TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

تراشنے کی بہ نسبت بالوں کو مونڈنے کی فضیلت کا بیان

Chapter 30 of حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 30 of 40 · 11 Hadith
۔ (۴۵۲۹) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: حَلَقَ رِجَالٌ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ وَقَصَّرَ آخَرُوْنَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَرْحَمُ اللّٰہُ الْمُحَلِّقِیْنَ)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَالْمُقَصِّرِیْنَ؟ قَالَ: ((یَرْحَمُ اللّٰہُ الْمُحَلِّقِیْنَ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْ َل اللّٰہِ! وَالْمُقَصِّرِیْنَ؟ قَالَ: ((یَرْحَمُ اللّٰہُ الْمُحَلِّقِیْنَ)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَالْمُقَصِّرِیْنَ؟ قَالَ: ((وَالْمُقَصِّرِیْنَ۔)) قَالُوْا: فَمَا بَالُ الْمُحَلِّقِیْنَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ظَاھَرْتَ لَہُمْ الرَّحْمَۃَ؟ قَالَ: ((لَمْ یَشُکُّوْا۔)) قَالَ: فَانْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۳۳۱۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حدیبیہ والے دن کچھ لوگوں نے سر منڈوا دیا اور کچھ نے تقصیر کروائی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی مونڈنے والوں پر رحم کرے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور تقصیر کروانے والے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی مونڈنے والوں پر رحم کرے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور تقصیر کروانے والے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: اللہ تعالی مونڈنے والوں پر رحم کرے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور تقصیر کروانے والے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بار فرمایا: اور تقصیر کروانے والوں پر بھی اللہ رحم کرے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر منڈوانے والوں کے لیے رحمت کا بڑا اظہار کیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انھوں نے تو کوئی شک نہیں کیا۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلے گئے۔
Takhreej
(۴۵۲۹) تخریج: صحیح لغیرہ ۔أخرجہ ابن ماجہ: ۳۰۴۵ (انظر: ۳۳۱۱)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمانا کہ ’’سرمونڈنے والوں نے تو کوئی شک نہیں کیا۔‘‘اس کا مفہوم یہ ہے کہ انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیروی ہی کو اچھا سمجھا اور اس معاملے میں کوئی شک نہیں کیا، لیکن جن لوگوں نے تقصیر کروائی، ظاہری طور پر ایسے لگتا ہے کہ گویا ان کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فعل کے بارے میں کوئی شک ہوا ہے کہ انھوں نے تقصیر کروائی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فعل کو ترک کر دیا۔ واضح رہے کہ اس مقام پر صرف سر منڈوانے والوں کی فضیلت بیان کی جا رہی ہے کہ انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فعل کی اقتدا کی، جبکہ تقصیر کروانے والوں نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے دی گئی رخصت سے ہی فائدہ اٹھایا، جبکہ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ سرمنڈوانا افضل ہے، لیکن ظاہری طور پر انھوں نے اس افضیلت کے تقاضے پورے نہیں کیے۔
4529
Sahih
۔ (۴۵۳۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِیْنَ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: وَلِلْمُقَصِّرِیْنَ؟ فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِیْنَ۔)) فَقَالَ الرَّجُلُ: وَلِلْمُقَصِّرِیْنَ؟ فَقَالَ فِیْ الثَّالِثَۃِأَوِ الرَّاِبَعِۃ: ((وَلِلْمُقَصِّرِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۹)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ ایک آدمی نے کہا: اور تقصیر کرانے والوں کے لیے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ اس بندے نے کہا: اور تقصیر کرنے والوں کے لیے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیسری اور چوتھی بار کہا: اور تقصیر کرانے والوں کو بھی بخش دے۔
Takhreej
(۴۵۳۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4530
Sahih
۔ (۴۵۳۱) عَنْ أَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابَہٗحَلَّقُوْارُؤُوْسَہُمْعَامَالْحُدَیْبِیَۃِ غَیْرَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَأَبِی قَتَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، فَاسْتَغْفَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلْمُحَلِّقِیْنَ ثَلَاثَ مِرَارٍ وَلِلْمُقَصِّرِیْنَ مَرَّۃً۔ (مسند احمد: ۱۱۸۶۹)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ والے سال سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے علاوہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ نے اپنے سروں کو منڈوایا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر منڈوانے والوں کے لیے تین دفعہ اور تقصیر کروانے والوں کے لیے ایک دفعہ بخشش کی دعا کی۔
Takhreej
(۴۵۳۱) تخریج: حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف أخرجہ ابویعلی: ۱۲۶۳، والطیالسی: ۲۲۲۴، والطحاوی فی ’’شرح مشکل الآثار‘‘: ۱۳۶۹(انظر: ۱۱۸۴۷)
4531
Sahih
۔ (۴۵۳۲) عَنْ یَحْیَی بْنِ الْحُصَیْنِ قَالَ: سَمِعْتُ جَدَّتِیْ تُحَدِّثُ أَنَّہَا سَمِعَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمِنًی، دَعَا لِلْمُحَلِّقِیْنَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقِیْلَ لَہُ: وَالْمُقَصِّرِیْنَ؟ فَقَالَ فِیْ الثَّالِثَۃِ: ((وَالْمُقَصِّرِیْنَ)) (مسند احمد: ۲۷۸۱۰)
۔ یحییٰ بن حصین کہتے ہیں: میں نے اپنی دادی(سیدہ ام حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) سے سنا کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو منی میں سر منڈوانے والوں کے لیے تین بار دعا کرتے ہوئے سنا۔ کسی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اور تقصیر کرانے والے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیسری بار فرمایا: اور تقصیر کرانے والوں کو بھی اللہ بخش دے۔
Takhreej
(۴۵۳۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۳۰۳(انظر: ۲۷۲۶۷)
4532
Sahih
۔ (۴۵۳۳)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ جَدَّتِیْ تَقُوْلُ سَمِعْتُ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَرَفَاتٍ یَخْطُبُیَقُوْلُ: ((غَفَرَاللّٰہُ لِلْمُحَلِّقِیْنَ۔)) ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالُوْا: وَالْمُقَصِّرِیْنَ؟ فَقَالَ: ((وَالْمُقَصِّرِیْنَ۔)) فِی الرَّابِعَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۰۶)
۔ ان کی دادی کہتی ہیں: میں نے عرفات میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خطبے میں تین مرتبہ یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: اللہ تعالی سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ لوگوں نے کہا: اور تقصیر کرانے والے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چوتھی بار فرمایا: اور تقصیر کرانے والوں کو بھی بخش دے۔
Takhreej
(۴۵۳۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4533
Sahih
۔ (۴۵۳۴)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) عَنْ جَدَّتِہِ قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقُوْلُ: ((یَرْحَمُ اللّٰہُ الْمُحَلِّقِیْنَ،یَرْحَمُ اللّٰہُ الْمُحَلِّقِیْنَ۔)) قَالُوْا فِیْ الثَّالِثَۃِ: وَالْمُقَصِّرِیْنَ؟ قَالَ: ((وَالْمُقَصِّرِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۸۰۳)
۔ ان کی دادی کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالی سر منڈوانے والوں پر رحم کرے، اللہ تعالی سر منڈوانے والوں پر رحم کرے۔ لوگوں نے تیسری مرتبہ کہا: اور تقصیر کرانے والے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور تقصیر کرانے والوں پر بھی رحم کرے۔
Takhreej
(۴۵۳۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4534
Sahih
۔ (۴۵۳۵) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَرْحَمُ اللّٰہُ اْلُمْحَلِّقِیْنَ)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَالْمُقَصِّرِیْنَ؟ قَالَ: ((رَحِمَ اللّٰہُ الْمُحَلِّقِیْنَ۔)) قَالَ فِیْ الرَّابِعَۃِ: ((وَالْمُقَصِّرِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۴۶۵۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی سر منڈوانے والوں پر رحم کرے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور تقصیر کرانے والے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی سر منڈوانے والوں پر رحم کرے۔ بالآخر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چوتھی بار فرمایا: اور تقصیر کرانے والوں پر بھی اللہ تعالی رحم فرمائے۔
Takhreej
(۴۵۳۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۲۷، ومسلم: ۱۳۰۱(انظر: ۴۶۵۷)
4535
Sahih
۔ (۴۵۳۶) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِلْمُحَلِّقِیْنَ)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَالْمُقَصِّرِیْنَ؟ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِیْنَ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَالْمُقَصِّرِیْنَ؟ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِیْنَ۔)) قَالُوْا: وَالْمُقَصِّرِیْنَ؟ قَالَ: ((وَالْمُقَصِّرِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۷۱۵۸)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور تقصیر کرانے والے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور تقصیر کرانے والے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ لوگوں نے کہا: اور تقصیر کرانے والے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور تقصیر کرانے والوں کو بھی بخش دے۔
Takhreej
(۴۵۳۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۲۸، ومسلم: ۱۳۰۲(انظر: ۷۱۵۸)
4536
Sahih
۔ (۴۵۳۷) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ عَنْ أَبِیْہِ مَالِکِ بْنِ رَبِیْعَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقُوْلُ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِیْنَ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِیْنَ۔)) قَالَ: یَقُوْلُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَالْمُقَصِّرِیْنَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ الثَّالِثَۃِ أَوْ فِی الرَّابِعَۃِ: ((وَالْمُقَصِّرِیْنَ)) ثُمَّ قَالَ: وَأَنَا یَوْمَئِذٍ مَحْلُوْقُ الرَّأْسِ، فَمَا یَسُرُّنِیْ بِحَلْقِ رَأْسِی حُمْرُ النَّعَمِ أَوْ خَطَرًا عَظِیْمًا۔ (مسند احمد: ۱۷۷۴۱)
۔ سیدنا مالک بن ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے، اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ قوم میں سے ایک بندے نے کہا: اور تقصیر کرانے والے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیسرییا چوتھی بار فرمایا: اور تقصیر کرانے والوں کو بھی بخش دے۔ میں (مالک) نے اس دن اپنا سر مونڈا ہوا تھا اور مجھے اس وجہ سے اتنی خوشی ہوئی کہ سرخ اونٹوں کے ملنے یا کوئی بڑا حصہ ملنے کی وجہ سے اتنی خوشی نہیں ہو سکتی تھی۔
Takhreej
(۴۵۳۷) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۹/ ۶۰۴، وفی ’’الاوسط‘‘: ۲۹۳۵، وابن ابی شیبۃ: ص ۲۱۷ فی الجزء الذی نشرہ العمروی (انظر: ۱۷۵۹۸)
4537
Sahih
۔ (۴۵۳۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ وَابْنُ أَبِی بُکَیْرٍ قَالَا: ثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ حَبَشِیِّ بْنِ جُنَادَۃَ قَالَ یَحْیَی: وَکَانَ مِمَّنْ شَہِدَ حَجَّۃَ الْوَدَاعِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِیْنَ)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَالْمُقَصِّرِیْنَ؟ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِیْنَ)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَالْمُقَصِّرِیْنَ؟ قَالَ فِیْ الثَّالِثَۃِ: ((وَالْمُقَصِّرِیْنَ)) (مسند احمد: ۱۷۶۴۸)
۔ سیدنا حبشی بن جنادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ حجۃ الوداع کے موقع پر موجود تھے، سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور تقصیر کرانے والے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور تقصیر کرانے والے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیسری مرتبہ فرمایا: اور تقصیر کرانے والوں کو بھی بخش دے۔
Takhreej
(۴۵۳۸) صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۳۵۰۹، والطبرانی: ۳۵۱۰(انظر: ۱۷۵۰۷)
4538
Sahih
۔ (۴۵۳۹) عَنِ ابْنِ قَارِبٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ:((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِیْنَ۔)) قَالَ رَجُلٌ: وَالْمُقَصِّرِیْنَ؟ قَالَ فِیْ الرَّابِعَۃِ: ((وَالْمُقَصِّرِیْنَ۔)) یُقَلِّلُہُ سُفْیَانُ بِیَدِہِ، قَالَ سُفْیَانُ: وَقَالَ فِی تِیکَ کَأَنَّہُ یُوَسِّعَیَدَہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۴۴)
۔ سیدنا قارب بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ ایک آدمی نے کہا: اور تقصیر کرانے والے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چوتھی مرتبہ فرمایا: اور تقصیر کرانے والے کو بھی بخش دے۔ سفیان اپنے ہاتھ کے ساتھ کمی اور قلت کی طرف اشارہ کر رہے تھے، لیکن جب (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سر منڈوانے والوں کی بات کر رہے تھے) تو وہ اپنے ہاتھ سے وسعت کا اشارہ کر رہے تھے۔
Takhreej
(۴۵۳۹) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ البزار: ۱۱۳۵، والحمیدی فی ’’مسندہ‘‘: ۹۳۱(انظر: ۲۷۲۰۲)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا کے الفاظ اور ان کی مقدار تو ہمارے سامنے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر منڈوانے والوں کے لیے دو تین مرتبہ اور تقصیر کرانے والوں کے لیے ایک مرتبہ دعا کی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انداز سے معلوم ہو رہا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اول الذکر لوگوں کے لیے بڑی رغبت کے ساتھ اور وسعت ِ قلبی سے دعا کر رہے تھے، لیکن مؤخر الذکر افراد کے لیے سادہ سے الفاظ میں دعائیہ کلمات کہہ دیئے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ عَلَی النِّسَائِ الْحَلْقُ، اِنَّمَا عَلَی النِّسَائِ التَّقْصِیْرُ۔)) … ’’عورتوں پر سر کا مونڈنا نہیں ہے، بلکہ عورتوں پر صرف تقصیر ہے۔‘‘ (ابوداود: ۱۹۸۵) عام اہل علم کا خیال ہے کہ عورتوں کو انگلیوں کے اوپر والے پوروں کے برابر بال ترشوا لینے چاہئیں۔
4539
Sahih

Chapters

40
01
حج افراد کرنے والے کا طواف
3 Hadith
02
حج قران کرنے والے کا طواف
4 Hadith
03
حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان،یعنی وہ آدمی جو شروع میں صرف عمرے کا احرام باندھتا ہے
2 Hadith
04
اہل مکہ کے طواف اور طواف سے متعلقہ احکام و مسائل اور دورانِ طواف کلام کرنے کا بیان
3 Hadith
05
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
5 Hadith
06
طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
5 Hadith
07
صفا مروہ کی سعی
3 Hadith
08
صفا مروہ کی سعی میں صفا سے ابتدا کرنے اور اس میں چلنے یا رمل کرنے کا بیان
6 Hadith
09
کسی حاجت کے پیش نظر سوار ہو کر صفا مروہ کی سعی کرنے کا بیان
2 Hadith
10
صفااور مروہ کے اوپر وقوف کرنے اور اس دوران اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا بیان
3 Hadith
11
حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو
6 Hadith
12
حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
19 Hadith
13
اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
6 Hadith
14
منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان
2 Hadith
15
عرفہ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنے کا بیان
3 Hadith
16
وقوفِ عرفہ کے واجب ہونے اور اس کے وقت اور عرفہ کے سارے مقام کا جائے وقوف ہونے کا بیان
7 Hadith
17
عرفہ میں سواری پر وقوف کرنے اور وہاں خطبہ دینے اور دعاکرنے کا بیان
7 Hadith
18
عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
9 Hadith
19
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
3 Hadith
20
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
9 Hadith
21
مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
8 Hadith
22
مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
4 Hadith
23
اس امر کا بیان کہ کمزور اور ضعیف خواتین کو رش سے پہلے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کیا جاسکتا ہے
8 Hadith
24
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
4 Hadith
25
یوم نحریعنی دس ذوالحجہ کوجمرۂ عقبہ کی رمی کے وقت کا بیان
7 Hadith
26
وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان
5 Hadith
27
جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر جانے اور باقی دنوں میں پیدل چل کر جانے کے مستحب ہونے کا بیان
6 Hadith
28
جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد حاجی کے حلال ہو جانے اور اس کے بعد دوسرے افعال کا بیان
4 Hadith
29
قربانی کرنا اور بال منڈوانا یا کترنا
7 Hadith
30
تراشنے کی بہ نسبت بالوں کو مونڈنے کی فضیلت کا بیان
11 Hadith
31
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان
6 Hadith
32
دس ذوالحجہ کو قربانی، حجامت، رمی اور طواف افاضہ میں تقدیم و تاخیر کے جائز ہو نے کا بیان
6 Hadith
33
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منیٰ میں خطبہ کا بیان
6 Hadith
34
منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
5 Hadith
35
اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اور ضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے
3 Hadith
36
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
3 Hadith
37
ایام تشریق کے وسط میں خطبہ دینے کا بیان
3 Hadith
38
منیٰ سے واپسی پر وادیٔ محصّب میں ٹھہرنے کا بیان
8 Hadith
39
مکہ مکرمہ سے ہجرت کر جانے والا آدمی مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد کتنا عرصہ وہاں قیام کرسکتا ہے؟
1 Hadith
40
طوافِ وداع کی مشروعیت اور حائضہ سے اس کے ساقط ہونے اورملتزم کے پاس دعا کرنے کا بیان طوافِ وِداع: …وہ طواف جو حج سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔
5 Hadith
No chapter matched that.