TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 11203 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 7 in this chapter
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بردباری، معافی اور حیاء کا بیان
۔ (۱۱۲۰۳)۔ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْرَائِیلَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَعْدَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَأَی رَجُلًا سَمِینًا، فَجَعَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُومِئُ إِلَی بَطْنِہِ بِیَدِہِ وَیَقُولُ: ((لَوْ کَانَ ہٰذَا فِی غَیْرِ ہٰذَا الْمَکَانِ لَکَانَ خَیْرًا لَکَ)) قَالَ: وَأُتِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرَجُلٍ، فَقَالُوْا: ہٰذَا أَرَادَ أَنْ یَقْتُلَکَ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَمْ تُرَعْ لَمْ تُرَعْ وَلَوْ أَرَدْتَ ذٰلِکَ لَمْ یُسَلِّطْکَ اللّٰہُ عَلَیَّ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۶۲)
سیدنا جعدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک موٹے آدمی کو دیکھا تو آپ اپنے ہاتھ سے اس کے بطن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ موٹاپا پیٹ کی بجائے کسی دوسرے حصہ میں ہوتا تو تمہارے لیے بہتر ہوتا۔ جعدہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا گیا کہ اس آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: ڈرو نہیں، خوف زدہ مت ہو، اگر تم نے مجھے قتل کرنے کا پرورگرام بنایا تھا،تو اللہ تعالیٰ نے تجھے مجھ پر مسلط نہیں کیا۔
11203
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۱۱۲۰۳) تخریج:اسنادہ ضعیف، ابو اسرائیل، اخرجہ القصۃ الاولی الطبرانی فی الکبیر : ۲۱۸۵، والحاکم: ۴/ ۱۲۱، وأخرجہ القصۃ الثانیۃ النسائی فی الکبری : ۱۰۹۰۳ (انظر: ۱۵۸۶۸)

Related Chapters

1,998
1
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
2
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
Musnad Ahmad
3
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
4
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی
Musnad Ahmad
5
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
Musnad Ahmad
6
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
7
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
Musnad Ahmad
8
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی ذات، اہل بیت اور اپنی امت کے فقراء کی طرف سے قربانیاں
Musnad Ahmad
9
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پسندیدہ مشروب اور برتن کو ڈھانپنے کا بیان
Musnad Ahmad
10
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان بیشک صدمہ کی ابتداء میں صبر ہوتا ہے کا بیان
Musnad Ahmad
11
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
12
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
Musnad Ahmad
13
عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ولادت اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے شادی کا بیان
Musnad Ahmad
14
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بسیسہ نامی شخص کو جاسوس بنا کر بھیجنا تاکہ وہ ابو سفیان کے قافلہ پر نظر رکھے اور بعدازاں قتال کی اجازت کا بیان
Musnad Ahmad
15
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس خواب کا بیان جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوۂ احد سے قبل دیکھا تھا۔
Musnad Ahmad
16
اس زہر آلود بکری کا واقعہ جو یہود نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں کھانے کے لیے بھیجی تھی اور اس موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا ظہور
Musnad Ahmad
17
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی خالہ اُمّ المؤمنین سیّدہ میمونہ بنت حارث سے شادی کا بیان
Musnad Ahmad
18
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بیت اللہ کے اندر جانے کے لیے چابی بردار عثمان بن طلحہ سے چابیاں طلب کرنے اور بیت اللہ کے اندر موجود بتوں کے ساتھ آپ کا سلوک اور بیت اللہ کو بتوں سے پاک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
19
فتح مکہ کے بعد مکہ پر چڑھائی کرنے کے حرام ہونے اور اس بارے میں رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطبہ کا بیان
Musnad Ahmad
20
مکہ مکرمہ کے مردوں اور عورتوں کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیعت کرنے اور ان کے اپنی اولاد کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لانے کا بیان تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان پر اپنا ہاتھ مبارک پھیر دیں
Musnad Ahmad
21
غزوۂ حنین کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمانا کہ جس نے کسی کافر کو قتل کیا، اس سے حاصل ہونے والا مال اسی کو ملے گا ، سیدنا انس بن مالک ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی والدہ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے جو کچھ کہا اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زخمی ہونے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس کے بارے میں اہتمام کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
22
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہرقل کے نام مکتوب اور اس کی طرف سے اس کے جواب کا بیان
Musnad Ahmad
23
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیماری کے آغاز سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات تک کی تفصیل کے بارے میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی جامع حدیث
Musnad Ahmad
24
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر کی طرف نقل مکانی تاکہ وہیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تیمار داری کی جائے نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا نماز کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ بنانا
Musnad Ahmad
25
لوگوں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آخری خطبہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
26
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بعض مخصوص صحابہ کرام کو بلوانے کا بیان تاکہ ان کے لیے کوئی تحریرلکھیں
Musnad Ahmad
27
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی بات کی وصیت کر گئے تھے یا نہیں اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے بعد کسی کے حق میں خلافت کا فیصلہ کیا تھا یا نہیں؟
Musnad Ahmad
28
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیماری کے دوران پیش آنے والے بعض امور کا بیان
Musnad Ahmad
29
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے امت کو آخری تاکید نماز کی تھی، نیز صحابہ کرام کا آپ کو آخری بار دیکھنے کا بیان اور اس امر کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موت شہادت کی موت تھی
Musnad Ahmad
30
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا موت کے سکرات سے واسطہ پڑنا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیئے جانے اور آپ کے رفیق اعلیٰ کو منتخب کرنے کا بیان اور اس بات کا ذکر کہ یہ آخری الفاظ تھے جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے
Musnad Ahmad
31
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غسل دینے کا بیان
Musnad Ahmad
32
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز جنازہ کا بیان
Musnad Ahmad
33
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دفن، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور بعداز وفات حالات کی تبدیلی کا بیان
Musnad Ahmad
34
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے یومِ وفات کی تعیین اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدتِ عمر کا بیان
Musnad Ahmad
35
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ترکہ اور میراث کا بیان
Musnad Ahmad
36
کتاب اللہ اور سنتِ رسول پر عمل کی ترغیب اور تذکرۂ قیامت پر مشتمل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خطبۂ مبارکہ
Musnad Ahmad
37
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بالوں کے سفید ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
38
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مسکراہٹ اور خوشبو کا بیان
Musnad Ahmad
39
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چال کا بیان
Musnad Ahmad
40
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عظیم اخلاق کا بیان
Musnad Ahmad
41
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تواضع کا بیان
Musnad Ahmad
42
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شفقت و رحمت، اللہ تعالیٰ پر توکل اور طہارت قلبی کا بیان
Musnad Ahmad
43
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اللہ کی طرف سے دنیوی مال و دولت عطا کرنے کی پیش کش کی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے بے رغبتی کا اظہار کیا اور معمولی مال پر قناعت فرمائی
Musnad Ahmad
44
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سخاوت کا بیان
Musnad Ahmad
45
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شجاعت اور ایفائے عہد کابیان
Musnad Ahmad
46
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خصوصیات کا تذکرہ
Musnad Ahmad
47
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نیند اور بستر کا تذکرہ
Musnad Ahmad
48
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لباس اور زینت کا بیان
Musnad Ahmad
49
دختر رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
Musnad Ahmad
50
دختران رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ رقیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اور سیدہ ام کلثوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

4
Musnad Ahmad
5379
۔ (۵۳۷۹)۔ عَنِ ابْنِ طَاؤُوْسٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ أَبِی إِسْرَائِیلَ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ وَأَبُو إِسْرَائِیلَ یُصَلِّی، فَقِیلَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ہُوَ ذَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ لَا یَقْعُدُ وَلَا یُکَلِّمُ النَّاسَ وَلَا یَسْتَظِلُّ وَہُوَ یُرِیدُ الصِّیَامَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِیَقْعُدْ وَلْیُکَلِّمِ النَّاسَ وَلْیَسْتَظِلَّ وَلْیَصُمْ)) (مسند أحمد: ۱۷۶۷۳)
۔ سیدنا ابو اسرائیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوئے، جبکہ ابو اسرائیل نماز پڑھ رہا تھا، کسی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا کہ اے اللہ کے رسول! یہ ابو اسرائیل ہے، یہ نہ بیٹھتا ہے، نہ لوگوں سے بات کرتا ہے، نہ سائے میں آتا ہے اور یہ روزے کا ارادہ بھی رکھتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو چاہیے کہ وہ بیٹھ جائے، لوگوں سے بات کرے، سائے میں آ جائے اور روزہ رکھے لے۔
Musnad Ahmad
8668
۔ (۸۶۶۸)۔ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کُنَّا عِنْدَہُ فَقَالَ الْقَوْمُ: إِنَّ نَوْفًا الشَّامِیَّیَزْعُمُ أَنَّ الَّذِی ذَہَبَ یَطْلُبُ الْعِلْمَ لَیْسَ مُوسٰی بَنِی إِسْرَائِیلَ، وَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ مُتَّکِئًا فَاسْتَوٰی جَالِسًا فَقَالَ: کَذَلِکَ یَا سَعِیدُ! قُلْتُ: نَعَمْ، أَ نَا سَمِعْتُہُ یَقُولُ ذَاکَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: کَذَبَ نَوْفٌ، حَدَّثَنِی أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ: أَ نَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْنَا وَعَلَی صَالِحٍ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْنَا وَعَلَی أَ خِی عَادٍ۔))، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ مُوسٰی علیہ السلام بَیْنَا ہُوَ یَخْطُبُ قَوْمَہُ ذَاتَ یَوْمٍ، إِذْ قَالَ لَہُمْ: مَا فِی الْأَ رْضِ أَ حَدٌ أَ عْلَمُ مِنِّی، وَأَ وْحَی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی إِلَیْہِ أَ نَّ فِی الْأَ رْضِ مَنْ ہُوَ أَ عْلَمُ مِنْکَ، وَآیَۃُ ذٰلِکَ أَ نْ تُزَوِّدَ حُوتًا مَالِحًا، فَإِذَا فَقَدْتَہُ فَہُوَ حَیْثُ تَفْقِدُہُ، فَتَزَوَّدَ حُوتًا مَالِحًا فَانْطَلَقَ ہُوَ وَفَتَاہُ حَتَّی إِذَا بَلَغَ الْمَکَانَ الَّذِی أُمِرُوْا بِہِ، فَلَمَّا انْتَہَوْا إِلَی الصَّخْرَۃِ انْطَلَقَ مُوسٰییَطْلُبُ، وَوَضَعَ فَتَاہُ الْحُوتَ عَلَی الصَّخْرَۃِ، وَاضْطَرَبَ فَاتَّخَذَ سَبِیلَہُ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا، قَالَ فَتَاہُ: إِذَا جَائَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدَّثْتُہُ، فَأَ نْسَاہُ الشَّیْطَانُ، فَانْطَلَقَا فَأَ صَابَہُمْ مَا یُصِیبُ الْمُسَافِرَ مِنْ النَّصَبِ وَالْکَلَالِ، وَلَمْ یَکُنْیُصِیبُہُ مَا یُصِیبُالْمُسَافِرَ مِنْ النَّصَبِ وَالْکَلَالِ حَتّٰی جَاوَزَ مَا أُمِرَ بِہِ، فَقَالَ مُوسٰی لِفَتَاہُ: {آتِنَا غَدَائَ نَا لَقَدْ لَقِینَا مِنْ سَفَرِنَا ہٰذَا نَصَبًا} قَالَ لَہُ فَتَاہُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! {أَ رَأَ یْتَ إِذْ أَ وَیْنَا إِلَی الصَّخْرَۃِ فَإِنِّی نَسِیتُ} أَ نْ أُحَدِّثَکَ {وَمَا أَ نْسَانِیہُ إِلَّا الشَّیْطَانُ} قَالَ: أُخْبِرْتُ أَ نَّ عِنْدَکَ عِلْمًا فَأَ رَدْتُ أَ نْ أَ صْحَبَکَ {قَالَ إِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیعَ مَعِیَ صَبْرًا} {قَالَ سَتَجِدُنِی إِنْ شَائَ اللّٰہُ صَابِرًا وَلَا أَ عْصِی لَکَ أَ مْرًا} قَالَ: {فَکَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰی مَا لَمْ تُحِطْ بِہِ خُبْرًا} قَالَ: قَدْ أُمِرْتُ أَ نْ أَ فْعَلَہُ، {قَالَ سَتَجِدُنِی إِنْ شَائَ اللّٰہُ صَابِرًا} {قَالَ فَإِنْ اتَّبَعْتَنِی فَلَا تَسْأَ لْنِی عَنْ شَیْئٍ حَتّٰی أُحْدِثَ لَکَ مِنْہُ ذِکْرًا، فَانْطَلَقَا حَتّٰی إِذَا رَکِبَا فِی السَّفِینَۃِ} خَرَجَ مَنْ کَانَ فِیہَا وَتَخَلَّفَ لِیَخْرِقَہَا قَالَ: فَقَالَ لَہُ مُوسَی: تَخْرِقُہَا لِتُغْرِقَ أَ ہْلَہَا {لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا إِمْرًا} {قَالَ أَ لَمْ أَ قُلْ إِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیعَ مَعِیَ صَبْرًا، قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِی بِمَا نَسِیتُ وَلَا تُرْہِقْنِی مِنْ أَ مْرِی عُسْرًا} فَانْطَلَقَا حَتّٰی إِذَا أَ تَوْا عَلٰی غِلْمَانٍ یَلْعَبُونَ عَلٰی سَاحِل الْبَحْرِ، وَفِیہِمْ غُلَامٌ لَیْسَ فِی الْغِلْمَانِ غُلَامٌ أَ نْظَفَ یَعْنِی مِنْہُ، فَأَ خَذَہُ فَقَتَلَہُ، فَنَفَرَ مُوسٰی عَلَیْہِ السَّلَام عِنْدَ ذٰلِکَ وَقَالَ: {أَ قَتَلْتَ نَفْسًا زَکِیَّۃً بِغَیْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُکْرًا، قَالَ أَ لَمْ أَ قُلْ لَکَ إِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیعَ مَعِیَ صَبْرًا} قَالَ: فَأَ خَذَتْہُ ذَمَامَۃٌ مِنْ صَاحِبِہِ وَاسْتَحٰی، فَقَالَ: {اِنْ سَاَلْتُکَ عَنْ شَیْئٍ بَعْدَھَا فَلَا تُصَاحِبْنِیْ قَدْ بَلَغْتَ مِن لَّدُنِّیْ عُذْرًا، فَانْطَلَقَا حَتّٰی اِذَا اَتَیَا اَھْلَ قَرْیَۃٍ} لِئَامًا {اسْتَطْعَمَا أَ ہْلَہَا} وَقَدْ أَ صَابَ مُوسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ جَہْدٌ فَلَمْ یُضَیِّفُوہُمَا، {فَوَجَدَا فِیہَا جِدَارًا یُرِیدُ أَ نْ یَنْقَضَّ فَأَقَامَہُ} قَالَ لَہُ مُوسٰی مِمَّا نَزَلَ بِہِمْ مِنْ الْجَہْدِ: {لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَیْہِ أَ جْرًا، قَالَ ہٰذَا فِرَاقُ بَیْنِی وَبَیْنِکَ} فَأَ خَذَ مُوسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ بِطَرَفِ ثَوْبِہِ فَقَالَ: حَدِّثْنِی فَقَالَ: {أَ مَّا السَّفِینَۃُ فَکَانَتْ لِمَسَاکِینَیَعْمَلُونَ فِی الْبَحْرِ} {وَکَانَ وَرَائَ ہُمْ مَلِکٌ یَأْخُذُ کُلَّ سَفِینَۃٍ غَصْبًا} فَإِذَا مَرَّ عَلَیْہَا فَرَآہَا مُنْخَرِقَۃً تَرَکَہَا وَرَقَّعَہَا أَ ہْلُہَا بِقِطْعَۃِ خَشَبَۃٍ فَانْتَفَعُوا بِہَا، وَأَ مَّا الْغُلَامُ فَإِنَّہُ کَانَ طُبِعَ یَوْمَ طُبِعَ کَافِرًا، وَکَانَ قَدْ أُلْقِیَ عَلَیْہِ مَحَبَّۃٌ مِنْ أَ بَوَیْہِ وَلَوْ أَ طَاعَاہُ لَأَ رْہَقَہُمَا: {طُغْیَانًا وَکُفْرًا} {فَأَ رَدْنَا أَ نْ یُبْدِلَہُمَا رَبُّہُمَا خَیْرًا مِنْہُ زَکَاۃً وَأَ قْرَبَ رُحْمًا} وَوَقَعَ أَ بُوہُ عَلَی أُمِّہِ فَعَلِقَتْ فَوَلَدَتْ مِنْہُ خَیْرًا مِنْہُ زَکَاۃً وَأَ قْرَبَ رُحْمًا، {وَأَ مَّا الْجِدَارُ فَکَانَ لِغُلَامَیْنِیَتِیمَیْنِ فِی الْمَدِینَۃِ، وَکَانَ تَحْتَہُ کَنْزٌ لَہُمَا، وَکَانَ أَ بُوہُمَا صَالِحًا، فَأَ رَادَ رَبُّکَ أَ نْ یَبْلُغَا أَ شُدَّہُمَا، وَیَسْتَخْرِجَا کَنْزَہُمَا، رَحْمَۃً مِنْ رَبِّکَ، وَمَا فَعَلْتُہُ عَنْ أَمْرِی، ذٰلِکَ تَأْوِیلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَلَیْہِ صَبْرًا}۔ (مسند احمد: ۲۱۱۱۸)
۔ سعید بن جبیر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس بیٹھے تھے،کچھ لوگوں نے بتایا کہ نوف شامی بکالی کہتا ہے کہ جو موسی حصولِ علم کے لئے سیدنا خضر علیہ السلام کے پاس گئے تھے، وہ بنی اسرائیل والے موسیٰ علیہ السلام نہ تھے، یہ سن کر سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور کہا: اے سعید! کیا وہ ایسا ہی کہتاہے؟ میںنے کہا: جی میں نے خود اس سے یہی سنا ہے، سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: وہ غلط کہتا ہے، سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہم پر اور صالح علیہ السلام پر رحمت کرے اور اللہ تعالیٰ ہم پر اور عاد قوم والے میرے پیغمبر بھائی ہود علیہ السلام پر رحمت کرے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام نے ایکدفعہ اپنی قوم سے خطاب کیا اور ان سے کہا: روئے زمین میں مجھ سے بڑھ کر عالم کوئی نہیں ہے، اللہ تعالی نے ان کی جانب وحی کی کہ فلاں زمین میں تم سے زیادہ علم والا آدمی موجود ہے اوراس سے ملاقات کی علامت یہ ہے کہ ایک نمکین مچھلی لو، جہاں وہ ہاتھ سے نکل جائے، وہ وہاں ہوگا، پس موسیٰ علیہ السلام نے نمکین مچھلی لی اور اپنے نوجوان شاگرد یوشع بن نون کے ساتھ چل دئیے، جس جگہ کا حکم ملا تھا، جب وہاں پہنچے توایک چٹان تھی، جب اس تک گئے تو موسیٰ علیہ السلام کوئی چیز تلاش کرنے گئے اور ان کے شاگرد نے مچھلی چٹان پر رکھی، وہ حرکت میں آئی اور سمندر میں رستہ بنا لیا، شاگرد کہنے لگا کہ سیدنا موسیٰ آئیں گے تو انہیں بتادوں گا، لیکن شیطان نے اسے بھلا دیا اوروہ آگے کو چلتے رہے حتیٰ کہ جب انہیں مسافروں کی مانند تھکاوٹ محسوس ہوئی، اور تھکاوٹ مطلوبہ جگہ سے آگے گزر جانے کے بعد محسوس ہوئی، تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے شاگرد سے کہا: ہمیں کھانا دو، اس سفر نے تو ہمیں تھکا دیا ہے، شاگرد نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کو معلوم ہے کہ جب ہم چٹان کے پاس ٹھہرے تھے، تو مچھلی نے وہاں حرکت کی، لیکن میں بتانا بھول گیا تھا، یہ شیطان ہی نے بھلایاہے تواس مچھلی نے سمندر میں جگہ بنا لی تھی، موسی علیہ السلام نے کہا کہ وہی مقام ہماری مطلوبہ جگہ ہے، اب پچھلے پائوں انہی نشانات قدم پر واپس آئے، جب اسی چٹان تک پہنچے تووہاں گھومے، اچانک دیکھتے ہیں کہ خضر علیہ السلام کپڑا لئے موجود ہیں، موسیٰ علیہ السلام نے ان پر سلام کہا، انہوں نے سراٹھایا اور کہا: تم کون ہو؟ انھوں نے کہا: میں موسیٰ علیہ السلام ہوں، انھوں نے پوچھا: کون سا موسیٰ؟ انھوں نے کہا: بنو اسرائیل والے موسیٰ، پھر موسیٰ علیہ السلام نے کہا: تمہارے پاس علم ہے، میں چاہتاہوں کہ تمہاری رفاقت میں رہ کر وہ علم حاصل کروں، انہوں نے کہا: تم اس کے حصول کی طاقت نہیں رکھتے، انھوں نے کہا:آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے، میں تمہاری نافرمانی نہیں کروں گا، خضر علیہ السلام نے کہا:جس کی آپ کو خبر نہیں اس پر تم صبر نہیں کر سکو گے، موسیٰ علیہ السلام نے کہا: مجھے چونکہ حکم ملاہے، اس لئے میں صبر کروں گا، خضر علیہ السلام نے کہا: اگر تم میرے سنگ چلے ہو تو پھر جو بھی میں کرتا جاؤں، تم نے نہیں بولنا،میں خود ہی وضاحت کر دوں گا۔ اب دونوں چلے، کشتی میں سوار ہوئے، جب وہ رکی تو اس کی سواریاں باہر چلی گئیں تو یہ پیچھے رہ گئے اور انھوں نے اس میں سوراخ کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام بول پڑے کہ تم نے اس میں سوراخ کر دیا ہے، کشتی میں بیٹھنے والوں کو غرق کرنا چاہتے ہو، یہ تو اچھا کام نہیں کیا، خضر علیہ السلام نے کہا: میں نے تم سے کہاتھا کہ تم اس سفر میں میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا:میں بھول گیا ہوں، اس پرمؤاخذہ نہ کریںاور تنگ نہ ہوں، پھر چل پڑے اور سمندر کے کنارے پرپہنچ گئے، وہاں بچے کھیل رہے تھے، ان میں ایک بچہ سب سے زیادہ صاف ستھراتھا، خضر علیہ السلام نے اسے پکڑا اور قتل کر دیا، اب کی بات پھر موسیٰ علیہ السلام بول پڑے اورکہا: ایک ایسی جان کو قتل کر دیا ہے، جس کا کوئی قصور نہیں،یہ تو بہت بری چیز ہوئی ہے، خضر علیہ السلام کے تکرار سے کچھ شرم سی محسوس ہونے لگی، موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اگر میں اس کے بعد سوال کروں تو آپ مجھے ساتھ نہ لے جانا،آپ کا عذر معقول ہوگا۔ اب وہ دونوں چلے اور ایک بستی والوں کے پاس آئے اور ان سے کھانا طلب کیا، جبکہ موسیٰ علیہ السلام سخت تھک چکے تھے اور بھوک سے نڈھال تھے، انہوںنے میزبانی کرنے سے انکار کردیا، پھر خضر علیہ السلام نے دیکھا کہ ایک دیوار گرنا چاہتی ہے، پس انھوں نے اسے درست کر دیا، اس بار موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اتنی مشقت میں ہم مبتلاہیں، اگر تم چاہتے تو اس پر اجرت لے لیتے، خضر علیہ السلام نے کہا: یہ میرے اور تمہارے درمیان جدائی کا وقت آ گیا ہے، سید ناموسیٰ علیہ السلام نے ان کا دامن پکڑ لیا اور کہا: جو کچھ آپ نے کیا ہے، اس کاپس منظر تو بیان کردو، خضر علیہ السلام نے کہا: {اَمَّا السَّفِیْنَۃُ فَکَانَتْ لِمَسٰکِیْنَیَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَہَا وَکَانَ وَرَاء َہُمْ مَّلِکٌ یَّاْخُذُ کُلَّ سَفِیْنَۃٍ غَصْبًا۔} (اس کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے۔ میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں، کیونکہ آگے ایک ایسے بادشاہ کا علاقہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔) اب جب وہ بادشاہ کے پاس سے گزرے گی اور وہ اس کو سوراخ زدہ دیکھے گا تو اس کو چھوڑ دے گا، اور (یہ نقص اتنا بڑا بھی نہیں ہے) اس کا مالک لکڑی کا ٹکڑا لگا کا اس کی مرمت کر لے گا اور پھر یہ لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں گے، رہا مسئلہ بچے کو قتل کرنے کا تو اس پر کافر کی مہر لگ چکی تھی، جبکہ اس کے والدین اس سے محبت کرتے تھے، اگر اس معاملے وہ اس کی اتباع کرتے تو وہ ان کو کفر اور سرکشی میں پھنسا دیتا، پس{فَأَ رَدْنَا أَ نْ یُبْدِلَہُمَا رَبُّہُمَا خَیْرًا مِنْہُ زَکَاۃً وَأَ قْرَبَ رُحْمًا} (اس لیے ہم نے چاہا کہ ان کا رب اس کے بدلے ان کو ایسی اولاد دے جو اخلاق میں بھی اس سے بہتر ہو اور جس سے صلہ رحمی بھی زیادہ متوقع ہو۔)، اُدھر اس خاوند نے جب اپنی بیوی سے جماع کیا تو اسے حمل ہو گیا اور اس نے بہترین پاکیزگی والا اور بہت صلہ رحمی کرنے والا بچہ جنم دیا۔ {وَأَ مَّا الْجِدَارُ فَکَانَ لِغُلَامَیْنِیَتِیمَیْنِ فِی الْمَدِینَۃِ، وَکَانَ تَحْتَہُ کَنْزٌ لَہُمَا، وَکَانَ أَ بُوہُمَا صَالِحًا، فَأَ رَادَ رَبُّکَ أَ نْ یَبْلُغَا أَ شُدَّہُمَا، وَیَسْتَخْرِجَا کَنْزَہُمَا، رَحْمَۃً مِنْ رَبِّکَ، وَمَا فَعَلْتُہُ عَنْ أَ مْرِی، ذٰلِکَ تَأْوِیلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَلَیْہِ صَبْرًا}۔ اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں۔ اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لیے ایک خزانہ مدفون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ اس لیے تمہارے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ یہ تمہارے رب کی رحمت کی بنا پر کیا گیا ہے، میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کر دیا ہے۔ یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر تم صبر نہ کر سکے۔
Musnad Ahmad
12083
۔ (۱۲۰۸۳)۔ وعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّہُ حَدَّثَہُمْ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ضَافَ ضَیْفٌ رَجُلًا مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ، وَفِی دَارِہِ کَلْبَۃٌ مُجِحٌّ، فَقَالَتِ الْکَلْبَۃُ: وَاللّٰہِ! لَا أَنْبَحُ ضَیْفَ أَہْلِی، قَالَ: فَعَوٰی جِرَاؤُہَا فِی بَطْنِہَا، قَالَ: قِیلَ: مَا ہٰذَا؟ قَالَ: فَأَوْحَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلٰی رَجُلٍ مِنْہُمْ، ہٰذَا مَثَلُ أُمَّۃٍ تَکُونُ مِنْ بَعْدِکُمْ، یَقْہَرُ سُفَہَاؤُہَا أَحْلَامَہَا۔)) (مسند احمد: ۶۵۸۸)
عبد اللہ بن عمر و بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں ایک آدمی دوسرے کے ہاں مہمان ٹھہرا، میزبان کے گھر میں ایک حاملہ کتیا تھی، کتیا نے سوچا، اللہ کی قسم! میں اپنے مالکوں کے مہمان کو نہیں بھونکوں گی۔ اتنے میں اس کے پیٹ کا پلّا مسلسل چیخنے لگ گیا، کسی نے کہا: یہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ یہ اس امت کی مثال ہے، جو تمہارے بعد آئے گی، اس کے بیوقوف لوگ اس کے عقلمندوں پر غالب آ جائیں گے۔
Musnad Ahmad
12507
۔ (۱۲۵۰۷)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أَکْثَرْنَا الْحَدِیثَ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ ثُمَّ غَدَوْنَا إِلَیْہِ، فَقَالَ: ((عُرِضَتْ عَلَیَّ الْأَنْبِیَائُ اللَّیْلَۃَ بِأُمَمِہَا، فَجَعَلَ النَّبِیُّیَمُرُّ وَمَعَہُ الثَّلَاثَۃُ، وَالنَّبِیُّ وَمَعَہُ الْعِصَابَۃُ، وَالنَّبِیُّ وَمَعَہُ النَّفَرُ، وَالنَّبِیُّ لَیْسَ مَعَہُ أَحَدٌ، حَتّٰی مَرَّ عَلَیَّ مُوسٰی مَعَہُ کَبْکَبَۃٌ مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ، فَأَعْجَبُونِی فَقُلْتُ: مَنْ ہٰؤُلَائِ؟ فَقِیلَ لِی: ہٰذَا أَخُوکَ مُوسٰی مَعَہُ بَنُو إِسْرَائِیلَ، قَالَ: قُلْتُ: فَأَیْنَ أُمَّتِی؟ فَقِیلَ لِیَ: انْظُرْ عَنْ یَمِینِکَ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا الظِّرَابُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوہِ الرِّجَالِ، ثُمَّ قِیلَ لِیَ: انْظُرْ عَنْ یَسَارِکَ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا الْأُفُقُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوہِ الرِّجَالِ، فَقِیلَ لِی: أَرَضِیتَ؟ فَقُلْتُ: رَضِیتُیَا رَبِّ، رَضِیتُیَا رَبِّ، قَالَ: فَقِیلَ لِی: إِنَّ مَعَ ہَؤُلَائِ سَبْعِینَ أَلْفًا یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : فِدًا لَکُمْ اَبِیْ وَاُمِّیْ ٔوَأُمِّی إِنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَکُونُوا مِنَ السَّبْعِینَ الْأَلْفِ فَافْعَلُوا، فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَکُونُوْا مِنْ أَہْلِ الظِّرَابِ، فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَکُونُوا مِنْ أَہْلِ الْأُفُقِ، فَإِنِّی قَدْ رَأَیْتُ ثَمَّ نَاسًا یَتَہَاوَشُونَ۔)) فَقَامَ عُکَاشَۃُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ: ادْعُ اللّٰہَ لِییَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَنْ یَجْعَلَنِی مِنَ السَّبْعِینَ، فَدَعَا لَہُ، فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: ادْعُ اللّٰہَیَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ، فَقَالَ: ((قَدْ سَبَقَکَ بِہَا عُکَاشَۃُ۔)) قَالَ: ثُمَّ تَحَدَّثْنَا فَقُلْنَا: مَنْ تَرَوْنَ ہٰؤُلَائِ السَّبْعُونَ الْأَلْفُ، قَوْمٌ وُلِدُوا فِی الْإِسْلَامِ لَمْ یُشْرِکُوا بِاللّٰہِ شَیْئًا حَتّٰی مَاتُوا، فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((ہُمْ الَّذِینَ لَا یَکْتَوُونَ، وَلَا یَسْتَرْقُونَ، وَلَا یَتَطَیَّرُونَ، وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُونَ۔)) (مسند احمد: ۳۸۰۶)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ایک رات ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کا فی دیر تک باتیں کیں، پھر جب صبح کو ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج رات تمام انبیاء اور ان کی امتیں میرے سامنے پیش کیے گئے، کسی نبی کے ساتھ تین آدمی تھے، کسی کے ساتھ چھوٹی سی جماعت، کسی کے ساتھ جھوٹا سا گروہ تھا اور کچھ نبی ایسے بھی تھے کہ ان کے ساتھ ایک آدمی بھی نہیں تھا، یہاں تک کہ میرے سامنے سے موسیٰ علیہ السلام گزرے اور ان کے ساتھ بنو اسرائیل کی ایک بڑی جماعت تھی، وہ لوگ مجھے بڑے اچھے لگے،میں نے پوچھا:یہ کون لو گ ہیں؟ مجھے بتلایا گیا کہ یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بھائی موسیٰ علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ ان کی قوم بنو اسرائیل ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے پوچھا کہ میری امت کہاںہے؟ مجھ سے کہا گیا کہ آپ اپنی دائیں جانب دیکھیں، میں نے دیکھاتو وہاں ایک بہت بڑا ہجوم ساتھا، جو لوگوں کے چہروں سے بھر ا ہوا تھا، پھر مجھے کہا گیا: اپنی بائیں جانب دیکھیں، میں نے دیکھا تو اس طرف والا افق لوگوں سے بھرا ہوا تھا، پھر مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اب راضی ہیں؟ میں نے کہا: جی میں راضی ہوں، اے میرے رب! میں راضی ہوں، اے میرے ربّ! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے بعد مجھ سے کہا گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان امتیوں کے ساتھ ستر ہزار لوگ ایسے ہیں، جو حساب کے بغیر جنت میںجائیں گے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ماں باپ تم لوگوں پر فدا ہوں، اگر ہوسکے تو تم ان ستر ہزار میں سے بننے کی کوشش کرو اور اگر اس قدرمحنت نہ ہو سکے تو کم از کم اس ہجوم والوںمیں سے ہی بننے کی کوشش کرو اور اگر اتنا بھی نہ ہوسکے تو افق والوں میں سے بننے کی کوشش کرو، میں نے وہاں کچھ لوگوں کو دھکم پیل کرتے بھی دیکھا ہے۔ یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اٹھے اور انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ ان ستر ہزار والوں میں سے مجھے بھی بنا دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی، اتنے میں ان کے بعد ایک اور آدمی کھڑ اہوا اور اس نے بھی یہی درخواست کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عکاشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تم سے سبقت لے گیا۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: پھر ہم باتوں میں مصروف ہوگئے اور ہم نے کہا کہ اس بارے میں کیا خیال ہے کہ یہ ستر ہزار آدمی کون ہوسکتے ہیں، کیا یہ وہ لوگ ہیںجو اسلام میں پیدا ہوئے اور پھر مرتے دم تک شرک کے قریب نہیں گئے؟ جب یہ باتیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں، جو نہ زخموں کو داغتے ہیں،نہ دم جھاڑ کرتے ہیں اور نہ بد فالی یا بد شگونی لیتے ہیں، بلکہ اپنے رب پر مکمل توکل کرتے ہیں۔