TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان - خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان - Book 90 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 90 of Musnad Ahmad, with 48 chapters and 288 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

288 Hadith · 48 Chapters
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
۔ (۵۷۴۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَاعِیًا فَاسْتَأْذَنْتُہُ أَنْ نَأْکُلَ مِنَ الصَّدَقَۃِ فَأَذِنَ لَنَا۔ (مسند احمد: ۱۷۴۴۲)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے صدقہ وخیرات کی وصولی پر مامور فرمایا، جب میں نے (اس خدمت کے دوران) زکوۃ کے مال سے کھانے کی اجازت طلب کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اجازت دے دی۔
Takhreej
(۵۷۴۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الراوی الذی سمع عقبۃ بن عامر (انظر: ۱۷۳۰۹)
5740
Zaeef
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
۔ (۵۷۴۱)۔ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ وَلِیَ لَنَا عَمَلًا وَلَیْسَ لَہُ مَنْزِلٌ فَلْیَتَّخِذْ مَنْزِلًا، أَوْ لَیْسَتْ لَہُ زَوْجَۃٌ فَلْیَتَزَوَّجْ، أوْ لَیْسَ لَہْ خَادِمٌ فَلْیَتَّخِذْ خَادِمًا، أَوْ لَیْسَ لَہُ دَابَّۃٌ فَلْیَتَّخِذْ دَابَّۃً، وَمَنْ أَصَابَ شَیْئًا سِوٰی ذٰلِکَ فَھُوَ غَالٌّ أَوْسَارِقٌ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۸۰)
۔ سیدنا مستورد بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جوہمارے کام کا ذمہ دار ٹھہرے اور اگر اس کاگھر نہ ہو تو وہ گھر بنالے، اگر اس کی بیوی نہ ہو تو وہ شادی کر لے، اگر اس کا خادم نہ ہوتو خادم خرید لے اور اگر اس کی سواری نہ ہوتو سواری بھی لے لے، لیکن اگر وہ اس کے علاوہ کوئی اور چیزلے گاتو وہ خائن اور چور قرار پائے گا۔
Takhreej
(۵۷۴۱) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۲۹۴۵(انظر: ۱۸۰۱۷)
Explanation
فوائد:…اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو آدمی مسلمانوں کی مصالح سے متعلقہ امور میں مصروف ہو، وہ ان کے مالوں میں سے اپنی ضروریات پوری کر سکتا ہے، جیسے بیوی، خادم، گھر یا سواری وغیرہ، لیکن اس ضمن میں حکومتییا پرائیویٹ ادارے کی طرف سے دی گئی رخصت کے مطابق یہ سہولتیں حاصل کی جائیں گی، جیسا کہ اگلی حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے، وگرنہ وہ ملازم خائن اور دھوکے باز ٹھہرے گا۔
5741
Sahih
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
۔ (۵۷۴۲)۔ عَنْ عَدِیِّ بْنِ عَمِیْرَۃَ الْکِنْدِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَاأَیُّھَا النَّاسُ مَنْ عَمِلَ مِنْکُمْ لَنَا عَلٰی عَمَلٍ فَکَتَمَنَا مِنْہُ مِخْیَطًا فَمَا فَوْقَہُ فَہُوْ غُلٌّ یَأْتِیْ بِہٖیَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَسْوَدُ، (قَالَ مُجَالِدٌ: ھُوَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ) کَأَنِّیْ أَنْظُرُ اِلَیْہِ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِقْبَلْ عَنِّیْ عَمَلَکَ (وَفِیْ لَفْظٍ: لَا حَاجَۃَ لِیْ فِیْ عَمَلِکَ) فقَالَ: ((وَمَا ذَاکَ؟)) قَالَ: سَمِعْتُکَ تَقُوْلُ کَذَا وَکَذَا، قَالَ: ((وَأَنَا أَقُوْلُ ذٰلِکَ الْآنَ، مَنِ اسْتَعْمَلْنَاہُ عَلَی عَمَلٍ فَلْیَجِیئْ بِقَلِیْلِہِ وَکَثِیْرِہِ، فَمَا أُوْتِیَ مِنْہُ أَخَذَ وَمَا نُہِیَ عَنْہُ اِنْتَہٰی۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۶۹)
۔ سیدنا عدی بن عمیرہ کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! تم میں سے جو آدمی ہمارے کام پہ مامور ہو اور وہ ایک سوئییا اس سے زیادہ کوئی چیز چھپائے گا تو وہ خیانت کرے گا اور روزِ قیامت اس کو اپنے ساتھ لائے گا۔ ایک سیاہ رنگ والا آدمی کھڑا ہوا، اس کا نا م سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھا، راوی کہتا ہے کہ گویا کہ وہ مجھے اب بھی اسی طرح نظر آرہاہے، اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھ سے یہ عہدہ واپس لے لیں، مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی کیا وجہ ہے؟ اس نے کہا: میں نے آپ کو اس کے بارے میں اس طرح کی سخت باتیں کرتے ہوئے سنا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ تو میں اب بھی کہتاہوںکہ جس کسی کو بھی ہم کوئی ذمہ داری سونپیں تو وہ ہر چیز ہمارے سامنے پیش کر دے، وہ تھوڑی ہو یا زیادہ، پھر اس کو جو کچھ دے دیا جائے، وہ لے لے اور جس چیز سے روک دیا جائے، اس سے باز آ جائے۔
Takhreej
(۵۷۴۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ مسلم: ۱۸۳۳ (انظر: ۱۷۷۱۷)
Explanation
فوائد:…ارشادِباری تعالی ہے: {وَمَنْ یَّغْلُلْیَاْتِ بِمَاغَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ} … ’’جوخیانت کرے گا،وہ روزِ قیامت اس چیز کے ساتھ آئے گا، جو اس نے خیانت کی ہو گی۔‘‘ (سورۂ آل عمران: ۱۴۱) معلوم ہوا کہ کوئی ملازم اور ساعی حکمران کی اجازت کے بغیر قومی اثاثے میں تصرف نہیں کر سکتا۔
5742
Sahih
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
۔ (۵۷۴۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: جَائَ حَمْزَۃُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِجْعَلْنِیْ عَلٰی شَیْئٍ أَعِیْشُ بِہٖ،فَقَالَرَسُوْلُاللّـہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا حَمْزَۃُ! نَفْسٌ تُحْیِیْہَا أَحَبُّ اِلَیْکَ أَمْ نَفْسٌ تُمِیْتُہَا؟)) قَالَ: بَلْ نَفْسٌ أُحْیِیْہَا قَالَ: ((عَلَیْکَ بِنَفْسِکَ۔)) (مسند احمد: ۶۶۳۹)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر و ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تشر یف لائے اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی ذمہ داری سونپ دو کہ اس کے ذریعے میری گزران ہو سکے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حمزہ! کسی نفس کو زندہ کرنا آپ کو پسند ہے یا مارنا؟ انھوں نے کہا: جی کسی نفس کو زندہ کرنا، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنے نفس کا خیال کر۔
Takhreej
(۵۷۴۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ وحیی بن عبد اللہ المعافری (انظر: ۶۶۳۹)
Explanation
فوائد:…سیدنا حمزہ b، نبی کریمaکی خدمت میں اس لئے حاضر ہوئے تھے کہ آپ ان کو زکوۃ کی وصولی پر مقر ر کریں تاکہ اس کے عوض ان کو جو اجرت ملے گی، اس سے ان کی معیشت کوسہارا مل جائے گا، مگر سیدنا حمزہ b بنو ہاشم میں سے تھے اور بنو ہاشم اور بنو مطلب کے لیے صدقہ اور زکوۃ حرام تھا، اس لیے آپ a نے ان کو یہ بات سمجھانے کے لیے تمہید کے طور نفس کے زندہ کرنے یا اس کو مارنے کی بات کی، کیونکہ اگر سیدہ حمزہ کو زکوۃ کا عامل مقرر کر دیا جاتا تو گویا اس میں ان کے نفس کی موت تھی، کیونکہ حرام رزق کی وجہ سے کئی محرومیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بلکہ سرے سے عبادات ہی قبول نہیں ہوتیں۔
5743
Zaeef
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۷۴۴)۔ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ ھُبَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ قَالَ: ((خَیْرُ مَالِ الْمَرْئِ لَہٗمُہْرَۃٌ مَأْمُوْرَۃٌ أَوْ سِکَّۃٌ مَأْبُوْرَۃٌ)) (مسند احمد: ۱۵۹۳۹)
۔ سیدنا سوید بن ہبیرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی کا بہترین مال گھوڑی کا کثیر النسل بچہ ہے یا کھجوروں کی قطار ہے، جن کی پیوند کاری کی گئی ہو۔
Takhreej
(۵۷۴۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، ایاس بن زھیر من رجال التعجیل، لم یذکروا فی الرواۃ عنہ غیر مسلم بن بدیل ھذا، ولم یؤثر توثیقہ عن غیر ابن حبان، ثم انہ مرسل ۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۶۴۷۱، والبیھقی: ۱۰/ ۶۴، والبخاری فی ’’التاریخ الکبیر‘‘: ۱/ ۴۳۹ (انظر: ۱۵۸۴۵)
Explanation
فوائد:…کثیر النسل جانوروں اور زراعت میں گھروں کی خیر و برکت کے خزانے پوشیدہ ہیں، ایک آدمی نے تقریباً بیس کے قریب بھیڑ بکریاں پال رکھی تھیں، جب ہم نے اس کی گزر بسر کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا کہ اس کے بیوی بچوں کا انحصار صرف ان بھیڑ بکریوں پر ہے، خوشی غمی کی صورت میں جب بھی کسی بڑے خرچ کی ضرورت پڑتی ہے تو ایک دو جانور بیچ کر گزارا کر لیتے ہیں اور روٹین کی زندگی تو دو تین مہینوں کے بعد دو تین بچے فروخت کر دینے سے گزرتی رہتی ہے، جبکہ وہ آدمی انتہائی خوشحال نظر آ رہا تھا۔
5744
Zaeef
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۷۴۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَزْرَعُ زَرْعًا أَوْ یَغْرِسُ غَرْسًا فَیَاْکُلُ مِنْہُ طَیْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَہِیْمَۃٌ اِلَّا کَانَ لَہُ بِہِ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۲۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بھی مسلمان جب کھیتی کاشت کرتاہے یاپودالگاتاہے اور اس سے پر ندے، انسان اور حیوان کھاتے ہیں تو یہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔
Takhreej
(۵۷۴۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، ایاس بن زھیر من رجال التعجیل، لم یذکروا فی الرواۃ عنہ غیر مسلم بن بدیل ھذا، ولم یؤثر توثیقہ عن غیر ابن حبان، ثم انہ مرسل ۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۶۴۷۱، والبیھقی: ۱۰/ ۶۴، والبخاری فی ’’التاریخ الکبیر‘‘: ۱/ ۴۳۹ (انظر: ۱۵۸۴۵)
5745
Sahih
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۷۴۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: حَدَّثَنِیْ أُمُّ مُبَشِّرٍ اِمْرَأَۃُ زَیْدِ بْنِ حَارَثَۃَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَائِطٍ فقَالَ: ((لَکِ ھٰذَا؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ فقَالَ: ((مَنْ غَرَسَہُ، مُسْلِمٌ أَوْ کَافِرٌ؟)) قُلْتُ: مُسْلِمٌ، قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَزْرَعُ أَوْ یَغْرِسُ غَرْسًا فَیَاْکُلُ مِنْہُ طَائِرٌ أَوْ اِنْسَانٌ أَوْ سَبُعٌ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: أَوْ دَابَّۃٌ) أَوْ شَیْئٌ اِلَّا کَانَ لَہُ صَدَقَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۰۵)
۔ سیدہ ام مبشر، جو کہ سیدنا زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی تھیں، سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میں ایک باغ میں تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیایہ باغ تمہارا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو کس نے لگایا تھا، مسلمان نے یا کافر نے؟ میں نے کہا: مسلمان نے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان جو کھیتی کاشت کرتا ہے یا کوئی پودا گاڑھتا ہے اور پھر جو پرندہ، انسان، درندہ، چوپایہ اور کوئی بھی چیز اس سے کچھ کھاتی ہے، تو اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔
Takhreej
(۵۷۴۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم ۔ أخرج نحوہ مسلم: ۱۵۵۲ (انظر: ۲۷۳۶۱)
5746
Sahih
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۷۴۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: حَدَّثَنِیْ أُمُّ مُبَشِّرٍ اِمْرَأَۃُ زَیْدِ بْنِ حَارَثَۃَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَائِطٍ فقَالَ: ((لَکِ ھٰذَا؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ فقَالَ: ((مَنْ غَرَسَہُ، مُسْلِمٌ أَوْ کَافِرٌ؟)) قُلْتُ: مُسْلِمٌ، قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَزْرَعُ أَوْ یَغْرِسُ غَرْسًا فَیَاْکُلُ مِنْہُ طَائِرٌ أَوْ اِنْسَانٌ أَوْ سَبُعٌ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: أَوْ دَابَّۃٌ) أَوْ شَیْئٌ اِلَّا کَانَ لَہُ صَدَقَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۰۵)
۔ ایک صحابی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے کانوں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص درخت لگاتا ہے اور صبر کے ساتھ اس کی نگرانی اور دیکھ بھال کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ پھل دینے لگتا ہے، تو پھر اس درخت کے پھل سے جو چیز کھائی جائے گی، وہ اللہ تعالی کے ہاں اس آدمی کے لیے صدقہ ہو گی۔
Takhreej
(۵۷۴۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم ۔ أخرج نحوہ مسلم: ۱۵۵۲ (انظر: ۲۷۳۶۱)
5747
Zaeef
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۷۴۸)۔ عَنْ اَبِیْ أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَا مِنْ رَجُلٍ یَغْرِسُ غَرْسًا اِلاَّ کَتَبَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ مِنَ الْأَجْرِ قَدْرَ مَا یَخْرُجُ مِنْ ثَمَرِ ذٰلِکَ الْغَرْسِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۱۷)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جوآدمی درخت لگاتاہے تو اس سے جو پھل نکلتا ہے، اللہ تعالی اس کے بقدر اس کو اجر عطا کرتا ہے۔
Takhreej
(۵۷۴۸) اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ بن عبد العزیز اللیثی۔أخرجہ الطبرانی : ۳۹۶۸ (انظر: ۲۳۵۲۰)
5748
Zaeef
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۷۴۹)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِہِ وَھُوَیَغْرِسُ غَرْسًا بِدِمَشْقَ فَقَالَ لَہُ: أَتَفْعَلُ ھٰذَا وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَ: لَاتَعْجَلْ عَلَیَّ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ غَرَسَ غَرْسًا لَمْ یَاْکُلْ مِنْہُ آدَمِیٌّ وَلَا خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اِلَّا کَانَ لَہُ صَدَقَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۵۵)
۔ سیدنا ابودردا ء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں دمشق میں پودے لگارہاتھا، میرے پاس سے ایک آدمی کا گزر ہوا، اس نے مجھ سے کہا: اے ابو درداء! آپ صحابی ہوکر یہ کام کرتے ہیں؟ میں نے کہا: مجھ پر اعتراض کرنے میںجلد بازی مت کرو، میں نے رسو ل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جوانسان پودا لگاتاہے پھر اس میں سے جو آدمی، بلکہ اللہ تعالی کی کوئی مخلوق جو کچھ کھاتی ہے، اس کے لیے وہ صدقہ ہوتا ہے۔
Takhreej
(۵۷۴۹) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۷۵۰۶)
Explanation
فوائد:… اعتراض کی وجہ یہ تھی کہ اس آدمی نے دنیا اور اس کی آبادی کی مذمت والی نصوص ذہن نشین کی ہوئی تھیں، ان کی روشنی میں اس نے سیدنا ابو درداء b پر اعتراض کیا کہ صحابی ٔ رسول کو زیب نہیں دیتا کہ وہ دنیوی امور کی طرف متوجہ ہوں، آگے سے انھوں نے اپنی حسنِ نیت کے ذریعے اس کا جواب دیا۔
5749
Sahih
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۷۵۰)۔ عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ زَرَعَ زَرْعًا فَأَکَلَ مِنْہُ الطَّیْرُ أَوِ الْعَافِیَۃُ کَانَ لَہُ بِہِ صَدَقَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۷۴)
۔ خلادبن سائب اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسو ل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کھیتی کاشت کرتاہے، پھر اس سے پرندے یا کوئی بھی رزق کا طلبگار اس سے کھاتا ہے تو یہ اس کے لئے صدقہ کا باعث ہے۔
Takhreej
(۵۷۵۰) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۴۱۳۴(انظر: ۱۶۵۵۸)
Explanation
فوائد:…’’اَلْعَافِیۃ‘‘ کا اطلاق ہر اس جاندار پر ہوتا ہے، جو رزق طلب کرنے والا ہو، وہ انسان ہو، یا جانور، یا پرندہ، نیز ا س لفظ کا اطلاق جماعت پر بھی ہوتا ہے۔
5750
Sahih
بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
۔ (۵۷۵۰)۔ عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ زَرَعَ زَرْعًا فَأَکَلَ مِنْہُ الطَّیْرُ أَوِ الْعَافِیَۃُ کَانَ لَہُ بِہِ صَدَقَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۷۴)
۔ سیدنا ام ہانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اے ام ہانی! بکر یاں پالو، کیونکہیہ شام کو خیر کے ساتھ آتی ہیں اور صبح کو خیر کے ساتھ جاتی ہیں۔
Takhreej
(۵۷۵۱) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۲۹۵ (انظر: ۲۶۹۰۲)
Explanation
فوائد:… بکریاں عجیب قسم کی خیر و برکت پر مشتمل ہیں، آپ a نے ان کو جنتی جانور قرار دیاہے، ان کے ہاں سال میں دو بار پیدائش کا سلسلہ ہوتا ہے، دو دو تین تین بچے جنم دیتی ہیں، ان کے مزاج میں عاجزی اور نرمی ہوتی ہے، ان میں بغاوت اور سرکشی کا مادہ بالکل نہیں ہوتا اور ان کا یہی مزاج ان کے مالکوں میں منتقل ہو جاتا ہے، معمولی غذا ان کے لیے کافی ہو جاتی ہے، جب چاہا ان کا دودھ دوہ لیا، ان کا گوشت انتہائی عمدہ ہوتا ہے، جبکہ ان کو ذبح کرنا اور گوشت بنانا بہت آسان ہوتا ہے، ایسے لگتا ہے کہ بکری خرگوش اور ہرن کی طرح بڑی خوبصورت اور محبت والی چیز نظر آتی ہے، مزید اگلی روایت کا بغور مطالعہ کر لیں۔
5751
Sahih
بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
۔ (۵۷۵۲)۔ عَنْ وَھْبِ ْبِن کَیْسَانَ قَالَ: مَرَّ اَبِیْ عَلٰی أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ فَقَالَ: أَیْنَ تُرِیْدُ؟ قَالَ: غُنَیْمَۃً لِیْ، قَالَ: نَعَمْ، اِمْسَحْ رُعَامَہَا وَ اَطِبْ مُرَاحَہَا وَصَلِّ فِیْ جَانِبِ مُرَاحِہَا فَاِنَّہَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّۃِ،وَانْتَسِیئْ بِہَا فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّہَا أَرْضٌ قَلِیْلَۃُ الْمَطْرِ۔)) قَالَ: یَعْنِی الْمَدِیْنَۃَ۔ (مسند احمد: ۹۶۲۳)
۔ وہب بن کیسان کہتے ہیں: میرے باپ، سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے، انھوں نے پوچھا: کہا ں کا ارادہ ہے؟ انھوںنے کہا: جی میری کچھ بکریاں ہیں (ان کی طرف جارہا ہوں) سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی ٹھیک ہے، لیکن ان کو صاف ستھرا کرنا، ان کی آرام گاہ کو اچھا بنانا اور ان کی آرام گاہ کے پاس نماز پڑھنا، کیونکہیہ جنت کے جانوروں میں سے ہے، نیز ان کو مدینہ کی سرزمین سے دور رکھنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ سر زمین کم بارش والی ہے۔
Takhreej
(۵۷۵۲) صحیح بالشواھد ان شاء اللہ۔ أخرجہ مالک فی ’’المؤطا‘‘: ۲/۹۳۳، والبزار: ۴۴۴ (انظر: ۹۶۲۵)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ علاقے کی آب و فضا کے مطابق پالتو جانوروں کا اہتمام کرنا چاہیے، نیز ان کے باڑے آرام دہ ہونے چاہئیں، نماز پڑھنے کییہ وجہ ہو سکتی ہے کہ مالک بکریوں کے ساتھ رہے گا اور اس طرح درندوں سے امن رہے گا۔
5752
Sahih
بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
۔ (۵۷۵۳)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُوْشِکُ أَنْ یَکُوْنَ خَیْرَ مَالِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ، یَتْبَعُ بِہَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ، یَفِرُّ بِدِیْنِہِ مِنَ الْفِتَنِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۴۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ مسلمان آدمی کے لئے بہترین مال بکریاں ہوں، جن کو وہ لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کی وادیوں میں چلا جائے اور فتنوں سے بچ کر اپنے دین کو لے کر بھاگ جائے۔
Takhreej
(۵۷۵۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۶۰۰، ۶۴۹۵ (انظر: ۱۱۰۳۲)
Explanation
فوائد:… فتنوں کے زمانے میں دین کی سلامتی کے لیے آبادی سے دور چلا جانا مستحب ہے، بشرطیکہ فتنوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہ ہو۔
5753
Sahih
بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
۔ (۵۷۵۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَجْنِیْ الْکَبَاثَ، فقَالَ: ((عَلَیْکُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْہُ، فَاِنَّہُ أَطْیَبُہُ۔)) قَالَ: قُلْنَا: وَکُنْتَ تَرْعَی الْغَنَمَ یَارَسُوْلَ اللّٰہ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، وَھَلْ مِنْ نَبِیٍّ اِلَّا قَدْ رَعَاھَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۵۱)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہوں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مل کر پیلو کا پھل چن رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سیاہ رنگت والا چنو، یہ بہت عمدہ ہوتا ہے۔ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول!آپ بھی بکریاں چراتے رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بلکہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا، جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔
Takhreej
(۵۷۵۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۴۰۶، ۵۴۵۳، ومسلم: ۲۰۵۰(انظر: ۱۴۴۹۷)
5754
Sahih
بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
۔ (۵۷۵۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: اِفْتَخَرَ أَھْلُ الْاِبِلِ وَالْغَنَمِ عِنْدَ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْفَخْرُ وَالْخُیَلَائُ فِیْ أَھْلِ الْاِبِلِ، وَالسَّکِیْنَۃُ وَالْوَقَارُ فِیْ أَھْلِ الْغَنَمِ۔)) وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُعِثَ مُوْسٰی وَھُوْ یَرْعٰی غَنَمًا عَلٰی أَھْلِہِ وَبُعِثْتُ أَنَا وَأَنَا أَرْعٰی غَنَمًا لِاَھْلِیْ بِجِیَادٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۴۰)
۔ سیدنا ابوسعید حذری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میںاو نٹوں اور بکریوں کے مالکان ایک دوسرے پر فخر کرنے لگے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فخر اور تکبر اونٹوں کے مالکان میں اور سکون اور وقار بکریوں کے مالکان میں پایا جاتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب موسیٰ علیہ السلام کو مبعو ث کیا گیا تو وہ اپنے اہل کی بکریاں چراتے تھے اور جب مجھے مبعوث کیاگیا تو میں بھی جیاد میں بکریاں چرایا کرتا تھا۔
Takhreej
(۵۷۵۵) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ البزار: ۲۳۷۰(انظر: ۱۱۹۱۸)
Explanation
فوائد:… مکہ مکرمہ کی ایک نشیبی جگہ کا یا ایک پہاڑ کا نام جیاد ہے۔ حافظ بن حجر نے کہا کہ خطابی کہتے ہیں: آپ a نے اونٹوں اور گھوڑوں کے مالکوں کی مذمت اس بنا پر کی کہ یہ لوگ امورِ دینیہ سے غافل ہو کر اپنے مال مویشیوں میں لگے رہتے ہیں، جس کا نتیجہیہ نکلتا ہے کہ یہ سخت دل ہو جاتے ہیں۔ حافظ صاحب نے خود کہا: سکینت کو بکریوں کے مالکوں کے ساتھ خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ وسعت اور کثرت میں اونٹوں کے مالکوں سے کم ہوتے ہیں، اور یہی دو چیزیں فخر اور تکبر کا باعث بنتی ہیں۔ (فتح الباری: ۶/ ۴۳۳، ۴۳۴) یہ اللہ تعالی کا کوئی نظام ہے کہ جو فرق بکری اور اونٹ میں ہے کہ بکری شریف اور غیر مضرجانور ہے اور اونٹ باغی اور مضر جانور ہے، ان جانوروں کا یہی مزاج ان کے مالکوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔
5755
Sahih
سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
۔ (۵۷۵۶)۔ عَنْ رَافِعِ بْنِ رِفَاعَۃَ قَالَ: نَہَانَا نَبِیُّ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ کَسْبِ الْحَجَّامِ وَأَمَرَنَا أَنْ نُطْعِمَہُ نَوَاضِحَنَا وَنَہَانَا عَنْ کَسْبِ الْإمَائِ، اِلَّا مَا عَمِلَتْ بِیَدِھَا وَقَالَ: ھٰکَذَا بِأَصَابِعِہِ نَحْوَ الْخَبْزِ وَالْغَزْلِ وَالنَّفْشِ۔ (مسند احمد: ۱۹۲۰۷)
۔ رافع بن رفاعہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں سینگی لگانے والے کی کمائی سے منع فرمایا اور ہمیں حکم دیاتھاکہ ہم یہ کمائی آبپاشی کے اونٹوں وغیرہ کو کھلادیں، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں لونڈیوں کی کمائی سے بھی منع کیا تھا، البتہ جو وہ اپنے ہاتھ سے کام کر کے کمائے (وہ جائز ہے)، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ سے روٹی پکانے، روئی اون وغیرہ کو کاتنے یا ان کو دھنکنے کا اشارہ کیا۔
Takhreej
(۵۷۵۶) تخریج: ھذا اسناد لایصح، رافع بن رفاعۃ لاتصح لہ صحبۃ، والحدیث غلط۔ أخرجہ ابوداود: ۳۴۲۶ (انظر: ۱۸۹۹۸)
5756
Zaeef
سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
۔ (۵۷۵۷)۔ عَنْ أَبِیْ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ھُرَیْرَۃَ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ کَسْبِ الْإمَائِ۔ (مسند احمد: ۷۸۳۸)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لونڈیوں کی کمائی سے منع کیاہے۔
Takhreej
(۵۷۵۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۲۸۳، ۵۳۴۸(انظر: ۷۸۵۱)
5757
Sahih
سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
۔ (۵۷۵۸)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ثَمْنِ الْکَلْبِ وَکَسْبِ الْحَجَّامِ وَ کَسْبِ الْمُومِسَۃِ وَعَنْ کَسْبِ عَسْبِ الْفَحْلِ۔ (مسند احمد: ۸۳۷۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لونڈیوں کی کمائی سے منع کیاہے۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے (یہ بھی) روایت ہے کہ رسو ل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتے کی قیمت، پچھنے لگانے والے کی کمائی، زانیہ کی کمائی اور سانڈکی جفتی کی کمائی سے منع فرمایاہے۔
Takhreej
(۵۷۵۸) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ الدارمی: ۲۶۲۴ (انظر: ۸۳۸۹)
Explanation
فوائد:… کتے کی کمائی اور سانڈ کی جفتی کی جائز اور ناجائز صورتوں پر بحث بالترتیب حدیث نمبر (۵۸۱۲) اور (۵۸۲۴) میںآئے گی۔
5758
Sahih
سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
۔ (۵۷۵۹)۔ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَمَنُ الْکَلْبِ خَبِیْثٌ وَکَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِیْثٌ وَ مَہْرُ الْبَغِیِّ خَبِیْثٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۹۱)
۔ سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کتے کی کمائی خبیث ہے، سینگی لگانے والے کی کمائی خبیث ہے اور زانیہ کی کمائی بھی خبیث ہے۔
Takhreej
(۵۷۵۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۶۸(انظر: ۱۷۲۵۹)
Explanation
فوائد:… زانیہ کی کمائی سے مراد اس کی وہ کمائی جو وہ زنا اور بدکاری کے ذریعے کرتی ہے۔
5759
Sahih

Chapters

48
01
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
9 Hadith
02
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
6 Hadith
03
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
9 Hadith
04
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
05
بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
5 Hadith
06
سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
14 Hadith
07
ٹیکس وصول کرنے والوں اور سرداروں کی کمائی کا بیان
9 Hadith
08
تجارت کے ذریعے کمائی کرنے کا بیان خرید و فروخت میں سچائی اور امانت اور ان کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
09
سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
10
تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
11
گھریا زمین کو فروخت کر کے اس کی قیمت کو اس جیسی چیز میں خرچ نہ کرنے والے کا بیان
3 Hadith
12
ان چیزو ں کا بیان کہ جن کی تجارت جائزنہیں ہے شراب، نجس اور بے فائدہ چیزوں کی تجارت کا بیان
11 Hadith
13
کتے، بلی اور چوری کی ہوئی بکری کی قیمت، زانیہ کی کمائی، نجومی کی مٹھائی اور گانے والیوں کی خریدو فروخت سے ممانعت کا بیان
10 Hadith
14
وَلاء اور زائد پانی کو فروخت کرنے اور سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے نہی کا بیان
6 Hadith
15
دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
16
ملامسہ اور منابذہ کی بیع سے ممانعت کا بیان
3 Hadith
17
مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
18
بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
7 Hadith
19
اصولیعنی درختوں اور پھلوں کو فروخت کرنے کے بارے میں ابواب پیوند کاری کیا ہواکھجور کا درخت فروخت کرنے کا بیان
2 Hadith
20
پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کو فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
12 Hadith
21
پھلوں کا اندازہ لگانے، سالوں کی بیع اور آفتوں کو معاف کر دینے کا بیان
3 Hadith
22
بیع عینہ، ایک سودے میں دو سودوں اور بیع عربون سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
23
ایک آدمی کا ایک خریدار کو کوئی چیز بیچنا، پھر وہی چیز کسی اور کو بیچ دینا اور ایسی چیز کی بیع کرنے کی ممانعت کہ بیچنے والا جس کا مالک نہ ہو اور وہ اس کو خرید کر اُس کے سپرد کر دے
3 Hadith
24
خریدار کو قبضے میں لینے سے پہلے خریدی ہوئی چیز کو آگے فروخت کر دینے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
25
ماپ اور وزن کرنے کے حکم اور دو صاع چلائے بغیر اناج کی بیع کرنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
26
قافلوںکوملنے اور شہری کا دیہاتی کے لئے تجارت کرنے کی ممانعت کا بیان
9 Hadith
27
بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
9 Hadith
28
غلام کی تجارت کا اور محرم غلاموں کے مابین تفریق ڈالنے کی ممانعت کا بیان
2 Hadith
29
گواہ کے بغیر تجارت کرنے کا اور اس سلسلے میں سیدنا خزیمہ بن ثابت کی عظیم منقبت کا بیان
1 Hadith
30
تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
2 Hadith
31
فاسد شرط کے ہونے کے باوجود تجارت کے عقد کے صحیح ہونے کا بیان
1 Hadith
32
تجارت میں غبن اور دھوکے سے سلامتی کی شرط کا بیان
3 Hadith
33
مجلس کے اختیار کا بیان
7 Hadith
34
عیوب کے احکام کے ابواب عیب کو واضح کر دینے، دھوکہ نہ کرنے اور دھوکہ کرنے والے کی وعید کا بیان
7 Hadith
35
اس جانور کا بیان، جس کا دودھ روکا گیا ہو
5 Hadith
36
غلام کی ضمانت اور اس چیز کا بیان کہ تازہ کی ہوئی کمائی عیب کی وجہ سے سودا واپس کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی
3 Hadith
37
ذخیرہ اندوزی کی مذمت کا بیان
4 Hadith
38
بھائو مقرر کرنے کا بیان
4 Hadith
39
خریدوفروخت کرنے والوں کے مابین اختلاف ہو جانے کا بیان
5 Hadith
40
سود کے ابواب سود کے بارے میں سختی کا بیان
9 Hadith
41
ان اقسام کا بیان، جن میں سود پایا جاتا ہے
11 Hadith
42
بیع صرف کا بیان،یعنی چاندی کو سونے کے عوض ادھار پر فروخت کرنا
7 Hadith
43
نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
7 Hadith
44
سونے کے عوض ایسی چیز بیچنے کابیان کہ جس میں سونا بھی ہو اور اس کے علاوہ کوئی چیز بھی ہو
3 Hadith
45
درہم و دینار کوتوڑنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو
1 Hadith
46
بوقت ِ تجارت اناج کے برابر برابر ہونے کا بیان
5 Hadith
47
تفاضل کا بیان اور جن چیزوں کو ماپا اور جن کا وزن نہ کیا جا سکتا ہو، ان میں ادھار کا اور حیوان کے عوض گوشت کی بیع کا بیان
5 Hadith
48
بیع سلم (بیع سلف) کے مسائل
5 Hadith
No chapter matched that.