TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نیند کی وجہ سے وضو کا بیان - نیند کی وجہ سے وضو کا بیان - Book 17 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 17 of Musnad Ahmad, with 31 chapters and 161 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

161 Hadith · 31 Chapters
رات کے پچھلے حصے تک غسلِ جنابت کو مؤخر کرنا
۔ (۹۰۹)۔ عَنْ غُضَیْفِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَؓ: أَرَأَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ فِیْ أَوَّلِ اللَّیْلِ أَوْ فِیْ آخِرِہِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا اِغْتَسَلَ فِی أَوَّلِ اللَّیْلِ وَرُبَّمَا اِغْتَسَلَ فِیْ آخِرِہِ، قُلْتُ: اَللّٰہُ أکْبَرُ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ فِی الْأَمْرِ سَعَۃً، قُلْتُ: أَرَأَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُوتِرُ فِیْ أَوَّلِ اللَّیْلِ أَوْ فِیْ آخِرِہِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا أَوْتَرَ فِیْ أَوَّلِ اللَّیْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ فِیْ آخِرِہِ، قُلْتُ: اَللّٰہُ أکْبَرُ، اَلحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ فِی الْأَمْرِ سَعَۃً، قُلْتُ: أَرَأَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَجْہَرُ بِالْقُرْآنِ أَوْ یُخَافِتُ بِہِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا جَہَرَ بِہِ وَرُبَّمَا خَافَتَ، قُلْتُ: اَللّٰہُ أکْبَرُ، اَلحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ فِی الْأَمْرِ سَعَۃً۔ (مسند أحمد: ۲۴۷۰۶)
غُضیف بن حارث کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہؓ سے کہا: اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ رات کے شروع میں غسل کرتے تھے یا آخر میں؟ انھوں نے کہا: کبھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ رات کے پہلے حصے میں غسل کر لیتے تھے اور کبھی آخری حصے میں۔ میں نے کہا: اَللّٰہُ أکْبَرُ، ساری تعریف اس اللہ کی ہے، جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی ہے، پھر میں نے کہا: اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ رات کے پہلے حصے میں نمازِ وتر ادا کرتے تھے یا آخری حصے میں؟ انھوں نے کہا: کبھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ رات کے پہلے حصے میں نمازِ وتر ادا کرتے تھے اور کبھی آخری حصے میں۔ میں نے کہا: اَللّٰہُ أکْبَرُ، ساری تعریف اس اللہ کی ہے، جس نے اس معاملے میں بھی وسعت رکھی ہے،میں نے پھر کہا: اس بارے میں آپ کا خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ قرآن کی تلاوت بآواز بلند کرتے تھے یا بآواز پست؟ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بسا اوقات جہری طور پر تلاوت کرتے تھے اور بسا اوقات سری طور پر، میں نے کہا: اَللّٰہُ أکْبَرُ، ساری تعریف اس اللہ کی ہے، جس نے اس معاملے میں بھی وسعت رکھی ہے۔
Takhreej
(۹۰۹) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۲۲۶، وابن ماجہ: ۱۳۵۴، والنسائی: ۱/ ۱۲۵، والترمذی: ۴۴۹، وأخرجہ مسلم: ۳۰۷ بقصۃ الغسل من الجنابۃ (انظر: ۲۴۲۰۲)
909
Sahih
رات کے پچھلے حصے تک غسلِ جنابت کو مؤخر کرنا
۔ (۹۱۰)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُجْنِبُ ثُمَّ یَنَامُ وَلَا یَمَسُّ مَائً حَتّٰی یَقُومَ بَعْدَ ذَالِکَ فَیَغْتَسِلُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۶۶۲)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو جنابت لاحق ہو جاتی تھی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سو جاتے تھے اور پانی کو چھوتے تک نہیں تھے، پھر جب بیدار ہوتے تو غسل کرتے تھے۔
Takhreej
(۹۱۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۳۹ دون قولہ: ولا یمس ماء ، واھل الحدیث علی ان ھذہ اللفظۃ خطأ من ابی اسحق (انظر: ۲۴۱۶۱)
Explanation
فوائد:… اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پانی کو چھوتے تک نہیں تھے۔ ان الفاظ کے دو معانی مراد لیے جا سکتے ہیں، ایک یہ کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ غسل کے لیے پانی کو نہیں چھوتے تھے، اس معنی سے وضو کی نفی نہیں ہوتی، دوسرا یہ کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سونے سے پہلے وضو کرتے تھے نہ غسل، اس معنی سے معلوم ہو گا کہ وضو کو ترک کرنا بھی جائز ہے، اور حدیث نمبر (۹۰۰)کے فوائد میں یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ سونے سے پہلے جنابت والے آدمی کے لیے وضو کرنا مستحب ہے، ضروری نہیں ہے۔ بہرحال محدثین کا یہ خیال بھی ہے کہ وَلَا یَمَسُّ مَائً کے الفاظ ابو اسحق کی غلطی کا نتیجہ ہیں، اصل روایت ان الفاظ کے بغیر ہے۔
910
Sahih
رات کے پچھلے حصے تک غسلِ جنابت کو مؤخر کرنا
۔ (۹۱۱)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ)۔قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصِیْبُ مِنْ أَہْلِہِ مِنْ أَوَّلِ اللَّیْلِ ثُمَّ یَنَامُ وَلَا یَمَسُّ مَائً، فَاِذَا اسْتَیْقَظَ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ عَادَ اِلٰی أَہْلِہِ وَاغْتَسَلَ۔ (مسند أحمد: ۲۵۲۶۲)
۔ (دوسری سند) سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ رات کے پہلے حصے میں اپنی بیوی سے مجامعت کرتے تھے، پھر پانی کو چھوئے بغیر سو جاتے تھے، جب رات کے آخری حصے میں بیدار ہوتے تو پھر حق زوجیت ادا کرتے اور پھر غسل کرتے۔
Takhreej
(۹۱۱) تخریج: رجالہ ثقات رجال الشیخین وانظر الحدیث بالطریق الاول۔ أخرجہ ابوداود: ۲۲۸، والترمذی: ۱۱۹، وابن ماجہ: ۵۸۳ (انظر: ۲۴۷۵۵)
911
Sahih
رات کے پچھلے حصے تک غسلِ جنابت کو مؤخر کرنا
۔ (۹۱۲)۔عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُجْنِبُ ثُمَّ یَنَامُ ثُمَّ یَنْتَبِہُ ثُمَّ یَنَامُ۔ (مسند أحمد: ۲۷۰۸۷)
سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب جنبی ہو جاتے تو سوجاتے، پھر بیدار ہوتے اور پھر سو جاتے۔
Takhreej
(۹۱۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شریک النخعی (انظر: ۲۶۵۵۲)
912
Zaeef
مسنون غسل کی اقسام ایک سے زائد غسل کی وہ اقسام، جن کا احادیث میں اکٹھا ذکر کیا گیا
۔ (۹۱۳)۔عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عُقْبَۃَ بْنِ الْفَاکِہِ عَنْ جَدِّہِ الْفَاکِہِ بْنِ سَعْدٍ وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَغْتَسِلُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَیَومَ عَرَفَۃَ وَیَوْمَ الْفِطْرِ وَیَومَ النَّحْرِ، قَالَ: وَکَانَ الْفَاکِہُ بْنُ سَعْدٍ یَأْمُرُ أَہْلَہُ بِالْغُسْلِ فِی ہٰذِہِ الْأَیَّامِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۸۴۰)
سیدنا فاکہ بن سعدؓ، جو کہ صحبت یافتہ تھے، سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جمَعَہُ کے دن، عرفہ کے دن، عید الفطر کے دن اور عید الاضحی کے دن غسل کرتے تھے، اسی بنا پر سیدنا فاکہؓ اپنے اہل و عیال کو ان دنوں میں غسل کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۹۱۳)تخریج:اسنادہ ضعیف جدا، یوسف بن خالد السمتی کذبہ ابن معین وابوداود، والفلاس، وقال النسائی: متروک الحدیث ، وقال ابن حبان: کان یضع الحدیث وعبد الرحمن بن عقبۃ بن الفاکہ مجھول۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۳۱۶ (انظر: ۱۶۷۲۰)
913
Zaeef
مسنون غسل کی اقسام ایک سے زائد غسل کی وہ اقسام، جن کا احادیث میں اکٹھا ذکر کیا گیا
۔ (۹۱۴)۔عَنْ عَائِشَۃَؓعَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَنَّہُ قَالَ: ((یُغْتَسَلُ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنَ الْجُمُعَۃِ وَالْجَنَابَۃِ وَالْحِجَامَۃِ وَغُسْلِ الْمَیِّتِ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۷۰۵)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: چار امور سے غسل کیا جاتا ہے: جمعہ سے، جنابت سے، سینگی لگوانے سے اور میت کو غسل دینے سے۔
Takhreej
(۹۱۴) اسنادہ ضعیف، مصعب بن شیبۃ، قال احمد: روی احادیث مناکیر، وقال النسائی: منکر الحدیث، وعد الذھبی ھذا الحدیث من مناکیرہ، وانفرد بتوثیقہ ابن معین۔ أخرجہ ابوداود: ۳۴۸، ۳۱۶۰ (انظر: ۲۵۱۹۰)
Explanation
فوائد:… یہ روایات تو ضعیف ہے، ان میں سے مسنون غسلوں کی وضاحت آ گے آ رہی ہے، مثلا غسلِ جمعہ، غسلِ جنابت، میت کو غسل دینے سے غسل کرنا ۔
914
Zaeef
میت کو غسل دینے سے غسل کرنے اور اس کو اٹھانے سے وضو کرنے کا بیان
۔ (۹۱۵)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ غَسَّلَ مَیِّتًا فَلْیَغْتَسِلْ وَمَنَ حَمَلَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ)) (مسند أحمد: ۹۸۶۲)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی میت کو غسل دے، وہ خود بھی غسل کرے اور جو اس کو اٹھائے، وہ وضو کرے۔
Takhreej
(۹۱۵) قال الالبانی: صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۳۱۶۲، وابن ماجہ: ۱۴۶۳، والترمذی: ۹۹۳(انظر: ۹۸۶۲)
915
Sahih
میت کو غسل دینے سے غسل کرنے اور اس کو اٹھانے سے وضو کرنے کا بیان
۔ (۹۱۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مِنْ غُسْلِہَا الْغُسْلُ وَمِنْ حَمْلِہَا الْوُضُوئُ)) (مسند أحمد: ۷۶۷۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میت کو غسل دینے سے غسل کرنا ہے اور اس کو اٹھانے سے وضو کرنا ہے۔
Takhreej
(۹۱۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
916
Sahih
میت کو غسل دینے سے غسل کرنے اور اس کو اٹھانے سے وضو کرنے کا بیان
۔ (۹۱۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ غَسَّلَ مَیِّتًا فَلْیَغْتَسِلْ۔)) (مسند أحمد: ۹۸۶۲)
۔ (تیسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو میت کو غسل دے، وہ خود بھی غسل کرے۔
Takhreej
(۹۱۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
917
Sahih
میت کو غسل دینے سے غسل کرنے اور اس کو اٹھانے سے وضو کرنے کا بیان
۔ (۹۱۸)۔عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۱۸۳۲۷)
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اس قسم کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۹۱۸) تخریج: ابن اسحاق صرح بحفظہ للحدیث عن کثیر من علماء المدینۃ، وجھالتھم لا تضر لامتناع تواطؤھم علی الکذب فی العادۃ، وبقیۃ رجالہ ثقات (انظر: ۱۸۱۴۶)
Explanation
فوائد:… میت کو غسل دینے والے کیلئے غسل کرنا مستحب ہے، جیسا کہ درج ذیل روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ((لَیْسَ عَلَیْکُمْ فِیْ غُسْلِ مَیِّتِکُمْ غُسْلٌ اِذَا غَسَلْتُمُوْہُ، اِنَّ مَیِّتَکُمْ لَمُؤْمِنٌ طَاھِرٌ، وَلَیْسَ بِنَجَسٍ، فَحَسْبُکُمْ اَنْ تَغْسِلُوْا اَیْدِیَکُمْ)) … جب تم میت کو غسل دے لو تو تم پر کوئی غسل نہیں ہے، بیشک تمہارا میت مومن اور طاہر ہے اور نجس نہیں ہے، پس تمہیں ہاتھ دھو لینا ہی کافی ہے۔ (بیہقی: ۱/ ۳۹۸، حاکم: ۱/ ۳۸۶، احکام الجنائز: ص ۵۳، ۵۴، محقق بیہقی کے نزدیک یہ حدیث حسن لغیرہ ہے) سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کُنَّا نَغْسِلُ الْمَیِّتَ، فَمِنَّا مَنْ یَغْتَسِلُ وَمِنَّا مَنْ لَّا یَغْتَسِلُ۔ … ہم میت کو غسل دیتے تھے، اس سے کوئی غسل کر لیتا تھا اور کوئی نہیں کرتا تھا۔ (دارقطنی: ۲/ ۷۲، تمام المنۃ: ص ۱۲۱) سیدہ اسماء بنت عمیس ؓنے اپنے خاوند سیدنا ابو بکر صدیق ؓکو غسل دیا اور پھر مہاجرین سے پوچھا کہ آج شدید سردی ہے، کیا اس پر غسل کرنا ضروری ہے، انھوں نے کہا: جی نہیں۔ (مؤطا امام مالک: ۱ /۲۲۳، بیہقی: ۳/ ۳۹۷) اسی طرح میت کو اٹھانے والے کے لیے وضو کرنا بھی مستحب ہے۔
918
Sahih
مسلمان ہونے والے کافر سے غسل کرنے کا مطالبہ کرنے کا بیان
۔ (۹۱۹)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ أَنَّ ثُمَامَۃَ بْنَ أُثَالٍ أَوْ أُثَالَۃٍ أَسْلَمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذْہَبُوْا بِہِ اِلٰی حَائِطِ بَنِیْ فُـلَانٍ فَمُرُوْہُ أَنْ یَغْتَسِلَ۔)) (مسند أحمد: ۸۰۲۴)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا ثمامہ بن اثال مسلمان ہوئے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کے بارے میں فرمایا: ان کو بنوفلاں کے باغ میں لے جاؤ اور ان کو حکم دو کہ یہ وہاں غسل کر لیں۔
Takhreej
(۹۱۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۶۲، ۴۶۹، ۲۴۲۲، ۴۳۷۲، ومسلم: ۱۷۶۴ (انظر: ۸۰۳۷)
919
Sahih
مسلمان ہونے والے کافر سے غسل کرنے کا مطالبہ کرنے کا بیان
۔ (۹۲۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔أَنَّ ثُمَامَۃَ بْنَ أُثَالٍ الْحَنَفِیَّ أَسْلَمَ فَأَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُنْطَلَقَ بِہِ اِلٰی حَائِطِ أَبِیْ طَلْحَۃَ فَیَغْتَسِلُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((قَدْ حَسُنَ اِسْلَامُ صَاحِبِکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۲۷۳)
۔ (دوسری سند) جب سیدنا ثمامہ بن اثال حنفی ؓمسلمان ہوئے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے حکم دیا کہ ان کو سیدنا ابو طلحہ ؓ کے باغ میں لے جایا جائے، تاکہ یہ غسل کر لیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: تمہارے ساتھی کا اسلام اچھا ہو گیا ہے۔
Takhreej
(۹۲۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
920
Sahih
مسلمان ہونے والے کافر سے غسل کرنے کا مطالبہ کرنے کا بیان
۔ (۹۲۱)۔عَنْ خَلِیْفَۃَ بْنِ حُصَیْنِ بْنِ قَیْسِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ جَدَّہُ (قَیْسَ بْنَ عَاصِمٍ) أَسْلَمَ عَلٰی عَہْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَمَرَہُ أَنْ یَغْتَسِلَ بِمَائٍ وَسِدْرٍ۔ (مسند أحمد: ۲۰۸۹۱)
سیدنا قیس بن عاصم ؓ سے مروی ہے کہ جب وہ عہد ِ نبوی میں مسلمان ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے ان کو پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل کرنے کا حکم دیا۔
Takhreej
(۹۲۱)تخریج:حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۳۵۵، والنسائی: ۱/ ۱۰۹،والترمذی: ۶۰۵ (انظر: ۲۰۶۱۵)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اسلام قبول کرنے والا غسل کرے اور اہل اسلام اس سے اس چیز کا مطالبہ کریں۔ معلوم ہوا کہ مسلمان ہونے والے کے لیے غسل کرنا ضروری ہے۔
921
Sahih
حمام میں داخل ہونے کا حکم
۔ (۹۲۲)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلَا یَدْخُلِ الْحَمَّامَ اِلَّا بِمِئْزَرٍ، مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلَا یُدخِلْ حَلِیْلَتَہُ الْحَمَّامَ، مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلَا یَقْعُدْ عَلٰی مَائِدَۃٍ یُشْرَبُ عَلَیْہَا الْخَمْرُ، مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلَا یَخْلُوَنَّ بِاِمْرَأَۃٍ لَیْسَ مَعَہَا ذُومَحْرَمٍ مِنْہَا فَاِنَّ ثَالِثَہُمَا الشَّیْطَانُ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۷۰۵)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ ازار کے بغیر حمام میں داخل نہ ہو، اسی طرح جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنی بیوی کو حمام میں داخل نہ کرے، جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب پی جا رہی ہو اور جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اس عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے، جس کے ساتھ محرم نہ ہو، کیونکہ ان کا تیسرا شیطان ہو گا۔
Takhreej
(۹۲۲) تخریج: حسن لغیرہ، وبعضہ صحیح۔ أخرجہ الترمذی: ۲۸۰۱(انظر: ۱۴۶۵۱)
922
Sahih
حمام میں داخل ہونے کا حکم
۔ (۹۲۳)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ أَبِیْ عُذْرَۃَ رَجُلٍ کَانَ أَدْرَکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْحَمَّامَاتِ لِلرِّجَالِ وَالنِّسَائِ، ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ فِی الْمَآزِرِ وَلَمْ یُرَخِّصْ لِلنِّسَائِ۔ (مسند أحمد: ۲۵۵۹۸)
سیدنا ابو عذرہؓ، جنھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو پایا تھا، سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مردوں اور عورتوں کو حماموں سے منع کر دیا، پھر مردوں کے لیے ازار پہن کر نہانے کی رخصت دے دی اور عورتوں کو کوئی رخصت نہ دی۔
Takhreej
(۹۲۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابی عذرۃ، وعبدُ اللہ بن شداد الاعرج،قال ابن حجر: مجھول۔ أخرجہ ابوداود: ۴۰۰۹، ابن ماجہ: ۲۷۴۹(انظر: ۲۵۰۸۵)
923
Zaeef
حمام میں داخل ہونے کا حکم
۔ (۹۲۴)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ قَالَ: حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا: ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مَنْصُوْرٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ أَبِی الْمَلِیْحِ قَالَ: دَخَلَ نِسْوَۃٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ عَلٰی عَائِشَۃَؓفَقَالَتْ: أَنْتُنَّ اللَّاتِیْ تَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَا مِنَ امْرَأۃٍ وَضَعَتْ ثِیَابَہَا فِی غَیْرِ بَیْتِہَا اِلَّا ہَتَکَتْ سِتْرًا، (وَفِی رِوَایَۃٍ: سِتْرَہَا) بَیْنَہَا وَبَیْنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ)) (مسند أحمد: ۲۵۹۲۱)
ابو ملیح کہتے ہیں: اہل شام کی کچھ خواتین، سیدہ عائشہؓ کے پاس گئیں، انھوں نے ان سے کہا: تم ہی وہ خواتین ہو جو حماموں میں داخل ہوتی ہو؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو عورت بھی اپنے گھر کے علاوہ کپڑے اتارے گی، وہ اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان والے پردے کو چاک کر دے گی۔
Takhreej
(۹۲۴) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۴۰۱۰، والترمذی: ۲۸۰۳(انظر: ۲۵۴۰۷)
924
Sahih
حمام میں داخل ہونے کا حکم
۔ (۹۲۵)۔عَنِ السَّائِبِ مَوْلٰی أُمِّ سَلَمَۃَؓ أَنَّ نِسْوَۃً دَخَلْنَ عَلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ مِنْ أَہْلِ حِمْصَ فَسَأَلَتْہُنَّ مِمَّنْ أَنْتُنَّ؟ قُلْنَ: مِنْ أَہْلِ حِمْصَ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((أَیُّمَا امْرَأَۃٍ نَزَعَتْ ثِیَابَہَا فِی غَیْرِ بَیْتِہَا خَرَقَ اللّٰہُ عَنْہَا سِتْرًا)) (مسند أحمد: ۲۷۱۰۴)
سائب کہتے ہیں: حمص سے تعلق رکھنے والی کچھ خواتین سیدہ ام سلمہؓ کے پاس آئیں، انھوں نے پوچھا: تم کہاں سے ہو؟ انھوں نے کہا: ہم حمص علاقے سے ہیں۔ یہ سن کر سیدہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو عورت اپنے گھر کے علاوہ کپڑے اتارے گی، اللہ تعالیٰ اس کے پردے کو چاک کر دے گا۔
Takhreej
(۹۲۵) تخریج: حدیث حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابویعلی: ۷۰۳۱، والطبرانی فی الکبیر : ۲۳/ ۹۶۲، والحاکم: ۴/ ۲۸۹ (انظر: ۲۶۵۶۹)
925
Sahih
حمام میں داخل ہونے کا حکم
۔ (۹۲۶)۔عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلَا یَدْخُلِ الْحَمَّامَ اِلَّا بِاِزَارٍ، مَنْ کَانَتْ تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلَا تَدْخُلِ الْحَمَّامَ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۵)
سیدنا عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ ازار کے بغیر حمام میں داخل نہ ہو اور جو عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، وہ (کسی صورت میں) حمام میں داخل نہ ہو۔
Takhreej
(۹۲۶) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابویعلی: ۲۵۱، والبیھقی: ۷/ ۲۶۶ (انظر: ۱۲۵)
926
Sahih
حمام میں داخل ہونے کا حکم
۔ (۹۲۷)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند أحمد: ۸۲۵۸)
سیدنا ابو ہریرہؓ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Takhreej
(۹۲۷) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۸۲۷۵)
Explanation
فوائد:… ابوہریرہ کی اس حدیث ِ مبارکہ کے الفاظ یہ ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ مِنْ ذُکُوْرِ اُمَّتِیْ فَلَایَدْخُلِ الْحَمَّامَ اِلَّا بِمِئْزَرٍ، وَمَنْ کَانَتْ تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ مِنْ اِنَاثِ اُمَّتِیْ، فَلَا تَدْخُلِ الْحَمَّامَ۔)) … میری امت کے مردوں میں جن لوگوں کا اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان ہو، وہ ازار کے بغیر حمام میں داخل نہ ہوں اور میری امت کی جو خواتین اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہوں، وہ حمام میں داخل ہی نہ ہوں۔
927
Sahih
حمام میں داخل ہونے کا حکم
۔ (۹۲۸)۔عَنْ یُحَنَّسَ أَبِی مُوسٰی أَنَّ أُمَّ الدَّرْدَائِؓ حَدَّثَتْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَقِیَہَا یَوْمًا فَقَالَ: ((مِنْ أَیْنَ جِئْتِ یَا أُمَّ الدَّرْدَائِ؟)) فَقَالَتْ: مِنَ الْحَمَّامِ، فَقَالَ لَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنَ امْرَأَۃٍ تَنْزِعُ ثِیَابَہَا اِلَّا ہَتَکَتْ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ سِتْرٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۵۸۱)
سیدہ ام درداءؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اس سے ملاقات ہوئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے اس سے پوچھا: ام درداء! تم کہاں سے آ رہی ہو؟ انھوں نے کہا: جی حمام سے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے فرمایا: جو عورت (اپنے گھر کے علاوہ) کپڑے اتارتی ہے، وہ اپنے اور اللہ تعالیٰ کے مابین پردے کو چاک کر دیتی ہے۔
Takhreej
(۹۲۸) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۴/ ۶۵۲ (انظر: ۲۷۰۴۱)
928
Sahih

Chapters

31
01
بیٹھنے والے کی نیند کے بارے میں
4 Hadith
02
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نیند ناقضِ وضو نہیں تھی، اگرچہ وہ لیٹ کر ہوتی
4 Hadith
03
لیٹ کر سو جانے والے کا وضو
3 Hadith
04
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان
3 Hadith
05
ذکر کو چھونے سے وضو کا ٹوٹ جانا، اس کے بارے میں سیدہ بسرہ بنت صفوانؓ کی حدیث کا بیان
4 Hadith
06
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کا نہ ٹوٹنا، اس رائے کا بیان
3 Hadith
07
عورت کو چھونے اور اس کا بوسہ لینے سے وضو کرنے کا بیان
3 Hadith
08
قے، ڈکار اور نکسیر سے وضو کرنے کا بیان
2 Hadith
09
اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا بیان
4 Hadith
10
آگ سے پکی ہوئی چیز سے وضو کرنے کا بیان
5 Hadith
11
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بعض بیویوں سے اس موضوع سے متعلقہ بیان کی گئی مرویات کا بیان
5 Hadith
12
آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان
24 Hadith
13
غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہو جانے کے قائلین کا بیان
5 Hadith
14
یہ رخصت تھی، پھر منسوخ ہو گئی
3 Hadith
15
ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
6 Hadith
16
احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
10 Hadith
17
ان لوگون کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ جنابت والا قرآن مجید کی تلاوت نہ کرے
4 Hadith
18
غسل کے وقت پردہ کرنا
6 Hadith
19
غسل اور وضو کے پانی کی مقدار کا بیان
6 Hadith
20
غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
10 Hadith
21
غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
9 Hadith
22
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
5 Hadith
23
غسلِ جنابت کے بعد خشک رہ جانے والی جگہ کو پالینے والے کا بیان
1 Hadith
24
ایک غسل میں یا متعدد غسلوں میں ایک سے زائد بیویوں کے پاس جانے والے کا بیان
2 Hadith
25
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
6 Hadith
26
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
3 Hadith
27
رات کے پچھلے حصے تک غسلِ جنابت کو مؤخر کرنا
4 Hadith
28
مسنون غسل کی اقسام ایک سے زائد غسل کی وہ اقسام، جن کا احادیث میں اکٹھا ذکر کیا گیا
2 Hadith
29
میت کو غسل دینے سے غسل کرنے اور اس کو اٹھانے سے وضو کرنے کا بیان
4 Hadith
30
مسلمان ہونے والے کافر سے غسل کرنے کا مطالبہ کرنے کا بیان
3 Hadith
31
حمام میں داخل ہونے کا حکم
8 Hadith
No chapter matched that.