۔ (۵۷۸۱)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ یَبْلُغُ بِہٖالنَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((اَلْیَمِیْنُ الْکَاذِبَۃُ مَنْفَقَۃٌ لِلسِّلْعَۃِ مَمْحَقَۃٌ لِلْکَسْبِ۔)) (مسند احمد: ۷۲۹۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جھوٹی قسم سے مال تو فروخت ہو جاتا ہے، لیکن کمائی سے برکت اٹھ جاتی ہے۔
Takhreej
(۵۷۸۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۰۸۷، ومسلم: ۱۶۰۶(انظر: ۷۲۹۳)
Explanation
فوائد:… جھوٹی قسموں کی وجہ سے مال میں بظاہر اضافہ ہو رہا ہوتا ہے، لیکن تاجر اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہونے والی برکت سے محروم ہو جاتا ہے، جبکہ بنیادی چیز اللہ تعالی کی برکت ہے، باقی سب امور فرعی اور سرسری ہیں، اگر برکت شامل حال ہو تو تھوڑا مال بھی کفایت کر جاتا ہے اور اگر برکت نہ ہو تو سرے سے مالک سکون والی زندگی ہی بسر نہیں کر سکتا۔
5781
Sahih