TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی برکت سے کھانے میں اضافہ ہو جانا بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ ہے

Chapter 162 of سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 162 of 217 · 16 Hadith
۔ (۱۱۳۰۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ بَکْرٍ، قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَلَاثِیْنَ وَمِائَۃً، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْکُمْ طَعَامٌ؟)) فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْنَحْوُہٗ،فَعُجِنَ،ثُمَّجَائَرَجُلٌمُشْرِکٌ مُشْعَانٌّ طَوِیْلٌ بِغَنَمٍ یَسُوْقُہَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَبَیْعًا أَمْ عَطِیَّۃً؟)) أَوْ قَالَ: ((أَمْ ہَدِیَّۃً؟)) قَالَ: لَا، بَلْ بَیْعٌ، فَاشْتَرٰی مِنْہُ شَاۃً، فَصُنِعَتْ، وَأَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ یُشْوٰی، قَالَ: وَأَیْمُ اللّٰہِ! مَا مِنَ الثَّلَاثِیْنَ وَالْمِائَۃِ إِلَّاقَدْحَزَّلَہٗرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَزَّۃً مِنْ سَوَادِ بَطْنِہَا، إِنْ کَانَ شَاھِدًا أَعْطَاھَا إِیَّاہٗ، وَإِنْ کَانَ غَائِبًا خَبَأَلَہٗ،قَالَ: وَجَعَلَمِنْہَاقَصْعَتَیْنِ، قَالَ: فَأَکَلْنَا أَجْمَعُوْنَ وَشَبِعْنَا، وَفَضَلَ فِی الْقَصْعَتَیْنِ، فَجَعَلْنَاہُ عَلَی الْبَعِیْرِ، أَوْ کَمَا قَالَ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۳)
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک سو تیس آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: کیا کسی کے پاس کھانا ہے؟ ایک آدمی کے پاس کھانے کی تقریباً ایک صاع کی مقدارتھی،پس اس کا آٹا گوندھا گیا، اس کے بعد ایک مشرک آدمی بکریاں ہانکتے ہوئے آیا، اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے اور پرا گندہ تھے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بکریاں فروخت کرو گے یا عطیہ کرو گے؟ اس نے کہا: عطیہیا ہبہ نہیں، بلکہ فروخت کروں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے ایک بکری خریدی، اسے ذبح کر کے تیار کیا گیا، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی کلیجی گردے وغیرہ بھوننے کا حکم دیا۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بکری کی کلیجی کا حصہ ہر آدمی کے لیے رکھا، جو کوئی موجود تھا اسے دے دیااور جو موجود نہیں تھا، اس کے لیے رکھ چھوڑا۔ بکری کے گوشت کے دو تھال تیار کیے گئے۔ ہم سب نے سیر ہو کر کھایا اور دونوں میں گوشت بچا رہا، پھر ہم نے وہ بچا ہوا کھانا اونٹ پر لاد لیا۔
Takhreej
(۱۱۳۰۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۲۱۶، ۲۶۱۸،ومسلم: ۲۰۵۶ (انظر: ۱۷۰۳)
11301
Sahih
۔ (۱۱۳۰۲)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا بِتَمَرَاتٍ، فَقُلْتُ: أُدْعُ اللّٰہَ لِیْ فِیْہِنَّ بِالْبَرَکَۃِ، قَالَ: فَصَفَّہُنَّ بَیْنَیَدَیْہِ، قَالَ: ثُمَّ دَعَا، فَقَالَ لِیْ: ((إِجْعَلْہُنَّ فِیْ مِزْوَدٍ، فَأَدْخِلْ یَدَکَ وَلَا تَنْثُرْہُنَّ۔)) قَالَ: فَحَمَلْتُ مِنْہُ کَذَا وَکَذَا وَسْقاً فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَنَأْکُلُ وَنُطْعِمُ، وَکَانَ لَا یُفَارِقُ حَقْوِیْ، فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ انْقَطَعَ عَنْ حَقْوِیْ فَسَقَطَ۔ (مسند احمد: ۸۶۱۳)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں کھجوریں لے کر حاضر ہوا اور عرض کی: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے لیے ان کھجوروں میں برکت کی دعا فرمائیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کھجوروں کو اپنے سامنے بکھیر لیا۔ پھر دعا فرمائی۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: ان کھجوروں کو چمڑے کے تھیلے میں ڈال لو۔ کھوریں نکالنے کے لیے اس کے اندر ہاتھ ڈال کر کھجوریں نکالنا اور اسے الٹ کر جھاڑنا نہیں۔ ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے اس تھیلے سے اتنے اتنے وسق (ایک وسق ساٹھ صاع اور ایک صاع تقریباً دو کلو سو گرام ہوتا ہے) اللہ کی راہ میں نکالے۔ہم خود کھاتے بھی اور کھلاتے بھی۔ وہ تھیلا کبھی بھی میری کمر سے جدا نہیں ہوتا تھا۔مگرجب سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قتل کا سانحہ پیش آیا تو وہ میری کمر سے کٹ کر گر گیا (اور گم ہوگیا)
Takhreej
(۱۱۳۰۲) تخریج: اسنادہ حسن (انظر: ۸۶۲۸)
11302
Sahih
۔ (۱۱۳۰۳)۔ عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ غَزْوَۃٍ غَزَاھَا، فَأَرْمَلَ فِیْہَا الْمُسْلِمُوْنَ وَاحْتَاجُوْا إِلَی الطَّعَامِ، فَاسْتَأْذَنُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ نَحْرِ الْإِبِلِ فَأَذِنَ لَھُمْ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: فَجَائَ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِبِلُہُمْ تَحْمِلُہُمْ وَتُبَلِّغُہُمْ عَدُوَّھُمْ یَنْحَرُوْنَہَا؟ بَلِ ادْعُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ بِغَبَرَاتِ الزَّادِ فَادْعُ اللّٰہَ عَزَّوَجََلَّ فِیْہَا بِالْبَرَکَۃِ، قَالَ: ((أَجَلْ۔)) قَالَ: فَدَعَا بِغَبَرَاتِ الزَّادِ، فَجَائَ النَّاسُ بِمَا بَقِیَ مَعَہُمْ فَجَمَعَہُ ثُمَّ دَعَا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فِیْہِ بِالْبَرَکَۃِ، وَدَعَا بِأَوْعِیَتِہِمْ فَمَلَأَھَا وَفَضَلَ فَضْلٌ کَثِیْرٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ ذٰلِکَ: ((أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَأَشْہَدُ أَنِّیْ عَبْدُاللّٰہِ وَرَسُوْلُہٗ،وَمَنْلَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ بِہِمَا غَیْرَ شَاکٍّ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۹۴۴۷)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک غزوہ میں تشریف لے گئے۔ اس دوران مسلمانوں کا زاد راہ ختم ہو گیا اور وہ کھانے کے سلسلہ میں محتاج ہوگئے۔ انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اونٹوں کو نحر کرنے کی اجازت طلب کی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اس کی اجازت مرحمت فرما دی۔ اس کی اطلاع عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کوہوئی تو انہوں نے آکر عرض کی: اللہ کے رسول! یہ اونٹ مسلمانوں کو اپنے اوپرسوار کرکے دشمن تک پہنچاتے ہیںتو کیایہ ان کو ذبح کر لیں؟ اللہ کے رسول! آپ اس کی بجائے لوگوں کے پاس جو بچا کھچا زاد راہ ہے وہ منگوا کر اللہ عزوجل سے اس میں برکت کی دعا فرمائیں (تو زیادہ مناسب ہوگا)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ٹھیک ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوںسے ان کے پاس بچا ہوا زاد راہ طلب فرمایا۔ لوگوں کے پاس جو جو چیزیں بچی ہوئی تھیںوہ لے آئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سب کو ایک جگہ جمع کرکے اللہ عزوجل سے برکت کی دعا کی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے برتن (اور تھیلے وغیرہ) منگوا کر ان کو کھانے سے بھر دیااور بہت سا کھانا بچ رہا۔ اس موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ جو کوئی صدق دل سے ان دو باتوں کی گواہی دیتا ہوا اللہ سے جا ملے اور اسے ان میں کسی قسم کا تردد نہ ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
Takhreej
(۱۱۳۰۳) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ بنحوہ مسلم: ۲۷ (انظر: ۹۴۴۷)
11303
Sahih
۔ (۱۱۳۰۴)۔ ثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِیْ صَالِحٍ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ اَوْ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ شَکَّ الْأَعْمَشُ، قَالَ: لَمَّا کَانَ غَزْوَۃُ تَبُوْکِ اَصَابَ النَّاسَ مَجََاعَۃٌ فَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۹۶)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یا سیدنا ابو ہر یرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ (یہ شک اعمش کو ہوا ہے) سے روایت ہے کہ غزوۂ تبوک کے موقع پر لوگوں کوشدید بھوک کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر گزشتہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔
Takhreej
(۱۱۳۰۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷(انظر: ۱۱۰۸۰)
11304
Sahih
۔ (۱۱۳۰۵)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی عَمْرَۃَ الْأَنْصَارِیِّ، حَدَّثَنِی أَبِی، قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزْوَۃٍ، فَأَصَابَ النَّاسَ مَخْمَصَۃٌ، فَاسْتَأْذَنَ النَّاسُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی نَحْرِ بَعْضِ ظُہُوْرِھِمْ وَقَالُوْا: یُبَلِّغُنَا اللّٰہُ بِہِ، فَلَمَّا رَأٰی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ ھَمَّ أَنْ یَأْذَنَ لَھُمْ فِی نَحْرِ بَعْضِ ظُہُوْرِھِمْ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ بِنَا إِذَا نَحْنُ لَقِیْنَا الْقَوْمَ غَدًا جِیَاعًا أَوْ رِجَالًا؟ وَلٰکِنْ إِنْ رَأَیْتَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَنْ تَدْعُوَ لَنَا بِبَقَایَا أَزْوَادِھِمْ فَنَجْمَعَھَا ثُمَّ تَدْعُوَ اللّٰہَ فِیْہَا بِالْبَرَکَۃِ، فَإِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی سَیُبَلِّغُنَا بِدَعْوَتِکَ، فَدَعَاالنَّبٍیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبَقَایَا أَزْوَادِھِمْ، فَجَعَلَ النَّاسُ یَجِیْئُوْنَ بِالْحَثْیَۃِ مِنَ الطَّعَامِ وَفَوْقَ ذٰلِکَ، وَکَانَ أَعْلَاھُمْ مَنْ جَائَ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، فَجَمَعَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَامَ فَدَعَا مَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَدْعُوَ، ثُمَّ دَعَا الْجَیْشَ بِأَوْعِیَتِہِمْ فَأَمَرَھُمْ أَنْ یَحْتَثُوْا، فَمَا بَقِیَ فِی الْجَیْشِ وِعَائٌ إِلَّا مَلَؤُوْہُ وَبَقِیَ مِثْلُہٗ،فَضَحِکَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ فَقَالَ: ((أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَأَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ، لَا یَلْقَی اللّٰہَ عَبْدٌ مُؤْمِنٌ بِہِمَا إِلاَّ حُجِبَتْ عَنْہُ النَّارُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۲۸)
عبدالرحمن بن ابی عمرۃ انصاری اپنے والدسے روایت کرتے ہیں کہ وہ ایک غزوہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، اس دوران لوگوں کوشدید بھوک کا سامنا کرنا پڑا، لوگوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سواری کے بعض اونٹوں کو نحر کرنے کی اجازت طلب کی اور کہا کہ ہمارے اپنی اگلی منزل تک پہنچنے کا اللہ مالک ہے۔ لیکن جب سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو بعض اونٹوں کے نحر کرنے کی اجازت دینے کو تیار ہیں تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسو ل! کل جب ہم بھوکے یا پیدل دشمن کے مقابل ہوں گے تو ہمارا کیا بنے گا؟ اس کے بدلے اگر آپ مناسب سمجھیں تو لوگوں کے پاس کھانے پینے کی جو اشیاء بچی ہوئی ہوں،وہ منگوائیں ۔ہم ان اشیاء کو ایک جگہ جمع کر دیتے ہیں۔ آپ اللہ تعالیٰ سے ان میں برکت کی دعا فرمائیں، اللہ تعالیٰ آپ کی دعا سے ہمارے لیے برکت فرمائے گا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں سے کھانے پینے کی بچی ہوئی اشیاء منگوائیں، لوگ کھانے کی ایک ایک مٹھییا اس سے کچھ زیادہ لانے لگے، کوئی زیادہ سے زیادہ طعام لایا تو وہ ایک صاع کھجور تھی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان تمام اشیاء کو جمع کرکے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی رضا کے بقدردعائیں کیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لشکر کو بلوایا کہ وہ اپنے اپنے برتن (تھیلے، بوریاں وغیرہ) لے آئیں اور ان کو کھانے سے بھر لیں، پورے لشکر میں جتنے بھی برتن تھے، انہوں نے ان سب کو کھانے سے بھر لیااور اتنا ہی کھانا باقی بچا رہا، یہ دیکھ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شدت فرح سے اس حدتک مسکرائے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑیں نظر آنے لگیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں،جو مومن ان دو باتوں کی شہادت اور دلی اقرار کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ملے گا، قیامت کے دن اس سے آگ کو دور ہٹا دیا جائے گا۔
Takhreej
(۱۱۳۰۵) تخریج: اسنادہ قوی، اخرجہ النسائی فی الکبری : ۸۷۹۳ (انظر: ۱۵۴۴۹)
11305
Sahih
۔ (۱۱۳۰۶)۔ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: عَمَدَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ إِلٰی نِصْفِ مُدِّ شَعِیْرٍ فَطَحَنَتْہٗ،ثُمَّعَمَدَتْإِلٰی عُکَّۃٍ کَانَ فِیْہَا شَیْئٌ مِنْ سَمْنٍ، فَاتَّخَذَتْ مِنْہُ خَطِیْفَۃً، قَالَ: ثُمَّ أَرْسَلَتْنِیْ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَأَتَیْتُہُ وَھُوَ فِی أَصْحَابِہِ، فَقُلْتُ: إِنَّ أُمَّ سُلَیْمٍ أَرْسَلَتْنِیْ إِلَیْکَ تَدْعُوْکَ، فَقَالَ: ((أَنَا وَمَنْ مَعِی؟)) قَالَ: فَجَائَ ھُوَ وَمَنْ مَعَہٗ،قَالَ: فَدَخَلَتُفَقُلْتُلِأَبِی طَلْحَۃَ: قَدْ جَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَنْ مَعَہٗ،فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَۃَ فَمَشٰی إِلٰی جَنْبِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّمَا ھِیَ خَطِیْفَۃٌ إِتَّخَذَتْہَا أُمُّ سُلَیْمٍ مِنْ نِصْفِ مُدِّ شَعِیْرٍ، قَالَ: فَدَخَلَ فَأُتِیَ بِہِ، قَالَ: فَوَضَعَ یَدَہُ فِیْہَا ثُمَّ قَالَ: ((أَدْخِلْ عَشَرَۃً۔)) قَالَ: فَدَخَلَ عَشَرَۃٌ فَأَکَلُوْا حَتّٰی شَبِعُوْا، ثُمَّ دَخَلَ عَشَرَۃٌ فَأَکَلُوْا، ثُمَّ عَشَرَۃٌ، ثُمَّ عَشَرَۃٌ، حَتّٰی أَکَلَ مِنْہَا أَرْبَعُوْنَ، کُلُّہُمْ أَکَلُوْا حَتّٰی شَبِعُوْا، قَالَ: وَبَقِیَتْ کَمَا ھِیَ، قَالَ: فَأَکَلْنَا۔ (مسند احمد: ۱۲۵۱۹)
سیدناسیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے نصف مد جو پیسے، پھرگھی کے لیے چمڑے کا بنا ہوا ڈبہ اٹھایا، اس میں تھوڑا ساگھی تھا۔ انہوں نے اس سے دلیہ سا بنایا، پھر انہوںنے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بلانے کے لیے مجھے بھیجا۔ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صحابہ کے درمیان تشریف فرماتھے۔ میں نے عرض کی: ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے مجھے بھیجا ہے، وہ آپ کو کھانے کے لئے بلا رہی ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اور میرے ان ساتھیوں کو بھی؟ چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ تشریف لائے۔ میں نے گھر جا کر سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ تشریف لا رہے ہیں۔ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ باہرنکلے اورنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو کے ساتھ چلنے لگے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو صرف دلیہ ہے، جو ام سلیم نے نصف مد جو سے تیار کیاہے (اتنی مقدار تو کھانے کی نہیں ہے کہ اتنے لوگ کھا لیں)۔ بہرحال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اندرتشریف لائے، وہ کھانا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے پیش کیا گیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک اس میں رکھا اور فرمایا: دس آدمیوںکو اندر بلا لو۔ پس دس آدمیوں نے آکر پیٹ بھر کر کھایا، پھر دس آدمی آئے، انہوں نے بھی پیٹ بھر کر کھایا، پھر دس آدمی آئے،پھر دس آدمی آئے، یہاں تک کہ چالیس افراد نے سیر ہو کر کھاناکھایا اور وہ کھانا جیسے تھا، ویسے ہی باقی بچا رہا، پھر ہم گھر والوں نے وہ کھا لیا۔
Takhreej
(۱۱۳۰۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۴۵۰ (انظر: ۱۲۴۹۱)
11306
Sahih
۔ (۱۱۳۰۷)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذْ أُتِیَ بِقَصْعَۃٍ فِیْہَا ثَرِیْدٌ، قَالَ: فَأَکَلَ وَأَکَلَ الْقَوْمُ، فَلَمْ یَزَلْیَتَدَاوَلُوْنَہَا إِلٰی قَرِیْبٍ مِنَ الظُّہْرِ، یَأْکُلُ کُلُّ قَوْمٍ، ثُمَّ یَقُوْمُوْنَ وَیَجِیْئُ قَوْمٌ فَیَتَعَاقَبُوْہٗ، قَالَ: فَقَالَ لَہٗرَجُلٌ: ھَلْکَانَتْ تُمَدُّ بِطَعَامٍ؟ قَالَ: أَمَّا مِنَ الْأَرْضِ فَلَا، إِلَّا أَنْ تَکُوْنَ کَانَتْ تُمَدُّ مِنَ السَّمَائِ۔ (مسند احمد: ۲۰۳۹۷)
سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں ثرید (وہ کھانا جس میں روٹی شوربے میں بھگو کر نرم کرکے کھائی جاتی ہے) کا ایک پیالہ پیش کیاگیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اور دیگر لوگوں نے وہ کھایا، ظہر کے وقت تک لوگ کھاناکھاتے رہے، ایک گروہ کھانا کھا کر اٹھ جاتا تو ان کے بعد دوسرا گروہ آجاتا۔ ایک شخص نے سیدنا سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا: کیاکھانے میں مزید کھانا شامل کیا جاتا رہا؟ انہوں نے جواب دیا: زمین سے تو شامل نہیں کیا گیا، البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ آسمان سے اس میں اضافہ کیا جاتا رہا ہو۔
Takhreej
(۱۱۳۰۷) تخریج:حدیث صحیح، اخرجہ الترمذی: ۳۶۲۵ (انظر: ۲۰۱۳۵)
11307
Sahih
۔ (۱۱۳۰۸)۔ حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیْلُ، عَنْ قَیْسٍ، عَنْ دُکَیْنِ بْنِ سَعِیْدٍ الْخَثْعَمِیِّ، قَالَ: أَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ أَرْبَعُوْنَ وَأَرْبَعُمِائَۃٍ، نَسْأَلُہُ الطَّعَامَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِعُمَرَ: ((قُمْ فَأَعْطِہِمْ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا عِنْدِیْ إِلَّا مَا یَقِیْظُنِیْ وَالصِّبْیَۃَ، قَالَ وَکِیْعٌ: اَلْقَیْظُ فِی کَلَامِ الْعَرَبِ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ، قَالَ: ((قُمْ فَأَعْطِہِمْ۔)) قَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! سَمْعًا وَطَاعَۃً، قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ وَ قُمْنَا مَعَہٗ،فَصَعِدَبِنَاإِلٰی غُرْفَۃٍ لَہٗ،فَأَخْرَجَالْمِفْتَاحَمِنْحُجْزَتِہِفَفَتَحَ الْبَابَ، قَالَ دُکَیْنٌ: فَإِذَا فِی الْغُرْفَۃِ مِنَ التَّمْرِ شَبِیْہٌ بِالْفَصِیْلِ الرَّابِضِ، قَالَ: شَأْنُکُمْ؟ قَالَ: فَأَخَذَ کُلُّ رَجُلٍ مِنَّا حَاجَتَہٗمَاشَائَ،قَالَ: ثُمَّالْتَفَتُّ،وَإِنِّی لَمِنْ آخِرِھِمْ وَکَأَنَّا لَمْ نَرْزَأْ مِنْہُ تَمْرَۃً۔ (مسند احمد: ۱۷۷۱۹)
سیدنادکین بن سعید خثعمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم چار سو چالیس آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خدمت میں آئے، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کھانے کا مطالبہ کیا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اٹھواور انہیں کھانا مہیا کرو۔ انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میرے ہاں تو صرف اس قدر کھانا ہے جو میرے لیے اور میری اولاد کے لیے صرف چار ماہ تک کافی ہوگا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اٹھواوران کو کھانا دو۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! سنا اور اطاعت کی (یعنی آپ کا حکم سر آنکھوں پر)۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اٹھے اور ہم بھی ان کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے، وہ ہمیں اپنے ساتھ لے کر بالاخانے کی طرف گئے۔ انہوں نے اپنی کمر سے چابی نکال کر دروازہ کھولا۔ سیدنا دکین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ان کے کمرے میں کم زور قسم کی کھجور پڑی تھی۔ انہوں نے کہا: تم یہاں سے جس قدر چاہو اٹھا لو، ہم میں سے ہر آدمی نے وہاں سے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں اٹھا لیں، میں سب سے آخر میں تھا۔ میں نے غور کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ گویا ہم نے ان کی کھجوروں میں ایک کھجور بھی کم نہیں کی۔
Takhreej
(۱۱۳۰۸) تخریج:اسنادہ صحیح اخرجہ ابوداود: ۵۲۳۸ (انظر: ۱۷۵۷۶)
Explanation
فوائد:… فَصِیْل اونٹ اور گائے کے اس بچے کو کہتے ہیں، جس کا دودھ چھڑا دیا گیا ہو اور رَابِض بیٹھنے والے مقیم بندے کو کہتے ہیں، اس تشبیہ سے مراد کم زور کھجوریں ہیں۔
11308
Sahih
۔ (۱۱۳۰۹)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی أَرْبَعِمِائَۃٍ مِنْ مُزَیْنَۃَ، فَأَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِأَمْرِہِ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا لَنَا طَعَامٌ نَتَزَوَّدُہٗ،فَقَالَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِعُمَرَ: ((زَوِّدْھُمْ۔)) فَقَالَ: مَا عِنْدِیْ إِلَّا فَاضِلَۃٌ مِنْ تَمْرٍوَمَا أُرَاھَا تُغْنِیْ عَنْہُمْ شَیْئًا، فَقَالَ: ((انْطَلِقْ فَزَوِّدْھُمْ۔)) فَانْطَلَقَ بِنَا إِلٰی عُلِّیَّۃٍ لَہٗ،فَإِذَا فِیْہَا تَمْرٌ مِثْلُ الْبَکْرِ الْأَوْرَقِ، فَقَالَ: خُذُوْا، فَأَخَذَ الْقَوْمُ حَاجَتَہُمْ، قَالَ: وَکُنْتُ أَنَا فِی آخِرِالْقَوْمِ، قَالَ: فَالْتَفَتُّ وَمَا أَفْقِدُ مَوْضِعَ تَمْرَۃٍ، وَقَدِ احْتَمَلَ مِنْہُ أَرْبَعُمَائَۃِ رَجُلٍ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۴۷)
سیدنا نعمان بن مقرن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم قبیلہ بنو مزینہ کے چار سو آدمی رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے لئے لوگوں کو حکم دیا۔ بعض لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ان کو دینے کے لیے ہمارے پاس کھانا میسر نہیں ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم انہیں کھانا مہیا کرو۔ انہوں نے عرض کی: میرے پاس تو کچھ ہلکی قسم کی کھجور ہے، میرا خیال ہے کہ وہ ان کو کفایت نہیں کرے گی۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جا کر انہیں دے دو۔ وہ ہمیں اپنے ساتھ بالا خانے میں لے گئے، وہاں مٹیالے رنگ کی سی کھجور تھی۔ انہوں نے کہا: یہاں سے اٹھا لو۔ لوگوں نے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں اٹھا لیں، میں سب سے آخر میں تھا۔ میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ ہم نے ایک کھجور کے برابر بھی جگہ خالی نہیں کی۔ حالانکہ وہاں سے چار سو افراد نے کھجوریں اٹھائی تھیں۔
Takhreej
(۱۱۳۰۹) تخریج: صحیح لغیرہ، اخرجہ البیھقی: ۵/ ۳۶۵ (انظر: ۲۳۷۴۶)
11309
Sahih
۔ (۱۱۳۱۰)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ: إِذْھَبْ إِلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْ: إِنْ رَأَیْتَ أَنْ تَغَدّٰی عِنْدَنَا فَافْعَلْ، قَالَ: فَجِئْتُہُ فَبَلَّغْتُہُ، فَقَالَ: ((وَمَنْ عِنْدِی؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: ((انْہَضُوْا۔)) قَالَ: فَجِئْتُ فَدَخَلْتُ عَلٰی أُمِّ سُلَیْمٍ وَأَنَا لَدَھِشٌ لِمَنْ أَقْبَلَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَقَالَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ: مَا صَنَعْتَ یَا أَنَسُ؟ فَدَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی إِثْرِ ذٰلِکَ، قَالَ: ((ھَلْ عِنْدَکَ سَمْنٌ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ، قَدْ کَانَ مِنْہُ عِنْدِیْ عُکَّۃٌ فِیْہَا شَیْئٌ مِنْ سَمْنٍ، قَالَ: ((فَأْتِ بِہَا۔)) قَالَتْ: فَجِئْتُہُ بِہَا فَفَتَحَ رِبَاطَہَا ثُمَّ قَالَ: ((بِسْمِ اللّٰہِ، اَللّٰہُمَّ أَعْظِمْ فِیْہَا الْبَرَکَۃَ۔)) قَالَ: فَقَالَ: ((اقْلِبِیْہَا۔)) فَقَلَبْتُہَا فَعَصَرَھَا نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُسَمِّی، قَالَ: فَأَخَذْتُ نَقْعَ قِدْرٍ، فَأَکَلَ مِنْہَا بِضْعٌ وَثَمَانُوْنَ رَجُلًا فَفَضَلَ فِیْہَا فَضْلٌ، فَدَفَعَہَا إِلٰی أُمِّ سُلَیْمٍ، فَقَالَ: ((کُلِی وَأَطْعِمِی جِیْرَانَکِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۵۸۱)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان سے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہو کہ ممکن ہو تو کھانا ہمارے ہاں تناول فرمائیں۔ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں جا کر یہ پیغام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچا دیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور جو لوگ میرے پاس ہیں وہ؟ میں نے کہہ دیا: جی ہاں وہ بھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو !اٹھو۔ میں نے جا کر سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ساری بات کہہ دی۔ مجھے ان لوگوں کا ڈر تھا جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ آرہے تھے کہ اتنے لوگوں کو کھانا کیسے کفایت کرے گا۔ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدنا انس! تم نے یہ کیا کیا؟ اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریفلے آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: کیا آپ کے پاس گھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں ! میرے پاس چمڑے کا ایک ڈبہ تھا،اس میں کچھ گھی تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ڈبہ اٹھا لائیں۔ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: میں نے وہ ڈبہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا ڈھکن کھولا اور فرمایا: بسم اللہ، یا اللہ! اس میں خوب برکت فرما۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب اس ڈبے کو پلٹ دو۔ انہوں نے اسے پلٹ دیا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ کا نام لیتے لیتے اسے اچھی طرح نچوڑا، انہوں نے وہ سارا گھی ہنڈیا میں ڈال دیا۔ اس سے اسی سے زائد آدمیوں نے کھانا کھایااورکافی کھانا بچا رہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ ہنڈیا ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حوالے کی اور فرمایا: لو تم بھی کھائو اور ہمسایوں کو بھی کھلائو۔
Takhreej
(۱۱۳۱۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۰۴۰ (انظر: ۱۳۵۴۷)
11310
Sahih
۔ (۱۱۳۱۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ لَیْلٰی، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: أَتٰی أَبُوْ طَلْحَۃَ بِمُدَّیْنِ مِنْ شَعِیْرٍ، فَأَمَرَ بِہِ فَصُنِعَ طَعَامًا، ثُمَّ قَالَ لِیْ: یَا أَنَسُ! انْطَلِقْ ائْتِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَادْعُہُ وَقَدْ تَعْلَمُ مَا عِنْدَنَا، قَالَ: فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابُہُ عِنْدَہُ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَبَا طَلْحَۃَیَدْعُوْکَ إِلٰی طَعَامِہِ، فَقَامَ وَقَالَ لِلنَّاسِ: ((قُوْمُوْا۔)) فَقَامُوْا، فَجِئْتُ أَمْشِیْ بَیْنَیَدَیْہِ حَتّٰی دَخَلْتُ عَلٰی أَبِی طَلْحَۃَ فَأَخْبَرْتُہُ، قَالَ: فَضَحْتَنَا، قُلْتُ: إِنِّی لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَرُدَّ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمْرَہٗ، فَلَمَّا انْتَہَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الْبَابِ قَالَ لَھُمْ: ((اقْعُدُوْا۔)) وَدَخَلَ عَاشِرَعَشَرَۃً، فَلَمَّا دَخَلَ وَأُتِیَ بِالطَّعَامِ تَنَاوَلَ فَأَکَلَ، وَأَکَلَ مَعَہُ الْقَوْمُ حَتّٰی شَبِعُوْا، ثُمَّ قَالَ لَھُمْ: ((قُوْمُوْا، وَلْیَدْخُلْ عَشَرَۃٌ مَکَانَکُمْ۔)) حَتّٰی دَخَلَ الْقَوْمُ کُلُّہُمْ وَأَکَلُوْا، قَالَ: قُلْتُ: کَمْ کَانُوْا؟ قَالَ: کَانُوْا نَیْفًا وَ ثَمَانِیْنَ، قَالَ: وَفَضَلَ لِأَھْلِ الْبَیْتِ مَا أَشْبَعَہُمْ۔ (مسند احمد: ۱۳۴۶۱)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دو مد جولے کر آئے، انہوں نے اس سے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا، پھر مجھ سے کہا: انس! تم جا کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بلا لائو اور تم جانتے ہی ہو کہ کھانا تھوڑا سا ہے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیخدمت میں پہنچا تو صحابۂ کرام بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تھے۔ میں نے عرض کیا کہ ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کو کھانے کے لیے بلاتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو بھی کھڑے ہونے کا حکم دیا۔ وہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے آگے آگے چلتا ہوا سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پہنچا اور ان کو صورت حا ل سے باخبر کیا (کہ وہ تو سارے لوگ آ رہے ہیں)۔ انھوں نے کہا: تونے تو آج ہمیں رسوا کر دیا ہے۔ میں نے کہا کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات کو رد نہیں کر سکتا تھا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دروازے پر پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کو وہیں بیٹھ جانے کا حکم دیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود نو صحابہ کے ہمراہ اندر چلے آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب اندر آئے اور کھانا پیش کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ والوں نے خوب سیر ہو کر کھایا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم اٹھ جائو اور تمہاری جگہ مزید دس آدمی آجائیں ۔ یہاں تک کہ سب لوگوں نے آکر کھانا تناول کیا۔ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا کہ اس دن صحابۂ کرام کی تعداد کیا تھی؟ انہوں نے بتایا کہ اسی سے زائد افراد تھے، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ پھر بھی اتنا کھانا بچ گیا جس نے گھر والوںکو سیر کر دیا۔
Takhreej
(۱۱۳۱۱) تخریج: اخرجہ مسلم: ۲۰۴۰ (انظر: ۱۳۴۲۷)
11311
Sahih
۔ (۱۱۳۱۲)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: عَمِلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْخَنْدَقِ، قَالَ: فَکَانَتْ عِنْدِیْ شُوَیْہَۃُ عَنْزٍ جَذْعٌ سَمِیْنَۃٌ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَاللّٰہِ لَوْ صَنَعْنَاھَا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَأَمَرْتُ إِمْرَأَتِی فَطَحَنَتْ لَنَا شَیْئًا مِنْ شَعِیْرٍ، وَصَنَعَتْ لَنَا مِنْہُ خُبْزًا، وَذَبَحَتْ تَلْکَ الشَّاۃَ فَشَوَیْنَاھَا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَلَمَّا أَمْسَیْنَا وَأَرَادَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْإِنْصِرَافَ عَنِ الْخَنْدَقِ، قَالَ: وَکُنَّا نَعْمَلُ فِیْہِ نَہَارًا فَإِذَا أَمْسَیْنَا رَجَعْنَا إِلٰی أَھْلِنَا، قاَلَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی قَدْ صَنَعْتُ لَکَ شُوَیْہَۃً کَانَتْ عِنْدَنَا وَصَنَعْنَا مَعَہَا شَیْئًا مِنْ خُبْزِ ھٰذَا الشَّعِیْرِ، فَأُحِبُّ أَنْ تَنْصَرِفَ مَعِی إِلٰیمَنْزِلِی، وَإِنَّمَا أُرِیْدُ أَنْ یَنْصَرِفَ مَعِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَحْدَہٗ،قَالَ: فَلَمَّاقُلْتُلَہُذٰلِکَقَالَ: ((نَعَمْ۔)) ثُمَّأَمَرَصَارِخًا،فَصَرَخَأَنِانْصَرِفُوْامَعَرَسُوْلِاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی بَیْتِ جَابِرٍ، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، فَأَقْبَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَقْبَلَ النَّاسُ مَعَہٗ،قَالَ: فَجَلَسَوَأَخْرَجْنَاھَاإِلَیْہِ، قَالَ: فَبَرَکَ وَسَمّٰی ثُمَّ أَکَلَ، وَتَوَارَدَھَا النَّاسُ، کُلَّمَا فَرَغَ قَوْمٌ قَامُوْا وَجَائَ نَاسٌ حَتّٰی صَدَرَ أَھْلُ الْخَنْدَقِ عَنْہَا۔ (مسند احمد: ۱۵۰۹۳)
سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ خندق میں کام کیا، میر ے ہاں موٹی تازی ایک کھیری عمر کی چھوٹی سی بکری تھی۔ میں نے سوچا کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کھانے کے لیے اس بکری کو پکا لیں۔ میں نے اپنی اہلیہ کو حکم دیاتو اس نے کچھ جو پیس کر آٹا تیارکیااور ہمارے لیے روٹیاں پکائیں۔ اس بکری کو ذبح کیا اور ہم نے اس کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے بھونا، جب شام ہوئی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خندق سے واپسی کا ارادہ فرمایا، سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم دن کو کام کیا کرتے اور شام کے وقت اہل و عیال میں واپس آجاتے تھے، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! ہمارے ہاں ایک چھوٹی سی بکری تھی، میں نے آپ کے لیے وہ تیار کی ہے اور جو کی کچھ روٹیاں بھی ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ میرے گھر تشریف لے چلیں۔ سیدنا جابر کہتے ہیں: میں چاہتا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اکیلے ہی میرے ساتھ تشریف لے چلیں ، لیکن جب میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گزارش کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک اعلان کرنے والے کو حکم دیا تو اس نے اعلان کردیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ جابر کے گھر چلو۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اعلان سن کر میں نے إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا۔ بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ دوسرے لوگ آگئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ گئے، ہم نے تیار شدہ کھانا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے پیش کیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے برکت کی دعا کی اور اللہ کا نام لے کر کھانا کھایا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد لوگ باری باری آتے گئے، جب ایک گروہ فارغ ہو کر اٹھ جاتا تو دوسرے لوگ آجاتے یہاںتک کہ تمام اہل خندق کھانا کھا گئے۔
Takhreej
(۱۱۳۱۲) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ بنحوہ البخاری: ۳۰۷۰، ۴۱۰۲،ومسلم: ۲۰۳۹(انظر: ۱۵۰۲۸)
11312
Sahih
۔ (۱۱۳۱۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُتِلَ أَبِییَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَکَ حَدِیْقَتَیْنِ وَلِیَہُوْدِیٍّ عَلَیْہِ تَمْرٌ، وَتَمْرُ الْیَہُوْدِیِّیَسْتَوْعِبُ مَا فِی الْحَدِیْقَتَیْنِ، فَقَالَ لَہٗرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھَلْ لَکَ أَنْ تَأْخُذَ الْعَامَ بَعْضًا وَتُؤَخِّرَ بَعْضًا إِلٰی قَابِلٍ؟)) فَأَبٰی، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا حَضَرَ الْجِدَادُ فَآذِنِّی۔)) قَالَ: فَآذَنْتُہٗ،فَجَائَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ فَجَعَلْنَا نَجُدُّ وَیُکَالُ لَہٗمِنْأَسْفَلِالنَّخْلِ، وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدْعُوْ بِالْبَرَکَۃِ، حَتّٰی أَوْفَیْنَاہُ جَمِیْعَ حَقِّہِ مِنْ أَصْغَرِ الْحَدِیْقَتَیْنِ فِیْمَایَحْسِبُ عَمَّارٌ، ثُمَّ أَتَیْنَا ھُمْ بَرُطَبٍ وَمَائٍ فَأَکَلُوْا وَشَرِبُوْا، ثُمَّ قَالَ: ((ھٰذَا مِنَ النَّعِیْمِ الَّذِی تُسْأَلُوْنَ عَنْہٗ۔)) (مسنداحمد: ۱۵۲۷۶)
سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد احد کے دن شہید ہوگئے تھے، وہ اپنے ترکہ میں دو باغ چھوڑ گئے تھے، ان کے ذمہ ایکیہودی کا کھجوروں کی صورت میں قرضہ تھا، یہودی کا قرض دونوں باغوں کے پھل سے بھی زائد تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس یہودی سے فرمایا: کیا تم اتنی رعایت دے سکتے ہو کہ کچھ قرض اس سال لے لو اور کچھ آئندہ سال۔ اس نے انکار کر دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: جب کھجور کا پھل تیار ہو تو مجھے اطلاع کرنا۔ جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اطلاع دی۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی آگئے۔ ہم پھل اتارنے لگے اور کھجور کے نیچےیہودی کے لیے کھجوروں کا وزن کیا جانے لگا۔ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم برکت کی دعافرماتے رہے۔ ہم نے چھوٹے باغ کے پھل سے یہودی کو سارا قرض ادا کر دیا۔ اس کے بعد ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں تازہ کھجور اور پانی پیش کیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اور صحابہ نے کھجوریں کھائیں اور پانی پیا۔پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بھی ان نعمتوں میں سے ہے، جن کی بابت تم سے پوچھ گچھ ہوگی۔
Takhreej
(۱۱۳۱۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۵۸۰ (انظر: ۱۵۲۰۶)
11313
Sahih
۔ (۱۱۳۱۴)۔ (وََعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): أَنَّ أَبَاہُ تُوُفِّیَ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ، قَالَ: فَأَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقُلْتُ لَہٗ: إِنَّأَبِی تُوُفِّیَ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ وَلَیْسَ عِنْدِی إِلَّا مَا یُخْرِجُ نَخْلُہٗ،فَلَایَبْلُغْ مَا یَخْرُجُ سُدُسَ مَا عَلَیْہِ، قَالَ: فَانْطَلِقْ مَعِی لِکَیْلَا تَفَحَّشَّ عَلَیَّ الْغُرَمَائُ، فَمَشٰی حَوْلَ بَیْدَرٍ مِنْ بَیَادِرِ التَّمْرِ ثُمَّ دَعَا وَجَلَسَ عَلَیْہِ، وَقَالَ: ((أَیْنَ غُرَمَاؤُہٗ؟)) فَأَوْفَاھُمُالَّذِی لَھُمْ، وَبَقِیَ مِثْلُ الَّذِی أَعْطَاھُمْ۔ (مسند احمد: ۱۴۹۹۷)
۔(دوسری سند) سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ان کے والد مقروض شہید ہوئے۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں جا کر عرض کی کہ میرے والد فوت ہوگئے ہیں اور ان کے ذمے قرض ہے،جبکہ میرے پاس کھجوروں کے پھل کے سوا ادائیگی کے لیے اور کچھ نہیں ہے اور کھجوروں کا پھل قرض کا چھٹا حصہ بھی نہیں ہوگا۔ تو آپ میرے ساتھ چلیں تاکہ قرض خواہ میرے ساتھ سخت کلام نہ کریں۔ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھجور کے ڈھیروں میں سے ایک ڈھیر کے گرد چکر کاٹنے لگے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا کی اور بیٹھ گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: اس کے قرض خواہ کہاں ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے حق ان کو پورے کر دیئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جس قدر ان کو دیا اتنا ہی پھل باقی بچا رہا۔
Takhreej
(۱۱۳۱۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
11314
Sahih
۔ (۱۱۳۱۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْتَطْعِمُہُ، فَأَطْمَعَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسْقَ شَعِیْرٍ، فَمَا زَالَ الرَّجُلُ یَأْکُلُ مِنْہُ ھُوَ وَامْرَأَتُہُ وَوَصِیْفٌ لَھُمْ حَتّٰی کَالُوْہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ لَمْ تَکِیْلُوْہُ لَأَکَلْتُمْ مِنْہُ وَلَقَامَ لَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۷۶)
سیدناجابربن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آکر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کھانا طلب کیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ایک وسق (یعنی ساٹھ صاع) جو عطا فرمائے۔ کافی عرصہ تک وہ آدمی، اس کی بیوی اور ان کا ایک لڑکا اس سے کھاتے رہے۔ یہاں تک کہ ایک دفعہ انہوں نے اس کو ماپ لیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم اس کی پیمائش نہ کرتے تو تم اس سے کھاتے رہتے اور وہ تمہارے پاس موجود رہتا۔
Takhreej
(۱۱۳۱۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۸۱(انظر: ۱۴۶۲۱)
11315
Sahih
۔ (۱۱۳۱۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ، أَنَّ أُمَّ مَالِکٍ الْبَہْزِیَّۃَ کَانَتْ تُہْدِی فِی عُکَّۃٍ لَھَا سَمْنًا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَبَیْنَا بَنُوْھَا یَسْأَلُوْنَہَا الْإِدَامَ وَلَیْسَ عِنْدَھَا شَیْئٌ، فَعَمَدَتْ إِلٰی عُکَّتِہَا الَّتِی کَانَتْ تُہْدِی فِیْہَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَوَجَدَتْ فِیْہَا سَمْنًا، فَمَا زَالَ یَدُوْمُ لَہَا أُدْمُ بَنِیْہَا حَتّٰی عَصَرَتْہُ، وَ أَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَعَصَرْتِیْہِ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ((لَوْ تَرَکْتِیْہِ مَا زَالَ ذٰلِکِ لَکِ مُقِیْمًا۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۱۹)
سیدناجابربن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام مالک بہزیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا چمڑے کے ایک برتن میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گھی بطور ہدیہ بھیجا کرتی تھیں۔ایک دفعہ ان کے بیٹوں نے ان سے سالن طلب کیا، ان کے پاس ایسی کوئی چیز نہ تھی، جسے وہ بطور سالن دیتیں، وہ جس برتن میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گھی بھیجا کرتی تھیں، اس میں انہوں نے تھوڑا سا گھی پایا، ایک عرصہ تک وہی گھی ان کے بیٹوں کے لیے سالن کا کام دیتا رہا۔ یہاں تک کہ ایک دفعہ انہوں نے اسے نچوڑ دیا۔ پھر اس نے آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا (کہ برتن کا گھی تو ختم ہوگیا)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو نے اسے نچوڑا تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو اسے ویسے ہی استعمال کرتی رہتی تو وہ تیرے لیے کبھی ختم نہ ہوتا۔
Takhreej
(۱۱۳۱۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۸۰(انظر: ۱۴۶۶۴)
Explanation
فوائد:… اس باب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے متعدد معجزات بیان ہوئے ہیں کہ آپ کی برکت سے کھانے کی معمولی مقدار میں اس قدر برکت ہوئی کہ وہ کھانا جو بظاہر تھوڑا ہوتا تھا، لیکن بہت بڑی تعداد کی ضرورت پوری کر جاتا۔ حدیث نمبر (۱۱۳۰۳)کے مطابق تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس برکت سے خود اتنا تعجب ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اپنی رسالت کی گواہی دی اور اس شہادت کی بنا پر جنت میں جانے کی خوشخبری بھی سنا دی۔
11316
Sahih

Chapters

217
01
تاریخ کی ابتداء اور اس بارے میں امیر المؤمنین سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی صحابہ کرام سے مشاورت کا بیان
2 Hadith
02
سیدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قبولِ اسلام کا بیان
1 Hadith
03
مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی تعمیر کابیان
1 Hadith
04
مہاجرین اور انصار کے مابین بھائی چارہ قائم کرنے کا بیان
11 Hadith
05
اہلِ مدینہ کی خواتین کی بیعت کا بیان
3 Hadith
06
اس امر کا بیان کہ مدینہ منورہ پہنچ کر مہاجرین بخار میں مبتلاہو گئے
3 Hadith
07
عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ولادت اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے شادی کا بیان
3 Hadith
08
اذان کی مشروعیت اور حضر کی نماز میں دو رکعت کے اضافے کا بیان
3 Hadith
09
یہود اور منافقینِ مدینہ کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عداوت ومخالفت کابیان
6 Hadith
10
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غزوات کی تعداد اور جنگ وقتال کے بعض آداب کا بیان
6 Hadith
11
غزوۂ عشیرہ کا بیان
1 Hadith
12
سر یہ عبداللہ بن جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ عہدِ اسلام میں بنائے جانے والے اولین امیرِ لشکرہیں
1 Hadith
13
ہجرت کے دوسرے سال میں تحویل کعبہ کا بیان
2 Hadith
14
ہجرت کے دوسرے سال ہی غزوۂ بدر سے قبل رمضان کے روزہ کی فرضیت کا بیان
1 Hadith
15
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحابہ کرام سے غزوۂ بدر کے بارے میں مشاورت
1 Hadith
16
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بسیسہ نامی شخص کو جاسوس بنا کر بھیجنا تاکہ وہ ابو سفیان کے قافلہ پر نظر رکھے اور بعدازاں قتال کی اجازت کا بیان
1 Hadith
17
واقعہ کی تفصیل اور دشمن کے خلاف قتال کی ترغیب
3 Hadith
18
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا غزوۂ بدر کے متعلق اہتمام، اللہ تعالیٰ سے طلبِ نصرت، اور آپ کا بنفس نفیس میدانِ جنگ میں اترنا اور مجاہدین کا آپ کے پیچھے ہو کر زخمی ہونے سے بچنے کی کوشش کرنا اور اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی نصرت فرمانے کا بیان
6 Hadith
19
اس امت کے فرعون ابوجہل ملعون کے قتل اور اس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خوشی کا بیان
4 Hadith
20
اس امر کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سردارانِ قریش کی موت سے پہلے ہی ان کے گرنے کی جگہوں کے متعلق بتلا دیا تھا، نیز ان کی لاشوں کو کنوئیں میں پھینکنے اور پھر ان کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے ان سے ہم کلام ہونے کا بیان
6 Hadith
21
اس امر کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوہ بدر سے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ امیہ بن خلف قتل ہو کر گرے گااور اس کی اطلاع اسے مل گئی تھی
1 Hadith
22
غزوۂ بدر کی تاریخ، اس غزوہ میں مہاجرین وانصار کی تعداد اور اس غزوہ سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
7 Hadith
23
سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سیّدہ فاطمۃ الزاہرا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے شادی کرنے کا بیان
3 Hadith
24
کعب بن اشرف یہودی کے قتل کا بیان
1 Hadith
25
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس خواب کا بیان جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوۂ احد سے قبل دیکھا تھا۔
3 Hadith
26
غزوۂ احد میں مقامِ جنگ، صفوں کی تنظیم وترتیب، قائدین کا تقرر، امام کی اطاعت کے وجوب اور اس کے امر کی مخالفت کی مذمت کا بیان
3 Hadith
27
غزوۂ احد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کے دانتوں کی شہادت، چہرہ انور کا زخمی ہونا، اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی حفاظت کرنا اور آپ کے ساتھ بد سلوکی کرنے والوں پر اللہ کی شدید ناراضی کا بیان
4 Hadith
28
جنگ، اس کے مقاتلین اور شہداء احد سے متعلقہ مختلف امور کابیان
6 Hadith
29
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیّدنا حمزہ بن عبدالمطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کا واقعہ اور ان کے قاتل اور قتل کے سبب کا بیان
1 Hadith
30
سریہ عاصم بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کا بیان
1 Hadith
31
سریہ بئر معونہ کابیان اور یہ وہی سریہ ہے، جس میں ستر افراد شہید ہو گئے تھے
2 Hadith
32
غزوۂ بنی نضیر اور بنو نضیر کو مدینہ منورہ سے جلا وطن کرنے کا بیان
2 Hadith
33
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اُمّ المؤمنین سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے شادی کا بیان
4 Hadith
34
غزوۂ بنی مصطلق یا غزوۂ مریسیع کا بیان
2 Hadith
35
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اُمّ المؤمنین سیّدہ جویرہ بنت حارث سے شادی کا بیان
1 Hadith
36
غزوۂ بنو مصطلق میں واقعۂ افک کی وجہ سے اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی ابتلاء وآزمائش کا بیان
9 Hadith
37
غزوۂ احزاب میں مجاہدین کی شجاعت اور اظہارِ قوت کا بیان بلکہ موت کے لیے تیار ہو کر ان کا لڑنا
6 Hadith
38
غزوۂ خندق( احزاب) کے موقع پر اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کی دعا کو قبول کرنے، کفار کی جماعتوں کو شکست دینے، ان کے تتر بتر ہو جانے اور ان کے ناکام ونامراد واپس لوٹ جانے کا بیان
1 Hadith
39
غزوۂ خندق اور غزوۂ بنی قریظہ کے بعض مشترکہ واقعات اور سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زخمی ہونے کا واقعہ
4 Hadith
40
غزوۂ بن قریظہ سے متعلقہ بعض مخصوص روایات کا بیان
3 Hadith
41
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اُمّ المؤمنین سیّدہ زینب بنت جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ شادی کرنے اور پردے والی آیت کے نازل ہونے کا بیان
5 Hadith
42
نجد کی جانب سیدنا محمد بن مسلمہ کی مہم، ثمامہ بن اثال کی گرفتاری اور اس کے قبولِ اسلام کا بیان
1 Hadith
43
عُسفان کے مقام پر بپا ہونے والے غزوۂ بنی لحیان کا بیان، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ خوف ادا کی تھی
2 Hadith
44
غزوۂ ذات الرقاع کا بیان، اس میں بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ خوف ادا کی
3 Hadith
45
عمرۂ حدیبیہ کا ذکر اور قریش کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کو مکہ مکرمہ میں داخلہ سے روکنے اورصلح ہونے کا بیان
3 Hadith
46
معاہدہ صلح حدیبیہ کی عبارت اور اس کی دفعات کا بیان
3 Hadith
47
بیعتِ رضوان کا بیان
13 Hadith
48
سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا واقعہ یہ دراصل گزشتہ دو ابواب کی تلخیص پر مشتمل ہے
1 Hadith
49
غزوۂ ذی قرد، جس کو غزوۂ غابہ بھی کہتے ہیں، کا بیان
2 Hadith
50
اس امر کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خیبر میں کس طرح داخل ہوئے؟ اور یہ کہ خیبر کو حملہ کر کے فتح کیا گیا تھا، نیز بنو قریظہ اور بنو نضیر کے رئیس حیی بن اخطب کی دختر سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شادی کا بیان
1 Hadith
51
یہود کے پہلوان مرحب یہودی کے قتل اور اس کے قاتل کا بیان اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ اور سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وَکَرَّمَ اللّٰہُ وَجْہَہٗکی منقبت کا بیان
6 Hadith
52
فتح خیبر کے بعد سیدنا حجاج بن علاط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مکہ مکرمہ جا کر کفار قریش سے حیلہ بازی کر کے اپنا مال حاصل کرنے کی کوشش کرنے کا بیان
1 Hadith
53
اس زہر آلود بکری کا واقعہ جو یہود نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں کھانے کے لیے بھیجی تھی اور اس موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا ظہور
2 Hadith
54
مدینہ منورہ میں باقی بچے ہوئے یہودیوں کی جلاوطنی اور فتح خیبر کے بعد بطور مصلحت کچھ عرصہ تک ان کو وہاں قیام کی اجازت دینے کا بیان
2 Hadith
55
خیبر کے اموال اور زمینوں کییہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کا بیان
3 Hadith
56
غزوۂ خیبر کی غنیمتوں کی تقسیم اور اس امر کا بیان کہ یہ غنیمتیں اہلِ حدیبیہ کے لیے مختص تھیں
2 Hadith
57
اس امر کا بیان کہ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی قوم کے ایک وفد کے ہمراہ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے مہاجرین حبشہ ساتھی ان دنوں تشریف لائے جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خیبر میں تشریف فرما تھے
3 Hadith
58
بنو فزارہ کی طرف سیدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سربراہی میں بھیجے گئے دستہ کا بیان
1 Hadith
59
کدید کے مقام پر بنو لموح کے ساتھ سیدنا غالب بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سریہ کا بیان
1 Hadith
60
عمرۂ قضاء اور اُمّ المؤمنین سیّدہ میمونہ بنت حارث کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شادی کا بیان
5 Hadith
61
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی خالہ اُمّ المؤمنین سیّدہ میمونہ بنت حارث سے شادی کا بیان
3 Hadith
62
سیدنا عمرو بن عاص اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے قبول اسلام کا بیان
1 Hadith
63
ارضِ فلسطین میں موتہ کے مقام پر سریہ زید بن حارثہ کا بیان، اسی غزوہ کو غزوۂ موتہ بھی کہتے ہیں، نیز سیدنا زید، سیدنا جعفر بن ابی طالب اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ کی شہادت کا بیان
3 Hadith
64
سریہ ذات السلاسل کا بیان
3 Hadith
65
سریہ سیف البحر کا بیان، اس کو سریۂ خبط بھی کہتے ہیں
1 Hadith
66
غزوۂ فتح مکہ کی تاریخ اور اہلِ مکہ کے نام حاطب بن ابی بلتعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مکتوب کا واقعہ
3 Hadith
67
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کرام کے مکہ مکرمہ میں داخلہ اور حصولِ فتح نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل مکہ کے ساتھ رحمت وشفقت اور عفوودرگزر کا بیان
6 Hadith
68
فتح مکہ کے دن سیّدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے باپ ابو قحافہ کے قبولِ اسلام کا بیان
1 Hadith
69
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بیت اللہ کے اندر جانے کے لیے چابی بردار عثمان بن طلحہ سے چابیاں طلب کرنے اور بیت اللہ کے اندر موجود بتوں کے ساتھ آپ کا سلوک اور بیت اللہ کو بتوں سے پاک کرنے کا بیان
3 Hadith
70
ان صحابہ کا بیان جنھوں نے یہ روایت کی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کعبہ کے اندر نماز ادا نہیں کی
8 Hadith
71
ان لوگوں کا بیان جو اس بات کے قائل ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز ادا کی تھی
7 Hadith
72
کعبہ کے ساتھ چمٹنے اور اس سے برکت حاصل کرنے کا بیان اور اس امر کا بیان کہ کعبہ کے اندر داخل ہونے والا آدمی کیا کچھ پڑھے اور کرے؟
3 Hadith
73
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا عبدالعزی بن خطل کے قتل کا حکم دینا، خواہ وہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہو اور دیگر چند اشخاص کو قتل کرنے کا حکم دینا
4 Hadith
74
فتح مکہ کے بعد مکہ پر چڑھائی کرنے کے حرام ہونے اور اس بارے میں رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطبہ کا بیان
7 Hadith
75
مکہ مکرمہ کے مردوں اور عورتوں کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیعت کرنے اور ان کے اپنی اولاد کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لانے کا بیان تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان پر اپنا ہاتھ مبارک پھیر دیں
5 Hadith
76
سریہ خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بمقابلہ بنو جزیمہ کا بیان
1 Hadith
77
غزوۂ حنین کے وقوع کی تاریخ اور سبب وغیرہ کا بیان
5 Hadith
78
لڑائی کی تدبیروں، ابتدائی طور پر مسلمانوں کی شکست کے سبب اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اکابر صحابہ اور آلِ بیت کی ثابت قدمی کا بیان
4 Hadith
79
غزوۂ حنین کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمانا کہ جس نے کسی کافر کو قتل کیا، اس سے حاصل ہونے والا مال اسی کو ملے گا ، سیدنا انس بن مالک ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی والدہ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے جو کچھ کہا اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زخمی ہونے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس کے بارے میں اہتمام کرنے کا بیان
3 Hadith
80
غزوۂ حنین میں جو مشرکین اوطاس کی طرف فرار ہو گئے تھے، ان کو گرفتار کرنے کے لیے ابو عامر اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مہم کا بیان
2 Hadith
81
اس امر کا بیان کہ غزوۂ طائف ان مشرکین کی وجہ سے پیش آیا جو غزوۂ حنین سے جان بچا کر بھاگ گئے تھے
5 Hadith
82
جعرانہ کے مقام پر حنین کی غنیمتوں کی تقسیم، بنو ہوازن کے وفد کی مسلمان ہو کر آمد اور ان کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے قیدیوں اور اموال کی واپسی کی درخواست کا بیان
5 Hadith
83
حنین کے قیدیوں کو لائے جانے اور ان کی قبولِ اسلام کی بیعت کا بیان اور اس صحابی کا واقعہ جس نے نذر مانی تھی کہ اگر وہ آدمی ہمارے پاس لا یا گیا جو آج سارا دن ہم پر زور دار حملے کرتا رہا تو میں اس کی گردن اڑاؤں گا
1 Hadith
84
عمرۂ جعرانہ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ کی طرف واپسی کا بیان
1 Hadith
85
حرقہ کی طرف سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مہم
2 Hadith
86
عدی بن حاتم طائی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آمد اور قبولِ اسلام
2 Hadith
87
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا غزوۂ تبوک کے لیے خصوصی اہتمام اور اس کے لیے سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے عطیہ کا بیان
4 Hadith
88
غزوۂ تبوک میں صحابہ کرام کو سواریوں کی قلت وغیرہ سے جو سامنا رہا اس کا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے صادر ہونے والے معجزات کا بیان
4 Hadith
89
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہرقل کے نام مکتوب اور اس کی طرف سے اس کے جواب کا بیان
2 Hadith
90
قیامِ تبوک کے دوران نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا صحابہ کرام کو فارس اورروم کی فتح کی بشارت دینے کا بیان اور ان خصوصیات کا بیان، جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو تبوک میں نوازا اور تبوک سے واپسی پر منافقین کی ریشہ دوانیوں کا بیان
3 Hadith
91
تبوک سے صحابہ کرام کی واپسی کا تذکرہ، یہ واپسی کئی امور پر مشتمل ہے
1 Hadith
92
ان حضرات کا تذکرہ جو عذر کی بنا پر غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے
5 Hadith
93
سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا واقعہ، جبکہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے، اور ان کی توبہ کی قبولیت کے بیان میں قرآن کریم نازل ہوا
2 Hadith
94
وفدِ ثقیف اور قبیلہ بنو سعد کے نمائندے سیدنا ضمام بن ثعلبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آمد کا بیان
2 Hadith
95
نیک مرد نجاشی کی وفات اور بدبخت شخص عبداللہ بن ابی کی ہلاکت کا بیان
5 Hadith
96
سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قیادت میں حج کی ادائیگی اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اہلِ مکہ کی طرف اعلانِ براء ت کے لیے روانہ کئے جانے کا بیان
3 Hadith
97
سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کییمن کی طرف مہم کا بیان
3 Hadith
98
سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کی طرف بھیجے جانے کا بیان
2 Hadith
99
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مدینہ منورہ آمد، ان کی بیعت اور قبولِ اسلام کا واقعہ
4 Hadith
100
ذوالخلصہ نامی بت خانہ کو منہدم کرنے کے لیے سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مہم کا بیان
1 Hadith
101
حجۃ الوداع کا بیان
2 Hadith
102
حجۃ الوداع میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض خطبات کا تذکرہ
3 Hadith
103
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کی طرف روانہ کئے جانے کا تذکرہ
1 Hadith
104
سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سربراہی میں ملک شام کی طرف لشکر کی تیاری
1 Hadith
105
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیماری کی ابتداء اور اس کی مدت کا بیان
2 Hadith
106
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیماری کے آغاز سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات تک کی تفصیل کے بارے میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی جامع حدیث
3 Hadith
107
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر کی طرف نقل مکانی تاکہ وہیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تیمار داری کی جائے نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا نماز کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ بنانا
10 Hadith
108
لوگوں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آخری خطبہ کا تذکرہ
4 Hadith
109
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بعض مخصوص صحابہ کرام کو بلوانے کا بیان تاکہ ان کے لیے کوئی تحریرلکھیں
5 Hadith
110
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی بات کی وصیت کر گئے تھے یا نہیں اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے بعد کسی کے حق میں خلافت کا فیصلہ کیا تھا یا نہیں؟
7 Hadith
111
اہل بیت کی طرف سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیماری کا اہتمام اور دواؤں اور دم کے ذریعے آپ کو شفایاب کرنے کی مساعی
7 Hadith
112
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیماری کے دوران پیش آنے والے بعض امور کا بیان
3 Hadith
113
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے امت کو آخری تاکید نماز کی تھی، نیز صحابہ کرام کا آپ کو آخری بار دیکھنے کا بیان اور اس امر کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موت شہادت کی موت تھی
6 Hadith
114
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا موت کے سکرات سے واسطہ پڑنا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیئے جانے اور آپ کے رفیق اعلیٰ کو منتخب کرنے کا بیان اور اس بات کا ذکر کہ یہ آخری الفاظ تھے جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے
15 Hadith
115
صحابہ کرام اور اہل بیت پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کا اثر، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی روح قبض ہونے پر ان کے دہشت زدہ ہونے، رونے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انتقال کے بعد سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بوسہ دینے کا بیان
7 Hadith
116
ان احادیث کا بیان، جن میں ان سب چیزوں کا ذکر ملتا ہے
1 Hadith
117
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غسل دینے کا بیان
2 Hadith
118
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تکفین کا بیان
5 Hadith
119
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز جنازہ کا بیان
2 Hadith
120
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دفن، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور بعداز وفات حالات کی تبدیلی کا بیان
9 Hadith
121
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے یومِ وفات کی تعیین اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدتِ عمر کا بیان
6 Hadith
122
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ترکہ اور میراث کا بیان
12 Hadith
123
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نسب کی فضیلت اور پاکیزگی کے بیان میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خطبہ
1 Hadith
124
کتاب اللہ اور سنتِ رسول پر عمل کی ترغیب اور تذکرۂ قیامت پر مشتمل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خطبۂ مبارکہ
1 Hadith
125
خطبۃ الحاجہ یعنی نکاح اور دیگر مواقع پر دئیے جانے والے خطبہ کے الفاظ وعبارات کا بیان
3 Hadith
126
آداب، مواعظ، اخلاق کے بارے میں نیز دنیا اور عورتوں سے تنبیہ پر مشتمل خطبۂ نبوی
2 Hadith
127
مال ودولت اور دنیا سے تحذیر کے بارے میں خطبہ
1 Hadith
128
قیامت، جنت اور جہنم کے تذکرہ پر مشتمل ایک خطبہ
1 Hadith
129
فتن کے تذکرے اور طاعتِ امیر سے متعلقہ ایک خطبہ
1 Hadith
130
حلال وحرام کے بیان، اہل جنت واہلِ جہنم کی صفات، اور بخل وکذب کے بیان پر مشتمل ایک خطبہ
1 Hadith
131
اس خطبہ کا بیان جو سارا دن جاری رہا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس خطبہ میں ماضی اور مستقبل کے سارے احوال بیان فرمائے
1 Hadith
132
اس خطبہ کا تذکرہ جس میں انصار کی شان اور فضیلت بیان ہوئی
2 Hadith
133
دس ذوالحجہ کو منیٰ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطبہ کا بیان،یہ خطبہ حج والے خطبہ سے الگ ہے
10 Hadith
134
ایامِ تشریق کے دوران آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطبہ کا تذکرہ
1 Hadith
135
عیدین کے ضمن میں بیان کردہ خطبہ کے علاوہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ایک اور خطبۂ عید
2 Hadith
136
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض فضائل کا بیان
7 Hadith
137
انبیاء میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مثال اور اس امر کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں
5 Hadith
138
آپ کے جسد اطہر، اعضاء کے تناسب و درستی اور آپ کے دیگر کمالات کا تذکرہ جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا
11 Hadith
139
آپ کے چہرۂ انور اورگیسوئوں کا بیان
12 Hadith
140
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بالوں کے سفید ہو جانے کا بیان
8 Hadith
141
آپ کے کندھوں کے درمیان مہر نبوت کا بیان
11 Hadith
142
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مسکراہٹ اور خوشبو کا بیان
6 Hadith
143
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چال کا بیان
3 Hadith
144
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عظیم اخلاق کا بیان
14 Hadith
145
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تواضع کا بیان
16 Hadith
146
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بردباری، معافی اور حیاء کا بیان
7 Hadith
147
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شفقت و رحمت، اللہ تعالیٰ پر توکل اور طہارت قلبی کا بیان
7 Hadith
148
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اللہ کی طرف سے دنیوی مال و دولت عطا کرنے کی پیش کش کی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے بے رغبتی کا اظہار کیا اور معمولی مال پر قناعت فرمائی
7 Hadith
149
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سخاوت کا بیان
11 Hadith
150
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شجاعت اور ایفائے عہد کابیان
6 Hadith
151
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خاموشی، گفتگو اور مزاح کا بیان
6 Hadith
152
اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہمیشہ جاہلیت کے عیوب اور بتوں کی عبادت سے محفوظ رکھا
2 Hadith
153
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خصوصیات کا تذکرہ
16 Hadith
154
اس امر کا بیان کہ آپ پر قرآن مجید نازل کرکے آپ کو خصوصی اعزاز سے نوازا گیا۔ اور یہ معجزہ علی الاطلاق تمام معجزات سے افضل ہے۔
2 Hadith
155
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ چاند کا پھٹنا، کا بیان
4 Hadith
156
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی برکت سے مریضوں کی شفایابی، اونٹ کے آپ کو شکایت کرنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کرنے کے لیے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کی بجا آوری کے لیے درخت کے اپنی جگہ سے ہٹ جانے کا تذکرہ
9 Hadith
157
اس امر کا بیان کہ جمادات اور حیوانات کا گفتگو کرنا اور کھجور کے تنے کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جدائی میں رونابھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزات میں سے ہے
4 Hadith
158
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جدائی میں غمگین ہونے پر کھجور کے تنے کا گریہ
5 Hadith
159
اس امر کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی برکت سے سرکش اور باغی جانور اور جمادات بھی فرماں بردار بن جاتے تھے
6 Hadith
160
اس امر کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزات میں سے ایک معجزہ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اونٹ والا بھی ہے، جو دوران سفر چلنے سے عاجز آکر راستے میں بیٹھ گیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اپنا قدم مبارک مارا تو وہ انتہائی پھرتیلا ہو گیا
1 Hadith
161
اس امر کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزات میں سے ایکیہ بھی ہے کہ شدید پیاس کے موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگشت ہائے مبارکہ سے پانی پھوٹنے لگا
8 Hadith
162
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی برکت سے کھانے میں اضافہ ہو جانا بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ ہے
16 Hadith
163
یہ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی برکت سے پانی میںاضافہ ہو گیا
5 Hadith
164
دو مشکیزوں والی خاتون کا واقعہ
1 Hadith
165
یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ تھا کہ تھنوں سے دودھ اتر آیا، حالانکہ اس سے پہلے ان میں دودھ نہیں تھا
3 Hadith
166
یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس زہر آلودہ بکری کے بارے میں بتلا دیا، جو ایکیہودی خاتون نے تحفہ کی صورت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پیش کی تھی
1 Hadith
167
یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی لاٹھی کسی صحابی کے لیے روشن ہو گئی،یہاں تک کہ وہ گھر پہنچ گیا
1 Hadith
168
یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک کنویں میں کلی کی اور اس سے کستوری کی طرح کی خوشبو پھوٹنے لگ گئی
2 Hadith
169
صحابۂ کرام کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ادب کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آثار سے تبرک حاصل کرنا
7 Hadith
170
صحابۂ کرام کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پینے کی جگہ اور وضو سے بچے سے پانی سے تبرک حاصل کرنا
3 Hadith
171
صحابۂ کرام کاآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مبارک ہاتھ اور انگلیوں کے اثر سے تبرک حاصل کرنا
6 Hadith
172
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل بیت کی معیشت کا بیان اس موضوع سے متعلقہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی احادیث
13 Hadith
173
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے علاوہ دوسرے صحابہ سے اس موضوع سے متعلقہ مروی احادیث
5 Hadith
174
نبی ٔ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پسندیدہ ماکولات کا بیان
11 Hadith
175
کھانے سے متعلقہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آداب کا بیان
7 Hadith
176
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نیند اور بستر کا تذکرہ
8 Hadith
177
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لباس اور زینت کا بیان
24 Hadith
178
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عبادات کا بیان
1 Hadith
179
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قیام اللیل اور وتر وغیرہ کا بیان
5 Hadith
180
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نفلی روزوں کا بیان
3 Hadith
181
حج نبوی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تذکرہ
2 Hadith
182
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اولاد،اہل بیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ازواج امہات المؤمنین کا تذکرہ سیدہ فاطمہ زہراء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
8 Hadith
183
سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی بیماری اور وفات کا تذکرہ
2 Hadith
184
دختر رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
185
دختران رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ رقیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اور سیدہ ام کلثوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
8 Hadith
186
اہل بیت اطہار کا ذکر خیر
16 Hadith
187
دوسری زوجۂ رسول ام المؤمنین سیدہ سودہ بنت زمعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
3 Hadith
188
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے عقد نکاح کی تاریخ، رخصتی کا بیان، اس وقت ان کی عمر اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں حاضری کا تذکرہ
3 Hadith
189
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ دل لگی اور ان کو خوش کرنے کا تذکرہ
9 Hadith
190
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں مقبولیت، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان سے محبت اور مباح کاموں میںآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنی اہلیہ کی خواہش کو پورا کرنے کا بیان
6 Hadith
191
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے محبت پر دیگر ازواج کی غیرت نیز سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے دیگر ازواج پر غلبہ کا بیان
5 Hadith
192
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ محبت، آپ کے بارے میں ان کی غیرت اور سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آپ کی حیات ِ مبارکہ میں جو جو عمل کیا کرتی تھیں، بعد میں بھی ان کی حفاظت کرنے کا بیان
2 Hadith
193
واقعۂ افک ،سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی آزمائش اور سات آسمانوں کے اوپر سے ان کی براء ت کا نزول
3 Hadith
194
امت کے لیے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی برکتوںمیں سے ایک برکت یہ بھی ہے کہ ان کی وجہ سے تیمم کی رخصت کا حکم نازل ہوا
2 Hadith
195
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی ذہانت و فہم کی شدت و کثرت اور اشعار، تاریخ، طب اور شہرۂ آفاق فقہ سے واقفیت کا بیان
2 Hadith
196
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے جبریل علیہ السلام کو دیکھنے، اُن کا اِن کوسلام کہنے اور ان کے دیگر فضائل کا بیان
5 Hadith
197
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے مرض الموت کا اور ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے ان کی تعریف و توصیف کا بیان
2 Hadith
198
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چوتھی زوجہ محترمہ ام المؤمنین سیدہ حفصہ بنت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا
4 Hadith
199
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چھٹی زوجہ ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا
1 Hadith
200
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ساتویں زوجہ ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا
3 Hadith
201
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نویں زوجہ ام المؤمنین سیدہ میمونہ بنت الحارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، یہ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خالہ تھیں
4 Hadith
202
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دسویں زوجہ ام المؤمنین سیدہ جویریہ بنت الحارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا
1 Hadith
203
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گیارہویں زوجۂ ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حیی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا
5 Hadith
204
سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فضائل اور اس کا بیان کہ وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں، نیز اس چیز کی وضاحت کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی وجہ سے ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے تین ماہ تک مقاطعہ کر لیا تھا
4 Hadith
205
ان خواتین کا تذکرہ جن سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نکاح کیا،یا جنہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ہبہ کر دیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ساتھ خلوت اختیار نہیں کییا وہ خواتین کہ جن سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نکاح کا وعدہ کیا
4 Hadith
206
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اپنی ازواج کے درمیان ہر چیز میں انصاف کرنے اور دن کے کسی حصہ میں سب کے ہاں چکر لگانے کا بیان
5 Hadith
207
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پیالہ توڑنے کے واقعہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عدل اور آپ کے اخلاق کا ظہور
3 Hadith
208
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی ازواج کے ساتھ نرمی اور ان کے امور کا اہتمام کرنے کا بیان
6 Hadith
209
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ آپ کی بعض ازواج کا حیلہ کرنے کا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان کی ایذائوں کو برداشت کرنے، ان سے درگزر کرنے اور گھر کے اندر انکساری کا رویہ اختیار کرنے کا بیان
3 Hadith
210
خادم رسول سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور دیگر خدام رسول کا تذکرہ
2 Hadith
211
سیدنا عبد اللہ بن مسعود اور ان کی ماں ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بھی خدام رسول میں سے تھے
1 Hadith
212
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض غلاموں کا تذکرہ
6 Hadith
213
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطوط اور کاتبین کا بیان اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: غیر مسلم حکمرانوں کے نام رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مکتوبات کا بیا ن
12 Hadith
214
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کاتبین کا تذکرہ ان میں سے عثمان بن عفان کا تذکرہ
1 Hadith
215
کاتبین میں سے ایک سیدنا علی بن ابو طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے
1 Hadith
216
کاتبین میں سے ایک سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے
1 Hadith
217
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جانورں، اونٹوں ، اونٹنیوں، گھوڑوں اور اسلحہ وغیرہ کا بیان
9 Hadith
No chapter matched that.