غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
۔ (۸۸۹)۔عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّی امْرَأَۃٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِیْ؟ قَالَ: ((یُجْزِیْکِ أَنْ تَصُبِّیْ عَلَیْہِ الْمَائَ ثَلَاثًا۔)) (مسند أحمد: ۲۷۰۱۰)
زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایسی عورت ہوں کہ سر کی مینڈھیوں کو سختی سے گوندھتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تجھے یہ کافی ہے کہ تو سر پر تین دفعہ پانی بہا دے۔
Takhreej
(۸۸۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۳۰(انظر: ۲۶۴۷۷)
Explanation
فوائد:… صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدہ ام سلمہ ؓنے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں حیض اور جنابت کے غسل کے لیے (سر کی مینڈھیوں) کو کھولوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تجھے تو یہ کافی ہے کہ تو اپنے سر پر پانی کے تین چلو ڈالے اور اپنے آپ پر پانی بہا دے اور اس طرح پاک ہو جائے۔
889
Sahih