TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نیند کی وجہ سے وضو کا بیان - نیند کی وجہ سے وضو کا بیان - Book 17 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 17 of Musnad Ahmad, with 31 chapters and 161 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

161 Hadith · 31 Chapters
احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
۔ (۸۴۹)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُونَ وَحَدَّثَنِیْ حَجَّاجٌ قَالَ: أَنَا ابْنُ أَبِیْ ذِئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَؓ أَنَّ أُمَّ سُلَیْمٍ، قَالَ حَجَّاجٌ: امْرَأَۃَ أَبِیْ طَلْحَۃَ قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! الْمَرْأَۃُ تَرٰی زَوْجَہَا فِی الْمَنَامِ یَقَعُ عَلَیْہَا أَعَلْیْہَا غُسْلٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، اِذَا رَأَتِ الْمَائَ۔)) فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ: وَتَفْعَل ذَالِکَ؟ فَقَالَ: ((تَرِبَتْ یَمِیْنُکِ، فَأَنّٰی یَأتِیْ شَبَہُ الْخُؤُولَۃِ اِلَّا مِنْ ذَالِکَ،أَیُّ النُّطْفَتَیْنِ سَبَقَتْ اِلَی الرَّحِمِ غَلَبَتْ عَلٰی الشَّبَہِ۔)) وَقَالَ حَجَّاجٌ فِیْ حَدِیْثِہِ: تَرِبَتْ جَبِیْنُکِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۱۶۶)
سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیم زوجہ سیدنا ابو طلحہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی عورت یہ خواب دیکھتی ہے کہ اس کا خاوند اس سے مجامعت کر رہا ہے، تو کیا اس پر غسل واجب ہو جائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، جب وہ منی کا پانی دیکھ لے گی۔ سیدہ ام سلمہؓ نے کہا: کیا عورت کا پانی بھی نکلتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے، بچے کی ماموؤں کے ساتھ مشابہت عورت کے اسی پانی کی وجہ سے ہوتی ہے، دو نطفوں میں سے جو نطفہ رحم کی طرف سبقت لے جاتا ہے، وہی مشابہت پر غالب آ جاتا ہے۔ حجاج کی حدیث میں ہے: تیری پیشانی خاک آلود ہو۔
Takhreej
(۸۴۹) تخریج: أخرج البخاری: ۱۳۰، ۲۸۲، ۳۳۲۸، ۶۰۹۱، ومسلم: ۳۱۳ نحوہ (انظر: ۲۶۶۳۱)
849
Sahih
احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
۔ (۸۵۰)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ)۔عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّہَا أُمِّ سَلَمَۃَ أَنَّ أُمَّ سُلَیْمٍ سَأَلَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ، ہَلْ عَلٰی الْمَرْأَۃِ غُسْلٌ اِذَا احْتَلَمَتْ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، اِذَا رَأَتِ الْمَائَ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۱۱۴)
۔ (دوسری سند)سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیمؓ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! بیشک اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا، تو کیا جب عورت کو احتلام ہو جاتا ہے، تو اس پر غسل ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، جب وہ پانی (منی) دیکھ لے۔
Takhreej
(۸۵۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
850
Sahih
احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
۔ (۸۵۱)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔عَنْہَا عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ: جَائَ تْ أُمُّ سُلَیْمٍ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَتْہُ عَنِ الْمَرْأَۃِ تَرٰی فِی مَنَامِہَا مَا یَرَی الرَّجُلُ، فَقَالَ: ((اِذَا رَأَتِ الْمَائَ فَلْتَغْتَسِلْ۔)) قَالَتْ: قُلْتُ: فَضَحْتِ النِّسَائَ، وَہَلْ تَحْتَلِمُ الْمَرْأَۃُ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((تَرِبَتْ یَمِیْنُکِ، فَبِمَ یُشْبِہَا وَلَدُہَا اِذًا۔)) (مسند أحمد: ۲۷۱۴۸)
۔ (تیسری سند) سیدہ ام سلمہؓ کہتی ہیں: سیدہ ام سلیمؓ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف آئی اور اس عورت کے بارے میں سوال کیا، جو خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے، جو مرد دیکھتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب وہ پانی دیکھ لے، تو غسل کرے۔ میں نے کہا: تو نے تو عورتوں کو رسوا کر دیا ہے، بھلا کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے، تو پھر عورت کا بچہ اس سے مشابہ کیسے ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۸۵۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
851
Sahih
احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
۔ (۸۵۲)۔عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ سُمَیَّۃَ سَمِعَتُ ابْنَ عُمَرَ ؓ یَقُولُ: سَأَلَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ وَہِیَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! تَرَی الْمَرْأَۃُ فِی الْمَنَامِ مَا یَرَی الرَّجُلُ؟ فَقَالَ لَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا رَأَتِ الْمَرْأَۃُ ذَالِکَ وَأَنْزَلَتْ فَلْتَغْتَسِلْ)) (مسند أحمد: ۵۶۳۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مرو ی ہے کہ سیدہ ام سلیم ؓ، جو کہ سیدنا انس بن مالک ؓ کی والدہ تھیں، نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو کچھ مرد خواب میں دیکھتا ہے اور اگر وہی کچھ عورت دیکھے تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب یہ چیز دیکھے اور اسے انزال بھی ہو تو وہ غسل کرے۔
Takhreej
(۸۵۲) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۵۶۳۶)
852
Sahih
احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
۔ (۸۵۳)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ أَنَّ أُمَّ سُلَیْمٍ سَأَلَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ امْرَأَۃٍ تَرٰی فِی مَنَامِہَا مَا یَرَی الرَّجُلُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ رَأَتْ ذَالِکَ مِنْکُنَّ فَأَنْزَلَتْ فَلْتَغْتَسِلْ۔)) قَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ: أَوَ یَکُونُ ذَالِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، مَائُ الرَّجُلِ غَلِیْظٌ أَبْیَضُ وَمَائُ الْمَرْأَۃِ أَصْفَرُ رَقِیْقٌ، فَأَیُّہَا سَبَقَ أَوْ عَلَا أَشْبَھَہُ الْوَلَدُ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۲۴۷)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیمؓ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا، جو اپنے خواب میں وہ کچھ دیکھتی ہے، جو مرد دیکھتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی عورت اس طرح کا خواب دیکھے اور پھر اسے انزال بھی ہو جائے تو وہ غسل کرے۔ سیدہ ام سلمہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورت کے ساتھ بھی ایسے ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، مرد کا پانی سفید اور گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد اور پتلا ہوتاہے، ان میں سے جو سبقت لے جاتا ہے، اسی سے بچے کی مشابہت ہو جاتی ہے۔
Takhreej
(۸۵۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، وأخرج الشطر الاول منہ مسلم: ۳۱۰ ، وأخرجہ ابن ماجہ: ۶۰۱، وانظر الحدیث رقم (۸۴۸) وما بعدہ مما روی عن ام سلیم (انظر: ۱۲۲۲۲)
853
Sahih
احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
۔ (۸۵۴)۔عَنْ عُـرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّ امْرَأۃً قَالَتْ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ہَلْ تَغْتَسِلُ الْمَرْأَۃُ اِذَا احْتَلَمَتْ وَأَبْصَرَتِ الْمَائَ؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ۔)) فَقَالَتْ لَہَا عَائِشَۃُ: تَرِبَتْ یَدَاکِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((دَعِیْہَا، وَہَلْ یَکُونُ الشَّبَہُ اِلَّا مِنْ قِبَلِ ذَالِکَ، اِذَا عَلَا مَاؤُہَا مَائَ الرَّجُلِ أَشْبَہَ أَخَوَالَہُ، وَاِذَا عَلَا مَائُ الرَّجُلِ مَائَ ہَا أَشْبَہَہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۱۱۷)
سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوال کیا: جب عورت کو احتلام ہو جائے اور وہ پانی بھی دیکھ لے، تو کیا وہ غسل کرے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ سیدہ عائشہؓ نے اس خاتون سے کہا: تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے فرمایا: چھوڑ دے اس عورت کو، (یہ صحیح کہہ رہی ہے) اسی وجہ سے تو مشابہت ہوتی ہے، جب عورت کا مادۂ منویہ مرد کے پانی پر غالب آجائے تو بچہ ماموؤں کے مشابہ ہو جاتا ہے اور جب مرد کا مادۂ منویہ عورت کے پانی پر غالب آ جائے تو بچے کی مشابہت اس سے ہو جاتی ہے۔
Takhreej
(۸۵۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۱۴(انظر: ۲۴۶۱۰)
854
Sahih
احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
۔ (۸۵۵)۔عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ خَوْلَۃَ بِنْتِ حَکِیْمٍؓ أَ نَّہَا سَأَلَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْمَرْأَۃِ تَرٰی فِی مَنَامِہَا مَا یَرَی الرَّجُلُ، فَقَالَ: ((لَیْسَ عَلَیْہَا غُسْلٌ حَتّٰی یَنْزِلَ الْمَائُ کَمَا أَنَّ الرَّجُلَ لَیْسَ عَلَیْہِ غُسْلٌ حَتّٰی یُنْزِلَ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۸۵۵)
سیدہ خولَہُ بنت حکیمؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا جو خواب میں وہی چیز دیکھتی ہے، جو مرد دیکھتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تک پانی کانزول نہیں ہو گا، اس پر کوئی غسل نہیں ہو گا، جیسے مرد پر اس وقت تک غسل نہیں ہوتا، جب تک اسے انزال نہ ہو۔
Takhreej
(۸۵۵) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۶۰۲، النسائی: ۱/ ۱۱۵(انظر: ۲۷۳۱۲)
855
Sahih
احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
۔ (۸۵۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ)۔ قَالَ: اِنَّ خَوْلَۃَ بِنْتَ حَکِیْمٍ السُّلَمِیَّۃَ وَہُوَ اِحْدٰی خَالَاتِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَأَلَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْمَرْأَۃِ تَحْتَلِمُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لِتَغْتَسِلْ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۸۵۶)
۔ (دوسری سند) سیدہ خولہ بن حکیم سُلَمِیّہؓ، جو کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی ایک خالہ تھیں، نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا، جسے احتلام ہو جائے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ غسل کرے گی۔
Takhreej
(۸۵۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مرد اور عورت دونوں کو احتلام ہو سکتا ہے اور اس کی وجہ سے جنابت والا غسل واجب ہو جاتاہے۔ احتلام کے لیے خواب کا آنا یا نہ آنا معتبر نہیں ہے، بلکہ کپڑے یا جسم پر تری یا داغ کا ہونا معتبر ہے، جب کسی کو نیند کے بعد اپنے جسم یا کپڑے پر احتلام کے اثرات نظر آ جائیں گے تو وہ غسلِ جنابت کرے گا، خواب کا آنا اس کے ذہن میں ہو یا نہ ہو۔ اسی طرح اگر کسی کو اس قسم کا خواب تو آتا ہے، لیکن جسم یا کپڑے پر کوئی نشان دکھائی نہیں دیتا تو غسل فرض نہیں ہو گا۔
856
Sahih
ان لوگون کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ جنابت والا قرآن مجید کی تلاوت نہ کرے
۔ (۸۵۷)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَلَمَۃَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍؓ أَنَا وَرَجُلَانِ، رَجُلٌ مِنْ قَوْمِی وَرَجُلٌ مِنْ بَنِیْ أَسَدٍ أَحْسِبُ، فَبَعَثَہُمَا وَجْہًا وَقَالَ: أَمَا اِنَّکُمَا عِلْجَانِ فَعَالِجَا عَنْ دِیْنِکُمَا، ثُمَّ دَخَلَ الْمَخْرَجَ فَقَضٰی حَاجَتَہُ ثُمَّ خَرَجَ فَأَخَذَ حَفْنَۃً مِن مَّائٍ فَتَمَسَّحَ بِہَا ثُمَّ جَعَلَ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ، قَالَ: فَکَأَنَّہُ رَآنَا أَنْکَرْنَا ذَالِکَ، ثُمَّ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْضِیْ حَاجَتَہُ ثُمَّ یَخْرُجُ فَیَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَیَأکُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ وَلَم یَکُنْ یَحْجُبُہُ عَنِ الْقُرْآنِ شَیْئٌ لَیْسَ الْجَنَابَۃَ۔ (مسند أحمد: ۸۴۰)
عبد اللہ بن سلمہ کہتے ہیں: میں اور دو آدمی، ہم سب سیدنا علیؓ کے پاس گئے، ایک آدمی میرے قوم سے تھا اور میرے خیال کے مطابق دوسرا بنو اسد سے تھا، سیدنا علی ؓ نے ان کو ایک طرف بھیج دیااور ان سے کہا: تم دونوں قوی آدمی ہو، اس لیے میں تم کو جس کام کی طرف بھیج رہا ہوں، اس میں اچھی طرح محنت کرنا، پھر وہ قضائے حاجت کے لیے ایک جگہ میں گئے، قضائے حاجت کی، پھر وہاں سے نکلے اور پانی کا ایک چلّو لیا اور اس سے ہاتھ دھوئے اور پھر قرآن مجید کی تلاوت شروع کر دی۔ جب انھوں نے دیکھا کہ ہم لوگ ان کی اس کاروائی کو صحیح نہیں سمجھ رہے تو انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بھی قضائے حاجت کر کے قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے اورہمارے ساتھ گوشت کھاتے تھے اور جنابت کے علاوہ کوئی چیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے قرآن مجید سے مانع نہیں ہوتی تھی۔
Takhreej
(۸۵۷) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۲۲۹، وابن ماجہ: ۵۹۴، والنسائی: ۱/ ۱۴۴، والترمذی: ۱۴۶ (انظر: ۸۴۰)
Explanation
فوائد:… ہم نے فَتَمَسَّحَ بِہَا کے معانی ہاتھ دھونے کے کیے ہیں، کیونکہ دارقطنی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَغَسَلَ کَفَّیْہِ
857
Sahih
ان لوگون کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ جنابت والا قرآن مجید کی تلاوت نہ کرے
۔ (۸۵۸)۔عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ مَالَمْ یَکُنْ جُنُبًا۔ (مسند أحمد: ۱۱۲۳)
سیدنا علی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمیں قرآن مجید پڑھاتے تھے، الّا یہ کہ جنابت کی حالت میں ہوتے۔
Takhreej
(۸۵۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
858
Sahih
ان لوگون کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ جنابت والا قرآن مجید کی تلاوت نہ کرے
۔ (۸۵۹)۔عَنْ أَبِی الْغَرِیْفِ قَالَ: أُتِیَ عَلِیٌّؓ بِوَضُوْئٍ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْہَہُ ثَـلَاثًا وَغَسَلَ یَدَیْہِ وَذِرَاعَیْہِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأسِہِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ہٰکَذَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ ثُمَّ قَرَأَ شَیْئًا مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ قَالَ: ((ھٰذَا لِمَنْ لَیْسَ بِجُنُبٍ، فَأَمَّا الْجُنُبُ فَلَا وَلَا آیَۃً۔)) (مسند أحمد: ۸۷۲)
ابو غریف کہتے ہیں: سیدنا علی ؓ کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، انھوں نے تین تین بار کلی اور ناک میں پانی چڑھایا، تین دفعہ چہرہ دھویا، تین مرتبہ ہاتھوں اور بازوؤں کو دھویا، پھر اپنے سرکا مسح کیا اور پھر پاؤں کو دھویا۔ پھر کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے قرآن مجید کی کچھ تلاوت کرنے کے بعد فرمایا: وہ بندہ یہ تلاوت کر سکتا ہے، جو جنبی نہ ہو، رہا مسئلہ جنابت والے آدمی کا تو وہ تلاوت نہیں کر سکتا ہے، ایک آیت بھی نہیں پڑھ سکتا۔
Takhreej
(۸۵۹) تخریج: قال الالبانی: ھذا صحیح موقوفا، لا مرفوعا (ارواء الغلیل:۲/۲۴۱)۔ أخرجہ ابویعلی: ۳۶۵ (انظر: ۸۷۲)
Explanation
فوائد:… اس باب کی مرفوع احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جنابت کی حالت میں قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اس عمل کو استحباب پر محمول کریں گے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے کسی حالت میں کوئی کام نہ کرنے سے حرمت یا ممانعت ثابت نہیں ہوتی۔ ہمیں یہ نظریہ راجح معلوم ہوتا ہے کہ جنبی اور کسی بھی غیر طاہر شخص کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ قرآن مجید کی تلاوت اور ذکرِ الٰہی کے لیے وضو کرے، جہاں تک مسئلہ جواز کا ہے تو ایسے افراد کے لیے زبانی تلاوت کرنا یا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا درست ہے، دلائل مندرجہ ذیل ہیں: (۱) براء ہ اصلیہ ، یعنی جنبی اور حائضہ کے حق میں قرآن مجید کی تلاوت کو ممنوع قرار دینے پر کوئی صریح اور صحیح حدیث دلالت نہیں کرتی۔ سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ جنبی کیلئے (قرآن کی) قراء ت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ (صحیح بخاری تعلیقًا: کتاب الحیض، باب تقضی الحائض المناسک کلھا الا الطواف بالبیت) جنبی ‘ حائضہ اور نفاس والی عورت ‘ تینوں بالاتفاق اللہ تعالیٰ کا ذکر کر سکتے ہیں اور قرآن مجید بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے‘ لہٰذا وہ اس کی تلاوت کر سکتے ہیں‘ تفصیل اگلی دلیل میں ملاحظہ فرمائیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حج کے موقع پر حائضہ ہو گئیں‘ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے انہیں حکم دیا: ((فَافْعَلِیْ مَا یَفْعَلُ الْحَاجُّ غَیْرَ اَنْ لَّاتَطُوْفِیْ بِالْبَیْتِ حَتّٰی تَطْھُرِیْ۔)) … بیت اللہ کے طواف کے علاوہ آپ بھی دوسرے حاجیوں کی طرح حج کے مناسک ادا کرتی رہیں اور پاک ہونے کے بعد طواف کر لینا۔ (صحیح بخاری: ۳۰۵) قابل غور بات یہ ہے طواف کے علاوہ دوسرے مناسک بھی اذکار‘ تلبیہ اور دعاؤں پر مشتمل ہیں‘ جنہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پورا کرنے کا حکم دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ بالا حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر نے کہا: سب سے بہترین بات وہ ہے جو ابن رشید نے ابن بطال وغیرہ کی پیروی کرتے ہوئے کہی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے امام بخاری کی مرادحائضہ اور جنبی کی قراء ت کے جواز پر استدلال کرنا ہے‘ کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مناسک حج میں سے صرف طواف‘ جو کہ مخصوص نماز ہے، کو مستثنی کیا اور حج کے بقیہ اعمال ذکر‘ تلبیہ اور دعاء پر مشتمل ہیں‘ لیکن حائضہ عورت کو ان سے منع نہیں کیا گیا‘ اسی طرح جنبی آدمی ہے‘ جس کا حدث حائضہ کے حدث سے کم ہے اور اگر تلاوتِ قرآن کو اللہ کا ذکر ہونے کی بناء ممنوع قرار دیا جائے تو اس میں اور مذکورہ بالا اذکار میں کوئی فرق نہیںاور اگر تلاوت کو تعبدی طور پر ممنوع سمجھا جائے تو اس کیلئے دلیل کی ضرورت ہے اورمصنف (امام بخاری) کے نزدیک اس مسئلہ کے بارے وارد احادیث میں سے کوئی حدیث بھی صحیح نہیں۔ (فتح الباری: حدیث ۳۰۵ کے تحت) جنابت والا آدمی قرآن مجید کو چھو نہیں سکتا، اس کی دلیل درج ذیل ہے: سیدنا عبداللہ بن ابو بکرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے جو خط عمرو بن حزم کو لکھا تھا‘ اس میں یہ الفاظ بھی تھے: ((لَایَمَسُّ الْقُرْآنَ اِلَّا طَاھِرٌ۔)) … قرآن مجید کو صرف طاہر ہی پکڑ سکتا ہے۔ ( مؤطا امام مالک: ۴۱۹، دارقطنی: ۱/۱۲۲، البیہقی: ۱/۸۷) جن روایات میں جنبی اور حائضہ کو قرآن مجید کی تلاوت سے منع کیا گیا‘ ان میں سے واضح ترین مندرجہ ذیل چار ضعیف احادیث ہیں: (۱)سیدنا جابر ؓسے روایت ہے کہ نبیِ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ((لَاتَقْرَأُ الْحَائِضُ وَلَاالنُّفَسَائُ مِنَ الْقُرْآَنِ شَیْئًا۔)) … حیض اور نفاس والی عورتیں قرآن سے کچھ نہ پڑھیں۔ (دارقطنی: ۲/۸۷، حلیۃ الاولیاء: ۴/۲۲) اس حدیث کی سند میں محمد بن فضل متروک راوی ہے، حافظ ابن حجر نے تقریب میں کہا: محدثین نے اس کو کذاب کہا ہے۔ (۲)سیدنا عبدا للہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ((لَا تَقْرَأُ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ شَیْئًا مِنَ الْقُرْآنِ۔)) … حائضہ اور جنبی قرآن سے کچھ نہ پڑھیں۔ (ترمذی: ۱۳۱، ابن ماجہ: ۵۹۵) اس کی سند میں اسماعیل بن عیاش ہے‘ جو حجازیوں سے روایت کرنے میں ضعیف ہے اور یہ حدیث حجازیوں سے ہے۔ (۳)سیدنا علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ((اِقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلٰی کُلِّ حَالٍ مَا لَمْ تَکُنْ جُنُبًا۔)) … سوائے حالت ِ جنابت کے آپ ہر حال میں قرآن پڑھ سکتے ہیں۔ (ابن عدی: ۳/۹۲۵) اس کی سند میں خارجہ بن مصعب ہے‘ جو کہ متروک ہے اور جھوٹے راویوں سے تدلیس کرتا ہے۔ (۴)سیدنا علی ؓکہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا‘ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضوء کیا، پھر قرآن کا کچھ حصہ تلاوت کیا اور فرمایا: ((ھٰکَذَا لِمَنْ لَیْسَ بِجُنُبٍ‘ فَاَمَّا الْجُنُبُ فَلَا وَلَا آیَۃً۔)) … یہ طریقہ کار اس شخص کیلئے ہے جو جنبی نہیں‘ رہا مسئلہ جنبی کا تو وہ ایک آیت بھی تلاوت نہیں کر سکتا۔ (مسند احمد: ۱/۱۱۰، مسند ابو یعلی: ۳۶۵) اس روایت کو عائذ بن حبیب نے عامر بن سمطہ سے مرفوعا بیان کیا‘ جبکہ درج ذیل اوثق رواۃ نے عامر سے سیدنا علیؓ پر موقوفا روایت کیا ہے: یزید بن ہارون‘ امام ثوری‘ خالد بن عبدا للہ‘ حسن بن صالح بن حی‘ شریک بن عبداللہ‘ اسحاق بن ابراہیم۔ یہ روایت اس باب میں بھی موجود ہے، زیادہ وضاحت کی وجہ سے لکھ دی گئی ہے۔ امام دارقطنی نے موقوفا روایت کرنے کے بعد کہا کہ یہ سیدنا علیؓ سے صحیح ہے۔ (دارقطنی:۱/۱۱۸) جبکہ عبدالرزاق نے کہا کہ عبد الرزاق بھی اسی (اثر) کو لے گا۔ (مصنف عبد الرزاق: ۱/۳۳۶) مزید دیکھیں: ارواء الغلیل: ۲/۲۴۳
859
Sahih
ان لوگون کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ جنابت والا قرآن مجید کی تلاوت نہ کرے
۔ (۸۶۰)۔ عَنْ عَلِیٍّؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَۃُ بَیْتًا فِیْہِ جُنُبٌ وَلَا صُوْرَۃٌ وَلَا کَلْبٌ۔)) (مسند أحمد: ۶۳۲)
سیدنا علیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس میں جنابت والا آدمی، تصویر اور کتا ہو، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
Takhreej
(۸۶۰) تخریج: حسن لغیرہ دون ذکر الجنب۔ أخرجہ ابوداود: ۲۲۷، ۴۱۵۲، والنسائی: ۱/ ۱۴۱ (انظر: ۶۳۲)
Explanation
فوائد:… کتے سے مراد وہ کتا ہے، جو رکھوالی اور شکار کے لیے نہ رکھا گیا ہو، آج کل اکثر دیہاتی لوگ لڑانے کے لیے اور اکثر شہری لوگ صرف اپنا شوق پورا کرنے کے لیے کتے پالتے ہیں، جبکہ یہ عادت انتہائی قابل مذمت ہے، سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ((مَنِ اقْتَنٰی کَلْبًا لَیْسَ بِکَلْبِ مَاشِیَۃٍ اَوْ ضَارِیَۃٍ نَقَصَ کُلَّ یَوْمٍ مِنْ عَمَلِہٖ قِیْرَاطَانِ۔)) … جس نے ایسا کتا پالا جو جانوروں (کی رکھوالی) یا شکار کے لیے نہ ہو، ہر روز اس کے عمل سے دو قیراط اجر کم ہو جاتا ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) جنازے کے ثواب والی احادیث سے قیراط کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ: وہ احد پہاڑ کے برابر ہے۔
860
Sahih
غسل کے وقت پردہ کرنا
۔ (۸۶۱)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ أَمَرَ عَلِیًّا فَوَضَعَ لَہُ غُسْلًا ثُمَّ أَعْطَاہُ ثَوْبًا فَقَالَ: ((اُسْتُرْنِیْ وَوَلِّنِیْ ظَہْرَکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۹۱۱)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا علی ؓ کو حکم دیا، پس انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے غسل کا پانی رکھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو ایک کپڑا دے کر فرمایا: اس کے ساتھ مجھ پر پردہ کرو اور اپنی پیٹھ میری طرف کر لو۔
Takhreej
(۸۶۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، شریک سییء الحفظ، وسماک فی روایتہ عن عکرمۃ اضطراب (انظر: ۲۹۱۱)
861
Zaeef
غسل کے وقت پردہ کرنا
۔ (۸۶۲)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ مُوسَی ابْنَ عِمْرَانَ کَانَ اِذَا أَرَادَ أَنْ یَدْخُلَ الْمَائَ لَمْ یُلْقِ ثَوْبَہُ حَتّٰی یُوَارِیَ عَوْرَتَہُ بِالْمَائِ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۸۰۰)
سیدنا انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک حضرت موسی بن عمرانؑجب پانی میں داخل ہونے کا ارادہ فرماتے تو اس وقت تک کپڑا نہیں اتارتے تھے، جب تک پردے کے مقامات کو پانی نہ چھپا لیتے تھے۔
Takhreej
(۸۶۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان (انظر: ۱۳۷۶۴)
862
Zaeef
غسل کے وقت پردہ کرنا
۔ (۸۶۳)۔عَنْ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ حَیِِیُّ سِتِّیْرٌ، فَاِذَا أَرَادَ أَحَدُکُم أَنْ یَغْتَسِلَ فَلْیَتَوَارَ بِشَیْئٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۱۳۳)
سیدنا یعلی بن امیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ بہت زیادہ حیادار اور پردے والا ہے، اس لیے جب کوئی آدمی غسل کرنے لگے تو وہ کسی چیز کے ساتھ چھپ جایا کرے۔
Takhreej
(۸۶۳) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۴۰۱۳، والنسائی: ۱/ ۲۰۰ (انظر: ۱۷۹۷۰)
Explanation
فوائد:… ابوداود اور نسائی کی روایت میں یہ اضافہ ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک آدمی کو کھلی جگہ میں ازار کے بغیر نہاتے ہوئے دیکھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ منبر پر چڑھے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ حیادار…۔
863
Sahih
غسل کے وقت پردہ کرنا
۔ (۸۶۴)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُحِبُّ الْحَیَائَ وَالسِّتْرَ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۱۳۱)
سیدنا یعلی بن امیہؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ حیا اور پردے کو پسند کرتا ہے۔
Takhreej
(۸۶۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ ، عطاء لم یسمع من یعلی، وابنُ ابی لیلی ضعیف، وانظر الحدیث السابق (انظر: ۱۷۹۶۸)
864
Zaeef
غسل کے وقت پردہ کرنا
۔ (۸۶۵)۔عَنْ أَبِیْ مُرَّۃَ مَوْلٰی عَقِیلِ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ عَنْ أُمِّ ہَانِیئٍ (بِنْتِ أَبِیْ طَالِبٍ)ؓ أَنَّہَا ذَہَبَتْ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْفَتْحِ قَالَتْ: فَوَجَدتُّہُ یَغْتَسِلُ وَفَاطِمَۃُ تَسْتُرُہُ بِثَوْبٍ، (الحدیث) سَیَأْتِی بِتَمِامِہِ فِی غَزْوَۃِ فَتْحِ مَکَّۃَ اِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔ (مسند أحمد: ۲۷۹۲۳)
سیدہ ام ہانیؓ سے مروی ہے کہ وہ فتح مکہ والے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف گئیں، وہ کہتی ہیں: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اس حالت میں پایا کہ آپ غسل فرما رہے تھے اور سیدہ فاطمہ ؓ ایک کپڑے کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا پردہ کر رہی تھیں، …۔ (یہ پوری حدیث غَزْوَۃُ فَتْحِ مَکَّۃَ میں آئے گی۔)
Takhreej
(۸۶۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۸۰، ۳۵۷، ۳۱۷۱، ۶۱۵۸، ومسلم: ۳۳۶ (انظر: ۲۷۳۷۹)
865
Sahih
غسل کے وقت پردہ کرنا
۔ (۸۶۶)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((بَیْنَمَا أَیُّوْبُ یَغْتَسِلُ عُرْیَانًا خَرَّ عَلَیْہِ جَرَادٌ مِنْ ذَہَبٍ، فَجَعَلَ أَیُّوْبُ یَحْثِیْ فِی ثَوْبِہِ، فَنَادَاہُ رَبُّہُ یَا أَیُّوْبُ! أَلَمْ أَکُنْ أَغْنَیْتُکَ عَمَّا تَرٰی؟ قَالَ: بَلٰی یَا رَبِّ، وَلٰکِنْ لَا غِنًی بِیْ عَنْ بَرَکَتِکَ۔)) (مسند أحمد: ۸۱۴۴)
سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: حضرت ایوب ؑ برہنہ حالت میں غسل کر رہے تھے کہ ان پر سونے کی ٹڈیاں گرنے لگیں، حضرت ایوبؑ ان کو اپنے کپڑے میں اکٹھا کرنے لگ گئے، اس کے ربّ نے اس کو یوں آواز دی: اے ایوب! کیا میں نے تجھے اس چیز سے غنی نہیں کیا، جو تجھے نظر آ رہی ہے؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، اے میرے رب! لیکن تیری برکت سے کوئی بے پرواہی نہیں ہے۔
Takhreej
(۸۶۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۷۹، ۳۳۹۱(انظر: ۸۱۵۹)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نہاتے وقت پردے کا اہتمام کرنا چاہیے، اگر دیکھنے والا کوئی آدمی ہو تو یہ پردہ فرض ہے اور اگر کوئی بھی نہ ہو تو مستحب ہے۔
866
Sahih
غسل اور وضو کے پانی کی مقدار کا بیان
۔ (۸۶۷)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: کَمْ یَکْفِیْنِیْ مِنَ الْوُضُوئِ؟ قَالَ: مُدٌّ، قَالَ: کَمْ یَکْفِینِیْ لِلْغُسْلِ؟ قَالَ: صَاعٌ، قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: لَا یَکْفِیْنِیْ، قَالَ: لَا أُمَّ لَکَ قَدْ کَفٰی مَنْ ہُوَ خَیْرٌ مِنْکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۲۶۲۸)
سیدنا عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: مجھے وضو کے لیے کتنا پانی کفایت کرے گا؟ انھوں نے کہا: ایک مُدّ، اس نے کہا: غسل کے لیے مجھے کتنا پانی کفایت کرے گا؟ انھوں نے کہا: ایک صاع، یہ سن کر اس نے کہا: یہ مقدار تو مجھے کفایت نہیں کرے گی، انھوں نے کہا: تیری ماں ہی نہ ہو، یہ مقدار اس ہستی کو تو کفایت کرتی تھی، جو تجھ سے بہتر ہے، یعنی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌۔
Takhreej
(۸۶۷) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الطبرانی: ۱۱۶۴۶، والبزار: ۲۵۵ (انظر: ۲۶۲۸)
867
Sahih
غسل اور وضو کے پانی کی مقدار کا بیان
۔ (۸۶۸)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ بِاِنَائٍ یَکُونُ رِطْلَیْنِ وَیَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ۔ (مسند أحمد: ۱۲۸۷۴)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ دو رطل کے بقدربرتن سے وضو کرتے تھے اور ایک صاع پانی سے غسل کرتے تھے۔
Takhreej
(۸۶۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، شریک النخعی سییء الحفظ۔ أخرجہ ابوداود: ۹۵، والترمذی: ۶۰۹ (انظر: ۱۲۸۴۳)
868
Zaeef

Chapters

31
01
بیٹھنے والے کی نیند کے بارے میں
4 Hadith
02
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نیند ناقضِ وضو نہیں تھی، اگرچہ وہ لیٹ کر ہوتی
4 Hadith
03
لیٹ کر سو جانے والے کا وضو
3 Hadith
04
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان
3 Hadith
05
ذکر کو چھونے سے وضو کا ٹوٹ جانا، اس کے بارے میں سیدہ بسرہ بنت صفوانؓ کی حدیث کا بیان
4 Hadith
06
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کا نہ ٹوٹنا، اس رائے کا بیان
3 Hadith
07
عورت کو چھونے اور اس کا بوسہ لینے سے وضو کرنے کا بیان
3 Hadith
08
قے، ڈکار اور نکسیر سے وضو کرنے کا بیان
2 Hadith
09
اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا بیان
4 Hadith
10
آگ سے پکی ہوئی چیز سے وضو کرنے کا بیان
5 Hadith
11
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بعض بیویوں سے اس موضوع سے متعلقہ بیان کی گئی مرویات کا بیان
5 Hadith
12
آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان
24 Hadith
13
غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہو جانے کے قائلین کا بیان
5 Hadith
14
یہ رخصت تھی، پھر منسوخ ہو گئی
3 Hadith
15
ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
6 Hadith
16
احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
10 Hadith
17
ان لوگون کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ جنابت والا قرآن مجید کی تلاوت نہ کرے
4 Hadith
18
غسل کے وقت پردہ کرنا
6 Hadith
19
غسل اور وضو کے پانی کی مقدار کا بیان
6 Hadith
20
غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
10 Hadith
21
غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
9 Hadith
22
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
5 Hadith
23
غسلِ جنابت کے بعد خشک رہ جانے والی جگہ کو پالینے والے کا بیان
1 Hadith
24
ایک غسل میں یا متعدد غسلوں میں ایک سے زائد بیویوں کے پاس جانے والے کا بیان
2 Hadith
25
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
6 Hadith
26
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
3 Hadith
27
رات کے پچھلے حصے تک غسلِ جنابت کو مؤخر کرنا
4 Hadith
28
مسنون غسل کی اقسام ایک سے زائد غسل کی وہ اقسام، جن کا احادیث میں اکٹھا ذکر کیا گیا
2 Hadith
29
میت کو غسل دینے سے غسل کرنے اور اس کو اٹھانے سے وضو کرنے کا بیان
4 Hadith
30
مسلمان ہونے والے کافر سے غسل کرنے کا مطالبہ کرنے کا بیان
3 Hadith
31
حمام میں داخل ہونے کا حکم
8 Hadith
No chapter matched that.