، یہ اسلام کے سنہری قوانین ہیں۔
9987
Sahih
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
۔ (۹۹۸۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ا، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلدَّوَاوِیْنُ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ثَلَاثَۃٌ، دِیْوَانٌ لَا یَعْبَاُ اللّٰہُ بِہٖشَیْئًا، وَدِیْوَانٌ لَا یَتْرُکُ اللّٰہُ مِنْہُ شَیْئًا، وَدِیْوَانٌ لَا یَغْفِرُہُ اللّٰہُ، فَاَمَّا الدِّیْوَانُ الَّذِیْ لَا یَغْفِرُہُ اللّٰہُ فَالشِّرْکُ بِاللّٰہِ، قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ} وَاَمَّا الدِّیْوَانُ الَّذِیْ لَا یَعْبَاُ اللّٰہُ بِہٖشَیْئًا ، فَظُلْمُ العَبْدِ نَفْسَہُ، فِیْمَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ رَبِّہِ، مِنْ صَوْمِ یَوْمٍ تَرَکَہُ، اَوْ صَلَاۃٍ تَرَکَھَا، فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَغْفِرُ ذٰلِکَ وَیَتَجَاوَزُ اِنْ شَائَ، وَاَمَّا الدِّیْوَانُ الَّذِیْ لَا یَتْرُکُ اللّٰہُ مِنْہُ شَیْئًا، فَظُلْمُ الْعِبَادِ بَعْضِھِمْ بَعْضًا، الْقِصَاصَ لَا مَحَالَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۶۵۵۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں تین قسم کے دیوان ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایک دیوان کی تو کوئی پروا نہیں کرتا، ایک دیوان میں سے کوئی چیز نہیں چھوڑے گا اور ایک دیوان کو معاف نہیں کرے گا۔ پس وہ دیوان جس کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرے گا، وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرائے گا، اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام قرار دے گا۔جس دیوان میں سے اللہ تعالیٰ کسی چیز کی پروا نہیں کرے گا، وہ بندے کا اپنے آپ پر ظلم کرنا ہے، اس چیز کا تعلق اس کے اور اس کے ربّ کے مابین ہوتا ہے، مثال کے طور پر ایک دن کا روزہ ترک کر دیا اور ایک نماز چھوڑ دی، پس بیشک اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو اس کو بخش دے گا اور اس سے تجاوز کر جائے گا، اور جس دیوان میںاللہ تعالیٰ کوئی چیز نہیں چھوڑے گا، وہ ہے بندوں کا آپس میں ایک دوسرے پر ظلم کرنا، ان میں لامحالہ طور پر قصاص لیا جائے گا۔
Takhreej
(۹۹۸۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف صدقۃ بن موسی، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۵۷۵ (انظر: ۲۶۰۳۱)
9988
Zaeef
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
۔ (۹۹۸۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَلَاثٌ مَنْ کُنَّ فِیْہِ فَھُوَ مُنَافِقٌ وَاِنْ صَامَ وَصَلیٰ وَزَعَمَ اَنَّہُ مُسْلِمٌ، اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ، وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَاِذَا ائْتُمِنَ خَانَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۳۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین خصلتیں ہیں، جس آدمی میں وہ ہوں گی، وہ منافق ہو گا، اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو اور یہ گمان کرتا ہو کہ وہ مسلمان ہے، جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وہ وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزیکرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو وہ خیانت کرے۔
Takhreej
(۹۹۸۹) تخریج: اسنادہ الأول صحیح علی شرط مسلم، وھو حدیث لہ اسنادان، أخرجہ ابوعوانۃ: ۱/ ۲۱، وابن حبان: ۲۵۷ (انظر: ۱۰۹۲۵)
9989
Sahih
چار چار امور کا بیان
۔ (۹۹۹۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَرْفَعُہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یُوَقِّرِ الْکَبِیْرَ، وَیَرْحَمِ الصَّغِیْرَ، وَیَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ،وَیَنْھَ عَنِ الْمُنْکَرِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو بڑے کی عزت نہ کرے، چھوٹے پر شفقت نہ کرے، نیکی کا حکم نہ دے اور برائی سے منع نہ کرے۔
Takhreej
(۹۹۹۰) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۱۹۲۱ (انظر: ۲۳۲۹)
9990
Sahih
چار چار امور کا بیان
۔ (۹۹۹۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُہُ دُوْنَ حَدٍّ مِنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَقَدْ ضَادَّ اللّٰہَ فِیْ اَمْرِہِ ، وَمَنْ مَاتَ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ فلَیْسَ بِالدِّیَنَارِ، وَلَا بِالدِّرْھَمِ وَلٰکِنَّھَا الْحَسَنـَـاتُ وَالسَّیِّئَاتُ، وَمَنْ خَاصَمَ فِیْ بَاطِلٍ وَھُوَیَعْلَمُہُ لَمْ یَزَلْ فِیْ سَخَطِ اللّٰہِ حَتّٰییَنْزِعَ، وَمَنْ قَالَ فِیْ مُؤْمِنٍ مَالَیْسَ فِیْہِ اَسْکَنَہُ اللّٰہُ رَدْغَۃَ الْخَبَالِ حَتَّییَخْرُجَ مِمَّا قَالَ۔)) (مسند احمد: ۵۳۸۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی سفارش، اللہ تعالیٰ کی کسی حد کے لیے رکاوٹ بن گئی ، اس نے اللہ کے حکم کی مخالفت کی، جو آدمی مقروض ہو کر مرا، تو (وہ یاد رکھے کہ) روزِ قیامت درہم و دینار کی ریل پیل نہیں ہو گی، وہاں تو نیکیوں اور برائیوں کا تبادلہ ہو گا۔ جس نے دیدہ دانستہ باطل کے حق میں جھگڑا کیا وہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے غیظ و غضب میں رہے گا جب تک باز نہیں آتا۔ جس نے مومن پر ایسے جرم کا الزام لگایا جو اس میں نہیں پایا جاتا اسے رَدْغَۃُ الْخَبَال (جہنمیوں کے پیپ) میں روک لیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ اس بات سے نکل آئے، جو اس نے کہی ہو گی۔
Takhreej
(۹۹۹۱) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الحاکم: ۲/۲۷، والبیھقی: ۶/ ۸۲، وأخرجہ ابوداود: ۳۵۹۷ دون قولہ: ومن مات وعلیہ دین… (انظر: ۵۳۸۵)
Explanation
فوائد:… مسلمان سے بتقاضۂ بشریت غلطی ہو جانا ممکن ہے اور یہ چیز زیادہ قابل جرح بھی نہیں ہے، کیونکہ نیکیوں کے ذریعےیا توبہ کرنے سے اس کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے قانون کو توڑنے کے درپے ہو جانا بغاوت ہے اور بغاوت کو کوئی بھی برداشت نہیں کرتا۔ اگر کسی مجرم کا معاملہ عدالت میں پہنچ چکا ہو اور اس پر حدّ نافذ کرنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہو تو کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس کی حدّ کے سامنے روڑے اٹکائے۔ یہی معاملہ اس جھگڑے کا ہے، جس کی بابت جھگڑنے والے کو پتہ ہو کہ وہ باطل پر ہے، لیکن پھر بھی اپنی انانیت کے دفاع کا بھوت سوار کر کے یا کسی اور مقصد کے پیشِ نظر لڑائی جاری رکھے۔
9991
Sahih
چار چار امور کا بیان
۔ (۹۹۹۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَایَحِلُّ اَنْ یَنْکِحَ الْمَـرْاَۃَ بِطَـلَاقِ اُخْـرٰی، وَلَا یَحِلُّ لِرَجُلٍ اَن یَّبِیْعَ عَلٰی بَیْعِ صَاحِبِہٖحَتّٰییَذَرَہُ، وَلَا یَحِلُّ لِثَلَاثَۃِ نَفَرٍ یَکُوْنُوْنَ بِاَرْضِ فَلَاۃٍ اِلَّا اَمَّرُوْا عَلَیْھِمْ اَحَدَھُمْ، وَلَا یَحِلُّ لِثَلَاثَۃِ نَفَرٍ یَکُوْنُوْنَ بِاَرْضِ فَلَاۃٍیُنَاجِی اثْنَانِ دُوْنَ صَاحِبِھِمَا۔)) (مسند احمد: ۶۶۴۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ حلال نہیں ہے کہ مرد ایک بیوی کو طلاق دے کر دوسری سے شادی کرے، نہ یہ حلال ہے کہ آدمی اپنے ساتھی کے سودے پر سودا کرے، یہاں تک کہ وہ ساتھی اس سودے کو چھوڑ دے، کسی ویرانے میں موجود تین افراد کے لیے حلال نہیں ہے، الا یہ کہ وہ اپنے میں سے ایک آدمی کو امیر بنا دیں، اسی طرح جب کسی بیاباں میں تین افراد ہوں تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں۔
Takhreej
(۹۹۹۲) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۶۶۴۷)
9992
Sahih
چار چار امور کا بیان
۔ (۹۹۹۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَدْخُلُ الْجَنّۃَ عَــاقٌّ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَلَامَنَّانٌ، وَلَا وَلَدُ زِنْیَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۶۸۹۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: والدین کا نافرمان، شراب پر ہمیشگی کرنے والا، احسان جتلانے والا اور زنا کی اولاد، یہ سارے لوگ جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔
Takhreej
(۹۹۹۳) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ ولا ولد زنیۃ وھذا اسناد ضعیف، علتہ جابان، أخرجہ النسائی فی الکبری : ۴۹۱۶،والطیالسی: ۲۲۹۵(انظر: ۶۸۹۲)
9993
Sahih
چار چار امور کا بیان
۔ (۹۹۹۴)۔ عَنْ عَلَیٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ لِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا عَلَیُّ! اَسْبِغِ الْوُضُوْئَ، وَاِنْ شَقَّ عَلَیْکَ، وَلَا تَاْکُلِ الصَّدَقَۃَ، وَلَا تُـنْزِ الْحَمِیْرَ عَلَی الْخَیْلِ، وَلَا تُجَالِسْ اَصْحَابَ النُّجُوْمِ۔)) (مسند احمد: ۵۸۲)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: اے علی! پورا پورا وضو کر، اگرچہ وہ تجھ پر گراں گزرے، صدقہ نہ کھا، گدھے کو گھوڑی پر نہ کدوا اور نجومی لوگوں کی مجلس میں نہ بیٹھ۔
Takhreej
(۹۹۹۴) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابویعلی: ۴۸۴ (انظر: ۵۸۲)
9994
Sahih
چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان
۔ (۹۹۹۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَرْبَعٌ مَنْ کُنَّ فِیْہِ کَانَ مُنَافِقًا، اَوْ کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِنَ الْاَرْبَعِ کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتّٰییَدَعَھَا، اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ، وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ، واِذَا عَاھَدَ غَدَرَ، واِذَا خَاصَمَ فَجَرَ۔)) (مسند احمد: ۶۸۶۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص میں چار خصلتیں ہوں گی، وہ منافق ہو گا اور جس میں ان چار میں ایک خصلت ہو گی، اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی،یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے، جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وہ وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے، جب معاہدہ کرے تو دھوکہ کر جائے اور جب جھگڑا کرے تو گالی نکالے۔
Takhreej
(۹۹۹۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۷۵۹،ومسلم: ۵۸ (انظر: ۶۸۶۴)
Explanation
فوائد:… ان چار خصلتوں کا تعلق منافق کے اعمال سے ہے۔
9995
Sahih
چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان
۔ (۹۹۹۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَرْبَعٌ مِنْ اَمْرِ الْجَاھِلیَّۃِ لَنْیَّدَعَھُنَّ النَّاسُ، التَّعْیِیْرُ فِیْ الْاَحْسَابِ، وَالنِّیَاحَۃُ عَلَی الْمَیِّتِ، وَالْاَنْوَائُ، وَاَجْرَبَ بَعِیْرٌ فَاَجْرَبَ مِائَۃً، مَنْ اَجْرَبَ الْبَعِیْرَ الْاَوَّلَ؟)) (مسند احمد: ۷۸۹۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار چیزیں ، امورِ جاہلیت میں سے ہیں، لوگ ان کو بالکل نہیں چھوڑیں گے: (۱) حسب پر طعن کرنا، (۲) میت پر نوحہ کرنا، (۳) ستاروں کا معاملہ اور (۴) یہ کہنا کہ ایک اونٹ کو خارش لگی، پس اس نے سب کو خارش لگا دی،یہ تو بتاؤ کہ پہلے کو کس نے خارش لگائی؟
Takhreej
(۹۹۹۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۱۰۰۱ (انظر: ۷۹۰۸)
9996
Sahih
چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان
۔ (۹۹۹۷)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْقُلُوْبُ اَرْبَعَۃٌ، قَلْبٌ اَجْرَدُ فِیْہِ مِثْلُ السِّرَاجِ یُزْھِرُ، وَقَلْبٌ اَغْلَفُ مَرْبُوْطٌ عَلٰی غِلَافِہِ، وَقَلْبٌ مَنْکُوْسٌ، وَقَلْبٌ مُصْفَحٌ، فَاَمَّا الْقَلْبُ الْاَجْرَدُ فَقَلْبُ الْمُؤْمِنِ سِرَاجُہُ فِیْہِ نُوْرُہُ، وَاَمَّا الْقَلْبُ الْاَغْلَفُ فَقَلْبُ الْــکَافِرِ، وَاَمَّا الْقَلْبُ الْمَنْـکُوْسُ فَقَلْبُ الْمُنَافِقِ عَرَفَ ثُمَّ اَنْـکَرَ، وَامَّا الْقَلْبُ الْمُصْفَحُ فَقَلْبٌ فِیْہِ اِیْمَانٌ وَنِفَاقٌ، فَمَثَلُ الْاِیْمَانِ فِیْہِ کَمَثَلِ الْبَقْلَۃِیَمُدُّھَا الْمَائُ الطَّیِّبُ، وَمَثَلُ النِّفَاقِ فِیْہِ کَمَثَلِ الْقُرْحَۃِیَمُدُّھَا الْقَیْــحُ وَالدَّمُ، فَاَیُّ الْمَدَّتَیـْنِ غَلَبَتِ الْاُخْرٰی غَلَبَتْ عَلَیْہِ ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۴۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دل چار قسم کے ہوتے ہیں: (۱) خالص اور صاف دل، جو چراغ کی طرح روشن ہوتا ہے، (۲) پردے میں بند دل، جس سے پردہ ہٹ ہی نہیں سکتا، (۳) الٹا کیا ہوا دل اور (۴)دو رُخا دل۔ ان کی تفصیلیہ ہے: صاف دل سے مراد مومن کا دل ہے، اس کا چراغ اس کا نور ہے، پردے میں بند دل کافر کا ہوتا ہے، الٹا ہوا دل اس منافق کا ہوتا ہے، جو حق کی معرفت حاصل کرنے کے بعد اس کا انکار کر دیتا ہے اور دو رُخا دل وہ ہوتا ہے، جس کے اندر ایمان بھی ہو اور نفاق بھی، اس میں ایمان کی مثال سبزی کیسی ہے کہ پاکیزہ پانی جس کو بڑھاتا ہے اور نفاق کی مثال اس پھوڑے کی سی ہے کہ جو پیپ اور خون کی وجہ سے بڑھتاہے، ان دو میں سے جس کی بڑھوتری غالب آ جاتی ہے، سو وہ غالب رہتی ہے۔
Takhreej
(۹۹۹۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف لیث بن ابی سلیم ، ولانقطاعہ، ابو البختری لم یدرک ابا سعید الخدری، أخرجہ الطبرانی فی الصغیر : ۱۰۷۵(انظر: ۱۱۱۲۹)
Explanation
فوائد:… الٹے ہوئے دل سے مراد یہ ہے کہ ایسا سمجھیں کہ دل کو برتن کی طرح الٹا کر دیا گیا اور اس میںموجود خیر نکل گئی، اس سے مراد منافق کا ارتداد ہے، یا اس کی ظاہری حالت کو دیکھ کر بات کی گئی ہے۔
9997
Zaeef

Chapters

30
01
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
13 Hadith
02
خاموشی کا بیان
3 Hadith
03
غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
04
چغلخوری سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
05
جھوٹ سے ترہیب کا بیان
7 Hadith
06
ان لوگوں کا بیان، جن کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے
2 Hadith
07
ان امور کا بیان، جن میں جھوٹ بولنا جائز ہوتا ہے
2 Hadith
08
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
11 Hadith
09
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
13 Hadith
10
جھگڑا کرنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
11
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
9 Hadith
12
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
13
شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
6 Hadith
14
لبید اور امیہ بن ابی صلت کے اشعار کا بیان
5 Hadith
15
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
9 Hadith
16
دو دو امور کا بیان
2 Hadith
17
دو کے عدد سے شروع ہونے والے دو دو امور کا بیان
2 Hadith
18
تین تین امور کا بیان
9 Hadith
19
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
15 Hadith
20
چار چار امور کا بیان
5 Hadith
21
چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان
6 Hadith
22
پانچ پانچ امور کا بیان
5 Hadith
23
عدد سے شروع ہونے والے پانچ پانچ امور کا بیان
3 Hadith
24
چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
6 Hadith
25
سات سات امور کا بیان
2 Hadith
26
سات کے عدد سے شروع ہونے والے سات سات امور والی احادیث کا بیان
2 Hadith
27
آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
28
آٹھ کے عدد سے شروع ہونے والی آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
1 Hadith
29
دس دس امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
30
دس کے عدد سے شروع ہونے والے دس دس امور کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.