TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نیند کی وجہ سے وضو کا بیان - نیند کی وجہ سے وضو کا بیان - Book 17 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 17 of Musnad Ahmad, with 31 chapters and 161 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

161 Hadith · 31 Chapters
غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
۔ (۸۸۹)۔عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّی امْرَأَۃٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِیْ؟ قَالَ: ((یُجْزِیْکِ أَنْ تَصُبِّیْ عَلَیْہِ الْمَائَ ثَلَاثًا۔)) (مسند أحمد: ۲۷۰۱۰)
زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایسی عورت ہوں کہ سر کی مینڈھیوں کو سختی سے گوندھتی ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر تجھے یہ کافی ہے کہ تو سر پر تین دفعہ پانی بہا دے۔
Takhreej
(۸۸۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۳۰(انظر: ۲۶۴۷۷)
Explanation
فوائد:… صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدہ ام سلمہ ؓنے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں حیض اور جنابت کے غسل کے لیے (سر کی مینڈھیوں) کو کھولوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نہیں، تجھے تو یہ کافی ہے کہ تو اپنے سر پر پانی کے تین چلو ڈالے اور اپنے آپ پر پانی بہا دے اور اس طرح پاک ہو جائے۔
889
Sahih
غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
۔ (۸۹۰)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کُنَّا أَزْوَاجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْرُجْنَ مَعَہُ عَلَیْہِنَّ الضِمَادُ یَغْتَسِلْنَ فِیْہِ وَیَعْرَقْنَ لَا یَنْہَاہُنَّ عَنْہُ مُحِلَّاتٍ وَلَا مُحَرِمَاتٍ۔ (مسند أحمد: ۲۵۵۷۶)
سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ سفر پر نکلتی تھیں،ہم نے سروں پر لیپ کیا ہوتا تھا، اسی حالت میں ہم غسل کرتی تھیں اور پسینہ بھی آتا تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہم کو منع نہیں کرتے تھے، ہماری یہ کیفیت حالت ِ احرام میں بھی ہوتی تھی اور احرام کے بغیر بھی۔
Takhreej
(۸۹۰) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۸۳۰ (انظر: ۲۵۰۶۲)
Explanation
فوائد:… جب امام اسحاق نے یہ روایت بیان کی تو انھوں نے اس کے آخر میں یہ زیادتی کی: وَالضَّمَادُ ھُوَ السُّکُّ۔…… ضماد سے مراد ایک قسم کی مشک ملی ہوئی خوشبو ہے۔ مسند احمد (۲۴۵۰۲) میں اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدہ عائشہ ؓکہتی ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نکلتی تھیں، جبکہ ہم احرام سے پہلے اپنے سروں کو لیپ کر لیتی تھیں، پھر اِس سمیت غسل کرتی رہتی تھیں اور ہم کو پسینہ آتا رہتا تھا اور پھر ہم غسل کرتی تھیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہم کو منع نہیں کرتے تھے۔ معلوم ہوا کہ اس حدیث کا تعلق غسل جنابت سے نہیں ہے۔ حدیث نمبر ۸۹۰ میں تو صاف آ رہا ہے کہ احرام اور غیر احرام حالت میں وہ غسل کرتی تھیں اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان کو منع نہیں کرتے تھے۔ فوائد میں مذکور حدیث میں احرام کی حالت کا ذکر ہے اور متن میں مذکور حدیث میں احرام کے علاوہ حالت کا ذکر بھی ہے۔ اس لیے ازواج مطہرات کے غسل کرنے کو عموم پر محمول کرنا چاہیے۔ نتیجہ یہ ہے کہ سر کو لیپ کیا ہوا ہو تو غسل کیا جا سکتا ہے۔ خواہ وہ غسل جنابت ہو یا عام غسل۔ غسل جنابت کے لیے بالوں کو کھولنا یا لیپ کو اتارنا ضروری نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
890
Sahih
غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
۔ (۸۹۱)۔ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ قَالَ: بَلَغَ عَائِشَۃَ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو یَأْمُرُ النِّسَائَ اِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ یَنْقُضْنَ رُؤُوْسَہُنَّ، فَقَالَتْ: یَا عَجَبًا لِابْنِ عَمْرٍو، ہُوَ یَأْمُرُ النِّسَائَ اِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ یَنْقُضْنَ رُؤُوْسَہُنَّ، اَع فَـلَا یَأْمُرُہُنَّ أَنْ یَحْلِقْنَ، لَقَدْ کُنْتُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَغْتَسِلُ مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ فَمَا أَزِیْدُ عَلٰی أَنْ أُفْرِغَ عَلٰی رَأْسِی ثَلَاثَ اِفْرَاغَاتٍ۔ (مسند أحمد: ۲۴۶۶۱)
عبیدہ بن عمیر کہتے ہیں: جب سیدہ عائشہ ؓ کو یہ بات پہنچی کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ؓعورتوں کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ غسل کے وقت اپنے بال کھول دیا کریں، تو انھوں نے کہا: ابن عمرو پر بڑا تعجب ہے، وہ عورتوں کو غسل کے وقت بال کھول دینے کا حکم دیتا ہے، وہ یہ حکم کیوں نہیں دیتا کہ خواتین اپنے سر ہی منڈوا دیں، مسئلہ تو یوں ہے کہ میں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک برتن میں اکٹھا غسل کرتے تھے، میں اپنے سر پر صرف تین بار پانی ڈالتی تھی۔
Takhreej
(۸۹۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۳۱ (انظر: ۲۴۱۶۰)
Explanation
فوائد:… ان روایات سے معلوم ہوا کہ حیض اور جنابت کے غسل کے لیے عورتوں کے لیے ضروری نہیں کہ وہ سارے بال کھول کر ان کو تر کریں، بلکہ ان کو یہ عمل کفایت کرے گا کہ بال کھولے بغیر سر پر تین چلو ڈال دیں، لیکن بالوں کی جڑوں اور سر کے چمڑے تک پانی پہنچنا چاہیے، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق سیدہ اسماء ؓ کے حیض کے غسل سے متعلقہ سوال کے جواب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا تھا: ((ثُمَّ تَصُبُّ عَلٰی رَاْسِھَا فَتَدْلُکُہٗ دَلْکًا شَدِیْدًا حَتّٰی تَبْلُغَ شُؤُوْنَ رَاْسِھَا ثُمَّ تَصُبُّ عَلَیْھَا الْمَائَ،…۔)) … پھر وہ اپنے سر پر پانی ڈالے اور اس کو سختی سے ملے، یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے آپ پر پانی بہا دے۔
891
Sahih
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
۔ (۸۹۲)۔عَنْ عَائِشَۃَؓقَالَتْ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا خَرَجَ مِن مُغْتَسَلِہِ حَیْثُ یَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ یَغْسِلُ قَدَمَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۲۵۸۸۴)
سیدہ عائشہؓ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جس غسل خانے میں جنابت والا غسل کرتے تھے، اس سے باہر آ کر پاؤں دھوتے تھے۔
Takhreej
(۸۹۲) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۱/ ۱۳۴(انظر: ۲۵۳۷۰)
892
Sahih
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
۔ (۸۹۳)۔عَنْ مَیْمُونَۃَؓ (زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) قَالَتْ: وَضَعْتُ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غُسْلًا فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ ثُمَّ أَتَیْتُہُ بِثَوْبٍ حِیْنَ اغْتَسَلَ فَقَالَ بِیَدِہِ ہٰکَذَا تَعْنِیْ رَدَّہُ۔ (مسند أحمد: ۲۷۳۷۹)
زوجۂ رسول سیدہ میمونہؓ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے غسل کا پانی رکھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے غسلِ جنابت کیا، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے غسل کرلیا تو میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس کپڑا لے کر آئی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہاتھ کے اشارے سے اس کو ردّ کر دیا۔
Takhreej
(۸۹۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۶، ومسلم: ۳۱۷(انظر: ۲۶۸۴۲)
893
Sahih
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
۔ (۸۹۴)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ قَالَتْ: فَنَاوَلْتُہُ خِرْقَۃً فَقَالَ ہٰکَذَا وَ أَشَارَ بِیَدِہِ أَنْ لَا أُرِیْدُہَا، قَالَ سُلَیْمَانُ (الْأَعْمَشُ أَحَدُ رِجَالِ السَّنَدِ): فَذَکَرْتُ ذَالِکَ لِاِبْرَاہِیْمَ فَقَالَ: ہُوَ کَذَالِکَ وَلَمْ یُنْکِرْہُ وَ قَالَ اِبْرَاہِیْمُ: لَا بَأْسَ بِالْمِنْدِیْلِ، اِنَّمَا ہِیَ عَادَۃٌ۔ (مسند أحمد: ۲۷۳۹۳)
۔ (دوسری سند) سیدہ کہتی ہیں: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ایک چیتھڑا پکڑایا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے ہاتھ سے یہ اشارہ کیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ نہیں چاہیے، سلیمان اعمش کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث ابراہیم کے لیے ذکر کی، انھوں نے کہا: بات اسی طرح ہی ہے، اور انھوں نے اس کا انکار نہیں کیا اور مزید کہا: کپڑا استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، یہ ایک طبعی معاملہ ہے۔
Takhreej
(۸۹۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ان روایات سے معلوم ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے بطورِتولیہ کپڑا استعمال نہیں کیا، جبکہ ایسا کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، جیسا کہ درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ سیدنا عروہ ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ لَہُ خِرْقَۃٌ یَتَنَشَّفُ بِھَا بَعْدَ الْوُضُوْئِ … آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس کپڑے کا ایک ٹکڑا تھا، جس سے وضو کے بعد (اعضا) خشک کرتے تھے۔ (ترمذی:۱/۷۴، حاکم:۱/۱۵۴، بیھقی:۱/۱۸۵، صحیحہ: ۲۰۹۹) وضو یا غسل کے بعد اعضاء کو تولیے وغیرہ سے خشک کرنے یا نہ کرنے کا وضو اور غسل کے اجر کی کمی یا زیادتی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، یہ ایک طبعی معاملہ ہے۔
894
Sahih
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
۔ (۸۹۵)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا یَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ۔ (مسند أحمد: ۲۶۷۴۳)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔
Takhreej
(۸۹۵) تخریج: حدیث حسن بطرقہ وشواہدہ۔ أخرجہ ابوداود: ۲۵۰، والترمذی: ۱۰۷، والنسائی: ۱/ ۱۳۷، وابن ماجہ: ۵۷۹(انظر: ۲۶۲۱۳)
Explanation
فوائد:… کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ غسل شروع کرتے وقت وضو کر لیتے تھے۔
895
Sahih
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
۔ (۸۹۶)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَغْتَسِلُ وَیُصَلِّی الرَّکْعَتَیْنِ وَصَلَاۃَ الْغَدَاۃِ، لَا أَرَاہُ یُحْدِثُ وُضُوئً ا بَعْدَ الْغُسْلِ۔ (مسند أحمد: ۲۵۷۲۰)
۔ (دوسری سند) سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ غسل کرتے، پھر دو سنتیں اور نمازِ فجر ادا کرتے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو نہیں دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے غسل کے بعد نیا وضو کیا ہو۔
Takhreej
(۸۹۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
896
Sahih
غسلِ جنابت کے بعد خشک رہ جانے والی جگہ کو پالینے والے کا بیان
۔ (۸۹۷)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ: اِغْتَسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ جَنَابَۃٍ، فَلَمَّا خَرَجَ رَاٰی لُمْعَۃً عَلٰی مَنْکِبِہِ الْأَیْسَرِ لَمْ یُصِبْہَا الْمَائُ فَأَخَذَ مِنْ شَعْرِہِ فَبَلَّہَا ثُمَّ مَضٰی اِلَی الصَّلَاۃِ۔ (مسند أحمد: ۲۱۸۰)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے غسلِ جنابت کیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نکلے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دیکھا کہ بائیں کندھے پر کچھ جگہ خشک رہ گئی ہے، اس تک پانی نہیں پہنچا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے بالوں کو پکڑا اور اس جگہ کو تر کر دیا، پھر نماز کے لیے روانہ ہو گئے۔
Takhreej
(۸۹۷) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، علی بن عاصم ضعیف، وابوعلی الرحبی الواسطی متروک۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۶۶۳ (انظر: ۲۱۸۰)
Explanation
فوائد:… حدیث نمبر (۶۹۵)کی شرح میں وضو میں موالاۃ کے حکم پر بحث کی گئی ہے، وہی حکم غسل جنابت کا ہے، جب تک جسم گیلا ہو تو صرف خشک رہ جانے والی جگہ کو دھویا جا سکتا ہے، اگر کوئی جگہ خشک رہ جائے اور سارا جسم بھی خشک ہو جائے تو دوبارہ غسل کرنا پڑے گا۔
897
Zaeef
ایک غسل میں یا متعدد غسلوں میں ایک سے زائد بیویوں کے پاس جانے والے کا بیان
۔ (۸۹۸)۔عَنْ أَبِیْ رَافِعٍؓ (مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طَافَ عَلٰی نِسَائِہِ فِیْ لَیْلَۃٍ (وَفِی رِوَایَۃٍ: فِی یَوْمٍ) فَاغْتَسَلَ عِنْدَ کُلِّ امْرَأَۃٍ مِنْہُنَّ غُسْلًا، فَقُلْتُ: (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَقِیْلَ) یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَوِ اغْتَسَلْتَ غُسْلًا وَاحِدًا؟ فَقَالَ: ((ھٰذَا أَطْیَبُ وَأَطْہَرُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: أَزْکٰی وَاَطْیَبُ وَأَطْہَرُ)۔)) (مسند أحمد: ۲۴۳۶۳)
مولائے رسول سیدنا ابو رافعؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک رات کو اپنی بیویوں کے پاس چکر لگایا اور ہر ایک کے پاس غسلِ جنابت کیا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ آخر میں ایک ہی غسل کر لیتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ زیادہ پاکیزہ، طاہر، ہے۔ ایک روایت میں ہے اَزْکٰی وَاَطْیَبُ وَاَطْہَرُ یہ قریب قریب مفہوم والے الفاظ ہیں۔
Takhreej
(۸۹۸) تخریج: قال الالبانی: حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۲۱۹، وابن ماجہ: ۵۹۰ (انظر: ۲۳۸۶۲)
898
Sahih
ایک غسل میں یا متعدد غسلوں میں ایک سے زائد بیویوں کے پاس جانے والے کا بیان
۔ (۸۹۹)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَطُوْفُ عَلٰی جَمِیْعِ نِسَائِہِ فِیْ لَیْلَۃٍ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فِیْ لَیْلَۃٍ وَاحِدَۃٍ) بِغُسْلٍ وَاحِدٍ۔ (مسند أحمد: ۱۳۳۸۸)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس جا کر (ہم بستری کرتے تھے اور آخر میں) ایک غسل کر لیتے تھے۔
Takhreej
(۸۹۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۰۹ (انظر: ۱۳۳۵۵)
Explanation
فوائد:… صحیح بخاری کی روایت میں ہے: قتادہ نے سیدنا انس ؓسے پوچھا: کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اتنی طاقت تھی؟ انھوں نے کہا: ہم یہ بات کیا کرتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو تیس افراد کی قوت دی گئی ہے۔ فوائد:… پہلی حدیث استحباب اور افضلیت پر اور دوسری جواز پر دلالت کرتی ہے، اور اس امر سے متعلقہ تیسرا عمل درج ذیل ہے: سیدنا ابو سعید خدری ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اپنی بیوی سے مجامعت کرے اور پھر وہ دوبارہ آنا چاہے تو درمیان میں وضو کر لے۔ (صحیح مسلم) اور ابن حبان اور حاکم کی روایت میں ہیں: کیونکہ اس وضو سے دوبارہ آنے کے لیے زیادہ نشاط اور مستعدی پیدا ہو گی۔
899
Sahih
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۹۰۰)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِؓ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: کَیْفَ یَصْنَعُ أَحَدُنَا اِذَا ہُوَ أَجْنَبَ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ یَنَامَ قَبْلَ أَنْ یَغْتَسِلَ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یَتَوَضَّأُ وُضُوئَ ہُ لِلصَّلٰوۃِ ثُمَّ لِیَنَمْ۔)) (مسند أحمد: ۹۴)
سیدنا عمر بن خطابؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سے یہ سوال کیا کہ جب ہم میں سے کسی آدمی کو جنابت لاحق ہو جائے اور پھر وہ سونا بھی چاہے تو اسے کیا کرنا چاہیے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ نماز والا وضو کر لے، پھر سوجائے۔
Takhreej
(۹۰۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۸۷، ۲۸۹، ومسلم: ۳۰۶ (انظر: ۹۴)
Explanation
فوائد:… مسند احمد (۱۶۵) میں اس حدیث کے الفاظ یوں ہیں: سیدنا عمر ؓنے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کیا کہ اگر ہم میں سے کوئی آدمی جنبی ہو تو کیا وہ سو سکتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ((یَتَوَضَّأُ وَیَنَامُ اِنْ شَائَ۔)) … اگر وہ چاہتا ہے تو وضو کر کے سو جائے۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ جنابت والے آدمی کے لیے سونے سے پہلے وضو کر لینا مستحب ہے، واجب نہیں ہے۔
900
Sahih
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۹۰۱)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ آخَرَ)۔عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ بِنَحْوِہِ (وَفِیْہِ: فَأَمَرَہُ أَن یَغْسِلَ ذَکَرَہُ وَیَتَوَضَّأَ وُضُوئَ ہُ لِلصَّلَاۃِ۔ (مسند أحمد: ۲۶۳)
۔ (دوسری سند) سیدنا عمر ؓ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنی شرمگاہ کو دھو لیں اور نماز والا وضو کر لیں۔
Takhreej
(۹۰۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
901
Sahih
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۹۰۲)۔عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ہَلْ یَنَامُ أَحَدُنَا وَہُوَ جُنُبٌ؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ وَیَتَوَضَّأ وُضُوْئَ ہُ لِلصَّلَاۃِ۔)) قَالَ نَافِعٌ: فَکَانَ ابْنُ عُمَرَ اِذَا أَرَادَ أَن یَفْعَلَ شَیْئًا مِنْ ذَالِکَ تَوَضَّأَ وُضُوئَ ہُ لِلصَّلٰوۃِ مَا خَلَا رِجْلَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۴۹۲۹)
نافع کہتے ہیں: سیدنا ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ سیدنا عمرؓ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوال کیا: کیا کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، البتہ نماز والا وضو کر لے۔ سیدنا ابن عمرؓجب اس طرح کا ارادہ کرتے تو نماز والا وضو کرتے، البتہ پاؤں نہیں دھوتے تھے۔
Takhreej
(۹۰۲) تخریج: ھذا حدیث تقدم مرفوعہ برقم (۹۰۰)۔ ولفظ القسم المرفوع منہ عند عبد بن حمید: ((نعم ویتوضأ وضوء ہ للصلاۃ ما عدا قدمیہ۔)) فجعل قولہ ما عدا قدمیہ مرفوعا مع انہ عند غیرہ موقوف علی ابن عمر۔ وأخرج فعل ابن عمر ھذا مالک فی المؤطا : ۱/ ۴۸، وابن ابی شیبۃ: ۱/ ۶۰، والبیھقی: ۱/ ۲۰۰ (انظر: ۴۹۲۹)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓکے عمل کی تین وجوہات ہو سکتی ہیں: (۱)کسی عذر کی بنا پر پاؤں نہ دھوئے (۲)یہ ثابت کرنے کے لیے پاؤں نہ دھوئے کہ یہ وضو فرض نہیں ہے۔ (۳)عام روایات کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ غسلِ جنابت کے دوران آخر میں پاؤں دھوتے تھے، ممکن ہے کہ سیدنا ابن عمر ؓنے اس فعل سے استدلال کرتے ہوئے پاؤں نہ دھوئے ہوں۔
902
Sahih
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۹۰۳)۔ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا تَرْقُدَنَّ جُنُبًا حَتّٰی تَتَوَضَّأَ۔)) (مسند أحمد: ۹۰۸۲)
سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو جنابت کی حالت میں وضو کیے بغیر ہر گز نہ سو۔
Takhreej
(۹۰۳) تخریج: قال الھیثمی: فیہ رجل لم یسمّ (انظر: ۹۰۹۳)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابوہریرہ ؓسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اِذَا کَانَ جُنُبًا وَاَرَادَ اَنْ یَّاْکُلَ اَوْ یَنَامَ تَوَضَّأَ۔ … جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جنبی ہوتے اور کھانا کھانے یا سونے کا ارادہ کرتے تو وضو کرتے تھے۔ (معجم اوسط طبرانی)
903
Sahih
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۹۰۴)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ خَبَّابٍ أَنَّ أَبَا سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیَّ ؓ ذَکَرَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَ نَّہُ تُصِیْبُہُ الْجَنَابَۃُ فَیُرِیْدُ أَنْ یَنَامَ فَأَمَرَہُ أَن یَتَوَضَّأَ ثُمَّ یَنَامَ۔ (مسند أحمد: ۱۱۵۴۳)
عبد اللہ بن خباب کہتے ہیں کہ سیدناابو سعید خدریؓ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سامنے یہ بات ذکر کی کہ اس کو جنابت لاحق ہو جاتی ہے، جب کہ وہ سونے کا ارادہ بھی رکھتا ہوتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے جواباً ان کو حکم دیا کہ وہ وضو کر کے سو جایا کریں۔
Takhreej
(۹۰۴)تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۵۸۶ (انظر: ۱۱۵۲۳)
904
Sahih
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۹۰۵)۔عَنْ عَائِشَۃَؓقَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا کَانَ جُنُبًا وَأَرَادَ أَنْ یَنَامَ وَہُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوئَہُ لِلصَّلَاۃِ قَبْلَ أَنْ یَنَامَ وَکَانَ یَقُوْلُ: ((مَنْ أَرَادَ أَنْ یَنَامَ وَہُوَ جُنُبٌ فَلْیَتَوَضَّأْ وُضُوئَ ہُ لِلصَّلَاۃِ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۱۱۵)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو جنابت لاحق ہو جاتی تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا سونے کا ارادہ ہوتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سونے سے پہلے نماز والا وضو کرتے اور فرماتے: جو جنابت کی حالت میں سونے کاارادہ رکھتا ہو تو نماز والا وضو کر لیاکرے۔
Takhreej
(۹۰۵) تخریج: الحدیث من فعلہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ صحیح، ومن قولہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ صحیح لغیرہ۔ أخرجہ البخاری: ۲۸۸، ومسلم: ۳۰۵ من فعلہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، (انظر: ۲۴۶۰۸)
Explanation
فوائد:… ان روایات سے معلوم ہوا کہ جنبی آدمی کا صبح تک غسل لیٹ کرنا جائز ہے، لیکن ایسی صورت میں اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ وضو کر کے سوئے۔
905
Sahih
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۹۰۶)۔عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا أَرَادَ أَنْ یَنَامَ وَہُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوئَ ہُ لِلصَّلَاۃِ فَاِذَا أَرَادَ أَنْ یَأْکُلَ أَوْ یَشْرَبَ غَسَلَ کَفَّیْہِ ثُمَّ یَأْکُلُ أَوْ یَشْرَبُ اِنْ شَائَ۔ (مسند أحمد: ۲۵۲۲۱)
سیدہ عائشہؓ کہتی ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جنابت کی حالت میں سونے کا ارادہ کرتے تو نماز والا وضو کر لیتے تھے، اسی طرح جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اسی حالت میںکھانے یا پینے کا ارادہ کرتے تو ہاتھوں کو دھو لیتے، پھر اگر چاہتے تو کھا پی لیتے تھے۔
Takhreej
(۹۰۶) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۲۲۳، والنسائی: ۱/ ۱۳۹، وابن ماجہ: ۵۹۳ (انظر: ۲۴۷۱۴)
906
Sahih
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۹۰۷)۔(وَعَنْہَا مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ)۔أَنَّہَا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا کَانَ جُنُبًا فَأَرَادَ أَنْ یَنَامَ أَوْ یَأْکُلَ تَوَضَّأَ۔ (مسند أحمد: ۲۵۴۶۲)
۔ (دوسری سند): سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب جنبی ہوتے اور سونے کا یا کھانے کا ارادہ کرتے تو وضو کر لیتے تھے۔
Takhreej
(۹۰۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۰۵، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۴۹۴۹)
907
Sahih
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۹۰۸)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَتَوَضَّأُ اِذَا جَامَعَ وَاِذَا أَرَادَ أَنْ یَرْجِعَ۔)) قَالَ سُفْیَانُ: أَبُو سَعِیْدٍ أَدْرَکَ الْحَرَّۃَ۔ (مسند أحمد: ۱۱۰۵۰)
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب آدمی ایک دفعہ مجامعت کے بعد دوبارہ لوٹنا چاہے تو وہ وضو کر لے۔ سفیان نے کہا: سیدنا ابو سعید، حرّہ کی لڑائی کے دور کو پایا ہے یعنی اس وقت وہ زندہ تھے۔
Takhreej
(۹۰۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۰۸ (انظر: ۱۱۰۳۶)
Explanation
فوائد:… ۶۳ ھ میں یزید بن معاویہ اور اہل مدینہ کے ما بین حرہ کی لڑائی واقع ہوئی تھی۔ اس باب کی احادیث سے اور حدیث نمبر (۹۰۳) کی شرح میں مذکورہ حدیث سے پتہ چلا کہ جنبی آدمی کھانا کھاتے وقت ہاتھ دھوئے یا وضو کرے، اگر ہاتھوں پر نجاست کے آثار ہوں تو ہاتھ دھونا ضروری ہوں گے۔
908
Sahih

Chapters

31
01
بیٹھنے والے کی نیند کے بارے میں
4 Hadith
02
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نیند ناقضِ وضو نہیں تھی، اگرچہ وہ لیٹ کر ہوتی
4 Hadith
03
لیٹ کر سو جانے والے کا وضو
3 Hadith
04
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان
3 Hadith
05
ذکر کو چھونے سے وضو کا ٹوٹ جانا، اس کے بارے میں سیدہ بسرہ بنت صفوانؓ کی حدیث کا بیان
4 Hadith
06
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کا نہ ٹوٹنا، اس رائے کا بیان
3 Hadith
07
عورت کو چھونے اور اس کا بوسہ لینے سے وضو کرنے کا بیان
3 Hadith
08
قے، ڈکار اور نکسیر سے وضو کرنے کا بیان
2 Hadith
09
اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا بیان
4 Hadith
10
آگ سے پکی ہوئی چیز سے وضو کرنے کا بیان
5 Hadith
11
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بعض بیویوں سے اس موضوع سے متعلقہ بیان کی گئی مرویات کا بیان
5 Hadith
12
آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان
24 Hadith
13
غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہو جانے کے قائلین کا بیان
5 Hadith
14
یہ رخصت تھی، پھر منسوخ ہو گئی
3 Hadith
15
ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
6 Hadith
16
احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
10 Hadith
17
ان لوگون کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ جنابت والا قرآن مجید کی تلاوت نہ کرے
4 Hadith
18
غسل کے وقت پردہ کرنا
6 Hadith
19
غسل اور وضو کے پانی کی مقدار کا بیان
6 Hadith
20
غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
10 Hadith
21
غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
9 Hadith
22
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
5 Hadith
23
غسلِ جنابت کے بعد خشک رہ جانے والی جگہ کو پالینے والے کا بیان
1 Hadith
24
ایک غسل میں یا متعدد غسلوں میں ایک سے زائد بیویوں کے پاس جانے والے کا بیان
2 Hadith
25
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
6 Hadith
26
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
3 Hadith
27
رات کے پچھلے حصے تک غسلِ جنابت کو مؤخر کرنا
4 Hadith
28
مسنون غسل کی اقسام ایک سے زائد غسل کی وہ اقسام، جن کا احادیث میں اکٹھا ذکر کیا گیا
2 Hadith
29
میت کو غسل دینے سے غسل کرنے اور اس کو اٹھانے سے وضو کرنے کا بیان
4 Hadith
30
مسلمان ہونے والے کافر سے غسل کرنے کا مطالبہ کرنے کا بیان
3 Hadith
31
حمام میں داخل ہونے کا حکم
8 Hadith
No chapter matched that.