TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان - سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان - خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 9 of خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 9 of 48 · 7 Hadith
۔ (۵۷۸۱)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَبْلُغُ بِہٖالنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْیَمِیْنُ الْکَاذِبَۃُ مَنْفَقَۃٌ لِلسِّلْعَۃِ مَمْحَقَۃٌ لِلْکَسْبِ۔)) (مسند احمد: ۷۲۹۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جھوٹی قسم سے مال تو فروخت ہو جاتا ہے، لیکن کمائی سے برکت اٹھ جاتی ہے۔
Takhreej
(۵۷۸۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۰۸۷، ومسلم: ۱۶۰۶(انظر: ۷۲۹۳)
Explanation
فوائد:… جھوٹی قسموں کی وجہ سے مال میں بظاہر اضافہ ہو رہا ہوتا ہے، لیکن تاجر اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہونے والی برکت سے محروم ہو جاتا ہے، جبکہ بنیادی چیز اللہ تعالی کی برکت ہے، باقی سب امور فرعی اور سرسری ہیں، اگر برکت شامل حال ہو تو تھوڑا مال بھی کفایت کر جاتا ہے اور اگر برکت نہ ہو تو سرے سے مالک سکون والی زندگی ہی بسر نہیں کر سکتا۔
5781
Sahih
۔ (۵۷۸۲)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ شِبْلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ التُّجَّارَ ھُمُ الْفُجَّارُ)) قَالَ: قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! أَوَ لَیْسَ قَدْ أَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ؟ قَالَ: ((بَلٰی وَلَکِنَّہُمْ یُحَدِّثُوْنَ فَیَکْذِبُوْنَ، وَ یَحْلِفُوْنَ وَیَأْثَمُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۵۷)
۔ سیدنا عبدالرحمن بن شبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تاجر برے لوگ ہیں۔ کسی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال نہیں کیا؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی کیوں نہیں، لیکن بات یہ ہے کہ یہ لوگ جب بات کرتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہیں اور پھر جب (جھوٹی) قسم اٹھاتے ہیں تو گنہگار ہوتے ہیں۔
Takhreej
(۵۷۸۲) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۹/ ۷۱۱، والبیھقی فی ’’الشعب‘‘: ۴۸۴۵، والطحاوی فی ’’شرح مشکل الآثار‘‘: ۲۰۷۸، والحاکم: ۲/ ۷(انظر: ۱۵۶۶۹)
Explanation
فوائد:… تاجر کے لیے ضروری تنبیہیہ ہے کہ وہ سچ بولے اور جھوٹی قسم سے بچے، کسی بڑی ضرورت کے پیش نظر وہ سچی قسم اٹھا سکتا ہے، لیکن سچی قسموں کی کثرت بھی درست نہیں ہے۔
5782
Sahih
۔ (۵۷۸۳)۔ عَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِیَّاکُمْ وَکَثْرَۃَ الْحَلِفِ فِی الْبَیْعِ فَاِنَّہُ یُنْفِقُ ثُمَّ یَمْحَقُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۹۱۲)
۔ سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تجارت میں زیادہ قسمیں اٹھانے سے اجتناب کرو، بے شک اس سے سودا تو بکتا ہے، لیکن برکت مٹ جاتی ہے۔
Takhreej
(۵۷۸۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۰۷ (انظر: ۲۲۵۴۴)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سودا کرتے وقت قسموں کی کثرت سے بچا جائے، اگرچہ قسم اٹھانے والا سچا ہو۔
5783
Sahih
۔ (۵۷۸۴)۔ عَنْ قَیْسِ بْنِ اَبِیْ غَرَزَۃَ قَالَ: کُنَّا نُسَمَّی السَّمَاسِرَۃَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ لَفْظٍ: کُنَّا نَبِیْعُ الرَّقِیْقَ فِی السُّوْقِ)، (وَفِیْ لَفْظ آخر: کُنَّا نَبْتَاعُ الْاَوْسَاقَ بِالْمَدِیْنَۃِ) فَأَتَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْبَقِیْعِ فَقَالَ: ((یَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ!)) فَسَمَّانَا بِاِسْمٍ أَحْسَنَ مِنْ اِسْمِنَا (وَفِیْ لَفْظٍ: أَحْسَنَ مِمَّا سَمَّیْنَا بِہٖأَنْفُسَنَا) فقَالَ: ((إِنَّالْبَیْعَیَحْضُرُہُ الْحَلِفُ وَالْکَذِبُ فَشُوْبُوْہُ بِالصَّدَقَۃِ))، وَفِیْ لَفْظٍ: ((إِنَّ ھٰذِہِ السُّوْقَ یُخَالِطُہَا اللَّغْوُ وَحَلْفٌ فَشُوْبُوْھَا بِصَدَقَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۶۲۳۸)
۔ سیدنا قیس بن غرزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم (تاجروں) کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں سَمَاسِر یعنی دَلّال کہا جاتا تھا، ایک روایت میں ہے: ہم بازار میں غلام بیچتے تھے، ایک روایت میں ہے: ہم مدینہ منورہ میں سامان فروخت کیا کرتے تھے، ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بقیع میں ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے سابقہ نام کی بہ نسبت اچھا نام رکھا، ایک روایت میں ہے: ہم نے اپنے لیے جو نام تجویز کیا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اچھا نام رکھا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تجارت میں ناجائز قسم اور جھوٹ کی آمیزش ہو جاتی ہے، اس لیے اس کے ساتھ صدقہ کیا کرو۔ ایک روایت میں ہے: ان بازاروں میں لغو باتیں اور جھوٹیں قسمیں عام ہوتی رہتی ہے، اس لیے ان کے ساتھ صدقہ کیا کرو۔
Takhreej
(۵۷۸۴) اسنادہ صحیح أخرجہ ابوداود: ۳۳۲۶، والترمذی: ۱۲۰۸، وابن ماجہ: ۲۱۴۵ (انظر: ۱۶۱۳۹)
Explanation
فوائد:… ’’سَمَاسِر‘‘ عجمی زبان کا لفظ ہے، یہ لفظ عجمی تاجروں سے عربی تاجروں میں سرایت کر گیا، پھر رسول اللہ a نے اس کو عربی لفظ ’’تاجر‘‘ سے تبدیل کر دیا۔ اوساق: وسق کی جمع ہے۔ یہ ساتھ صاع (ٹوپے) کا ہوتا ہے۔ گندم، کھجور، جو وغیرہ کی تجارت مراد ہے۔
5784
Sahih
۔ (۵۷۸۵)۔ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: أَرَادَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَنْہَی عَنْ بَیْعٍ، فَقَالُوا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! إِنَّہَا مَعَایِشُنَا قَالَ: فَقَالَ: ((لَا خِلَابَۃَ إِذًا۔)) وَکُنَّا نُسَمَّی السَّمَاسِرَۃَ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۶۲۳۹)
۔ ایک صحابی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تجارت سے ،منع کرنے کا ارادہ کیا، لیکن صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تجارت تو ہمارا ذریعۂ معاش ہے، آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اس میں دھوکہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس وقت ہمیں دَلّال کہا جاتا تھا۔
Takhreej
(۵۷۸۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، ابراہیم مولی صُخَیر لم یدرک احدا من الصحابۃ ، وقولہ: ’’کنا نسمی السماسرۃ…‘‘ ثبت فی الحدیث السابق (انظر: ۱۶۱۴۰)
Explanation
فوائد:… تجارت میں پائے جانے والے مفاسد کی بنا پر آپ a نے سرے سے اس سے منع کر دینے کا ارادہ کیا، لیکن جب صحابہ نے اپنی مجبوری کا اظہار کیا تو آپ a نے اجازت تو دے دی، لیکن شرط یہ لگائی کہ تجارت کسی قسم کے دھوکے پر مشتمل نہیں ہونی چاہیے۔
5785
Zaeef
۔ (۵۷۸۶)۔ وَعَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((رُبَّ یَمِیْنٍ لَا تَصْعَدُ إِلَی اللّٰہِ بِہٰذِہِ الْبُقْعَۃِ۔)) فَرَأَیْتُ فِیْہَا النَّخَّاسِیْنَ بَعْدُ۔ (مسند احمد: ۸۰۱۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کتنی قسمیں ہیں جو اس جگہ میں اللہ تعالی کی طرف بلند نہیں ہوتیں۔ پھر میں نے اس جگہ میں چوپائیوں اور غلاموں کو فروخت کرنے والوں کو دیکھا۔
Takhreej
(۵۷۸۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عاصم بن عبید اللہ، وعبید مولی ابی رھم لیس بذاک المعروف (انظر: ۸۰۲۳)
Explanation
فوائد:… نبی کریمa نے مدینہ منورہ کے کسی علاقے کے بارے میںیہ پیشین گوئی کی تھی کہ وہاں اٹھائی جانے والی قسمیں اللہ تعالی کی طرف بلند نہیں ہوں گی، پھر آپ a کی وفات کے بعد آپ a کا یہ معجزہ پورا ہوا اور وہ جگہ خرید و فروخت کا مرکز بن گئی اوروہاں جھوٹی قسمیں اٹھائی جانے لگیں۔
5786
Zaeef
۔ (۵۷۸۷)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟ قَالَ: فَقَالَ: ((لَا أَدْرِیْ)) فَلَمَّا أَتَاہُ جِبْرِیْلُ قَالَ: ((یَا جِبْرِیْلُ! أَیُّ الْبِلَادِ شَرٌّ؟)) قَالَ: لَا أَدْرِیْ حَتّٰی أَسْأَلَ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ، فَانْطَلَقَ جِبْرِیْلُ ثُمَّ مَکَثَ مَاشَائَ اللّٰہُ أَنْ یَمْکُثَ ثُمَّ جَائَ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! إِنَّکَ سَأَلْتَنِیْ أَیُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ، فَقُلْتُ: لَا أَدْرِیْ، وَإِنِّیْ سَاَلْتُ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ أَیُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟ فَقَالَ: ((أَسْوَاقُہَا۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۶۵)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا:اے اللہ کے رسول! زمین کا کون سا حصہ بد ترین ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں ہے۔ جب جبریل علیہ السلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے یہ سوال کیا، لیکن انہوں نے کہا: مجھے بھی معلوم نہیں، لیکن میں اپنے رب سے پوچھوں گا، سو وہ چلے گئے، پھر کچھ دیریا عرصہ ٹھہرے رہے، پھر جب آئے تو کہا: اے محمد! آپ نے بد ترین قطعۂ زمین کے بارے میں پوچھا تھا اور میں نے کہا تھا کہ مجھے معلوم نہیں ہے، پھرمیں نے اپنے ربّ سے پوچھاہے، تو اس نے کہا ہے کہ روئے زمین میں سے بد ترین حصہ بازارہیں۔
Takhreej
(۵۷۸۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ بن محمد بن عقیل۔ أخرجہ البزار: ۱۲۵۲، وابویعلی: ۷۴۰۳، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۵۴۶،والحاکم: ۱/ ۸۹۹ (انظر: ۱۶۷۴۴)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو ہریرہbسے مروی ہے کہ رسول اللہa نے فرمایا: ((اَحَبُّ الْبِلَادِ اِلَی اللّٰہِ مَسَاجِدُھَا، وَاَبْغَضُ الْبِلَادِ اِلَی اللّٰہِ اَسْوَاقُھَا۔)) … ’’اللہ تعالی کے ہاں سب سے پسندیدہ مقامات مساجد ہیں اور سب سے بری جگہیں بازار ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم) مساجد کا معاملہ تو واضح ہے کہ وہ نماز، تلاوت، اللہ کے ذکر اور عبادت کا مرکز اور صالحین بلکہ فرشتوں کی پناہ گاہ ہیں۔ رہا مسئلہ بازاروں کا تو وہ اس قسم کے مفاسد پر مشتمل ہوتے ہیں: جھوٹ، دھوکہ، جھوٹی قسمیں، عصر حاضر میں مرد و زن کا بدترین اختلاط اور بے پردگی، اللہ تعالی کے ذکر سے غافل کرنے والے امور، شیطانوں کی کثرت جو ان مفاسد پر آمادہ کرتے ہیں۔
5787
Zaeef

Chapters

48
01
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
9 Hadith
02
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
6 Hadith
03
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
9 Hadith
04
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
05
بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
5 Hadith
06
سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
14 Hadith
07
ٹیکس وصول کرنے والوں اور سرداروں کی کمائی کا بیان
9 Hadith
08
تجارت کے ذریعے کمائی کرنے کا بیان خرید و فروخت میں سچائی اور امانت اور ان کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
09
سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
10
تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
11
گھریا زمین کو فروخت کر کے اس کی قیمت کو اس جیسی چیز میں خرچ نہ کرنے والے کا بیان
3 Hadith
12
ان چیزو ں کا بیان کہ جن کی تجارت جائزنہیں ہے شراب، نجس اور بے فائدہ چیزوں کی تجارت کا بیان
11 Hadith
13
کتے، بلی اور چوری کی ہوئی بکری کی قیمت، زانیہ کی کمائی، نجومی کی مٹھائی اور گانے والیوں کی خریدو فروخت سے ممانعت کا بیان
10 Hadith
14
وَلاء اور زائد پانی کو فروخت کرنے اور سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے نہی کا بیان
6 Hadith
15
دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
16
ملامسہ اور منابذہ کی بیع سے ممانعت کا بیان
3 Hadith
17
مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
18
بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
7 Hadith
19
اصولیعنی درختوں اور پھلوں کو فروخت کرنے کے بارے میں ابواب پیوند کاری کیا ہواکھجور کا درخت فروخت کرنے کا بیان
2 Hadith
20
پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کو فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
12 Hadith
21
پھلوں کا اندازہ لگانے، سالوں کی بیع اور آفتوں کو معاف کر دینے کا بیان
3 Hadith
22
بیع عینہ، ایک سودے میں دو سودوں اور بیع عربون سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
23
ایک آدمی کا ایک خریدار کو کوئی چیز بیچنا، پھر وہی چیز کسی اور کو بیچ دینا اور ایسی چیز کی بیع کرنے کی ممانعت کہ بیچنے والا جس کا مالک نہ ہو اور وہ اس کو خرید کر اُس کے سپرد کر دے
3 Hadith
24
خریدار کو قبضے میں لینے سے پہلے خریدی ہوئی چیز کو آگے فروخت کر دینے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
25
ماپ اور وزن کرنے کے حکم اور دو صاع چلائے بغیر اناج کی بیع کرنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
26
قافلوںکوملنے اور شہری کا دیہاتی کے لئے تجارت کرنے کی ممانعت کا بیان
9 Hadith
27
بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
9 Hadith
28
غلام کی تجارت کا اور محرم غلاموں کے مابین تفریق ڈالنے کی ممانعت کا بیان
2 Hadith
29
گواہ کے بغیر تجارت کرنے کا اور اس سلسلے میں سیدنا خزیمہ بن ثابت کی عظیم منقبت کا بیان
1 Hadith
30
تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
2 Hadith
31
فاسد شرط کے ہونے کے باوجود تجارت کے عقد کے صحیح ہونے کا بیان
1 Hadith
32
تجارت میں غبن اور دھوکے سے سلامتی کی شرط کا بیان
3 Hadith
33
مجلس کے اختیار کا بیان
7 Hadith
34
عیوب کے احکام کے ابواب عیب کو واضح کر دینے، دھوکہ نہ کرنے اور دھوکہ کرنے والے کی وعید کا بیان
7 Hadith
35
اس جانور کا بیان، جس کا دودھ روکا گیا ہو
5 Hadith
36
غلام کی ضمانت اور اس چیز کا بیان کہ تازہ کی ہوئی کمائی عیب کی وجہ سے سودا واپس کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی
3 Hadith
37
ذخیرہ اندوزی کی مذمت کا بیان
4 Hadith
38
بھائو مقرر کرنے کا بیان
4 Hadith
39
خریدوفروخت کرنے والوں کے مابین اختلاف ہو جانے کا بیان
5 Hadith
40
سود کے ابواب سود کے بارے میں سختی کا بیان
9 Hadith
41
ان اقسام کا بیان، جن میں سود پایا جاتا ہے
11 Hadith
42
بیع صرف کا بیان،یعنی چاندی کو سونے کے عوض ادھار پر فروخت کرنا
7 Hadith
43
نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
7 Hadith
44
سونے کے عوض ایسی چیز بیچنے کابیان کہ جس میں سونا بھی ہو اور اس کے علاوہ کوئی چیز بھی ہو
3 Hadith
45
درہم و دینار کوتوڑنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو
1 Hadith
46
بوقت ِ تجارت اناج کے برابر برابر ہونے کا بیان
5 Hadith
47
تفاضل کا بیان اور جن چیزوں کو ماپا اور جن کا وزن نہ کیا جا سکتا ہو، ان میں ادھار کا اور حیوان کے عوض گوشت کی بیع کا بیان
5 Hadith
48
بیع سلم (بیع سلف) کے مسائل
5 Hadith
No chapter matched that.