TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

فضائل و مناقب کی کتاب - فضائل و مناقب کی کتاب - Book 172 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 172 of Musnad Ahmad, with 144 chapters and 497 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

497 Hadith · 144 Chapters
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ماں، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی سیدہ ام سلیم رمیصاء (یاغمیصائ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۱۹۸۱)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ فَسَمِعْتُ خَشَفَۃً فَقُلْتُ: مَا ہٰذِہِ الْخَشَفَۃَ؟ فَقِیلَ ہٰذِہِ الرُّمَیْصَائُ بِنْتُ مِلْحَانَ۔)) (مسند احمد: ۱۳۸۶۵)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں جنت میں گیا تو میں نے وہاں چلنے کی آہٹ سنی، میں نے پوچھا کہ یہ کیسی آہٹ ہے؟ تو مجھے بتلایا گیا کہ یہ رمیصاء بنت ملحان کے چلنے کی آواز ہے۔
Takhreej
(۱۱۹۸۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۴۵۶(انظر: ۱۳۸۲۹)
Explanation
فوائد:… سیدہ ام سلیم بنت ملحان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ایک انصاری جلیل القدر صحابیہ ہیں،یہ خادم رسول سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی والدہ ہیں، ان کی زیادہ شہرت کنیت سے ہے، ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے۔سہلہ، زمیلہ، انیسہ، رمیثہ، رمیصاء اور عمیصاء نام کے اقوال پائے جاتے ہیں، انہوںنے قبل از اسلام دور جاہلیت میں مالک بن نضر سے نکاح کیا، اس سے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ولادت ہوئی، انصار میں سے جو لوگ شروع شروع میں دائرہ اسلام میں داخل ہوئے، یہ بھی ان کے ساتھ مسلمان ہوگئیں، ان پر ان کا شوہر ناراض ہو کر سر زمین شام کی طرف نکل گیا اور وہیں اسے موت آ گئی، سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کے بعد ابو طلحہ نے نکاح کیا۔ سنن نسائی وغیرہ میں ہے کہ ابو طلحہ نے ان کو نکاح کا پیغام بھیجا تو ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے واپسی پیغام بھیجا کہ آپ جیسے آدمی کے ساتھ نکاح سے انکار تو نہیں کرنا چاہیے مگر مشکل یہ ہے کہ میں مسلمان ہوں اور آپ کافر ہیں، میرے لیے آپ سے نکاح کرنا حلال نہیں، آپ اگر اسلام قبول کر لیں تو یہی چیز میرے لیے مہر ہوگی اور میں اس کے علاوہ کسی بھی چیز کا بطور مہر مطالبہ نہ کروں گی، چنانچہ انھوںنے اسلام قبول کر لیا اور یہی عمل ان کا مہر قرار پایا۔ ثابت کہتے ہیں کہ میں نے نہیں سنا کہ کسی خاتون کا مہر ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے مہر سے زیادہ بہتر ہو۔ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ غزوات میں بھی شریک ہوتی تھیں، ان کے بہت سے کارنامے ہیں جو ان کے کمال ایمان، ان کی دانش مندی اور قوت فیصلہ پر دلالت کرتے ہیں۔ یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رضاعی خالہ تھیں۔
11981
Sahih
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ماں، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی سیدہ ام سلیم رمیصاء (یاغمیصائ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۱۹۸۲)۔ (وَعَنْہٗ بِلَفْظٍ اَخَرَ) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ فَسَمِعْتُ خَشْخَشَۃَ بَیْنَ یَدِیْ فَإِذَا ھِیَ الْغُمَیْصَائُ بِنْتُ مِلْحَانَ۔)) وَھِیَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ۔ (مسند احمد: ۱۳۵۴۸)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے سامنے آہٹ سی سنی، وہ غمیصاء بنت ملحان تھی۔ یہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی والدہ تھیں۔
Takhreej
(۱۱۹۸۲) تخریج: انظر الحدیث السابق
11982
Sahih
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ماں، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی سیدہ ام سلیم رمیصاء (یاغمیصائ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۱۹۸۳)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَرَیْتُنِیْ دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ فَاِذَا أَنَا بِالرُّمَیْصَائِ امْرَأَۃِ اَبِیْ طَلْحَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۵۷)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’مجھے خواب میں دکھلایا گیا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے وہاں ابو طلحہ کی اہلیہ رمیصاء کو پایا۔
Takhreej
(۱۱۹۸۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۶۷۹،ومسلم: ۲۴۵۷(انظر: ۱۵۱۸۹)
11983
Sahih
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ماں، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی سیدہ ام سلیم رمیصاء (یاغمیصائ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۱۹۸۴)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَاتَ ابْنٌ لاَبِی طَلْحَۃَ مِنْ اُمِّ سُلَیْمٍ فَقَالَتْ: لِاَھْلِھَا لَا تُحِدِّثُوْا اَبَاطَلْحَۃَ بِاِبْنِہِ حَتّٰی اَکُوْنَ اَنَا اُحَدِّثُہُ، قَالَ: فَجَائَ فَقَرَّبَتْ اِلَیْہِ عَشَائً فَاَکَلَ وَشَرِبَ، قَالَ: ثُمَّ تَصَنَّعَتْ لَہُ اَحْسَنَ مَاکَانَتْ تَصَنَّعُ قَبْلَ ذٰلِکَ، فَوَقَعَ بِھَا، فَلَمَّا رَاَتْ اَنَّہُ قَدْ شَبِعَ وَاَصَابَ مِنْھَا، قَالَتْ: یَا اَبَاطَلْحَۃَ اَرَاَیْتَ اَنَّ قَوْمًا اَعَارُوْا عَارِیَتَھُمْ اَھْلَ بَیْتٍ وَطَلَبُوْا عَارِیَتَھُمْ اَلَھُمْ اَنْ یَمْنَعُوْھُمْ؟ قَالَ:لَا، قَالَتْ: فَاحْتَسِبِ ابْنَکَ، فَانْطَلَقَ حَتّٰی اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَخْبَرَہُ بِمَا کَانَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَارَکَ اللّٰہُ لَکَمَا فِیْ غَابِرِ لَیْلَتِکُمَا۔)) قَالَ: فَحَمَلَتْ قَالَ: فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ وَھِیَ مَعَہُ ،وکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا اَتَی الْمِدِیْنَۃَ مِنْ سَفَرٍ لَا یَطْرُقُھَا طُرُوْقًا، فَدَنَوْا مِنَ الْمَدِیْنَۃِ فَضَرَبَھَا الْمَخَاضُ، وَاحْتَبَسَ عَلَیْھَا اَبُوْطَلْحَۃَ وَانْطَلَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ اَبُوْ طَلْحَۃَ: یَارَبِّ! اِنَّکَ لَتَعْلَمُ اَنَّہُ یُعْجِبُنِیْ اَنْ اَخْرُجَ مَعَ رَسُوْلِکَ اِذَا خَرَجَ، وَاَدْخُلَ مَعَہُ اِذَا دَخَلَ، وَقَدِ احْتَبَسْتُ بِمَا تَرٰی، قَالَ: تَقُوْلُ اُمُّ سُلَیْمٍ: یَا اَبَاطَلْحَۃَ مَا اَجِدُ الَّذِیْ کُنْتُ اَجِدُ فَانْطَلَقْنَا، قَالَ: وَضَرَبَھَا الْمَخَاضُ حِیْنَ قَدِمُوْا فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالَتْ لِیْ اُمِّیْ: یَا اَنَسُ! لَا یُرْضِعَنَّہُ اَحَدٌ حَتّٰی تَغْدُوَ بِہٖ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَصَادَفْتُہُ وَمَعَہُ مِیْسَمٌ فَلَمَّا رَآنِی قَالَ: ((لَعَلَّ اُمَّ سُلَیْمٍ وَلَدَتْ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَضَعَ الْمِیْسَمَ قَالَ: فَجِئْتُ بِہٖ فَوَضَعْتُہُ فِیْ حِجْرِہِ قَالَ: وَدَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَجْوَۃٍ مِنْ عَجْوَۃِ الْمَدِیْنَۃِ فَلَا کَھَا فِیْ فِیْہِ حَتّٰی ذَابَتْ ثُمَّ قَذَفَھَافِیْ فِی الصَّبِیِّ فَجَعَلَ الصَّبِیُّ یَتَلَمَّظُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُنْظُرُوْا اِلٰی حُبِّ الْاَنْصَارِ التَّمْرَ۔))، قَالَ: فَمَسَحَ وَجْھَہَ وَسَمَّاہُ عَبْدَ اللّٰہِ۔ (مسند احمد: ۱۳۰۵۷)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ اور سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیٹا فوت ہو گیا، سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اپنے اہل والوں سے کہا: تم نے ابو طلحہ کو اس کے بیٹے کے بارے میں نہیں بتلانا، میں خود اس کو بتاؤں گی، پس جب وہ آئے تو اس نے ان کو شام کا کھانا پیش کیا، انھوں نے کھانا کھایا اور مشروب پیا، پھر سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اپنے خاوند کے لیے اچھی طرح تیاری کی، جیسا کہ وہ پہلے کرتی تھیں، پس انھوں نے ان سے جماع کیا، جب ام سلیم نے دیکھا کہ اس کاخاوند خوب سیر ہو گیا اور حق زوجیت بھیادا کر لیا تو اس نے کہا: اے ابو طلحہ! اس کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے کہ لوگ ایک گھر والوں کو کوئی چیز عاریۃً دیتے ہیں، پھر جب وہ ان سے واپس کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو کیا وہ روک سکتے ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں، نہیں روک سکتے، ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: تو پھر اپنے بیٹے کی وفات پر ثواب کی نیت سے صبر کر، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ چل پڑے، یہاں تک کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سارے ماجرے کی خبر دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری گزشتہ رات میں برکت فرمائے۔ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو حمل ہو گیا، ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر میں تھے اور ام سلیم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھیں، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر سے واپسی پر مدینہ آتے تھے تو رات کو شہر میں داخل نہیں ہو تے تھے، پس جب وہ مدینہ کے قریب پہنچے تو ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو دردِ زہ شروع ہو گیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو آگے چل دیئے، لیکن سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی بیوی کے پاس رک گئے اور انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! تو جانتا ہے کہ مجھے یہ بات پسند لگتی ہے کہ تیرے رسول کے ساتھ سفر میں نکلوں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ہی مدینہ میں داخل ہوں، لیکن اب تو دیکھ رہا ہے کہ میں رک گیا ہوں، اتنے میں ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: جو چیز میں پہلے پاتی تھی، ابھی وہ نہیں پا رہی، پس ہم چل پڑے اور جب مدینہ پہنچے تو دوبارہ دردِ زہ شروع ہوا اور انھوں نے بچہ جنم دیا۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میری ماں نے مجھے کہا: اے انس! کوئی بھی اس کو دودھ نہ پلائے، یہاں تک کہ تو صبح کو اس کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے جائے، وہ کہتے ہیں: میں بچہ لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جانوروں کو داغنے والا ایک آلہ تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: شاید ام سلیم نے بچہ جنم دیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ آلہ رکھ دیا، میں بچے کو لے کر آگے بڑھا اور اس کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گودی میں رکھ دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ کی عجوہ کھجورمنگوائی، اس کو اپنے منہ مبارک میں ڈال کر چبایا،یہاں تک کہ وہ نرم ہو گئی، پھر اس کو بچے کے منہ میں ڈالا اور بچہ زبان پھیر کر اس کو نگلنے لگ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دیکھو کہ انصاریوں کو کھجور سے کتنی محبت ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور اس کا نام عبد اللہ رکھا۔
Takhreej
(۱۱۹۸۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ص ۱۹۰۹ (انظر: ۱۳۰۲۶)
11984
Sahih
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ماں، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی سیدہ ام سلیم رمیصاء (یاغمیصائ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۱۹۸۵)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدْخُلُ بَیْتَ أُمِّ سُلَیْمٍ وَیَنَامُ عَلٰی فِرَاشِہَا وَلَیْسَتْ فِی بَیْتِہَا، قَالَ: فَأُتِیَتْ یَوْمًا فَقِیلَ لَہَا ہٰذَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَائِمٌ عَلٰی فِرَاشِکِ، قَالَتْ: فَجِئْتُ وَذَاکَ فِی الصَّیْفِ فَعَرِقَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتَّی اسْتَنْقَعَ عَرَقُہُ عَلٰی قِطْعَۃِ أَدَمٍ عَلَی الْفِرَاشِ، فَجَعَلْتُ أُنَشِّفُ ذٰلِکَ الْعَرَقَ وَأَعْصِرُہُ فِی قَارُورَۃٍ، فَفَزِعَ وَأَنَا أَصْنَعُ ذٰلِکَ، فَقَالَ: ((مَا تَصْنَعِینَ یَا أُمَّ سُلَیْمٍ؟)) قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! نَرْجُوْ بَرَکَتَہُ لِصِبْیَانِنَا، قَالَ: ((أَصَبْتِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۹۹)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں تشریف لایا کرتے اور ان کے بستر پر سو جایا کرتے تھے، ایسا بھی ہوتا کہ وہ اپنے گھر پر موجود نہیں ہوتی تھیں، وہ ایک دن گھر تشریف لائیں تو ان کو بتلایا گیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تمہارے بستر پر سوئے ہوئے ہیں، گرمی کا موسم تھا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس قدر پسینہ آیا ہوا تھا کہ وہ بستر کے چمڑے کے ٹکڑے پر گر رہا تھا۔ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پسینہ کو نچوڑ نچوڑ کر ایک شیشی میں جمع کرنے لگی، میں یہ کام کر رہی تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہو گئے اور فرمایا: ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تم یہ کیا کر رہی ہو؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اسے اپنے بچوں کے لیے بطور تبرک استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: درست کر رہی ہو۔
Takhreej
(۱۱۹۸۵) تخریج: أخرجہ البخاری بنحوہ: ۶۲۸۱، و مسلم: ۲۳۳۱(انظر: ۱۳۳۶۶)
11985
Sahih
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ماں، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی سیدہ ام سلیم رمیصاء (یاغمیصائ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۱۹۸۶)۔ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ عَنْ أَنَسٍ) قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقِیلُ عِنْدَ أُمِّ سُلَیْمٍ، وَکَانَ مِنْ أَکْثَرِ النَّاسِ عَرَقًا فَاتَّخَذَتْ لَہُ نِطَعًا فَکَانَ یَقِیلُ عَلَیْہِ، وَخَطَّتْ بَیْنَ رِجْلَیْہِ خَطًّا فَکَانَتْ تُنَشِّفُ الْعَرَقَ فَتَأْخُذُہُ، فَقَالَ: ((مَا ہٰذَا یَا أُمَّ سُلَیْمٍ؟)) فَقَالَتْ: عَرَقُکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَجْعَلُہُ فِی طِیبِی، فَدَعَا لَہَا بِدُعَائٍ حَسَنٍ۔ (مسند احمد: ۱۳۴۵۶)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں جا کر قیلولہ کیا کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پسینہ بہت زیادہ آتا تھا، سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے چمڑے کا ایک بچھونا تیار کیا، جس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قیلولہ کیا کرتے تھے۔ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آپ کے پائوں کے درمیان ایک لکیر سی بنا دی تھی۔ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پسینے کو نچوڑ کر جمع کر لیتی تھیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت کیا کہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ! یہ کیا کر رہی ہو؟ انہوںنے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آپ کا پسینہ ہے، میں اسے اپنی خوشبو میں ملائوں گی، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے حق میں بہترین دعا فرمائی۔
Takhreej
(۱۱۹۸۶) تخریج: انظر الحدیث السابق
11986
Sahih
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ماں، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی سیدہ ام سلیم رمیصاء (یاغمیصائ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۱۹۸۷)۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ عَنْہٗ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْتِی بَیْتَ أُمِّ سُلَیْمٍ فَیَنَامُ عَلٰی فِرَاشِہَا وَلَیْسَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ فِی بَیْتِہَا فَتَأْتِیْ فَتَجِدُہُ نَائِمًا، وَکَانَ عَلَیْہِ الصَّلَاۃ وَالسَّلَامُ إِذَا نَامَ ذَفَّ عَرَقًا، فَتَأْخُذُ عَرَقَہُ بِقُطْنَۃٍ فِی قَارُورَۃٍ فَتَجْعَلُہُ فِی مِسْکِہَا۔ (مسند احمد: ۱۳۴۴۲)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر تشریف لے جاتے اور ان کے بستر پر سو جاتے تھے،جبکہ بسا اوقات ایسے ہوتا کہ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا گھر پر موجود نہیں ہوتی تھیں، جب وہ آتیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سویا ہواپاتیں تھیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سوتے تو آپ کو اتنا پسینہ آتا کہ بہنے لگتا۔ وہ آپ کے پسینہ کو روئی سے جمع کرکے اسے شیشی میں نچوڑ لیتیں اور پھر اسے اپنی کستوری میں ملا لیتیں۔
Takhreej
(۱۱۹۸۷) تخریج: انظر الحدیثین السابقین
11987
Sahih
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ماں، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی سیدہ ام سلیم رمیصاء (یاغمیصائ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۱۹۸۸)۔ عَنْ حُمَیْدٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی أُمِّ سُلَیْمٍ فَأَتَتْہُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ وَکَانَ صَائِمًا، فَقَالَ: ((أَعِیدُوْا تَمْرَکُمْ فِی وِعَائِہِ وَسَمْنَکُمْ فِی سِقَائِہِ۔)) ثُمَّ قَامَ إِلٰی نَاحِیَۃِ الْبَیْتِ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ وَصَلَّیْنَا مَعَہُ، ثُمَّ دَعَا لِأُمِّ سُلَیْمٍ وَلِأَہْلِہَا بِخَیْرٍ، فَقَالَتْ: أُمُّ سُلَیْمٍ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ لِی خُوَیْصَّۃً، قَالَ: ((وَمَا ہِیَ۔)) قَالَتْ: خَادِمُکَ أَنَسٌ، قَالَ: فَمَا تَرَکَ خَیْرَ آخِرَۃٍ وَلَا دُنْیَا إِلَّا دَعَا لِی بِہِ، وَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ ارْزُقْہُ مَالًا وَوَلَدًا، وَبَارِکْ لَہُ فِیہِ۔)) قَالَ: فَمَا مِنَ الْأَنْصَارِ إِنْسَانٌ أَکْثَرُ مِنِّی مَالًا، وَذَکَرَ أَنَّہُ لَا یَمْلِکُ ذَہَبًا وَلَا فِضَّۃً غَیْرَ خَاتَمِہِ، قَالَ: وَذَکَرَ أَنَّ ابْنَتَہُ الْکُبْرٰی أُمَیْنَۃَ أَخْبَرَتْہُ أَنَّہُ دُفِنَ مِنْ صُلْبِہِ إِلٰی مَقْدَمِ الْحَجَّاجِ نَیِّفًا عَلٰی عِشْرِینَ وَمِائَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۷۶)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، انہوںنے آپ کی خدمت میں کھجوریں اور گھی پیش کیا،لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس دن روزے سے تھے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کھجوریں ان کے تھیلے میں اور گھی اس کے ڈبے میں واپس رکھ دو۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہو کر دو رکعتیں ادا کیں، ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔ پھر آپ نے سیدنا ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے اہل خانہ کے حق میں برکت کی دعا کی۔ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری ایک خصوصی درخواست ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ کیا؟ انہوںنے کہا: یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خادم سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہے، اس کے حق میں خصوصی دعا کر دیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دنیا و آخرت کی ہر خیر کی میرے حق میں دعا کر دی اور فرمایا: یا اللہ! اسے بہت سا مال اور اولاد عنایت فرما اور اس کے لیے ان میں برکت فرما۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ تمام انصار میں سے کسی کے پاس مجھ سے زیادہ دولت نہیں، جبکہ اس سے پہلے ان کے پاس صرف ایک انگوٹھی تھی اور ان کی بڑی بیٹی امینہ نے بتلایا کہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حجاج بن یوسف کے آنے سے پہلے تک اپنی اولاد میں سے تقریباً ایک پچیس چھبیس افراد کو دفن کیا گیا۔
Takhreej
(۱۱۹۸۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۹۸۲، ۶۳۳۴،ومسلم: ۲۴۸۰ (انظر: ۱۲۰۵۳)
Explanation
فوائد:… دیکھیں حدیث نمبر (۱۱۶۳۴)
11988
Sahih
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ماں، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی سیدہ ام سلیم رمیصاء (یاغمیصائ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۱۹۸۹)۔ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُمَّ سُلَیْمٍ کَانَتْ مَعَ أَبِی طَلْحَۃَ یَوْمَ حُنَیْنٍ فَإِذَا مَعَ أُمِّ سُلَیْمٍ خِنْجَرٌ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَۃَ: مَا ہٰذَا مَعَکِ یَا أُمَّ سُلَیْمٍ؟ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ: اتَّخَذْتُہُ إِنْ دَنَا مِنِّی أَحَدٌ مِنَ الْکُفَّارِ أَبْعَجُ بِہِ بَطْنَہُ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَۃَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ أَلَا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَیْمٍ؟ تَقُولُ کَذَا وَکَذَا، فَقَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أُقْتُلُ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَائِ انْہَزَمُوا بِکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، فَقَالَ: ((یَا أُمَّ سُلَیْمٍ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ کَفَانَا وَأَحْسَنَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۰۹۵)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا غزوۂ حنین کے موقع پر اپنے شوہر سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ تھیں، اس روز سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس ایک خنجر تھا، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے دریافت کیا : ام سلیم !یہ آپ کے پاس کس لیے ہے؟ انھوں نے کہا: یہ میں نے اس لیے ساتھ رکھا ہے کہ اگر کوئی کافر میرے قریب آیا تو میں اس کے ساتھ اس کے پیٹ کو چاک کر دوں گی۔ یہ بات سن کر سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بات سن رہے ہیں، وہ تو یوں کہہ رہی ہے۔ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے جن لوگوں کو مکہ میں آزاد کیا ہے ان کا ایمان کم زور ہے، وہ منافق ہیں، آپ ان کو قتل کر دیں۔ اے اللہ کے رسول! وہ آپ کو اکیلے چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ام سلیم! اللہ تعالیٰ نے ہماری مددکی اور خوب مدد کی۔
Takhreej
(۱۱۹۸۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۰۹(انظر: ۱۴۰۴۹)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی بات سے راضی نہیں ہوئے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مومنوں کے ساتھ مہربان اور رحم دل تھے۔ غزوۂ حنین کے موقع پر ایک بار مسلمانوں کو پسپا ہونا پڑا، سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان کے بارے میں سخت رویہ پیش کیا، لیکن دو بارہ مسلمان سنبھل گئے اور اللہ تعالیٰ نے فتح عطا کر دی۔ خواتین کا جہاد میں شرکت کرنا کیسا ہے؟ کتاب الجھاد میں اس تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔
11989
Sahih
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ماں، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی سیدہ ام سلیم رمیصاء (یاغمیصائ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۱۹۹۰)۔ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا انْہَزَمَ الْمُسْلِمُونَ یَوْمَ حُنَیْنٍ نَادَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا انْہَزَمُوْا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا أُمَّ سُلَیْمٍ! إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ کَفٰی۔)) قَالَ: فَأَتَاہَا أَبُوْ طَلْحَۃَ وَمَعَہَا مِعْوَلٌ، فَقَالَ: مَا ہٰذَا یَا أُمَّ سُلَیْمٍ؟ قَالَتْ: إِنْ دَنَا مِنِّی أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ بَعَجْتُہُ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو طَلْحَۃَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! انْظُرْ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَیْمٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۸۱)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ایک اور روایت میں ہے کہ حنین کے دن جب مسلمان شکست کھا گئے تو سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے آواز دی: اے اللہ کے رسول!جولوگ ہم سے بعد والے ہیں، آپ انہیں قتل کر دیں،یہ لوگ آپ کو اکیلے چھوڑ کر نکل بھاگے ہیں۔ لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ام سلیم! اللہ تعالیٰ نے ہماری خوب مدد کی ہے۔ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے شوہر سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے پاس آئے تو ان کے پس ایک گینتی دیکھی اورپوچھا: ام سلیم! یہ کیا ہے؟ انہوںنے جواب دیا:اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اس کا پیٹ چاک کر دوں گی۔ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! دیکھئے، ام سلیم کیا کہہ رہی ہے؟
Takhreej
(۱۱۹۹۰) تخریج: اخرجہ مسلم: ۱۸۰۹(انظر: ۱۲۰۵۸)
Explanation
فوائد:… اس باب میں بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر تشریف لے جاتے۔ وہاں قیلولہ کرتے اور ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گھر پر موجود نہ بھی ہوتیں تو ان کے بستر پر آرام فرماتے۔ بعض احادیث میں ام حرام کے گھر جانے کا ذکر بھی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ام حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ دونوں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رضاعی خالہ تھیں۔ یہ قباء میں ایک ہی گھر میں رہتی تھیں۔
11990
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی لونڈی اور مربیہ سیدہ ام ایمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۱۹۹۱)۔ عَنْ أَنَسِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ أُمَّ أَیْمَنَ بَکَتْ لَمَّا قُبِضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقِیْلَ لَھَا: مَا یُبْکِیْکِ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَتْ: اِنِّیْ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَیَمُوْتُ وَلٰکِنْ اِنَّمَا أَبْکِیْ عَلَی الْوَحْیِ الَّذِیْ رُفِعَ عَنَّا۔ (مسند احمد: ۱۳۲۴۷)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتقال ہوا تھا تو سیدہ ام ایمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا رونے لگیں، ان سے کہا گیا کہ آپ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انتقال پر کیوں روتی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں یہ بات جانتی تھی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عنقریب وفات پا جائیں گے، میں تو اس لیے رو رہی ہوں کہ اب وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے۔
Takhreej
(۱۱۹۹۱) تخریج: اخرجہ مسلم: ۲۴۵۴ (انظر: ۱۳۲۱۵)
11991
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی لونڈی اور مربیہ سیدہ ام ایمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۱۹۹۲)۔ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ الرَّجُلَ کَانَ جَعَلَ لَہُ، قَالَ عَفَّانُ: یَجْعَلُ لَہُ مِنْ مَالِہِ النَّخَلَاتِ أَوْ کَمَا شَائَ اللّٰہُ حَتَّی فُتِحَتْ عَلَیْہِ قُرَیْظَۃُ وَالنَّضِیرُ، قَالَ: فَجَعَلَ یَرُدُّ بَعْدَ ذٰلِکَ، وَإِنَّ أَہْلِی أَمَرُونِی أَنْ آتِیَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَسْأَلَہُ الَّذِی کَانَ أَہْلُہُ أَعْطَوْہُ أَوْ بَعْضَہُ، وَکَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ أَعْطَاہُ أُمَّ أَیْمَنَ أَوْ کَمَا شَائَ اللَّہُ، قَالَ: فَسَأَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَعْطَانِیہِنَّ فَجَاء َتْ أُمُّ أَیْمَنَ فَجَعَلَتِ الثَّوْبَ فِی عُنُقِی وَجَعَلَتْ تَقُولُ: کَلَّا وَاللّٰہِ الَّذِی لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ لَا یُعْطِیکَہُنَّ وَقَدْ أَعْطَانِیہِنَّ، أَوْ کَمَا قَالَ: فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَکِ کَذَا وَکَذَا۔)) وَتَقُولُ: کَلَّا وَاللّٰہِ، قَالَ: وَیَقُولُ: ((لَکِ کَذَا وَکَذَا۔)) قَالَ: حَتّٰی أَعْطَاہَا فَحَسِبْتُ أَنَّہُ قَالَ عَشْرُ أَمْثَالِہَا، أَوْ قَالَ قَرِیبًا مِنْ عَشْرَۃِ أَمْثَالِہَا أَوْ کَمَا قَالَ۔ (مسند احمد: ۱۳۳۲۴)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ کوئی آدمی اپنے مال میں سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے کھجوروں کے چند درخت یا حسب تو فیق کوئی چیز مقرر کر دیتا۔ جب بنو قریظہ اور بنو نضیر پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فتح نصیب ہوئی تو آپ اس کے بعد لوگوں کی طرف سے دیئے ہوئے اموال ان کو واپس کرنے لگے، میرے گھر والوں نے بھی مجھ سے کہا کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں جا کر آپ سے اس چیز کا یا اس میں سے کچھ کا مطالبہ کروں، جو وہ آپ کو دے چکے تھے۔ میرے گھر والوں کے دیئے ہوئے کھجوروں کے درخت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ام ایمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو اور کچھ دوسرے افراد کو دے چکے تھے، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے جا کرنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے درختوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تو آپ نے مجھے وہ واپس کر دیئے۔ لیکن سیدہ ام ایمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے آکر میری گردن میں کپڑا ڈال دیااور کہنے لگیں: ہر گز نہیں، اللہ کی قسم! اللہ کے رسول یہ درخت مجھے دے چکے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اب یہ درخت تمہیں نہیں دیں گے۔ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہیں ان کے عوض اتنے درخت دے دیتا ہوں۔ لیکن وہ کہتی جاتیں کہ ہر گز نہیں، اللہ کی قسم! اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان سے کہتے جاتے کہ آپ کوکھجور کے اتنے درخت دے دیتا ہوں، یہاں تک کہ آپ نے حسب وعدہ ان کو عنایت کر دیئے۔ سلیمان کہتے ہیںمیرا خیال ہے کہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ آپ نے ان کو دس گنا یا دس گنا کے قریب کھجوروں کے درخت عنایت فرمائے تھے۔
Takhreej
(۱۱۹۹۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۱۲۸، ۴۰۳۰، ۴۱۲۰،ومسلم: ۱۷۷۱ (انظر: ۱۳۲۹۱)
Explanation
فوائد:… سیدہ ام ایمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی لونڈی اور آپ کی مربیہ ہیں، ان کا نام برکہ ہے، نام اور کنیت دونوں سے ان کی شہرت ہے، عام لوگوں میں ان کی کنیت ہی مشہور ہے، اصل میں حبشہ کی رہنے والی تھیں۔ بعض مورخین نے کہا ہے کہ مکہ پر حملہ کرنے والے ہاتھیوں کے لشکر والے ابرہہ کے لشکر کے اسیروں میں سے تھیں،یہ عبدالمطلب کے حصہ میں آئیں، ان کے بعد وہ ان کے بیٹے عبداللہ (نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے والد )کے حصہ میں آئیں اور ان کے بعد بطور وراثت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حصہ میں آئیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے عقد نکاح کے موقع پر ان کو آزاد کرکے بنو حارث بن خزرج کے ایک شخص عبید بن زید سے ان کا نکاح کر دیا، وہ مکہ آئے تھے، ان کے ہاں ان کے بطن سے ان کے فرزند ایمن کی ولادت ہوئی۔ اسی کی نسبت سے ان کی کنیت ہے،شوہر کی وفات کے بعد یہ واپس مکہ آگئیں اور سیدنا زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے نکاح کر لیا اور ان کے بطن سے اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ولادت ہوئی۔ صحیح مسلم میں امام زہری سے مروی ہے کہ اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی والدہ سیدہ ام ایمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، عبداللہ بن عبدالمطلب کی لونڈی تھیں، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ولادت ہوئی تو وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پرورش اور تربیت کیا کرتی تھیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو آزاد کرکے سیدنا زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ان کا نکاح کر دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات سے پانچ ماہ بعد ان کا انتقال ہوا۔ ذہن نشین رہنا چاہیے کہ ام ایمن نام کی ایک اور خاتون بھی ہیں، وہ بھی حبشہ سے تھیں اور ان کا نام بھی برکہ تھا، وہ ام المومنین سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت کیا کرتی تھیں۔
11992
Sahih
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خالہ سیدہ ام حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۱۹۹۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ أَنَّہَا قَالَتْ: بَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَائِلًا فِی بَیْتِی إِذْ اسْتَیْقَظَ وَہُوَ یَضْحَکُ، فَقُلْتُ: بِأَبِی وَأُمِّی أَنْتَ مَا یُضْحِکُکَ؟ فَقَالَ: ((عُرِضَ عَلَیَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِی یَرْکَبُونَ ظَہْرَ ہٰذَا الْبَحْرِ کَالْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّۃِ۔)) فَقُلْتُ: اُدْعُ اللّٰہَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ، قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہَا مِنْہُمْ۔)) ثُمَّ نَامَ أَیْضًا فَاسْتَیْقَظَ وَہُوَ یَضْحَکُ فَقُلْتُ: بِأَبِی وَأُمِّی مَا یُضْحِکُکَ؟ قَالَ: ((عُرِضَ عَلَیَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِی یَرْکَبُونَ ہٰذَا الْبَحْرَ کَالْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّۃِ۔)) فَقُلْتُ: اُدْعُ اللّٰہَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ، قَالَ: ((أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِینَ۔)) فَغَزَتْ مَعَ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ وَکَانَ زَوْجَہَا فَوَقَصَتْہَا بَغْلَۃٌ لَہَا شَہْبَائُ فَوَقَعَتْ فَمَاتَتْ۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۷۲)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے گھر میں قیلولہ کر رہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوئے تو آپ مسکرا رہے تھے، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ اس سمندر پر سوار ہو رہے ہیں، وہ بادشاہوں کی طرح تختوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں سے بنا دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو اس کو ان میں سے بنا دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھر سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ مجھ پر پیش کیے گئے، وہ اس سمندر پر سوار ہو رہے ہیں اور ایسے لگ رہا ہے کہ وہ تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہ ہیں۔ میں نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اوّلین لوگوں میں سے ہو۔ پھر سیدہ ام حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اپنے خاوند سیدنا عبادہ بن صامت کے ساتھ اس غزوے کے لیے نکلیں، شہباء خچر نے ان کو اس طرح گرایا کہ ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گئیں۔
Takhreej
(۱۱۹۹۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۷۹۹، ۲۸۰۰، ومسلم: ۱۹۱۲ (انظر: ۲۷۰۳۲)
11993
Sahih
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خالہ سیدہ ام حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۱۹۹۴)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِیُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ: اِتَّکَأَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ ابْنَۃِ مِلْحَانَ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَہُ فَضَحِکَ، فَقَالَتْ: مِمَّ ضَحِکْتَ؟ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((مِنْ أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِی یَرْکَبُونَ ہٰذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ غُزَاۃً فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، مَثَلُہُمْ کَمَثَلِ الْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّۃِ۔)) قَالَتْ: اُدْعُ اللّٰہَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ، فَقَالَ: ((اللّٰہُمَّ اجْعَلْہَا مِنْہُمْ۔)) فَنَکَحَتْ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ قَالَ: فَرَکِبَتْ فِی الْبَحْرِ مَعَ ابْنِہَا قَرَظَۃَ حَتّٰی إِذَا ہِیَ قَفَلَتْ رَکِبَتْ دَابَّۃً لَہَا بِالسَّاحِلِ، فَوَقَصَتْ بِہَا فَسَقَطَتْ فَمَاتَتَْ۔ (مسند أحمد: ۱۳۸۲۶)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنت ِ ملحان کے پاس ٹیک لگائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسکراتے ہوئے سر مبارک اٹھایا، سیدہ بنت ِ ملحان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ انھوں نے کہا: میری امت کے کچھ لوگ ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے اس سبز سمندر پر سوار ہو رہے ہیں، ان کی مثال تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں کی سی ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو اس کو ان میں سے بنا دے۔ پھر اس خاتون نے سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے شادی کر لی اور اپنے بیٹے قرظہ کے ساتھ سمندری سفر شروع کیا، واپسی پر جب وہ ساحل کے پاس اپنی ایک سواری پر سوار ہوئی تو اس نے اس کو یوں گرایا کہ اس کی گردن ٹوٹ گئی، سو وہ گری اور فوت ہو گئی۔
Takhreej
(۱۱۹۹۴) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… سیدہ ام حرام بنت ملحان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خالہ اور سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، جن کا ذکر ابھی گزرا ہے، کی بہن ہیں۔ یہ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے ہاں تشریف لے جاتے اور ان کے ہاں دوپہر کو آرام فرمایا کرتے تھے، یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رضاعی خالہ تھیں، (۲۷یا۲۸) سن ہجری میں بحری غزوہ سے واپسی پر ان کی وفات ہوئی۔ دیکھیں حدیث نمبر (۴۸۳۷)
11994
Sahih
سیدہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۱۹۹۵)۔ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِیدٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِکِسْوَۃٍ فِیہَا خَمِیصَۃٌ صَغِیرَۃٌ، فَقَالَ: ((مَنْ تَرَوْنَ أَحَقَّ بِہٰذِہِ؟)) فَسَکَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ: ((ائْتُونِی بِأُمِّ خَالِدٍ۔)) فَأُتِیَ بِہَا فَأَلْبَسَہَا إِیَّاہَا ثُمَّ قَالَ لَہَا مَرَّتَیْنِ: ((أَبْلِی وَأَخْلِقِی۔)) وَجَعَلَ یَنْظُرُ إِلٰی عَلَمٍ فِی الْخَمِیصَۃِ أَحْمَرَ أَوْ أَصْفَرَ وَیَقُولُ: ((سَنَاہْ سَنَاہْ یَا أُمَّ خَالِدٍ۔)) وَسَنَاہْ فِی کَلَامِ الْحَبَشِ الْحَسَنُ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۹۷)
سیدہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں کچھ کپڑے لائے گئے، ان میں ایک چھوٹی سی ایک اونی چادر بھی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: تم اس چادر کا سب سے زیادہ کس کو مستحق سمجھتے ہو؟ صحابۂ کرام خاموش رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ام خالد کو میرے پاس لائو۔ پس اسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لایا گیا تو آپ نے وہ کپڑا اسے پہنا دیا اور دو دفعہ فرمایا: تم اس کو بوسید کرو، تم اس کو بوسیدہ کرو (یعنی تم زندہ رہو اور دیر تک اسے استعمال کرو)۔ اور آپ اس چادر کے اوپر موجود سرخ یا زرد علامات کو اچھی طرح دیکھتے اور فرماتے: ام خالد! بہت اچھے، بہت اچھے۔ حدیث میں وارد لفظ سناہ حبشی زبان کا ہے، اس کے عربی میں معانی عمدہ، اچھا اور بہترین کا ہے۔
Takhreej
(۱۱۹۹۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۸۷۴، ۵۸۲۳، ۵۸۴۵ (انظر: ۲۷۰۵۷)
Explanation
فوائد:… سیدہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اموی خاندان کی خاتون ہیں، ان کی شہرت کنیت سے ہے۔ ان کا اصل نام امۃ ہے، ان کو اور ان کے والدین کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے۔ سیدنا خالد بن سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور ان کی اہلیہ ہمینہ بنت خلف بھی ان کے ساتھ تھیں، وہیں ان کی بیٹی امہ کی ولادت ہوئی، سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ان کا نکاح ہوا تھا،انہوںنے کا فی طویل عمر پائی، بلکہ امام بخاری کہتے ہیں کہ خواتین میں سے کسی نے ان جتنی عمر نہیں پائی۔
11995
Sahih
سیدہ ام شریک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۱۹۹۶)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ أُمِّ شَرِیْکٍ أَنَّہَا کَانَتْ مِمَّنْ وَھَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۸۱۷۳)
عروہ سے روایت ہے کہ سیدہ ام شریک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ان خواتین میں سے ہیں، جنہوں نے اپنے آپ کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ہبہ کر دیا تھا۔
Takhreej
(۱۱۹۹۶) تخریج: اسنادہ صحیح، اخرجہ النسائی فی الکبری : ۸۹۲۸ (انظر:۲۷۶۲۱)
Explanation
فوائد:… سیدہ ام شریک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اپنی کنیت کے ساتھ مشہور ہیں، ان کا نام عزیلہیا غُزیّہیا غَزِیّہ تھا، یہ ابو العسکر بن سمی بن حارث ازدی دوسی کے نکاح میں تھیں،ان کے ہاں شریک کو جنم دیا۔ خاتون کا اپنے آپ کو کسی کے لیے ہبہ کر دینا اور اس شخص کا اس عورت سے خود شادی کر لینا اور کسی سے کروا دینا،یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خاصہ تھا اور یہ کسی خلیفہ اور امتی کا حق نہیںہے۔
11996
Sahih
سیدہ ام فروہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۱۹۹۷)۔ عَنْ أُمِّ فَرْوَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا وَکَانَتْ قَدْ بَایَعَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَفْضَلِ الْعَمَلِ فَقَالَ: ((اَلصَّلَاۃُ لِأَوَّلِ وَقْتِہَا۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۴۵)
سیدہ ام فروہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، جنھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی تھی، سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا گیا کہ سب سے افضل عمل کونسا ہے؟ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز کو اس کے اول وقت پر ادا کرنا۔
Takhreej
(۱۱۹۹۷) تخریج: صحیح لغیرہ، اخرجہ ابوداود: ۴۲۶،والترمذی: ۱۷۰ (انظر: ۲۷۱۰۴)
Explanation
فوائد:… سیدہ ام فروہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی باپ کی طرف سے بہن ہیں، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اشعث بن قیس سے ان کا نکاح کیا تھا اور ان سے ان کی اولاد ہوئی تھی، ایک بیٹے کا نام محمد تھا۔ یاد رہے کہ ام فروہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا یہ ابو قحافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دختر ہیں اور سیدنا ابو بکرصدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی پدری ہمشیرہ ہیں۔ ان کے شوہر کا نام ابو بکر الاشعث بن قیس ہے۔ ان کے بطن سے محمد بن الاشعث وغیرہ نے جنم لیا۔
11997
Sahih
سیدہ ام فضل لبابہ بنت حارث ہلالیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۱۹۹۸)۔ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) قَالَتْ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: اِنِّیْ رَأَیْتُ فِیْ مَنَامِیْ فِیْ بَیْتِیْ أَوْ حُجْرَتِیْ عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِکَ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ زَیَادَۃُ فَجَزِعْتُ مِنْ ذٰلِکَ) قَالَ: ((تَلِدُ فَاطَمِۃُ اِنْ شَائَ اللّٰہُ غُلَامًا فَتَکْفُلِیْنَہُ۔)) فَوَلَدَتْ فَاطِمَۃُ حَسَنًا، فَدَفَعَتْہُ اِلَیْہَا فَأَرْضَعَتْہُ بِلَبَنِ قُثَمَ، وَأَتَیْتُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا أَزُوْرُہُ، فَأََخَذَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَضَعَہُ عَلٰی صَدْرِہِ فَبَالَ عَلٰی صَدْرِہِ، فَأَصَابَ الْبَوْلُ اِزَارَہُ، فَزَخَخْتُ بِیَدِیْ عَلٰی کَتِفَیْہِ،(وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَضَرَبَتُ بَیْنَ کَتِفَیْہِ) فَقَالَ: ((أَوْجَعْتِ ابْنِیْ أَصْلَحَکِ اللّٰہُ۔)) أَوْ قَالَ: ((رَحِمَکِ اللّٰہُ۔)) فَقُلْتُ: أَعْطِنِیْ اِزَارَکَ أَغْسِلْہُ، فَقَالَ: ((اِنَّمَا یُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِیَۃِ وَیُصَبُّ عَلٰی بَوْلِ الْغُلَامِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۴۱۶)
سیدہ ام فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئی اور کہا: میں نے خواب میں اپنے گھر یا اپنے حجرے میں آپ کے اعضاء میں سے ایک عضو دیکھا ہے اور میں اس سے گھبرا گئی ہوں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیٹا جنم دے گی اور تم اس کی کفالت کرو گی۔ پس سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے واقعی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جنم دیا اور ان کو سیدہ ام فضل کے سپرد کر دیا، انھوں نے ان کو سیدنا قثم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دودھ سے دودھ پلایا، ایک دن میں سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زیارت کرنے کے لیے آپ کے پاس آئی۔ آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو پکڑا اور اپنے سینے پر رکھ دیا، پس بچے نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینے پر پیشاب کر دیا اور وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ازار تک پہنچ گیا، میں نے سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کندھوں کے درمیان اپنے ہاتھ سے مارا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری اصلاح کرے، تم نے میرے بیٹے کو تکلیف دی ہے۔ یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے۔ پھر میں نے کہا: آپ اپنا ازار مجھے دے دیں، تاکہ میں اس کو دھو دوں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صرف بچی کے پیشاب کو دھویاجاتا ہے اور بچے کے پیشاب پر پانی بہا دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۱۱۹۹۸) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۳۷۵، وابن ماجہ: ۵۲۲ (انظر: ۲۶۸۷۸)
Explanation
فوائد:… قثم : یہ امر الفضل کا بیٹا ہے اس کے دودھ سے دودھ پلانے کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ حسن (ایک روایت کے مطابق حسین) کو دودھ پلا رہی تھیں تو اس وقت قثم چھوٹے بچے تھے اور اپنی ماں کا دودھ پیتے تھے گویا قثم کے حصہ کا دودھ حسن نے پیا تھا۔ طہارت کے ابواب اس حدیث کے فقہی مسائل پر بحث ہو چکی ہے۔ سیدہ ام فضل لبابہ بنت حارث بن حزن ہلالیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، ام المومنین سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی ہمشیرہ اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب کی اہلیہ ہیں، ان کے بطن سے سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے چھ بیٹے پیدا ہوئے۔ ام المومنین سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے بعد دائرہ ٔ اسلام میں داخل ہونے والییہ اولین خاتون ہیں، نبیکریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان سے ملاقات کے لیے ان کے گھر جایا کرتے تھے۔ ان کے نام درج ذیل ہیں: فضل، عبداللہ، معبد، عبیداللہ، قثم، عبدالرحمن۔
11998
Sahih
سیدہ ام فضل لبابہ بنت حارث ہلالیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۱۹۹۹)۔ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ: شَکُّوْا فِیْ صَوْمِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ عَرَفَۃَ، فَقٰلَتْ أُمُّ الْفَضْلِ: أَنَا أُعْلِمُ لَکُمْ ذٰلِکَ، فَبَعَثَتْ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۰۹)
سیدہ ام فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ صحابہ کو عرفہ کے دن یہ شک ہونے لگا کہ آیا آج رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے سے ہیںیا نہیں، سیدہ ام فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں تمہیں اس کا پتہ کرا کے دیتی ہوں،پھر انہوںنے دودھ کا برتن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بھجوایا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ پی لیا (اور اس طرح پتہ چل گیاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا روزہ نہیں ہے)۔
Takhreej
(۱۱۹۹۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۶۵۸، ۱۹۸۸، ومسلم: ۱۱۲۳(انظر: ۲۶۸۷۲)
11999
Sahih
سیدہ ام فضل لبابہ بنت حارث ہلالیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۲۰۰۰)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ أَخْبَرَتْہٗ أَنَّہُمْ شَکُّوْا فِیْ صَوْمِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ عَرَفَۃَ،فَأَرْسَلَتْ إِلَیْہِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ، وَھُوَ یَخْطُبُ النَّاسَ بِعَرَفَۃَ عَلٰی بَعِیْرِہِ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۱۹)
۔ (دوسری سند) سیدنا ام فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کو عرفہ کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے روزے کے بارے میں شک ہونے لگا، تو انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں دودھ بھجوا دیا اورآپ نے وہ نوش فرما لیا، اس وقت آپ عرفہ میں اونٹ پر سوار ہو کرلوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔
Takhreej
(۱۲۰۰۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… سیدہ ام فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ انتہائی زیرک خاتون تھیں اور انھوں نے بڑے خوبصورت انداز میں صحابۂ کرام کے اس شک کو دور کیا۔
12000
Sahih

Chapters

144
01
صحابۂ کرام کے مناقب کا اجمالی تذکرہ
8 Hadith
02
انصار کے فضائل و مناقب
24 Hadith
03
انصار کے بہترین گھرانوں کا تذکرہ
2 Hadith
04
انصار اور مہاجرین کی فضیلت کا بیان
6 Hadith
05
ان خصوصیات و فضائل کا بیان جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
14 Hadith
06
ان فضائل و مناقب کا تذکرہ جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
7 Hadith
07
ان فضائل کا ذکر جن میں سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر، سیدنا بلال، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور دیگر فقراء مہاجرین شریک ہیں
1 Hadith
08
سیدنا زید بن حارثہ، سیدنا جعفر بن ابی طالب، سیدنا عبداللہ بن رواحہ اور سیدنا خالد بن ولید کے مشترکہ مناقب کا تذکرہ
1 Hadith
09
صحابۂ کرام کی ایک جماعت کے بعض خصائص
3 Hadith
10
خواتین صحابہF کی ایک جماعت کے مشترکہ خصائص
3 Hadith
11
عشرہ مبشرہ اور دیگر صحابہ کے فضائل
3 Hadith
12
نُجَبَائ، ابدال اور اصحاب صفہ کاتذکرہ
3 Hadith
13
بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والے صحابہ کی فضیلت
9 Hadith
14
صحابۂ کرام کے دورکی تحدید اور ان سے اور دوسرے حضرات سے متعلقہ تاریخی امور کا بیان
10 Hadith
15
سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
6 Hadith
16
سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان
6 Hadith
17
سیدنا اسید بن حضیر کی فضیلت کا تذکرہ
5 Hadith
18
اصیرم بن عبدالاشھل یعنی عمرو بن ثابت بن وقش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
1 Hadith
19
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
9 Hadith
20
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے چچا سیدنا انس بن نضر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
21
سیدنا براء بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
22
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
23
مؤذن رسول سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
5 Hadith
24
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
25
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
26
سیدنا جعفر بن ابی طالب اور ان کی اولادکا تذکرہ
5 Hadith
27
سیدنا جلیبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
28
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پھوپھی زاد سیدنا حارثہ بن عمیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ
1 Hadith
29
سیدنا حارثہ بن نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
30
سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ کی فضیلت اور ان کا واقعہ
3 Hadith
31
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
4 Hadith
32
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ماموں حرام بن ملحان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
33
سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
34
سیدنا حنظلہ بن حذیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
35
سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
4 Hadith
36
سیدنا خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
37
سیدنا خبیب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
2 Hadith
38
سیدنا خریم اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
39
دگنی گواہی والے سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
40
سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
41
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے نکاح کا واقعہ اور اس میں سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کا بیان
2 Hadith
42
سیدنا زاہر بن حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
43
سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
7 Hadith
44
سیدنا زید بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
45
سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
46
سیدنا سائب بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کو سائب بن ابو سائب بھی کہتے ہیں
2 Hadith
47
سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
48
سیدنا ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے غلام سیدنا سالم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
49
سیدنا سعد بن ابی ذباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
50
سیدنا سعدبن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کو سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی کہا جاتا ہے
8 Hadith
51
خزرج کے سردار سیدنا سعد بن عبادۃ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
52
اوس کے رئیس سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
10 Hadith
53
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم ابو عبدالرحمن سفینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
54
سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ
5 Hadith
55
سیدنا سلمہ بن محبق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
56
سیدنا سلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، ان کا واقعہ اور ان کے قبول اسلام کا از اول تا آخر مکمل اور مفصل واقعہ
3 Hadith
57
سیدنا سمرہ بن فاتک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
58
سیدنا صہیب بن سنان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
59
سیدنا ضرار بن ازور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
60
سیدنا ضماد ازدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان
1 Hadith
61
سیدنا ضمرہ بن ثعلبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
62
سیدنا طارق بن شہاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
63
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
64
سیدنا عامر بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
65
سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
66
سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
4 Hadith
67
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
68
سیدنا عبداللہ بن انیس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
69
سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
70
سیدنا عبداللہ بن خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
71
ذوالبجادین سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
72
سیدنا عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
73
سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
74
سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
75
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
13 Hadith
76
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فتاوی کی فصل
2 Hadith
77
سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
4 Hadith
78
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فتاوی کا تذکرہ
3 Hadith
79
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
9 Hadith
80
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا عبداللہ بن حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
4 Hadith
81
سیدنا عبداللہ بن مسعود المعروف ابن ام عبد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
11 Hadith
82
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیدنا عباس بن عبدالمطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
83
سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
84
سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
4 Hadith
85
سیدنا عروہ بن ابی جعد بارقی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
86
سیدنا عکاشہ بن محصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
87
سیدنا علاء بن الحضرمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
88
سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
9 Hadith
89
سیدنا عمرو بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
90
نابینا صحابی سیدنا عمر وبن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
91
سیدنا عمرو بن تغلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
92
سیدنا عمرو بن جموح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کاتذکرہ
1 Hadith
93
چوتھے نمبر پر دائرۂ اسلام میں داخل ہونے والے ابو نجیح سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
94
سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے قبول اسلام کا واقعہ
10 Hadith
95
سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
96
سیدنا فرات بن حیان عجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
97
سیدنا قتادہ بن ملحان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
98
سیدنا معاویہ بن قرہ مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا قرہ بن ایاس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
99
سیدنا کعب بن مالک انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
100
سیدنا مصعب بن عمیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
101
سیدنا معاذبن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
7 Hadith
102
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
6 Hadith
103
سیدنا معن بن یزید سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
104
سیدنا مقداد بن اسود کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
105
سیدنایوسف بن عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
106
سیدنا ابو امامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کا صدی بن عجلان تھا
1 Hadith
107
سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
108
سیدنا ابو دحداح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
109
سیدنا ابو دردائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
110
سیدنا ابوذرغفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے اسلام لانے کا واقعہ
12 Hadith
111
سیدناابوزیدانصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کا نام عمرو بن اخطب ہے
6 Hadith
112
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
8 Hadith
113
سیدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
114
سیدنا ابو طفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
115
سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
116
سیدنا ابو عامر عبید اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
117
امین الامہ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
7 Hadith
118
سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی موت کابیان
1 Hadith
119
سیدنا ابو قتادہ حارث بن ربعی سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کاتذکرہ
4 Hadith
120
سیدنا ابو موسی عبداللہ بن قیس اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ
7 Hadith
121
سیدنا ابو مالک عبید اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
122
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
11 Hadith
123
سیدنا ابو الیسر کعب بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
124
سیدہ اسما بنت ابی بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
2 Hadith
125
سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
2 Hadith
126
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی بیٹی سیدہ امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
127
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی آزاد کردہ لونڈی سیدہ بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
128
سیدہ درہ بنت ابی لہب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
129
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ماں، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی سیدہ ام سلیم رمیصاء (یاغمیصائ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
10 Hadith
130
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی لونڈی اور مربیہ سیدہ ام ایمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
2 Hadith
131
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خالہ سیدہ ام حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
2 Hadith
132
سیدہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
133
سیدہ ام شریک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
134
سیدہ ام فروہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
135
سیدہ ام فضل لبابہ بنت حارث ہلالیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
3 Hadith
136
یہ بنو اسد بن خزیمہ کے قبیلہ کی خاتون ہیں اور یہ ان خواتین میں سے ہیں، جنہوں نے سب سے پہلے ہجرت کی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا شرف حاصل کیا۔
1 Hadith
137
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
7 Hadith
138
اویس قرنیlکا تذکرہ
2 Hadith
139
سفیان بن عینیہlکا تذکرہ
1 Hadith
140
زید بن عمرو بن نفیل کا تذکرہ
1 Hadith
141
امام مالک بن انسlکا تذکرہ
1 Hadith
142
حبشہ کے بادشاہ نجاشیlکا تذکرہ
2 Hadith
143
ورقہ بن نوفل کا تذکرہ
1 Hadith
144
ابن جریجlکا تذکرہ
1 Hadith
No chapter matched that.