۔ سیدناعبد المطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ جمع ہوئے اور انہوں نے میرے اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کے متعلق مشورہ کیا اور کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم ان دونوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں کو صدقات کی وصولی پر مامور فرمائیں، اس طرح یہ دونوں لوگوں سے زکوٰۃ و صدقات وصول کرکے لائیں اور دوسروں کی طرح مالی منفعت یعنی اجرت حاصل کر سکیں،یہ بہتر چیز ہے، ابھی تک وہ دونوں یہ مشورہ ہی کر رہے تھے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور انہوں نے پوچھا: تمہارے کیا ارادے ہیں؟ جب ان دونوں نے ان کو اپنے ارادے سے آگاہ کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ایسا نہ کرو، اللہ کی قسم ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا: آپ ایسے کیوں کر رہے ہیں؟ آپ یہ بات محض حسد کی بنا پر کر رہے ہیں، دیکھیںکہ آپ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں رہتے ہیں اور آپ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے داماد بھی ہیں، لیکن ہم نے تو کبھی بھی آپ پر حسد نہیں کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی آخر ابو حسن ہوں، تم ان دونوں کو بھیج کر دیکھ لو، یہ کہہ کر وہ لیٹ گئے۔ عبد المطلب کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھ لی تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل ہی حجرہ کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے ہاتھ تھام لئے اور فرمایا: تم کیا کہنا چاہتے ہو؟ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اس کا اظہار کر دو، اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر تشریف لے گئے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اندر چلے گئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ زینب رضی اللہ عنہ کے ہاں مقیم تھے،ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کی اور عرض کیا: اللہ کے رسول۱ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے ہیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں زکوٰۃ و صدقات کی وصولی پر مامور فر ما دیں، اس طرح ہم بھی دوسروں کی طرح مالی منفعت حاصل کر سکیں گے، ہم بھی دوسروں کی طرح وصولیاں کرکے لا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیں گے۔یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک کمرے کی چھت کی طرف اٹھایا، ہم نے کچھ کہنے کا ارادہ تو کیا لیکن سیدہ زینب رضی اللہ عنہ نے پردے کے پیچھے سے اشارہ کرکے ہمیں بولنے سے روک دیا،کچھ دیر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: خبردار! محمد اور آل محمد کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، یہ تو لوگوں کی میل کچیل ہوتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: محمیہ بن جز کو بلا ئو۔ جو کہ عشر پر مامور تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محمیہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: خُمُس (پانچواں حصے) میں سے ان دونوں کے مہر ادا کردو۔
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد المطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی شادیاں کرا دیں اور انہیں صدقات کی وصولی پر مامور کر دیں تاکہ وہ اس طرح کچھ مالی منفعت حاصل کر سکیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ صدقات تو لوگوں کی میل کچیل ہوتے ہیں اور یہ محمد اور آلِ محمد لئے حلال نہیں ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا محمیہ زبیدی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: فضل کی شادی کرا دو۔ اور سیدنانوفل بن حارث بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم عبد المطلب بن ربیعہ کی شادی کرا دو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محمیہزبیدی کو خُمُس کی وصولی پر مامور کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ان دونوں کا مہر خُمُس میں سے ادا کر دو۔ عبد اللہ بن حارث نے اس کی مقدار کا تعین نہیں کیا۔
Takhreej
(۳۴۹۰) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۱۷۵۱۸)
۔ عطاء بن سائب کہتے ہیں: میں سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا کی خدمت میں صدقہ کی ایک چیز لے کر حاضر ہوا، لیکن انہوں نے وہ چیز واپس کر دی اور کہا: مولائے نبی سیدنامہران نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: ہم آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں ہے، نیز قوم کا غلام ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۴۹۱) صحیح بالشواھد۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۳۱۵، وعبد الرزاق: ۶۹۴۲ (انظر: ۱۵۷۰۸)
۔ (دوسری سند) انھوں نے مجھے کہا: مجھے مہران نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلاتے ہوئے کہا: میمون! یا مہران! ہم ایسے اہل بیت ہیں کہ ہم کو صدقات سے روکا گیا ہے۔ ہمارے غلام بھی ہم میں سے ہیںاور ہم صدقہ نہیں کھاتے۔
۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ارقم زہرییا ابن ابی ارقم کا میرے پاس سے گزر ہوا، وہ صدقات کی وصولی پر مامور تھے۔ انہوں نے مجھے بھی ساتھ لے لیا ایک اور روایت میں ہے۔ وہ مجھے بھی ساتھ لے گئے تاکہ میں بھی اس میں سے کچھ حاصل کر سکوں۔ میں نے واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی بابت دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے صدقہ حرام ہے اور قوم کا غلام انہی میں شمار ہوتا ہے۔
۔ سیدناسلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں غلام تھا، ایک دن میںکھانا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوااور کہا: یہ صدقہ ہے، (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو (کھانے کا) حکم دیا، پس انہوں نے کھا لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود نہ کھایا۔ پھر ایک دن میں کھانا لے کر حاضر ہوا اور کہا: اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عزت دے، یہ ہدیہ ہے، جو میں آپ کیلئے لے کر آیا ہوں، کیونکہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔ پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو حکم دیا، پس انہوں نے بھی کھایا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ان کے ساتھ کھایا۔
فوائد:… راجح قول کے مطابق آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مراد بنو عبد المطلب اور بنو ہاشم ہیں، اور بنو ہاشم سے مراد سیدنا علی، سیدنا عباس، سیدنا عقیل اور سیدنا حارث بن عبد المطلب کی اولاد ہے۔ مذکورہ بالا بعض احادیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کے غلاموں کا بھییہی حکم ہے۔ شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس حدیث سے پتہ چلا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کے غلاموں کے لیے بھی صدقہ حلال نہیں ہے، حنفی مذہب میں بھییہی قول معروف ہے، البتہ ابن ملک کا قول اس کے مخالف ہے، لیکن علامہ ملا علی قاری نے (مرقاۃ المفاتیح: ۲/ ۴۴۸۔ ۴۴۹) میں اس پر ردّ کیاہے، اس کامطالعہ کر لینا چاہیے۔ (صحیحہ: ۱۶۱۳) آج بھی جن لوگوں کا نسب ان مذکورہ بالا ہستیوں سے ملتا ہے، ان کو اس معاملے انتہائی محتاط رہنا چاہیے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک روز میرے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مابین صدقہ کے متعلق گفتگو ہونے لگی،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ نہیں سنا تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ میں خیانت کا ذکر کیا تو اس وقت یہ بھی فرمایا تھا: جس نے صدقہ کے مال میں ایک اونٹیا ایک بکری کی خیانت کی، تو وہ قیامت والے دن اسے اٹھا کر حاضر ہو گا؟ سیدنا عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے کہا: جی بالکل۔
Takhreej
(۳۴۹۵) تخر یـج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۸۱۰(انظر: ۱۶۰۶۳)
۔ سیدناابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنوازد کے ایک شخص ابن لُتْبِیَّہ کو صدقہ کی وصولی کیلئے عامل بنایا، جب وہ واپس آیا تو کہنے لگا: یہ چیز تمہارے لئے ہے اور یہ چیز مجھے ہدیہ دی گئی ہے، بات یہ ہے کہ وہ اپنی ماں یا باپ کے گھر بیٹھا رہتا پھر دیکھتے کہ اس کو ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے! تم میں سے جو آدمی صدقہ میں خیانت کرے گا، وہ اسے قیامت کے دن اپنی گردن پر اٹھا کر حاضر ہو گا، اگر وہ اونٹ ہوا تو وہ بلبلارہا ہو گا، اگر وہ گائے ہوئی تو ڈکار رہی ہو گی اور اگر وہ بکری ہوئی تو ممیا رہی ہو گی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اس قدر بلند کیا کہ ہمیں آپ کے بازوئوں کی سفیدی نظر آنے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے لوگوں تک پیغام پہنچا دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ یہ بات ارشاد فرمائی۔ (یہ حدیث بیان کرنے کے بعد) سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے کانوں نے یہ حدیث سنی اور میری آنکھوں نے اس کا مشاہدہ کیا، بہرحال تم سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بھی پوچھ لو۔
۔ مولائے رسول سیدناابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ عصر کی نماز کے بعد بنو عبد الاشھل کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے اور غروب آفتاب تک وہیں گفتگو میں مگن رہتے۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ (وہاں سے فارغ ہو کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مغرب کے لیے جلدی جلدی چلے آ رہے تھے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بقیع سے گزرتے وقت یہ فرمانا شروع کر دیا: تیرے لیے اف ہے، تیرے لیے اف ہے۔ میں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے یہ کلمات کہہ رہے ہیں اس لیےیہ بات میرے دل پر بڑی گراں گزری اور میں پیچھے کو ہٹنا شروع ہو گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ آگے چلو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھ سے کوئی گناہ سرزد ہو گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تمہاری مراد کیا ہے؟ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ اف کہہ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، دراصل بات یہ ہے کہ یہ فلاں آدمی کی قبر ہے، میں نے اس کو فلاں قبیلہ کی طرف زکوۃ کا عامل بنا کر بھیجا تھا اور اس نے ایک چادر کی خیانت کی تھی، اب اس کو اس کی بقدر آگ کی قمیص پہنا دی گئی ہے۔
Takhreej
(۳۴۹۸) تخر یـج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال منبوذ، ثم ان فی سماع الفضل عن جدہ ابی رافع نظراً۔ اخرجہ النسائی: ۲/ ۱۱۵(انظر: ۲۷۱۹۲)
۔ سیدنامصعب بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبد اللہ بن عامر کی تیمار داری کرنے کے لیے گئے، ابن عامر نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا بات ہے، آپ میرے حق میں دعا کیوں نہیں کرتے؟ انھوں نے جواباً کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ: اللہ تعالیٰ وضو کے بغیر نماز قبول نہیں کرتا اور خیانت والے مال سے صدقہ قبول نہیںکرتا۔ اور تم تو بصرہ کے عامل رہ چکے ہیں (اور ممکن ہے کہ تم سے گڑ بڑ ہو گئی ہو)۔
۔ سیدناسعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اٹھو اور فلاں قبیلہ سے زکوۃ وصول کر کے لائو اور خیال کرنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم قیامت کے دن اس حال میں آؤ کہ اپنے کندھے پر بلبلاتا ہوا اونٹ اٹھا رکھا ہو۔ یہ سن کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ یہ ذمہ داری مجھ سے ہٹا لیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اس ذمہ داری کو ختم کر دیا۔
۔ سیدنا ہلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی قیامت کے دن اس حالت میں نہ آئے کہ ممیاتی ہوئی بکری بھی اس کے ساتھ ہو۔
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ خیانت کتنا بڑا جرم ہے، اس بارے میں خلاصہ یہ ہے کسی سرکارییا غیر سرکاری ملازمت کے تعین کے وقت جو شروط و قیود طے ہو جائیں، ان کا پاس و لحاظ کرنا انتہائی ضروری ہے، نیز درج ذیل حدیث سے معلوم ہوا کہ جو بطورِ عامل اور ساعی صدقہ و زکوۃ وصول کرنے کے لیے جاتے ہیں، اس سفر میں جو چیز ان کو بطورِ تحفہ دی جائے گی، وہ بھی ان کے لیے جائز نہیں ہوگی: سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ازد قبیلہ کے ابن لتبیہ نامی ایک آدمی کو زکوۃ کی وصولی کا عامل بنایا، جب وہ واپس آیا تو اس نے کہا: یہ مال تو تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ دیاگیا ہے، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا:
((مَا بَالُ الْعَامِلِ نَبْعَثُہٗفَیَجِیْئُ فَیَقُوْلُ: ھٰذَا لَکُمْ وَھٰذَا اُھْدِیَ لِیْ، ھَلَّا جَلَسَ فِیْ بَیْتِ اُمِّہٖاَوْاَبِیْہِ فَیَنْظُرَ اَیُھْدٰی لَہٗاَمْلَا،لَایَأْتِیْ اَحَدٌ مِنْکُمْ بِشَیْئٍ مِنْ ذَالِکَ اِلَّا جَائَ بِہٖیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، اِنْ کَانَ بَعِیْرًا فَلَہٗرُغُائٌاَوْبَقَرَۃٌ فَلَھَا خُوَارٌ اَوْ شَاۃٌ تَیْعَرُ۔))
’’اس عامل کو کیا ہو گیا ہے، جس کو ہم بھیجتے ہیں، لیکن جب وہ واپس آتا ہے تو کہتا ہے: یہ چیز تو تمہاری ہے اور یہ چیز مجھے بطورِ تحفہ دی گئی۔ ذرا وہ اپنی ماں یا باپ کے گھر میں بیٹھے، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اس کو تحفہ ملتا ہے یا نہیں، جو آدمی اس میں سے جو چیز بھی لے گا، وہ قیامت کے روزہ اس کو اپنے ساتھ لائے گا، اگر وہ اونٹ ہوا تو وہ بلبلا رہا ہو گا، اگر وہ گائے ہوئی تو وہ ڈکار رہی ہو گی اور اگر وہ بکری ہوئی تو ممیا رہی ہو گی۔‘‘
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مانگنے سے مستغنی ہونے کے باوجود مانگتا ہے ،وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر خراشیں ہوں گی۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! غِنٰی کی حد کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پچاس درہم یا اس کے برابر سونا۔
فوائد:… تند رست آدمی کے لیے اس وقت زکوۃ لینا اور سوال کرنا جائز ہو گا، جب کوشش کے باوجود کوئی کام نہیں مل رہا ہو گا، بہرحال وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذور ہونا چاہیے اور کوئی معیار اس کے سامنے آڑ نہ بننے پائے۔
۔ بنو اسد کا ایک آدمی بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایک اوقیہیا اس کے مساوی چیز کا مالک ہو اور وہ سوال کرے تو (اس کا مطلب یہ ہو گا کہ) اس نے اصرار کے ساتھ اور چمٹ کر سوال کیا (جو اس کا حق نہیںہے)۔
فوائد:… اصرار کے ساتھ سوال نہ کرنا اچھے لوگوں کی صفت ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{لِلْفُقَرَآئِ الَّّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِیْ الْاَرْضِ یَحْسَبُھُمُ الْجَاھِلُ اَغْنِیَآئَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُھُمْ بِسِیْمٰھُمْ لَایَسْاَلُوْنَ النَّاسَ إِِلْحَافًا وَّمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍفَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖعَلِیْمٌ۔} (سورۂ بقرہ: ۲۷۳) …
’’صدقات کے مستحق صرف وہ غرباء ہیں، جو اللہ کی راہ میں روک دیئے گئے، جو زمین میں چل پھر نہیں سکتے، نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انہیں مال دار خیال کرتے ہیں، آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے انہیں پہنچان لیں گے، وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے، تم جو کچھ مال خرچ کرو تو اللہ تعالیٰ اس کو پوری طرح جاننے والا ہے۔‘‘ (۴۰) درہموں کا ایک اوقیہ ہوتا ہے، یہ تقریباً (۱۰) تولے چاندی بنتی ہے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری والدہ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی چیز مانگ کر لے آؤں، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ کر وہاں بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا: جو غنی ہونا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے غنی کر دے گا، جو (لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلانے) سے پاکدامنی اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ سے پاکدامن بنا دے گا، جس نے اللہ تعالیٰ سے کفایت چاہی، اللہ تعالیٰ اسے کفایت کرے گا اور اگر ایک اوقیہ کی قیمت کا مالک سوال کرے گا تو وہ اصرار کے ساتھ سوال کرے گا (جو اس کا حق نہیں ہے)۔ یہ سن کر سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے سوچا کہ میرییاقوتہ اونٹنی ایک اوقیہ سے بہتر ہے، اس لیے میں لوٹ گیا اور سوال نہیں کیا۔
۔ عبید اللہ بن عدی کہتے ہیں: دو صحابہ نے مجھے بتلایا کہ وہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور صدقہ کا سوال کیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ان کو دیکھنے کے لیے) ان کی طرف نظر اٹھائی اور پھر اسے نیچے کی طرف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ وہ دونوں مضبوط اور قوی آدمی ہیں،اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں صدقہ میں سے کچھ دے دیتا ہوں، لیکن حقیقتیہ ہے کہ کسی مال دار اور کما سکنے والے قوی آدمی کا صدقہ میں کوئی حصہ نہیں ہے۔