TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 11304 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 16 in this chapter
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی برکت سے کھانے میں اضافہ ہو جانا بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ ہے
۔ (۱۱۳۰۴)۔ ثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِیْ صَالِحٍ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ اَوْ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ شَکَّ الْأَعْمَشُ، قَالَ: لَمَّا کَانَ غَزْوَۃُ تَبُوْکِ اَصَابَ النَّاسَ مَجََاعَۃٌ فَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۹۶)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یا سیدنا ابو ہر یرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ (یہ شک اعمش کو ہوا ہے) سے روایت ہے کہ غزوۂ تبوک کے موقع پر لوگوں کوشدید بھوک کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر گزشتہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔
11304
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۱۳۰۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷(انظر: ۱۱۰۸۰)

Related Chapters

2,239
1
یہ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی برکت سے پانی میںاضافہ ہو گیا
Musnad Ahmad
2
اس زہر آلود بکری کا واقعہ جو یہود نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں کھانے کے لیے بھیجی تھی اور اس موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا ظہور
Musnad Ahmad
3
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی برکت سے مریضوں کی شفایابی، اونٹ کے آپ کو شکایت کرنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کرنے کے لیے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کی بجا آوری کے لیے درخت کے اپنی جگہ سے ہٹ جانے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
4
سلام کے بعد امام کا لوگوں کی طرف رخ کرنااور صحابہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے برکت حاصل کرنا
Musnad Ahmad
5
صحابہ کے وصال سے باز آنے سے انکار کرنے پر ان کو عبرت سکھانے کے لیےیا ان کے فعل پر انکار کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان کے ساتھ دو دنوں اور دو راتوں تک وصال کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
6
فوائد:… ابو لہب اور ابو جہل، اسلام اور اہل اسلام کے سخت دشمن تھے، انھوں نے اپنی بد نصیبی میں اضافہ کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مخالفت برقرار رکھی، بالآخر یہ دونوں سردار بری طرح ناکام ہوئے، ایک غزوۂ بدر میں مارا گیا اور دوسرا اس سے چند دن بعد طبعی لیکن بری موت مرا، جبکہ دن بدن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شان و عظمت میں اضافہ ہوتا گیا۔
Musnad Ahmad
7
یہود کے پہلوان مرحب یہودی کے قتل اور اس کے قاتل کا بیان اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ اور سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وَکَرَّمَ اللّٰہُ وَجْہَہٗکی منقبت کا بیان
Musnad Ahmad
8
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ چاند کا پھٹنا، کا بیان
Musnad Ahmad
9
اس امر کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی برکت سے سرکش اور باغی جانور اور جمادات بھی فرماں بردار بن جاتے تھے
Musnad Ahmad
10
اس امر کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزات میں سے ایک معجزہ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اونٹ والا بھی ہے، جو دوران سفر چلنے سے عاجز آکر راستے میں بیٹھ گیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اپنا قدم مبارک مارا تو وہ انتہائی پھرتیلا ہو گیا
Musnad Ahmad
11
یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ تھا کہ تھنوں سے دودھ اتر آیا، حالانکہ اس سے پہلے ان میں دودھ نہیں تھا
Musnad Ahmad
12
یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس زہر آلودہ بکری کے بارے میں بتلا دیا، جو ایکیہودی خاتون نے تحفہ کی صورت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پیش کی تھی
Musnad Ahmad
13
یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی لاٹھی کسی صحابی کے لیے روشن ہو گئی،یہاں تک کہ وہ گھر پہنچ گیا
Musnad Ahmad
14
یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک کنویں میں کلی کی اور اس سے کستوری کی طرح کی خوشبو پھوٹنے لگ گئی
Musnad Ahmad
15
کھانے سے متعلقہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
16
فصل پنجم: غزوۂ خیبر کے روز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جھنڈا دینے کے لیے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منتخب کرنا اور اس میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت او رنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا بیان
Musnad Ahmad
17
باب دوم: مدینہ اور اہل مدینہ کی خیرو برکت اور یہاں سے وباؤں کے ٹلنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعاؤں کا تذکرہ
Musnad Ahmad
18
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
19
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
Musnad Ahmad
20
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
21
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے
Musnad Ahmad
22
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
Musnad Ahmad
23
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
24
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت کو تھامنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
25
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے بعد کسی چیز میں تبدیلی کر دینے والے یا کسی چیز کو ایجاد کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
26
وضو کو مکمل طور پر کرنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان ایڑھیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے کا بیان
Musnad Ahmad
27
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نیند ناقضِ وضو نہیں تھی، اگرچہ وہ لیٹ کر ہوتی
Musnad Ahmad
28
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بعض بیویوں سے اس موضوع سے متعلقہ بیان کی گئی مرویات کا بیان
Musnad Ahmad
29
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان میرے لیے زمین مسجد اور پاک کرنے والی بنائی گئی ہے کا بیان
Musnad Ahmad
30
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے بعد تعوذ اور دعا کا بیان
Musnad Ahmad
31
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان
Musnad Ahmad
32
رات کی نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اذکار، قراء ت اور دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
33
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی
Musnad Ahmad
34
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
Musnad Ahmad
35
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
36
خاص طور پر مہینے کا (۲۹) دنوں کا ہونے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان ’’دو مہینے ناقص نہیں ہوتے‘‘کے درمیان جمع و تطبیق کا بیان
Musnad Ahmad
37
وصال سے منع کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس کا بطور خصوصیت جائزہونے کا بیان
Musnad Ahmad
38
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
39
اس چیز کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے حج اور کتنے عمرے کیے؟
Musnad Ahmad
40
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حج کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
41
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
Musnad Ahmad
42
صحابہ کرام کا اس بارے میں اختلاف کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کس جگہ سے تلبیہ پڑھا تھا
Musnad Ahmad
43
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
Musnad Ahmad
44
کعبہ میں داخل ہونا اور اس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نماز پڑھنے کے بارے میں صحابہ کا اختلاف
Musnad Ahmad
45
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی ذات، اہل بیت اور اپنی امت کے فقراء کی طرف سے قربانیاں
Musnad Ahmad
46
محمد نام رکھنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نام اور کنیت کو جمع کرنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
47
وہ افراد جن کے نام نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکھے اور وہ افراد کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی مصلحت کی وجہ سے جن کے نام تبدیل کیے
Musnad Ahmad
48
لقب اور ان افراد کا بیان جن کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کنیتیں رکھیں
Musnad Ahmad
49
اس بات کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہید کی وفات پائی
Musnad Ahmad
50
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

10
Musnad Ahmad
3603
۔ (۳۶۰۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَثَّنَا عَلَی الصَّدَقَۃِ فَاَبْطَاَ النَّاسُ، حَتّٰی رُؤِیَ فِی وَجْہِہِ الْغَضَبُ (وَقَالَ مَرَّۃً: بَانَ) ثُمَّ إِنَّ رَجُلاً مِنَ الاَنْصَارِ جَائَ بِصُرَّۃٍ فَاَعْطَاہَا إِیَّاُہ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ فَاَعْطَوْا حَتّٰی رُؤِیَ فِی وَجْہِہِ السُّرُوْرُ فَقَالَ: ((مَنْ سَنَّ سُنَّۃ حَسَنَۃً……۔)) فَذکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۱۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور اس میںصدقہ کرنے کی ترغیب دلائی، لیکن لوگوں نے صدقہ کرنے میں تاخیر کی، اس وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرۂ مبارک پر غصے کے آثار نظر آنے لگے، پھر ایک انصاری ایک تھیلیلے کر آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیشکی، اس کے بعد لوگ پے در پے صدقہ کرنے لگے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرہ پر خوشی کے اثرات نمایاں ہونے لگے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اچھا طریقہ جاری کرتا ہے، ……۔ سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔
Musnad Ahmad
11101
۔ (۱۱۱۰۱)۔ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ قَالَ: لَمَّا کَانَ ذَلِکَ الْیَوْمُ، قَعَدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی بَعِیرٍ وَأَخَذَ رَجُلٌ بِزِمَامِہِ أَوْ بِخِطَامِہِ، فَقَالَ: ((أَیُّیَوْمٍیَوْمُکُمْ ہٰذَا؟)) قَالَ: فَسَکَتْنَا حَتّٰی ظَنَنَّا أَنَّہُ سَیُسَمِّیہِ سِوَی اسْمِہِ، قَالَ: ((أَلَیْسَ بِالنَّحْرِ؟)) فَذَکَرَ نَحْوَ الطَّرِیْقِ الْاوْلٰی مِنَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۵۸)
سیدنا ابوبکر ہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ منی میں جب دس ذوالحجہ کا دن تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اونٹ پر سوار ہوئے، ایک آدمی نے اس کی مہار پکڑی ہوئی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج کونسا دن ہے؟ ہم خاموش رہے، ہم نے سمجھا کہ شاید آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس دن کا کوئی اور نام تجویز فرمائیں گے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود ہی فرمایا: کیایہیوم النحر نہیں ہے؟ اس نے آگے گذشتہ حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔
Musnad Ahmad
11225
۔ (۱۱۲۲۵)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ عَنْہٗأَیْضًا) عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: قَدِمْتُ أَنَا وَصَاحِبَانِ لِی عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِیدٌ، فَتَعَرَّضْنَا لِلنَّاسِ فَلَمْ یُضِفْنَا أَحَدٌ، فَانْطَلَقَ بِنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی مَنْزِلِہِ، وَعِنْدَہُ أَرْبَعُ أَعْنُزٍ، فَقَالَ: ((لِییَا مِقْدَادُ جَزِّئْ أَلْبَانَہَا بَیْنَنَا أَرْبَاعًا۔))، فَکُنْتُ أُجَزِّئُہُ بَیْنَنَا أَرْبَاعًا فَاحْتَبَسَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَحَدَّثْتُ نَفْسِی أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ أَتٰی بَعْضَ الْأَنْصَارِ، فَأَکَلَ حَتّٰی شَبِعَ وَشَرِبَ حَتّٰی رَوِیَ، فَلَوْ شَرِبْتُ نَصِیْبَہٗ، فَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِالْمُتَقَدِّمِ۔ (مسند احمد: ۲۴۳۱۱)
۔(دوسری سند) سیدنا مقداد بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور میرے ساتھ دو دوست، ہم سب اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں پہنچے، ہمیں شدید بھوک لگی ہوئی تھی، ہم لوگوں کے سامنے گئے مگر کسی نے ہماری مہمانی نہ کی، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں اپنے گھر لے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چار بکریاں تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: مقداد! تم ان بکریوں کا دودھ ہمارے درمیان چار حصوں میں تقسیم کرو۔ پس میں اس دودھ کو ان چاروں کے درمیان تقسیم کرتا تھا۔ ایک رات اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کہیں مصروف ہوگئے۔ میرے دل میں خیال آیا کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی انصاری کے گھر تشریف لے گئے ہوں گے، آپ نے ان کے ہاں سیر ہو کر کھا پی لیا ہوگا، اگر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حصے کا دودھ پی لوں تو کچھ نہیں ہوگا۔ اس سے آگے گزشتہ حدیث کی مانندہی ہے۔
Musnad Ahmad
11322
۔ (۳/۱۱۳۲۲)۔ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَیْدٍ الْفَائِشِیِّ، عَنِ ابْنَۃٍ لِخَبَّابٍ قَالَتْ: خَرَجَ خَبَّابٌ فِی سَرِیَّۃٍ، فَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَعَاہَدُنَا، حَتَّی کَانَ یَحْلُبُ عَنْزًا لَنَا، قَالَتْ: فَکَانَ یَحْلُبُہَا حَتَّییَطْفَحَ، أَوْ یَفِیضَ ، فَلَمَّا رَجَعَ خَبَّابٌ حَلَبَہَا فَرَجَعَ حِلَابُہَا إِلَی مَا کَانَ، فَقُلْنَا لَہ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَحْلُبُہَا حَتَّییَفِیضَ ـ وَقَالَ مَرَّۃً: حَتَّی تَمْتَلِیئَ، فَلَمَّا حَلَبْتَہَا رَجَعَ حِلَابُہَا۔ (مسند احمد: ۲۷۶۳۷)
سیدنا خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیٹی سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میرے باپ ایک لشکر میں چلے گئے، نبی ٔ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارا بہت خیال رکھتے تھے، یہاں تک کہ ہمارے لیے ہماری بکری بھی دوہ دیتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو دوہتے تھے تو دودھ برتن سے بہہ پڑتا تھا، لیکن جب سیدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لوٹے اور اسی بکری سے دودھ دوہا تو پہلے کی طرح دودھ کم ہو گیا، ہم نے کہا: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس بکری کا دودھ دوہتے تھے تو دودھ بہہ پڑتا تھا، لیکن برتن بھر جاتا تھا، لیکن جب آپ نے دودھ دوہا ہے تو یہ دودھ واپس چلا گیا ہے۔
Musnad Ahmad
11902
۔ (۱۱۹۰۲)۔ عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ظِبْیَانَ وَیَعْلٰی، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِی ظِبْیَانَ قَالَ: غَزَا أَبُو أَیُّوبَ الرُّومَ فَمَرِضَ فَلَمَّا حُضِرَ قَالَ: أَنَا إِذَا مِتُّ فَاحْمِلُونِیْ فَإِذَا صَافَفْتُمُ الْعَدُوَّ فَادْفِنُونِیْ تَحْتَ أَقْدَامِکُمْ، وَسَأُحَدِّثُکُمْ حَدِیثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَوْلَا حَالِیْ ہٰذَا مَا حَدَّثْتُکُمُوہُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ مَاتَ لَا یُشْرِکُ بِاللّٰہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۵۶)
ابو ظبیان سے مروی ہے کہ سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روم کے خلاف ایک غزوۂ میں شریک تھے اور وہاں بیمار پڑ گئے، جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے کہا: جب میں فوت ہو جائوں تو مجھے اٹھا کر لے جانا، جہاں دشمن سامنے آجائے تم مجھے وہیں اپنے قدموں کے نیچے دفن کر دینا، میں تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث سناتا ہوں۔ اگر میں اس حال میں (یعنی اس مرض الموت میں ) نہ ہوتا تو میں تمہیںیہ حدیث نہ سناتا۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جو آدمی اس حال میں فوت ہوا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا تو وہ جنت میں جائے گا۔
Musnad Ahmad
13264
۔ (۱۳۲۶۴)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَزَلَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَہُ قَرِیْبٌ مِنْ اَلْفِ رَاکِبٍ، فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہٖوَعَیْنَاہُ تَذْرِفَانِ فَقَامَ اِلَیْہِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) فَفَدَاہُ بِالْاَبِ وَالْاُمِّ یَقُوْلُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَالَکَ؟ قَالَ: ((اِنِّی سَاَلْتُ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ فِی الْاِسْتِغْفَارِ لِاُمِّیْ فَلَمْ یَاْذَنْ فَدَمَعَتْ عَیْنَایَ رَحْمَۃً لَھَا مِنَ النَّارِ ، وَاِنِّیْ کُنْتُ نَہَیْتُکُمْ عَنْ ثَلَاثٍ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ۔)) فَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۹۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، دوران سفر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک مقام پر ٹھہرے، ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، ہم ایک ہزار کے قریب سوار تھے، آپ نے دو رکعت نماز ادا کی۔، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا رخ ہماری طرف پھیرا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اٹھ کر آپ کی طرف گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول!میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ کے رونے کی کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ سے اپنی والدہ کے حق میں دعائے مغفرت کرنے کی اجازت طلب کی، لیکن اس نے مجھے اس کی اجازت نہیں دی، اس لیے ان کے جہنم میں جانے پر مجھے ان پر ترس آیا اور میں رونے لگ گیا۔ میں نے تمہیں تین کاموں سے منع کیا تھا، ایک قبروں کی زیارت سے، …۔ اس سے آگے گزشتہ حدیث کی مانند ہی ذکر کیا۔
Musnad Ahmad
966
۔ (۹۶۶)۔عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ عَنْ عَائِشَۃَؓ أَ نَّہَا ذُکِرَتِ نِسَائُ الْأَنْصَارِ فَأثْنَتْ عَلَیْہِنَّ وَقَالَتْ لَہُنْ مَعْرُوْفًا وَقَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ سُوْرَۃُ النُّوْرِ عَمَدْنَ اِلٰی حُجَزِ أَوْ حُجُوْزِ مَنَاطِقِہِنَّ فَشَقَقْنَہُ ثُمَّ اتَّخَذْنَ مِنْہُ خُمُرًا، وَاِنَّہَا دَخَلَتْ اِمْرَأَۃٌ مِنْہُنَّ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! أَخْبِرْنِیْ عَنِ الطُّہُوْرِ مِنَ الْحَیْضِ، فَقَالَ: ((نَعَمْ، لِتَأْخُذَ اِحْدَاکُنَّ مَائَ ہَا وَسِدْرَتَہَا…)) فَذَکَرَتْ نَحْوَ الْحَدَیْثِ الْمُتَقَدِّمِ۔ (مسند أحمد: ۲۶۰۶۷)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ انصار کی عورتوں کا ذکر کیا گیا، انھوں نے ان کی تعریف کی اور ان کے حق میں اچھی باتیں کہیں، نیز انھوں نے کہا: جب سورۂ نور نازل ہوئی تو اِن انصاری خواتین نے اپنے ازاروں کی طرف قصد کیا اور ان کو پھاڑ کر دو پٹے بنا لیے، نیز سیدہ نے یہ بات بھی ذکر کی کہ ایک دفعہ ایک انصاری خاتون رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے حیض سے طہارت حاصل کرنے کے بارے میں بتائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، خاتون کو چاہیے کہ پانی اور بیری کے پتوں کا اہتمام کرے، ……۔ پھر سابق حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔
Musnad Ahmad
4143
۔ (۴۱۴۳) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ لَہِیْعَۃَ ثَنَا أَبُوْ الزَّبَیْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الْمُہَلِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مُہَلُّ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ مِنْ ذِی الْحُلَیْفَۃِ،)) فَذَکَرَہُ بِاللَّفْظِ الْمُتَقَدِّمِ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۷۰)
۔ (دوسری سند) ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے میقات کے بارے میں پوچھا تو انہوںنے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اہل مدینہ کا میقات ذوالحلیفہ ہے، …۔ پھر سابقہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔
Musnad Ahmad
11501
۔ (۱۱۵۰۱)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: سَمِعْتُ یَزِیدَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الشِّخِّیرِ قَالَ: کُنَّا بِالْمِرْبَدِ جُلُوسًا فَأَتٰی عَلَیْنَا رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃ، فَذَکَرَ نَحْوَہٗیَعْنِی نَحْوَ حَدِیْثِ الْجُرَیْرِیِّ الْمُتَقَدِّمِ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۲۰)
۔(دوسری سند) سیدنایزید بن عبداللہ بن شخیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم جانوروں کے باڑے میں بیٹھے تھے کہ ایک دیہاتی ہمارے پاس آیا، اس سے آگے گزشتہ حدیث کی مانند ذکر کیا۔