مولائے رسول سیدنا سفینہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مُدّ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو اور ایک صاع سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غسل جنابت ہو جاتا تھا۔
موسی جہنی کہتے ہیں: لوگ رمضان میں ایک بڑا پیالہ لے کر آئے، میں نے اندازہ لگایا کہ وہ آٹھ یا نو یا دس رطل ہو گا، مجاہد نے کہا: مجھے سیدہ عائشہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قسم کے برتن سے غسل کرتے تھے۔
سیدہ عائشہؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب غسلِ جنابت کا ارادہ کرتے تو تین دفعہ ہاتھ دھوتے، ایک روایت میں ہے: پانی والا برتن رکھا جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے ان پر پانی بہا کر ان کو دھوتے تھے، پھر دائیں ہاتھ کے ذریعے پانی کر لیتے اور اس کو بائیں ہاتھ پر بہا کر شرمگاہ کو دھوتے، یہاں تک کہ وہ صاف ہو جاتی، پھر اپنے ہاتھ کو اچھی طرح دھوتے، پھر تین تین بار کلی کرتے اور ناک میں پانی چڑھاتے، تین دفعہ چہرہ دھوتے، تین مرتبہ بازوؤں کو دھوتے، پھر اپنے سر پر تین بار پانی بہاتے، پھر غسل کرتے،ایک روایت میں ہے: پھر بقیہ جسم کو دھوتے، جب باہر تشریف لے آتے تو پاؤں کو دھوتے تھے۔
۔ (دوسری سند) سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب غسلِ جنابت کرتے تو نماز والا وضو کرتے، اپنی شرمگاہ کو اور پاؤں کو دھوتے اور اپنے ہاتھ کو دیوار کے ساتھ رگڑتے تھے، پھر اپنے آپ پر پانی بہا دیتے تھے، گویا میں دیوار میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ کا نشان دیکھ رہی ہوں۔
Takhreej
(۸۷۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، الشعبی لم یسمع من عائشۃ۔ أخرجہ مختصرا ابوداود: ۲۴۴ (انظر: ۲۵۹۹۵)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کے لفظوں میں تقدیم و تاخیر ہے، وگرنہ وضو استنجا کے بعد ہی ہو گا۔
۔ (تیسری سند) سیدہ عائشہؓ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غسل کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہاتھوں سے شروع کرتے، ان کو دھوتے، ایک روایت میں ہے: تین دفعہ اپنی ہتھیلیوں کو دھوتے تھے، پھر نماز والا وضو کرتے تھے، پھر اپنے سر کے بالوں کی جڑوں کے بیچ میں انگلیاں ڈالتے، جب ظنِّ غالب ہو جاتا کہ چمڑہ تر ہو گیا ہے تو دو ہاتھوں کے بھرے ہوئے تین چلو اپنے سر پر ڈالتے، پھر باقی جسم پر پانی بہا دیتے۔
زوجۂ رسول سیدہ میمونہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح غسلِ جنابت کیا، بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ پر برتن انڈیلا اور اپنی ہتھیلیوں کو تین بار دھویا، پھر اپنے ہاتھ کو برتن میں داخل کیا اور تین دفعہ اپنی شرمگاہ پر پانی بہایا، پھر اپنے ہاتھ کو دیوار یا زمین پر رگڑا، پھر تین تین بار کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر تین دفعہ چہرہ اور تین تین بار بازو دھوئے، پھر تین دفعہ اپنے سر پر پانی بہایا اور پھربقیہ جسم پر پانی ڈالَا، پھر اس جگہ سے ہٹ کر پاؤں کو دھویا۔
مولائے ابن عباس امام شعبہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓجب غسلِ جنابت کرتے تو دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اس کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے سات بار دھوتے، ایک دفعہ وہ یہ بھول گئے کہ انھوں نے اپنے ہاتھ پر کتنی دفعہ پانی ڈالا تھا، اس لیے انھوں نے مجھ سے سوال کیا: میں نے کتنی دفعہ پانی ڈالا ہے؟ میں نے کہا: میں تو نہیں جانتا، انھوں نے کہا: تیری ماں نہ ہو، تو کیوں نہیں جانتا؟ پھر انھوں نے نماز والا وضو کیا اور پھر سر اور جسم پر پانی بہا دیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح غسل کیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۸۷۷) تخریج: صحیح لغیرہ دون غسل الید سبعا، فھی لا تصح، وھذا اسناد ضعیف، شعبہ مولی ابن عباس سییء الحفظ۔ أخرجہ ابوداود: ۲۴۶ (انظر: ۲۸۰۰)
عبید اللہ بن مقسم کہتے ہیں: حسن بن محمد نے سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے غسلِ جنابت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: تم اپنے بالوں کو تر کرو اور چمڑے کو دھوؤ، اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیسے غسل کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: سر پر تین دفعہ پانی ڈالتے تھے اور پھر اپنے چمڑے پر پانی بہاتے تھے۔ اس نے کہا: میرے سر کے بال تو بہت زیادہ ہیں، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے بال تیرے سر کے بالوں کی بہ نسبت زیادہ بھی تھے اور پاکیزہ بھی تھے۔
عاصم بن عمرو بَجَلی، اس آدمی سے بیان کرتے ہیں، جو ان لوگوں میں سے تھا، جنھوں نے سیدنا عمر بن خطاب ؓ سے سوال کیا تھا: ہم آپ کے پاس تین چیزوں کے بارے میں سوال کرنے کے لیے آئے ہیں: بندے کا اپنے گھر میں نفلِیْ نماز پڑھنا کیسا ہے، غسل جنابت کا کیا طریقہ ہے اور خاوند کے لے حائضہ بیوی سے کیا کچھ جائز ہے۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: کیا تم لوگ جادو گر ہو؟ تم نے مجھ سے وہ سوالات کیے ہیں کہ جب سے میں نے ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تھا، اس وقت سے کسی نے یہ سوالات نہیں کیے، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندے کا گھر میں نفلی نماز ادا کرنا، یہ نور ہے، جو چاہے اپنے گھر کو منوّر کرتا رہے۔ غسلِ جنابت کے بارے میں فرمایا: جنبی آدمی اپنی شرمگاہ دھوئے، پھر وضو کرے اور سر پر تین دفعہ پانی بہائے۔ اور حائضہ کے بارے میں فرمایا: اس کے ازار سے اوپر والا حصہ خاوند کے لیے جائز ہے۔
Takhreej
(۸۷۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ الرجل الذی روی عنہ عاصم بن عمرو۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۳۷۵ (انظر:۸۶)
ابو زبیرکہتے ہیں: میں نے سیدنا جابرؓ سے غسل کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے جواباً کہا: بنوثقیف کے لوگ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: بیشک ہمارے علاقے میں سردی پڑتی ہے، تو پھر آپ ہمیں غسل کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو اپنے سر پر تین دفعہ پانی ڈالتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے علاوہ کچھ نہ کہا۔
Takhreej
(۸۸۰) تخریج: حدیث صحیح و أخرجہ مسلم: ۳۲۸ بلفظ: ان النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سُئِل عن الغسل من الجنابۃ، فقال النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((اما انا، فافرغ علی رأسی ثلاثا۔)) (انظر: ۱۴۷۵۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں صرف سر پر پانی ڈالنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
سیدناجبیربن مطعمؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس غسل جنابت کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری صورتحال تو یہ ہے کہ تین دفعہ دو ہتھیلیوں کا بھرا ہوا چلّو لے کر اس کو اپنے سر پر ڈالتا ہوں اور پھر بقیہ جسم پر پانی بہا دیتا ہوں۔
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ان سے سر دھونے کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: تین چلّو تم کو کافی ہیں، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو جمَعَ کر کے اشارہ کیا، لیکن اس آدمی نے کہا: اے ابو سعید! میرے بال تو بہت زیادہ ہیں، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیری بہ نسبت زیادہ بالوں والے اور زیادہ پاکیزگی والے تھے۔
Takhreej
(۸۸۳) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۵۷۶ (انظر: ۱۱۶۹۴)
ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں اور سیدہ عائشہؓکا رضاعی بھائی، سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گئے، رضاعی بھائی نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غسل کے بارے میں سوال کیا، پس انھوں نے صاع کے بقدر برتن منگوا کر غسل کیا اور اپنے سر پر تین چلو ڈالے، جبکہ ہمارے اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔
فوائد:… منکرین احادیث نے انکارِ حدیث کے لیے اس روایت کے ان الفاظ کا سہارا لیا ہے، جن میں پردے کا ذکر نہیں ہے اور انھوں نے طعن کرتے ہوئے کہا کہ یہ احادیث ہیں کہ جن میں ان دو مردوں کے سامنے سیدہ عائشہ ؓغسل کر رہی ہیں۔ جبکہ حقیقت ِ حال یہ ہے کہ سیدنا ابو سلمہ، سیدہ عائشہ ؓکے رضاعی بھانجے تھے، سیدہ ام کلثوم بنت ابو بکر ؓنے ابو سلمہ کو دودھ پلایا تھا اور دوسرا شخص سیدہ کا رضاعی بھائی تھا، اس کا نام عبد اللہ بن یزید تھا۔ یہ دو محرم رشتہ دار تھے اور اِن کے اور سیدہ کے وجود کے درمیان پردہ بھی حائل تھا۔
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سوال کیا: غسلِ جنابت میں کتنا پانی میرے سر کے لیے کافِیْ ہو گا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنے سر پر تین چلو ڈالتے تھے۔ اس نے کہا: میرے بال تو زیادہ ہیں، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال زیادہ بھی تھے اور پاکیزہ بھی تھے۔
Takhreej
(۸۸۵) تخریج: اسنادہ قوی۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۵۷۸ (انظر: ۷۴۱۸)
جمیع بن عمیر کہتے ہیں: میں اپنی ماں اور خالہ کے ساتھ سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گیا، ان میں سے ایک نے ان سے یہ سوال کیا: تم غسل کے وقت کیا کرتی تھیں؟ سیدہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو نماز والا وضو کر کے اپنے سر پر تین چلّو ڈالتے تھے، لیکن ہم مینڈھیوں کی وجہ سے پانچ چلّو ڈالتی تھیں۔
Takhreej
(۸۸۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف جُمَیع بن عمیر۔ أخرجہ ابوداود: ۲۴۱، والنسائی: ۱۱/ ۳۸۹، وابن ماجہ: ۵۷۴ (انظر: ۲۵۵۵۲)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے اپنے سر کے بالوں کو بڑی مضبوطی سے باندھا ہوا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! کیا تم جانتی نہیں ہو کہ ہر بال پر جنابت ہوتی ہے!؟
Takhreej
(۸۸۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الرجل الراوی عن عائشۃ ولضعف شریک النخعی، وخصیفُ بنْ عبد الرحمن الجزری مختلف فیہ، وھو الی الضعف اقرب (انظر: ۲۴۷۹۷)
سیدنا علیؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے غسل جنابت کے دوران ایک بال کے بقدر جگہ کو اس طرح چھوڑ دیا کہ اس تک پانی نہ پہنچا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جہنم کی آگ سے ایسے ایسے کرے گا۔ سیدنا علیؓ نے کہا:یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے بالوں سے دشمنی کی ہے، جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔
Takhreej
(۸۸۸) تخریج: اسنادہ مرفوعا ضعیف، عطاء بن السائب اختلط بأخرۃ وعامۃ من رفع عنہ ھذا الحدیث، فانما رواہ عنہ بعد اختلاطہ، روی حمادُبن زید ھذا الحدیث فوقفہ علی علی ؓوھو ممن اتفقوا علی انہ روی عن عطاء قبل اختلاطہ۔ أخرجہ ابوداود: ۲۴۹، وابن ماجہ: ۵۹۹ (انظر: ۱۱۲۱)
Explanation
فوائد:… حدیث کی مذکور تخریج و تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ سیدناعلی ؓکا قول ہے کہ جس نے غسل جنابت کے دوران ایک بال کے بقدر جگہ کو اس طرح چھوڑ دیا کہ اس تک پانی نہ پہنچا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جہنم کی آگ سے ایسے ایسے کرے گا۔ لیکن اس کو مرفوع کا حکم دیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ بات رائے اور اجتہاد سے تو نہیں کہی جا سکتی، اس کے ساتھ درج ذیل دو مرفوع روایات بھی ہیں، اگرچہ ان میں ضعف ہے، جو کہ بیان کر دیا گیا ہے، لیکن اگر ان تمام کو ایک دوسرے کے ساتھ ملایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ کی کوئی اصل ہے۔
سیدنا ابو ایوب انصاری ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((…فَاِنَّ تَحْتَ کُلِّ شَعْرَۃٍ جَنَابَۃً۔)) … پس بیشک ہر بال کے نیچے جنابت ہے۔ (ابن ماجہ: ۵۹۸، یہ منقطع ہے، طلحہ بن نافع نے سیدنا ابو ایوب ؓسے نہیں سنا)