۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسلام کے نام پر کوئی چیز مانگی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ دے دیتے تھے،ایک دن ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو پہاڑوں کے درمیان والی گھاٹی کو بھر دینے والی زکوۃ کی بہت زیادہ بکریاں اسے دے دیں، جب وہ اپنی قوم کی طرف لوٹا تو اس نے کہا: اے میری قوم! مسلمان ہو جائو، بے شک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر سخاوت کرتے ہیں کہ انہیں اپنے فاقے کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔
۔ سیدنا عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تقسیم کے لئے کچھ مال آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیا اور بعض کو نہ دیا، جن لوگوں کو نہیں دیا گیا، انھوں نے (شکوہ کرتے ہوئے) ناقدانہ کلام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی باتوں کا علم بھی ہو گیا۔پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: میں بعض لوگوں کو مال دیتا ہوں اور بعض کو نہیں دیتا، اور میں جن کو نہیں دیتا وہ مجھے ان لوگوں سے زیادہ محبوب ہیں، جن کودیتا ہوں، میں جن لوگوں میں مال تقسیم کرتا ہوں، ان کی بے صبری اور گھبراہٹ کی وجہ سے ایسے کرتا ہوں، اور بعض لوگوں کواس غِنٰی اور خیر کے سپر د کر دیتا ہوں، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ودیعت رکھی ہوتی ہے، مثال کے طور پر عمرو بن تغلب ہیں (یہ سن کر) سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس وقت بالکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھاہوا تھا، (مجھے یہ کلمہ اس قدر محبوب لگا کہ) میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بات کے عوض مجھے سرخ اونٹ ملیں۔
فوائد:… زکوۃ کے آٹھ مصارف میں سے ایک مصرف یہ ہے کہ اس مال سے لوگوں کی تالیف ِ قلبی کی جائے، اس کی تفصیل درج ذیل ہے: ایک تو وہ کافر ہے، جو کچھ کچھ اسلام کی طرف مائل ہو اور اس کی امداد کرنے پر یہ امید ہو کہ وہ مسلمان ہو جائے گا۔ دوسرے، وہ نو مسلم افراد ہیں، جن کو اسلام پر مضبوطی سے قائم رکھنے کے لیے امداد دینے کی ضرورت ہو۔ تیسرے، وہ افراد بھی ہیں جن کو امداد دینے کی صورت میں یہ امید ہو کہ وہ اپنے علاقے کے لوگوں کو مسلمانوں پر حملہ آور ہونے سے روکیں گے اور اس طرح وہ قریب کے کمزور مسلمانوں کا تحفظ کریں۔ یہ اور اس قسم کی دیگر صورتیں تالیف ِ قلب کی ہیں، جن پر زکوۃ کیرقم خرچ کی جا سکتی ہے، چاہے مذکورہ افراد مالدار ہی ہوں، احناف کے نزدیکیہمصرف ختم ہو گیا، لیکنیہ بات صحیح نہیں ہے، حالات و ظروف کے مطابق ہر دور میں اس مصرف پر زکوۃ کی رقم خرچ کرنا جائز ہے۔
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک بدو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسے عمل کی تعلیم دیں کہ جس کی بدولت میں جنت میں چلا جائوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے بات تو مختصر کی ہے، لیکن بہت بڑی بات پوچھی ہے، بہرحال کسی غلام کو مکمل آزاد کر یا کسی کو آزاد کرنے میں حصہ ڈال۔ اس نے کہا: کیایہ دونوں کام ایک ہی نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، عِتْقُ النَسَمَہ یہ ہے کہ تم اکیلے کسی کو آزاد کرو اور فَکُّ الرَّقَبَہ یہ ہے کہ تم کسی غلام کی آزادی میں حصہ ڈال دو، (بقیہ نیک اعمال یہ ہیں کہ) تم دودھ والا جانور عاریۃً کسی کو دے دو اور اپنے رشتہ دار، خواہ وہ ظالم ہی ہو، کے ساتھ صلہ رحمی کرو، اگر اتنی طاقت نہ ہو تو کسی بھوکے کو کھانا کھلایا کرو، پیاسے کو پانی پلایا کرو، نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو،ا گر ان امور کی طاقت بھی نہ ہو تو اپنی زبان کو خیر والے امور کے علاوہ (باقی کاموں سے) روک لو۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین آدمیوں کی مدد کرنا اللہ پر حق ہے:(۱)اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، (۲) پاکدامنی کے مقصد سے نکاح کرنے والا اور (۳) وہ مکاتَب غلام جو اپنی ادائیگی کا ارادہ رکھتا ہو۔
فوائد:… مکاتَب: وہ غلام جس نے اپنے آقا سے رقم مقرر کر کے آزادی حاصل کرنے کا معاہدہ کیا ہو۔ دونوں احادیث اس موضوع پر واضح نہیں ہیں کہ زکوۃ کے مال سے غلاموں کو آزاد کیا جائے، بہرحال یہ مسئلہ اپنی جگہ درست ہے کہ زکوۃ کے آٹھ مصارف میں سے ایک مصرف غلاموں کی آزادی ہے، وہ مکاتَب ہوں یا غیر مکاتَب۔
۔ سیدناقبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے (لوگوں میں اصلاح کی غرض سے) ایک مالی ضمانت قبول کر لی اور اس سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آ کر تعاون کی گزارش کی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے پاس زکوۃ آنے تک انتظار کرو، یا تو ہم مکمل ادائیگی کر دیں گے یا اس سلسلہ میں کچھ تعاون کر دیں گے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوال کرنا اور مانگنا حلال نہیں ہے، مگر تین قسم کے آدمیوں کے لئے: (۱)وہ آدمی جو لوگوں (کے درمیان اصلاح) کی خاطر مالی ضمانت دے دیتا ہے، وہ اس سلسلے میں سوال کرسکتا ہے، لیکن جب وہ ضمانت ادا کر دے تو مانگنے سے باز آ جائے، (۲)وہ آدمی کہ اس پر ایسی آفت آ پڑے کہ اس کے مال کو تباہ کر دے، تو وہ ضرورت پوری ہونے تک سوال کر لے اور پھرایسا کرنے سے رک جائے اور (۳)وہ آدمی جو فاقہ میں مبتلا ہو گیا ہو، ایسا آدمی بھی حاجت پوری ہونے تک سوال کر سکتا ہے، لیکن پھر ایسا کرنے سے باز آ جائے۔ قبیصہ ! ان صورتوں کے علاوہ مانگنا حرام ہے، ایسا کرنے والا حرام کھاتا ہے۔
Takhreej
(۳۴۷۲) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۰۴۴(انظر: ۱۰۶۰۱)
Explanation
فوائد:… ’’مالی ضمانت قبول کرنا‘‘ اس کی صورت یہ ہے کہ دو قبیلوںیا دو آدمیوں کے درمیان کسی مالی معاملے پر ہونے والی کسی جھگڑے کو رفع دفع کرنے کے لیے ایک آدمی قرض لے کر معاملے کو سنوار کر صلح کروا دیتا ہے، چونکہ اس آدمی نے اپنی ذاتی ضرورت کے لیے قرضہ نہیں لیا، اس لیے اس کی ادائیگی کے لیے وہ دوسروں سے سوال کر سکتا ہے یا زکوۃ لے سکتاہے۔ فاقہ میں مبتلا ہونے سے مراد یہ ہے کہ سیلاب، آگ، آسمانی آفت یا آندھی وغیرہ کی وجہ سے کسی آدمی کا مال اس طرح تباہ ہو جائے کہ وہ خود اپنے پاؤں پر کھڑاہونے کے قابل نہ رہے، ایسی صورت میں جائز حد تک حالات درست ہو جانے تک وہ لوگوں سے سوال کر سکتا ہے۔
۔ (دوسری سند) یہی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: (تیسرا) وہ فاقہ کش اور ضرورت مند آدمی ہے کہ جس کی قوم کے تین عقلمند آدمییہ گواہی دے دیں کہ واقعی فلاں آدمی حاجت اور فاقے میں مبتلا ہے۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک سوال کرنا حلال نہیں ہے، مگر تین افراد کے لیے : کسی مقتول کی تکلیف دہ دیت ادا کرنے والا، بہت زیادہ مقروض اور بہت زیادہ فقیر۔
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! ہم ایسی قوم ہیں کہ ایک دوسرے سے مانگتے ہیں،( کیایہ جائز ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کسی آفتیا لڑائی کے سلسلے میں لوگوں کے مابین صلح کروانے کے لیے مانگتا ہے، لیکن جب وہ اپنے مقصد تک پہنچ جاتا ہے یا اس کے قریب ہو جاتا ہے تو باز آ جاتا ہے۔
۔ سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نے پھل خریدے، لیکن وہ کسی آفت میں مبتلا ہو گیا اور اس کا قرض بہت زیادہ ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اس پر صدقہ کرو۔ چنانچہ لوگوں نے اس پر صدقہ تو کیالیکن اس سے اس کا قرضہ پورا نہ ہو سکا۔بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (قرض خواہوں سے) فرمایا: جو مال تم نے اس کے پاس پا لیا ہے، وہ لے لو، اور تمہیں صرف یہی ملے گا۔
فوائد:… یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی مقروض مفلس اور کنگال ہو جاتا ہے اور زکوۃ سے بھی اس کا تعاون کرنے والا کوئی نہیں ہے تو اس کے قرض خواہ دنیا میں محروم ہو جائیں گے، آخرت کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے کہ مقروض آدمی قرضہ واپس کرنے کی رغبت رکھتا تھا یا نہیں اور قرض خواہ معاف کرتے ہیںیا نہیں، بہرحال ایسا مقروض دوسروں کا حق لے کر فوت ہوتا ہے۔ معلوم ہوا کہ زکوۃ کا ایک مصرف مقروض لوگ بھی ہیں، تین قسم کے لوگ اس مصرف کا مصداق بن سکتے ہیں:
(۱) وہ مقروض جو اپنے اہل و عیال کے نان و نفقہ اور ضروریات زندگی فراہم کرنے میں لوگوں کے زیر بار ہو گئے اور ان کے پاس نقد رقم بھی نہیں ہے اور ایسا سامان بھی نہیں ہے، جسے بیچ کر وہ قرض ادا کر سکیں۔
(۲) وہ ذمہ دار اصحاب ِ ضمانت ہیں، جنہوں نے کسی کی ضمانت دی اور پھر وہ اس کی ادائیگی کے ذمہ دار قرار پا گئے۔
(۳) وہ لوگ کہ جن کی فصلیں تباہ ہو جائیںیا کاروبار خسارے کا شکار ہو گیا اور اس بنیاد پر وہ مقروض ہو گیا۔ ان سب افراد کی زکوۃ کی مدّ سے مدد کرنا جائز ہے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مال دار کے لئے زکوۃ لینا حلال نہیں ہے، مگر تین افراد کے لیے: جہاد کرنے والا، مسافر اور وہ (غنی) آدمی کہ اس کے پڑوسی کو زکوۃ دی گئی اور اس نے اپنے پڑوسی کو کوئی تحفہ دے دیا۔ــ
فوائد:… حدیث اپنے مفہوم میں واضح ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ جو لوگ زکوۃ کا مال کھاتے ہیں، ان کی دعوت اور تحفہ قبول کیا جا سکتا ہے، بعض مالدار لوگوں کو دیکھا گیا کہ وہ زکوۃ کا مال سمجھ کر ان چیزوں سے گریز کرتے ہیں، حالانکہ ایسی دعوت اور تحفے پر زکوۃ کا حکم نہیں لگایا جا سکتا، کیونکہ مستحق آدمی زکوۃ کے مال کا مالک بن جاتا ہے اور وہ جہاں مرضی خرچ کر سکتا ہے۔ مسافر کی صورت یہ ہے کہ ایک آدمی مالدار ہے، لیکن سفر میں کچھ وجوہات کی بنا پر اس کے اسباب ِ سفر ختم ہوجاتے ہیں، اب بجائے اس کے کہ وہ اپنا سفر پورا کرنے کے لیے کسی سے قرضہ لینے کی کوشش کرے، اسے چاہیے کہ اگر کہیں زکوۃ مل سکتی ہے تو ظن غالب کے مطابق اتنی مقدار میں لے لے، جو اسے سفر میں کفایت کرے گی۔
۔ سیدہ ام معقل اسدیہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں:میرے شوہر نے ایک جوان اونٹ اللہ کی راہ کے لئے وقف کر دیا، جبکہ میں عمرہ کے لئے جانا چاہتی تھی، اس لیے میں نے اپنے شوہر سے وہ اونٹ طلب کیا، لیکن اس نے دینے سے انکار کر دیا۔ جب میں نے اس بات کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرےشوہر کو حکم دیا کہ وہ اونٹ مجھے دے دے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حج اور عمرہ بھی اللہ کی راہ میں ہی ہے۔ نیز فرمایا: رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔
Takhreej
(۳۴۷۸) تخر یـج: المرفوع منہ صحیح لغیرہ، لکن ذکر لفظ ’’العمرۃ‘‘ منکر علی کل حال۔ اخرجہ ابوداود: ۱۹۸۸(انظر: ۲۷۲۸۶)
Explanation
فوائد:… سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ، عَلَیْھِنَّ جِہَادٌ لَا قِتَالَ فِیْہِ، اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ۔)) … ’’جی ہاں، عورتوں پر جہاد ہے، لیکن اس میں قتال نہیں ہے، یعنی حج اور عمرہ۔‘‘ (ابن ماجہ: ۲۹۰۱) معلوم ہوا کہ حج اور عمرہ پر بھی فی سبیل اللہ کا اطلاق کیاجا سکتا ہے۔
رمضان میں عمرہ کرنے سے حج کا ثواب ملے گا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر اس عمرہ کرنے والے پر حج بھی فرض تھا تو اس عمرہ سے اس کے حج کی ادائیگی تصور ہوگی۔ ثواب ملنا اور چیز ہے اور فرض کا ادا ہو جانا چیزے دیگر۔ جیسے کوئی آدمی جماعت کے ساتھ نماز پڑھے تو اسے پچیسیا ستائیس گنا ثواب ملے گا۔ لیکن اس کا یہ نتیجہ نہیں کہ اس کے آئندہ پانچ دن کی نمازیں ادا ہوگئیں ہیں، اسے اب اتنے دن نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں، نہیں ہرگز نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غنی لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں ہے، مگر ان پانچ افراد کے لیے: عاملِ زکوۃ، زکوۃ کے مال کو اپنے مال کے عوض خریدنے والا، چٹی بھرنے والا (یعنی کسی کی طرف سے ادائیگی کا ذمہ لینے والا) ، اللہ کی راہ میںجہاد کرنے والا اور وہ غنی آدمی کہ زکوۃ لینے والا مسکین جس کو کوئی تحفہ دے دے۔
فوائد:… یہ ضروری نہیں کہ چٹی بھرنے والے اپنے مال سے ہی ادائیگی کرے، کیونکہ اس معاملے میں اس کی ذات کاکوئی دخل نہیں ہوتا، اس لیے وہ ایسے بوجھ اتارنے کے لیے زکوۃ بھی لے سکتا ہے اور سوال بھی کر سکتا ہے۔ آل محمد سے تعلق رکھنے والا عامل، زکوۃ سے تنخواہ نہیں لے سکتا، اگلے باب میں اس کی وضاحت آرہی ہے۔
قرآن مجید میںکل آٹھ مصارفِ زکوۃ بیان کیے گئے ہیں، اس باب سے معلوم ہوا کہ چٹی بھرنے والا بھی زکوۃ وصول کر کے اپنی ذمہ داری کو ادا کرسکتا ہے، سوال یہ ہے کہ ایک آدمی زکوۃ ادا کرنا چاہتا ہے تو کیا اس کے لیے ضروری ہے کہ ان تمام مصارف میں خرچ کرے یا کسی ایکمصرف میں کرنے سے اس کا فرض ادا ہو جائے؟ مؤخر الذکر مسلک راجح ہے، کئی احادیث اور آثار سے ثابت ہے کہ صرف ایک ایک صنف میں بھی زکوۃ خرچ کی جاتی رہی۔
۔ ابو حوراء کہتے ہیں: میں نے سیدناحسن بن علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کونسی کوئی خاص بات یاد ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے یاد ہے کہ میں نے ایک دفعہ صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈالی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ لعاب سمیت میرے منہ سے کھنیچ کر نکالیاور کھجور کے ڈھیر میں واپس ڈال دی۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کا ایککھجور لے لینا، اس سے آپ کو کیا ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم آلِ محمدہیں اور ہمارے لئے زکوۃ حلال نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بھی فرماتے تھے: شک والی بات کو چھوڑ کر ایسی صورت کو اختیار کرو جو شک و شبہ سے پاک ہو، سچائی میں سکون ہے اورجھوٹ میں قلق اور اضطراب ہے، پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں اس دعا کی تعلیم بھی دیتے تھے: اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ، … تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔ یعنی: اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرہ میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت دی اور مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرماجنہیں تو نے عافیت بخشی اور مجھے اپنا دوست بنا کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا اور جو کچھ تو نے مجھے عطا کیا اس میں برکت ڈال دے اور جس شر کا تو نے فیصلہ کیا ہے مجھے اس سے محفوظ رکھ۔ بیشک تو ہی فیصلہ صادر کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جاتا اور جس کا تو والی بنا وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا، اے ہمار ے ربّ! تو بڑی برکت والا اور بہت بلند و بالا ہے۔
Takhreej
(۳۴۸۰) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرج الترمذی منہ لفظ: ((دع ما یریبک … وان الکذب ریبۃ))، وأخرجہ بتمامہ عبد الرزاق: ۴۹۸۴، والطبرانی: ۲۷۱۱ (انظر: ۱۷۲۷)
۔ ربیعہ بن شیبان کہتے ہیں: میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی خاص چیزیاد ہے؟ انہوں نے کہا: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے زکوۃ والے سٹور میں لے گئے، میں نے وہاں سے ایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈال لی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو پھینک دو، یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اہل بیت کے کسی فرد کے لئے حلال نہیں ہے۔
Takhreej
(۳۴۸۱) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۲۱۴، وابن خزیمۃ: ۲۳۴۹، والطحاوی: ۲/ ۷، وھو نفس الحدیث المتقدم (انظر: ۱۷۲۴)
۔ ابو حوراء کہتے ہیں: ہم سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، کسی نے ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی خاص بات یاد ہے؟ انہوں نے کہا: میں ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر اس کھلیان سے ہوا، جہاں زکوۃ کی کھجوریں پڑی تھیں، میں نے ایککھجور لے کر اپنے منہ میں ڈال لی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعاب سمیت اس کو نکال دیا۔ کسی نے کہا: اگر آپ یہ کھجور اس بچے کے پاس ہی رہنے دیتے تو اس سے آپ کو کیا ہو جاتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیےیہ زکوۃ حلال نہیں ہے۔ پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: نیز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پانچ نمازیں بھی سیکھی ہیں۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صدقہ کی کھجوریں تقسیم فرما رہے تھے اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کام سے فارغ ہوئے تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو کندھے پر اٹھالیااوران کا لعاب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بہنے لگا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اٹھا کر دیکھا تو ان کے منہ میں ایک کھجور دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کے منہ میں داخل کرکے اس کو نکال دیا اور فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے زکوٰۃ حلال نہیں۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انھوں نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھائی اور اس کو اپنے منہ میں چبایا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اوہ، اوہ، اوہ، ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوئے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پہلو کے نیچے سے ایک کھجور ملی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اٹھا کر کھا لیا، لیکن بعد ازاں رات کے آخری پہر کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پریشانی کی وجہ سے الٹ پلٹ ہونے لگ گئے، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض بیویاں بھی گھبرا گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے) فرمایا: مجھے اپنے پہلو کے نیچے سے ایک کھجور ملی اور میں نے اسے کھا لیا، اب مجھے اندیشہیہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ وہ صدقہ کی کھجور ہو۔
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کھجور تو کھا لی، مگر ساری رات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نیند نہیں آئی،کسی اہلیہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ تھی کہ گزشتہ رات آپ پر بے خوابی طاری رہی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنے پہلو کے نیچے سے ایک کھجور ملی تھی، میں نے وہ کھا لی، ہمارے ہاں صدقہ کی کھجوریں بھی پڑی تھیں، اب مجھے اندیشہیہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کھجور ان صدقہ والی کھجوروں میں سے ہو۔
Takhreej
(۳۴۸۶) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۶۸۲۰)
Explanation
فوائد:… آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو شبہ ہوا تھا، یہ محض شبہ نہیں تھا، بلکہ اس کے مختلف قرائن ہوں گے، ممکن ہے کہ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں صدقے کی کھجوریں لائی گئی ہوں، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو تقسیم کر دیں، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شبہ ہو گیا ہو، بہرحال ایسی صورتحال میں شبہ میں پڑ جانے کی گنجائش موجود ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عالم الغیب سمجھنے والوں کو اس جگہ غور کرنا چاہیے، اگر آپ غیب جانتے تھے اور کھجور واقعۃ صدقے کی تھی تو یہ کھائی کیوں اور اگر صدقے کی نہیں تھی تو ساری رات بے خوابی اور بے قراری میں کیوں گزاری؟ (عبداللہ رفیق)
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کھانا گھر والوں کے علاوہ کہیں اور سے لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بارے میں دریافت کرتے تھے، اگر وہ تحفہ ہوتا تو کھا لیتے اور اگر وہ صدقہ ہوتا تو فرماتے: تم کھا لو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود نہیں کھاتے تھے۔