سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیم زوجہ سیدنا ابو طلحہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی عورت یہ خواب دیکھتی ہے کہ اس کا خاوند اس سے مجامعت کر رہا ہے، تو کیا اس پر غسل واجب ہو جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، جب وہ منی کا پانی دیکھ لے گی۔ سیدہ ام سلمہؓ نے کہا: کیا عورت کا پانی بھی نکلتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے، بچے کی ماموؤں کے ساتھ مشابہت عورت کے اسی پانی کی وجہ سے ہوتی ہے، دو نطفوں میں سے جو نطفہ رحم کی طرف سبقت لے جاتا ہے، وہی مشابہت پر غالب آ جاتا ہے۔ حجاج کی حدیث میں ہے: تیری پیشانی خاک آلود ہو۔
۔ (دوسری سند)سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیمؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! بیشک اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا، تو کیا جب عورت کو احتلام ہو جاتا ہے، تو اس پر غسل ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، جب وہ پانی (منی) دیکھ لے۔
۔ (تیسری سند) سیدہ ام سلمہؓ کہتی ہیں: سیدہ ام سلیمؓ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آئی اور اس عورت کے بارے میں سوال کیا، جو خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے، جو مرد دیکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب وہ پانی دیکھ لے، تو غسل کرے۔ میں نے کہا: تو نے تو عورتوں کو رسوا کر دیا ہے، بھلا کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے، تو پھر عورت کا بچہ اس سے مشابہ کیسے ہو جاتا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مرو ی ہے کہ سیدہ ام سلیم ؓ، جو کہ سیدنا انس بن مالک ؓ کی والدہ تھیں، نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو کچھ مرد خواب میں دیکھتا ہے اور اگر وہی کچھ عورت دیکھے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب یہ چیز دیکھے اور اسے انزال بھی ہو تو وہ غسل کرے۔
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیمؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا، جو اپنے خواب میں وہ کچھ دیکھتی ہے، جو مرد دیکھتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی عورت اس طرح کا خواب دیکھے اور پھر اسے انزال بھی ہو جائے تو وہ غسل کرے۔ سیدہ ام سلمہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورت کے ساتھ بھی ایسے ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، مرد کا پانی سفید اور گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد اور پتلا ہوتاہے، ان میں سے جو سبقت لے جاتا ہے، اسی سے بچے کی مشابہت ہو جاتی ہے۔
Takhreej
(۸۵۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، وأخرج الشطر الاول منہ مسلم: ۳۱۰ ، وأخرجہ ابن ماجہ: ۶۰۱، وانظر الحدیث رقم (۸۴۸) وما بعدہ مما روی عن ام سلیم (انظر: ۱۲۲۲۲)
سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا: جب عورت کو احتلام ہو جائے اور وہ پانی بھی دیکھ لے، تو کیا وہ غسل کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ سیدہ عائشہؓ نے اس خاتون سے کہا: تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: چھوڑ دے اس عورت کو، (یہ صحیح کہہ رہی ہے) اسی وجہ سے تو مشابہت ہوتی ہے، جب عورت کا مادۂ منویہ مرد کے پانی پر غالب آجائے تو بچہ ماموؤں کے مشابہ ہو جاتا ہے اور جب مرد کا مادۂ منویہ عورت کے پانی پر غالب آ جائے تو بچے کی مشابہت اس سے ہو جاتی ہے۔
سیدہ خولَہُ بنت حکیمؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا جو خواب میں وہی چیز دیکھتی ہے، جو مرد دیکھتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک پانی کانزول نہیں ہو گا، اس پر کوئی غسل نہیں ہو گا، جیسے مرد پر اس وقت تک غسل نہیں ہوتا، جب تک اسے انزال نہ ہو۔
۔ (دوسری سند) سیدہ خولہ بن حکیم سُلَمِیّہؓ، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک خالہ تھیں، نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا، جسے احتلام ہو جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ غسل کرے گی۔
Takhreej
(۸۵۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مرد اور عورت دونوں کو احتلام ہو سکتا ہے اور اس کی وجہ سے جنابت والا غسل واجب ہو جاتاہے۔ احتلام کے لیے خواب کا آنا یا نہ آنا معتبر نہیں ہے، بلکہ کپڑے یا جسم پر تری یا داغ کا ہونا معتبر ہے، جب کسی کو نیند کے بعد اپنے جسم یا کپڑے پر احتلام کے اثرات نظر آ جائیں گے تو وہ غسلِ جنابت کرے گا، خواب کا آنا اس کے ذہن میں ہو یا نہ ہو۔ اسی طرح اگر کسی کو اس قسم کا خواب تو آتا ہے، لیکن جسم یا کپڑے پر کوئی نشان دکھائی نہیں دیتا تو غسل فرض نہیں ہو گا۔
عبد اللہ بن سلمہ کہتے ہیں: میں اور دو آدمی، ہم سب سیدنا علیؓ کے پاس گئے، ایک آدمی میرے قوم سے تھا اور میرے خیال کے مطابق دوسرا بنو اسد سے تھا، سیدنا علی ؓ نے ان کو ایک طرف بھیج دیااور ان سے کہا: تم دونوں قوی آدمی ہو، اس لیے میں تم کو جس کام کی طرف بھیج رہا ہوں، اس میں اچھی طرح محنت کرنا، پھر وہ قضائے حاجت کے لیے ایک جگہ میں گئے، قضائے حاجت کی، پھر وہاں سے نکلے اور پانی کا ایک چلّو لیا اور اس سے ہاتھ دھوئے اور پھر قرآن مجید کی تلاوت شروع کر دی۔ جب انھوں نے دیکھا کہ ہم لوگ ان کی اس کاروائی کو صحیح نہیں سمجھ رہے تو انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی قضائے حاجت کر کے قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے اورہمارے ساتھ گوشت کھاتے تھے اور جنابت کے علاوہ کوئی چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے قرآن مجید سے مانع نہیں ہوتی تھی۔
ابو غریف کہتے ہیں: سیدنا علی ؓ کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، انھوں نے تین تین بار کلی اور ناک میں پانی چڑھایا، تین دفعہ چہرہ دھویا، تین مرتبہ ہاتھوں اور بازوؤں کو دھویا، پھر اپنے سرکا مسح کیا اور پھر پاؤں کو دھویا۔ پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن مجید کی کچھ تلاوت کرنے کے بعد فرمایا: وہ بندہ یہ تلاوت کر سکتا ہے، جو جنبی نہ ہو، رہا مسئلہ جنابت والے آدمی کا تو وہ تلاوت نہیں کر سکتا ہے، ایک آیت بھی نہیں پڑھ سکتا۔
Takhreej
(۸۵۹) تخریج: قال الالبانی: ھذا صحیح موقوفا، لا مرفوعا (ارواء الغلیل:۲/۲۴۱)۔ أخرجہ ابویعلی: ۳۶۵ (انظر: ۸۷۲)
Explanation
فوائد:… اس باب کی مرفوع احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنابت کی حالت میں قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس عمل کو استحباب پر محمول کریں گے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی حالت میں کوئی کام نہ کرنے سے حرمت یا ممانعت ثابت نہیں ہوتی۔ ہمیں یہ نظریہ راجح معلوم ہوتا ہے کہ جنبی اور کسی بھی غیر طاہر شخص کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ قرآن مجید کی تلاوت اور ذکرِ الٰہی کے لیے وضو کرے، جہاں تک مسئلہ جواز کا ہے تو ایسے افراد کے لیے زبانی تلاوت کرنا یا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا درست ہے، دلائل مندرجہ ذیل ہیں:
(۱) براء ہ اصلیہ ، یعنی جنبی اور حائضہ کے حق میں قرآن مجید کی تلاوت کو ممنوع قرار دینے پر کوئی صریح اور صحیح حدیث دلالت نہیں کرتی۔ سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ جنبی کیلئے (قرآن کی) قراء ت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ (صحیح بخاری تعلیقًا: کتاب الحیض، باب تقضی الحائض المناسک کلھا الا الطواف بالبیت) جنبی ‘ حائضہ اور نفاس والی عورت ‘ تینوں بالاتفاق اللہ تعالیٰ کا ذکر کر سکتے ہیں اور قرآن مجید بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے‘ لہٰذا وہ اس کی تلاوت کر سکتے ہیں‘ تفصیل اگلی دلیل میں ملاحظہ فرمائیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حج کے موقع پر حائضہ ہو گئیں‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا: ((فَافْعَلِیْ مَا یَفْعَلُ الْحَاجُّ غَیْرَ اَنْ لَّاتَطُوْفِیْ بِالْبَیْتِ حَتّٰی تَطْھُرِیْ۔)) … بیت اللہ کے طواف کے علاوہ آپ بھی دوسرے حاجیوں کی طرح حج کے مناسک ادا کرتی رہیں اور پاک ہونے کے بعد طواف کر لینا۔ (صحیح بخاری: ۳۰۵) قابل غور بات یہ ہے طواف کے علاوہ دوسرے مناسک بھی اذکار‘ تلبیہ اور دعاؤں پر مشتمل ہیں‘ جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پورا کرنے کا حکم دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ بالا حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر نے کہا: سب سے بہترین بات وہ ہے جو ابن رشید نے ابن بطال وغیرہ کی پیروی کرتے ہوئے کہی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے امام بخاری کی مرادحائضہ اور جنبی کی قراء ت کے جواز پر استدلال کرنا ہے‘ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مناسک حج میں سے صرف طواف‘ جو کہ مخصوص نماز ہے، کو مستثنی کیا اور حج کے بقیہ اعمال ذکر‘ تلبیہ اور دعاء پر مشتمل ہیں‘ لیکن حائضہ عورت کو ان سے منع نہیں کیا گیا‘ اسی طرح جنبی آدمی ہے‘ جس کا حدث حائضہ کے حدث سے کم ہے اور اگر تلاوتِ قرآن کو اللہ کا ذکر ہونے کی بناء ممنوع قرار دیا جائے تو اس میں اور مذکورہ بالا اذکار میں کوئی فرق نہیںاور اگر تلاوت کو تعبدی طور پر ممنوع سمجھا جائے تو اس کیلئے دلیل کی ضرورت ہے اورمصنف (امام بخاری) کے نزدیک اس مسئلہ کے بارے وارد احادیث میں سے کوئی حدیث بھی صحیح نہیں۔ (فتح الباری: حدیث ۳۰۵ کے تحت) جنابت والا آدمی قرآن مجید کو چھو نہیں سکتا، اس کی دلیل درج ذیل ہے: سیدنا عبداللہ بن ابو بکرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو خط عمرو بن حزم کو لکھا تھا‘ اس میں یہ الفاظ بھی تھے: ((لَایَمَسُّ الْقُرْآنَ اِلَّا طَاھِرٌ۔)) … قرآن مجید کو صرف طاہر ہی پکڑ سکتا ہے۔ ( مؤطا امام مالک: ۴۱۹، دارقطنی: ۱/۱۲۲، البیہقی: ۱/۸۷) جن روایات میں جنبی اور حائضہ کو قرآن مجید کی تلاوت سے منع کیا گیا‘ ان میں سے واضح ترین مندرجہ ذیل چار ضعیف احادیث ہیں:
(۱)سیدنا جابر ؓسے روایت ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَاتَقْرَأُ الْحَائِضُ وَلَاالنُّفَسَائُ مِنَ الْقُرْآَنِ شَیْئًا۔)) … حیض اور نفاس والی عورتیں قرآن سے کچھ نہ پڑھیں۔ (دارقطنی: ۲/۸۷، حلیۃ الاولیاء: ۴/۲۲) اس حدیث کی سند میں محمد بن فضل متروک راوی ہے، حافظ ابن حجر نے تقریب میں کہا: محدثین نے اس کو کذاب کہا ہے۔
(۲)سیدنا عبدا للہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تَقْرَأُ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ شَیْئًا مِنَ الْقُرْآنِ۔)) … حائضہ اور جنبی قرآن سے کچھ نہ پڑھیں۔ (ترمذی: ۱۳۱، ابن ماجہ: ۵۹۵) اس کی سند میں اسماعیل بن عیاش ہے‘ جو حجازیوں سے روایت کرنے میں ضعیف ہے اور یہ حدیث حجازیوں سے ہے۔
(۳)سیدنا علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلٰی کُلِّ حَالٍ مَا لَمْ تَکُنْ جُنُبًا۔)) … سوائے حالت ِ جنابت کے آپ ہر حال میں قرآن پڑھ سکتے ہیں۔ (ابن عدی: ۳/۹۲۵) اس کی سند میں خارجہ بن مصعب ہے‘ جو کہ متروک ہے اور جھوٹے راویوں سے تدلیس کرتا ہے۔
(۴)سیدنا علی ؓکہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضوء کیا، پھر قرآن کا کچھ حصہ تلاوت کیا اور فرمایا: ((ھٰکَذَا لِمَنْ لَیْسَ بِجُنُبٍ‘ فَاَمَّا الْجُنُبُ فَلَا وَلَا آیَۃً۔)) … یہ طریقہ کار اس شخص کیلئے ہے جو جنبی نہیں‘ رہا مسئلہ جنبی کا تو وہ ایک آیت بھی تلاوت نہیں کر سکتا۔ (مسند احمد: ۱/۱۱۰، مسند ابو یعلی: ۳۶۵) اس روایت کو عائذ بن حبیب نے عامر بن سمطہ سے مرفوعا بیان کیا‘ جبکہ درج ذیل اوثق رواۃ نے عامر سے سیدنا علیؓ پر موقوفا روایت کیا ہے: یزید بن ہارون‘ امام ثوری‘ خالد بن عبدا للہ‘ حسن بن صالح بن حی‘ شریک بن عبداللہ‘ اسحاق بن ابراہیم۔ یہ روایت اس باب میں بھی موجود ہے، زیادہ وضاحت کی وجہ سے لکھ دی گئی ہے۔
امام دارقطنی نے موقوفا روایت کرنے کے بعد کہا کہ یہ سیدنا علیؓ سے صحیح ہے۔ (دارقطنی:۱/۱۱۸) جبکہ عبدالرزاق نے کہا کہ عبد الرزاق بھی اسی (اثر) کو لے گا۔ (مصنف عبد الرزاق: ۱/۳۳۶) مزید دیکھیں: ارواء الغلیل: ۲/۲۴۳
سیدنا علیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس میں جنابت والا آدمی، تصویر اور کتا ہو، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
Takhreej
(۸۶۰) تخریج: حسن لغیرہ دون ذکر الجنب۔ أخرجہ ابوداود: ۲۲۷، ۴۱۵۲، والنسائی: ۱/ ۱۴۱ (انظر: ۶۳۲)
Explanation
فوائد:… کتے سے مراد وہ کتا ہے، جو رکھوالی اور شکار کے لیے نہ رکھا گیا ہو، آج کل اکثر دیہاتی لوگ لڑانے کے لیے اور اکثر شہری لوگ صرف اپنا شوق پورا کرنے کے لیے کتے پالتے ہیں، جبکہ یہ عادت انتہائی قابل مذمت ہے، سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنِ اقْتَنٰی کَلْبًا لَیْسَ بِکَلْبِ مَاشِیَۃٍ اَوْ ضَارِیَۃٍ نَقَصَ کُلَّ یَوْمٍ مِنْ عَمَلِہٖ قِیْرَاطَانِ۔)) … جس نے ایسا کتا پالا جو جانوروں (کی رکھوالی) یا شکار کے لیے نہ ہو، ہر روز اس کے عمل سے دو قیراط اجر کم ہو جاتا ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) جنازے کے ثواب والی احادیث سے قیراط کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ: وہ احد پہاڑ کے برابر ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی ؓ کو حکم دیا، پس انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غسل کا پانی رکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک کپڑا دے کر فرمایا: اس کے ساتھ مجھ پر پردہ کرو اور اپنی پیٹھ میری طرف کر لو۔
سیدنا انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک حضرت موسی بن عمرانؑجب پانی میں داخل ہونے کا ارادہ فرماتے تو اس وقت تک کپڑا نہیں اتارتے تھے، جب تک پردے کے مقامات کو پانی نہ چھپا لیتے تھے۔
Takhreej
(۸۶۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان (انظر: ۱۳۷۶۴)
سیدنا یعلی بن امیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ بہت زیادہ حیادار اور پردے والا ہے، اس لیے جب کوئی آدمی غسل کرنے لگے تو وہ کسی چیز کے ساتھ چھپ جایا کرے۔
فوائد:… ابوداود اور نسائی کی روایت میں یہ اضافہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو کھلی جگہ میں ازار کے بغیر نہاتے ہوئے دیکھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر چڑھے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ حیادار…۔
سیدہ ام ہانیؓ سے مروی ہے کہ وہ فتح مکہ والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گئیں، وہ کہتی ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حالت میں پایا کہ آپ غسل فرما رہے تھے اور سیدہ فاطمہ ؓ ایک کپڑے کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پردہ کر رہی تھیں، …۔ (یہ پوری حدیث غَزْوَۃُ فَتْحِ مَکَّۃَ میں آئے گی۔)
سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت ایوب ؑ برہنہ حالت میں غسل کر رہے تھے کہ ان پر سونے کی ٹڈیاں گرنے لگیں، حضرت ایوبؑ ان کو اپنے کپڑے میں اکٹھا کرنے لگ گئے، اس کے ربّ نے اس کو یوں آواز دی: اے ایوب! کیا میں نے تجھے اس چیز سے غنی نہیں کیا، جو تجھے نظر آ رہی ہے؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، اے میرے رب! لیکن تیری برکت سے کوئی بے پرواہی نہیں ہے۔
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نہاتے وقت پردے کا اہتمام کرنا چاہیے، اگر دیکھنے والا کوئی آدمی ہو تو یہ پردہ فرض ہے اور اگر کوئی بھی نہ ہو تو مستحب ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: مجھے وضو کے لیے کتنا پانی کفایت کرے گا؟ انھوں نے کہا: ایک مُدّ، اس نے کہا: غسل کے لیے مجھے کتنا پانی کفایت کرے گا؟ انھوں نے کہا: ایک صاع، یہ سن کر اس نے کہا: یہ مقدار تو مجھے کفایت نہیں کرے گی، انھوں نے کہا: تیری ماں ہی نہ ہو، یہ مقدار اس ہستی کو تو کفایت کرتی تھی، جو تجھ سے بہتر ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔