۔ (۱۱۲۴۶)۔ عَنْ عَلِیٍّ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((أُعْطِیْتُ مَالَمْ یُعْطَ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِیَائِ۔)) فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاہُوَ؟ قَالَ: ((نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُعْطِیْتُ مَفَاتِیْحَ الْاََرْضِ وَسُمِّیْتُ أَحْمَدَ وَجُعِلَ التُّرَابُ لِیْ طَہُوْرًا وَجُعِلَتْ أُمَّتِیْ خَیْرَ الْأُمَمِ۔)) (مسند أحمد: ۷۶۳)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے وہ چیزیں عطا کی گئی ہیں، جو کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے، مجھے زمین کی چابیاںعطا کی گئی ہیں، میرا نام احمد رکھا گیا ہے، مٹی کو میرے لیے پاک کرنے والا بنا دیا گیا ہے اور میری امت کو سب سے بہترین امت بنایا گیا ہے۔
Takhreej
(۱۱۲۴۶) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱/ ۴۳۴ (انظر: ۷۶۳)
Explanation
فوائد:… زمین کی چابیاں ملنے سے مراد فتوحات ہیں۔
11246
Sahih