TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 11104 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 10 of 10 in this chapter
دس ذوالحجہ کو منیٰ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطبہ کا بیان،یہ خطبہ حج والے خطبہ سے الگ ہے
۔ (۱۱۱۰۴)۔ حَدَّثَنَا یُونُسُ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْیَشْکُرِیُّ، حَدَّثَنَا شَیْخٌ کَبِیرٌ مِنْ بَنِی عُقَیْلٍیُقَالُ لَہُ: عَبْدُ الْمَجِیدِ الْعُقَیْلِیُّ، قَالَ: انْطَلَقْنَا حُجَّاجًا لَیَالِیَ خَرَجَ یَزِیدُ بْنُ الْمُہَلَّبِ، وَقَدْ ذُکِرَ لَنَا أَنَّ مَائً بِالْعَالِیَۃِ، یُقَالُ لَہُ: الزُّجَیْجُ، فَلَمَّا قَضَیْنَا مَنَاسِکَنَا جِئْنَا حَتّٰی أَتَیْنَا الزُّجَیْجَ، فَأَنَخْنَا رَوَاحِلَنَا، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتّی أَتَیْنَا عَلٰی بِئْرٍ، عَلَیْہِ أَشْیَاخٌ مُخَضَّبُونَ یَتَحَدَّثُونَ، قَالَ: قُلْنَا: ہٰذَا الَّذِی صَحِبَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَیْنَ بَیْتُہُ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، صَحِبَہُ وَہٰذَاکَ بَیْتُہُ، فَانْطَلَقْنَا حَتّٰی أَتَیْنَا الْبَیْتَ فَسَلَّمْنَا، قَالَ: فَأَذِنَ لَنَا فَإِذَا ہُوَ شَیْخٌ کَبِیرٌ مُضْطَجِعٌ، یُقَالُ لَہُ: الْعَدَّائُ بْنُ خَالِدٍ الْکِلَابِیُّ، قُلْتُ: أَنْتَ الَّذِی صَحِبْتَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: نَعَمْ، وَلَوْلَا أَنَّہُ اللَّیْلُ لَأَقْرَأْتُکُمْ کِتَابَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَیَّ، قَالَ: فَمَنْ أَنْتُمْ؟ قُلْنَا: مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ، قَالَ: مَرْحَبًا بِکُمْ مَا فَعَلَ یَزِیدُ بْنُ الْمُہَلَّبِ؟ قُلْنَا: ہُوَ ہُنَاکَ یَدْعُو إِلٰی کِتَابِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَإِلٰی سُنَّۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فِیمَا ہُوَ مِنْ ذَاکَ؟ فِیمَا ہُوَ مِنْ ذَاکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: أَیًّا نَتَّبِعُ ہٰؤُلَائِ أَوْ ہٰؤُلَائِ یَعْنِی أَہْلَ الشَّامِ أَوْ یَزِیدَ؟ قَالَ: إِنْ تَقْعُدُوْا تُفْلِحُوْا وَتَرْشُدُوْا، إِنْ تَقْعُدُوْا تُفْلِحُوْا وَتَرْشُدُوا، لَا أَعْلَمُہُ إِلَّا قَالَ: ثَلَاثَ مَرَّاتٍ رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ عَرَفَۃَ، وَہُوَ قَائِمٌ فِی الرِّکَابَیْنِیُنَادِی بِأَعْلٰی صَوْتِہِ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! أَیُّیَوْمِکُمْ ہٰذَا؟)) قَالُوْا: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((فَأَیُّ شَہْرٍ شَہْرُکُمْ ہٰذَا؟)) قَالُوْا: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((فَأَیُّ بَلَدٍ بَلَدُکُمْ ہٰذَا؟)) قَالُوْا: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ۔))یَوْمُکُمْیَوْمٌ حَرَامٌ وَشَہْرُکُمْ شَہْرٌ حَرَامٌ وَبَلَدُکُمْ بَلَدٌ حَرَامٌ۔)) قَالَ: فَقَالَ: ((أَلَا إِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِیَوْمِکُمْ ہٰذَا، فِی شَہْرِکُمْ ہٰذَا، فِی بَلَدِکُمْ ہٰذَا، إِلَییَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، فَیَسْأَلُکُمْ عَنْ أَعْمَالِکُمْ۔)) قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ إِلَی السَّمَائِ فَقَالَ: ((اللَّہُمَّ اشْہَدْ عَلَیْہِمْ، اللَّہُمَّ اشْہَدْ عَلَیْہِمْ۔)) ذَکَرَ مِرَارًا فَلَا أَدْرِی کَمْ ذَکَرَہُ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۰۲)
عبدالمجید عقیلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم یزید بن مہلب کے عہد میں حج کے ارادہ سے روانہ ہوئے، انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ العالیہ کے علاقہ میں ایک مقام ہے، جس کا نام الزجیج ہے، ہم مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد الزجیج‘ ‘ پہنچے، ہم نے اپنی سواریوں کو بٹھایا، ہم چل کر ایک کنوئیں پر پہنچے، جہاں بہت سے بزرگ تشریف فرما تھے، انہوں نے اپنی داڑھیوں کو رنگا ہوا تھا، وہ آپس میں باتیں کر رہے تھے، عبدالمجید کہتے ہیں: ہم نے ان سے دریافت کیا کہ یہاںایک صاحب ہیں جو اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت کا شرف حاصل کر چکے ہیں۔ ان کا گھر کہا ں ہے؟ انہوں نے بتایا کہ وہ واقعی صحابیٔ رسول ہیں اور یہ ان کا گھر ہے، ہم چل کر ان کے گھر پہنچے، ہم نے انہیں سلام کہا، انہوں نے ہمیں اندر داخل ہونے کی اجازت دی، وہ کافی بزرگ ہو چکے تھے، لیٹے ہوئے تھے، ان کا نام عداء بن خالد کلابی تھا، میں نے عرض کیا: کیا آپ ہی وہ بزرگ ہیں، جنہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے؟انہوں نے کہا: جی ہاں، اگر اب رات کا وقت نہ ہوتا تو میں آپ لوگوں کو وہ خط پڑھاتا جو اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے نام تحریر فرمایا تھا، انہوں نے دریافت کیا تم لوگ کون ہو؟ ہم نے عرض کیا: ہم بصرہ سے آئے ہیں۔ انھوں نے کہا: خوش آمدید،یزید بن مہلب کیا کرتا ہے؟ ہم نے عرض کیا: وہ وہاں اللہ تعالیٰ کی کتاب اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت کی طرف دعوت دیتے ہیں، وہ کہنے لگے، اسے ان سے کیا کام ؟ اس کا ان سے کیا تعلق ؟ میں نے عرض کیا:پھر ہم کس کا ساتھ دیں، شام والوں کا یایزید کا؟ انھوں نے کہا: اگر تم غیر جانب دار ہو کر الگ بیٹھ رہو تو کامیاب رہو گے، عبدالمجید نے بتایا: مجھے یاد ہے کہ انہوں نے یہ بات تین بار دہرائی، پھر کہا:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عرفہ کے دن دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اونٹنی کی رکابوں میں پاؤں رکھے کھڑے تھے اور بلند آواز سے فرما رہے تھے، لوگو! آج کونسا دن ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کونسا مہینہ ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کونسا شہر ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دن حرمت والا دن ہے، یہ مہینہ حرمت والا مہینہ ہے، یہ شہر حرمت والا شہر ہے، خبردار! بے شک تمہارے خون اور اموال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں، جیسے آج کے دن کی اس شہر میں اور اس مہینے میں قیامت تک حرمت ہے، وہ قیامت کے دن تم سے تمہارے اعمال کا محاسبہ کرے گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھائے اور کہا: اے اللہ ! تو ان پر گواہ رہنا،اے اللہ! تو ان پر گواہ رہنا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات بار بار ارشاد فرمائی، مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات کتنی مرتبہ کہی۔
11104
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۱۱۰۴) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطبرانی فی المعجم الکبیر : ۱۸/ ۱۳، والبخاری فی التاریخ الکبیر : ۷/ ۸۶ (انظر: ۲۰۳۳۶)

Related Chapters

2,186
1
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اُمّ المؤمنین سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے شادی کا بیان
Musnad Ahmad
2
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اُمّ المؤمنین سیّدہ جویرہ بنت حارث سے شادی کا بیان
Musnad Ahmad
3
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اُمّ المؤمنین سیّدہ زینب بنت جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ شادی کرنے اور پردے والی آیت کے نازل ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
4
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نسب کی فضیلت اور پاکیزگی کے بیان میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خطبہ
Musnad Ahmad
5
اس خطبہ کا بیان جو سارا دن جاری رہا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس خطبہ میں ماضی اور مستقبل کے سارے احوال بیان فرمائے
Musnad Ahmad
6
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اولاد،اہل بیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ازواج امہات المؤمنین کا تذکرہ سیدہ فاطمہ زہراء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
Musnad Ahmad
7
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ محبت، آپ کے بارے میں ان کی غیرت اور سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آپ کی حیات ِ مبارکہ میں جو جو عمل کیا کرتی تھیں، بعد میں بھی ان کی حفاظت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
8
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گیارہویں زوجۂ ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حیی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا
Musnad Ahmad
9
سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فضائل اور اس کا بیان کہ وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں، نیز اس چیز کی وضاحت کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی وجہ سے ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے تین ماہ تک مقاطعہ کر لیا تھا
Musnad Ahmad
10
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
11
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے
Musnad Ahmad
12
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت کو تھامنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
13
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے بعد کسی چیز میں تبدیلی کر دینے والے یا کسی چیز کو ایجاد کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
14
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نیند ناقضِ وضو نہیں تھی، اگرچہ وہ لیٹ کر ہوتی
Musnad Ahmad
15
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بعض بیویوں سے اس موضوع سے متعلقہ بیان کی گئی مرویات کا بیان
Musnad Ahmad
16
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان میرے لیے زمین مسجد اور پاک کرنے والی بنائی گئی ہے کا بیان
Musnad Ahmad
17
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے بعد تعوذ اور دعا کا بیان
Musnad Ahmad
18
سلام کے بعد امام کا لوگوں کی طرف رخ کرنااور صحابہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے برکت حاصل کرنا
Musnad Ahmad
19
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان
Musnad Ahmad
20
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
Musnad Ahmad
21
وصال سے منع کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس کا بطور خصوصیت جائزہونے کا بیان
Musnad Ahmad
22
صحابہ کے وصال سے باز آنے سے انکار کرنے پر ان کو عبرت سکھانے کے لیےیا ان کے فعل پر انکار کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان کے ساتھ دو دنوں اور دو راتوں تک وصال کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
23
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
24
اس چیز کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے حج اور کتنے عمرے کیے؟
Musnad Ahmad
25
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حج کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
26
صحابہ کرام کا اس بارے میں اختلاف کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کس جگہ سے تلبیہ پڑھا تھا
Musnad Ahmad
27
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
Musnad Ahmad
28
وہ افراد جن کے نام نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکھے اور وہ افراد کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی مصلحت کی وجہ سے جن کے نام تبدیل کیے
Musnad Ahmad
29
لقب اور ان افراد کا بیان جن کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کنیتیں رکھیں
Musnad Ahmad
30
اس بات کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہید کی وفات پائی
Musnad Ahmad
31
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
Musnad Ahmad
32
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
33
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
Musnad Ahmad
34
اس نابینا آدمی کی دعا، جس نے اپنی بینائی حاصل کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وسیلہ دیا تھا
Musnad Ahmad
35
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے وجوب کا بیان
Musnad Ahmad
36
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود چھوڑ دینے والے شخص کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
37
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کی فضیلت اور یہ عمل کرنے والے کے اجر کا کئی گناہ تک بڑھنا
Musnad Ahmad
38
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پسندیدہ کھانوں کا ذکر
Musnad Ahmad
39
نبیذ کی جائز اور حرام اقسام کا بیان نبیذ کی جائز اقسام کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے نبیذ کیسے اور کس چیز سے نبیذ بنائی جاتی تھی
Musnad Ahmad
40
مشکیزے کی نبیذ اور اس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پینے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اس کو اچھا سمجھنے کا بیان
Musnad Ahmad
41
اس چیز کا بیان جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرق نساء بیماری کے لیے تجویز کی
Musnad Ahmad
42
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خوابوں کا بیان
Musnad Ahmad
43
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خواب میں اللہ تعالی کو دیکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
44
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کا بیان کہ جس نے مجھے نیند میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا
Musnad Ahmad
45
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگوٹھی اور اس کا چاندی کے ہونے کا بیان آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نقش کے بارے میں تنبیہ
Musnad Ahmad
46
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا جبریل کا قرآن مجید کا دور کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
47
سورۃ النصر اس چیز کا بیان کہ سورۂ نصر، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے اعلان کے لیے نازل ہوئی
Musnad Ahmad
48
اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی
Musnad Ahmad
49
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بھوک کا واقعہ اور اس معاملے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عظیم معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
50
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

1
Musnad Ahmad
12463
۔ (۱۲۴۶۳)۔ حَدَّثَنَا یُونُسُ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْیَشْکُرِیُّ، حَدَّثَنَا شَیْخٌ کَبِیرٌ مِنْ بَنِی عُقَیْلٍیُقَالُ لَہُ: عَبْدُ الْمَجِیدِ الْعُقَیْلِیُّ، قَالَ: انْطَلَقْنَا حُجَّاجًا لَیَالِیَ خَرَجَ یَزِیدُ بْنُ الْمُہَلَّبِ، وَقَدْ ذُکِرَ لَنَا أَنَّ مَائً بِالْعَالِیَۃِ،یُقَالُ لَہُ: الزُّجَیْجُ، فَلَمَّا قَضَیْنَا مَنَاسِکَنَا جِئْنَا حَتّٰی أَتَیْنَا الزُّجَیْجَ، فَأَنَخْنَا رَوَاحِلَنَا، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتّٰی أَتَیْنَا عَلٰی بِئْرٍ،ٔعَلَیْہِ أَشْیَاخٌ مُخَضَّبُونَ یَتَحَدَّثُونَ، قَالَ: قُلْنَا: ہٰذَا الَّذِی صَحِبَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْنَ بَیْتُہُ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، صَحِبَہُ وَہٰذَاکَ بَیْتُہُ، فَانْطَلَقْنَا حَتّٰی أَتَیْنَا الْبَیْتَ فَسَلَّمْنَا، قَالَ: فَأَذِنَ لَنَا فَإِذَا ہُوَ شَیْخٌ کَبِیرٌ مُضْطَجِعٌ، یُقَالُ لَہُ: الْعَدَّائُ بْنُ خَالِدٍ الْکِلَابِیُّ، قُلْتُ: أَنْتَ الَّذِی صَحِبْتَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّیاللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَوْلَا أَنَّہُ اللَّیْلُ لَأَقْرَأْتُکُمْ کِتَابَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَیَّ، قَالَ: فَمَنْ أَنْتُمْ؟ قُلْنَا: مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ، قَالَ: مَرْحَبًا بِکُمْ، مَا فَعَلَ یَزِیدُ بْنُ الْمُہَلَّبِ؟ قُلْنَا: ہُوَ ہُنَاکَ یَدْعُو إِلٰی کِتَابِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَإِلٰی سُنَّۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فِیمَا ہُوَ مِنْ ذَاکَ، فِیمَا ہُوَ مِنْ ذَاکَ، قَالَ: قُلْتُ: أَیًّا نَتَّبِعُ ہٰؤُلَائِ أَوْ ہٰؤُلَائِ یَعْنِی أَہْلَ الشَّامِ أَوْ یَزِیدَ، قَالَ: إِنْ تَقْعُدُوْا تُفْلِحُوْا وَتَرْشُدُوا، إِنْ تَقْعُدُوْا تُفْلِحُوْا وَتَرْشُدُوْا، لَا أَعْلَمُہُ إِلَّا قَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَیَوْمَ عَرَفَۃَ وَہُوَ قَائِمٌ فِی الرِّکَابَیْنِیُنَادِی بِأَعْلٰی صَوْتِہِ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! أَیُّیَوْمِکُمْ ہٰذَا؟)) قَالُوْا: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((فَأَیُّ شَہْرٍ شَہْرُکُمْ ہٰذَا؟)) قَالُوْا: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((فَأَیُّ بَلَدٍ بَلَدُکُمْ ہٰذَا؟)) قَالُوْا: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((یَوْمُکُمْیَوْمٌ حَرَامٌ، وَشَہْرُکُمْ شَہْرٌ حَرَامٌ، وَبَلَدُکُمْ بَلَدٌ حَرَامٌ۔)) قَالَ: فَقَالَ: ((أَلَا إِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ، کَحُرْمَۃِیَوْمِکُمْ ہٰذَا، فِی شَہْرِکُمْ ہٰذَا، فِی بَلَدِکُمْ ہٰذَا، إِلٰییَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، فَیَسْأَلُکُمْ عَنْ أَعْمَالِکُمْ۔)) قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ إِلَی السَّمَائِ فَقَالَ: ((اللَّہُمَّ اشْہَدْ عَلَیْہِمْ، اللَّہُمَّ اشْہَدْ عَلَیْہِمْ۔)) ذَکَرَ مِرَارًا فَلَا أَدْرِی کَمْ ذَکَرَہُ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۰۲)
قبیلہ بنو عقیل کے ایک بڑے شیخ عبدالمجید عقیلی نے بیان کیاکہ جن دنوں یزید بن مہلب نے یزید بن عبدالملک کے خلاف خروج کیا، ان دنوں ہم حج کرنے کے لیے گئے، ہمارے سامنے العالیہ کے نواح میں الزجیج نامی ایک مقام کا ذکر کیا گیا، ہم جب مناسک حج سے فارغ ہوئے تو الزجیج پہنچے، ہم نے وہاں اپنی سواریوں کو بٹھایا اور ہم چلتے چلتے ایک کنوئیں پر جا پہنچے، وہاں کچھ بزرگ لوگ بیٹھے باتیں کر رہے تھے، ان کے بال رنگے ہوئے تھے، ہم نے پوچھا، یہاں جو آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا صحابی ہے، اس کا گھر کہاں ہے؟لوگوں نے بتلایا کہ ہاں وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا صحابی ہے اور وہ اس کا گھر ہے، ہم اس کے گھر چلے، ہم نے جا کر انہیں سلام کہا، تو انہوں نے ہمیں اندر آنے کی اجازت دے دی، وہ ایک عمر رسیدہ بزرگ آدمی تھے، وہ لیٹے ہوئے تھے ان کا نام عداء بن خالد کلابی تھا،میں نے کہا: کیا آپ ہی وہ شخص ہیں جنہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! اگر اب رات نہ ہوتی تو میں تمہیں وہ خط پڑھاتا جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے لکھا تھا،انہوں نے کہا تم کون ہو؟ ہم نے کہا: ہم بصرہ کے باشندے ہیں،انہوںنے کہا: آپ کی آمد مبارک ہو، بزید بن مہلب کیا کر رہا ہے؟ ہم نے بتلایا کہ وہ وہاں اللہ تبارک و تعالیٰ کی کتاب اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت کی طرف دعوت دیتا ہے، انہوںنے کہا: اس کی وہاں کیا پوزیشن ہے؟ میں نے پوچھا، ہم وہاں کس کا ساتھ دیں؟ اہل شام یا یزید کا؟ انہوں نے فرمایا: اگر تم غیر جانب دار ہو کر ایک طرف ہو کر بیٹھ رہو تو فلاح پاؤ گے اور کامیاب رہوگے، انہوں نے یہ بات تین دفعہ دہرائی اور کہامیں نے عرفہ کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کودیکھا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سواری پر کھڑے بلند آواز سے فرما رہے تھے،: لوگو! آج کونسا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جاتنے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کونسا مہینہ ہے؟ لوگوںنے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کونسا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا آج کا دن حرمت والا ہے، یہ مہینہ بھی حرمت والا ہے، یہ شہر بھی حرمت والا ہے، خبردار! تمہارے خون اور اموال قیامت تک ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں، جس طرح آج کے دن کی اس مہینے اور اس شہر میں حرمت ہے، پس وہ تم سے ملاقات کے دن تمہارے اعمال کی بابت پوچھ گچھ کرے گا۔ پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور فرمایا: یااللہ گواہ رہنا یا اللہ ان پر گواہ رہنا۔ انہوں نے اس بات کا کئی دفعہ ذکر کیا مجھے یاد نہیں کہ کتنی دفعہ کیا۔