سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جنت میں گیا تو میں نے وہاں چلنے کی آہٹ سنی، میں نے پوچھا کہ یہ کیسی آہٹ ہے؟ تو مجھے بتلایا گیا کہ یہ رمیصاء بنت ملحان کے چلنے کی آواز ہے۔
Takhreej
(۱۱۹۸۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۴۵۶(انظر: ۱۳۸۲۹)
Explanation
فوائد:… سیدہ ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ عنہا ایک انصاری جلیل القدر صحابیہ ہیں،یہ خادم رسول سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں، ان کی زیادہ شہرت کنیت سے ہے، ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے۔سہلہ، زمیلہ، انیسہ، رمیثہ، رمیصاء اور عمیصاء نام کے اقوال پائے جاتے ہیں، انہوںنے قبل از اسلام دور جاہلیت میں مالک بن نضر سے نکاح کیا، اس سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی، انصار میں سے جو لوگ شروع شروع میں دائرہ اسلام میں داخل ہوئے، یہ بھی ان کے ساتھ مسلمان ہوگئیں، ان پر ان کا شوہر ناراض ہو کر سر زمین شام کی طرف نکل گیا اور وہیں اسے موت آ گئی، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد ابو طلحہ نے نکاح کیا۔ سنن نسائی وغیرہ میں ہے کہ ابو طلحہ نے ان کو نکاح کا پیغام بھیجا تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے واپسی پیغام بھیجا کہ آپ جیسے آدمی کے ساتھ نکاح سے انکار تو نہیں کرنا چاہیے مگر مشکل یہ ہے کہ میں مسلمان ہوں اور آپ کافر ہیں، میرے لیے آپ سے نکاح کرنا حلال نہیں، آپ اگر اسلام قبول کر لیں تو یہی چیز میرے لیے مہر ہوگی اور میں اس کے علاوہ کسی بھی چیز کا بطور مہر مطالبہ نہ کروں گی، چنانچہ انھوںنے اسلام قبول کر لیا اور یہی عمل ان کا مہر قرار پایا۔ ثابت کہتے ہیں کہ میں نے نہیں سنا کہ کسی خاتون کا مہر ام سلیم رضی اللہ عنہا کے مہر سے زیادہ بہتر ہو۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوات میں بھی شریک ہوتی تھیں، ان کے بہت سے کارنامے ہیں جو ان کے کمال ایمان، ان کی دانش مندی اور قوت فیصلہ پر دلالت کرتے ہیں۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعی خالہ تھیں۔
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے سامنے آہٹ سی سنی، وہ غمیصاء بنت ملحان تھی۔ یہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’مجھے خواب میں دکھلایا گیا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے وہاں ابو طلحہ کی اہلیہ رمیصاء کو پایا۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہما کا بیٹا فوت ہو گیا، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنے اہل والوں سے کہا: تم نے ابو طلحہ کو اس کے بیٹے کے بارے میں نہیں بتلانا، میں خود اس کو بتاؤں گی، پس جب وہ آئے تو اس نے ان کو شام کا کھانا پیش کیا، انھوں نے کھانا کھایا اور مشروب پیا، پھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کے لیے اچھی طرح تیاری کی، جیسا کہ وہ پہلے کرتی تھیں، پس انھوں نے ان سے جماع کیا، جب ام سلیم نے دیکھا کہ اس کاخاوند خوب سیر ہو گیا اور حق زوجیت بھیادا کر لیا تو اس نے کہا: اے ابو طلحہ! اس کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے کہ لوگ ایک گھر والوں کو کوئی چیز عاریۃً دیتے ہیں، پھر جب وہ ان سے واپس کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو کیا وہ روک سکتے ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں، نہیں روک سکتے، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: تو پھر اپنے بیٹے کی وفات پر ثواب کی نیت سے صبر کر، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ چل پڑے، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارے ماجرے کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری گزشتہ رات میں برکت فرمائے۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو حمل ہو گیا، ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں تھے اور ام سلیم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے واپسی پر مدینہ آتے تھے تو رات کو شہر میں داخل نہیں ہو تے تھے، پس جب وہ مدینہ کے قریب پہنچے تو ام سلیم رضی اللہ عنہا کو دردِ زہ شروع ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو آگے چل دیئے، لیکن سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کے پاس رک گئے اور انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! تو جانتا ہے کہ مجھے یہ بات پسند لگتی ہے کہ تیرے رسول کے ساتھ سفر میں نکلوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہی مدینہ میں داخل ہوں، لیکن اب تو دیکھ رہا ہے کہ میں رک گیا ہوں، اتنے میں ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: جو چیز میں پہلے پاتی تھی، ابھی وہ نہیں پا رہی، پس ہم چل پڑے اور جب مدینہ پہنچے تو دوبارہ دردِ زہ شروع ہوا اور انھوں نے بچہ جنم دیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری ماں نے مجھے کہا: اے انس! کوئی بھی اس کو دودھ نہ پلائے، یہاں تک کہ تو صبح کو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جائے، وہ کہتے ہیں: میں بچہ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جانوروں کو داغنے والا ایک آلہ تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: شاید ام سلیم نے بچہ جنم دیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ آلہ رکھ دیا، میں بچے کو لے کر آگے بڑھا اور اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گودی میں رکھ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کی عجوہ کھجورمنگوائی، اس کو اپنے منہ مبارک میں ڈال کر چبایا،یہاں تک کہ وہ نرم ہو گئی، پھر اس کو بچے کے منہ میں ڈالا اور بچہ زبان پھیر کر اس کو نگلنے لگ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دیکھو کہ انصاریوں کو کھجور سے کتنی محبت ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور اس کا نام عبد اللہ رکھا۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لایا کرتے اور ان کے بستر پر سو جایا کرتے تھے، ایسا بھی ہوتا کہ وہ اپنے گھر پر موجود نہیں ہوتی تھیں، وہ ایک دن گھر تشریف لائیں تو ان کو بتلایا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے بستر پر سوئے ہوئے ہیں، گرمی کا موسم تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس قدر پسینہ آیا ہوا تھا کہ وہ بستر کے چمڑے کے ٹکڑے پر گر رہا تھا۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینہ کو نچوڑ نچوڑ کر ایک شیشی میں جمع کرنے لگی، میں یہ کام کر رہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہو گئے اور فرمایا: ام سلیم رضی اللہ عنہ تم یہ کیا کر رہی ہو؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اسے اپنے بچوں کے لیے بطور تبرک استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: درست کر رہی ہو۔
Takhreej
(۱۱۹۸۵) تخریج: أخرجہ البخاری بنحوہ: ۶۲۸۱، و مسلم: ۲۳۳۱(انظر: ۱۳۳۶۶)
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں جا کر قیلولہ کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ بہت زیادہ آتا تھا، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے چمڑے کا ایک بچھونا تیار کیا، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیلولہ کیا کرتے تھے۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا آپ کے پائوں کے درمیان ایک لکیر سی بنا دی تھی۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینے کو نچوڑ کر جمع کر لیتی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ! یہ کیا کر رہی ہو؟ انہوںنے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آپ کا پسینہ ہے، میں اسے اپنی خوشبو میں ملائوں گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں بہترین دعا فرمائی۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے اور ان کے بستر پر سو جاتے تھے،جبکہ بسا اوقات ایسے ہوتا کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا گھر پر موجود نہیں ہوتی تھیں، جب وہ آتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سویا ہواپاتیں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سوتے تو آپ کو اتنا پسینہ آتا کہ بہنے لگتا۔ وہ آپ کے پسینہ کو روئی سے جمع کرکے اسے شیشی میں نچوڑ لیتیں اور پھر اسے اپنی کستوری میں ملا لیتیں۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، انہوںنے آپ کی خدمت میں کھجوریں اور گھی پیش کیا،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن روزے سے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کھجوریں ان کے تھیلے میں اور گھی اس کے ڈبے میں واپس رکھ دو۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہو کر دو رکعتیں ادا کیں، ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔ پھر آپ نے سیدنا ام سلیم رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کے حق میں برکت کی دعا کی۔ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری ایک خصوصی درخواست ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ کیا؟ انہوںنے کہا: یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خادم سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہے، اس کے حق میں خصوصی دعا کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا و آخرت کی ہر خیر کی میرے حق میں دعا کر دی اور فرمایا: یا اللہ! اسے بہت سا مال اور اولاد عنایت فرما اور اس کے لیے ان میں برکت فرما۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ تمام انصار میں سے کسی کے پاس مجھ سے زیادہ دولت نہیں، جبکہ اس سے پہلے ان کے پاس صرف ایک انگوٹھی تھی اور ان کی بڑی بیٹی امینہ نے بتلایا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے حجاج بن یوسف کے آنے سے پہلے تک اپنی اولاد میں سے تقریباً ایک پچیس چھبیس افراد کو دفن کیا گیا۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا غزوۂ حنین کے موقع پر اپنے شوہر سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھیں، اس روز سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس ایک خنجر تھا، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : ام سلیم !یہ آپ کے پاس کس لیے ہے؟ انھوں نے کہا: یہ میں نے اس لیے ساتھ رکھا ہے کہ اگر کوئی کافر میرے قریب آیا تو میں اس کے ساتھ اس کے پیٹ کو چاک کر دوں گی۔ یہ بات سن کر سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ ام سلیم رضی اللہ عنہ کی بات سن رہے ہیں، وہ تو یوں کہہ رہی ہے۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے جن لوگوں کو مکہ میں آزاد کیا ہے ان کا ایمان کم زور ہے، وہ منافق ہیں، آپ ان کو قتل کر دیں۔ اے اللہ کے رسول! وہ آپ کو اکیلے چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام سلیم! اللہ تعالیٰ نے ہماری مددکی اور خوب مدد کی۔
Takhreej
(۱۱۹۸۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۰۹(انظر: ۱۴۰۴۹)
Explanation
فوائد:… نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کی بات سے راضی نہیں ہوئے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مومنوں کے ساتھ مہربان اور رحم دل تھے۔
غزوۂ حنین کے موقع پر ایک بار مسلمانوں کو پسپا ہونا پڑا، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کے بارے میں سخت رویہ پیش کیا، لیکن دو بارہ مسلمان سنبھل گئے اور اللہ تعالیٰ نے فتح عطا کر دی۔
خواتین کا جہاد میں شرکت کرنا کیسا ہے؟ کتاب الجھاد میں اس تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک اور روایت میں ہے کہ حنین کے دن جب مسلمان شکست کھا گئے تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آواز دی: اے اللہ کے رسول!جولوگ ہم سے بعد والے ہیں، آپ انہیں قتل کر دیں،یہ لوگ آپ کو اکیلے چھوڑ کر نکل بھاگے ہیں۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام سلیم! اللہ تعالیٰ نے ہماری خوب مدد کی ہے۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے شوہر سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو ان کے پس ایک گینتی دیکھی اورپوچھا: ام سلیم! یہ کیا ہے؟ انہوںنے جواب دیا:اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اس کا پیٹ چاک کر دوں گی۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! دیکھئے، ام سلیم کیا کہہ رہی ہے؟
Takhreej
(۱۱۹۹۰) تخریج: اخرجہ مسلم: ۱۸۰۹(انظر: ۱۲۰۵۸)
Explanation
فوائد:… اس باب میں بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے۔ وہاں قیلولہ کرتے اور ام سلیم رضی اللہ عنہ گھر پر موجود نہ بھی ہوتیں تو ان کے بستر پر آرام فرماتے۔ بعض احادیث میں ام حرام کے گھر جانے کا ذکر بھی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہ اور ام حرام رضی اللہ عنہ یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعی خالہ تھیں۔ یہ قباء میں ایک ہی گھر میں رہتی تھیں۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تھا تو سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا رونے لگیں، ان سے کہا گیا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال پر کیوں روتی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں یہ بات جانتی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عنقریب وفات پا جائیں گے، میں تو اس لیے رو رہی ہوں کہ اب وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کوئی آدمی اپنے مال میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھجوروں کے چند درخت یا حسب تو فیق کوئی چیز مقرر کر دیتا۔ جب بنو قریظہ اور بنو نضیر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح نصیب ہوئی تو آپ اس کے بعد لوگوں کی طرف سے دیئے ہوئے اموال ان کو واپس کرنے لگے، میرے گھر والوں نے بھی مجھ سے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر آپ سے اس چیز کا یا اس میں سے کچھ کا مطالبہ کروں، جو وہ آپ کو دے چکے تھے۔ میرے گھر والوں کے دیئے ہوئے کھجوروں کے درخت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام ایمن رضی اللہ عنہا کو اور کچھ دوسرے افراد کو دے چکے تھے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے جا کرنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درختوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تو آپ نے مجھے وہ واپس کر دیئے۔ لیکن سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے آکر میری گردن میں کپڑا ڈال دیااور کہنے لگیں: ہر گز نہیں، اللہ کی قسم! اللہ کے رسول یہ درخت مجھے دے چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اب یہ درخت تمہیں نہیں دیں گے۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں ان کے عوض اتنے درخت دے دیتا ہوں۔ لیکن وہ کہتی جاتیں کہ ہر گز نہیں، اللہ کی قسم! اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے کہتے جاتے کہ آپ کوکھجور کے اتنے درخت دے دیتا ہوں، یہاں تک کہ آپ نے حسب وعدہ ان کو عنایت کر دیئے۔ سلیمان کہتے ہیںمیرا خیال ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ نے ان کو دس گنا یا دس گنا کے قریب کھجوروں کے درخت عنایت فرمائے تھے۔
فوائد:… سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لونڈی اور آپ کی مربیہ ہیں، ان کا نام برکہ ہے، نام اور کنیت دونوں سے ان کی شہرت ہے، عام لوگوں میں ان کی کنیت ہی مشہور ہے، اصل میں حبشہ کی رہنے والی تھیں۔ بعض مورخین نے کہا ہے کہ مکہ پر حملہ کرنے والے ہاتھیوں کے لشکر والے ابرہہ کے لشکر کے اسیروں میں سے تھیں،یہ عبدالمطلب کے حصہ میں آئیں، ان کے بعد وہ ان کے بیٹے عبداللہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد )کے حصہ میں آئیں اور ان کے بعد بطور وراثت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حصہ میں آئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے عقد نکاح کے موقع پر ان کو آزاد کرکے بنو حارث بن خزرج کے ایک شخص عبید بن زید سے ان کا نکاح کر دیا، وہ مکہ آئے تھے، ان کے ہاں ان کے بطن سے ان کے فرزند ایمن کی ولادت ہوئی۔ اسی کی نسبت سے ان کی کنیت ہے،شوہر کی وفات کے بعد یہ واپس مکہ آگئیں اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کر لیا اور ان کے بطن سے اسامہ رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی۔ صحیح مسلم میں امام زہری سے مروی ہے کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہ ، عبداللہ بن عبدالمطلب کی لونڈی تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پرورش اور تربیت کیا کرتی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو آزاد کرکے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے پانچ ماہ بعد ان کا انتقال ہوا۔
ذہن نشین رہنا چاہیے کہ ام ایمن نام کی ایک اور خاتون بھی ہیں، وہ بھی حبشہ سے تھیں اور ان کا نام بھی برکہ تھا، وہ ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہ کی خدمت کیا کرتی تھیں۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں قیلولہ کر رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ مسکرا رہے تھے، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ اس سمندر پر سوار ہو رہے ہیں، وہ بادشاہوں کی طرح تختوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں سے بنا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو اس کو ان میں سے بنا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ مجھ پر پیش کیے گئے، وہ اس سمندر پر سوار ہو رہے ہیں اور ایسے لگ رہا ہے کہ وہ تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہ ہیں۔ میں نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اوّلین لوگوں میں سے ہو۔ پھر سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا اپنے خاوند سیدنا عبادہ بن صامت کے ساتھ اس غزوے کے لیے نکلیں، شہباء خچر نے ان کو اس طرح گرایا کہ ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گئیں۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنت ِ ملحان کے پاس ٹیک لگائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسکراتے ہوئے سر مبارک اٹھایا، سیدہ بنت ِ ملحان رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ انھوں نے کہا: میری امت کے کچھ لوگ ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے اس سبز سمندر پر سوار ہو رہے ہیں، ان کی مثال تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں کی سی ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو اس کو ان میں سے بنا دے۔ پھر اس خاتون نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے شادی کر لی اور اپنے بیٹے قرظہ کے ساتھ سمندری سفر شروع کیا، واپسی پر جب وہ ساحل کے پاس اپنی ایک سواری پر سوار ہوئی تو اس نے اس کو یوں گرایا کہ اس کی گردن ٹوٹ گئی، سو وہ گری اور فوت ہو گئی۔
Takhreej
(۱۱۹۹۴) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… سیدہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خالہ اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ، جن کا ذکر ابھی گزرا ہے، کی بہن ہیں۔ یہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے جاتے اور ان کے ہاں دوپہر کو آرام فرمایا کرتے تھے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعی خالہ تھیں، (۲۷یا۲۸) سن ہجری میں بحری غزوہ سے واپسی پر ان کی وفات ہوئی۔
دیکھیں حدیث نمبر (۴۸۳۷)
سیدہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کچھ کپڑے لائے گئے، ان میں ایک چھوٹی سی ایک اونی چادر بھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم اس چادر کا سب سے زیادہ کس کو مستحق سمجھتے ہو؟ صحابۂ کرام خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام خالد کو میرے پاس لائو۔ پس اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تو آپ نے وہ کپڑا اسے پہنا دیا اور دو دفعہ فرمایا: تم اس کو بوسید کرو، تم اس کو بوسیدہ کرو (یعنی تم زندہ رہو اور دیر تک اسے استعمال کرو)۔ اور آپ اس چادر کے اوپر موجود سرخ یا زرد علامات کو اچھی طرح دیکھتے اور فرماتے: ام خالد! بہت اچھے، بہت اچھے۔ حدیث میں وارد لفظ سناہ حبشی زبان کا ہے، اس کے عربی میں معانی عمدہ، اچھا اور بہترین کا ہے۔
فوائد:… سیدہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہا اموی خاندان کی خاتون ہیں، ان کی شہرت کنیت سے ہے۔ ان کا اصل نام امۃ ہے، ان کو اور ان کے والدین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے۔ سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ نے مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور ان کی اہلیہ ہمینہ بنت خلف بھی ان کے ساتھ تھیں، وہیں ان کی بیٹی امہ کی ولادت ہوئی، سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح ہوا تھا،انہوںنے کا فی طویل عمر پائی، بلکہ امام بخاری کہتے ہیں کہ خواتین میں سے کسی نے ان جتنی عمر نہیں پائی۔
عروہ سے روایت ہے کہ سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا ان خواتین میں سے ہیں، جنہوں نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ہبہ کر دیا تھا۔
فوائد:… سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا اپنی کنیت کے ساتھ مشہور ہیں، ان کا نام عزیلہیا غُزیّہیا غَزِیّہ تھا، یہ ابو العسکر بن سمی بن حارث ازدی دوسی کے نکاح میں تھیں،ان کے ہاں شریک کو جنم دیا۔ خاتون کا اپنے آپ کو کسی کے لیے ہبہ کر دینا اور اس شخص کا اس عورت سے خود شادی کر لینا اور کسی سے کروا دینا،یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ تھا اور یہ کسی خلیفہ اور امتی کا حق نہیںہے۔
سیدہ ام فروہ رضی اللہ عنہا ، جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ سب سے افضل عمل کونسا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز کو اس کے اول وقت پر ادا کرنا۔
فوائد:… سیدہ ام فروہ رضی اللہ عنہا ، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی باپ کی طرف سے بہن ہیں، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اشعث بن قیس سے ان کا نکاح کیا تھا اور ان سے ان کی اولاد ہوئی تھی، ایک بیٹے کا نام محمد تھا۔
یاد رہے کہ ام فروہ رضی اللہ عنہا یہ ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کی دختر ہیں اور سیدنا ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کی پدری ہمشیرہ ہیں۔ ان کے شوہر کا نام ابو بکر الاشعث بن قیس ہے۔ ان کے بطن سے محمد بن الاشعث وغیرہ نے جنم لیا۔
سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی اور کہا: میں نے خواب میں اپنے گھر یا اپنے حجرے میں آپ کے اعضاء میں سے ایک عضو دیکھا ہے اور میں اس سے گھبرا گئی ہوں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیٹا جنم دے گی اور تم اس کی کفالت کرو گی۔ پس سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے واقعی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو جنم دیا اور ان کو سیدہ ام فضل کے سپرد کر دیا، انھوں نے ان کو سیدنا قثم رضی اللہ عنہ کے دودھ سے دودھ پلایا، ایک دن میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرنے کے لیے آپ کے پاس آئی۔ آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو پکڑا اور اپنے سینے پر رکھ دیا، پس بچے نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینے پر پیشاب کر دیا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ازار تک پہنچ گیا، میں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے کندھوں کے درمیان اپنے ہاتھ سے مارا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری اصلاح کرے، تم نے میرے بیٹے کو تکلیف دی ہے۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے۔ پھر میں نے کہا: آپ اپنا ازار مجھے دے دیں، تاکہ میں اس کو دھو دوں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف بچی کے پیشاب کو دھویاجاتا ہے اور بچے کے پیشاب پر پانی بہا دیا جاتا ہے۔
فوائد:… قثم : یہ امر الفضل کا بیٹا ہے اس کے دودھ سے دودھ پلانے کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ حسن (ایک روایت کے مطابق حسین) کو دودھ پلا رہی تھیں تو اس وقت قثم چھوٹے بچے تھے اور اپنی ماں کا دودھ پیتے تھے گویا قثم کے حصہ کا دودھ حسن نے پیا تھا۔
طہارت کے ابواب اس حدیث کے فقہی مسائل پر بحث ہو چکی ہے۔
سیدہ ام فضل لبابہ بنت حارث بن حزن ہلالیہ رضی اللہ عنہا ، ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی ہمشیرہ اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب کی اہلیہ ہیں، ان کے بطن سے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے چھ بیٹے پیدا ہوئے۔ ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد دائرہ ٔ اسلام میں داخل ہونے والییہ اولین خاتون ہیں، نبیکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے ملاقات کے لیے ان کے گھر جایا کرتے تھے۔
ان کے نام درج ذیل ہیں:
فضل، عبداللہ، معبد، عبیداللہ، قثم، عبدالرحمن۔
سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ صحابہ کو عرفہ کے دن یہ شک ہونے لگا کہ آیا آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے سے ہیںیا نہیں، سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے کہا: میں تمہیں اس کا پتہ کرا کے دیتی ہوں،پھر انہوںنے دودھ کا برتن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھجوایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پی لیا (اور اس طرح پتہ چل گیاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا روزہ نہیں ہے)۔
۔ (دوسری سند) سیدنا ام فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کو عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزے کے بارے میں شک ہونے لگا، تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دودھ بھجوا دیا اورآپ نے وہ نوش فرما لیا، اس وقت آپ عرفہ میں اونٹ پر سوار ہو کرلوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔
Takhreej
(۱۲۰۰۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہ انتہائی زیرک خاتون تھیں اور انھوں نے بڑے خوبصورت انداز میں صحابۂ کرام کے اس شک کو دور کیا۔