TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نیند کی وجہ سے وضو کا بیان - نیند کی وجہ سے وضو کا بیان - Book 17 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 17 of Musnad Ahmad, with 31 chapters and 161 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

161 Hadith · 31 Chapters
آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان
۔ (۸۲۹)۔عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْأَشْہَلِیِّ عَنْ أُمِّ عَامِرٍؓ بِنْتِ یَزِیْدَ امْرَأَۃٍ مِنَ الْمُبَایِعَاتِ، أَنَّہَا أَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَرْقٍ فِی مَسْجِدِ فُـلَانٍ فَتَعَرَّقَہُ ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔ (مسند أحمد: ۲۷۶۳۹)
سیدہ ام عامرؓ، جو کہ بیعت کرنے والی خواتین میں سے تھیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس مسجد میں ہڈی والا گوشت لائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو نوچا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
Takhreej
(۸۲۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابراہیم بن اسماعیل بن ابی حبیبۃ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۵/ ۳۵۷ (انظر: ۲۷۰۹۹)
829
Zaeef
آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان
۔ (۸۳۰)۔عَنْ أُمِّ حَکِیْمٍ بِنْتِ الزُّبَیْرِ حَدَّثَتْہُ اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلٰی ضُبَاعَۃَ بِنْتِ الزُّبَیْرِ فَنَھَسَ مِنْ کَتِفٍ عِنْدَھَا ثُمَّ صَلّٰی وَمَا تَوَضَّاَ مِنْ ذَالِکَ۔ (مسند أحمد: ۲۷۸۹۸)
سیدہ ام حکیم بنت زبیر بن عبد المطلبؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سیدہ ضباعہ بن زبیر کے پاس گئے اور ان کے ہاں کندھے سے نوچ کر گوشت کھایا اور پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
Takhreej
(۸۳۰) تخریج: ھذا اسناد اختلف فیہ علی قتادۃ بن دعامۃ السدوسی طب۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۵/ ۲۱۵(انظر: ۲۷۳۵۴)
830
Sahih
آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان
۔ (۸۳۱)۔ عَنْ ضَبَاعَۃَ بِنْتِ الزُّبَیْرِبْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۷۶۳۱)
سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبد المطلبؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۸۳۱) تخریج: ترک الوضوء مما مست النار صحیح، وھذا اسناد اختلف علیہ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۵/ ۲۱۴ (انظر: ۲۷۰۹۱)
831
Sahih
آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان
۔ (۸۳۲)۔ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَکَلَ کَتِفَ شَاۃٍ فَمَضْمَضَ وَغَسَلَ یَدَہُ وَصَلّٰی۔ (مسند أحمد: ۹۰۳۷)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے بکری کے کندھے کا گوشت کھایا، پھر کلی کی اور ہاتھ دھوئے اور پھر نماز پڑھی۔
Takhreej
(۸۳۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۹۳ (انظر: ۹۰۴۹)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا پہلا عمل یہ تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ آگ پر پکی ہوئی چیزوں سے وضو کرتے تھے، لیکن آخری عمل کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ وضو کرنا ترک کر دیا تھا۔
832
Sahih
غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہو جانے کے قائلین کا بیان
۔ (۸۳۳)۔عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ أَنَّ عَطَائَ بْنَ یَسَارٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ زَیْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُہَنِیَّ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَأَلَ عُثْمَانَ (بْنَ عَفَّانَ)ؓ قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَیْتَ اِذَا جَامَعَ امْرَأَتَہُ وَلَمْ یُمْنِ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ: یَتَوَضَّأُ کَمَا یَتَوَضَّأُ لِلصَّلٰوۃِ وَیَغْسِلُ ذَکَرَہُ، وَقَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَالِکَ عَلِیَّ بْنَ أَبِیْ طَالِبٍ وَالزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَامِ وَطَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِاللّٰہِ وَأُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فَأَمَرُوْہُ بِذَالِکَ۔ (مسند أحمد: ۴۵۸)
زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ انھوں نے سیدنا عثمانؓ سے یہ سوال کیا کہ اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک آدمی اپنی بیوی سے مجامعت کرتا ہے، لیکن منی کا انزال نہیں ہوتا؟ سیدنا عثمان ؓ نے کہا: وہ نماز والا وضو کر لے اور اپنی شرمگاہ کو دھو لے، پھر انھوں نے کہا: میں نے خود رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ بات سنی ہے۔ پھر اس نے سیدنا علی، سیدنا زبیر بن عوام، سیدنا طلحہ اور سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌ سے یہی سوال کیا، ان سب نے اسی طرح کا حکم دیا۔
Takhreej
(۸۳۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۹، ومسلم: ۳۴۷ (انظر: ۴۵۸)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث منسوخ ہو گئی ہے۔ اس کی مزید وضاحت آگے آ رہی ہے۔
833
Sahih
غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہو جانے کے قائلین کا بیان
۔ (۸۳۴)۔عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ أَخْبَرَنَا أَبِیْ أَخْبَرَنَا أَبُوْ أَیُّوْبَ (الْأَنْصَارِیُّ ؓ) أَنَّ أُبَیًّا حَدَّثَہُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قُلْتُ: الرَّجُلُ یُجَامِعُ أَہْلَہُ فَلَا یُنْزِلُ؟ قَالَ: ((یَغْسِلُ مَا مَسَّ الْمَرْأَۃَ مِنْہُ وَیَتَوَضَّأُ وَیُصَلِّیْ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۴۰۳)
سیدنا ابیؓ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کیا کہ ایک آدمی اپنے بیوی سے مجامعت تو کرتا ہے، لیکن اس کو انزال نہیں ہوتا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کی شرمگاہ کا جو حصہ عورت کو لگا ہے، وہ اس کو دھو لے اور وضو کر کے نماز پڑھے۔
Takhreej
(۸۳۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۹۳، ومسلم: ۳۴۶ (انظر: ۲۱۰۸۷)
834
Sahih
غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہو جانے کے قائلین کا بیان
۔ (۸۳۵)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ عَلٰی رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَرْسَلَ اِلَیْہِ فَخَرَجَ وَرَأْسُہُ یَقْطُرُ، فَقَالَ لَہُ: (لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاکَ؟) قَالَ: نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((اِذَا أُعْجِلْتَ أَو أُقْحِطتَّ فَلَا غُسْلَ عَلَیکَ، عَلَیْکَ الْوُضُوئُ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۷۹)
سیدنا ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا ایک انصاری آدمی کے پاس سے گزر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو اس کی طرف پیغام بھیجا، جب وہ باہر آیا تو اس کے سر سے (غسل کی وجہ سے) پانی کے قطرے بہہ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے فرمایا: شاید ہم نے آپ کو جلدی میں ڈال دیا ہے۔ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تجھے جلدی میں ڈال دیا جائے یا انزال نہ ہو تو تجھ پر کوئی غسل نہیں ہو گا، ایسی صورت میں وضو کیا کر۔
Takhreej
(۸۳۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۸۰، ومسلم: ۳۴۵ (انظر: ۱۱۱۶۲)
835
Sahih
غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہو جانے کے قائلین کا بیان
۔ (۸۳۶)۔وَعَنْہُ أَیْضًا فِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی قُبَائَ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ فَمَرَرْنَا فِی بَنِیْ سَالِمٍ فَوَقَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی بَابِ بَنِیْ عِتْبَانَ فَصَرَخَ وَابْنُ عِتْبَانَ عَلٰی بَطْنِ امْرَأَتِہِ فَخَرَجَ یَجُرُّ اِزَارَہُ، فَلَمَّا رَآہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَعْجَلْنَا الرَّجُلَ۔)) قَالَ ابْنُ عِتْبَانَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ الرَّجُلَ اِذَا أَتٰی امْرَأَتَہُ وَلَمْ یُمْنِ عَلَیْہَا مَاذَا عَلَیْہِ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّمَا الْمَائُ مِنَ الْمَائِ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۴۵۴)
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے ایک دوسری حدیث یوں بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سوموار کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ قبا کی طرف نکلے، ہم بنو سالم (محلے) میں سے گزرے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ وہاں بنوعتبان کے دروازے پر کھڑے ہو گئے اور ابن عتبان کو بلند آواز دی، جبکہ وہ اپنی بیوی کے پیٹ پر تھے، بہرحال وہ چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو دیکھا تو فرمایا: ہم نے اس بندے کو جلدی میں ڈال دیا ہے۔ پھر سیدنا ابن عتبان ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ جو اپنی بیوی سے مجامعت تو کرتا ہے، لیکن اس کو انزال نہیں ہوتا، اس پر کس چیز کی ذمہ داری ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: غسل کا پانی، منی کے پانی کے خروج سے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۸۳۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۴۳، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۱۱۴۳۴)
836
Sahih
غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہو جانے کے قائلین کا بیان
۔ (۸۳۷)۔عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ (الْأَنْصَارِیِّ) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمَائُ مِنَ الْمَائِ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۹۷۲)
سیدنا ابو ایوب انصاریؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: غسل کا پانی، منی کے پانی کے خروج سے استعمال کیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۸۳۷) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۶۰۷، والنسائی: ۱/ ۱۱۵(انظر: ۲۳۵۷۵)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مباشرت کے دوران جب تک انزال نہیں ہو گا، اس وقت تک محض شرمگاہوں کے ٹکرانے سے یا دخول سے جنابت کا غسل فرض نہیں ہو گا۔ لیکن یہ رخصت منسوخ ہو چکی ہے، نئے حکم کی وضاحت اگلے دو ابواب میں آ رہی ہے۔
837
Sahih
یہ رخصت تھی، پھر منسوخ ہو گئی
۔ (۸۳۸)۔عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ أَنَّ الْفُتْیَا الَّتِی کَانُوْا یَقُوْلُوْنَ: اَلْمَائُ مِنَ الْمَائِ رُخْصَۃٌ، کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَخَّصَ بِہَا فِی أَوَّلِ الْاِسْلَامِ ثُمَّ أَمَرَنَا بِالْاِغْتِسَالِ بَعْدَہَا۔ (مسند أحمد: ۲۱۴۱۷)
سیدنا ابی بن کعب ؓ سے مروی ہے کہ لوگ یہ جو فتوی دیتے تھے کہ غسل کا پانی، منی کے پانی کے خروج سے ہی استعمال کیا جاتا ہے، یہ رخصت تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ابتدائے اسلام میں اس کی رخصت دی تھی، پھر اس کے بعد ہم کو غسل کرنے کا حکم دے دیا تھا۔
Takhreej
(۸۳۸) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۲۱۵، وابن ماجہ: ۶۰۹، والترمذی: ۱۱۰(انظر: ۲۱۱۰۰)
Explanation
فوائد:… غسل کا پانی، منی کے پانی سے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب انزال ہو گا تو غسل کیا جائے گا اور جب تک انزال نہیں ہو گا، اس وقت تک غسل نہیں کیا جائے گا۔
838
Sahih
یہ رخصت تھی، پھر منسوخ ہو گئی
۔ (۸۳۹)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہِ)۔ وَفِیْہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَعَلَہَا رُخْصَۃً لِلْمُؤْمِنِیْنَ لِقِلَّۃِ ثِیَابِہِمْ ثُمَّ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْہَا بَعْدُ یَعْنِیْ قَوْلَہُمْ الْمَائُ مِنَ الْمَائِ ۔ (مسند أحمد: ۲۱۴۲۲)
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کپڑے کم ہونے کی وجہ سے مؤمنوں کو اس چیز کی رخصت دی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے منع کر دیا تھا۔ رخصت سے یہ حدیث مرا د تھی: غسل کا پانی، منی کے پانی کے خروج سے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۸۳۹) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: لقلۃ ثیابھم ۔ أخرجہ ابوداود: ۲۱۴، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۱۱۰۵)
Explanation
فوائد:… غسل نہ کرنے کی رخصت کی وجہ کپڑوں کی قلت تھی، اس بات کی کوئی مناسبت سمجھ نہیں آ رہی کہ کپڑوں کی کمی کا غسل نہ کرنے سے کیا تعلق ہے، بہرحال یہ جملہ ضعیف ہے۔
839
Sahih
یہ رخصت تھی، پھر منسوخ ہو گئی
۔ (۸۴۰)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ قَالَ: حَدَّثَنِیْ أَبِیْ قَالَ: ثَنَا یَحْیٰی بْنُ آدَمَ قَالَ: ثَنَا زُہَیْرٌوَابْنُ اِدْرِیْسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحٰقَ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِی حَبِیْبٍ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِیْ حَبِیبَۃَ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِیْہِ، قَالَ زُہَیْرٌ فِی حَدِیْثِہِ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ وَکَانَ عَقَبِیًّا بَدَرِیًّا، قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ فَقِیْلَ لَہُ: اِنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ یُفْتِی النَّاسَ فِی الْمَسْجِدِ، قَالَ زُہَیْرٌ فِی حَدِیْثِہِ: یُفْتِی النَّاسَ بِرَأْیِہِ فِی الَّذِیْ یُجَامِعُ وَلَا یُنْزِلُ، فَقَالَ: أَعْجِلْ بِہِ، فَأَتٰی بِہِ فَقَالَ: یَا عَدُوَّ نَفْسِہِ! أَوَ قَدْ بَلَغْتَ أَنْ تُفْتِیَ النَّاسَ فِی مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرَأْیِکَ، قَالَ: مَا فَعَلْتُ وَلَکِنْ حَدَّثَنِیْ عُمُومَتِیْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ: أَیُّ عُمُومَتِکَ؟ قَالَ: أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ، قَالَ زُہَیْرٌ وَأَبُوْ أَیُّوْبَ وَرِفَاعَۃُ بْنُ رَافِعٍ: فَالْتَفَتَ اِلَیَّ وَقَالَ: مَا یَقُوْلُ ھٰذَا الْفَتٰی؟ وَقَالَ زُہَیْرٌ: مَا یَقُولُ ھٰذَا الْغُلَامُ؟ فَقُلْتُ: کُنَّا نَفْعَلُہُ فِی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ: فَسَأَلْتُمْ عَنْہُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: کُنَّا نَفْعَلُہُ عَلٰی عَہْدِہِ فَلَمْ نَغْتَسِلْ، قَالَ: فَجَمَعَ النَّاسَ وَاتَّفَقَ النَّاسُ عَلٰی أَنَّ الْمَائَ لَا یَکُونُ الِاَّ مِنَ الْمَائِ اِلَّا رَجُلَیْنِ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَا: اِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، قَالَ: فَقَالَ عَلِیٌّ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ بِھٰذَا أَزْوَاجُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَأَرْسَلَ اِلٰی حَفْصَۃَ فَقَالَتْ: لَا عِلْمَ لِیْ، فَأَرْسَلَ اِلٰی عَائِشَۃَ فَقَالَتْ: اِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ، قَالَ: فَتَحَطَّمَ عُمَرُ یَعْنِی تَغَیَّظَ ثُمَّ قَالَ: لَا یَبْلُغُنِیْ أَنَّ أَحَدًا فَعَلَہُ وَلَا یَغْتَسِلُ اِلَّا أَنْہَکْتُہُ عُقُوْبَۃً۔ (مسند أحمد: ۲۱۴۱۳)
سیدنا رفاعہ بن رافعؓ، جو کہ بیعت ِ عقبہ اور غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عمرؓ کے پاس تھا، کسی نے ان سے کہا: سیدنا زید بن ثابت مسجد میں لوگوں کو اپنے رائے کی روشنی میں اس آدمی کے بارے فتوی دیتے ہیں جو مجامعت کرتا ہے، لیکن اس کو انزال نہیں ہوتا۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: اس کو جلدی جلدی میرے پاس لے آؤ، پس وہ اس کو لے آئے، سیدنا عمر ؓ نے کہا: او اپنی جان کے دشمن! کیا تو اس حدتک پہنچ گیا ہے کہ تو نے لوگوں کو مسجد ِ نبوی میں اپنی رائے کی روشنی میں فتوے دینا شروع کر دیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے تو ایسی کوئی کاروائی نہیں کی، البتہ میرے چچوں نے مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے بیان کیا ہے۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: کون سے تیرے چچے؟ انھوں نے کہا: سیدنا ابی بن کعب، سیدنا ابو ایوب اور سیدنا رفاعہ بن رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌۔ سیدنا عمرؓ نے کہا: یہ نوجوان کیا کہتا ہے؟ میں نے جواباً کہا: جی ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے عہد میں ایسے ہی کرتے تھے۔ سیدنا عمرؓ نے کہا: تو پھر کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس بارے میں پوچھا تھا؟ میں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے زمانے میں ایسے ہی کرتے تھے اور غسل نہیں کرتے تھے۔ پھر انھوں نے لوگوں کو جمع کر کے یہ بات پوچھی، ہوا یوں کہ سب لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ غسل کا پانی منی کے پانی کے خروج سے ہی استعمال کیا جاتا تھا، ما سوائے دو آدمیوں سیدنا علی اور سیدنا معاذؓ کے، یہ دو کہتے تھے: جب ختنے والی جگہ ختنے والی جگہ کو لگ جاتی ہے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ سیدنا علیؓ نے سیدنا عمرؓ سے کہا: اے امیر المؤمنین! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویاں اس چیز کو زیادہ جاننے والی ہیں، تو آپ نے سیدہ حفصہؓ کی طرف اس بارے میں پیغام بھیجا۔ انھوں نے جواباً کہا: مجھے اس کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے، پھر انھوں نے سیدہ عائشہؓکی طرف پیغام بھیجا، انھوں نے کہا: جب ختنے والی جگہ ختنے والی جگہ کو لگ جاتی ہے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ یہ سن کر سیدنا عمر ؓ کو غصہ آ گیا اور انھوں نے کہا: مجھے یہ بات موصول نہ ہونے پائے کہ کسی نے ایسا کام کیا ہو اور پھر غسل نہ کیا ہو، وگرنہ میں اسے سخت ترین سزا دوں گا۔
Takhreej
(۸۴۰) تخریج: صحیح۔ أخرجہ الطحاوی فی شرح معانی الآثار : ۱/ ۵۸، والبزار: ۳۷۳۰، والطبرانی فی الکبیر : ۴۵۳۷(انظر: ۲۱۰۹۶)
Explanation
فوائد:… مسئلہ تو بالکل واضح ہے، لیکن صحابۂ کرام کا مسئلہ حل کرنے کا انداز دیکھیں، جبکہ بیچ میں سیدنا عمرؓ بھی شریک تھے، بالآخر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت تک رسائی حاصل کرنے کے لیے امہات المؤمنین سے رابطہ کیا گیا، جب حدیث ِ مبارکہ کا پتہ چلا تو سیدنا عمرؓ نے اسی کو قانون قرار دیا۔ سبحان اللہ۔
840
Sahih
ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
۔ (۸۴۱)۔عَنْ عَائِشَۃَؓقَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا قَعَدَ بَیْنَ شُعَبِہَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ أَلْزَقَ الْخِتَانَ بِالْخِتَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۷۱۰)
سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب مرد اپنی بیوی کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھ جاتا ہے اور اپنی ختنے والی جگہ اس کی ختنے والی جگہ سے ملا دیتا ہے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۸۴۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۴۹ (انظر: ۲۴۲۰۶)
Explanation
فوائد:… اس باب کی تمام احادیث کا اصل مدّعا یہ ہے کہ جب میاں بیوی کے ختنوں کے مقامات آپس میں مل جائیں گے تو جنابت والا غسل فرض ہو جائے گا، انزال ہو یا نہ ہو۔ ہم یہ تو جانتے ہیں کہ مرد کے عضو ِ خاص میں ختنے کی وجہ سے کیا تبدیلی آتی ہے۔ اسی طرح عورت کا ختنہ عربوں کے ہاں معروف تھا، لیکن ہمارے ہاں عورتوں کے ختنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ بہرحال صرف دو شرمگاہوں کے ٹکرانے سے غسل واجب نہیں ہو گا، بلکہ یہ غسل اس وقت فرض ہو گا، جب مرد کے ختنے کی جگہ عورت کی شرمگاہ کے اندر داخل ہو گی۔ عورت کی چارشاخوں سے کیا مراد ہے، اس کے بارے میں مختلف اقوال ہیں، مثلا: (۱)دونوں ہاتھ اور دونوں ٹانگیں، (۲) دونوں ٹانگیں اور دونوں رانیں، (۳) دونوں پنڈلیاں اور دونوں رانیں، (۴) دونوں رانیں اور شرمگاہ کے دو کنارے، وغیرہ۔ ان الفاظ کی جو مراد بھی لی جائے، یہ اتفاقی قید ہے، غسل اس وقت فرض ہو گا، جب دونوں ختنوں کے مقامات آپس میں مل جائیں اور دخول ہو جائے۔ اس کی مزید وضاحت اگلی حدیث سے ہو رہی ہے۔
841
Sahih
ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
۔ (۸۴۲)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اِذَا الْتَقَی الْخِتَانَانِِ وَتَوَارَتِ الْحَشَفَۃُ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔ (مسند أحمد: ۶۶۷۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب ختنے والے دو مقامات مل جاتے ہیں اور حشفہ چھپ جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۸۴۲) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۶۱۱(انظر: ۶۶۷۰)
842
Sahih
ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
۔ (۸۴۳)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا جَلَسَ بَیْنَ شُعَبِہَا الْأَرْبَعِ وَأَجْہَدَ نَفْسَہُ (وَفِی رِوَایَۃٍ: ثُمَّ جَہَدَہَا) فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ أَنْزَلَ أَوْ لَمْ یُنْزِلْ۔)) (مسند أحمد: ۸۵۵۷)
سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب مرد اپنی بیوی کی چار شاخوں میں بیٹھ جائے اور پھر اپنے آپ کو مشقت میں ڈالے (ایک روایت کے مطابق پھر اسے (بیوی کو) مشقت میں ڈالے) تو غسل واجب ہو جائے گا، انزال ہو یا نہ ہو۔
Takhreej
(۸۴۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۹۱، ومسلم: ۳۴۸ (انظر: ۸۵۷۴)
843
Sahih
ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
۔ (۸۴۴)۔عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ أَبَا مُوسَی (الْأَشْعَرِیِّ) ؓ قَالَ لِعَائِشَۃَؓ: اِنِّی أُرِیْدُ أَنْ أَسْأَلَکِ عَنْ شَیْئٍ وَأَنَا أَسْتَحْیِیْ مِنْکِ، فَقَالَتْ: سَلْ وَلَا تَسْتَحْیِیْ، فَاِنَّمَا أَنَا أُمُّکِ، فَسَأَلَہَا عَنِ الرَّجُلِ یَغْشٰی وَلَا یُنْزِلُ، فَقَالَتْ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا أَصَابَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۱۶۲)
سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ نے سیدہ عائشہؓ سے کہا: میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں، جبکہ میں آپ سے شرماتا بھی ہوں، انھوں نے کہا: تم سوال کرو اور نہ شرماؤ، میں تمہاری ماں ہی ہوں۔ پھر انھوں نے اس آدمی کے بارے میں سوال کیاجو اپنی بیوی سے مجامعت کرتا ہے، لیکن انزال نہیں ہوتا، انھوں نے جواباً کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب ختنہ والی جگہ، ختنے والی جگہ سے ٹکرا جائے تو غسل واجب ہوجائے گا۔
Takhreej
(۸۴۴) تخریج: حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف، واخرج مسلم: ۳۴۹ المرفوعَ منہ (انظر: ۲۴۶۵۵)
844
Sahih
ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
۔ (۸۴۵)۔عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ)) (مسند أحمد: ۲۲۳۹۶)
سیدنا معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب ختنے والی جگہ، ختنے والی جگہ سے آگے بڑھ جائے (یعنی اندر داخل ہو جائے) تو غسل واجب ہو جائے گا۔
Takhreej
(۸۴۵) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ البزار فی مسندہ : ۲۶۷۵ (انظر: ۲۲۰۴۶)
845
Sahih
ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
۔ (۸۴۶)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّہُ سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَمَّا یُوجِبُ الْغُسْلَ وَعَنِ الْمَائِ یَکُونُ بَعْدَ الْمَائِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ فِی الْبَیْتِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ فِی الْمَسْجِدِ وَعَنْ مُؤَاکَلَۃِ الْحَائِضِ، فَقَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ، اَمَّا أَنَا فَاِذَا فَعَلْتُ کَذَا وَکَذَا، فَذَکَرَ الْغُسْلَ، قَالَ: أَتَوَضَّأُ وُضُوئِیْ لِلصَّلَاۃِ أَغْسِلُ فَرْجِیْ ثُمَّ ذَکَرَ الْغُسْلَ، وَأَمَّا الْمَائُ یَکُوْنُ بَعْدَ الْمَائِ فَذَالِکَ الْمَذْیُ وَکُلُّ فَحْلٍ یُمْذِیْ فَأَغْسِلُ مِنْ ذَالِکَ فَرْجِیْ وَأَتَوَضَّأُ، وَأَمَّا الصَّلٰوۃُ فِی الْمَسْجِدِ وَالصَّلٰوۃُ فِیْ بَیْتِیْ فَقَدْ تَرٰی مَا أَقْرَبَ بَیْتِیْ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَلَأَنْ أُصَلِّیَ فِیْ بَیْتِی أَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّیَ فِی الْمَسْجِدِ اِلَّا أَنْ تَکُوْنَ صَلَاۃً مَکْتُوبَۃً، وَأَمَّا مُؤَاکَلَۃُ الْحَائِضِ فَآکُلُہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۲۱۶)
سیدنا عبد اللہ بن سعدؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوالات کیے: کون سی چیز غسل کو واجب کرتی ہے، پیشاب کے بعد آ جانے والے سفید قطروں کا حکم، گھر اور مسجد میں نماز کا حکم اور حائضہ عورت کے ساتھ کھانا پینا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا، رہا مسئلہ میرا تو جب میں ایسے ایسے کرتا ہوں تو آپ نے غسل کا ذکر کیا، پھر میں نماز والا وضو کر تا ہوں، اپنی شرمگاہ کو دھوتا ہوں اور پھر غسل کر لیتا ہوں۔ رہا مسئلہ پیشاب کے بعد نکل آنے والے قطروں کا، تو یہ مذی ہے اور ہر نر کو مذی آ جاتی ہے، میں اس کی وجہ سے اپنی شرمگاہ کو دھوتا ہوں اور وضو کر لیتا ہوں، جہاں تک مسجد اور گھر میں نماز پڑھنے کی بات ہے تو تم دیکھ رہے ہو کہ میرا گھر میری مسجد کے بالکل قریب ہے، لیکن مجھے اپنے گھر میں نماز پڑھنا، مسجد میں نماز پڑھنے سے زیادہ پسند ہے، الا یہ کہ فرضی نماز ہو، اور رہا مسئلہ حائضہ کے ساتھ کھانے پینے کا تو میں تو ایسی بیوی کے ساتھ کھاتا پیتا ہوں۔
Takhreej
(۸۴۶) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۲۱۱، ۲۱۲، وابن ماجہ: ۶۵۱، ۱۳۷۸ (انظر: ۱۹۰۰۷)
846
Sahih
احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
۔ (۸۴۷)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الرَّجُلِ یَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا یَذْکُرُ احْتِلَامًا، قَالَ: ((یَغْتَسِلُ۔)) وَعَنِ الرَّجُلِ یَرٰی أَ نَّہُ قَدِ احْتَلَمَ وَلَا یَرٰی بَلَلًا، قَالَ: ((لَا غُسْلَ عَلَیْہِ۔)) فَقَالَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ: ہَلْ عَلَی الْمَرْأَۃِ تَرٰی ذَالِکَ شَیْئٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، اِنَّمَا النِّسَائُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ۔ (مسند أحمد: ۲۶۷۲۵)
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا، جو منی کی تری تو پاتا ہے، لیکن اسے احتلام یاد نہیں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ غسل کرے گا۔ پھر اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جس کا یہ خیال ہے کہ اسے احتلام تو ہوا ہے، لیکن وہ تری کو نہیں پاتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس پر کوئی غسل نہیں ہے۔ سیدہ ام سلیم ؓ نے کہا: اگر عورت کو اسی قسم کا خواب آئے، تو کیا اس کا بھی یہی حکم ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، عورتیں مردوں کی مانند ہی ہیں۔
Takhreej
(۸۴۷) تخریج: حدیث حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۲۳۶، وابن ماجہ: ۶۱۲، والترمذی: ۱۱۳ (انظر: ۲۶۱۹۵)
847
Sahih
احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
۔ (۸۴۸)۔عَنْ اِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِیْ طَلْحَۃَ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ جَدَّتِہِ أُمِّ سُلَیْمٍؓ قَالَتْ: کَانَتْ مُجَاوِرَۃَ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَانَتْ تَدْخُلُ عَلَیْہَا فَدَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ اِذَا رَأَتِ الْمَرْأَۃُ أَنَّ زَوْجَہَا یُجَامِعُہَا فِی الْمَنَامِ أَتَغْتَسِلُ؟ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ: تَرِبَتْ یَدَاکَ یَا أُمَّ سُلَیْمٍ! فَضَحْتِ النِّسَائَ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ: اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ وَاِنَّا اِنْ نَسْأَلِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَمَّا أَشْکَلَ عَلَیْنَا خَیْرٌ مِنْ أَنْ نَکُونَ مِنْہُ عَلٰی عَمْیَائَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِاُمِّ سَلَمَۃَ: ((أَنْتِ تَرِبَتْ یَدَاکِ، نَعَمْ یَا أُمَّ سُلَیْمٍ! عَلَیْہَا الْغُسْلُ اِذَا وَجَدتِ الْمَائَ۔)) فَقَالَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَہَلْ لِلْمَرْأَۃِ مَائٌ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَأَنّٰی یُشْبِہُہَا وَلَدُہَا؟ ہُنَّ شَقَائِقُ الرِّجَالِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۶۵۹)
سیدہ ام سلیمؓ، زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓ کہ ہمسائی تھیں اور وہ ان کے پاس آتی رہتی تھیں، ایک دن نبیِ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ گھر میں داخل ہوئے اور سیدہ ام سلیم ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے کہ ایک عورت یہ خواب دیکھتی ہے کہ اس کا خاوند اس سے مجامعت کر رہا ہے، تو کیا وہ غسل کرے گی؟ سیدہ ام سلمہؓ نے کہا: تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں، اے ام سلیم! تو نے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے نزدیک عورتوں کو رسوا کر دیا ہے۔ سیدہ ام سلیم ؓ نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا اور اگر ہم اپنے اشکالات کے بارے میں نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کر لیں تو یہ اس سے تو بہتر ہے کہ ان کے بارے میں ہم جاہل اور اندھے ہوں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدہ ام سلمہؓ سے فرمایا: بلکہ تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، جی ہاں ام سلیم! جب ایسی عورت منی کا پانی محسوس کرے گی تو اس پر غسل ہو گا۔ سیدہ ام سلیمؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورت کا بھی پانی ہوتا ہے؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر اس کا بچہ اس کے مشابہ کیسے ہو جاتا ہے، اس معاملے میں خواتین مردوں کی طرح ہیں۔
Takhreej
(۸۴۸) تخریج: أخرج مسلم: ۳۱۰ نحوہ، لکن دون قولہ: ھن شقائق الرجال ، ھذہ الجملۃ حسن لغیرہ (انظر: ۲۷۱۱۸)
848
Sahih

Chapters

31
01
بیٹھنے والے کی نیند کے بارے میں
4 Hadith
02
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نیند ناقضِ وضو نہیں تھی، اگرچہ وہ لیٹ کر ہوتی
4 Hadith
03
لیٹ کر سو جانے والے کا وضو
3 Hadith
04
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان
3 Hadith
05
ذکر کو چھونے سے وضو کا ٹوٹ جانا، اس کے بارے میں سیدہ بسرہ بنت صفوانؓ کی حدیث کا بیان
4 Hadith
06
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کا نہ ٹوٹنا، اس رائے کا بیان
3 Hadith
07
عورت کو چھونے اور اس کا بوسہ لینے سے وضو کرنے کا بیان
3 Hadith
08
قے، ڈکار اور نکسیر سے وضو کرنے کا بیان
2 Hadith
09
اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا بیان
4 Hadith
10
آگ سے پکی ہوئی چیز سے وضو کرنے کا بیان
5 Hadith
11
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بعض بیویوں سے اس موضوع سے متعلقہ بیان کی گئی مرویات کا بیان
5 Hadith
12
آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان
24 Hadith
13
غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہو جانے کے قائلین کا بیان
5 Hadith
14
یہ رخصت تھی، پھر منسوخ ہو گئی
3 Hadith
15
ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
6 Hadith
16
احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
10 Hadith
17
ان لوگون کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ جنابت والا قرآن مجید کی تلاوت نہ کرے
4 Hadith
18
غسل کے وقت پردہ کرنا
6 Hadith
19
غسل اور وضو کے پانی کی مقدار کا بیان
6 Hadith
20
غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
10 Hadith
21
غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
9 Hadith
22
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
5 Hadith
23
غسلِ جنابت کے بعد خشک رہ جانے والی جگہ کو پالینے والے کا بیان
1 Hadith
24
ایک غسل میں یا متعدد غسلوں میں ایک سے زائد بیویوں کے پاس جانے والے کا بیان
2 Hadith
25
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
6 Hadith
26
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
3 Hadith
27
رات کے پچھلے حصے تک غسلِ جنابت کو مؤخر کرنا
4 Hadith
28
مسنون غسل کی اقسام ایک سے زائد غسل کی وہ اقسام، جن کا احادیث میں اکٹھا ذکر کیا گیا
2 Hadith
29
میت کو غسل دینے سے غسل کرنے اور اس کو اٹھانے سے وضو کرنے کا بیان
4 Hadith
30
مسلمان ہونے والے کافر سے غسل کرنے کا مطالبہ کرنے کا بیان
3 Hadith
31
حمام میں داخل ہونے کا حکم
8 Hadith
No chapter matched that.