قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں
اور علامتوں کا بیان - قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں
اور علامتوں کا بیان - Book 175 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 175 of Musnad Ahmad, with 43 chapters and 280 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
سیدہ سلامہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چیز بھی علاماتِ قیامت سے ہے یا لوگوں کی برائیوں میں سے ہے کہ مسجد والے (سارے لوگ امامت کرانے کے لیے) ایک دوسرے کو آگے دھکیلیں گے، چنانچہ وہ کوئی امام نہیں پائیں گے، جو ان کو نماز پڑھائے۔
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد کچھ عرصہ تک ظلم بندرہے گا، پھر وہ پھیلنا شروع ہوجائے گا اور جس قدر ظلم پھیلے گا، اسی مقدار میں عدل اٹھتا جائے گا، یہاں تک کہ ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے، جوظلم کے علاوہ کسی اور چیز کو پہنچانتے نہیں ہوں گے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ عدل کو لے آئے گا اور جس قدر عدل پھیلتا جائے گا، اسی مقدار میں ظلم اٹھتا جائے گا، یہاں تک ایسے لوگ لوگ پیدا ہو جائیں گے، جو عدل کے علاوہ کسی اور چیز کو جانتے نہیں ہوں گے۔
Takhreej
(۱۲۸۶۰) تخریج: اسنادہ ضعیف ، خالد بن طھمان ضعفہ ابن معین، وقال: خلط قبل موتہ بعشر سنین، وکان قبل ذالک ثقۃ، وأما نافع بن ابی نافع الراوی عن معقل، فان کان ھو نفیع بن الحارث ابا داود الاعمی، فھو متروک الحدیث، وان کان غیرہ فھو لایعرف، أخرجہ الترمذی: ۲۹۲۲ (انظر: ۲۰۳۰۸)
Explanation
فوائد:… لیکن عملی طور پر خلفائے راشدین کے بعد امت مسلمہ میں ظلم پھیلتا رہا اور عدل کم ہوتا رہا، اور آج تلک یہی سلسلہ جاری ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دجال کر ذکر رہے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوئے ہوئے تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوگئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ سرخ تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تمہارے بارے میں دجال کے علاوہ ایک اور چیز کا زیادہ ڈر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بات ذکر کی۔
Takhreej
(۱۲۸۶۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف جابر بن یزید الجعفی، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۱۴۲، وابویعلی: ۴۶۶ (انظر: ۷۶۵)
Explanation
فوائد:… مسند ابی یعلی کی روایت میں اس چیز کی وضاحت کی گئی ہے اور وہ ہے: ((اَئِمَّۃٌ مُضِلُّوْنَ))… گمراہ کرنے والے حکمران
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کی امت کی خوشحالی کتنی مدت تک رہے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا، اُدھر اس نے تین مرتبہ اس سوال کو دہرا دیا، پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا، وہ آدمی چلا گیا، بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ: وہ سائل کہاں ہے؟ صحابہ نے اسے واپس بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے کہ میری امت میں سے کسی نے بھی مجھ سے یہ سوال نہیں کیا، بات یہ ہے کہ میری امت کی خوشحالی کی مدت ایک سو سال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات دو یا تین مرتبہ دہرائی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی کوئی علامت بھی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، زمین میں لوگوں کا دھنسنا، زلزلے آنا اورشیطانوں کو چھوڑا جانا، جو لوگوں کے خلاف چہار طرف سے اکٹھے ہو کر آئیں گے۔
Takhreej
(۱۲۸۶۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو عطاء السکسکی روی عنہ اثنان ولم یوثقہ غیر ابن حبان، ومعاذ بن سعد السکسکی مجھول، أخرجہ الطبرانی فی الشامیین : ۲۵۵۵ (انظر: ۲۲۷۷۰)
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! مجھے ایسا دور نہ پائے یا تم لوگ ایسا زمانہ نہ دیکھو کہ جس میں صاحب ِ علم کی پیروی نہیں کی جائے گی، بردبار اور متحمل مزاج شخص سے شرمایا نہیں جائے گا، اس وقت کے لوگوں کے دل عجمیوں کے دلوں جیسے ہوں گے اور ان کی زبانیں عربوں کی زبانوں جیسی ہوں گی۔
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات کو بیدار ہوئے اور فرمانے لگے: اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، آج رات کس قدر خزانوں کے منہ کھول دیئے گئے، اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، آج رات کس قدر فتنے نازل کر دئیے گئے، کوئی ہے جو جاکر ان حجروں والیوں کو جگائے، کتنی ہی عورتیں ہیں جو دنیا میں لباس پوش ہیں، لیکن آخرت میں ننگی ہوں گی۔
فوائد:… خواب میں وحی یا فرشتے کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مستقبل میں نازل ہونے والی رحمتوں اور عذابوں کے بارے میں بتلایا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مناسب سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں عبادت سے غافل نہ ہوں اور اس شرف پر اکتفا نہ کریںکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں ہیں۔
کتنی ہی عورتیں ہیں جو دنیا میں لباس پوش ہیں، لیکن آخرت میں ننگی ہوں گی۔ اس جملے کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہیں:
۱۔ نسب، مال یا کسی اعزاز کی وجہ سے دنیا میں باعزت، باوقار اور بارعب ہونے کے اسباب موجود ہیں، لیکن آخرت میں یہ سب چیزیں بے وقعت ہو جائیں گی اور اعمال صالحہ کا ذخیرہ ہو گا نہیں۔
۲۔ غِنٰی کی وجہ سے دنیا میں تو ملبوسات مہیا کر لیے ہیں، لیکن اعمال صالحہ نہ ہونے کی وجہ سے آخرت میں ننگی ہوں گی۔
۳۔ لباس تو پہنا ہوا ہے، لیکن وہ اس قدر باریک ہے کہ پردہ نہیں ہو رہا، اس جرم کی آخرت میں سزا ہو گی۔
سیاق و سباق کو دیکھا جائے تو پہلا معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتاہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب بھیجنے کا ارادہ کرتا ہے، تو وہ عذاب سب لوگوں پر نازل ہوتا ہے، پھر حشر میں لوگوں کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا۔
سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک ایسا فتنہ آئے گا جو تمام عربوں کا ستیاناس کر دے گا، اس فتنہ میں قتل ہونے والے لوگ جہنمی ہوں گے، اس فتنہ کے دوران زبان کو استعمال کرنا تلوار کو استعمال کرنے سے بھی زیادہ سنگین ہوگا۔
Takhreej
(۱۲۸۶۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف لیث بن ابی سلیم وجھالۃ حال زیاد بن سیماکوش، وھو تابعی یمامی، أخرجہ ابوداود: ۴۲۶۵، والترمذی: ۲۱۷۸، وابن ماجہ: ۳۹۶۷(انظر: ۶۹۸۰)
Explanation
فوائد:… لیکن یہ بات درست ہے کہ زمانۂ فتن میں زبان کے معاملے میں انتہائی محتاط رہنا چاہیے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کے اندھیروں کی طرح پے در پے آنے والے فتنوں سے پہلے پہلے نیک عمل کرلو، ایک ایسا وقت آنے والا ہے کہ ایک آدمی صبح کے وقت مومن ہوگا، لیکن شام کو کافر ہوچکا ہوگا یا وہ شام کے وقت تو مومن ہوگا، لیکن صبح کو کافر ہوچکا ہوگا، وہ اپنے دین کو دنیا کے معمولی مال کے عوض بیچ ڈالے گا۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایسے زمانے آئیں گے کہ جن میں حالات اس طرح تبدیل ہو جائیں گے کہ ان میں جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا اور خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن قرار دیا جائے گا اور گھٹیا قسم کے لوگ (عوام الناس کے امور پر) بولیں گے۔ کسی نے پوچھا کہ الرُّوَیْبِضَۃُ سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد وہ بے وقوف ہیں جو عام لوگوں کے امور کے بارے میں باتیں کر کے فیصلے کریں گے۔
Takhreej
(۱۲۸۶۸) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۰۳۶ (انظر: ۷۹۱۲)
Explanation
فوائد:… کون سمجھے ان حقائق کو؟ آج کل فیصلہ کرنے والے لوگ کون ہیں؟ لوگوں کی قیادت کرنے والے افراد کیسے ہیں؟ خاندانوں کے سربراہوں کی مذہبی کیفیت کیسی ہے؟ سیاست میں گشت کرنے والوں کے حالات کیسے ہیں؟ صرف تعلیمی اداروں میں اسلامیات کے اعلی تعلیم یافتہ مدرسین کی یہ کیفیت ہے کہ وہ شرعی آداب اور حدود کے پابند نہیں ہوتے، بے پردہ عورتوں میں گھل مل کر رہتے ہیں، اپنے سہولت آمیز اور گندے مزاج کے مطابق اسلام کو لچک دار بناتے ہیں، بلکہ اسلامیات کے ایک پی ایچ ڈی پروفیسر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اب بے پردگی کی اور خواتین و حضرات کی آپس میں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کرنے کی گنجائش نکالنا پڑے گی۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا دجال سے پہلے بھی ایسے سال آئیں گے کہ جن میں حقائق کو تبدیل کردیا جائے گا ۔ آگے اوپر والی حدیث کی طرح ہے، البتہ اس میں ہے: کسی نے پوچھا کہ الرُّوَیْبِضَۃُ کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ فاسق اور گھٹیا شخص جو عام لوگوں کے امور پر بحث کرے گا۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان مال کے بارے میں یہ پروا نہیں کرے گا کہ یہ حلال ہے یا حرام۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: میری امت کے آخری زمانے میں لوگ کجاووں کی طرح کی زینوں پر سوار ہوں گے‘ وہ مساجد کے دروازوں پر اتریں گے‘ ان کی عورتیں لباس پہننے کے باجود ننگی ہوں گی‘ ان کے سر کمزور بختی اونٹوں کے کوہانوں کی طرح ہوں گے۔ ایسی عورتیں ملعون ہیں‘ ان پر لعنت کرنا، اگر تمھارے بعد کوئی اور امت ہوتی تو تمھاری عورتیں اس کی خدمت کرتیں جیسا کہ تم سے پہلے والی امتوں کی عورتوں نے تمھاری خدمت کی ہے۔
فوائد:… سبحان اللہ! جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشین گوئی کر دی، ایسے ہی ہو رہا ہے۔
لباس کے باوجود عورت کا برہنہ یا نیم برہنہ ہونا، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس دور کا امتیازی وصف ہے۔ بازاروں، پارکوں، تعلیمی اداروں اور سیرگاہ بن جانے والی مسجدوں میں اور شادی بیاہ کے موقع پر یہ شرّاتنا عام ہو چکا ہے کہ بے غیرتی کی انتہا ہو گئی ہے۔ رہی سہی کمی میڈیا نے پوری کر دی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ خاندانوں کے سربراہ اس قدر بے حس ہو گئے ہے کہ وہ اس کو برائی تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔
رہا مسئلہ گاڑیوں پر سوار ہو کر مساجد کی طرف آنے کا، تو شرعی مسئلہ کی حد تک اس کی گنجائش ملتی ہے، لیکن اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود کیا ہے؟ شیخ البانی کے درج ذیل کلام میں جواب دیا جائے گا۔
شیخ البانی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: (فوائد المخلص) میں الرحال کے الفاظ ہیں،جب کہ (مسند الامام احمد) اور (الموارد) میں الرجال کے۔ اسی روایت کی شرح کرتے ہوئے شیخ احمد عبد الرحمن بُنّا نے (الفتح الربانی: ۱۷/۳۰۱) میں کہا: (جو لوگ اپنی عورتوں کو بے پردہ چھوڑ دیتے ہیں) وہ انسانی وجود میں ڈھلے ہوئے انسان ضرور ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں مرد نہیں ہوتے، کیونکہ جو مرد حسّی اور معنوی طور پر کامل ہوتا ہے، وہ اپنی عورتوں کو ایسا لباس نہیں پہننے دیتا، جس سے ان کے جسم کا پردہ ہی نہ ہو۔
لیکن وہ اس اشکال پر مطلع نہ ہو سکے، جس کے بارے میں شیخ احمد شاکر رحمہ اللہ تعالیٰ نے مسند احمد پر حاشیہ لگاتے ہوئے کہا: (اگر الرجال کے الفاظ پر مشتمل روایت کو درست تسلیم کریں تو) اس حدیث مبارکہ کے الفاظ میری امت کے آخری زمانے میں لوگ، لوگوں کی طرح زینوں پر سوار ہوں …۔ میں اشکال پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اس طرح کہ مردوں کو مردوں سے تشبیہ دینا بعید بات ہے اور اس کی تاویل میں تکلف پایا جا تا ہے، امام حاکم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((سَیَکُوْنُ فِیْ آخِرِ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ رِجَالٌ یَرْکَبُوْنَ عَلٰی الْمَیَاثِرِ حَتّٰی یَاْتُوْا اَبْوَابَ مَسَاجِدِھِمْ، نِسَاؤُھُمْ کَاسِیَاتٌ عَارِیَاتٌ …۔)) یعنی: میری امت کے آخری زمانے میں لوگ ریشم و دیباج سے آراستہ سواریوں پر سوار ہوں گے، وہ مساجد کے دروازوں پر اتریں گے‘ ان کی عورتیں لباس پہننے کے باجود ننگی ہوں گی‘ …۔ اور طبرانی کے حوالے سے (مجمع الزوائد) میں بیان کردہ الفاظ یہ ہیں: ((سیکون فی امتی رجال یرکبون نساؤھم علی سروج کأشباہ الرجال۔)) مجمع الزوائد کے طابع نے جرأت یا جہالت کی بنا پر اس روایت کے الفاظ یُرْکِبُون کو یرکب سے بدل دیا، میرے نزدیک تو یُرْکِبُونَ نِسَائَ ھُم کے الفاظ واضح اور ظاہر ہیں۔
بہرصورت حدیث ِ مبارکہ کا مرادی معنی واضح ہے اور عصرِ حاضر میں ثابت ہو چکا ہے، بلکہ اس دور سے پہلے بھی لعنت وصول کرنے والی برہنہ عورتوں کا وجود ملتا ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: اگر شیخ احمد شاکر کو الرحال والی روایت کا علم ہوتا تو ان کا اشکال دور ہو جاتا اور بغیر کسی تکلف و توجیہ کے معنی درست ہو جاتا، میرے نزدیک تو تین اسباب کی بنا پر اِنہی الفاظ والی روایت راجح ہے۔
یہ حدیث ِ مبارکہ اسے اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی پوری ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے، آج کل واقعی لوگ گاڑیوں پر سوار ہو کرمساجد کے دروازوں تک پہنچتے ہیں۔ جمعہ کے دن اتنی موٹر کاریں اور دوسری گاڑیاں جمع ہو جاتی ہیں کہ سڑک کھلی ہونے کے باوجود تنگ پڑ جاتی ہے۔ ان لوگوں کی کثیر تعداد یا تو سرے سے باقی پانچ نمازوں کا اہتمام نہیں کرتی یا پھر اپنے گھروں میں ادا کرنے پر اکتفا کرتی ہے۔ گویا کہ ان لوگوں نے نمازِ جمعہ کو ہی کافی سمجھ لیا ہے، اس لیے اس موقع پر ان کی کثیر تعداد موجود ہوتی ہے، گاڑیوں کے ذریعے مساجد تک پہنچنے کی وجہ سے یہ لوگ نماز کے مقصد اور ثمرہ سے محروم رہتے ہیں ، اور ایسے لوگوں کی بیویوں اور بیٹیوں کا معاملہ بھی بڑا واضح ہے۔
اس سے بڑھ کر اس حدیث ِ مبارکہ کا ایک اور مصداق نمازِ جنازہ کے موقع پر دکھائی دیتا ہے۔ نازک مزاج، عیش پرست اور آسودگی کی وجہ سے مغرور اور فرضی نماز کو ترک کرنے والے لوگ اپنی گاڑیوں پر سوار ہو کر نمازِ جنازہ کے پیچھے چلتے ہیں۔ بلکہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب جنازہ کو گاڑی سے اتار کر مسجد میں یا جنازہ گاہ میں رکھا جاتا ہے تو یہ لوگ اپنی گاڑیوں میں بیٹھے رہتے ہیں، البتہ جب دفنانے کا وقت آتا ہے تو عبادت یا ذکرِ آخرت کی بنا پر نہیں، بلکہ نفاق، مداہنت اور چاپلوسی سے کام لیتے ہوئے جنازے کے ساتھ چل پڑتے ہیں ہیں۔ بس اللہ ہی ہے، جس سے مدد طلب کرنی چاہیے۔
میرے نزدیک تو تاویل کی یہی صورت بہتر ہے، اگر یہ درست ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو گی اور اگر یہ خطا پر مبنی ہے تو میری طرف سے ہو گی۔ اللہ تعالیٰ سے سوال ہے کہ وہ میرے تمام گناہ معاف کر دے، وہ دانستہ طور پر کیے ہوں یا نادانستہ طور پر۔ (صحیحہ: ۲۶۸۳)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب آخری زمانہ میں میری امت میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو تمہیں ایسی ایسی احادیث سنائیں گے کہ جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آباء و اجداد نے، پس ایسے لوگوں سے بچ کر رہنا۔
Takhreej
(۱۲۸۷۲) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ مسلم فی المقدمۃ: ۶(انظر: ۸۲۶۷)
Explanation
فوائد:… سبحان اللہ! ناخواندہ تو کجا، تعلیم یافتہ طبقہ بھی اس حدیث کا مصداق بننے سے نہ بچ سکا، صرف دو مثالوں پر غور کریں:
۱۔ أُطْلُبِ الْعِلْمَ مِنَ الْمَہْدِ إِلَی اللَّحْدِ … گود سے گور تک علم حاصل کر۔
۲۔ أُطْلُبِ الْعِلْمَ وَلَوْ فِیْ الصِّیْنِ … علم حاصل کر، اگرچہ تجھے چین جانا پڑے۔
یہ دونوں حدیثیں ہمارے تعلیمی اداروں میںبہت مشہور ہیں اور بڑی کثرت کے ساتھ ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کر کے بیان کیا جاتا ہے، لیکن ان دونوں کی کوئی اصل نہیں ہے۔
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں ایسے لوگ ہوںگے، جو بظاہر بھائی بھائی(اورخیر خواہ) دکھائی دیں گے، لیکن باطنی طور پر ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ کسی نے کہا:اے اللہ کے رسول! ایسے کیوں ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے بعض کی بعض کی طرف رغبت اور بعض کے بعض سے ڈرنے کی وجہ سے ایسا ہوگا۔
Takhreej
(۱۲۸۷۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابی بکر بن عبد اللہ بن ابی مریم، وحبیبُ بن عبید الرحبی لم یدرک معاذا، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۴۳۷، والبزار: ۲۶۵۰ (انظر: ۲۲۰۵۵)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تمہیں (جزیہ کے) دینار و درہم وصول نہیں ہوں گے، کسی نے ان سے پوچھا:اے ابو ہریرہ ! کیا آپ کا خیال یہ ہے کہ ایسا ہوگا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہ کی جان ہے!یہ تو صادق و مصدوق ہستی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے۔ لوگوں نے کہا: ایسا کیوں ہوگا؟ انھوں نے کہا: جب اللہ اور اس کے رسول کے عہد کی پاسداری نہیں کی جائے گی، تو اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ذمیوں کے دلوں کو سخت کر دے گا اور اس طرح وہ اس چیز کو روک لیں گے، جو ان کے ہاتھ میں ہو گی، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہ کی جان ہے! ایسا ضرور ہو کر رہے گا۔ انہوںنے یہ بات دو مرتبہ دہرائی۔
فوائد:… اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی وجہ سے مسلمانوں میں تو بے برکتی، نحوست، خباثت اور نجاست آتی ہے، لیکن اس معصیت کا بظاہر سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ مسلمان مرعوب ہو جاتا ہے اور کافرغالب، اس وقت کوئی اسلامی مملکت اپنے امورِ سلطنت میں آزاد نہیں ہے، بلکہ کوئی سے دو اسلامی ملک اپنی مرضی سے آپس میں آزادانہ تجارت نہیں کر سکتے، ایک دوسرے کو اسلحہ منتقل نہیں کر سکتے، بلکہ اغیار کے اشاروں کے مطابق باہمی تعلقات میں کشیدگی پیدا کر لیتے ہیں اور دیکھا جاتا ہے کہ ایک مسلمان حکمران مسلم مملکت پر حملہ کرنے کے لیے دنیائے کفر کو اپنے ملک کی سرزمین اور اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے رہا ہوتا ہے۔ ذہن نشین کرلیں کہ یہ کافروں کا رعب نہیں ہے ، یہ اپنوں کی بزدلی ہے، یہ عہدوں کی حرص ہے، یہ اسلام سے دوری کا نتیجہ ہے، بقولِ علامہ اقبال:
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
غور کرو، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا غلبہ اور رعب کیوں تھا؟ یہی وجہ تھی کہ انھوں نے اسلام میں عزت و عظمت کو تلاش کیا اور ہم نے اسلام سے بیگانگی کو اپنے اقتدار کی مضبوطی کی علامت سمجھا۔
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ایک وقت آئے گا) کہ اہل عراق اپنا قفیز اور درہم، شام اپنا مُدّ اور دینار اور مصر اپنا اِرْدَب اور دینار روک لے گا، اور تم وہاں لوٹ جاؤ گے، جہاں سے تم نے ابتدا کی تھی، اور تم وہیں لوٹ جاؤ گے، جہاں سے تمہاری ابتدا ہوئی تھی۔ ابوہریرہ کا گوشت اور خون اس حقیقت پر گواہ ہے۔
فوائد:… قفیز، مد اور اردب بالترتیب عراق، شام اور مصر کے ماپ کے پیمانے ہیں۔
امام نووی نے کہا: منعت العراق کے معانی کے بارے میں دو اقوال زیادہ مشہور ہیں (ہم کل چار اقوال نقل کریں گے): ۱۔ اہلِ عراق اسلام قبول کریں گے، اس طرح ان سے جزیہ ساقط ہو جائے گا، گویا کہ وہ اپنے درہم و قفیز کو مسلمانوں کی طرف بھیجنے سے روک لیں گے اور ایسے ہو چکا ہے۔
۲۔ عجمی اور رومی آخر ِ زمانہ میں ان علاقوں پر غالب آ جائیں گے اور مسلمانوں کو ان چیزوں سے روک لیں گے، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت (یوشک ان لایجبی الیھم قفیز…) سے معلوم ہوتا ہے۔ اور ایسے ہمارے زمانے میں ہوا ہے اور وہ اب بھی موجود ہے۔
۳۔ ایک قول یہ ہے کہ اہل عراق، اہل شام اور اہل مصر آخر ِ زمانہ میں مرتدّ ہو جائیں گے اور اس طرح زکوۃ وغیرہ روک لیں گے۔
۴۔ ایک قول یہ ہے کہ جو کفار جزیہ ادا کر رہے ہیں، آخر زمانہ میں ان کی حکومت مضبوط ہو جائے گی اور یہ جزیہ و خراج روک لیں گے۔
منعت کا یہی معنی متبادر الی الذہن ہے، پہلا معنی تو بالکل بعید ہے، لیکن جو شخص اسلام کی وجہ سے جزیہ سے مستثنی ہو جاتا ہے، اس کے بارے میں یہ نہیں کہا جاتا کہ وہ جو کچھ ادا کر رہا تھا، اس سے رک گیا۔
شیخ البانی کہتے ہیں: جب عراق نے کویت پر چڑھائی کی اور پھر جب عراق پر بری، بحری اور فضائی حملے ہونے لگے اور ان کے لیے دوسرے مسلم ممالک کی مدد بند کر دی گئی، تو کئی لوگوں نے اس مناسبت سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا کہ آیا اب عراق اس حدیث کا مصداق بن سکتا ہے؟ میں نے نفی میں جواب دیا اور امام نووی کی عبارتوں کی روشنی میں اس حدیث کا معنی واضح کیا۔ میں نے یکم صفر ۱۴۱۱ہجری کو اس رائے کا اظہار کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ظاہری اور باطنی فتنوں سے محفوظ رکھے۔ (صحیحہ: ۳۰۷۲)
پہلے ہلاکو خان اور اس کی نسل عرصۂ دراز تک عراق اور دوسرے علاقوں پر قابض رہی، پھر تقریبا ایک صدی تک عراق بطورِ مسلم مملکت آزاد رہا اور اب پھر امریکہ کا عراق پر تسلط قائم ہو چکا ہے اور وہ اس سرزمین کے سارے خزانے لوٹ کر لے جا رہا ہے۔
ابونضرہ کہتے ہیں: ہم سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے‘ انھوں نے کہا: قریب ہے کہ اہل عراق کی طرف قفیز اور درہم کی درآمد رک جائے۔ ہم نے کہا: یہ کیسے ہو گا؟ انھوں نے کہا: عجم کی طرف سے‘ (ایک وقت آئے گا کہ) وہ روک لیں گے۔ پھر انھوں نے کہا: قریب ہے کہ اہل شام کی طرف دینار اور مدّ کی درآمد رک جائے۔ ہم نے کہا: یہ کیسے ہو گا؟ انھوں نے کہا: روم سے (ایک وقت آئے گا کہ) وہ روک لیں گے۔ اس کے بعد وہ تھوڑی دیر کے لئے بات کرنے سے رک گئے اور پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے آخر میں ایک ایسا خلیفہ ہو گا جو مال کے چلو بھر بھر کے (لوگوں کو ) دے گا اور اسے شمار نہیں کرے گا ۔ میں نے ابونضرہ اور ابو علاء سے کہا: تمھارا کیا خیال ہے کہ وہ عمر بن عبدالعزیز ہو سکتا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں۔
Takhreej
(۱۲۸۷۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۱۳ (انظر: ۱۴۴۰۶)
Explanation
فوائد:… حدیث کے آخری حصے کے الفاظ یہ ہیں: میری امت کے آخری زمانے میں ایک ایسا خلیفہ پیدا ہو گا‘ جو شمار کئے بغیر مال کے چلو بھر بھر کے (لوگوں کو) دے گا۔
درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خلیفہ سے مراد امام مہدی ہو سکتے ہیں:
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام مہدی کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ((فَیَجِیْئُ اِلَیْہِ الرَّجُلُ، فَیَقُوْلُ لَہٗ: یَا مَھْدِیُّ! اَعْطِنِیْ اَعْطِنِیْ، فَیَحْثِیْ لَہٗ فِیْ ثَوْبِہٖ مَا اسْتَطَاعَ اَنْ یَّحْمِلَہٗ۔)) یعنی: ایک آدمی اس کے پاس آ کر کہے گا: مہدی! مجھے دو، مجھے دو۔ پس وہ چلو بھر بھر کر اس کے کپڑے میں اتنا کچھ ڈال دے گا، جو وہ اٹھانے کی طاقت رکھتا ہو گا۔ (ترمذی، وفیہ زید العمی وھو ضعیف، وتابعہ العلابن بشیر وھو مجھول عند احمد: ۳/ ۳۷ مع تقدیم و تاخیر)مستدرک حاکم کی روایت سے مزید تائید ہوتی ہے، جس میں ہے: وہ (مہدی) لوگوں کو بہترین مال عطا کرے گا۔
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! آج سے قیامت تک جتنے فتنے رونما ہوں گے، میں ان کے متعلق سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں، اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایسی رازدارانہ چیزیں بتلائی ہوں، جو دوسروں کو بیان نہ کی ہوں، بات یہ ہے کہ ایک محفل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فتنوں کے بارے میں پوچھا گیا، میں بھی اس مجلس میں موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتنوں کو شمار کر کے ان کی وضاحت کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے تین فتنے ایسے ہوں گے، جو (اپنی سنگینی کی وجہ سے) کسی چیز کو بھی نہیں چھوڑیں گے، بعض فتنے موسم گرما کی آندھیوں کے سے ہوں گے اور بعض چھوٹے ہوں گے اور بعض بڑے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس محفل میں جتنے لوگ موجود تھے وہ سب وفات پا چکے ہیں، صرف میں زندہ ہوں۔
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ نے مجھے قیامت تک رونما ہونے والے (اہم واقعات اور فتنوں) سے آگاہ فرمایا ہے، میں آپ سے اس قسم کی ہر چیز کے بارے میں پوچھ چکا ہوں، البتہ میں یہ نہ پوچھ سکا کہ کون سی چیز مدینہ کے لوگوںکو مدینہ سے باہر نکالے گی۔