TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - Book 66 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 66 of Musnad Ahmad, with 34 chapters and 211 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

211 Hadith · 34 Chapters
صدقہ میں خیانت کرنے اور ایسا کرنے والے کے لئے وعید کا بیان
۔ (۳۵۰۸) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ سَاَلَ مَسْاَلَۃً عَنْ ظَہْرِ غِنًی، اِسْتَکَثَرَ بِہَا مِنْ رَضْفِ جَہَنَّمَ۔)) قَالُوْا: مَا ظَہْرُ غِنٍی؟ قَالَ: ((عَشَائُ لَیْلَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۳)
۔ سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص غنی کے باوجود لوگوں سے مانگتا ہو، وہ اپنے لئے جہنم کے گرم پتھروں میں اضافہ کرتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: غِنٰی کی مقدار کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شام کا کھانا۔
Takhreej
(۳۵۰۸) اسنادہ ضعیف جدا، حسن بن ذکوان ضعیف، وھو لم یسمع من حبیب بن ابی ثابت، بینھما عمرو بن خالد القرشی مولاھم المتھم بالکذب۔ اخرجہ الدارقطنی: ۲/ ۱۲۱ (انظر: ۱۲۵۳)
3508
Zaeef
صدقہ میں خیانت کرنے اور ایسا کرنے والے کے لئے وعید کا بیان
۔ (۳۵۰۹) عَنْ حُبْشِیِّ بْنِ جُنَادَۃً ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ سَاَلَ مِنْ غَیْرِ فَقْرٍ فَکَانَّمَا یَاْکُلُ الْجَمْرَ)) (مسند احمد: ۱۷۶۴۹)
۔ سیدنا حبشی بن جنادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی بغیر کسی ضرورت کے سوال کرتا ہے، وہ گویا کہ آگ کے انگارے کھاتا ہے۔
Takhreej
(۳۵۰۹) تخر یـج: صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۳۵۰۶ (انظر: ۱۷۵۰۸)
3509
Sahih
صدقہ میں خیانت کرنے اور ایسا کرنے والے کے لئے وعید کا بیان
۔ (۳۵۱۰) عَنْ سَہْلِ بْنِ الْحَنْظَلِیَّۃِ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ عُیَیْنَۃَ وَالْاَقْرَعَ سَاَلَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا، فَاَمَرَ مُعَاوِیَۃَ اَنْ یَکُتَب بِہِ لَہُمَا فَفَعَلَ وَخَتَمَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَمَرَ بِدَفْعِہِ إِلَیْہِمَا، فَاَمَّا عُیَیْنَۃُ فَقَالَ: مَا فِیْہِ؟ فَقَالَ: ((فِیْہِ الَّذِی اَمَرْتُ بِہِ فَقَبَّلَہُ۔)) وَعَقَدَہُ فِی عِمَامَتِہِ وَکَانَ اَحْکَمَ الرَّجُلَیْنِ، وَاَمَّا الْاَقْرَعُ فَقَالَ: اَحْمِلُ صَحِیْفَۃً لَا اَدْرِیْ مَا فِیْہَا کَصَحِیْفَۃِ الْمُتَلَمِّسِ، فَاَخْبَرَ مُعَاوِیَۃُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَوْلِہَمَا وَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حَاجَۃٍ فَمَرَّ بِبَعِیْرٍ مُنَاخٍ عَلَی بَابِ الْمَسْجِدِ مِنْ اَوَّلِ النَّہَارِ، ثُمَّ مَرَّ بِہِ آخِرَ النَّہَارِ وَہُوَ عَلَی حَالِہٖفَقَالَ: ((اَیْنَ صَاحِبُ ھٰذَا الْبَعِیْرِ؟)) فَابْتُغِیَ، فَلَمْ یُوْجَدْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِتَّقُوْا اللّٰہَ فِی ھٰذِہِ الْبَہَائِمِ، ثُمَّ ارْکَبُوہَا صِحَاحًا وَارْکَبُوْہَا سِمانًا کَالْمُتَسَخِّطِ اَنَفًا، إِنَّہُ مَنْ سَاَلَ وَعِنْدَہُ مَا یُغْنِیْہِ فَإِنَّمَا یَسْتَکْثِرُ مِنْ نَارِجَہَنّمَ۔)) قَاُلْوا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا یُغْنِیْہِ؟ قَالَ: ((مَا یُغَدِّیْہِ وَ یُعَشِّیِْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۷۵)
۔ انصاری صحابی سیدناسہل بن حنظلیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ عینہ اور اقرع دونوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کچھ مانگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ (ان کے علاقے کے عامل کے نام) ان کے حق میں کچھ لکھے، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تحریر لکھی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر مہر لگائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ یہ تحریر ان کے سپرد کر دے۔ عیینہ نے پوچھا کہ اس میں لکھا ہوا کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس میں وہی کچھ لکھا ہوا ہے جس کا میں نے حکم دیا۔ اس نے اس تحریر کا بوسہ لیا اور اس کو اپنی پگڑی میں باندھ لیا، وہ ان میں سے دانا اور عقلمند آدمی تھا۔ اقرع نے کہا: میں نے ایک تحریر اٹھائی ہوئی ہے، مجھے علم نہیں ہے کہ اس میں کیا لکھا ہے، یہ تو مُتَلَمِّس کے صحیفے کی طرح کی بات ہے۔ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان دونوں کی باتیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتا دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی کام کی غرض سے باہر تشریف لے گئے، دن کے شروع میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا گزر ایک ایسے اونٹ کے پاس سے ہوا، جسے مسجد کے دروازے پر بٹھایا گیا تھا،جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے دن کے آخر میں گزرے تو وہ اونٹ اسی جگہ پر اسی طرح بیٹھا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس اونٹ کا مالک کہاں ہے؟ اسے تلاش تو کیا گیا مگر وہ نہ ملا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ان جانوروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ،جب تم ان پر سوار ہو تو یہ تندرست ہونے چاہئیں، پھر جب تم ان پر سواری کرو تو یہ موٹے تازے ہونے چاہئیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ باتیں غصے کی حالت میں ارشاد فرمائیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص غنی کے باوجود مانگتا ہے، وہ جہنم کی آگ میں اضافہ کرتاہے۔ صحابہ نے کہا: کتنی چیز اسے کفایت کرے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چیز کی اتنی مقدار ہو کہ صبح اور شام کا کھانا بن جائے۔
Takhreej
(۳۵۱۰) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ مختصرا ابوداود: ۱۶۲۹، ۲۵۴۸ (انظر: ۱۷۶۲۵)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں دو وقت کے کھانے یا اس کی قیمت کو غِنٰی کی مقدار قرار دیا گیا ہے۔
3510
Sahih
صدقہ میں خیانت کرنے اور ایسا کرنے والے کے لئے وعید کا بیان
۔ (۳۵۱۱) عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ سَاَلَ مَسْاَلَۃً وَہُوَ عَنْہَا غَنِیٌّ کَانَتْ شَیْنًا فِی وَجْہِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۸۴)
۔ مولائے رسول سیدناثوبان سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایک چیز سے غنی ہونے کے باوجود (لوگوں سے) اس کا سوال کرتا ہے تو قیامت کے روز اس کے چہرے پر عیب ہو گا۔
Takhreej
(۳۵۱۱) تخر یـج: حدیث صحیح۔ اخرجہ الدارمی: ۱۶۴۵، والبزار: ۹۲۳، والطحاوی فی ’’شرح معانی الآثار‘‘: ۲/ ۲۰، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۴۰۷ (انظر: ۲۲۴۲۰)
3511
Sahih
صدقہ میں خیانت کرنے اور ایسا کرنے والے کے لئے وعید کا بیان
۔ (۳۵۱۲) عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَسْاَلَۃُ الْغَنِیِّ شَیْنٌ فِی وَجْہِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) (مسند احمد: ۲۰۰۵۹)
۔ سیدناعمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غنی کا سوال قیامت کے دن اس کے چہرے پر عیب ہو گا۔
Takhreej
(۳۵۱۲) صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۸/ ۳۶۲، وفی ’’الاوسط‘‘: ۸۱۷۳ (انظر: ۱۹۸۲۱)
3512
Sahih
صدقہ میں خیانت کرنے اور ایسا کرنے والے کے لئے وعید کا بیان
۔ (۳۵۱۳) عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ نَبِیِّنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا اَعْرَابِیٌّ قَدْ اَلَحَّ عَلَیْہِ فِی الْمَسْاَلَۃِ،یَقُوْلُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَطْعِمْنِی،یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَعْطِنِی، قَالَ: فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَ الْمَنْزِلَ وَاَخَذَ بِعِضَادَتَیِ الْحُجْرَۃِ وَاَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ وَقَالَ: ((وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا اَعْلَمُ فِی الْمَسْاَلَۃِ مَا سَاَل َرَجُلٌ رَجُلًا وَہُوَ یَجِدُ لَیْلَۃً تُبِیْتُہُ۔)) فَاَمَرَ لَہُ بِطَعَامٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۲۲)
۔ سیدناعائد بن عمرو مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں:ایک دفعہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بدو آیا اور وہ خوب اصرار اور ضد کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے کھلائیں، اے اللہ کے رسول! مجھے کچھ دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اٹھے اور گھر تشریف لے گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چوکھٹ کے دو بازؤوں کو پکڑا اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے!سوال کرنے اور بھیک مانگنے کے (انجام کے بارے میں) جو کچھ میں جانتا ہوں، اگر تم بھی اسے جان لو تو جس کے پاس ایک شام کا کھانا موجود ہو، وہ کسی سے کوئی چیز نہ مانگے۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے لیے کھانے کا حکم دیا۔
Takhreej
(۳۵۱۳) تخر یـج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۰۶۴۶)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں ایک وقت کے کھانے کو سوال نہ کرنے کے لیے معیار قرار دیا گیا ہے۔
3513
Sahih
صدقہ میں خیانت کرنے اور ایسا کرنے والے کے لئے وعید کا بیان
۔ (۳۵۱۴) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ سَاَلَ النَّاسَ اَمْوَالَہُمْ تَکَثُّرًا، فَإِنَّمَا یَسْاَلُ جَمْرًا، فَلْیَسْتَقِلَّ مِنْہُ اَوْ لِیَسْتَکْثِرْ)) (مسند احمد: ۷۱۶۳)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے مال کو زیادہ کرنے کے لئے لوگوں سے سوال کرتا ہے، وہ دراصل آگ کے انگارے جمع کر رہا ہے، یہ اب اس کی مرضی ہے وہ تھوڑے جمع کر لے یا زیادہ۔
Explanation
فوائد:… مقدار کے بارے میں مزید ایک حدیثیہ ہے: مزنی قبیلے کے ایک آدمی کو اس کی ماں نے کہا: کیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس نہیں جاتا، تاکہ آپ سے کچھ مانگ لائے، جیسا کہ لوگ سوال کرتے رہتے ہیں؟ میں (ان کے کہنے پر) کچھ مانگنے کے لیے چلا گیا، میں نے دیکھا کہ آپ لوگوں سے مخاطب تھے اور فرما رہے تھے: ((مَنِ اسْتَعَفَّ أَعَفَّہُ اللّٰہُ، وَمَنِ اسْتَغْنٰی أَغْنَاہُ اللّٰہُ، وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَلَہُ عِدْلُ خَمْسِ أَوَاقٍ، فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافاً۔)) ’’جس نے پاکدامنی اختیار کی، اللہ تعالیٰ اسے پاکدامن کر دے گا اور جس نے (لوگوں سے) بے نیاز ہونا چاہا، اللہ اسے بے نیاز کر دے گا۔ (یاد رکھو کہ) جس کے پاس پانچ اوقیے ہوںاور وہ پھر بھی سوال کرے تو اس کا سوال اصرار سے ہو گا۔‘‘ میں نے اپنے دل میں ہی کہا: ہماری اونٹنی پانچ اوقیوں سے تو بہتر ہے اور ایک اونٹنی میرے غلام کی بھی ہے وہ بھی پانچ اوقیوں سے بہتر ہے۔ اس بنا پر میںلوٹ آیااور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی سوال نہ کیا۔ (مسند احمد: ۴/ ۱۳۸، صحیحہ:۲۳۱۴) درج بالا احادیث ِ مبارکہ میں جہاں سوال کرنے کی سخت مذمت کی گئی ہے، وہاں درج ذیل مختلف پانچ مقداروں کو غِنٰی کی حداور سوال کرنے سے مانع قرار دیا گیا ہے: (۱) …پچاس درہم یعنی (۱۲ ، ۱۳) تولے چاندی (۲) …چالیس درہم یعنی (۱۰) تولے چاندی (۳) …دو وقت کا کھانا (۴) …ایک وقت کا کھانا (۵) …پانچ اوقیہ،یعنی (۲۰۰) درہم، جو کہ تقریبا (۵۲) تولے چاندی بنتی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ قوانین علی الاطلاق نہیں ہیں، بلکہ مقید ہیں، مثال کے طور پرجس آدمی کی زندگی کے اخراجات چالیس درہموں کے ساتھ پورے ہو سکتے ہوں، وہ کسی صورت میں سوال نہیں کر سکتا، مثلا ایک مزدور جو روزانہ آٹھ نو درہم کماتا ہے اور اس کے پاس چالیس درہم موجود بھی ہوں تو وہ لوگوں سے بھیک نہیں مانگ سکتا، اگرچہ بسا اوقات اسے کام نہ ملتا ہو، یہی معاملہ چھابڑی فروشوں اور معمولی درجے کے دوکانداروں کا ہے۔ لیکن ایک آدمی کے پاس رہنے کے لیے گھراور دودھ کے لیے بکری موجود ہے، لیکن ان دو چیزوں سے اس کے گھر کے اخراجات کا سلسلہ تو قطعی طور پر جاری نہیں رہ سکتا، حالانکہ وہ چالیس درہم سے زیادہ مال کا مالک ہے،اس لیے وہ لوگوں سے سوال کر سکتا ہے۔ ماحصل یہ ہے کہ جس کی زندگی کا سرکل چالیس درہم یا اس سے کم قیمت کے مال سے چل سکتا ہو، وہ دوسروں کے سامنے دست ِ سوال نہیں پھیلا سکتا۔ مقصودِ شریعتیہ ہے کہ جس آدمی کی آمدن اس کے اور اس کے اہل خانہ کے ضروری اخراجات پورے کر رہی ہو، وہ لوگوں سے سوال نہیں کر سکتا، بصورت ِ دیگر اس کے جواز کی رائے دی جا سکتی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
3514
Sahih
اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان
۔ (۳۵۱۵) عَنْ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَفَاَعْطَانِیْ ثُمَّ سَاَلْتُہُ فَاَعْطَانِی ثُمَّ سَاَلْتُہُ فَاَعْطَانِی، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ ھٰذَا الْمَالَ خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ، فَمَنْ اَخَذَہُ بِحَقِّہِ بُوْرِکَ لَہُ فِیْہِ، وَمَنْ اَخَذَہُ بِاِشْرَافِ نَفْسٍ، لَمْ یُبَارَکْ لَہُ فِیْہِ، وَکَانَ کَالَّذِیْیَاْکُلُ وَلاَ یَشْبَعْ، وَالْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌمِنَ الْیَدِ السُّفْلٰی۔)) (مسند احمد:۱۵۶۵۹)
۔ سیدنا حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دیا، میں نے پھر سوال کر دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا مطالبہ پورا کر دیا، میں نے تیسری بار مطالبہ کر دیا، پھر بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دے دیا، لیکنیہ بھی فرمایا: یہ مال دلکش اور دل پسند چیز ہے، جو کوئی اس کو اس کے حق کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت کی جائے گی اور جو شخص حریص بن کر اس کو لے گا، اس کے لئے اس میں برکت نہیں ہو گی، اوروہ اس شخص کی طرح ہو گا، جو کھانا کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا، بہرحال اوپر والا ہاتھ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۵۱۵) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۶۴۴۱، ومسلم: ۱۰۳۵(انظر: ۱۵۵۷۴)
3515
Sahih
اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان
۔ (۳۵۱۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ الْمَالِ فَاَلْحَفْتُ، فَقَالَ: ((یَا حَکِیْمُ! مَا اَکْثَرَ مَسْاَلْتَکَ! یَا حَکِیْمُ! إِنَّ ھٰذَا الْمَالَ خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ وَإِنَّہُ مَعَ ذٰلِکَ اَوْسَاخُ اَیْدِی النَّاسِ، وَیَدُ اللّٰہِ فَوْقَ یَدِ الْمُعْطِی، وَیَدُ الْمُعْطِی فَوْقَ یَدِ الْمُعْطٰی وَاَسْفَلُ الْاَیْدِیْیَدُ الْمُعْطٰی۔)) (مسند احمد: ۱۵۳۹۵)
۔ (دوسری سند) سیدنا حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور خوب اصرار کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے حکیم! تم کس قدر کثرت سے سوال کر رہے ہو! اے حکیم! یہ مال دلکش اور دل پسند ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ لوگوں کے ہاتھوں کی میل کچیل بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ دینے والے کے ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے اور دینے والے کا ہاتھ لینے والے کے ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے اور لینے والے کا ہاتھ سب سے نیچے ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۵۱۶) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ الحاکم: ۳/ ۴۸۴، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘۳۰۹۵، وانظر الحدیث السابق(انظر: ۱۵۳۲۱)
Explanation
فوائد:… اس موضوع کی احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ بندے کو دنیوی زندگی گزارنے کے لیے مختلف اسباب کی ضرورت تو ہے، لیکن وہ حسب ِ استطاعت محنت کر کے ان اسباب کو پورا کرنے کی کوشش کرے اور آزادانہ شب و روز کو گزارتے ہوئے کسی کے مال و دولت کی طرف حریصانہ نگاہ سے مت دیکھے۔ خدا نخواستہ اگر اسے دست ِ سوال پھیلانا پڑ جاتا ہے تو اس کو بھی اپنا حق سمجھ کر ضرورت پورا ہونے تک استعمال کرے اور اپنی عزت و غیرت میں کمی نہ آنے دے۔
3516
Sahih
اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان
۔ (۳۵۱۷) عَنْ ہِشَامٍ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنَ الْیَدِ السُّفْلٰی، وَلْیَبْدَأْ اَحَدُکُمْ بِمَنْ یَعُوْلُ، وَخَیْرُ الصَّدَقَۃِ مَا کَانَ عَنْ ظَہْرِ غِنًی، وَمَنْ یَسْتَغْنِیُغْنِہِ اللّٰہُ، وَمَنْ یَسْتَعِفَّیُعِفَّہُ اللّٰہُ۔)) فَقُلْتُ: وَمِنْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قاَلَ: ((وَمِنِّی۔)) قَالَ حَکِیْمٌ: لاَ تَکُوْنُ یَدِی تَحْتَ یَدِ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ اَبَدًا۔ (مسند احمد: ۱۵۶۶۳)
۔ سیدنا حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اوپر والا ہاتھ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور تم میں سے ہر کوئی اپنے زیر کفالت افراد پر خرچ کرنا شروع کرے، سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو غِنٰی (یعنی ذاتی ضروریات پوری کرنے) کے بعد کیا جائے اور جو آدمی لوگوں سے مستغنی ہونا چاہے گا، اللہ تعالیٰ اسے غنی کر دے گا، اور جو آدمی مانگنے سے بچنا چاہے گا، اللہ تعالیٰ اسے بچا دے گا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ سے بھی مانگنے کا یہی حکم ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، مجھ سے بھی ایسے ہی ہے۔ یہ سن کر سیدنا حکیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرا ہاتھ کسی بھی عربی کے ہاتھ کے نیچے نہیں ہو گا۔
Takhreej
(۳۵۱۷) اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ اخرجہ البخاری: ۱۴۲۷، ومسلم: ۱۰۳۴ (انظر: ۱۵۵۷۸)
3517
Sahih
اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان
۔ (۳۵۱۸) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْاَیْدِیْ ثَلَاثَۃٌ، فَیَدُ اللّٰہِ الْعُلْیَا، وَیَدُ الْمُعْطِیْ الَّتِیْ تَلِیْہَا، وَیَدُ السَّائِلِ السُّفْلٰی۔)) (مسند احمد: ۴۲۶۱)
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاتھ تین قسم کے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ سب سے اوپر ہے، اس سے نیچے دینے والے کا ہاتھ اور مانگنے والے کا ہاتھ تو سب سے نیچے ہے۔
Takhreej
(۳۵۱۸) تخر یـج:صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابن خزیمۃ: ۲۴۳۵، والحاکم: ۱/ ۴۰۸، والبیھقی: ۴/ ۱۹۸(انظر: ۴۲۶۱)
3518
Sahih
اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان
۔ (۳۵۱۹) وَعَنْ مَالِکِ بْنِ نَضْلَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ وَزَادَ: ((فَاَعْطِ الْفَضْلَ وَلَا تَعْجَزْ عَنْ نَفْسِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۸۵)
۔ سیدنا مالک بن نضلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی حدیث کی طرح کی روایت بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: تم زائد چیز صدقہ کر دو اور اپنے نفس سے عاجز نہ آ جاؤ۔
Takhreej
(۳۵۱۹) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ ابوداود: ۱۶۴۹(انظر: ۱۵۸۹۰)
Explanation
فوائد:… ’’اپنے نفس سے عاجز نہ آ جاؤ‘‘اس کا مفہوم یہ ہے کہ اپنے آپ کو کنگال نہ کردو، بلکہ اپنی ذات سے متعلقہ اہم امور کے لیے کچھ سرمایہ بچا کر رکھو، وگرنہ اپنے زیرِ کفالت افراد کی کفالت کرنے سے بھی عاجز آ جاؤ گے اور لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلانا پڑے گا۔
3519
Sahih
اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان
۔ (۳۵۲۰) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنْ الْیَدِ السُّفْلٰی، الیَدُ الْعُلْیَا الْمُنْفِقَۃُ، وَالْیَدُ السُّفْلٰی السَّائِلَۃُ۔)) (مسند احمد: ۵۳۴۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اوپر والا ہاتھ،نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ سوال کرنے والا ہے۔
Takhreej
(۳۵۲۰) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۴۲۹، ومسلم: ۱۰۳۳(انظر: ۵۳۴۴)
3520
Sahih
اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان
۔ (۳۵۲۱) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا صَدَقَۃَ إِلاَّ عَنْ غِنًی، وَالْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌمِنَ الْیَدِ السُّفْلٰی، وَابْدَاْ بِمَنْ تَعْوُلُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۵۱۸)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ذاتی ضروریات کے بعد ہی صدقہ کیا جائے ، اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل اور بہتر ہے اور تم اپنے زیر کفالت افراد سے آغاز کر۔
Takhreej
(۳۵۲۱) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۴۲۸ بلفظ: ((خیر الصدقۃ…)) (انظر: ۱۰۵۱۱)
3521
Sahih
اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان
۔ (۳۵۲۲) عَنْ اَبِیْ رِمْثَہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَدُ الْمُعْطِی الْعُلْیٰ، اُمَّکَ وَاَبَاکَ وَاُخْتَکَ ثُمَّ اَدْنَاکَ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ہٰؤُلَائِ بَنُوْ ْیَرْبُوْعٍ قَتَلَۃُ فُلَانٍ، قَالَ: ((اَلَا لَا تَجْنِی نَفْسٌ عَلٰیاُخْرٰی۔)) وَقَالَ اَبِی: قَالَ اَبُوْ الْنَّضْرِ فِی حَدِیْثِہٖ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ وَیَقُوْلُ: ((یَدُالْمُعْطِی الْعُلْیَا۔)) (مسند احمد: ۷۱۰۵)
۔ سیدناابورمثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دینے والے کا ہاتھ بلند ہے، تم پہلے اپنی ماں پر خرچ کرو، پھر باپ پر ، پھر اپنی بہن پر، پھر جس طرح قریبی بنتے ہیں۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو یربوع ہیں،یہ فلاں شخص کے قاتل ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی نفس دوسرے کے حق میں جرم نہیں کرے گا۔ ابو نضر نے اپنی حدیث میں کہا: میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا: دینے والے کا ہاتھ بلند ہے۔
Takhreej
(۳۵۲۲) تخر یـج: اسنادہ حسن۔ اخرجہ ابوداود: ۴۴۹۵ بلفظ مختلف منہ وفیہ: ((اما انہ لا یجنی علیک، ولا تجنی علیہ۔)) ، وأخرجہ النسائی: ۴۸۳۲ بلفظ ابی داود المذکورہ فقط (انظر: ۷۱۰۵)
Explanation
فوائد:… دورِ جاہلیت میں قصاص لینے کے لیے قاتل کے بجائے اس کے قبیلے کے کسی بندے کو بھی قتل کر دیتے تھے، لگتا ہے کہ سائل اس قسم کی بات کرنا چاہتا تھا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا ردّ کر دیا کہ ہر مجرم اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہے۔ ’’سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو غِنٰی (یعنی ذاتی ضروریات پوری کرنے) کے بعد کیا جائے۔‘‘ اور’’ اپنے زیر کفالت افراد سے آغاز کیا جائے۔‘‘ ان دو جملوں سے مراد وہ خودساختہ پرتکلف زندگی نہیں ہے، جو اس وقت سرمایہ دار اور ان سے متأثر ہونے والے لوگوں کا معیار بن چکیہے، لوگوں کو ان کے مزاجوں نے اس قدر ستا رکھا ہے کہ ان کے گھروں کے اخراجات لاکھوں روپوں پر مشتمل ہیں۔ لیکن روایت کے مطابق ایک ماہ میں چار پانچ سو یا ایک ہزار روپے کا صدقہ کر لینے کو کافی سمجھتے ہیں، اگر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مختلف عبادات کی مقدار کو دیکھا جائے تو سب سے زیادہ مقدار صدقہ و خیرات کی نظر آئے گی۔ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کے روحانی بیٹے بننے کو اعزاز سمجھیں،جنہوں نے مدینہ منورہ کے غریب مسلمانوں کو پینے کا پانی مہیا کرنے کے لیے بیس ہزار درہم کا بئر رومہ خریدا تھا، یہ (۵۲۴۰) تولے چاندی بنتی ہے۔
3522
Sahih
بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
۔ (۳۵۲۳) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ! لَاَنْ یَاْخُذَ اَحَدُکُمْ حَبْلَہُ فَیَذْہَبَ إِلَی الْجَبَلِ فَیَحْتَطِبَ، ثُمَّ یَاْتِیَ بِہِ یَحْمِلُہُ عَلٰی ظَہْرِہِ فَیَبِیْعَہُ فَیَاْکُلَ خَیْرٌ لَہُ، مِنْ اَنْ یَسْاَلَ النَّاسَ، وَلَاَنْ یَاْخُذَ تُرَابًا فَیَجْعَلَہُ فِی فِیْہِ خَیْرٌ لَہُ مِنْ اَنْ یَجْعَلَ فِی فِیْہِ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد:۷۴۸۲)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی آدمی رسی لے کر پہاڑ کی طرف جائے اور وہاں سے لکڑیاں کاٹ کر اپنی پشت پر لاد کر لائے اور اسے فروخت کرکے کھائے، تو یہ اس کے حق میں لوگوں سے بھیک مانگنے کی بہ نسبت زیادہ بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ کسی چیز کو منہ میں ڈالنے سے بہتر ہے کہ بندہ مٹی اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لے۔
Takhreej
(۳۵۲۳) تخر یـج: حدیث صحیح بالطرق، لکن قولہ: ((ولأن یاخذ…۔)) ضعیف بعنعنۃ محمد بن اسحاق المدلس۔ اخرجہ البخاری: ۱۴۷۰، ومسلم: ۱۰۴۲ دون الجملۃ الاخیرۃ الضعیفۃ (انظر: ۷۴۹۰)
Explanation
فوائد:… آخری جملے کا مطلب یہ بنتا ہے کہ بندہ حلال کھانے کی کوشش کرے، اگرچہ وہ سالن کے بغیر جَو کی روٹی ہی ہو، مٹی کا ذکر بطورِ مبالغہ کیا گیا ہے، کیونکہ اس کو کھایا تو نہیں جاتا، رہا مسئلہ حرام کے کھانے کا تو وہ دل کو اندھا کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ناراض۔
3523
Sahih
بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
۔ (۳۵۲۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَاللّٰہِ! لَاَنْ یَاْخُذَ اَحَدُکُمْ حَبْلًا فَیَحْتَطِبَ فَیَحْمِلَہُ عَلٰی ظَہْرِہِ فَیَاْکُلَ اَوْ یَتَصَدَّقَ خَیْرٌ لَہُ مِنْ اَنْ یَاْتِی رَجُلاً اَغْنَاہُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہِ فَیَسْاَلَہُ اَعْطَاہُ اَوْ مَنَعَہُ، ذَلِکَ بِاَنَّ الْیَدَ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنَ الْیَدِ السُّفْلٰی۔)) (مسند احمد:۷۳۱۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تم میں سے کوئی آدمی رسی لے کر جائے اور لکڑیاں کاٹ کر اپنی کمر پر لاد کر لائے اور اس طرح (ان کی قیمت سے) کھانا بنائے یا صدقہ کر دے تو یہ کام اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسے بندے کے پاس جا کر سوال کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے غنی کر رکھا ہو، آگے سے اس کی مرضی کہ کچھ دے دے یا نہ دے، یہ اس وجہ سے ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔
Takhreej
(۳۵۲۴) تخر یـج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، وانظر الحدیث بالطریق الاول
3524
Sahih
بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
۔ (۳۵۲۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لاَ یَفْتَحُ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہِ بَابَ مَسْاَلَۃٍ إِلَّا فَتَح اللّٰہُ عَلَیْہِ بَابَ فَقْرٍ، یَاْخُذُ الرَّجُلُ حَبْلَہُ فَیَعْمِدُ إِلَی الْجَبَلِ فَیَحْتَطِبُ عَلٰی ظَہْرِہِ، فَیَاْکُلُ بِہِ خَیْرٌ لَہُ مِنْ اَنْ یَسْاَلَ النَّاسَ مُعْطًی اَوْ مَمْنُوْعًا۔)) (مسند احمد: ۹۴۱۱)
۔ (تیسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی بھی اپنے لیے سوال اور بھیک کا دروازہ کھولتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیےفقیری اور حاجت کا دروازہ کھول دیتا ہے، اگر ایک آدمی رسی لے کر پہاڑ کی طرف نکل جائے اور اپنی کمر پر ایندھن کاٹ کر لائے اور (اس کے ذریعے) کھانا کھائے تو یہ اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرے اور کہیں اسے کوئی چیز دے دی جائے اور کہیں محروم کر دیا جائے۔
Takhreej
(۳۵۲۵) تخر یـج: اسنادہ قوی، وانظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان کو حلال کمائی کے لیے ہر ممکنہ کوشش کرنی چاہیے اور لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلانے سے بچنا چاہیے۔
3525
Sahih
بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
۔ (۳۵۲۶) عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((لاَتَزَالُالْمَسْاَلَۃُ بِاَحَدِکُمْ، حَتّٰییَلْقَی اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعالٰی وَلَیْسَ فِیوَجْہِہِ مُزْعَۃُ لَحْمٍ۔)) (مسند احمد: ۴۶۳۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو بندہ بھی ہمیشہ بھیک مانگتا رہے گا، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ہو گا۔
Takhreej
(۳۵۲۶) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۴۷۴، ومسلم: ۱۰۴۰(انظر: ۴۶۳۸)
3526
Sahih
بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
۔ (۳۵۲۷) وَعَنْہُ ایْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْمَسْاَلَۃُ کُدُوْحٌ فِی وَجْہِ صِاحِبِہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَمَنْ شَائَ فَلْیَسْتَبْقِ عَلٰی وَجْہِہِ، وَاَہْوَنُ الْمَسْئَلَۃِ مَسْاَلَۃُ ذَوِی الرَّحِمِ، تَسْاَلُہُ فِی حَاجَۃٍ، وَخَیْرُ الْمَسْاَلَۃُ عَنْ ظَہْرٍ غَنًی،وَابْدَاْ بِمَنْ تَعُوْلُ۔)) (مسند احمد: ۵۶۸۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بھیک مانگنا تو قیامت والے دن مانگنے والے کے چہرے پر خراشوں کا سبب ہو گا، لہٰذا اب جو آدمی چاہتا ہے، ان خراشوں کو اپنے چہروں پر باقی رکھے، اس سلسلے میں سب سے آسان سوال تو رشتہ داروں سے مانگ لینا ہے، لیکن وہ بھی ضرورت کے وقت ہونا چاہیے، اور سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد کیا جائے اور خرچ کرتے وقت اپنے زیر کفالت افراد سے آغاز کرو۔
Takhreej
(۳۵۲۷) تخر یـج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین (انظر: ۵۶۸۰)
3527
Sahih

Chapters

34
01
زکوۃ ادا کرنے میں جلدی کرنے، وقت سے پہلے ادا کردینے اور امام کا زکوۃ دینے والے کے حق میں دعا کرنے کا بیان
7 Hadith
02
اس امر کا بیان کہ انسان کسی کو مستحق سمجھ کرصدقہ ادا کر دے، لیکن بعد میں پتہ چلے کہ وہ صدقہ کا مستحق نہ تھا
3 Hadith
03
مالک کے ساتھ نرمی کرنے اور زکوۃ وصول کرنے والے نمائندے کا خود اس کی طرف چلے جانے اور اس پر زیادتی نہ کرنے کا بیان
3 Hadith
04
زکوۃ وصول کنندہ کو راضی کرنا
3 Hadith
05
حقیر قسم کی چیز کا قصد کرنے اور اس کا صدقہ کرنے کی کراہت اور عمدہ چیز کا صدقہ کرنے کی فضلیت کی بیان
6 Hadith
06
حکمران کا کسی مصلحت کی بنا پر بعض لوگوں کو دینا اور بعض کو محروم کر دینا
3 Hadith
07
فقیر اور مسکین کا بیان
7 Hadith
08
عاملینِ زکوۃ
7 Hadith
09
ان لوگوںکا بیان، جن کو تالیف ِ قلبی کے لیے زکوۃ دی جاتی ہے
3 Hadith
10
غلاموں کی آزادی پر زکوۃ صرف کرنا
2 Hadith
11
قرض داروں کو زکوۃ دینا
5 Hadith
12
اللہ کی راہ میں اور مسافروں کو صدقہ دینے اور مصارفِ زکوٰۃ کی تمام اصناف کو صدقہ دینے کا بیان
3 Hadith
13
بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌
15 Hadith
14
صدقہ میں خیانت کرنے اور ایسا کرنے والے کے لئے وعید کا بیان
20 Hadith
15
اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان
8 Hadith
16
بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
11 Hadith
17
سوال کرنے سے بچنے اور اس کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
18
سوال نہ کرنے پر بیعت کرنا
3 Hadith
19
اگر بن مانگے کچھ مل جانے تو اسے قبول کر لینے اور اگر مانگنے کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو تو نیک لوگوں سے سوال کر لینے کا بیان
5 Hadith
20
سائل کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے اور خواہ وہ گھوڑے پر آئے، اس کو کچھ نہ کچھ دینے کا بیان
6 Hadith
21
اللہ تعالیٰ کے نام پر یا اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر سوال کرنے کا بیان
8 Hadith
22
صدقہ فطر کی مشروعیت اور حکم کا اور جن لوگوں پر یہ فرض ہے، ان کا بیان
6 Hadith
23
گندم کے نصف صاع کی روایت بیان کرنے والے
6 Hadith
24
صدقۂ فطر دینے کے وقت کا بیان
20 Hadith
25
سب سے زیادہ فضیلت والے صدقے کا بیان
5 Hadith
26
عاریۃً دی ہوئی چیزکا بیان
3 Hadith
27
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
28
جسم کے صدقہ کا بیان
8 Hadith
29
اس آدمی کا بیان جسے دو کپڑے بطورِ صدقہ دیئے گئے، لیکن اس نے ان میں سے ایک کپڑا صدقہ کی نیت سے ڈال دیا
1 Hadith
30
شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
6 Hadith
31
نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
2 Hadith
32
بیوی کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے صدقہ کرنے کا بیان
3 Hadith
33
مخفی طور پر صدقہ کرنے کی فضیلت
3 Hadith
34
صدقہ جاریہ کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.