یہ بنو اسد بن خزیمہ کے قبیلہ کی خاتون ہیں اور یہ ان خواتین میں سے ہیں، جنہوں نے سب سے پہلے ہجرت کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا شرف حاصل کیا۔
۔ (۱۲۰۰۱)۔ عَنْ أَبِی الْحَسَنِ مَوْلَی أُمِّ قَیْسٍ
بِنْتِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ قَیْسٍ أَنَّہا قَالَتْ: تُوُفِّیَ ابْنِی فَجَزِعْتُ عَلَیْہِ فَقُلْتُ لِلَّذِی یَغْسِلُہُ: لَا تَغْسِلْ ابْنِی بِالْمَائِ الْبَارِدِ فَتَقْتُلَہُ، فَانْطَلَقَ عُکَّاشَۃُ بْنُ مِحْصَنٍ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَأَخْبَرَہُ بِقَوْلِہَا فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ: ((مَا قَالَتْ؟ طَالَ عُمْرُہَا۔)) قَالَ: فَلَا أَعْلَمُ امْرَأَۃً عُمِّرَتْ مَا عُمِّرَتْ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۳۹)
سیدہ ام قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میرا بیٹا وفات پا گیا، میں اس پر بہت زیادہ غمگین ہوئی، میں نے غسل دینے والے سے کہا کہ میرے بیٹے کو ٹھنڈے پانی سے غسل دے کر اسے مار نہ دینا، تو ان کے بھائی سیدہ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کییہ بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر تبسم کیا اور فرمایا: اس نے کیا کہا؟ اس کی عمر طویل ہو۔ ابو الحسن کہتے ہیں: میرے علم کے مطابق جتنی عمر ان کو ملی، اتنی عمر کسی خاتون کی نہیں تھی۔
Takhreej
(۱۲۰۰۱) تخریج: اسنادہ محتمل للتحسین، اخرجہ النسائی: ۴/ ۲۹ (انظر: ۲۶۹۹۹)
Explanation
فوائد:… سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کا نام امیہ ہے، یہ سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ ہیں، انہوں نے مکہ میں اسلام قبول کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کا شرف حاصل کیا اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی سعادت حاصل کی۔
12001
Sahih