TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بیع عینہ، ایک سودے میں دو سودوں اور بیع عربون سے ممانعت کا بیان

Chapter 22 of خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 22 of 48 · 4 Hadith
۔ (۵۸۷۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَئِنْ تَرَکْتُمُ الْجِہَادَ وَأَخَذْتُمْ بِأَذْنَابِ الْبَقَرِ وَتَبَایَعْتُمْ بِالْعِیْنَۃِ لَیُلْزِمَنَّکُمُ اللّٰہُ مَذَلَّۃً فِیْ رِقَابِکُمْ، لَا تَنْفَکُّ عَنْکُمْ حَتّٰی تَتُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ وَتَرْجِعُوْا عَلَی مَا کُنْْتُمْ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۵۰۰۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم نے جہاد چھوڑ دیا، گائیوں کی دمیں پکڑ لیں اور بیع عینہ کرنے لگ گئے تو اللہ تعالی تمہاری گردنوں میں ایسی ذلت ڈالے گا کہ وہ تم سے اس وقت تک جدا نہیں ہو گی، جب تک تم اللہ تعالی کی طرف اور اس دین کی طرف رجوع نہیں کرو گے، جس کے تم پابند تھے۔
Takhreej
(۵۸۷۱) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی۔ أخرجہ ابوداود: ۳۴۶۲(انظر: ۵۰۰۷)
Explanation
فوائد:… بیع عینہیہ ہے کہ بیچنے والا ایک چیز ادھار پر فروخت کر کے خریدنے والے کے سپرد کر دے، پھر اسی سے وہی چیز کم قیمت نقد پر خرید لے۔ جیسے اویس نے ذیشان کو پانچ سو روپے ادھار کے عوض ایک بیگ فروخت کیا، پھر وہی بیگ اس سے چار سو روپے نقد کے عوض خرید لیا۔ اس بیع کا پس منظر یہ ہے کہ ذیشان کو کچھ رقم کی ضرورت تھی، جو وہ اویس سے براہ راست رقم کے طور پر نہیں لے سکتا تھا اور اویس سود کے بغیر دینے پر راضی نہیں تھا، لیکن وہ براہِ راست سود بھی نہیں لے سکتا تھا، اس لیے اس نے ’’بیع عِینہ‘‘ والا باطل حیلہ استعمال کیا اور چار سو کے عوض پانچ سو بٹور لیے۔ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ ذلت کا مسلّط ہونا صرف کھیتی باڑی کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ دوسری احادیث میں مسلمانوں کو کھیتی باڑی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے اور اسے سب سے بہترین ذریعۂ معاش قرار دیا گیا ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے جو آدمی کھیتی باڑی کا ہی ہو کر رہ جائے اور اس کی وجہ سے دنیا پرست بنتے ہوئے جہاد جیسی عظیم عبادتوں سے غفلت برتنے لگ جائے، تو وہ ذلیل ہو جائے گا۔
5871
Sahih
۔ (۵۸۷۲)۔ حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَأَبُوْ النَّضْرِ وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالُوْا: حَدَّثَنَا شَرِیْکٌ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ صَفْقَتَیْنِ فِیْ صَفْقَۃٍ وَاحِدَۃٍ، قَالَ أَسْوَدُ: قَالَ شَرِیْکٌ: قَالَ سِمَاکٌ: الرَّجُلُ یَبِیْعُ الْبَیْعَ فَیَقُوْلُ ھُوَ بِنَسَائٍ بِکَذَا وَکَذَا وَھُوَ بِنَقْدٍ بِکَذَا وَکَذَا۔ (مسند احمد: ۳۷۸۳)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک سودے میں دو سودے کرنے سے منع فرمایا ہے۔ سماک نے کہا: اس کی صورت یہ ہے کہ بیچنے والا آدمی کہے: یہ چیز ادھار اتنے کی ہے اور نقد اتنے کی۔
Takhreej
(۵۸۷۲) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۲۷۷(انظر: ۳۷۸۳)
5872
Sahih
۔ (۵۸۷۳)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃٍ وَعَنْ بَیْعٍ وَسَلَفٍ وَعَنْ رِبْحِ مَالَمْ یُضْمَنْ وَعَنْ بَیْعِ مَالَیْسَ عِنْدَکَ۔ (مسند احمد: ۶۶۲۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک بیع میں دو بیعیں کرنے سے، بیع اور ادھار کرنے سے،آدمی جس چیز کا ضامن نہ ہو، اس کے نفع سے اور جو چیز ملکیت میں نہ ہو، اس کی بیع کرنے سے منع فرمایاہے۔
Takhreej
(۵۸۷۳) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ النسائی: ۷/ ۲۹۵(انظر: ۶۶۲۸)
Explanation
فوائد:… حدیث ِ مبارکہ میں مذکورہ چاروں اصطلاحات کا مفہوم: (بَیْعتَیْنِ فِیْ بَیْعٍ: ایک بیع میں دو بیعوں) سے منع کیا گیا ہے، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا عبد اللہ بن مسعود اور سیدنا عبد اللہ بن عمر e سے مروی ہیں۔ اس حدیث کے راویوں نے اس اصطلاح کی وہی تعریف کی ہے جو (شَرْطَیْنِ فِیْ ، … ایک سودے میں دو شرطیں)کی کی گئی ہے۔ جیسے سیدنا عبد اللہ بن مسعود کی حدیث میں سماک بن حرب نے اور سیدنا ابوہریرہb کی حدیث میں عبد الوھاب بن عطا نے کہا: (بَیْعتَیْنِ فِیْ بَیْع: ایک بیع میں دو بیعیں)کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی آدمی کہے: میں تجھے یہ چیزفروخت کروں گا، ایک ماہ کے بعد ادائیگی کی صورت میں قیمت اتنی ہو گی اور دو مہینوں کی صورت میں اتنی۔ (اس کی تفصیل آگے آ رہی ہے کہ یہ جائز ہے یا ناجائز۔ ) (بَیْعٌ وَ سَلَفٌ، … ایک ہی معاملہ میں بیع بھی اور قرض بھی): ابن اثیر نے اس کا معنی بیان کرتے ہوئے کہا: اس کا مفہوم یہ ہے جیسے کوئی آدمی کہے: میں تجھے یہ غلام ایک ہزار کا فروخت کروں گا، بشرطیکہ تو مجھے فلاں سامان میں بیع سلم کرے یا ایک ہزار ادھار دے۔ ایسی صورت میں قرض دینے کا مقصد یہ ہو گا کہ قرضہ لینے والا اس کے بدلے قیمت میں نرمی برتے گا، جس کی حد نا معلوم ہو جاتی ہے اور دوسری بات یہ بھی ہے کہ منفعت کا سبب بننے والا قرض سود ہوتا ہے۔ بیع سلم: قیمت پیشگی ادا کر کے مَبِیع (چیز) ایک معین مدت کے بعد وصول کی جائے۔ (وَرِبْحِ مَا لَمْ یُضْمَنْ):… ایسی چیز کا نفع جس کے نقصان کا آدمی ضامن نہیں بن سکتا) : امام خطابی نے کہا: اس کی صورت یہ ہے کہ عرفان نے فاروق سے سامان خریدا اور قبضے میں لینے سے پہلے ابراہیم کو فروخت کر دیا۔ ایسی صورت میں اس مال کا ضامن پہلا بائع یعنی فاروق ہو گا۔ جب تک عرفان یہ سامان اپنے قبضے میں لے کر اس کا ضامن نہ بن جائے، اس وقت تک اس کو آگے فروخت کرنا منع ہے۔ (وَبَیْعِ مَا لَیْسَ عِنْدَکَْ، … ایسی چیز کی بیع جو تیرے پاس نہیں ہے) : امام خطابی نے کہا: اس سے مراد بیع العین ہے، نہ کہ بیع الصفہ۔ آپ خود غور کریں کہ بیع سلم کو مدتوں تک جائز قرار دیا ہے، حالانکہ اس میں بیچنے والا ایسی چیز فروخت کر رہا ہوتا ہے جو معاہدے کے وقت اس کے پاس نہیں ہوتی،یہ بیع الصفہ ہے۔ ٓپa نے منع کیا کہ جو چیز بائع کے پاس نہیں ہے، وہ اس کا سودا نہ کرے، اس کی وجہ دھوکہ اور غرر ہے، مثلا بھاگا ہوئے غلام یا آوارہ اور بھاگے ہوئے اونٹ کا سودا کرنا، یہ بیع العین ہے۔ اسی طرح یہ کہنا بھی ممکن ہے کہ عمومی لحاظ سے اسی چیز کا سودا کرنا منع ہے، جو آدمی کے پاس نہ ہو، لیکن بیع سلم کی شکل جائز ہے، کیونکہ اس کے جواز کی صراحت موجود ہے، جیسے بیع مزابنہ سے بیع عرایا مستثنی ہے۔ (عبد اللہ رفیق)
5873
Sahih
۔ (۵۸۷۴)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ الْعُرْبَانِ۔ (مسند احمد: ۶۷۲۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیع عُربان سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۵۸۷۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الثقۃ الذی رواہ عنہ مالک۔ أخرجہ ابوداود: ۳۵۰۲، وابن ماجہ: ۲۱۹۲ (انظر: ۶۷۲۳)
Explanation
فوائد:… بیع عربون (بیانے کی بیع): بیع عربون یہ ہے کہ خریدار بائع کو بیع سے پہلے کچھ رقم اس شرط پر دے دے کہ اگر اس نے سودا چھوڑ دیا تو وہ رقم بائع کی ہو جائے گی، اس سے خریدار کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بائع پابند رہے اور اس چیز کو کسی اور کے ہاتھوں فروخت نہ کرے۔ اس بیع کے جواز اور عدم جواز، دونوں سے متعلقہ روایات ضعیف ہیں، اس لیے جب اس سے ممانعت کی معتبر دلیل نہیں ہو گی تو اس کو اصل پر محمول کرتے ہوئے جائز قرار دیا جائے گا۔ بیع عربان کے جواز کو تسلیم کیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ سودا چھوڑنے کی صورت میں، بائع بیانے کی رقم کیوں اور کس کے عوض ضبط کر رہا ہے؟ جب اس کا عوض کوئی نہیں تو کسی کا مال کسی چیز کے عوض کے بغیر لینا جائز نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
5874
Zaeef

Chapters

48
01
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
9 Hadith
02
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
6 Hadith
03
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
9 Hadith
04
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
05
بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
5 Hadith
06
سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
14 Hadith
07
ٹیکس وصول کرنے والوں اور سرداروں کی کمائی کا بیان
9 Hadith
08
تجارت کے ذریعے کمائی کرنے کا بیان خرید و فروخت میں سچائی اور امانت اور ان کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
09
سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
10
تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
11
گھریا زمین کو فروخت کر کے اس کی قیمت کو اس جیسی چیز میں خرچ نہ کرنے والے کا بیان
3 Hadith
12
ان چیزو ں کا بیان کہ جن کی تجارت جائزنہیں ہے شراب، نجس اور بے فائدہ چیزوں کی تجارت کا بیان
11 Hadith
13
کتے، بلی اور چوری کی ہوئی بکری کی قیمت، زانیہ کی کمائی، نجومی کی مٹھائی اور گانے والیوں کی خریدو فروخت سے ممانعت کا بیان
10 Hadith
14
وَلاء اور زائد پانی کو فروخت کرنے اور سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے نہی کا بیان
6 Hadith
15
دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
16
ملامسہ اور منابذہ کی بیع سے ممانعت کا بیان
3 Hadith
17
مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
18
بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
7 Hadith
19
اصولیعنی درختوں اور پھلوں کو فروخت کرنے کے بارے میں ابواب پیوند کاری کیا ہواکھجور کا درخت فروخت کرنے کا بیان
2 Hadith
20
پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کو فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
12 Hadith
21
پھلوں کا اندازہ لگانے، سالوں کی بیع اور آفتوں کو معاف کر دینے کا بیان
3 Hadith
22
بیع عینہ، ایک سودے میں دو سودوں اور بیع عربون سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
23
ایک آدمی کا ایک خریدار کو کوئی چیز بیچنا، پھر وہی چیز کسی اور کو بیچ دینا اور ایسی چیز کی بیع کرنے کی ممانعت کہ بیچنے والا جس کا مالک نہ ہو اور وہ اس کو خرید کر اُس کے سپرد کر دے
3 Hadith
24
خریدار کو قبضے میں لینے سے پہلے خریدی ہوئی چیز کو آگے فروخت کر دینے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
25
ماپ اور وزن کرنے کے حکم اور دو صاع چلائے بغیر اناج کی بیع کرنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
26
قافلوںکوملنے اور شہری کا دیہاتی کے لئے تجارت کرنے کی ممانعت کا بیان
9 Hadith
27
بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
9 Hadith
28
غلام کی تجارت کا اور محرم غلاموں کے مابین تفریق ڈالنے کی ممانعت کا بیان
2 Hadith
29
گواہ کے بغیر تجارت کرنے کا اور اس سلسلے میں سیدنا خزیمہ بن ثابت کی عظیم منقبت کا بیان
1 Hadith
30
تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
2 Hadith
31
فاسد شرط کے ہونے کے باوجود تجارت کے عقد کے صحیح ہونے کا بیان
1 Hadith
32
تجارت میں غبن اور دھوکے سے سلامتی کی شرط کا بیان
3 Hadith
33
مجلس کے اختیار کا بیان
7 Hadith
34
عیوب کے احکام کے ابواب عیب کو واضح کر دینے، دھوکہ نہ کرنے اور دھوکہ کرنے والے کی وعید کا بیان
7 Hadith
35
اس جانور کا بیان، جس کا دودھ روکا گیا ہو
5 Hadith
36
غلام کی ضمانت اور اس چیز کا بیان کہ تازہ کی ہوئی کمائی عیب کی وجہ سے سودا واپس کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی
3 Hadith
37
ذخیرہ اندوزی کی مذمت کا بیان
4 Hadith
38
بھائو مقرر کرنے کا بیان
4 Hadith
39
خریدوفروخت کرنے والوں کے مابین اختلاف ہو جانے کا بیان
5 Hadith
40
سود کے ابواب سود کے بارے میں سختی کا بیان
9 Hadith
41
ان اقسام کا بیان، جن میں سود پایا جاتا ہے
11 Hadith
42
بیع صرف کا بیان،یعنی چاندی کو سونے کے عوض ادھار پر فروخت کرنا
7 Hadith
43
نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
7 Hadith
44
سونے کے عوض ایسی چیز بیچنے کابیان کہ جس میں سونا بھی ہو اور اس کے علاوہ کوئی چیز بھی ہو
3 Hadith
45
درہم و دینار کوتوڑنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو
1 Hadith
46
بوقت ِ تجارت اناج کے برابر برابر ہونے کا بیان
5 Hadith
47
تفاضل کا بیان اور جن چیزوں کو ماپا اور جن کا وزن نہ کیا جا سکتا ہو، ان میں ادھار کا اور حیوان کے عوض گوشت کی بیع کا بیان
5 Hadith
48
بیع سلم (بیع سلف) کے مسائل
5 Hadith
No chapter matched that.