TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نیند کی وجہ سے وضو کا بیان - نیند کی وجہ سے وضو کا بیان - Book 17 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 17 of Musnad Ahmad, with 31 chapters and 161 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

161 Hadith · 31 Chapters
غسل اور وضو کے پانی کی مقدار کا بیان
۔ (۸۶۹)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِؓ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَیَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ۔ (مسند أحمد: ۱۴۳۰۰)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک صاع پانی سے غسل کرتے تھے اورایک مُدّ سے وضو کرتے تھے۔
Takhreej
(۸۶۹) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۹۳، وابن ماجہ: ۲۶۹۹ (انظر: ۱۴۲۵۰)
869
Sahih
غسل اور وضو کے پانی کی مقدار کا بیان
۔ (۸۷۰)۔عَنْ سَفِیْنَۃَؓ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُوَضِّئُہُ الْمُدُّ وَیُغَسِّلُہُ الصَّاعُ مِنَ الْجَنَابَۃِ۔ (مسند أحمد: ۲۲۲۷۶)
مولائے رسول سیدنا سفینہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مُدّ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو اور ایک صاع سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا غسل جنابت ہو جاتا تھا۔
Takhreej
(۸۷۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۲۶ (انظر: ۲۱۹۳۰)
870
Sahih
غسل اور وضو کے پانی کی مقدار کا بیان
۔ (۸۷۱)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَیَغْتَسِلُ بِنَحْوِ الصَّاعِ۔ (مسند أحمد: ۲۵۴۰۹)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک مُدّ پانی سے وضو کرتے تھے اور ایک صاع کے بقدر پانی سے غسل کرتے تھے۔
Takhreej
(۸۷۱) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۹۲ (انظر: ۲۴۸۹۷)
871
Sahih
غسل اور وضو کے پانی کی مقدار کا بیان
۔ (۸۷۲)۔عَنْ مُوسَی الْجُہَنِیِّ قَالَ: جَائُ وْا بِعُسٍّ فِی رَمَضَانَ، فَحَزَرْتُہُ بِثَمَانِیَۃِ أَوْ تِسْعَۃِ أَوْ عَشَرَۃِ أَرْطَالٍ، فَقَالَ مُجَاہِدٌ: حَدَّثَتْنِیْ عَائِشَۃُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَغْتَسِلُ بِمِثْلِ ہٰذَا۔ (مسند أحمد: ۲۴۷۵۲)
موسی جہنی کہتے ہیں: لوگ رمضان میں ایک بڑا پیالہ لے کر آئے، میں نے اندازہ لگایا کہ وہ آٹھ یا نو یا دس رطل ہو گا، مجاہد نے کہا: مجھے سیدہ عائشہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس قسم کے برتن سے غسل کرتے تھے۔
Takhreej
(۸۷۲) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۱/ ۱۲۷(انظر: ۲۴۲۴۸)
872
Sahih
غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
۔ (۸۷۳)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا أَرَادَ أَنْ یَغْتَسِلَ مِنْ جَنَابَۃٍ یَغْسِلُ یَدَیْہِ ثَلَاثًا (وَفِی رِوَایَۃٍ: فَیُوضَعُ الْاِنَائُ فِیْہِ الْمَائُ فَیُفْرِغُ عَلٰی یَدَیْہِ فَیَغْسِلُہُمَا قَبْلَ أَنْ یُدْخِلَہُمَا فِی الْمَائِ) ثُمَّ یَأْخُذُ بِیَمِیْنِہِ لِیَصُبَّ عَلٰی شِمَالِہِ فَیَغْسِلُ فَرْجَہُ حَتّٰی یُنْقِیَہُ، ثُمَّ یَغْسِلُ یَدَہُ غَسْلًا حَسَنًا، ثُمَّ یُمَضْمِضُ ثَلَاثًا وَیَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا وَیَغْسِلُ وَجْہَہُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَیْہِ ثَلَاثًا ثُمَّ یَصُبُّ عَلٰی رَأْسِہِ الْمَائَ ثَلَاثًا ثُمَّ یَغْتَسِلُ (وَفِی رِوَایَۃٍ: یَغْسِلُ سَائِرَ جَسَدِہِ) فَاِذَا خَرَجَ غَسَلَ قَدَمَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۲۵۱۵۵)
سیدہ عائشہؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب غسلِ جنابت کا ارادہ کرتے تو تین دفعہ ہاتھ دھوتے، ایک روایت میں ہے: پانی والا برتن رکھا جاتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے ان پر پانی بہا کر ان کو دھوتے تھے، پھر دائیں ہاتھ کے ذریعے پانی کر لیتے اور اس کو بائیں ہاتھ پر بہا کر شرمگاہ کو دھوتے، یہاں تک کہ وہ صاف ہو جاتی، پھر اپنے ہاتھ کو اچھی طرح دھوتے، پھر تین تین بار کلی کرتے اور ناک میں پانی چڑھاتے، تین دفعہ چہرہ دھوتے، تین مرتبہ بازوؤں کو دھوتے، پھر اپنے سر پر تین بار پانی بہاتے، پھر غسل کرتے،ایک روایت میں ہے: پھر بقیہ جسم کو دھوتے، جب باہر تشریف لے آتے تو پاؤں کو دھوتے تھے۔
Takhreej
(۸۷۳) حدیث صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۱/ ۱۳۴، ۲۰۵، أخرجہ مسلم: ۳۲۱ بلفظ قریب منہ (انظر: ۲۴۶۴۸)
873
Sahih
غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
۔ (۸۷۴)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ بَدَأَ فَتَوَضَّأَ وُضُوْئَ ہُ لِلصَّلَاۃِ وَغَسَلَ فَرْجَہُ وَقَدَمَیْہِ وَمَسَحَ یَدَہُ بِالْحَائِطِ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَیْہِ الْمَائَ فَکَأَنِّیْ أَرٰی أَثَرَ یَدِہِ فِی الْحَائِطِ۔ (مسند أحمد: ۲۶۵۲۳)
۔ (دوسری سند) سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب غسلِ جنابت کرتے تو نماز والا وضو کرتے، اپنی شرمگاہ کو اور پاؤں کو دھوتے اور اپنے ہاتھ کو دیوار کے ساتھ رگڑتے تھے، پھر اپنے آپ پر پانی بہا دیتے تھے، گویا میں دیوار میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ہاتھ کا نشان دیکھ رہی ہوں۔
Takhreej
(۸۷۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، الشعبی لم یسمع من عائشۃ۔ أخرجہ مختصرا ابوداود: ۲۴۴ (انظر: ۲۵۹۹۵)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کے لفظوں میں تقدیم و تاخیر ہے، وگرنہ وضو استنجا کے بعد ہی ہو گا۔
874
Zaeef
غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
۔ (۸۷۵)۔(وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔ وَسُئِلَتْ عَنْ غُسْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: کَانَ یَبْدَأُ بِیَدَیْہِ فَیَغْسِلُہُمَا (وَفِی رِوَایَۃٍ: یَغْسِلُ کَفَّیْہِ ثَلَاثًا) ثُمَّ یَتَوَضَّأُ وُضُوئَ ہُ لِلصَّلَاۃِ ثُمَّ یُخَلِّلُ أُصُولَ شَعْرِ رَأْسِہِ حَتّٰی اِذَا ظَنَّ أَنَّہُ قَدِ اسْتَبْرَأَ الْبَشَرَۃَ، اِغْتَرَفَ ثَلَاثَ غَرفَاتٍ (وَفِی رِوَایَۃٍ: غَرَفَ بِیَدَیْہِ مِلْئَ کَفَّیْہِ ثَلَاثًا) فَصَبَّہُنَّ عَلٰی رَأْسِہِ ثُمَّ أَفَاضَ عَلٰی سَائِرِ جَسَدِہِ۔(مسند أحمد:۲۴۷۶۱)
۔ (تیسری سند) سیدہ عائشہؓ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے غسل کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہاتھوں سے شروع کرتے، ان کو دھوتے، ایک روایت میں ہے: تین دفعہ اپنی ہتھیلیوں کو دھوتے تھے، پھر نماز والا وضو کرتے تھے، پھر اپنے سر کے بالوں کی جڑوں کے بیچ میں انگلیاں ڈالتے، جب ظنِّ غالب ہو جاتا کہ چمڑہ تر ہو گیا ہے تو دو ہاتھوں کے بھرے ہوئے تین چلو اپنے سر پر ڈالتے، پھر باقی جسم پر پانی بہا دیتے۔
Takhreej
(۸۷۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۱۶ (انظر: ۲۴۲۵۷)
875
Sahih
غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
۔ (۸۷۶)۔عَنْ مَیْمُونَۃَؓزَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: وَضَعْتُ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غُسْلًا فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ وَأَکْفَأَ الْاِنَائَ بِشِمَالِہِ عَلٰی یَمِیْنِہِ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ فِی الْاِنَائِ فَأَفَاضَ عَلٰی فَرْجِہِ ثَلَاثًا ثُمَّ دَلَکَ یَدَہُ بِالْحَائِطِ أَوْ بِالْأَرْضِ ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَ غَسَلَ وَجْھَہٗ ثَلَاثًا وَذِرَاعَیْہِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ أَفَاضَ عَلٰی رَأْسِہِ ثَلَاثًا ثُمَّ أَفَاضَ عَلٰی سَائِرِ جَسَدِہِ الْمَائَ ثُمَّ تَنَحّٰی فَغَسَلَ رِجْلَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۳۸۰)
زوجۂ رسول سیدہ میمونہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے غسل کا پانی رکھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس طرح غسلِ جنابت کیا، بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ پر برتن انڈیلا اور اپنی ہتھیلیوں کو تین بار دھویا، پھر اپنے ہاتھ کو برتن میں داخل کیا اور تین دفعہ اپنی شرمگاہ پر پانی بہایا، پھر اپنے ہاتھ کو دیوار یا زمین پر رگڑا، پھر تین تین بار کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر تین دفعہ چہرہ اور تین تین بار بازو دھوئے، پھر تین دفعہ اپنے سر پر پانی بہایا اور پھربقیہ جسم پر پانی ڈالَا، پھر اس جگہ سے ہٹ کر پاؤں کو دھویا۔
Takhreej
(۸۷۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۴۹، ۲۵۷، ۲۵۹، ۲۶۰، ۲۷۴، ۲۸۱،ومسلم: ۳۱۷ (انظر: ۲۶۸۴۳)
876
Sahih
غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
۔ (۸۷۷)۔عَنْ شُعْبَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ؓ کَانَ اِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ أَفْرَغَ بِیَدِہِ الْیُمْنٰی عَلٰی الْیُسْرٰی فَغَسَلَہَا سَبْعًا قَبْلَ أَنْ یُدْخِلَہَا فِی الْاِنَائِ فَنَسِیَ مَرَّۃً کَمْ أَفْرَغَ عَلٰی یَدِہِ فَسَأَلَنِیْ کَمْ أَفْرَغْتُ؟ فَقُلْتُ: لَا أَدْرِیْ، فَقَالَ: لَا أُمَّ لَکَ وَلِمَ لَا تَدْرِیْ؟ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوئَہُ لِلصَّلٰوۃِ ثُمَّ یُفِیْضُ الْمَائَ عَلٰی رَأْسِہِ وَجَسَدِہِ وَقَالَ: ہٰکَذَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَطَہَّرُ یَعْنِیْ یَغْتَسِلُ۔ (مسند أحمد: ۲۸۰۰)
مولائے ابن عباس امام شعبہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓجب غسلِ جنابت کرتے تو دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اس کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے سات بار دھوتے، ایک دفعہ وہ یہ بھول گئے کہ انھوں نے اپنے ہاتھ پر کتنی دفعہ پانی ڈالا تھا، اس لیے انھوں نے مجھ سے سوال کیا: میں نے کتنی دفعہ پانی ڈالا ہے؟ میں نے کہا: میں تو نہیں جانتا، انھوں نے کہا: تیری ماں نہ ہو، تو کیوں نہیں جانتا؟ پھر انھوں نے نماز والا وضو کیا اور پھر سر اور جسم پر پانی بہا دیا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اسی طرح غسل کیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۸۷۷) تخریج: صحیح لغیرہ دون غسل الید سبعا، فھی لا تصح، وھذا اسناد ضعیف، شعبہ مولی ابن عباس سییء الحفظ۔ أخرجہ ابوداود: ۲۴۶ (انظر: ۲۸۰۰)
877
Sahih
غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
۔ (۸۷۸)۔عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ مِقْسَمٍ قَالَ: سَأَلَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِؓ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَۃِ، فَقَالَ: تَبُلُّ الشَّعْرَ وَتَغْتَسِلُ الْبَشَرَۃَ، قَالَ: فَکَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَغْتَسِلُ؟ قَالَ: کَانَ یَصُبُّ عَلٰی رَأْسِہِ ثَـلَاثًا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ثُمَّ یُفِیْضُ الْمَائَ عَلٰی جِلْدِہِ) قَالَ: اِنَّ رَأْسِیْ کَثِیْرُ الشَّعْرِ، قَالَ: کَانَ رَأْسُ رَسُوْلِ اللّٰہِ أَکْثَرَ مِنْ رَأْسِکَ وَأَطْیَبَ۔ (مسند أحمد: ۱۴۱۵۹)
عبید اللہ بن مقسم کہتے ہیں: حسن بن محمد نے سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے غسلِ جنابت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: تم اپنے بالوں کو تر کرو اور چمڑے کو دھوؤ، اس نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کیسے غسل کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: سر پر تین دفعہ پانی ڈالتے تھے اور پھر اپنے چمڑے پر پانی بہاتے تھے۔ اس نے کہا: میرے سر کے بال تو بہت زیادہ ہیں، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سر کے بال تیرے سر کے بالوں کی بہ نسبت زیادہ بھی تھے اور پاکیزہ بھی تھے۔
Takhreej
(۸۷۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۵۲، ۲۵۵، ۲۵۶(انظر: ۱۴۱۱۳)
878
Sahih
غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
۔ (۸۷۹)۔عَنْ شُعْبَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ عَمْرٍو الْبَجَلِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ سَأَلُوْا عُمَرَبْنَ الْخَطَّابِ فَقَالُوْا لَہُ: اِنَّمَا أَتَیْنَاکَ نَسْأَلُکَ عَنْ ثَـلَاثٍ، عَنْ صَلَاۃِ الرَّجُلِ فِی بَیْتِہِ تَطَوُّعًا وَعَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَۃِ وَعَنِ الرَّجُلِ مَا یَصْلُحُ لَہُ مِنْ امْرَأَتِہِ اِذَا کَانَتْ حَائِضًا، فَقَالَ: أَسُحَّارٌ أَنْتُمْ؟ لَقَدْ سَأَلْتُمُوْنِیْ عَنْ شَیْئٍ مَا سَأَلَنِیْ عَنْہُ أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ عَنْہُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَقَالَ: ((صَلَاۃُ الرَّجُلِ فِی بَیْتِہِ تَطَوُّعًا نُورٌ، فَمَنْ شَائَ نَوَّرَ بَیْتَہُ۔)) وَقَالَ فِی الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَۃِ: ((یَغْسِلُ فَرْجَہُ ثُمَّ یَتَوَضَّأُ ثُمَّ یُفِیْضُ عَلٰی رَأْسِہِ ثَـلَاثًا)) وَقَالَ فِی الْحَائِضِ: ((لَہُ مَا فَوْقَ الْاِزَارِ)) (مسند أحمد: ۸۶)
عاصم بن عمرو بَجَلی، اس آدمی سے بیان کرتے ہیں، جو ان لوگوں میں سے تھا، جنھوں نے سیدنا عمر بن خطاب ؓ سے سوال کیا تھا: ہم آپ کے پاس تین چیزوں کے بارے میں سوال کرنے کے لیے آئے ہیں: بندے کا اپنے گھر میں نفلِیْ نماز پڑھنا کیسا ہے، غسل جنابت کا کیا طریقہ ہے اور خاوند کے لے حائضہ بیوی سے کیا کچھ جائز ہے۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: کیا تم لوگ جادو گر ہو؟ تم نے مجھ سے وہ سوالات کیے ہیں کہ جب سے میں نے ان کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے پوچھا تھا، اس وقت سے کسی نے یہ سوالات نہیں کیے، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بندے کا گھر میں نفلی نماز ادا کرنا، یہ نور ہے، جو چاہے اپنے گھر کو منوّر کرتا رہے۔ غسلِ جنابت کے بارے میں فرمایا: جنبی آدمی اپنی شرمگاہ دھوئے، پھر وضو کرے اور سر پر تین دفعہ پانی بہائے۔ اور حائضہ کے بارے میں فرمایا: اس کے ازار سے اوپر والا حصہ خاوند کے لیے جائز ہے۔
Takhreej
(۸۷۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ الرجل الذی روی عنہ عاصم بن عمرو۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۳۷۵ (انظر:۸۶)
879
Zaeef
غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
۔ (۸۸۰)۔عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الْغُسْلِ، قَالَ جَابِرٌ: أَتَتْ ثَقِیْفٌ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: اِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَۃٌ فَکَیْفَ تَأْمُرُنَا بِالْغُسْلِ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَمَّا أَنَا فَأَصُبُّ عَلٰی رَأْسِیْ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ)) وَلَمْ یَقُلْ غَیْرَ ذَالِکَ۔ (مسند أحمد: ۱۴۸۱۱)
ابو زبیرکہتے ہیں: میں نے سیدنا جابرؓ سے غسل کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے جواباً کہا: بنوثقیف کے لوگ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے اور کہا: بیشک ہمارے علاقے میں سردی پڑتی ہے، تو پھر آپ ہمیں غسل کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تو اپنے سر پر تین دفعہ پانی ڈالتا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کے علاوہ کچھ نہ کہا۔
Takhreej
(۸۸۰) تخریج: حدیث صحیح و أخرجہ مسلم: ۳۲۸ بلفظ: ان النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سُئِل عن الغسل من الجنابۃ، فقال النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: ((اما انا، فافرغ علی رأسی ثلاثا۔)) (انظر: ۱۴۷۵۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں صرف سر پر پانی ڈالنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
880
Sahih
غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
۔ (۸۸۱)۔عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ؓ قَالَ: تَذَاکَرْنَا غُسْلَ الْجَنَابَۃِ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَمَّا أَنَا فَآخُذُ مِلْئَ کَفَّیَّ ثَلَاثًا فَأَصُبُّ عَلٰی رَأْسِیْ ثُمَّ أُفِیْضُہُ بَعْدُ عَلٰی سَائِرِ جَسَدِیْ)) (مسند أحمد: ۱۶۸۷۰)
سیدناجبیربن مطعمؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس غسل جنابت کا ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میری صورتحال تو یہ ہے کہ تین دفعہ دو ہتھیلیوں کا بھرا ہوا چلّو لے کر اس کو اپنے سر پر ڈالتا ہوں اور پھر بقیہ جسم پر پانی بہا دیتا ہوں۔
Takhreej
(۸۸۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۵۴، ومسلم: ۳۲۷ (انظر: ۱۶۷۴۹)
881
Sahih
غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
۔ (۸۸۲)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ۔ (مسند أحمد: ۲۵۳۵۲)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب غسلِ جنابت کرتے تو کلی کرتے اور ناک میں پانی چڑھاتے۔
Takhreej
(۸۸۲) تخریج: انظر الحدیث رقم (۸۷۳)
Explanation
فوائد:… اس باب کے شروع میں غسل کی ساری ترتیب بیان کی گئی ہے۔
882
Sahih
غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
۔ (۸۸۳)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّؓ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَہُ عَنْ غَسْلِ الرَّأْسِ، فَقَالَ: یَکْفِیْکَ ثَـلَاثَ حَفَنَاتٍ أَوْ ثَلَاثَ أَکُفٍّ ثُمَّ جَمَعَ یَدَیْہِ ثُمَّ قَالَ: یَا أَبَا سَعِیْدٍ! اِنِّی رَجُلٌ کَثِیْرُ الشَّعْرِ، قَالَ: فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ أَکْثَرَ شَعْرًا مِنْکَ وَأَطْیَبَ۔ (مسند أحمد: ۱۱۷۱۷)
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ان سے سر دھونے کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: تین چلّو تم کو کافی ہیں، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو جمَعَ کر کے اشارہ کیا، لیکن اس آدمی نے کہا: اے ابو سعید! میرے بال تو بہت زیادہ ہیں، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تیری بہ نسبت زیادہ بالوں والے اور زیادہ پاکیزگی والے تھے۔
Takhreej
(۸۸۳) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۵۷۶ (انظر: ۱۱۶۹۴)
883
Sahih
غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
۔ (۸۸۴)۔عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ (بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ) قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَخُو عَائِشَۃَ مِنَ الرَّضَاعِ فَسَأَلَہَا أَخُوہَا عَنِ غُسْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَتْ بِاِنَائٍ نَحْوًا مِنْ صَاعٍ فَاغْتَسَلَتْ وَأَفْرَغَتْ عَلٰی رَأْسِہَا ثَلَاثًا وَبَیْنَنَا وَبَیْنَہَا الْحِجَابُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۹۳۴)
ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں اور سیدہ عائشہؓکا رضاعی بھائی، سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گئے، رضاعی بھائی نے ان سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے غسل کے بارے میں سوال کیا، پس انھوں نے صاع کے بقدر برتن منگوا کر غسل کیا اور اپنے سر پر تین چلو ڈالے، جبکہ ہمارے اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔
Takhreej
(۸۸۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۵۱، ومسلم: ۳۲۰ (انظر: ۲۴۴۳۰)
Explanation
فوائد:… منکرین احادیث نے انکارِ حدیث کے لیے اس روایت کے ان الفاظ کا سہارا لیا ہے، جن میں پردے کا ذکر نہیں ہے اور انھوں نے طعن کرتے ہوئے کہا کہ یہ احادیث ہیں کہ جن میں ان دو مردوں کے سامنے سیدہ عائشہ ؓغسل کر رہی ہیں۔ جبکہ حقیقت ِ حال یہ ہے کہ سیدنا ابو سلمہ، سیدہ عائشہ ؓکے رضاعی بھانجے تھے، سیدہ ام کلثوم بنت ابو بکر ؓنے ابو سلمہ کو دودھ پلایا تھا اور دوسرا شخص سیدہ کا رضاعی بھائی تھا، اس کا نام عبد اللہ بن یزید تھا۔ یہ دو محرم رشتہ دار تھے اور اِن کے اور سیدہ کے وجود کے درمیان پردہ بھی حائل تھا۔
884
Sahih
غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
۔ (۸۸۵)۔ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: کَمْ یَکْفِیْ رَأْسِیْ فِی الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَۃِ؟ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُبُّ بِیَدِہِ عَلٰی رَأْسِہِ ثَـلَاثًا، قَالَ: اِنَّ شَعْرِیْ کَثِیْرٌ، قَالَ: کَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَکْثَرَ وَأَطْیَبَ۔ (مسند أحمد: ۷۴۱۲)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سوال کیا: غسلِ جنابت میں کتنا پانی میرے سر کے لیے کافِیْ ہو گا، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تو اپنے سر پر تین چلو ڈالتے تھے۔ اس نے کہا: میرے بال تو زیادہ ہیں، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے بال زیادہ بھی تھے اور پاکیزہ بھی تھے۔
Takhreej
(۸۸۵) تخریج: اسنادہ قوی۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۵۷۸ (انظر: ۷۴۱۸)
885
Sahih
غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
۔ (۸۸۶)۔عَنْ جَمِیْعِ بْنِ عُمَیْرِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أُمِّیْ وَخَالَتِیْ عَلٰی عَائِشَۃَؓ فَسَأَلَتْہَا اِحْدَاہُمَا: کَیْفَ کُنْتُنَّ تَصْنَعْنَ عِنْدَ الْغُسْلِ؟ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ وُضُوْئَ ہُ لِلصَّلٰوۃِ ثُمَّ یُفِیْضُ عَلٰی رَأْسِہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَنَحْنُ نُفِیْضُ عَلٰی رُؤُوْسِنَا خَمْسًا مِنْ أَجْلِ الضَّفْرِ۔ (مسند أحمد: ۲۶۰۶۸)
جمیع بن عمیر کہتے ہیں: میں اپنی ماں اور خالہ کے ساتھ سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گیا، ان میں سے ایک نے ان سے یہ سوال کیا: تم غسل کے وقت کیا کرتی تھیں؟ سیدہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تو نماز والا وضو کر کے اپنے سر پر تین چلّو ڈالتے تھے، لیکن ہم مینڈھیوں کی وجہ سے پانچ چلّو ڈالتی تھیں۔
Takhreej
(۸۸۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف جُمَیع بن عمیر۔ أخرجہ ابوداود: ۲۴۱، والنسائی: ۱۱/ ۳۸۹، وابن ماجہ: ۵۷۴ (انظر: ۲۵۵۵۲)
886
Sahih
غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
۔ (۸۸۷)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: أَجْمَرْتُ رَأْسِیْ اِجْمَارًا شَدِیْدًا فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا عَائِشَۃُ! أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ عَلٰی کُلِّ شَعْرَۃٍ جَنَابَۃً!؟)) (مسند أحمد: ۲۵۳۰۸)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے اپنے سر کے بالوں کو بڑی مضبوطی سے باندھا ہوا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: عائشہ! کیا تم جانتی نہیں ہو کہ ہر بال پر جنابت ہوتی ہے!؟
Takhreej
(۸۸۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الرجل الراوی عن عائشۃ ولضعف شریک النخعی، وخصیفُ بنْ عبد الرحمن الجزری مختلف فیہ، وھو الی الضعف اقرب (انظر: ۲۴۷۹۷)
887
Zaeef
غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
۔ (۸۸۸)۔عَنْ عَلِیٍّؓ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَرَکَ مَوْضِعَ شَعْرَۃٍ مِنْ جَنَابَۃٍ لَمْ یُصِبْہَا مَائٌ فَعَلَ اللّٰہُ بِہٖ کَذَا وَکَذَا مِنَ النَّارِ۔)) قَالَ عَلِیٌّ ؓ: فَمِنْ ثَمَّ عَادَیْتُ شَعْرِیْ، زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: کَمَا تَرَوْنَ۔ (مسند أحمد: ۱۱۲۱)
سیدنا علیؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے غسل جنابت کے دوران ایک بال کے بقدر جگہ کو اس طرح چھوڑ دیا کہ اس تک پانی نہ پہنچا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جہنم کی آگ سے ایسے ایسے کرے گا۔ سیدنا علیؓ نے کہا:یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے بالوں سے دشمنی کی ہے، جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔
Takhreej
(۸۸۸) تخریج: اسنادہ مرفوعا ضعیف، عطاء بن السائب اختلط بأخرۃ وعامۃ من رفع عنہ ھذا الحدیث، فانما رواہ عنہ بعد اختلاطہ، روی حمادُبن زید ھذا الحدیث فوقفہ علی علی ؓوھو ممن اتفقوا علی انہ روی عن عطاء قبل اختلاطہ۔ أخرجہ ابوداود: ۲۴۹، وابن ماجہ: ۵۹۹ (انظر: ۱۱۲۱)
Explanation
فوائد:… حدیث کی مذکور تخریج و تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ سیدناعلی ؓکا قول ہے کہ جس نے غسل جنابت کے دوران ایک بال کے بقدر جگہ کو اس طرح چھوڑ دیا کہ اس تک پانی نہ پہنچا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جہنم کی آگ سے ایسے ایسے کرے گا۔ لیکن اس کو مرفوع کا حکم دیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ بات رائے اور اجتہاد سے تو نہیں کہی جا سکتی، اس کے ساتھ درج ذیل دو مرفوع روایات بھی ہیں، اگرچہ ان میں ضعف ہے، جو کہ بیان کر دیا گیا ہے، لیکن اگر ان تمام کو ایک دوسرے کے ساتھ ملایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ کی کوئی اصل ہے۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ((…فَاِنَّ تَحْتَ کُلِّ شَعْرَۃٍ جَنَابَۃً۔)) … پس بیشک ہر بال کے نیچے جنابت ہے۔ (ابن ماجہ: ۵۹۸، یہ منقطع ہے، طلحہ بن نافع نے سیدنا ابو ایوب ؓسے نہیں سنا)
888
Zaeef

Chapters

31
01
بیٹھنے والے کی نیند کے بارے میں
4 Hadith
02
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نیند ناقضِ وضو نہیں تھی، اگرچہ وہ لیٹ کر ہوتی
4 Hadith
03
لیٹ کر سو جانے والے کا وضو
3 Hadith
04
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان
3 Hadith
05
ذکر کو چھونے سے وضو کا ٹوٹ جانا، اس کے بارے میں سیدہ بسرہ بنت صفوانؓ کی حدیث کا بیان
4 Hadith
06
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کا نہ ٹوٹنا، اس رائے کا بیان
3 Hadith
07
عورت کو چھونے اور اس کا بوسہ لینے سے وضو کرنے کا بیان
3 Hadith
08
قے، ڈکار اور نکسیر سے وضو کرنے کا بیان
2 Hadith
09
اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا بیان
4 Hadith
10
آگ سے پکی ہوئی چیز سے وضو کرنے کا بیان
5 Hadith
11
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بعض بیویوں سے اس موضوع سے متعلقہ بیان کی گئی مرویات کا بیان
5 Hadith
12
آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان
24 Hadith
13
غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہو جانے کے قائلین کا بیان
5 Hadith
14
یہ رخصت تھی، پھر منسوخ ہو گئی
3 Hadith
15
ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
6 Hadith
16
احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
10 Hadith
17
ان لوگون کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ جنابت والا قرآن مجید کی تلاوت نہ کرے
4 Hadith
18
غسل کے وقت پردہ کرنا
6 Hadith
19
غسل اور وضو کے پانی کی مقدار کا بیان
6 Hadith
20
غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
10 Hadith
21
غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
9 Hadith
22
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
5 Hadith
23
غسلِ جنابت کے بعد خشک رہ جانے والی جگہ کو پالینے والے کا بیان
1 Hadith
24
ایک غسل میں یا متعدد غسلوں میں ایک سے زائد بیویوں کے پاس جانے والے کا بیان
2 Hadith
25
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
6 Hadith
26
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
3 Hadith
27
رات کے پچھلے حصے تک غسلِ جنابت کو مؤخر کرنا
4 Hadith
28
مسنون غسل کی اقسام ایک سے زائد غسل کی وہ اقسام، جن کا احادیث میں اکٹھا ذکر کیا گیا
2 Hadith
29
میت کو غسل دینے سے غسل کرنے اور اس کو اٹھانے سے وضو کرنے کا بیان
4 Hadith
30
مسلمان ہونے والے کافر سے غسل کرنے کا مطالبہ کرنے کا بیان
3 Hadith
31
حمام میں داخل ہونے کا حکم
8 Hadith
No chapter matched that.