TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

فضائل و مناقب کی کتاب - فضائل و مناقب کی کتاب - Book 172 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 172 of Musnad Ahmad, with 144 chapters and 497 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

497 Hadith · 144 Chapters
یہ بنو اسد بن خزیمہ کے قبیلہ کی خاتون ہیں اور یہ ان خواتین میں سے ہیں، جنہوں نے سب سے پہلے ہجرت کی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا شرف حاصل کیا۔
۔ (۱۲۰۰۱)۔ عَنْ أَبِی الْحَسَنِ مَوْلَی أُمِّ قَیْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ قَیْسٍ أَنَّہا قَالَتْ: تُوُفِّیَ ابْنِی فَجَزِعْتُ عَلَیْہِ فَقُلْتُ لِلَّذِی یَغْسِلُہُ: لَا تَغْسِلْ ابْنِی بِالْمَائِ الْبَارِدِ فَتَقْتُلَہُ، فَانْطَلَقَ عُکَّاشَۃُ بْنُ مِحْصَنٍ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَہُ بِقَوْلِہَا فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ: ((مَا قَالَتْ؟ طَالَ عُمْرُہَا۔)) قَالَ: فَلَا أَعْلَمُ امْرَأَۃً عُمِّرَتْ مَا عُمِّرَتْ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۳۹)
سیدہ ام قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میرا بیٹا وفات پا گیا، میں اس پر بہت زیادہ غمگین ہوئی، میں نے غسل دینے والے سے کہا کہ میرے بیٹے کو ٹھنڈے پانی سے غسل دے کر اسے مار نہ دینا، تو ان کے بھائی سیدہ عکاشہ بن محصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جا کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان کییہ بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر تبسم کیا اور فرمایا: اس نے کیا کہا؟ اس کی عمر طویل ہو۔ ابو الحسن کہتے ہیں: میرے علم کے مطابق جتنی عمر ان کو ملی، اتنی عمر کسی خاتون کی نہیں تھی۔
Takhreej
(۱۲۰۰۱) تخریج: اسنادہ محتمل للتحسین، اخرجہ النسائی: ۴/ ۲۹ (انظر: ۲۶۹۹۹)
Explanation
فوائد:… سیدہ ام قیس بنت محصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا نام امیہ ہے، یہ سیدنا عکاشہ بن محصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ہمشیرہ ہیں، انہوں نے مکہ میں اسلام قبول کیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیعت کا شرف حاصل کیا اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی سعادت حاصل کی۔
12001
Sahih
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۲۰۰۲)۔ عَنْ أَبِی مُرَّۃَ، مَوْلٰی فَاخِتَۃَ أُمِّ ہَانِیئٍ، عَنْ فَاخِتَۃَ أُمِّ ہَانِیئٍ بِنْتِ أَبِی طَالِبٍ، قَالَتْ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ فَتْحِ مَکَّۃَ، أَجَرْتُ رَجُلَیْنِ مِنْ أَحْمَائِی، فَأَدْخَلْتُہُمَا بَیْتًا وَأَغْلَقْتُ عَلَیْہِمَا بَابًا، فَجَائَ ابْنُ أُمِّی عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ، فَتَفَلَّتَ عَلَیْہِمَا بِالسَّیْفِ، قَالَتْ: فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ أَجِدْہُ، وَوَجَدْتُ فَاطِمَۃَ فَکَانَتْ أَشَدَّ عَلَیَّ مِنْ زَوْجِہَا، قَالَتْ: فَجَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَلَیْہِ أَثَرُ الْغُبَارِ فَأَخْبَرْتُہُ، فَقَالَ: ((یَا أُمَّ ہَانِیئٍ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ، وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۴۴۵)
سیدہ ام ہانی فاختہ بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: فتح مکہ والے دن میں نے اپنے دو سسرالی رشتہ داروں کو پناہ دی اور ان کو گھر میں داخل کر کے دروازہ بند کر دیا، میری اپنی ماں کا بیٹا سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور ان پر تلوار سونت لی، میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے نہ مل سکے، البتہ سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا موجود تھیں، لیکن وہ میرے معاملے میں مجھ پر اپنے خاوند سے بھی زیادہ سختی کرنے والی تھیں، اتنے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر گردو غبار کا اثر تھا، جب میں نے اپنی بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ام ہانی! جن کو تو نے پناہ دی، ہم نے بھی ان کو پناہ دی اور جن کو تو نے امن دیا، ہم نے بھی ان کو امن دے دیا۔
Takhreej
(۱۲۰۰۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۸۰، ۳۵۷، ۳۱۷۱، ۶۱۵۸، ومسلم: ۳۳۶(انظر: ۲۶۹۰۶)
Explanation
فوائد:… دیکھیں حدیث نمبر (۵۱۳۶) سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اصل نام فاختہ ہے، نبوت سے قبل رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے چچا کو پیغام دے کر ان سے نکاح کی رغبت کا اظہار کیا اور اسی طرح ہبیرہ بن ابی وہب نے بھی ان سے نکاح کرنے کا پیغام بھیجا اور ہبیرہ سے ان کا نکاح ہو گیا تھا، سیدہ ام ہانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا اور اسلام نے ان کے اور ان کے شوہر کے درمیان تفریق کر دی۔
12002
Sahih
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۲۰۰۳)۔ عَنْ أُمِّ ہَانِیئٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلَیْہَا، فَدَعَا بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَہَا فَشَرِبَتْ، فَقَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَمَا إِنِّی کُنْتُ صَائِمَۃً، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِیرُ نَفْسِہِ إِنْ شَائَ صَامَ وَإِنْ شَائَ أَفْطَرَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۳۱)
سیدہ ام ہانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پانی طلب فرمایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پانی پی کر باقی پانی ان کو واپس دیا تو انہوںنے (آپ کا جوٹھا پانی) پی لیا اور پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نفلی روزے دار اپنے نفس کا خود امیر ہوتا ہے، چاہے تو روزہ پورا کر لے اور چاہے تو روزہ توڑ دے۔
Takhreej
(۱۲۰۰۳) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، اخرجہ الترمذی: ۷۳۲ (انظر: ۲۶۸۹۳)
12003
Sahih
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۲۰۰۴)۔ عَنِ ابْنِ أَبِیْ لَیْلٰی قَالَ مَا أَخْبَرَنِی أَحَدٌ أَنَّہُ رَأَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الضُّحٰی غَیْرُ أُمِّ ھَانِیئٍ فَاِنَّہَا حَدَّثَتْ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ بَیْتَہَا یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ فَاغْتَسَلَ وَصَلّٰی ثَمَانَ رَکَعَاتٍ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ یُخَفِّفُ فِیْہِنَّ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ) مَارَأَتْہُ صَلّٰی صَلَاۃً قَطُّ أَخَفَّ مِنْہَا غَیْرَ أَنَّہُ کَانَ یُتِمُّ الرَّکُوْعَ وَالسُّجُودِ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۳۹)
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: سیدہ ام ہانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ کسی نے مجھے خبر نہیں دی کہ اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہو، انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ والے دن اس کے گھر میں داخل ہوئے،غسل کیا اور آٹھ رکعات نماز پڑھی، تخفیف کے ساتھ رکوع و سجود کیے، (بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ) اس نے نبی کریمfکو اس سے ہلکی نماز پڑھتے کبھی نہیں دیکھا تھا، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع و سجود مکمل کر رہے تھے۔
Takhreej
(۱۲۰۰۴) تخریـج: أخرجہ البخاری: ۱۱۰۳، ۱۱۷۶، ۴۲۹۲، ومسلم: ۳۳۶ (انظر: ۲۶۹۰۰)۔
Explanation
فوائد:… دیکھیں حدیث نمبر (۲۲۶۸)
12004
Sahih
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۲۰۰۵)۔ عَنْ أُمِّ ہَانِیئٍ بِنْتِ أَبِی طَالِبٍ قَالَتْ: مَرَّ بِی ذَاتَ یَوْمٍ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی قَدْ کَبِرْتُ وَضَعُفْتُ أَوْ کَمَا قَالَتْ: فَمُرْنِی بِعَمَلٍ أَعْمَلُہُ وَأَنَا جَالِسَۃٌ، قَالَ: ((سَبِّحِی اللّٰہَ مِائَۃَ تَسْبِیحَۃٍ، فَإِنَّہَا تَعْدِلُ لَکِ مِائَۃَ رَقَبَۃٍ تُعْتِقِینَہَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِیلَ، وَاحْمَدِی اللّٰہَ مِائَۃَ تَحْمِیدَۃٍ تَعْدِلُ لَکِ مِائَۃَ فَرَسٍ مُسْرَجَۃٍ مُلْجَمَۃٍ تَحْمِلِینَ عَلَیْہَا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، وَکَبِّرِی اللّٰہَ مِائَۃَ تَکْبِیرَۃٍ فَإِنَّہَا تَعْدِلُ لَکِ مِائَۃَ بَدَنَۃٍ مُقَلَّدَۃٍ مُتَقَبَّلَۃٍ، وَہَلِّلِی اللّٰہَ مِائَۃَ تَہْلِیلَۃٍ۔)) قَالَ ابْنُ خَلَفٍ: أَحْسِبُہُ قَالَ: ((تَمْلَأُ مَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ، وَلَا یُرْفَعُ یَوْمَئِذٍ لِأَحَدٍ عَمَلٌ إِلَّا أَنْ یَأْتِیَ بِمِثْلِ مَا أَتَیْتِ بِہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۴۵۰)
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں عمر رسیدہ ہو گئی ہوں اور کمزور ہو گئی ہے، اس لیے مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں کہ بیٹھ کر کر لیا کروں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سو (۱۰۰) بار سُبْحَانَ اللّٰہ کہو، یہ عمل تمہارے لیے اولادِ اسماعیل سے سو گردنیں آزاد کرنے کے برابر ہو گا، سو (۱۰۰) دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہو، یہ عمل تمہارے لیے اللہ کے راستے میں سو لگام شدہ اور زین شدہ گھوڑے دینے کے برابر ہو گا، سو (۱۰۰) بار اَللّٰہُ اَکْبَر کہو، یہ عمل تیرے لیے ان سو (۱۰۰) اونٹوں کے برابر ہو گا، جن کو قلادے ڈال کر حج کے زمانے میں مکہ مکرمہ کی طرف بھیج دیا جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبول بھی کر لیے جائیں اور سو (۱۰۰) بار لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہو، یہ عمل آسمان و زمین کے درمیانی خلا کو ثواب سے بھر دے گا، اس دن کسی آدمی کا ایسا عظیم عمل اوپر کی طرف نہیں اٹھائے، الا یہ کہ وہ اسی طرح کا عمل کرے، جیسے تو نے کیا ہے۔
Takhreej
(۱۲۰۰۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابی صالح، أخرجہ بنحوہ ابن ماجہ: ۳۸۱۰(انظر: ۲۶۹۱۱)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَالْبَاقِیَّاتُ الصَّالِحَاتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَ خَیْرٌ اَمَلَا۔} (سورۂ کہف: ۴۶) … اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے اچھی اور توقع کے لحاظ سے بہتر ہیں۔ تمام فرائض و واجبات اور سنن و نوافل، باقیات صالحات ہیں، بلکہ ممنوعہ امور سے اجتناب کرنا بھی عمل صالح ہے، جس پر آخرت میں اجر و ثواب ملے گا۔ اس حدیث میں ایک مثال کا ذکر ہے۔
12005
Zaeef
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۲۰۰۶)۔ عَنْ أُمِّ وَرَقَۃَ بِنْتِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَزُورُہَا کُلَّ جُمُعَۃٍ، وَأَنَّہَا قَالَتْ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! یَوْمَ بَدْرٍ أَتَأْذَنُ فَأَخْرُجُ مَعَکَ أُمَرِّضُ مَرْضَاکُمْ وَأُدَاوِی جَرْحَاکُمْ لَعَلَّ اللّٰہَ یُہْدِی لِی شَہَادَۃً؟ قَالَ: ((قَرِّی فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یُہْدِی لَکِ شَہَادَۃً۔)) وَکَانَتْ أَعْتَقَتْ جَارِیَۃً لَہَا وَغُلَامًا عَنْ دُبُرٍ مِنْہَا، فَطَالَ عَلَیْہِمَا فَغَمَّاہَا فِی الْقَطِیفَۃِ حَتّٰی مَاتَتْ وَہَرَبَا، فَأَتَی عُمَرُ فَقِیلَ لَہُ إِنَّ أُمَّ وَرَقَۃَ قَدْ قَتَلَہَا غُلَامُہَا وَجَارِیَتُہَا وَہَرَبَا، فَقَامَ عُمَرُ فِی النَّاسِ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَزُورُ أُمَّ وَرَقَۃَ، یَقُولُ: انْطَلِقُوْا نَزُوْرُ الشَّہِیدَۃَ، وَإِنَّ فُلَانَۃَ جَارِیَتَہَا وَفُلَانًا غُلَامَہَا غَمَّاہَا ثُمَّ ہَرَبَا فَلَا یُؤْوِیہِمَا أَحَدٌ، وَمَنْ وَجَدَہُمَا فَلْیَأْتِ بِہِمَا، فَأُتِیَ بِہِمَا فَصُلِبَا فَکَانَا أَوَّلَ مَصْلُوبَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۲۵)
سیدہ ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر جمعہ کے دن ان کی ملاقات کے لیے جایا کرتے تھے، بدر کے موقع پر انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا مجھے اجازت ہے کہ میں آپ کے ساتھ چلوں تاکہ مریضوں کی تیمار داری اور زخمیوں کا علاج معالجہ کروں، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے مقام شہادت عطا فرما دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھر ہی ٹھہری رہو، اللہ تعالیٰ تمہیںیہیں شہادت سے سرفراز کرے گا۔ سیدہ ام ورقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ایک غلام اور لونڈی کو مدبر کیا تھا (یعنی انہوںنے یہ اعلان کر دیا تھا کہ میری وفات کے بعد یہ دونوں آزاد ہوں گے۔) مگر اللہ کی قدرت کہ سیدہ ام ورقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عمر طویل ہو گئی اور ان دو غلام اور لونڈی نے اپنی آزادی کے لالچ میں ان کے منہ اور ناک پر کس کر کپڑا لپیٹ کر ان کا سانس بند کرکے ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور خود فرار ہوگئے۔ امیر المومنین سیدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں مقدمہ گیا اور ان سے کہا گیا کہ ان کو ان کے غلام اور لونڈی نے قتل کیا ہے اور خود فرار ہوگئے ہیں۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لوگوں میں کھڑے ہو کر خطاب کیا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدہ ام ورقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی ملاقات کے لیے جایا کرتے اور کہا کرتے تھے کہ آئو شہیدہ کی ملاقات کو جائیں۔ ان کی فلاں لونڈی اور فلاں غلام نے ان کا سانس گھونٹ کر ان کو قتل کر دیا ہے اور فرار ہوگئے ہیں، کوئی بھی آدمی ان دونوں کو پناہ نہ دے اور جسے وہ دونوں ملیں، وہ ان کو ہمارے ہاں پیش کرے۔ چنانچہ ان دونوں کو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں پیش کیا گیا اور انہیں پھانسی دے دی گئی، سب سے پہلے ان دونوں کو پھانسی دی گئی تھی۔
Takhreej
(۱۲۰۰۶) تخریج:اسنادہ ضعیف لجھالۃ عبد الرحمن بن خلاد وجدّۃِ الولید بن عبد اللہ، اخرجہ ابوداود: ۵۹۲ (انظر: ۲۷۲۸۲)
12006
Zaeef
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۲۰۰۷)۔ عَنْ أَبِیْ مَعْشَرٍ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ النَّخْعِیِّ أَنَّہُ کَانَ یَدْخُلُ عَلٰی عَائَشَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَ: قُلْتُ: کَیْفَ کَانَ یَدْخُلُ عَلَیْہَا؟ قَالَ: کَانَ یَخْرُجُ مَعَ خَالِہِ الْأَسْوَدِِ، قَالَ: وَکَانَ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ عَائِشَۃَ إِخَائٌ وَوُدٌّ۔ (مسند احمد: ۲۵۹۰۹)
ابومعشرکہتے ہیں کہ ابراہیم نخعیl، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس جایا کرتے تھے۔ حدیث کے راوی سعید بن ابی عروبہ نے اپنے شیخ ابو معشر سے دریافت کیا کہ وہ ان کی خدمت میں کیسے چلے جاتے تھے؟ انھوں نے کہا: وہ اپنے ماموں اسود کے ساتھ جاتے تھے، سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اور اسود کے مابین بھائی چارہ اور کافی الفت و محبت تھی۔
Takhreej
(۱۲۰۰۷) تخریج: اثر صحیح، اخرجہ البخاری فی التاریخ الکبیر : ۱/ ۳۳۴، وابن حبان فی الثقات : ۴/ ۹ (انظر: ۲۵۳۹۵)
Explanation
فوائد:… امام اسود بن یزید بن قیس بن عبداللہ بن مالک بن علقمہ نخعی کوفی تابعی مشہور فقیہ ہیں، ان کی کنیت ابو عمرو اور ابو عبدالرحمن ہے، یہ عبدالرحمن بن یزید کے بھائی اور علقمہ بن قیس کے بھتیجے اور ابراہیم بن یزید نخعی کے ماموں ہیں، انہیں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوااور انہوں نے سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود، سیدنا معاذ، سیدنا ابو موسیٰ اور ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ سے احادیث روایت کی ہیں، انھوں نے الگ الگ سفروں میں اسی سے زائد حج اور عمرے ادا کئے۔عجلی کہتے ہیں کہ انہوںنے اسلام سے پہلے کا دور بھی پایا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زندگی میں مشرف با سلام بھی ہوئے، مگر آپ سے ملاقات نہ ہو سکی،(۷۴ ئا ۷۵) سن ہجری میں ان کا انتقال ہوا، یہ صالح مزاج بزرگ تھے۔ امام ابراہیم بن یزید بن قیس بن اسود بن عمرو بن ربیعہ بن ذہل بن سعد بن مالک بن نخع، یہ کوفی ہیں، اپنے جدا مجد نخع کی نسبت سے نخعی کی نسبت سے شہرت پائی، کوفہ کے فقیہ ہیں، ان کی کنیت ابو عمران ہے، جلیل القدر تابعی ہیں، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے لیکن ان سے ان کا سماع حدیث ثابت نہیں، اٹھاون سال کی عمر میں (۹۶) سن ہجری میں وفات پائی۔
12007
Sahih
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
۔ (۱۲۰۰۸)۔ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَحْنَفِ قَالَ: بَیْنَمَا أَطُوفُ بِالْبَیْتِ إِذْ لَقِیَنِی رَجُلٌ مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ فَقَالَ: أَلَا أُبَشِّرُکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: أَتَذْکُرُ إِذْ بَعَثَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی قَوْمِکَ بَنِی سَعْدٍ أَدْعُوہُمْ إِلَی الْإِسْلَامِ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَنْتَ وَاللّٰہِ! مَا قَالَ إِلَّا خَیْرًا، وَلَا أَسْمَعُ إِلَّا حُسْنًا، فَإِنِّی رَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَقَالَتِکَ قَالَ: ((اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِلْأَحْنَفِ۔)) قَالَ: فَمَا أَنَا لِشَیْئٍ أَرْجٰی مِنْہَا۔ (مسند احمد: ۲۳۵۴۸)
حسن سے روایت ہے کہ احنف نے کہا: میں ایک دفعہ بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا کہ بنو سلیم کا ایک آدمی آ کر مجھے ملا اور اس نے مجھ سے کہا:کیا میں تمہیں ایک خوش خبری سنائوں؟ میں نے کہا: جی ضرور سنائیں۔ اس نے کہا: کیا آپ کو یاد ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے تمہاریقوم بنو سعد کی طرف روانہ فرمایا تھا تاکہ میں انہیں اسلام کی دعوت دوں تو تم نے اس موقع پر کہا تھا کہ اللہ کی قسم! اس رسول نے اچھی بات ہی کہی ہے اور میں نے بھی ان کے متعلق اچھا ہی سنا ہے، جب میں نے واپس آکر تمہاری بات سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آگاہ کیا تو آپ نے یوں دعا کی تھی: اے اللہ! تو احنف کو بخش دے۔ انھوں نے کہا: پس مجھے سب سے زیادہ امید اسی دعا پر ہے۔
Takhreej
(۱۲۰۰۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان، اخرجہ البخاری فی التاریخ الکبیر : ۲/ ۵۰، وفی الاوسط : ۱/ ۱۸۵، والطبرانی فی الکبیر : ۷۲۸۵، والحاکم: ۳/ ۶۱۴ (انظر: ۲۳۱۶۱)
Explanation
فوائد:… احنف بن قیس، مشہور قول کے مطابق ان کا نام ضحاک ہے، بعض نے ضخر اور حارث بھی نقل کیا ہے، احنف ان کا نام نہیں، بلکہ لقب ہے۔ ان کی شہرت نام کی بجائے اس لقب سے ہے، انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا زمانہ پایا اور اسی دور میں اسلام بھی قبول کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملاقات نہ کر سکے، انھوں نے سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا عبد اللہ بن مسعود اور سیدنا ابو ذر وغیرہ سے احادیث روایت کی ہیں، امیر المومنین سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہا کرتے تھے کہ احنف، اہل بصرہ کے سردار ہیں، ان کی وفات (۶۷) سن ہجری میں بصرہ میں ہوئی۔
12008
Zaeef
اویس قرنیlکا تذکرہ
۔ (۱۲۰۰۹)۔ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، عَنْ سَعِیدٍ الْجُرَیْرِیِّ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ، عَنْ أُسَیْرِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: لَمَّا أَقْبَلَ أَہْلُ الْیَمَنِ جَعَلَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَسْتَقْرِی الرِّفَاقَ فَیَقُولُ: ہَلْ فِیکُمْ أَحَدٌ مِنْ قَرَنٍ حَتّٰی أَتٰی عَلٰی قَرَنٍ؟ فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوْا: قَرَنٌ، فَوَقَعَ زِمَامُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَوْ زِمَامُ أُوَیْسٍ فَنَاوَلَہُ أَحَدُہُمَا الْآخَرَ فَعَرَفَہُ فَقَالَ عُمَرُ: مَا اسْمُکَ؟ قَالَ: أَنَا أُوَیْسٌ، فَقَالَ: ہَلْ لَکَ وَالِدَۃٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَہَلْ کَانَ بِکَ مِنَ الْبَیَاضِ شَیْئٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَدَعَوْتُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ فَأَذْہَبَہُ عَنِّی إِلَّا مَوْضِعَ الدِّرْہَمِ مِنْ سُرَّتِی لِأَذْکُرَ بِہِ رَبِّی، قَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: اسْتَغْفِرْ لِی، قَالَ: أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لِی أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ خَیْرَ التَّابِعِینَ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ أُوَیْسٌ، وَلَہُ وَالِدَۃٌ وَکَانَ بِہِ بَیَاضٌ، فَدَعَا اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ فَأَذْہَبَہُ عَنْہُ إِلَّا مَوْضِعَ الدِّرْہَمِ فِی سُرَّتِہِ۔)) فَاسْتَغْفَرَ لَہُ ثُمَّ دَخَلَ فِی غِمَارِ النَّاسِ فَلَمْ یُدْرَ أَیْنَ وَقَعَ؟ قَالَ: فَقَدِمَ الْکُوفَۃَ قَالَ: وَکُنَّا نَجْتَمِعُ فِی حَلْقَۃٍ فَنَذْکُرُ اللّٰہَ وَکَانَ یَجْلِسُ مَعَنَا، فَکَانَ إِذَا ذَکَرَ ہُوَ وَقَعَ حَدِیثُہُ مِنْ قُلُوبِنَا مَوْقِعًا لَا یَقَعُ حَدِیثُ غَیْرِہِ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ (مسند احمد: ۲۶۶)
اسیربن جابر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب اہل یمن کے قافلے اور وفود آئے تو امیر المومنین سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے قافلوں کے پاس بار بار جا کر دریافت کرتے کہ آیا تم میں بنو قرن قبیلے کا کوئی فرد بھی ہے؟ یہاں تک کہ آپ بنو قرن کے لوگوں کے پاس پہنچ گئے، آپ نے ان سے دریافت کیا کہ تم لوگ کس قبیلہ سے ہو؟ انہوں نے بتلایا کہ وہ بنو قرن قبیلے کے لوگ ہیں، اسی دوران سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یا اویس کی سواری کی مہار نیچے گر گئی تو ان میں سے ایک نے دوسرے کو وہ مہار تھما دی، اسی دوران سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اویس کو پہچان گئے، پس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دریافت کیا: آپ کا نام کیا ہے؟ انہوں نے بتلایا: جی میرا نام اویس ہے۔ انھوں نے پوچھا: تمہاری والدہ حیات ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، انھوں نے پوچھا: کیا تمہارے جسم پر سفید داغ (دھبہ) تھا؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، پھر میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی اوراس نے اسے ختم کر دیا تھا، البتہ اس میں سے ایک درہم جتنا دھبہ میری ناف کے قریب باقی رہ گیا ہے، تاکہ میں اسے دیکھ کر اپنے رب کو یاد کرتا رہوں۔ یہ سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے فرمایا:آپ میرے حق میں دعائے مغفرت کریں۔ اس نے کہا: آپ اس بات کا زیادہ حق رکھتے ہیں کہ آپ میرے حق میں مغفرت کی دعا کریں، کیونکہ آپ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابی ہیں۔سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ تابعین میں سے سب سے افضل آدمی کا نام اویس ہے، اس کی والدہ حیات ہے، اس کے جسم پر سفید نشانات تھے، اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ نے اس مرض کو اس سے زائل کر دیا، صرف ایک درہم کے برابر نشان اس کی ناف کے قریب باقی رہ گیا۔ یہ سن کر اویس نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں دعائے مغفرت کی، اس کے بعد وہ لوگوں کی بھیڑ میں چلے گئے اور کچھ پتہ نہ چل سکا کہ وہ کدھر غائب ہوگئے۔ اسیر کہتے ہیں: وہ کوفہ آئے، ہم ایک حلقہ میں جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے، جناب اویس وہ بھی ہمارے ساتھ تشریف رکھتے، جب وہ وعظ و نصیحت کرتے تو ان کی باتوں کا ہمارے دلوںپر اس قدر اثر ہوتا کہ کسی دوسرے کی تذکیر کا اتنا اثر نہ ہوتا تھا۔
Takhreej
(۱۲۰۰۹) تخریج: اخرجہ مسلم: ۲۵۴۲(انظر: ۲۶۶)
12009
Sahih
اویس قرنیlکا تذکرہ
۔ (۱۲۰۱۰)۔ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِیکٌ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی لَیْلٰی، قَالَ: نَادٰی رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ یَوْمَ صِفِّینَ: أَفِیکُمْ أُوَیْسٌ الْقَرَنِیُّ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّ مِنْ خَیْرِ التَّابِعِینَ أُوَیْسًا الْقَرَنِیَََََّ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۳۸)
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے مروی ہے کہ جنگ صفین کے دن اہل شام میں سے ایک شخص نے بلند آواز سے پکار کر دریافت کیا:آیا تمہارے اندر اویس قرنی نام کا کوئی آدمی موجود ہے؟ لوگوں نے بتلایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ تابعین میں سب سے افضل شخص اویس قرنی ہوگا۔
Takhreej
(۱۲۰۱۰) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ اخرجہ الحاکم: ۳/ ۴۰۲، والبیھقی فی الدلائل : ۶/ ۳۷۸ (انظر: ۱۵۹۴۲)
Explanation
فوائد:… ا ویس ایکیمنی باشندہ تھا، اپنی والدہ کی خدمت کرنے کی وجہ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر نہ سکا، ایسے شخص کو محدثین کی اصطلاح میں مُخَضْرَم کہتے ہیں۔ جبیہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا: اب آپ کہاں جانا چاہتے ہیں؟ انھوں نے کہا: کوفہ کی طرف۔ آپ نے کہا: کیا میں کوفہ کے عامل کی طرف خط لکھ دوں (تاکہ وہ آپ کو عزت دے)؟ انھوں نے کہا: مفلس اور فقیر لوگوںمیں رہنا مجھے زیادہ پسند ہے۔ اگلے سال اس قبیلے کا ایک معزز آدمی حج کرنے کے لیے آیا اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس کی ملاقات ہوئی۔ آپ نے اس سے اویس کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا: اویس کے پاس تھوڑا سا سامان ہے اور ایک ردّی گھر میں سکونت پذیر ہیں۔ (مسلم) اویسl دور رسالت میں اسلام قبول کرچکے تھے، ان دنوں ان کی والدہ حیات تھیں، ان کے سوا اس کی خدمت کرنے والا اور کوئی نہ تھا، وہ اپنی والدہ کی خدمت کی وجہ سے شرف صحابیت حاصل نہ کر سکے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کو ان کی تفصیل بتا دی تھی، جس کا ذکر مذکورہ بالا احادیث میں گزرا ہے، ساری علامات کی تصدیق کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے دعا کی درخواست کی۔ جناب اویسl نے عاجزی کے طور پر کہا کہ آپ صحابی ٔ رسول ہیں۔ آپ میرے حق میں دعا فرمائیں، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ساری بات بتلائی تو انہوںنے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں دعا کی اور پھر لوگوں کے ہجوم میں کہیں غائب ہوگئے تاکہ لوگوں میں ان کی اس انداز سے شہرت نہ ہو۔
12010
Sahih
سفیان بن عینیہlکا تذکرہ
۔ (۱۲۰۱۱)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ قَالَ: حَدَّثَنِی اَبِیْ قَالَ: مَا کَانَ أَشَدَّ عَلَی ابْنِ عُیَیْنَۃَ أَنْ یَقُولَ حَدَّثَنَا (مسند احمد: ۱۹۱۹۴)
عبداللہ بن امام احمد سے مروی ہے کہ میرے والد امام احمدl نے کہا: امام سفیان ابن عینیہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے لیے حَدَّثَنَا کہنے سے زیادہ مشکل کوئی کام نہ تھا۔
Explanation
فوائد:… حَدَّثَنَا کہنے سے مراد احادیث بیان کرنا ہے، یعنی امام سفیان احادیث بیان کرنے کو سب سے مشکل کام سمجھتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف کوئی ایسی بات منسوب ہو جائے، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ارشاد نہ فرمائی ہو یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حدیث میں کوئی غلطی ہو جائے۔ سفیان بن عیینہ تبع تابعی ہیں، مکہ مکرمہ ان مسکن تھا اور انھوں نے وفات بھییہیں پائی، انہوںنے امام زہری، امام عمرو بن دینار، امام شعبی، امام عبداللہ بن دینار اور امام محمد بن منکدر سے سماع حدیث کیا اور ان سے امام اعمش، امام ثوری، امام ابن جریج، امام شعبہ، امام عبد اللہ بن مبارک، امام حماد بن زید، امام شافعی، امام احمد اور امام ابن مدینی وغیرہ نے احادیث روایت کیں، ان کی جلالت و عظمت و رفعت پر اہل علم کا اتفاق ہے، ان کی ولادت (۱۰۷) سن ہجری میں اور وفات (۱۹۸) سن ہجری میں ہوئی۔
12011
Sahih
زید بن عمرو بن نفیل کا تذکرہ
۔ (۱۲۰۱۲)۔ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ اللّٰہِ یُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ لَقِیَ زَیْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَیْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحَ، وَذٰلِکَ قَبْلَ أَنْ یَنْزِلَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْوَحْیُ، فَقَدَّمَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُفْرَۃً فِیہَا لَحْمٌ فَأَبٰی أَنْ یَأْکُلَ مِنْہَا، ثُمَّ قَالَ: إِنِّی لَا آکُلُ مَا تَذْبَحُونَ عَلٰی أَنْصَابِکُمْ، وَلَا آکُلُ إِلَّا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ۔ حَدَّثَ ہٰذَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (مسند احمد: ۶۱۱۰)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زید بن عمرو بن نفیل سے بلدح سے نشیبی حصے میں ملاقات ہوئی،یہ آپ پر نزول وحی سے پہلے کا واقعہ ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی خدمت میں کھانا پیش کیا، اس میں گوشت بھی تھا، زید نے کھانا کھانے سے انکار کیا اور کہا کہ تم لوگ اپنے بت خانوں پر جو جانور ذبح کرتے ہو، میں وہ نہیں کھاتا اور جس ذبیحہ پر اللہ کا نام نہ لیا جائے، میں وہ بھی نہیں کھایا کرتا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ واقعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کیا۔
Takhreej
(۱۲۰۱۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۸۲۶ (انظر: ۶۱۱۰)
Explanation
فوائد:… زید بن عمرو بن نفیل کے بیٹے سیدنا سعید بن زید عدوی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعث سے قبل زید بن عمرو کو بت پرستی سے نفرت تھی،یہ حق کی تلاش میں رہتے تھے، فطری طور پر انہیںیہودیت اور نصرانیت بھی پسند نہ آئی، دراصل یہ شریعت ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے جس کی بنیاد توحید پر تھی، غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ نہیں کھاتے تھے، اسی لیے جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے سامنے کھانا پیش کیا تو انہوں نے سمجھا کہ دیگر اہل مکہ کی طرح آپ نے بھی بتوں کے نام پر یہ جانور ذبح کیا ہوگا، جبکہ در حقیقت ایسا نہ تھا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی شروع ہی سے غیر اللہ کے نام کی چیز نہ کھاتے تھے اللہ نے آپ کو ایسے کھانوں سے ہمیشہ محفوظ رکھا، صحیح بخاری میں ہے کہ زید بن عمرو بن نفیل، اہل مکہ سے کہا کرتے تھے کہ بکری کو اللہ نے پیدا کیا، اسی نے اس کے لیے آسمان سے پانی نازل کیا اور اسی نے اس کے لیے زمین سے گھاس اور چارہ اگایا اور پھر تم اس بکری کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرتے ہو۔ تمہارے اس عمل اور عقیدے پر حیف ہے۔
12012
Sahih
امام مالک بن انسlکا تذکرہ
۔ (۱۲۰۱۳)۔ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ إِنْ شَائَ اللَّہُ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوشِکُ أَنْ تَضْرِبُوْا، وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً: أَنْ یَضْرِبَ النَّاسُ أَکْبَادَ الْإِبِلِ یَطْلُبُونَ الْعِلْمَ لَا یَجِدُونَ عَالِمًا أَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ۔)) وَقَالَ قَوْمٌ: ہُوَ الْعُمَرِیُّ قَالَ: فَقَدَّمُوا مَالِکًا۔ (مسند احمد: ۷۹۶۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب تم لوگ طلب علم کے لیے اونٹوں پر سفر کرکے ان کو تھکا دو گے اور لوگ اہل مدینہ کے عالم سے بڑھ کر کوئی بڑا عالم نہیں پائیں گے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے عمری مراد ہیں، لیکن جمہور کا خیال ہے کہ اس سے امام مالک بن انسl مراد ہیں، پس انھوں نے امام مالک کو ترجیح دی۔
Takhreej
(۱۲۰۱۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد الملک بن عبد العزیز مدلس، ولا یدلس الا عن ضعیف، وابو الزبیر محمد بن مسلم مدلس ایضا وقد عنعنہ، اخرجہ الترمذی: ۲۶۸۰(انظر: ۷۹۸۰)
Explanation
فوائد:… امام مالک l مشہور ائمہ اربعہ میں سے ایک ہیں،یہ امام دار الہجرہ ہیں، امام صاحب(۹۱) سن ہجری میں پیدا ہوئے اور (۱۷۹) سن ہجری میں وفات پائی، اہل علم ان کی امامت، جلالت، سیادت اور توقیر پر متفق ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی احادیث کی تعظیم کرنے اور یاد کرنے میں ان کو کمال حاصل تھا۔ عمری سے مراد کون ہے؟ اس کے بارے میں دو اقوال ہیں: (۱) عبد اللہ بن عبد العزیز بن عبد اللہ بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب، یہ بڑے زہد و تقوی والے تھے، امام نسائی نے ان کو ثقہ کہا اور امام ابن حبان نے کہا: اپنے زمانے کے سب سے بڑے زاہد تھے اور خلوت میں بہت زیادہ عبادت کرنے والے تھے۔ (۱۸۴) سن ہجری میں ان کی وفات ہوئی۔ (۲) امام ترمذی نے کہا: عمری سے مراد عبد العزیز بن عبد اللہ ہیں، جو سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اولاد سے تھے۔
12013
Zaeef
حبشہ کے بادشاہ نجاشیlکا تذکرہ
۔ (۱۲۰۱۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ یَقُولُ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((قَدْ تُوُفِّیَ الْیَوْمَ رَجُلٌ صَالِحٌ مِنَ الْحَبَشِ، ہَلُمَّ فَصُفُّوا۔)) قَالَ: فَصَفَفْنَا فَصَلَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَیْہِ وَنَحْنُ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۹۷)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج حبشہ کے ایک صالح آدمی کا انتقال ہوگیا ہے، آئو صفیں بنائو (اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھیں)۔ پس ہم نے صفیں بنائیں اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اور ہم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی۔
Takhreej
(۱۲۰۱۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۳۲۰، ۳۸۷۷،ومسلم: ۹۵۲(انظر: ۱۴۱۵۰)
12014
Sahih
حبشہ کے بادشاہ نجاشیlکا تذکرہ
۔ (۱۲۰۱۵)۔ (عَنْہٗ من طریق اخری) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَاتَ الْیَوْمَ عَبْدٌ لِلّٰہِ صَالِحٌ أَصْحَمَۃُ، فَقُومُوْا فَصَلُّوْا عَلَیْہِ۔)) فَقَامَ فَأَمَّنَا فَصَلّٰی عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۸۶)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج اللہ کا ایک بندہ اصحمہ وفات پا گیا ہے، اٹھو اور اس کی نماز جنازہ ادا کرو۔ پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اٹھ کر ہماری امامت کرائی اور اس کی نماز جنازہ ادا کی۔
Takhreej
(۱۲۰۱۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… حبشہ کے حاکم نجاشی کا نام اصحمہ تھا اور وہ مسلمان ہو چکا تھا، البتہ اس کی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملاقات نہیں ہوئی، اس نے اپنے ملک میں مسلمانوں کی خوب مدد کی اور ان کو امن و سکون سے رہنے کی اجازت دی، اس کی وفات کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابۂ کرام کو اس کی وفات کی اطلاع دی اور نماز جنازہ ادا کی، بنیادی طور پر یہی واقعہ غائبانہ نماز جنازہ کی مشروعیت کی دلیل ہے۔ یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ تھا کہ حبشہ میں ہونے والی وفات کا اسی دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پتہ چل گیا تھا، حبشہ کے بادشاہ کا لقب نجاشی ہوتا تھا۔ حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌نے کہا: ظاہر بات یہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نجاشی کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے جنازہ گاہ یا عید گاہ کی طرف اس لیے گئے تاکہ مسلمانوں کی بڑی تعداد جمع ہو جائے اور یہ بات بھی مشہور ہو جائے کہ اس نے اسلام پر وفات پائی ہے، کیونکہ بعض لوگوں کو اس کے مسلمان ہونے کا علم ہی نہ تھا۔ ابن ابی حاتم نے تفسیر میں اور دارقطنی نے افراد میں یہ روایت نقل کی ہے کہ سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی تو کسی صحابی نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو حبشہ کے ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھ دی ہے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَمَا أُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْہِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰہِ لَایَشْتَرُوْنَ بِآیَاتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓـئِکَ لَہُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ} (سورۂ آل عمران: ۱۹۹) یعنی: یقینا اہل کتاب میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اور تمہاری طرف جو اتارا گیا ہے اور ان کی جانب جو نازل ہوا اس پر بھی، اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچتے بھی نہیں، ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہے، یقینا اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے۔ معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کے شواہد بھی موجود ہیں اور مؤخر الذکر کی روایت میں یہ زیادتی بھی ہے کہ یہ اعتراض کرنے والا منافق تھا۔ (فتح الباری: ۳/۲۴۲)
12015
Sahih
ورقہ بن نوفل کا تذکرہ
۔ (۱۲۰۱۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ خَدِیْجَۃَ سَأَلَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ وَرْقَۃَ بْنِ نَوْفَلٍ فَقَالَ: ((قَدْ رَأَیْتُہُ فِی الْمَنَامِ فَرَأَیْتُ عَلَیْہِ ثِیَابَ بَیَاضٍ فَأَحْسِبُہُ لَوْ کَانَ مِنْ أَھْلِ النَّارِ لَمْ یَکُنْ عَلَیْہِ ثِیَابُ بَیَاضٍ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۷۱)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ورقہ بن نوفل کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اس کو خواب میں دیکھا ہے، اس نے سفید کپڑے زیب ِ تن کیے ہوئے تھے، میرا خیال ہے کہ اگر وہ جہنمی ہوتا تو اس پر سفید کپڑے نہ ہوتے۔
Takhreej
(۱۲۰۱۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ، أخرجہ عبد الرزاق: ۹۷۰۹ (انظر: ۲۴۳۶۷)
Explanation
فوائد:… ورقہ بن نوفل، سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے چچا زاد بھائی تھے، یہ بھی زید بن عمرو کی طرح فطرت پر برقرار تھے، لیکن انھوں نے نصرانیت کو پسند کر کے قبول کر لیا اور مختلف پادریوں کو ملے، انھوںنے اسی مذہب کی روشنی میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل ہونے والی پہلی وحی کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حوصلہ افزائی کی۔
12016
Zaeef
ابن جریجlکا تذکرہ
۔ (۱۲۰۱۷)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَہْلُ مَکَّۃَ یَقُولُونَ: أَخَذَ ابْنُ جُرَیْجٍ الصَّلَاۃَ مِنْ عَطَائٍ، وَأَخَذَہَا عَطَائٌ مِنْ ابْنِ الزُّبَیْرِ، وَأَخَذَہَا ابْنُ الزُّبَیْرِ مِنْ أَبِی بَکْرٍ، وَأَخَذَہَا أَبُو بَکْرٍ مِنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا رَأَیْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ صَلَاۃً مِنْ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ (مسند احمد: ۷۳)
عبدالرزاق سے مروی ہے کہ اہل مکہ کہا کرتے ہیں کہ ابن جریج نے نماز کا طریقہ عطاء بن ابی رباح ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے، انہوںنے ابن الزبیر ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے، انہوں نے ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور انہوں نے نماز کا طریقہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سیکھا۔ میں نے ابن جریج ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بڑھ کر بہترنماز پڑھتے کسی کو نہیں دیکھا۔
Takhreej
(۱۲۰۱۷) تخریج: أخرجہ المروزی: ۱۳۷(انظر: ۷۳)
Explanation
فوائد:… ابن جریج کا نام عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج ہے، ان کی کنیت ابو الولید اور ابو خالد ہے، یہ تبع تابعی ہیں، امام عبدالرزاق کہتے ہیں: میں جب ابن جریج کو نماز ادا کرتے دیکھتا تو پتہ چلتا کہ وہ واقعی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، انھوں نے سوبرس عمر پائی اور ۱۵۰ سن ہجری میں وفائی پائی،یہ کتب ستہ کے راویوں میں سے ہیں،اس باب میں ابن جریج ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی منقبت بیان ہوئی کہ ان کی نماز کا طریقہ قابل رشک تھا۔ امام ترمذی نے ان کے مناقب میں بیان کیا ہے کہ مکی بن ابراہیم سے مروی ہے کہ ہم ابن جریج ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں تھے کہ ایک سائل ان کی خدمت میں آیا اور اس نے کچھ مانگا تو ابن جریج نے اپنے خادم سے کہا کہ اسے ایک دینار دے دو، اس نے کہا کہ اس وقت میرے پاس ایک ہی دینار ہے، اگر میں یہ بھی اسے دے دوں تو آپ اور آپ کے تمام اہل خانہ بھوکے رہیں گے، یہ سن کر ابن جریج نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: وہی اس کو دے دو۔ مکی سے مروی ہے کہ ہم ابھی ان کی خدمت میں ہی موجود تھے کہ ایک آدمی ایک خط اور ایک تھیلی لیے ان کی خدمت میں آیا، وہ ان کے کسی دوست نے بھیجا تھا، خط میں تحریر تھا کہ میں آپ کی خدمت میں پچاس دینار بھیج رہا ہوں، ابن جریج نے تھیلی کوکھلا، جب دیناروں کی گنتی کی تو وہ اکاون تھے۔ ابن جریج ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے خادم سے کہا: تم نے ایک دینار اللہ کی راہ میں دیا تو اللہ نے وہی تمہیں واپس بھیج دیا اور اس کے ساتھ مزید پچاس دینار بھی بھیج دیئے۔
12017
Sahih

Chapters

144
01
صحابۂ کرام کے مناقب کا اجمالی تذکرہ
8 Hadith
02
انصار کے فضائل و مناقب
24 Hadith
03
انصار کے بہترین گھرانوں کا تذکرہ
2 Hadith
04
انصار اور مہاجرین کی فضیلت کا بیان
6 Hadith
05
ان خصوصیات و فضائل کا بیان جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
14 Hadith
06
ان فضائل و مناقب کا تذکرہ جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
7 Hadith
07
ان فضائل کا ذکر جن میں سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر، سیدنا بلال، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور دیگر فقراء مہاجرین شریک ہیں
1 Hadith
08
سیدنا زید بن حارثہ، سیدنا جعفر بن ابی طالب، سیدنا عبداللہ بن رواحہ اور سیدنا خالد بن ولید کے مشترکہ مناقب کا تذکرہ
1 Hadith
09
صحابۂ کرام کی ایک جماعت کے بعض خصائص
3 Hadith
10
خواتین صحابہF کی ایک جماعت کے مشترکہ خصائص
3 Hadith
11
عشرہ مبشرہ اور دیگر صحابہ کے فضائل
3 Hadith
12
نُجَبَائ، ابدال اور اصحاب صفہ کاتذکرہ
3 Hadith
13
بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والے صحابہ کی فضیلت
9 Hadith
14
صحابۂ کرام کے دورکی تحدید اور ان سے اور دوسرے حضرات سے متعلقہ تاریخی امور کا بیان
10 Hadith
15
سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
6 Hadith
16
سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان
6 Hadith
17
سیدنا اسید بن حضیر کی فضیلت کا تذکرہ
5 Hadith
18
اصیرم بن عبدالاشھل یعنی عمرو بن ثابت بن وقش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
1 Hadith
19
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
9 Hadith
20
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے چچا سیدنا انس بن نضر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
21
سیدنا براء بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
22
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
23
مؤذن رسول سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
5 Hadith
24
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
25
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
26
سیدنا جعفر بن ابی طالب اور ان کی اولادکا تذکرہ
5 Hadith
27
سیدنا جلیبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
28
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پھوپھی زاد سیدنا حارثہ بن عمیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ
1 Hadith
29
سیدنا حارثہ بن نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
30
سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ کی فضیلت اور ان کا واقعہ
3 Hadith
31
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
4 Hadith
32
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ماموں حرام بن ملحان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
33
سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
34
سیدنا حنظلہ بن حذیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
35
سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
4 Hadith
36
سیدنا خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
37
سیدنا خبیب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
2 Hadith
38
سیدنا خریم اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
39
دگنی گواہی والے سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
40
سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
41
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے نکاح کا واقعہ اور اس میں سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کا بیان
2 Hadith
42
سیدنا زاہر بن حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
43
سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
7 Hadith
44
سیدنا زید بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
45
سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
46
سیدنا سائب بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کو سائب بن ابو سائب بھی کہتے ہیں
2 Hadith
47
سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
48
سیدنا ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے غلام سیدنا سالم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
49
سیدنا سعد بن ابی ذباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
50
سیدنا سعدبن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کو سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی کہا جاتا ہے
8 Hadith
51
خزرج کے سردار سیدنا سعد بن عبادۃ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
52
اوس کے رئیس سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
10 Hadith
53
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم ابو عبدالرحمن سفینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
54
سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ
5 Hadith
55
سیدنا سلمہ بن محبق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
56
سیدنا سلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، ان کا واقعہ اور ان کے قبول اسلام کا از اول تا آخر مکمل اور مفصل واقعہ
3 Hadith
57
سیدنا سمرہ بن فاتک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
58
سیدنا صہیب بن سنان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
59
سیدنا ضرار بن ازور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
60
سیدنا ضماد ازدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان
1 Hadith
61
سیدنا ضمرہ بن ثعلبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
62
سیدنا طارق بن شہاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
63
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
64
سیدنا عامر بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
65
سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
66
سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
4 Hadith
67
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
68
سیدنا عبداللہ بن انیس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
69
سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
70
سیدنا عبداللہ بن خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
71
ذوالبجادین سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
72
سیدنا عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
73
سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
74
سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
75
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
13 Hadith
76
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فتاوی کی فصل
2 Hadith
77
سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
4 Hadith
78
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فتاوی کا تذکرہ
3 Hadith
79
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
9 Hadith
80
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا عبداللہ بن حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
4 Hadith
81
سیدنا عبداللہ بن مسعود المعروف ابن ام عبد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
11 Hadith
82
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیدنا عباس بن عبدالمطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
83
سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
84
سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
4 Hadith
85
سیدنا عروہ بن ابی جعد بارقی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
86
سیدنا عکاشہ بن محصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
87
سیدنا علاء بن الحضرمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
88
سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
9 Hadith
89
سیدنا عمرو بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
90
نابینا صحابی سیدنا عمر وبن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
91
سیدنا عمرو بن تغلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
92
سیدنا عمرو بن جموح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کاتذکرہ
1 Hadith
93
چوتھے نمبر پر دائرۂ اسلام میں داخل ہونے والے ابو نجیح سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
94
سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے قبول اسلام کا واقعہ
10 Hadith
95
سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
96
سیدنا فرات بن حیان عجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
97
سیدنا قتادہ بن ملحان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
98
سیدنا معاویہ بن قرہ مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا قرہ بن ایاس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
99
سیدنا کعب بن مالک انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
100
سیدنا مصعب بن عمیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
101
سیدنا معاذبن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
7 Hadith
102
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
6 Hadith
103
سیدنا معن بن یزید سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
104
سیدنا مقداد بن اسود کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
105
سیدنایوسف بن عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
106
سیدنا ابو امامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کا صدی بن عجلان تھا
1 Hadith
107
سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
108
سیدنا ابو دحداح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
109
سیدنا ابو دردائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
110
سیدنا ابوذرغفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے اسلام لانے کا واقعہ
12 Hadith
111
سیدناابوزیدانصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کا نام عمرو بن اخطب ہے
6 Hadith
112
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
8 Hadith
113
سیدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
114
سیدنا ابو طفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
115
سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
116
سیدنا ابو عامر عبید اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
117
امین الامہ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
7 Hadith
118
سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی موت کابیان
1 Hadith
119
سیدنا ابو قتادہ حارث بن ربعی سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کاتذکرہ
4 Hadith
120
سیدنا ابو موسی عبداللہ بن قیس اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ
7 Hadith
121
سیدنا ابو مالک عبید اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
122
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
11 Hadith
123
سیدنا ابو الیسر کعب بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
124
سیدہ اسما بنت ابی بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
2 Hadith
125
سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
2 Hadith
126
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی بیٹی سیدہ امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
127
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی آزاد کردہ لونڈی سیدہ بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
128
سیدہ درہ بنت ابی لہب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
129
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ماں، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی سیدہ ام سلیم رمیصاء (یاغمیصائ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
10 Hadith
130
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی لونڈی اور مربیہ سیدہ ام ایمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
2 Hadith
131
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خالہ سیدہ ام حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
2 Hadith
132
سیدہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
133
سیدہ ام شریک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
134
سیدہ ام فروہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
135
سیدہ ام فضل لبابہ بنت حارث ہلالیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
3 Hadith
136
یہ بنو اسد بن خزیمہ کے قبیلہ کی خاتون ہیں اور یہ ان خواتین میں سے ہیں، جنہوں نے سب سے پہلے ہجرت کی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا شرف حاصل کیا۔
1 Hadith
137
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
7 Hadith
138
اویس قرنیlکا تذکرہ
2 Hadith
139
سفیان بن عینیہlکا تذکرہ
1 Hadith
140
زید بن عمرو بن نفیل کا تذکرہ
1 Hadith
141
امام مالک بن انسlکا تذکرہ
1 Hadith
142
حبشہ کے بادشاہ نجاشیlکا تذکرہ
2 Hadith
143
ورقہ بن نوفل کا تذکرہ
1 Hadith
144
ابن جریجlکا تذکرہ
1 Hadith
No chapter matched that.