TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان - قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان - Book 175 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 175 of Musnad Ahmad, with 43 chapters and 280 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

280 Hadith · 43 Chapters
فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایات
۔ (۱۲۸۷۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ وَائِلٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَامَ فِیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَقَامًا فَمَا تَرَکَ شَیْأًیَکُوْنُ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ اِلَّا ذَکَرَہُ فِیْ مَقَامِہِ ذٰلِکَ حَفِظَہُ مَنْ حَفِظَہُ وَنَسِیَہُ مَنْ نَسِیَہُ، قَالَ حُذَیْفَۃُ: فَاِنِّیْ لَاَرٰی اَشْیَائَ قَدْ کُنْتُ نَسِیْتُہَا، فَاَعْرِفُہَا کَمَا یَعْرِفُ الرَّجُلُ وَجْہَ الرَّجُلِ قَدْ کَانَ غَائِبًا عَنْہُ یَرَاہُ فَیَعْرِفُہُ، قَالَ وَکِیْعٌ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ) مَرَّۃً: فَرَآہُ فَعَرَفَہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۶۳)
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قیامت تک ہونے والے ہر واقعہ کا ذکر فرما دیا، یاد رکھنے والوں نے ان کو یاد رکھا اور بھلا دینے والوں نے بھلا دیا، میں خود بھی بہت سی ایسی اشیاء دیکھتا ہوں، جو مجھے بھول گئی تھیں، لیکن وہ دیکھنے سے مجھے یاد آ جاتی ہیں، جیسے ایک آدمی جب غائب ہو جانے والے (اور بھول جانے والے) آدمی کو دیکھتا ہے تو وہ اسے پہنچان لیتا ہے۔
Takhreej
(۱۲۸۷۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۶۰۴، ومسلم: ۲۸۹۱ (انظر: ۲۳۲۷۴)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مستقبل میں ہونے والے جتنے اس قسم کے امور بیان کیے تھے، ان میں سے کئی امور کا تعلق صحابۂ کرام کے دور سے تھے، مثلا: سیدنا عمر ، سیدنا عثمان اور سیدنا علی کی مظلومانہ شہادتیں، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلافت میں امت ِ مسلمہ کا مختلف گروہوں میں بٹ جانا، ان میں جنگیں ہونا اور پھر سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ذریعے صلح ہونا، سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت، مال و دولت کی فراوانی، صحابۂ کرام پر سب و شتم، ملوکیت اور اس کے اثرات، بعض صحابہ کو کہنا کہ وہ باغی گروہ کے ہاتھوں قتل ہوں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔ جب سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس قسم کا واقعہ رونما ہوتے ہوئے دیکھتے تو ان کو اس سے متعلقہ حدیث یاد آ جاتی، حدیث نمبر (۱۲۸۸۲)پر غور کریں کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حیات کو فتنوں کی رکاوٹ قرار دیا اور جب اس رکاوٹ کو ہٹا دیا گیا تو سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سمجھ گئے کہ فتنوں کی انتظار ختم ہو گئی ہے، پھر آہستہ آہستہ یہ سلسلہ زیادہ ہوا، یہاں تک کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو شہید کر دیا گیا اور امت ِ مسلمہ دو بڑے فریقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے خلاف محاذ آراء ہو گئی۔
12879
Sahih
فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایات
۔ (۱۲۸۸۰)۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ (ابْنِ الْیَمَانِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہٗقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنْ کُنَّا فِیْ شَرٍّ فَذَھَبَ اللّٰہُ بِذٰلِکَ الشَّرِّ وَجَائَ بِالْخَیْرِ عَلٰییَدَیْکَ فَہَلْ بَعْدَ الْخَیْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: مَاھُوَ؟ قَالَ: ((فِتَنٌ کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ یَتْبَعُ بَعْضُہَا بَعْضًا، تَأْتِیْکُمْ مُشْتَبِہَۃً کَوُجُوْہِ الْبَقَرِ لَا تَدْرُوْنَ اَیًّا مِنْ اَیٍّ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۱۷)
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کفر کے شرّ میں تھے، اللہ تعالیٰ نے اس شرّ کو ختم کر دیا اور آپ کے ہاتھوں پر خیر(اور دینِ اسلام) کو لے آیا، اب سوال یہ ہے کہ آیا اس خیر کے بعد پھر شرّ آئے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انہوںنے پوچھا: وہ کیا ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ فتنے ہوں گے، جو اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح پے در پے آئیں گے اور وہ گائیوں کے چہروں کی طرح ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوں گے اورتم ان میں امتیاز نہیں کر سکو گے۔
Takhreej
(۱۲۸۸۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف السفر بن نسیر الازدی، ثم ھو لم یدرک حذیفۃ (انظر: ۲۳۳۲۸)
12880
Zaeef
فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایات
۔ (۱۲۸۸۱)۔ وَعَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ قَدِمَ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: لَمَّا جَلَسْنَا اِلَیْہِ اَمْسِ سَاَلَ اَصْحَابَ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَیُّکُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْفِتَنِ؟ فَقَالُوْا: نَحْنُ سَمِعْنَاہُ، قَالَ: لَعَلَّکُمْ تَعْنُوْنَ فِتْنَۃَ الرَّجُلِ فِیْ اَھْلِہِ وَمَالِہِ؟ قَالُوْا: اَجَلْ، قَالَ: لَسْتُ عَنْ تِلْکَ اَسْاَلُ، تِلْکَ یُکَفِّرُھَا الصَّلَاۃُ وَالصِّیَامُ وَالصَّدَقَۃُ، وَلٰکِنْ اَیُّکُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْفِتَنِ الَّتِیْ تَمُوْجُ مَوْجَ الْبَحْرِ؟ قَالَ: فَاَمْسَکَ الْقَوْمُ وَظَنَنْتُ اَنَّہُ اِیَّایَیُرِیْدُ، قَالَ: قُلْتُ: اَنَا، قَالَ لِیْ: اَنْتَ لِلّٰہِ اَبُوْکَ، قَالَ: قُلْتُ: تُعْرُضُ الْفِتَنُ عَلَی الْقُلُوْبِ عَرْضَ الْحَصِیْرِ، فَاَیُّ قَلْبٍ اَنْکَرَھَا نُکِتَتْ فِیْہِ نُکْتَۃٌ بَیْضَائُ، وَاَیُّ قَلْبٍ اُشْرِبَھَا نُکِتَتْ فِیْہِ نُکْتَۃٌ سَوْدَائُ حَتّٰییَصِیْرَ الْقَلْبُ عَلٰی قَلْبَیْنِ، اَبْیَضَ مِثْلَ الصَّفَا لَا یَضُرُّہُ فِتْنَۃٌ مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْاَرْضُ، وَالآخَرُأَسْوَدُ مِرْبَدٌ کَالْکُوْزِ مُجَخَّیًا وَأَمَالَ کَفَّہُ لَایَعْرِفُ مَعْرُوْفًا وَلَا یُنْکِرُ مُنْکَرًا اِلَّا مَااُشْرِبَ مِنْ ھَوَاہُ، وَحَدَّثْتُہُ وَبَیْنَہَا بَابًا مُغْلَقًا یُوْشِکُ اَنْ یُکْسَرَ کَسْرًا قَالَ عُمَرُ: کَسْرًا؟ لَا اَبًا لَکَ، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَلَوْ اَنَّہُ فُتِحَ کَانَ لَعَّلَہٗاَنْیُعَادَ فَیُغْلَقَ، قَالَ: قُلْتُ: لَا بَلْ کَسْرًا، قَالَ وَحَدَّثْتُہٗاَنَّذٰلِکَالْبَابَرَجُلٌیُقْتَلُ اَوْیَمُوْتُ۔)) حَدِیْثًا لَیْسَ باِلْاَغَالِیْطِ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۳۳)
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ جب سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے آئے تو انہوں نے کہا: کل جب ہم ان کے پاس بیٹھے تھے تو انہوں نے صحابہ سے پوچھا کہ تم میں سے کس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے فتنوں کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ سب نے کہا: جی ہاں، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایسی احادیث سنی ہیں۔ انہوںنے کہا: شاید تم میرے سوال سے یہ سمجھ رہے ہو کہ میں انسان کے اہل وعیال اور مال کے فتنہ کے بارے میں پوچھ رہا ہوں؟ انہوںنے کہا: جی ہاں، ہم تو یہی سمجھے ہیں۔ انہوںنے کہا: میں اس کے بارے میں نہیںپوچھ رہا، ایسے فتنوں کو تو نماز، روزہ اور صدقہ جیسی نیکیاں ختم کر دیتی ہیں،یہ بتلاؤ کہ کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ان فتنوں کے متعلق سنا ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح آئیں گے؟ ان کا یہ سوال سن کر لوگ خاموش ہوگئے۔ میں سمجھا کہ وہ مجھ سے ہی پوچھ رہے ہیں، اس لیے میں نے کہا: میں بیان کروں؟ انھوں نے کہا:اللہ تمہارے باپ کا بھلا کرے، تم ہی بیان کر دو، میںنے کہا کہ چٹائی کے پھیلاؤ کی طرح فتنے رونما ہوں گے، جو دل ان فتنوں سے محفوظ رہا اس میں سفید نقطہ لگادیا جائے گا اور جو دل اس فتنے میں ملوث ہوگیا اس میں سیاہ نقطہ لگادیا جائے گا، یہاں تک کہ نقطے لگتے لگتے دل دو قسم کے ہوجائیں گے، کچھ دل تو پتھر کی طرح بالکل سفید ہو جائیں گے، جب تک زمین و آسمان قائم رہیں گے ان کو کوئی فتنہ بھی ضرر نہیں پہنچا سکے گا اور کچھ سیاہ ہو کر کوزے کی مانند اس طرح الٹ جائیں گے، اس کے ساتھ ہی انھوںنے اپنی ہتھیلی کو الٹا کر بات کو واضح کیا، وہ کسی اچھائی کو اچھائی اور برائی کو برائی نہیں سمجھیں گے اورصرف اپنی خواہشات میںمگن ہوں گے۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میںنے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ بھی بیان کیا کہ آپ کو ان فتنوں سے خوف زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ آپ کے اور ان کے مابین ایک بند دروازہ ہے، ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ اسے زور سے توڑ دیا جائے، یہ سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تمہارا باپ نہ رہے، کیا اسے توڑ ڈالا جائے گا؟ میں نے کہا جی ہاں، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر اسے سیدھی طرح کھول دیا جائے تو عین ممکن ہے کہ کسی وقت بند بھی ہوجائے۔ میںنے کہا: اسے کھولا نہیں جائے گا، بلکہ توڑ دیا جائے گا۔ نیز میں نے ان کو یہ بھی بیان کیا کہ اس دروازے سے مراد ایک انسان ہے جو قتل کیا جائے گا یا وہ اپنی طبعی موت مرے گا، یہ رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حدیث ہے، محض کہانیاں نہیں۔
Takhreej
(۱۲۸۸۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۲۵، ۱۴۳۵، ۳۵۸۶، ومسلم: ۱۴۴(انظر: ۲۳۴۴۰)
Explanation
فوائد:… توڑ دئیے جانے والے دروازے سے مراد کون سی شخصیت ہے، اس کا ذکر اگلی حدیث میں آرہا ہے۔ اگر رونما ہونے والے فتنوں،اس میں شرکت کرنے والوں اور غیر جانبدار رہنے والوں پر غور کیا جائے تو مذکورہ بالا حدیث مکمل طور پر واضح ہو جائے گی۔
12881
Sahih
فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایات
۔ (۱۲۸۸۲)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثََنِیْ اَبِیْ ثَنَا یَحْیٰی بْنُ سَعِیْدٍ عَنِ الْاَعْمَشِ حَدَّثَنِیْ شَقِیْقٌ قَالَ: سَمِعْتُ حُذَیْفَۃَ وَوَکِیْعٌ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ شَقِیْقٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ وَقَالَ: سَمِعْتُ حُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: اَیُّکُمْیَحْفَظُ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْفِتْنَۃِ؟ قُلْتُ: اَنَا، کَمَا قَالَہُ، قَالَ: اِنَّکَ لَجَرِیْئٌ عَلَیْہَا اَوْعَلَیْہِ، قُلْتُ: فِتْنَۃُ الرَّجُلِ فِیْ اَھْلِہِ وَمَالِہِ وَوَلَدِہٖوَجَارِہِیُکَفِّرُھَا الصَّلَاۃُ وَالصَّدَقَۃُ وَالْاَمْرُ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّہْیُ عَنِ الْمُنْکَرِ۔ قَالَ: لَیْسَ ہٰذَا اُرِیْدُ وَلٰکِنِ الْفِتْنَۃُ الَّتِیْ تَمُوْجُ کَمَوْجِ الْبَحْرِ، قُلْتُ: لَیْسَ عَلَیْکَ مِنْہَا بَاْسٌ یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اِنَّ بَیْنَکَ وَبَیْنَہَا بَابًا مُغْلَقًا، قَالَ: اَیُکْسَرُ اَوْ یُفْتَحُ؟ قُلْتُ: بَلْ یُکْسَرُ، قَالَ: اِذًا لاَ یُغْلَقُ اَبَدًا، قُلْنَا: اَکَانَ عُمَرُ یَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ؟ قَالَ: نَعَمْ، کَمَا یَعْلَمُ اَنَّ دُوْنَ غَدٍ لَیْلَۃً، قَالَ وَکِیْعٌ فِیْ حَدِیْثِہِ: قَالَ: فَقَالَ مَسْرُوْقٌ لِحُذَیْفَۃَ: یَا اَبَا عَبْدِاللّٰہِ کَانَ عُمَرُ یَعْلَمُ مَا حَدَّثْتَہُ بِہٖ؟قُلْنَا: اَکَانَعُمَرُیَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ؟ قَالَ: نَعَمْ کَمَا یَعْلَمُ اَنَّ دُوْنَ غَدٍ لَیْلَۃً، اِنِّیْ حَدَّثْتُہُ لَیْسَ بِالْاَغَالِیْطِ، فَہِبْنَا حُذَیْفَۃَ اَنْ نَسْاَلَہُ مَنِ الْبَابُ فَاَمَرْناَ مَسْرُوْقًا فَسَاَلَہُ فَقَالَ: اَلْبَابُ عُمَرُ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۰۴)
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوںنے سوال کیا کہ کیا تم میںسے کسی کو فتنوں کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی حدیث یا دہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، مجھے فتنہ کے متعلق حدیث یاد ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فتنہ کے بارے میں احادیث بیان کرنے میں تم جرأت والے ہو۔ میں نے کہا: انسان اپنے اہل و عیال، مال و اولاد اور ہمسایوں کے بارے میں جتنے فتنوں میں مبتلا ہوتا ہے، نماز، صدقہ، نیکی کا حکم کرنے اور برائی سے منع کرنے جیسی نیکیاں ایسے فتنوں کا کفارہ بنتی رہتی ہیں۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں ایسے فتنے کے بارے میں نہیں پوچھ رہا، میرا سوال تو اس فتنے کے بارے میں ہے جو سمندر کی موج کی طرح آئے گا۔ میںنے کہا: اے امیر المومنین ! آپ کو اس سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں، آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ انہوں نے پوچھا: اس دروازے کو توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا؟ میں نے کہا: بلکہ اسے توڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا: پھر تو وہ کبھی بھی بند نہ ہو سکے گا۔ ہم نے سیدنا حذیفہ سے دریافت کیا کہ آیا سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ علم تھا کہ دروازہ سے مراد کون آدمی ہے؟ انہوںنے کہا:جی ہاں، وہ اس دروازے کو اس طرح جانتے تھے، جیسے وہ یہ جانتے تھے کہ کل سے پہلے رات آئے گی۔ وکیع نے اپنی حدیث میں یوں بیان کیا: مسروق نے سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے ابو عبداللہ! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جو کچھ بیان کیا، آیا وہ اس کی حقیقت اور مفہوم کو جانتے تھے؟ جبکہ ہم نے کہا: آیا سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جانتے تھے کہ یہ دروازہ کون ہے؟ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بتایا کہ وہ اس بات کو اس طرح جانتے تھے جیسے ان کو یہ علم تھا کہ کل سے پہلے رات آئے گی، یاد رکھو کہ میں نے یہ حقائق بیان کیے ہیں، یہ محض کہانیاں نہیں ہیں۔ پہلے تو ہم سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ پوچھنے کی جسارت نہ کر سکے کہ دروازہ سے مراد کون ہے؟ پھر ہم نے مسروق سے کہا کہ وہ ان سے اس کے بارے میں پوچھے، سو جب اس نے سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا تو انھوں نے بتلایا کہ اس دروازہ سے مراد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔
Takhreej
(۱۲۸۸۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۲۵، ۱۴۳۵، ۳۵۸۶، ومسلم: ص ۲۲۱۸(انظر: ۲۳۴۱۲)
Explanation
فوائد:… فاروق اعظم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شان ہی نرالی ہے، جس ہستی کے راستے پر شیطان نہ ٹھہر سکتا ہے، اس کے زمانے کی خیر و بھلائی اور امن و امان کا کیا کہنا۔ اگرچہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعد کے خلفائے عظام بھی برحق تھے، لیکن جو امتیازات عہد ِ فاروقی کے تھے، وہ بعد والے کسی زمانے کا مقدر نہ بن سکے۔
12882
Sahih
فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایات
۔ (۱۲۸۸۳)۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُحْصُوْا لِیْ کَمْ یَلْفِظُ الاِْسْلَامَ۔)) قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَتَخَافُ عَلَیْنَا وَنَحْنُ مَابَیْنَ السِّتِّمِائَۃِ اِلَی السَّبْعِمِائَۃِ؟ قَالَ: فَقَالَ: ((اِنَّکُمْ لَا تَدْرُوْنَ لَعَلَّکُمْ اَنْ تُبْتَلُوْا۔)) قَالَ: فَابْتُلِیْنَا حَتّٰی جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا لاَ یُصَلِّیْ اِلاَّ سِرًّا۔ (مسند احمد: ۲۳۶۴۸)
سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میرے لیے اسلام کا کلمہ پڑھنے والوں کو شمار کرو۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو ہمارے بارے میں کوئی ڈر ہے، جبکہ ہماری تعداد چھ سو سے سات سوکے درمیان ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نہیں جانتے، ہو سکتا ہے کہ تم پر آزمائشیں آ پڑیں۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: چنانچہ ہمیں اس طرح آزمایا گیا کہ آدمی کو نماز بھی چھپ چھپ کر ادا کرنا پڑی۔
Takhreej
(۱۲۸۸۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۰۶۰، ومسلم: ۱۴۹ (انظر: ۲۳۲۵۹)
Explanation
فوائد:… بنو امیہ کے زمانے میں یہ پیشین گوئی پوری ہو چکی ہے، حافظ ابن حجر نے کہا: یہ صحیح ثابت ہے کہ حجاج بن یوسف اور اس کا امیر ولید وغیرہ نماز کو اس کے پورے وقت سے لیٹ کر دیتے تھے، اس بارے میں آثار مشہور ہیں، مصنف عبد الرزاق میں ہے: امام عطاء ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ کہتے ہیں: ایک دن ولید نے نمازِ جمعہ اتنی لیٹ کر دی کہ شام ہو گئی، پس میں آیا اور بیٹھنے سے پہلے نمازِ ظہر پڑھ لی اور پھر بیٹھ کر اشارے سے نمازِ عصر پڑھی، جبکہ وہ ابھی تک جمعہ کا خطبہ دیے جا رہا تھا۔ امام عطاء نے قتل کے ڈر سے ایسے کیا تھا، ایک روایت امام بخاری کے شیخ ابو نعیم نے اپنی کتاب الصلاۃ میں بیان کی ہے، ابو بکر بن عتبہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو جحیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پہلو میں نماز پڑھی، اُدھر حجاج نے نماز پڑھنے میں شام کر دی، پس سیدنا ابو جحیفہ کھڑے ہوئے اور انھوں نے اپنی نماز پڑھ لی، انھوں نے یہ اثر بھی نقل کیا ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما حجاج کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے، لیکن جب اس نے نماز کو مؤخر کرنا شروع کیا تو وہ اس کے ساتھ پڑھنے کے لیے آتے ہی نہیں تھے، نیز محمد بن ابی اسماعیل نے کہا: میں مِنٰی میں تھا اور ولید پر صحیفے پڑھے جا رہے تھے، پس ان لوگوں نے نماز کو لیٹ کر دیا، میں نے سعید بن جبیر اور عطاء کو دیکھا کہ وہ بیٹھ کر اشاروں سے نماز ادا کر رہے تھے۔(فتح الباری: ۲/ ۱۴)
12883
Sahih
فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایات
۔ (۱۲۸۸۴)۔ عَنْ اَبِیْ ثَوْرٍ قَالَ: بَعَثَ عُثْمَانُ یَوْمَ الْجَرَعَۃِ بِسَعِیْدِ بْنِ الْعَاصِ ،قَالَ: فَخَرَجُوْا اِلَیْہِ فَرَدُّوْہٗقَالَ: فَکُنْتُقَاعِدًامَعَاَبِیْ مَسْعُوْدٍ وَحُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَقَالَ اَبُوْمَسْعُوْدٍ: مَا کُنْتُ اَرٰی اَنْ یَّرْجِعَ لَمْ یُہْرِقْ فِیْہِ دَمًا، قَالَ: فَقَالَ حُذَیْفَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: وَلٰکِنْ قَدْعَلِمْتُ لَتَرْجِعَنَّ عَلٰی عُقَیْبِہَا لَمْ یُھْرِقْ فِیْہَا مَحْجَمَۃَ دَمٍ وَمَا عَلِمْتُ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا اِلَّا شَیْئًا عَلِمْتُہُ وَمُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَیٌّحَتّٰی اِنَّ الرَّجُلَ لَیُصْبِحُ مُؤْمِنًا ثُمَّ یُمِْسیْ، مَامَعَہٗمِنْہُشَیْئٌ، وَیُمْسِیْ مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ، مَامَعَہٗمِنْہُشَیْئٌ،یُقَاتِلُ فِئَتُہٗالْیَوْمَ وَیَقْتُلُہُ اللّٰہُ غَدًا، یُنَکِّسُ قَلْبَہٗ،تَعْلُوْہُاِسْتُہُ۔قَالَ: فَقُلْتُ: اَسْفَلُہُ،قَالَ: اِسْتُہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۳۸)
ابوثور کہتے ہیں: امیرالمومنین سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جرعہ کے فتنہ کے موقعہ پر سیدنا سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس فتنہ کو فرو کرنے کے لیے روانہ کیا، لوگ ان کے مقابلے کے لیے نکلے اور ان کو واپس بھگا دیا۔ ابوثور کہتے ہیں: میں سیدنا ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا تھا، سیدنا ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ یہ لوگ خون بہائے بغیر یوں ہی واپس پلٹ آئیں گے، ان کی بات سن کر سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تو اس بات کو یقینی طور پر جانتا تھا کہ یہ لوگ یونہی واپس پلٹ آئیں گے اور جتنا خون سینگی لگوانے میں نکلتا ہے، اس مہم میں اتنا خون بھی نہیں بہایا جائے گا اور مجھے اس بات کا اس وقت علم ہو گیا تھا، جب محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حیات تھے، (ایسی صورتحال بھی پیدا ہو گی کہ ایک آدمی ایمان کی حالت میں صبح کرے گا، لیکن جب شام ہوگی تو اس کے پاس اس ایمان میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہے گی، اسی طرح ایک آد می ایمان کی حالت میں شام کرے گا، مگر صبح کے وقت اس کے پاس ایمان نام کی کوئی چیز باقی نہیں ہوگی، اس کا لشکر آج کسی کے ساتھ قتال کرے گا اور اگلے دن اللہ تعالیٰ اسی کو قتل کردے گا، اس کے دل کو یوں الٹ پلٹ کرے گا کہ اس کی دبر اس کی اوپر کی جانب ہوگی۔ میں نے کہا: اس کی نچلی جانب؟ اس نے جواب دیا: اس کی دبر۔
Takhreej
(۱۲۸۸۴) تخریج: اسنادہ محتمل للتحسین، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۵۴۶، والطیالسی: ۴۳۲، والطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۷۰۳ (انظر: ۲۳۳۴۸)
12884
Sahih
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۸۸۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَتَقَارَبَ الزَّمَانُ فَتَکُوْنُ السَّنَۃُ کَالشَّہْرِ، وَیَکُوْنُ الشَّہْرُ کَالْجُمُعَۃِ، وَتَکُوْنُ الْجُمُعَۃُ کَالْیَوْمِ، وَیَکُوْنُ الْیَوْمُ کَالسَّاعَۃِ، وَتَکُوْنُ السَّاعَۃُ کَاِحْتِرَاقِ السَّعَفَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۵۶)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ زمانہ اس قدرمختصر نہیں ہوجائے گا کہ ایک سال ایک مہینے کے برابر، ایک مہینہ ایک ہفتے کے برابر، ایک ہفتہ ایک دن کے برابر،ایک دن ایک گھڑی کے برابراور ایک گھڑی اس لمحے کے برابر ہو جائے گی، جس میں کھجور کا خشک پتہ جل جاتا ہے۔
Takhreej
(۱۲۸۸۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابویعلی: ۶۶۸۰، وابن حبان: ۶۸۴۲(انظر: ۱۰۹۴۳)
Explanation
فوائد:… اب وقت تیزی سے گزر رہا ہے، وقت میں واقعی بہت بے برکتی آ گئی ہے۔
12885
Sahih
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۸۸۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَیُلْقَی الشُّحُّ وَتَظْہَرُ الْفِتَنُ وَیَکْثُرُ الْھَرْجُ۔)) قَالَ: قَالُوْا: اَیُّمَایَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((اَلْقَتْلُ اَلْقَتْلُ۔)) (مسند احمد: ۷۱۸۶)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (قیامت کے قریب) وقت مختصر ہوجائے گا، کنجوسی عام ہوجائے گی، فتنے عام ہو جائیں گے اور ھَرْج عام ہوجائے گا۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! مؤخر الذکر سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: قتل ہو گا، قتل۔
Takhreej
(۱۲۸۸۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۰۶۱، ومسلم: ص ۲۰۵۸(انظر: ۷۱۸۶)
12886
Sahih
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۸۸۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَکْثُرَ فِیْکُمُ الْمَالُ وَیَفِیْضَ حَتّٰییَہُِمَّ رَبُّ الْمَالِ مَنْ یَّقْبَلُ مِنْہٗصَدَقَتَہٗقَالَ: وَیُقْبَضُ الْعِلْمُ، وَیَقْتَرِبُ الزَّمَانُ، وَتَظْہَرُ الْفِتَنُ، وَیَکْثُرُ الْھَرْجُ۔)) قَالُوْا: اَلْھَرْجُ اَیُّمَا ھُوَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((اَلْقَتْلُ اَلْقَتْلُ۔)) (مسند احمد: ۸۱۲۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت قائم ہوگی جب تمہارے اندر مال و دولت اس قدر عام ہوجائے گا کہ مال دار آدمی اس وجہ سے پریشان ہوجائے گا کہ اس کا صدقہ کون قبول کرے گا اور علم چھین لیا جائے گا، وقت مختصر ہوجائے گا، فتنے برپا ہوں گے اور ھَرْج عام ہوگا۔ صحابہ نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ھرج سے کیا مراد ہے؟آپ نے فرمایا: قتل ہے، قتل۔
Takhreej
(۱۲۸۸۷) تخریج: أخرج شطرہ الثانی البخاری: ۶۰۳۷، وأخرجہ مقطعا مسلم: ص ۷۰ و۲۰۵۸ و ۲۲۱۵(انظر: ۸۱۳۵)
Explanation
فوائد:… مال و دولت تو اب بھی بہت زیادہ ہے، لیکن ابھی تک صدقہ قبول کرنے والے فقراء و مساکین کی تعداد بھی خاصی ہے۔
12887
Sahih
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۸۸۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ اَبُوالْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییُقْبَضَ الْعِلْمُ، وَتَظْہَرَ الْفِتَنُ، وَیَکْثُرَ الْھَرْجُ۔)) قَالُوْا: وَمَا الْھَرْجُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((اَلْقَتْلُ۔)) (مسند احمد: ۷۴۸۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم ہوگی جب علم چھین لیا جائے گا، فتنے نمودار ہوں گے اور ھرج عام ہوجائے گا۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! ھرج سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قتل۔
Takhreej
(۱۲۸۸۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۰۶۱، ومسلم: ص ۲۰۵۷ (انظر: ۷۴۸۸)
Explanation
فوائد:… اب شرعی علم کا شدید فقدان ہے، بڑے بڑے اہل علم بہت جلد وفات پا رہے ہیں، اس وقت ہمارا زمانہ درج ذیل حدیث ِ مبارکہ کا مصداق بنا ہوا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰہَ لَا یَقْبِضُ الْعِلْمَ اِنْتِزَاعًا یَنْتَزِعُہُ مِنَ النَّاسِ، وَلٰکِنْ یَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَائِ حَتّٰی اِذَا لَمْ یَتْرُکْ عَالِمًا، اِتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَائَ جُہَّالًا فَسُئِلُوْا فَأَفْتَوْا بِغَیْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوْا وَأَضَلُّوْا۔)) … بیشک اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گاکہ وہ اِس کو لوگوں سے سلب کر لے، وہ تو علماء کو فوت کر کے علم کو اٹھائے گا، یہاں تک کہ جب وہ کسی عالم کو زندہ نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گے، پس جب ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے اور اس طرح خود بھی گمراہ ہو جائیں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ (صحیح بخاری: ۱۰۰، صحیح مسلم: ۲۶۷۳) اگر اِس دور کا سلف صالحین اور ان کے بعد والے دور سے موازنہ کیا جائے تو واضح طور پر علم شرعی کا شدید فقدان نظر آئے گا، قتل اور فتنوں کی کثرت کا معاملہ تو واضح ہے۔ یہاں یہ بات ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ دنیوی تعلیم کی تمام صورتیں ایک فن ہیں، جو دنیا میں مختلف انداز میں معاون ثابت ہوتی ہیں، لیکن اس تعلیم سے تقوی، صالحیت اور اسلامی غیرت کے جذبات اور دین کی سمجھ حاصل نہیں ہوتی، بلکہ بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اعلی ڈگری حاصل کرنے کے بعد غرور و تکبر میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ غور فرمائیں کہ ہمارے معاشرے میں انگریزی، ریاضی، کیمسٹری، کمپیوٹر، اردو اور دوسرے مضامین میں ماسٹر، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریوں کے حاملین موجود ہیں، لیکن اگر وہ فہم قرآن سے محروم ہیں، ترجمۂ قرآن سے دور ہیں، علم حدیث پر ان کو دسترس حاصل نہیں ہے، اسلامی فقہ کا ان کو تجربہ نہیں ہے، تو یہی کہا جائے گا کہ اس معاشرے میں شرعی علم کا فقدان ہے اور اس میں بسیرا کرنے والے جاہل ہیں، کیونکہ شریعت کی نگاہ میں اس چیز کو علم کہتے ہیں جو اعمال صالحہ کا سبب بنتا ہے۔ قارئین کرام! محسوس نہ کرنا، راقم الحروف کا ایسے ہزاروں افراد سے واسطہ پڑا، جو اعلی دنیوی تعلیم سے آراستہ ہیں، لیکن نماز جیسے فریضے سے کوسوں دور ہیں، قرآن مجید کی دیکھ کر بھی تلاوت نہیں کر سکتے، اہلیت ہونے کے باوجود میں کئی کئی ماہ قرآن مجید کھولنا ان کو نصیب نہیں ہوتا، لیکن اپنے آپ کو اتنا اہلیت والا سمجھتے ہیں کہ گویا ان کے بغیر دنیا بے آسرا ہو جائے گی۔ اگر آپ کو یقین نہیں ہے تو نماز کے وقت میں کسی یونیورسٹی اور اس میں تعمیر شدہ مسجد کاجائزہ لے لیں۔ شریعت میں ایسے معاشرے کی کوئی وقعت نہیں ہے۔
12888
Sahih
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۸۸۹)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَیَقُوْلُ: یَالَیْتَنِیْ مَکَانَہٗمَابِہٖحُبُّلِقَائِاللّٰہِعَزَّوَجَلَّ۔)) (مسنداحمد: ۱۰۸۷۸)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک اس قسم کے حالات پیدا نہ ہوجائیں گے کہ ایک آدمی کسی قبر کے پاس سے گزرتے ہوئے کہے گا: کاش میں اس کی جگہ پر ہوتا، یہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے شوق کی وجہ سے نہیں ہو گا (بلکہ حالات کی سنگینی کی بنا پر ہو گا)۔
Takhreej
(۱۲۸۸۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۱۱۵، ومسلم: ص ۲۲۳۱ (انظر: ۱۰۸۶۶)
Explanation
فوائد:… عصرِ حاضر میں بعض لوگ ایسی ایسی آزمائشوں میں گھرے ہوئے ہیں کہ وہ موت کی تمنا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ خوشحال لوگوں کو ان کی آزمائشوں کا اندازہ نہیں ہو سکتا ہے۔ شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ وہ آدمی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے اور اس سے ملاقات کرنے کی بنا پر نہیں، بلکہ دنیوی آزمائشوں اور فتنوں کی وجہ سے موت کی تمنا کرے گا۔ لیکن اس حدیث سے یہ اشارہ ضرور ملتا ہے کہ دین کی خاطر موت کی تمنا کی جا سکتی ہے، رہا مسئلہ اس حدیث مبارکہ کا کہ ((لَا یَتَمَنَّیَنَّ اَحَدُکُمْ اَلْمُوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِہِ …۔)) … کوئی آدمی کسی تکلیف کی بنا پر موت کی تمنا نہ کرے …۔ کیونکہ یہ صورت دنیوی معاملے کے ساتھ خاص ہے۔ حافظ ابن حجر نے کہا:سلف کی ایک جماعت کے نزدیک فسادِ دین کے وقت موت کی تمنا کرنا ثابت ہے، اس سے سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی درج بالا حدیث کی تائید ہوتی ہے۔ امام نووی نے کہا: ایسے وقت میں موت کی تمنا کرنا مکروہ نہیں ہے، کیونکہ کئی سلف صالحین نے ایسے کیا ہے، جیسا سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ … (صحیحہ: ۵۷۸) شیخ البانی کے دعوے کی تصدیق صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ سے ہوتی ہے: ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ! لَاتَذْھَبُ الدُّنْیَا حَتّٰی یَمُرَّ الرَّجُلُ عَلَی الْقَبْرِ فَیَتَمَرَّغُ عَلَیْہِ، وَیَقُوْلُ: یَا لَیْتَنِیْ کُنْتُ مَکَانَ صَاحِبِ ھٰذَا الْقَبَرِ وَلَیْسَ بِہِ الدِّیْنُ اِلَّا الْبَلَائَ)) … اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے! اس وقت تک دنیا ختم نہیں ہو گی، جب تک ایسے نہ ہو گا کہ ایک آدمی ایک قبر کے پاس سے گزرے گا، اس پر لیٹے گا اور کہے گا: ہائے کاش! میں اس قبر والے کی جگہ پر ہوتا، اس کا موت کی تمنا کرنا دین کی بنا پر نہیں ہو گا، آزمائشوں کی وجہ سے ہو گا۔
12889
Sahih
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۸۹۰)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَضْطَرِبَ اَلْیَاتُ نِسَائِ دَوْسٍ حَوْلَ ذِی الْخَلَصَۃِ وَکَانَتْ صَنَمًا یَعْبُدُھَا دَوْسٌ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ بِتَبَالَۃَ۔)) (مسند احمد: ۷۶۶۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک دوس قبیلے کی عورتیں کے چوتڑ ذُوْالْخَلَصَۃ نامی بت کے گرد چکر لگاتے ہوئے حرکت نہیں کریں گے، یہ (یمن کے علاقے میں) تَبَالَہ کے مقام پر ایک بت تھا،دوس قبیلے کے لوگ اسلام سے قبل اس کی عبادت کیا کرتا تھا۔
Takhreej
(۱۲۸۹۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۱۱۶، ومسلم: ۲۹۰۶(انظر: ۷۶۷۷)
Explanation
فوائد:… چوتڑ کی حرکت سے مراد اس بت کا طواف ہے، یعنی لوگ پھر سے کفریہ عقائد میںمبتلا ہو جائیں گے اور بتوں کی عبادت اور تعظیم شروع کر دیں گے۔
12890
Sahih
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۸۹۱)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا: اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَاْخُذَ اُمَّتِیْ بِمَاْخَذِ الْاُمَمِ وَالْقُرُوْنِ قَبْلَہَا شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمَا فَعَلَتْ فَارِسُ وَالرُّوْمُ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَھَلِ النَّاسُ اِلَّا اُولٰئِکَ۔)) (مسند احمد: ۸۴۱۴)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک میری امت ہو بہو پہلی امتوں اور لوگوں والے کام نہیں کرے گی؟ ایک آدمی نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا جس طرح فارسی اور رومی لوگوں کے کام تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں سے مراد ہی یہی لوگ ہیں۔
Takhreej
(۱۲۸۹۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۳۱۹ (انظر: ۸۴۳۳)
Explanation
فوائد:… یعنی امت ِ مسلمہ کے لوگ دوسرے مذاہب کی نقالی شروع کر دیں گے، اب کئی امور میں واقعی دوسروں کی نقالی کی جا رہی ہے۔
12891
Sahih
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۸۹۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَعُوْدَ اَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوْجًا وَاَنْہَارًا وَحَتّٰییَسِیْرَ الرَّاکِبُ بَیْنَ الْعِرَاقِ وَمَکَّۃَ لَایَخَافُ اِلَّا ضَلَالَ الطَّرِیْقِ، وَحَتّٰییَکْثُرَ الْھَرْجُ۔)) قَالُوْا: وَمَا الْھَرْجُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((اَلْقَتْلُ۔)) (مسند احمد: ۸۸۱۹)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہو گی, جب تک عربوں کی سر زمین سبزہ زاروں اور نہروں کی صورت اختیار نہیں کر لے گی اور جب تک ایسا نہیں ہو گا کہ عراق سے مکہ تک سفر کرنے والے کو صرف راستہ بھول جانے کا ڈر ہو گا اور ھرج عام ہوجائے گا۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ھرج سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قتل۔
Takhreej
(۱۲۸۹۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرج القطعۃ الاولی الحاکم: ۴/ ۴۷۷ (انظر: ۸۸۳۳)
Explanation
فوائد:… شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: جزیرۂ عرب کے بعض علاقوں میں اس حدیث ِ مبارکہ میں کی گئی پیشینگوئی کے آثار و علامات دکھائی دینے لگے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی خیرات و برکات کے نزول کے کئی مناظر نظر آ رہے ہیں، مختلف آلات کے ذریعے صحرائی زمین سے آبپاشی کے لیے پانی نکالا جا رہا ہے۔ بعض مقامی اخبار میں یہ بات بھی شائع ہوئی تھی کہ فرات کا رخ جزیرۂ عرب کی طرف موڑنے کے منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے، ممکن ہے کہ منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچ جائے۔ مولانا مودودی کہتے ہیں: تبوک کے محکمہ شرعیہ کے رئیس شیخ صالح نے بتایا کہ یہ چشمہ دو سال پہلے تک پونے چودہ سو سال سے مسلسل ابلتا رہا، بعد میں نشیبی علاقوں میں ٹیوب ویل کھودے گئے تو اس چشمے کا پانی ان ٹیوب ویلز کی طرف منتقل ہو گیا۔ تقریباً پچیس ٹیوب ویلز میں تقسیم ہو جانے کے بعد اب یہ چشمہ خشک ہو گیا ہے، اس کے بعد شیخ صالح ہمیں ایک ٹیوب ویل کی طرف بھی لے گئے، جہاں ہم نے دیکھا کہ چار انچ کا ایک پائپ لگا ہوا ہے اور کسی مشین کے بغیر اس سے پانی پورے زور سے نکل رہا ہے، قریب قریب یہی کیفیت دوسرے ٹیوب ویلز کی بھی ہمیں بتائی گئی۔ یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزے ہی کی برکت ہے، آج تبوک میں اس کثرت سے پانی موجود ہے، کہ مدینہ اور خیبر کے سوا ہمیں کہیں اتنا پانی دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تبوک کا پانی ان دونوں جگہوں سے بھی زیادہ ہے۔ اس پانی سے فائدہ اٹھا کر اب تبوک میں ہر طرف باغ لگائے جا رہے ہیں اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیش گوئی کے مطابق تبوک کا علاقہ باغوں سے بھرا ہوا ہے اور دن بدن بھرتا جا رہا ہے۔ (سفرنامہ ارض قرآن)
12892
Sahih
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۸۹۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَفِیْضَ فِیْکُمُ الْمَالُ وَحَتّٰییَہُمَّ الرَّجُلُ بِمَالِہِ مَنْ یَّقْبَلُہُ مِنْہُ حِیْنَیَتَصَدَّقُ بِہٖفَیَقُوْلُ الَّذِیْیَعْرِضُ عَلَیْہِ: لَا اَرَبَ لِیْ بِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۱۰۸۷۴)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ تمہارے اندر مال و دولت کی اس قدرفراوانی نہ ہوجائے گی کہ مال دار آدمی صدقہ کرتے وقت پریشان ہوگا کہ وہ کسے دے، اور وہ جسے دے گا، وہ کہے گا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔
Takhreej
(۱۲۸۹۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۴۱۲، ۷۱۲۱ (انظر: ۱۰۸۶۲)
12893
Sahih
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۸۹۴)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَقْتَتِلُ فِئَتَانِ عَظِیْمَتَانِیَکُوْنُ بَیْنَہُمَا مَقْتَلَۃٌ عَظِیْمَۃٌ وَدَعْوَاھُمَا وَاحِدَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۰۸۷۶)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ دو بڑے گرہوں کے درمیان بڑی جنگ نہ ہو جائے اور دونوں کا دعوی بھی ایک ہوگا۔
Takhreej
(۱۲۸۹۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۹۳۵، ۷۱۲۱، ومسلم: ص ۲۲۱۴(انظر: ۱۰۸۶۴)
Explanation
فوائد:… ان دو گروہوں سے مراد سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گروہ ہیں، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کے زمانے میں ان دو گروہوں کے درمیان جنگ صفین ہوئی تھی، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ذریعے ان دو گروہوں کے درمیان صلح ہو گئی تھی۔
12894
Sahih
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۸۹۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تُقَاتِلُوْا خُوْزَ وَ کِرْمَانَ، قَوْمًا مِنَ الْاَعَاجِمِ، حُمْرَ الْوُجُوْہِ فُطْسَ الْاُنُوْفِ، کَاَنَّ وُجُوْھَہُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَۃُ۔)) (مسند احمد: ۸۲۲۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاـ: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم دو عجمی قوموں خوز اور کرمان سے قتال نہیں کرو گے، جن کے چہرے سرخ اور ناک چپٹے ہوں گے، اور ان کے چہرے ڈھالوں کی طرح چوڑے چپٹے ہوں گے۔
Takhreej
(۱۲۸۹۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۵۹۰، ومسلم: ۲۹۱۲(انظر: ۸۲۴۰)
Explanation
فوائد:… اب ایران کے مغربی حصے میں خوزستان اور اس کے جنوب مشرق میں کرمان واقع ہے۔
12895
Sahih
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۸۹۶)۔ وَعَنْہٗاَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تُقَاتِلُوْا اَقْوَامًا نِعَالُھُمُ الشَّعْرُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۸۷۲)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہیں کرو گے جن کے جوتے بال دار ہوں گے۔
Takhreej
(۱۲۸۹۶) تخریج: أخرجہ البخاری ضمن حدیث طویل:۶۵۰۶، ۷۱۲۱ (انظر: ۱۰۸۶۰)
Explanation
فوائد:… ایک روایت میں ہے کہ ان کے لباس بھی بالوں کے ہوں گے، کیونکہ ان کے علاقے زیادہ برف باری ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ سرد ہیں، یہی لباس ان کے لیے زیادہ مفید ہے۔ ملا علی قاری نے کہا ہے کہ بالوں سے مراد دباغت کے بغیر وہ چمڑے ہیں، جن پر بال لگے ہوئے ہوں۔ ابو نعیم نے اپنی مستخرج میںکہا: ان سے مراد اکراد یا دیلم کے لوگ ہیں۔
12896
Sahih
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۸۹۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تُقَاتِلُوْا التُّرْکَ صِغَارَ الْعُیُوْنِ حُمْرَ الْوُجُوْہِ، ذُلْفَ الْاُنُوْفِ، کَاَنَّ وُجُوْھَہُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۸۷۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم ترکوں سے قتال نہیں کرو گے، جن کی آنکھیں چھوٹی، چہرے سرخ اور ناک چپٹے ہوں گے اور گویا ان کے چہرے ڈھالوں کی طرح چوڑے چوڑے ہوں گے۔
Takhreej
(۱۲۸۹۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۹۲۹، ومسلم: ۲۹۱۲ (انظر: ۱۰۸۶۱)
Explanation
فوائد:… یہ پیدائشی اوصاف ترک اور ازبک لوگوںمیں پائے جاتے ہیں۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۲۳۴) جغرافیائی حدود میں تبدیلی کی وجہ سے علاقوں کے قدیم اور جدید ناموں میں اختلاف پایا جا تا رہا ہے۔
12897
Sahih
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
۔ (۱۲۸۹۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا فَیُؤْمِنُ النَّاسُ اَجْمَعُوْنَ، فَیَوْمَئِذٍ لَایَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا، لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ کَسَبَتْ فِیْ اِیْمَانِہَا خَیْرًا، وَلَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تُقَاتِلُوا الْیَہُوْدَ فَیَفِرُّ الْیَہُوْدِیُّ وَرَائَ الْحَجَرِ، فَیَقُوْلُ الْحَجَرُ: یَا عَبْدَ اللّٰہِ! یَا مُسْلِمُ! ہٰذَا یَہُوْدِیٌّ وَرَائِیْ، وَلَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تُقَاتِلُوْا قَوْمًا نِعَالُھُمُ الشَّعْرُ۔)) (مسند احمد: ۹۱۶۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہو، اور اس علامت کو دیکھ کر سب لوگ ایمان لے آئیں گے، مگر جو لوگ اس سے پہلے ایمان نہیں لا چکے ہوں گے یا جنھوں نے اچھے عمل نہیں کیے ہوں گے، ان کو ان کا ایمان فائدہ نہیں دے گا اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم یہودیوں سے قتال نہیں کر لو گے، یہودی بچنے کے لیے دوڑ کر پتھر کے پیچھے پناہ لے گا، لیکن وہ پتھر یوں بولے گا: اے اللہ کے بندے! اے مسلم! یہ یہودی میرے پیچھے ہے، اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہیں کر لو گے جن کے جوتے بال دار ہوں گے۔
Takhreej
(۱۲۸۹۸) تخریج: أخرجہ البخاری ضمن حدیث مطول: ۶۵۰۶، ۷۱۲۱، و أخرج الفقرۃ الاولی منہ مسلم: ۱۵۷(انظر: ۹۱۷۲)
Explanation
فوائد:… یہودیوں کے ساتھ یہ معاملہ حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانے میں پیش آ ئے گا۔
12898
Sahih

Chapters

43
01
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
10 Hadith
02
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
9 Hadith
03
مسلمانوں کے آپس میں لڑنے کا بیان
6 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
18 Hadith
05
اس جہت کا ذکر جدھر سے فتنے آئیں گے، نیز خوارج‘ حروریہ اور روافض کا بیان
5 Hadith
06
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں نمودار ہونے والے ان خوارج کا تذکرہ، جو متقدم الذکر عراقیوں کی اولا د تھے، ان کو حروریّہ بھی کہا جاتا ہے
4 Hadith
07
روافض کا بیان
1 Hadith
08
قیامت سے پہلے تیس جھوٹوں کے ظہور کا بیان، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے، ان میں سے ایک مسیلمہ کذاب ہے
3 Hadith
09
قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
20 Hadith
10
ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
19 Hadith
11
ذِمِّی لوگوں کا جزیہ کی ادائیگی بند کر دینے کا بیان
3 Hadith
12
فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایات
8 Hadith
13
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
15 Hadith
14
اس سلسلے میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
4 Hadith
15
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
10 Hadith
16
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
4 Hadith
17
امام مہدی کا ظہور اور اس کی مدتِ قیام
8 Hadith
18
امام مہدی کی بیعت اور ان کے مخالفین کا زمین میں دھنسنے کا بیان
6 Hadith
19
جزیرۂ عرب ، فارس اور روم کے غزوات کا بیان
9 Hadith
20
ارضِ بصرہ میں ترکوں کے ساتھ لڑائی کا بیان
4 Hadith
21
دریائے فرات کا سونے کے ایک پہاڑ سے سر کنے اور اس پر لوگوں کے لڑنے کا بیان
2 Hadith
22
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
4 Hadith
23
دجال کے اوصاف اور ان کی ابن صیاد سے مطابقت
2 Hadith
24
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا ابن صیاد کا سامنا کرنے اور اسے مارنے اور اس وقت ابن صیاد کی طرف سے خلافِ عادت امور کے ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
25
ابن صیاد کی جرأت، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس کو قتل کرنے کے ارادہ کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کو اس سے منع کر دینے کا بیان
4 Hadith
26
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ابن صیاد کے بارے میں اس طرح اہتمام کرنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مخفی انداز میں اس کی طرف جانا اور اس کی باتیں سننے کی کوشش کرنا اور اس کی ماں کو خبردار کرنا
3 Hadith
27
ابن صیاد کی چالاکی اور اس بات کا انکار کہ وہ دجال ہے
2 Hadith
28
ابن صیاد کے خلافِ عادت امور کا بیان
5 Hadith
29
دجال کے ظہور سے تین سال پہلے لوگوں پر پڑنے والی مشکلات اور اس کے ظہور کے بعد ان کے ساتھ اس کے سلوک کا بیان
2 Hadith
30
فتنہ دجال کے بڑے ہونے اور اس کے ظہور کی علامتوں کا بیان
5 Hadith
31
دجال کے مقام کے تعین اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے سے اس کے موجود ہونے کا بیان
2 Hadith
32
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
24 Hadith
33
ان لوگوں کا تذکرہ، جن کو اللہ تعالیٰ فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے گا
6 Hadith
34
دجال کے ظہور کے بعد اس کی زمین پر قیام کی مدت، اس کا خضر نامی مومن کو قتل کر کے پھر زندہ کرنے اور اسے اس کے علاوہ کسی دوسرے پر اس قسم کا تسلط نہ ہونے اور اس کے ہلاک ہو جانے کا بیان
4 Hadith
35
ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
4 Hadith
36
اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونے، دجال کو قتل کرنے ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کرنے ، زمین میں چالیس برس تک قیام کرنے، پھر ان کے وفات پانے اور مسلمانوں کا ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان
7 Hadith
37
یاجوج ماجوج کا ظہور بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے
5 Hadith
38
یاجوج و ماجوج کے حلیے کا بیان
1 Hadith
39
سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے اور توبہ کے دروازے کے بند ہونے کا بیان
9 Hadith
40
چوپائے کا ظہور
3 Hadith
41
ایک خوش گوار قسم کی ہوا کا چلنا، جو اہل ایمان کی روحیں قبض کر لے گی
3 Hadith
42
کعبہ کا منہدم ہونااور جشیوں کے ہاتھوں اس کے خزانوں کو نکالا جانا
5 Hadith
43
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
10 Hadith
No chapter matched that.