TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

خلافت و امارت کے مسائل - خلافت و امارت کے مسائل - Book 173 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 173 of Musnad Ahmad, with 113 chapters and 449 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

449 Hadith · 113 Chapters
باب ششم: واقعہ نہروان اور وہاں پر خوارج کا قتل نیز خوارج کی مذمت اور ان کو قتل کرنے کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: خوارج کی بنیاد کا بیان
۔ (۱۲۳۵۸)۔ عَنْ شَرِیکِ بْنِ شِہَابٍ، قَالَ: کُنْتُ أَتَمَنّٰی أَنْ أَلْقٰی رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یُحَدِّثُنِی عَنِ الْخَوَارِجِ، فَلَقِیتُ أَبَا بَرْزَۃَ فِییَوْمِ عَرَفَۃَ فِی نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِہِ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا بَرْزَۃَ! حَدِّثْنَا بِشَیْئٍ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُہُ فِی الْخَوَارِجِ، فَقَالَ: أُحَدِّثُکَ بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَیَّ وَرَأَتْ عَیْنَایَ، أُتِیَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِدَنَانِیرَ، فَکَانَ یَقْسِمُہَا، وَعِنْدَہُ رَجُلٌ أَسْوَدُ مَطْمُومُ الشَّعْرِ، عَلَیْہِ ثَوْبَانِ أَبْیَضَانِ، بَیْنَ عَیْنَیْہِ أَثَرُ السُّجُودِ، فَتَعَرَّضَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَأَتَاہُ مِنْ قِبَلِ وَجْہِہِ، فَلَمْ یُعْطِہِ شَیْئًا، ثُمَّ أَتَاہُ مِنْ خَلْفِہِ فَلَمْ یُعْطِہِ شَیْئًا، فَقَالَ: وَاللّٰہِ، یَا مُحَمَّدُ! مَا عَدَلْتَ مُنْذُ الْیَوْمِ فِی الْقِسْمَۃِ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَضَبًا شَدِیدًا، ثُمَّ قَالَ: ((وَاللّٰہِ! لَا تَجِدُونَ بَعْدِی أَحَدًا أَعْدَلَ عَلَیْکُمْ مِنِّی۔)) قَالَہَا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: ((یَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ رِجَالٌ، کَاَنَّ ہٰذَا مِنْہُمْ، ہَدْیُہُمْ ہٰکَذَا یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ، لَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہُمْ،یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ، لَا یَرْجِعُونَ إِلَیْہِ، وَوَضَعَ یَدَہُ عَلٰی صَدْرِہِ، سِیمَاہُمْ التَّحْلِیقُ، لَا یَزَالُونَیَخْرُجُونَ حَتّٰییَخْرُجَ آخِرُہُمْ، فَإِذَا رَأَیْتُمُوہُمْ فَاقْتُلُوہُمْ، قَالَہَا ثَلَاثًا، شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِیقَۃِ، قَالَہَا ثَلَاثًا۔)) وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ: لَا یَرْجِعُونَ فِیہِ۔ (مسند احمد: ۲۰۰۲۱)
شریک بن شہاب کہتے ہیں: میںتمنا کیا کرتا تھاکہ میری کسی ایسے صحابی سے ملاقات ہو جو مجھے خوارج کے متعلق بتلائے، اتفاق سے میری ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے عرفہ کے دن ملاقات ہوگئی، وہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ تھے، میںنے کہا: اے ابو برزہ! آپ مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی ایسی حدیث بیان فرمائیں جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خوراج کے متعلق بیان فرمایا ہو، انہوںنے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں دینار لا ئے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہ تقسیم فرما رہے تھے، ایک سیاہ فام اور گنجاآدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کھڑا تھا،جس نے دو سفید کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھے اور اس کی آنکھوں کے ! آگے حدیث ۱۲۳۶۸ میں آرہاہے کہ لوگوں کے اختلاف و افتراق کے وقت یہ گروہ وجود میں آئے گا۔ (عبداللہ رفیق) درمیان سجدوں کے نشانات تھے، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کی طرف سے آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کوئی چیز نہ دی، پھروہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کی طرف سے آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر بھی اسے کچھ نہ دیا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے آج کی تقسیم میں انصاف بالکل نہیں کیا، اس کی یہ بات سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شدید غضبناک ہوئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم میرے بعد مجھ سے بڑھ کر کسی کو انصاف کرنے والا نہیں پاؤ گے۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ فرمائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مشرق کی جانب سے کچھ لوگ ظاہر ہوں گے، یہ آدمی گویا انہی لوگوں میں سے ہے وہ ایسے ہوں گے کہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے سینے سے نیچے نہ اترے گا، وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جسے شکار میں سے تیر صاف نکل جاتا ہے۔ اس سند کے ایک راوی حما د نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر یوں بیان کیاکہ: وہ لوگ دین کی طرف پلٹ کر نہیں آئیں گے، ان کی علامت یہ ہوگی کہ وہ سرمنڈاتے ہوں گے، وہ دین سے نکلتے جائیں گے، یہاں تک کہ ان کا آخری آدمی (دجال کے ساتھ) نکلے گا، تم انہیں دیکھو تو انہیں قتل کر دینا۔ یہ بھی آپ نے تین مرتبہ فرمایا: وہ سب لوگوں سے بدترین ہوں گے۔ یہ بات بھی آپ نے تین مرتبہ دہرائی۔
Takhreej
(۱۲۳۵۸) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ: حتی یخرج آخرھم ، اخرجہ النسائی: ۷/ ۱۱۹(انظر: ۱۹۷۸۳)
12358
Sahih
باب ششم: واقعہ نہروان اور وہاں پر خوارج کا قتل نیز خوارج کی مذمت اور ان کو قتل کرنے کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: خوارج کی بنیاد کا بیان
۔ (۱۲۳۵۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أُتِیَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِدَنَانِیرَ فَکَانَ یَقْسِمُہَا، فَذَکَرَ مِثْلَ حَدِیْثِ اَبِیْ بَرْزَۃَ الْمُتَقَدِّمِ۔ (مسند احمد: ۲۰۷۰۶)
سیدناابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس دینار لائے گئے، اس سے آگے ابو بزرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی گزشتہ حدیث کی مانند ہے۔
Takhreej
(۱۲۳۵۹) تخریج: صحیح لغیرہ، اخرجہ البزار: ۱۸۵۲ (انظر: ۲۰۴۳۴)
Explanation
فوائد:… خوارج کون تھے؟ نیز ان کے نظریات کیا تھے؟ ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۲۸۲۷) والا اور اس سے پہلے والا باب۔
12359
Sahih
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
۔ (۱۲۳۶۰)۔ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَقَالَ: إِنِّی دَخَلْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَیْسَ عِنْدَہُ أَحَدٌ إِلَّا عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، فَقَالَ: ((یَا ابْنَ أَبِی طَالِبٍ کَیْفَ أَنْتَ وَقَوْمَ کَذَا وَکَذَا؟)) قَالَ: قُلْتُ: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((قَوْمٌ یَخْرُجُونَ مِنَ الْمَشْرِقِ، یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ، لَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہُمْ،یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ مُرُوقَ السَّہْمِ مِنَ الرَّمِیَّۃِ، فَمِنْہُمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْیَدِ، کَأَنَّ یَدَیْہِ ثَدْیُ حَبَشِیَّۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۳۷۸)
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
Takhreej
(۱۲۳۶۰) تخریج: اسنادہ جیّد، اخرجہ البزار: ۸۷۲، والنسائی فی خصائص علی : ۱۸۳، وابویعلی: ۴۷۲، ۴۸۲ (انظر: ۱۳۷۸)
12360
Sahih
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
۔ (۱۲۳۶۱)۔ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ: ذُکِرَ الْخَوَارِجُ فَقَالَ: فِیہِمْ مُخْدَجُ الْیَدِ، أَوْ مُودَنُ الْیَدِ أَوْ مُثَدَّنُ الْیَدِ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوْا لَحَدَّثْتُکُمْ بِمَا وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِینَیَقْتُلُونَہُمْ عَلٰی لِسَانِ مُحَمَّدٍ، قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَہُ مِنْ مُحَمَّدٍ؟ قَالَ: إِی وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ، إِی وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ، إِی وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ۔ (مسند احمد: ۶۲۶)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ خوارج کا ذکرکیا گیا تو انھوں نے کہا:ان میں سے ایک آدمی ناقص ہاتھ والا ہوگا، اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہو کہ تم فخرو غرور میں مبتلا ہوجاؤ گے، تو میں تمہیں بتلاتاکہ اللہ تعالیٰ نے ان خوارج کو قتل کرنے والوں کے لیے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان پر کیا وعدہ فرمایا ہے، میں نے کہا: کیا واقعی آپ نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں، رب کعبہ کی قسم! جی ہاں، رب کعبہ کی قسم! جی ہاں، رب کعبہ کی قسم!
Takhreej
(۱۲۳۶۱) تخریج: اخرجہ مسلم: ۱۰۶۶ (انظر: ۶۲۶)
12361
Sahih
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
۔ (۱۲۳۶۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِیدَۃَ أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ذَکَرَ أَہْلَ النَّہْرَوَانِ، فَقَالَ: فِیہِمْ رَجُلٌ مُودَنُ الْیَدِ، أَوْ مَثْدُونُ الْیَدِ، أَوْ مُخْدَجُ الْیَدِ، فَذَکَرَ نَحْوَہٗ۔ (مسند احمد: ۹۰۴)
۔ (دوسری سند)سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اہل نہروان کا ذکرکرتے ہوئے کہا: ان میں سے ایک آدمی ناقص ہاتھ والا ہوگا، … پھر اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔
Takhreej
(۱۲۳۶۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
12362
Sahih
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
۔ (۱۲۳۶۳)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا حَلَفَ وَاجْتَہَدَ فِی الْیَمِینِ، قَالَ: ((لَا، وَالَّذِی نَفْسُ أَبِی الْقَاسِمِ بِیَدِہِ، لَیَخْرُجَنَّ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِی، تُحَقِّرُونَ أَعْمَالَکُمْ مَعَ أَعْمَالِہِمْ، یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ، لَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہُمْ،یَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ، کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ۔)) قَالُوْا: فَہَلْ مِنْ عَلَامَۃٍیُعْرَفُونَ بِہَا؟ قَالَ: ((فِیہِمْ رَجُلٌ ذُو یُدَیَّۃٍ أَوْ ثُدَیَّۃٍ مُحَلِّقِی رُئُ وْسِہِمْ۔)) قَالَ أَبُو سَعِیدٍ: فَحَدَّثَنِی عِشْرُونَ أَوْ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ وَلِیَ قَتْلَہُمْ، قَالَ: فَرَأَیْتُ أَبَا سَعِیدٍ بَعْدَمَا کَبِرَ وَیَدَاہُ تَرْتَعِشُ یَقُولُ: قِتَالُہُمْ أَحَلُّ عِنْدِی مِنْ قِتَالِ عِدَّتِہِمْ مِنَ التُّرْکِ۔ (مسند احمد: ۱۱۳۰۵)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بہت زیادہ پختہ قسم اٹھاتے تو اس طرح فرماتے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو القاسم کی جان ہے! میری امت میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ تم ان کے اعمال کے مقابلہ میں اپنے اعمال کو معمولی سمجھو گے، وہ قرآن تو پڑھیں گ، لیکن قرآن ان کے سینوں سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے، جیسے شکار میں سے تیر صاف نکل جاتا ہے۔ صحابۂ کرام نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی کچھ علامات بیان فرما دیں، جن سے وہ پہنچانے جاسکیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان میں سے ایک آدمی کا ہاتھ یوں ہوگا، جیسے عورت کا پستان ہوتا ہے اور ان کے سرمنڈے ہوئے ہوں گے۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا: مجھ سے بیس یا اس سے بھی زائد صحابہ نے بیان کیا کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو قتل کیا تھا۔ عاصم سے مروی ہے کہ میں نے ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا وہ عمر رسیدہ ہوچکے تھے اور ان کے ہاتھوں میں رعشہ تھا، وہ کہتے تھے: ان خوارج کو قتل کرنا میرے نزدیک انہی کے بقدر ترکوں سے لڑنے سے افضل اور اہم ہے۔
Takhreej
(۱۲۳۶۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، عاصم بن شُمَیخ مجھول، وقولہ لیخرجن قوم من أمتی ثبت نحوہ باسناد صحیح فی المسند، اخرجہ ابوداود مختصرا: ۳۲۶۴ بلفظ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا حَلَفَ وَاجْتَہَدَ فِی الْیَمِینِ، قَالَ: ((لَا، وَالَّذِی نَفْسُ أَبِی الْقَاسِمِ بِیَدِہ (انظر: ۱۱۲۸۵)
12363
Zaeef
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
۔ (۱۲۳۶۴)۔ عَنْ یَزِیدَ الْفَقِیرِ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ: إِنَّ مِنَّا رِجَالًا ہُمْ أَقْرَؤُنَا لِلْقُرْآنِ وَأَکْثَرُنَا صَلَاۃً، وَأَوْصَلُنَا لِلرَّحِمِ، وَأَکْثَرُنَا صَوْمًا، خَرَجُوْا عَلَیْنَا بِأَسْیَافِہِمْ، فَقَالَ أَبُو سَعِیدٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((یَخْرُجُ قَوْمٌ یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَہُمْ، یَمْرُقُونَ مِنْ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۰۸)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: ہم میں سے کچھ لوگ بہت زیادہ قرآن پڑھتے تھے، نماز ادا کرتے تھے، سب سے بڑھ کر صلہ رحمی کرتے اور روزے رکھتے تھے اوروہی تلواریں نکال کر ہمارے خلاف نکل آئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: کچھ لوگ ظاہر ہوں گے، وہ قرآن پڑھیں گے، لیکن قرآن ا ن کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے یوں نکل جائیں گے، جیسے تیر تیزی کے ساتھ شکار میں سے صاف نکل جاتا ہے۔
Takhreej
(۱۲۳۶۴) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۱۱۴۸۸)
12364
Sahih
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
۔ (۱۲۳۶۵)۔ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلـٰـی أَبِــی سَعِیدٍ فَقَالَ: ہَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَذْکُرُ فِی الْحَرُورِیَّۃِ شَیْئًا؟ قَالَ: سَمِعْتُہُ یَذْکُرُ قَوْمًا یَتَعَمَّقُونَ فِی الدِّینِیَحْقِرُ أَحَدُکُمْ صَلَاتَہُ عِنْدَ صَلَاتِہِمْ، وَصَوْمَہُ عِنْدَ صَوْمِہِمْ، یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ، أَخَذَ سَہْمَہُ فَنَظَرَ فِی نَصْلِہِ فَلَمْ یَرَ شَیْئًا، ثُمَّ نَظَرَ فِی رُصَافِہِ فَلَمْ یَرَ شَیْئًا، ثُمَّ نَظَرَ فِی قِدْحَتِہِ فَلَمْ یَرَ شَیْئًا، ثُمَّ نَظَرَ فِی الْقُذَذِ فَتَمَارٰی ہَلْ یَرٰی شَیْئًا أَمْ لَا۔ (مسند احمد: ۱۱۳۱۱)
ابو سلمہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا کہ کیا آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حروریوں یعنی خوارج کی بابت کچھ بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوںنے کہا: میںنے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ دین میں بہت زیادہ باریکیوں اور گہرائی میںجائیں گے اور وہ اس قدر نیک ہوں گے کہ تم ان کے مقابلہ میں اپنی نمازوں کو اور اپنے روزوں کو معمولی سمجھو گے، لیکن وہ دین سے یوں صاف نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار میں سے اس طرح تیزی کے ساتھ نکل جاتا ہے کہ شکاری اپنے تیر کو اٹھا کر اس کو دیکھتا ہے، لیکن اس میں کوئی اثر نظر نہیں آتی، پھر وہ اس کے پھل کا جائزہ لیتا ہے، لیکن وہ کوئی علامت دیکھ نہیں پاتا،پھر وہ اس کے بعد والے حصے کو دیکھتا ہے اس میں بھی کوئی اثر نظر نہیں آتا پھر پروں کو بھی اچھی طرح دیکھتا ہے، اور وہ اس بارے متردد ہو جاتا ہے کہ کیا کوئی اثر ہے یا نہیں۔
Takhreej
(۱۲۳۶۵) تخریج: اخرجہ البخاری: ۶۹۳۱، ومسلم: ۱۰۶۴ (انظر: ۱۱۲۹۱)
12365
Sahih
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
۔ (۱۲۳۶۶)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَفْتَرِقُ أُمَّتِی فِرْقَتَیْنِ، فَیَتَمَرَّقُ بَیْنَہُمَا مَارِقَۃٌ،یَقْتُلُہَا أَوْلَی الطَّائِفَتَیْنِ بِالْحَقِّ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۷۲)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت د وگروں میں تقسیم ہو جائے گی، پھر ان کے درمیان ایک تیسرا گروہ نکلے گا، دونوں میں سے جو گروہ حق کے زیادہ قریب ہوگا، وہ اس گروہ کو قتل کر ے گا۔
Takhreej
(۱۲۳۶۶) تخریج: اخرجہ مسلم: ۱۰۶۴(انظر: ۱۱۷۵۰)
12366
Sahih
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
۔ (۱۲۳۶۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِیمَتَانِ، دَعْوَاہُمَا وَاحِدَۃٌ، تَمْرُقُ بَیْنَہُمَا مَارِقَۃٌ،یَقْتُلُہَا أَوْلَاہُمَا بِالْحَقِّ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۲۸)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی، جب تک کہ دو بڑے گروہ آپس میں نہیںلڑیں گے، جبکہ دونوں کا دعویٰ ایک ہوگا، پھر ان دونوں کے درمیان سے ایک تیسرا گروہ جنم لے گا، ان دونوں بڑے گروہوں میں سے جو حق کے زیادہ قریب ہوگا، وہ اس گروہ کو قتل کرے گا۔
Takhreej
(۱۲۳۶۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
12367
Sahih
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
۔ (۱۲۳۶۸)۔ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ قَوْمًا یَکُونُونَ فِی أُمَّتِہِ، یَخْرُجُونَ فِی فِرْقَۃٍ مِنَ النَّاسِ، سِیمَاہُمْ التَّحْلِیقُ، ہُمْ شَرُّ الْخَلْقِ، أَوْ مِنْ شَرِّ الْخَلْقِیَقْتُلُہُمْ أَدْنَی الطَّائِفَتَیْنِ مِنَ الْحَقِّ، قَالَ: فَضَرَبَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَہُمْ مَثَلًا أَوْ قَالَ قَوْلًا: الرَّجُلُ یَرْمِی الرَّمِیَّۃَ، أَوْ قَالَ: الْغَرَضَ فَیَنْظُرُ فِی النَّصْلِ فَلَا یَرٰی بَصِیرَۃً، وَیَنْظُرُ فِی النَّضِیِّ فَلَا یَرٰی بَصِیرَۃً، وَیَنْظُرُ فِی الْفُوقِ فَلَا یَرٰی بَصِیرَۃً، قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِیدٍ: وَأَنْتُمْ قَتَلْتُمُوہُمْ یَا أَہْلَ الْعِرَاقِ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۳۱)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی امت کے کچھ لوگوں کا ذکر کیا، جو امت میں افترق و اختلاف کے وقت ظاہر ہوں گے،ان کی نشانی یہ ہوگی کہ وہ سرمنڈاتے ہوں گے یہ مخلوق سے بدترین ہے۔ ان کو دو گروہوں میں حق کے زیادہ قریب گروہ قتل کرے گا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس موقع پر ایک مثال پیش کی کہ آدمی شکار پر تیر چلاتا ہے (وہ تیر شکار کے خون اور گوبر میں سے گزر کر گیا ہے) لیکن وہ تیر کے پھل پر کوئی چیز نہیں دیکھتا۔ اس کی لکڑی پر کوئی اثر نہیں دیکھتا۔ اس کی چٹکی پر کوئی نشان نہیں۔ (اس طرح قرآن مجید پڑھنے کا ان پر کوئی اثر نہیں ہو گا)
Takhreej
(۱۲۳۶۸) تخریج: اخرجہ مسلم: ۱۰۶۴ (انظر: ۱۱۰۱۸)
Explanation
فوائد:… عربوں کی عادت سر منڈانا نہیں تھا۔اہل عراق سے مراد سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اصحاب ہیں۔
12368
Sahih
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
۔ (۱۲۳۶۹)۔ وَعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْخَوَارِجُ ھُمْ کِلَابُ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۴۱)
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خوارج جہنم کے کتے ہیں۔
Takhreej
(۱۲۳۶۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، الأعمش لم یسمع من عبد اللہ بن ابی اوفی، وفی النفس من متن ھذا الحدیث شیئ، فان اسم الخوارج لم یطلق الا علی من رفض من اصحاب علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ التحکیم بینہ وبین معاویۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، اخرجہ ابن ماجہ: ۱۷۳(انظر: ۱۹۱۳۰)
12369
Zaeef
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
۔ (۱۲۳۷۰)۔ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِی بَکْرَۃَ وَسَأَلَہُ ہَلْ سَمِعْتَ فِی الْخَوَارِجِ مِنْ شَیْئٍ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ وَالِدِی أَبَا بَکْرَۃَیَقُولُ: عَنْ نَبِیِّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَلَا إِنَّہُ سَیَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِی أَقْوَامٌ، أَشِدَّائُ أَحِدَّائُ ذَلِقَۃٌ أَلْسِنَتُہُمْ بِالْقُرْآنِ لَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہُمْ، أَلَا فَإِذَا رَأَیْتُمُوہُمْ فَأَنِیمُوہُمْ، ثُمَّ إِذَا رَأَیْتُمُوہُمْ فَأَنِیمُوہُمْ، فَالْمَأْجُورُ قَاتِلُہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۱۹)
عثمان شحام سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں: ہمیں مسلم بن ابی بکرہ نے بیان کیا کہ انہوں نے اس سے پوچھا کہ آیا انھوںنے خوارج کے متعلق کوئی حدیث سنی ہے؟ انہوں نے کیا: میں نے اپنے والد سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سنا، انھوں نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! عنقریب میری امت سے کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دینی امور میں سختی کرنے والے اور تیز ہوں گے، ان کی زبانیں قرآن کے ساتھ بڑی ماہر ہوں گی، مگر وہ ان کی ہنسلی کی ہڈیوں سے نیچے نہیں اترے گا، جب تم انہیں دیکھو تو قتل کر ڈالنا، پھر کہتاہوں کہ تم جب انہیں دیکھو تو ان کو قتل کر دینا، ان کو قتل کرنے والا اجر کا مستحق ہوگا۔
Takhreej
(۱۲۳۷۰) تخریج: اسنادہ قوی علی شرط مسلم، اخرجہ البیقھی: ۱۸/۱۸۷(انظر: ۲۰۴۴۶)
12370
Sahih
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
۔ (۱۲۳۷۱)۔ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ أَنَّ رَجُلًا وُلِدَ لَہُ غُلَامٌ عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَأَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِبَشَرَۃِ وَجْہِہِ وَدَعَا لَہُ بِالْبَرَکَۃِ، قَالَ: فَنَبَتَتْ شَعَرَۃٌ فِی جَبْہَتِہِ کَہَیْئَۃِ الْقَوْسِ وَشَبَّ الْغُلَامُ، فَلَمَّا کَانَ زَمَنُ الْخَوَارِجِ أَحَبَّہُمْ، فَسَقَطَتِ الشَّعَرَۃُ عَنْ جَبْہَتِہِ، فَأَخَذَہُ أَبُوہُ فَقَیَّدَہُ وَحَبَسَہُ مَخَافَۃَ أَنْ یَلْحَقَ بِہِمْ، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَیْہِ فَوَعَظْنَاہُ وَقُلْنَا لَہُ فِیمَا نَقُولُ: أَلَمْ تَرَ أَنَّ بَرَکَۃَ دَعْوَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ وَقَعَتْ عَنْ جَبْہَتِکَ، فَمَا زِلْنَا بِہِ حَتّٰی رَجَعَ عَنْ رَأْیِہِمْ، فَرَدَّ اللّٰہُ عَلَیْہِ الشَّعَرَۃَ بَعْدُ فِی جَبْہَتِہِ وَتَابَ۔ (مسند احمد: ۲۴۲۱۵)
سیدنا ابو طفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کے ہاں بیٹا پیدا ہوا، وہ اسے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لے کر آ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے چہرے کا چمڑہ پکڑ کر اس کے حق میں برکت کی دعا کی، پس اس بچے کی پیشانی پر کمان کی مانند بال اگ آیا اور وہ بچہ جوان ہوگیا، جب خوارج کادور آیا تو وہ بچہ ان کی طرف مائل ہوا اور ان سے محبت کرنے لگا، تو اس کے چہرے کا وہ بال جھڑ گیا، یہ دیکھ کر اس کے والد نے اسے پکڑ کر قید کر کے محبو س کر دیا، اسے اندیشہ تھا کہ کہیں یہ ان کے ساتھ مکمل طور پر نہ مل جائے، سیدنا ابو طفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ہم اس کے پاس گئے اور جا کر وعظ نصیحت کی اور اپنی باتوں میں ہم نے اس سے یہ بھی کہاکہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعاکی برکت تمہاری پیشانی سے جھڑ گئی ہے، ہم اسے مسلسل وعظ کرتے رہے تاآنکہ اس نے خوارج کی رائے سے رجوع کرلیا، اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ قبول کر لی اور اس کے بعد اس کی پیشانی پر بال دوبارہ اگ آیا۔
Takhreej
(۱۲۳۷۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان، اخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۳۱۴ (انظر: ۲۳۸۰۵)
Explanation
فوائد:… محدثین نے خوارج کو ان احادیث کا مصداق قرار دیا ہے، پچھلے دو ابواب کے آخر میں محولہ مقامات کا مطالعہ کریں
12371
Zaeef
فصل سوم: جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر خوارج کا فساد واضح ہوا تو ان کا نہروان میں خوارج سے قتال کے لیے اپنے لشکر کو لے جانا
۔ (۱۲۳۷۲)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ قَالَ: لَمَّا خَرَجَتِ الْخَوَارِجُ بِالنَّہْرَوَانِ، قَامَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِی أَصْحَابِہِ فَقَالَ: إِنَّ ہَؤُلَائِ الْقَوْمَ قَدْ سَفَکُوا الدَّمَ الْحَرَامَ، وَأَغَارُوا فِی سَرْحِ النَّاسِ، وَہُمْ أَقْرَبُ الْعَدُوِّ إِلَیْکُمْ، وَإِنْ تَسِیرُوْا إِلٰی عَدُوِّکُمْ أَنَا أَخَافُ أَنْ یَخْلُفَکُمْ ہٰؤُلَائِ فِی أَعْقَابِکُمْ، إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((تَخْرُجُ خَارِجَۃٌ مِنْ أُمَّتِی لَیْسَ صَلَاتُکُمْ إِلٰی صَلَاتِہِمْ بِشَیْئٍ، وَلَا صِیَامُکُمْ إِلٰی صِیَامِہِمْ بِشَیْئٍ، وَلَا قِرَائَتُکُمْ إِلٰی قِرَائَتِہِمْ بِشَیْئٍ،یَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ یَحْسِبُونَ أَنَّہُ لَہُمْ وَہُوَ عَلَیْہِمْ، لَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَہُمْ، یَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ، وَآیَۃُ ذٰلِکَ أَنَّ فِیہِمْ رَجُلًا، لَہُ عَضُدٌ وَلَیْسَ لَہَا ذِرَاعٌ، عَلَیْہَا مِثْلُ حَلَمَۃِ الثَّدْیِ، عَلَیْہَا شَعَرَاتٌ بِیضٌ، لَوْ یَعْلَمُ الْجَیْشُ الَّذِینَیُصِیبُونَہُمْ، مَا لَہُمْ عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّہِمْ، لَاتَّکَلُوا عَلَی الْعَمَلِ، فَسِیرُوا عَلَی اسْمِ اللّٰہِ۔)) فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ۔ (مسند احمد: ۷۰۶)
زید بن وہب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نہروان میں خوارج کا ظہور ہوا تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے رفقاء میں کھڑے ہو کر کہا: ان لوگوں نے نا حق خون بہایااور انھوں نے لوگوں کے جانوروں کو لوٹا اور وہ تمہارے دشمنوں میں سے قریب ترین بھی ہیں، اندیشہ ہے کہ اگر تم اپنے دوسرے دشمن کی طرف جاؤ تو یہ تمہارے بعد باقی ماندہ افراد و اموال پر چڑھ آئیں گے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا ہے: میری امت میں ایسا گروہ بھی آئے گا کہ تمہاری نمازیں اور روزے ان کی نمازوں اور روزوں کے بالمقابل کچھ بھی نہ ہوںگی اور تمہاری تلاوت ان کی تلاوت کا مقابلہ نہیں کر سکے گی، وہ قرآن کو پڑھیں گے اور سمجھیں گے کہ یہ ان کے حق میں ہے، جبکہ درحقیقت وہ ان کے خلاف ہوگا اور وہ ان کے حلقوں سے نیچے تک نہیں اترے گا، وہ اسلام میں سے یوں نکل جائے گیں، جیسے تیر شکار میں سے کچھ نشان لیے بغیر گزر جاتا ہے، ان کی علامت یہ ہے کہ ان میںسے ایک آدمی کا بازو محض کہنی کے اوپر والا حصہ ہوگا اور کہنی سے نیچے والا حصہ نہ ہوگا اور وہ بھی پستان کی مانند ہو گا، اس پر کچھ سفید بال ہوں گے، اگر ان کو قتل کرنے والوں کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان سے اپنے عمل اور اس کے ثواب کا علم ہو جائے تو وہ اپنے اسی عمل پر کفایت کر کے اعمال کرنا چھوڑ دیں گے، پس تم اللہ کا نام لے کر چل پڑو۔ اس کے بعد باقی حدیث ذکر بیان کی۔
Takhreej
(۱۲۳۷۲) تخریج: اخرجہ مسلم: ۱۰۶۶ (انظر: ۷۰۶)
Explanation
فوائد:… جب خوارج کی سرکشی اور قتل وغارت حد سے بڑھ گئی تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شام پر فوج کشی کا ارادہ ملتوی کر کے ان خارجیوں کی تنبیہ کے لیے نہروان کا قصد کیا، نہروان پہنچ کر سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا قیس بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خارجیوں کے پاس بھیجا کہ وہ بحث و مباحثہ کر کے ان کو ان کی غلطی پر متنبہ کریں، جب ان دونوں کو ناکامی ہوئی تو خارجیوں کے ایک سردار ابن الکواء کو بلا کر خود ہر طرح سے سمجھایا، لیکن ان کے قلوب تاریک ہو چکے تھے، اس لیے ارشاد و ہدایت کی تمام کوششیں ناکام رہیں اور خلیفۃ المسلمین نے مجبور ہو کر فوج کو تیاری کا حکم دیا اور پھر نہروان کی جنگ پیش آئی، جس کی تفصیل ان احادیث میں بیان کی گئی ہے۔
12372
Sahih
فصل سوم: جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر خوارج کا فساد واضح ہوا تو ان کا نہروان میں خوارج سے قتال کے لیے اپنے لشکر کو لے جانا
۔ (۱۲۳۷۳)۔ عَنْ طَارِقِ بْنِ زِیَادٍ قَالَ: سَارَ عَلِیٌّ إِلَی النَّہْرَوَانِ، فَقَتَلَ الْخَوَارِجَ، فَقَالَ: اطْلُبُوا فَإِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((سَیَجِیئُ قَوْمٌ یَتَکَلَّمُونَ بِکَلِمَۃِ الْحَقِّ، لَا یُجَاوِزُ حُلُوقَہُمْیَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ، سِیمَاہُمْ أَوْ فِیہِمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ، مُخْدَجُ الْیَدِ، فِییَدِہِ شَعَرَاتٌ سُودٌ۔)) إِنْ کَانَ فِیہِمْ فَقَدْ قَتَلْتُمْ شَرَّ النَّاسِ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ فِیہِمْ فَقَدْ قَتَلْتُمْ خَیْرَ النَّاسِ۔ قَالَ: ثُمَّ إِنَّا وَجَدْنَا الْمُخْدَجَ، قَالَ: فَخَرَرْنَا سُجُودًا وَخَرَّ عَلِیٌّ سَاجِدًا مَعَنَا۔ (احمد: ۸۴۸)
طارق بن زیاد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں خوارج کے مقابلہ کے لیے نکلے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کوقتل کیااور پھر کہا: ذرادیکھو، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ عنقریب ایک قوم نکلے گی کہ وہ بات تو حق کی کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی، وہ حق سے یوں نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار میںسے گزر جاتا ہے، ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی سیاہ فام، ناقص ہاتھ والا ہوگا، اس کے ہاتھ پر سیاہ بال ہوں گے۔ اب دیکھو کہ اگر کوئی مقتول ایسا ہو تو تم نے ایک بدترین لوگوں کو قتل کیا اور اگر کوئی مقتول ایسا نہ ہو تو تم نے نیک ترین لوگوں کو قتل کیا۔پھر ہم نے واقعی ناقص ہاتھ والے ایسے مقتول کو پا لیا، پھر ہم سب اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوگئے اور ہمارے ساتھ علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی سجدہ میں گر گئے۔
Takhreej
(۱۲۳۷۳) تخریج: حسن لغیرہ، اخرجہ البزار: ۸۹۷ (انظر: ۸۴۸)
Explanation
فوائد:… ظن غالب کی روشنی میں قتال کیا گیا تھا، لیکن جب ناقص ہاتھ والے مقتول کی علامت نظر آئی تو یقین ہو گیا کہ یہ وہی لوگ تھے، جن سے واقعی قتال ہونا چاہیے تھا۔
12373
Sahih
فصل سوم: جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر خوارج کا فساد واضح ہوا تو ان کا نہروان میں خوارج سے قتال کے لیے اپنے لشکر کو لے جانا
۔ (۱۲۳۷۴)۔ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی صَالِحٍ أَنَّ أَبَا الْوَضِیئِ عَبَّادًا حَدَّثَہُ: أَنَّہُ قَالَ: کُنَّا عَامِدِینَ إِلَی الْکُوفَۃِ مَعَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَلَمَّا بَلَغْنَا مَسِیرَۃَ لَیْلَتَیْنِ أَوْ ثَلَاثٍ مِنْ حَرُورَائَ، شَذَّ مِنَّا نَاسٌ کَثِیرٌ، فَذَکَرْنَا ذٰلِکَ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَقَالَ: لَا یَہُولَنَّکُمْ أَمْرُہُمْ، فَإِنَّہُمْ سَیَرْجِعُونَ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ، قَالَ: فَحَمِدَ اللّٰہَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَاللّٰہُ عَنْہُ وَقَالَ: إِنَّ خَلِیلِی أَخْبَرَنِی أَنَّ قَائِدَ ہٰؤُلَائِ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْیَدِ، عَلٰی حَلَمَۃِ ثَدْیِہِ شَعَرَاتٌ، کَأَنَّہُنَّ ذَنَبُ الْیَرْبُوعِ، فَالْتَمَسُوہُ فَلَمْ یَجِدُوہُ فَأَتَیْنَاہُ فَقُلْنَا: إِنَّا لَمْ نَجِدْہُ، فَقَالَ: فَالْتَمِسُوہُ فَوَاللّٰہِ! مَا کَذَبْتُ وَلَا کُذِبْتُ ثَلَاثًا، فَقُلْنَا: لَمْ نَجِدْہُ فَجَائَ عَلِیٌّ بِنَفْسِہِ، فَجَعَلَ یَقُولُ: اِقْلِبُوا ذَا، اِقْلِبُوا ذَا، حَتّٰی جَائَ رَجُلٌ مِنَ الْکُوفَۃِ، فَقَالَ: ہُوَ ذَا، قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ! لَا یَأْتِیکُمْ أَحَدٌ یُخْبِرُکُمْ مَنْ أَبُوہُ، فَجَعَلَ النَّاسُ یَقُولُونَ: ہَذَا مَالِکٌ، ہَذَا مَالِکٌ، یَقُولُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: اِبْنُ مَنْ ہُوَ؟ (مسند احمد: ۱۱۸۹)
ابو وضیئی عباد کہتے ہیں: ہم علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں کوفہ کی طرف جا رہے تھے، جب ہم حروراء سے دو تین راتوں کی مسافت آگے گئے تو ہم میں سے بہت سے لوگ الگ ہوگئے، ہم نے علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس چیز کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: ان کی یہ حرکت تمہیں پریشان نہ کرے، یہ لوگ عنقریب لوٹ جائیںگے،اس کے بعد انہوں نے ساری حدیث ذکر کی، پھر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور کہا: میرے خلیل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بتلایا تھا کہ ان لوگوں کا سردار نامکمل ہاتھ والا ہو گا اور اس کے سرِ پستان پر کچھ بال ہوں گے، جیسے ایک قسم کے چھوٹے چوہے کی دم ہوتی ہے۔ اب تم لوگ اسے تلاش کرو، انہیں ایسا کوئی آدمی نہ ملا، ہم نے ان کی خدمت میں آکر عرض کی کہ ہمیں تو ایسا کوئی آدمی نہیںملا، انہوں نے کہا: پھر تلاش کرو، اللہ کی قسم نہ میں نے غلط بات کہی ہے اور نہ مجھے غلط بات بتائی گئی ہے، یہ بات انھوں نے تین بار دہرائی، ہم نے کہا: ہمیں تو ایسا کوئی آدمی نہیں ملا، پھر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خود تشریف لائے اور کہنے لگے: اسے الٹ کر دیکھو، اسے الٹو، یہاں تک کہ ایک کوفی آدمی آیا اور اس نے کہا: یہ ہے وہ آدمی، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اللہ اکبر کہا اور پھر کہا: کوئی آدمی تمہیں یہ نہیںبتلا سکے گا کہ اس کاباپ کون ہے؟ لوگ کہنے لگے: یہ مالک ہے، یہ مالک ہے، انھوں نے کہا: یہ تو بتلاؤ یہ کس کا بیٹا ہے۔
Takhreej
(۱۲۳۷۴) تخریج: اسنادہ حسن اخرجہ ابوداود: ۴۷۶۹ (انظر: ۱۱۸۹)
12374
Sahih
فصل سوم: جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر خوارج کا فساد واضح ہوا تو ان کا نہروان میں خوارج سے قتال کے لیے اپنے لشکر کو لے جانا
۔ (۱۲۳۷۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) أَنَّہُ قَالَ: کُنَّا عَامِدِینَ إِلَی الْکُوفَۃِ مَعَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَذَکَرَ حَدِیثَ الْمُخْدَجِ، قَالَ عَلِیٌّ: فَوَاللّٰہِ! مَا کَذَبْتُ وَلَا کُذِبْتُ ثَلَاثًا، فَقَالَ عَلِیٌّ: أَمَا إِنَّ خَلِیلِی أَخْبَرَنِی ثَلَاثَۃَ إِخْوَۃٍ مِنَ الْجِنِّ، ہٰذَا أَکْبَرُہُمْ، وَالثَّانِی لَہُ جَمْعٌ کَثِیرٌ، وَالثَّالِثُ فِیہِ ضَعْفٌ۔ (مسند احمد: ۱۱۹۷)
۔ (دوسری سند) ابو وضیئی کہتے ہیں: ہم سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں کوفہ کی طرف جا رہے تھے، پھر انہوں نے ناقص ہاتھ والے آدمی سے متعلقہ حدیث کا ذکر کیا، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تین بار کہا: اللہ کی قسم! نہ تو میںنے جھوٹ کہا ہے اور نہ مجھے جھوٹی بات بیان کی گئی ہے، پھر کہا: میرے خلیل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بتلایاتھاکہ جنوںمیں سے تین بھائی ہیں، یہ سب سے بڑا ہے، دوسرے کی بہت بڑی جمعیت ہے اور تیسرے میں ضعف اور کمزوری ہے۔
Takhreej
(۱۲۳۷۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
12375
Sahih
فصل سوم: جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر خوارج کا فساد واضح ہوا تو ان کا نہروان میں خوارج سے قتال کے لیے اپنے لشکر کو لے جانا
۔ (۱۲۳۷۶)۔ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِیدَۃَ قَالَ: لَمَّا قَتَلَ عَلِیٌّ أَہْلَ النَّہْرَوَانِ، قَالَ: الْتَمِسُوہُ، فَوَجَدُوہُ فِی حُفْرَۃٍ تَحْتَ الْقَتْلٰی فَاسْتَخْرَجُوہُ، وَأَقْبَلَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَلٰی أَصْحَابِہِ فَقَالَ: لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَأَخْبَرْتُکُمْ مَا وَعَدَ اللّٰہُ مَنْ یَقْتُلُ ہٰؤُلَائِ عَلٰی لِسَانِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِی وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ۔ (مسند احمد: ۹۸۳)
عبیدہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اہل نہروان کو قتل کیاتو انہوں نے کہا: اس قسم کے مقتول کو تلاش کرو، لوگوں نے اسے مقتولین کے نیچے ایک گڑھے میں گرا ہوا پایا، انھوں نے اس کو نکالا اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوکر کہا: اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ تم فخر و غرور میںمبتلا ہوجاؤ گے تو میں تمہیں بتلاتا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبانی ان لوگوں کے قاتلین کے لیے کیا وعدہ فرمایا ہے، میں نے کہا: اے علی! کیاآپ نے خود یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، رب کعبہ کی قسم ہے۔
Takhreej
(۱۲۳۷۶) تخریج: اخرجہ مسلم: ۱۰۶۶(انظر: ۹۸۳)
12376
Sahih
فصل سوم: جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر خوارج کا فساد واضح ہوا تو ان کا نہروان میں خوارج سے قتال کے لیے اپنے لشکر کو لے جانا
۔ (۱۲۳۷۷)۔ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ جُمْہَانَ، قَالَ: کُنَّا نُقَاتِلُ الْخَوَارِجَ، وَفِینَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أَبِی أَوْفٰی، وَقَدْ لَحِقَ لَہُ غُلَامٌ بِالْخَوَارِجِ، وَہُمْ مِنْ ذَلِکَ الشَّطِّ، وَنَحْنُ مِنْ ذَا الشَّطِّ، فَنَادَیْنَاہُ أَبَا فَیْرُوزَ! أَبَا فَیْرُوزَ! وَیْحَکَ، ہٰذَا مَوْلَاکَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أَبِی أَوْفٰی، قَالَ: نِعْمَ الرَّجُلُ ہُوَ لَوْ ہَاجَرَ، قَالَ: مَا یَقُولُ عَدُوُّ اللّٰہِ؟ قَالَ: قُلْنَا: یَقُولُ: نِعْمَ الرَّجُلُ لَوْ ہَاجَرَ، قَالَ: فَقَالَ: أَہِجْرَۃٌ بَعْدَ ہِجْرَتِی مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((طُوبٰی لِمَنْ قَتَلَہُمْ وَقَتَلُوہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۶۲)
سعید بن جمہان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم خوراج سے قتال کر رہے تھے، ہمارے ساتھ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے، ان کا ایک غلام جا کر خوارج کے ساتھ مل گیا، وہ ایک کنارے پر تھے اور ہم دوسری طرف، ہم نے اسے آواز دی، ابو فیروز! ابو فیروز، تمہارے آقا سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہاں ہیں، اس نے کہا: اگر ہجرت کر آئیں تو بہت ہی اچھے ہیں، سیدنا ابن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: وہ اللہ کا دشمن کیا کہہ رہا ہے؟ ہم نے کہا وہ کہہ رہا ہے کہ وہ اچھا آدمی ہے اگر وہ ہجرت کرے اس کی بات سن کر ابن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ہجرت کے بعد مزید ہجرت ہے؟ پھر کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے، جو ان کو قتل کرے یا جس کو یہ قتل کریں۔
Takhreej
(۱۲۳۷۷) تخریج: حدیث صحیح، اخرجہ ابن سعد: ۴/ ۳۰۱ (انظر: ۱۹۱۴۹)
Explanation
فوائد:… خوارج سے قتال کرنے والے لوگ اس وقت کے خیر و بھلائی والے لوگ ہوں گے، اس لیے ان کے لیے خوشخبری ہے، وہ قتل کریں یا قتل ہو جائیں۔
12377
Sahih

Chapters

113
01
(باب اول) اس امر کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی زندگی میں کسی کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں فرمایا
16 Hadith
02
فصل: نبوت، خلافت اورملوکیت کے مراحل پر مشتمل سیدنا حذافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ایک جامع حدیث
1 Hadith
03
فصل: قریشی خلفاء کی تعداد
5 Hadith
04
باب سوم: ہر امام، امیر اور لوگوں کے معاملات کا مسئول بننے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ رعایا کے امور میں عدل و انصاف سے کام لے اور ظلم و جور سے بچے، بیشک اس سے اس بارے میں پوچھ گچھ ہوگی
8 Hadith
05
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے پوچھ گچھ ہو گی کی وضاحت
5 Hadith
06
فصل: اس حکمران کی وعید کا بیان جو رعایاکے امور کے سامنے رکاوٹیں ڈالتا ہے
3 Hadith
07
فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
5 Hadith
08
باب چہارم: حکمرانی طلب کرنے سے ممانعت اور اس سے نفرت دلانے کا بیان
11 Hadith
09
فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
3 Hadith
10
فصل دوم: بے وقوفوں، نا اہل لوگوں کی حکومت کا بیان، ہم ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں
18 Hadith
11
فصل سوم: لڑکوں کی حکمرانی کا بیان
4 Hadith
12
فصل چہارم: خواتین کی حکومت و سربراہی کا بیان
5 Hadith
13
فصل اول: حکمرانوں کی اطاعت کے وجوب اور ان کی بغاوت نہ کرنے کا بیان
13 Hadith
14
فصل دوم: اللہ کی نافرمانی کی صورت میں کسی انسان کی اطاعت نہیں ہے
10 Hadith
15
فصل سوم: حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے کے وجوب اوران کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرتے رہنے کا بیان
4 Hadith
16
فصل چہارم: مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنے اور بادشاہ کا اکرام کرنے کا بیان
4 Hadith
17
فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان
11 Hadith
18
فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
9 Hadith
19
باب اول: ان احادیث کا بیان جن میں ان کی خلافت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
9 Hadith
20
باب دوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت اور واقعۂ سقیفہ کا بیان
5 Hadith
21
باب سوم: صدیق اکبر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دورخلافت میں واقع ہونے والے بعض واقعات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی میراث کے مطالبہ کرنے کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجنا
2 Hadith
22
فصل دوم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مرتدین سے قتال کا بیان
1 Hadith
23
فصل سوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلافت میں قرآن مجید کو یکجا جمع کرنے کا بیان
1 Hadith
24
باب چہارم: مناقب صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جو مناسب بیان ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے مزید مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت
4 Hadith
25
فصل دوم: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تواضع کا بیان
2 Hadith
26
سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ذہانت، فطانت، علم اور فضیلت کا بیان
1 Hadith
27
فصل سوم: سیدنا صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبوں کا بیان اسلام میں ان کے پہلے خطاب کا بیان
4 Hadith
28
باب ششم: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیماری، مرض الموت اور وفات کا بیان
3 Hadith
29
خلیفۂ دوم امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ متعلق ابواب باب اول: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں خلافت کا تقرر
1 Hadith
30
باب دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فضائل اور ان کا اپنے اسلاف کی اقتداء کرنا
5 Hadith
31
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنت میں سیدناعمر ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے جو کچھ دیکھا، اس کا اور ان کی غیرت کا بیان
7 Hadith
32
فصل سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے علم کی وسعت، قوتِ دین، ان کی نیکی اورزہد کا بیان
7 Hadith
33
فصل چہارم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حق کی موافقات یا آپ کا الہام والے لوگوں میں سے ہونا
5 Hadith
34
فصل پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ہیبت اور وقار کا بیان
4 Hadith
35
باب سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں، فیصلوں اور ان کے دور خلافت میں پیش آنے والے بعض واقعات کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں اور فیصلوں کا بیان
5 Hadith
36
فصلِ دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلا فت میں ۱۵ ھ ؁ میں ہونے والے واقعۂ یرموک کا بیان
1 Hadith
37
فصل: کسریٰ کے خزانوں کی فتح
1 Hadith
38
فصل سوم: بیت المقدس کی فتح ، جابیہ مقام پر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مشہور خطاب اور۱۶ھ میں خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امارت سے معزول کرنے کا بیان
2 Hadith
39
فصل چہارم: ۱۸ھ میں شام میں پڑنے والے طاعونِ عمواس کا تذکرہ
1 Hadith
40
فصل پنجم: ۱۹ھ میں سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سرز مین خیبر سے یہودیوں کو جلا وطن کرنا
1 Hadith
41
باب چہارم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبات رعایا کے مابین عدل کے بارے میں ان کا خطبہ
2 Hadith
42
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے خواب کے بارے خطبہ اور اپنی وفات کے قریب ہونے کی صورت میں اس کی تعبیر کرنا
1 Hadith
43
باب پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خواب کی تعبیر کا ثابت ہونا، عجمی کا ان پر حملہ کرنا، ان کی کچھ وصیتوں کا بیان، لوگوں کا ان کی تعریف کرنا اور ان کے پاس رونا اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کسی خلیفہ نامزد نہ کرنا
4 Hadith
44
باب ششم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات ، ان کی نمازجنازہ اور سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے ان کی مدح سرائی کا بیان
4 Hadith
45
تیسرے خلیفہ راشد امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلاف سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت و بیعت کا بیان
1 Hadith
46
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ کرنا
4 Hadith
47
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
8 Hadith
48
فصل دوم: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خاص طور پر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ جو رازدارانہ باتیں کیں، ان کا بیان
2 Hadith
49
فصل سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے شرم و حیا ء اور فرشتوں کا ان سے شرمانے کا بیان
5 Hadith
50
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی صفات اور ان کے بعض خطبوں کا بیان
5 Hadith
51
باب سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر بعض لوگوں کے اعتراضات اور ان کا دفاع
2 Hadith
52
فصل: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خلاف سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بد خواہی کے الزام کی براء ت
1 Hadith
53
باب چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کے دوران رونما ہونے والے بعض واقعات کا بیان جرعہ کے دن والا واقعہ
2 Hadith
54
سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ربذہ کی طرف شہربدری
2 Hadith
55
باب پنجم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا محاصرہ اور اس موقع پر ان کی طرف سے اور ان سے کی جانے والی گفتگو کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: محاصرہ کے دنوں میں بعض صحابہ کے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف میلان رکھنے کا بیان
3 Hadith
56
فصل دوم: سیدنا عثمان کا اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مطیع ہونا، ان کا لوگوں کے سامنے عذر خواہی کرنااور لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کرنا اور ان کے مناقب
4 Hadith
57
فصل سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ایک سوال کرنا اور ان کا ان کو ڈانٹنا
2 Hadith
58
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خواب اور اپنے قتل کے دن سے دوسروں کو مطلع کرنا اور شہادت کی تیاری اور صبر کا بیان
2 Hadith
59
فصل پنجم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تاریخ شہادت، ان کی جنازہ، دفن اور مدتِ خلافت کا بیان
7 Hadith
60
باب اول: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اس طرف اشارہ کرنا
5 Hadith
61
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
1 Hadith
62
فصل دوم: سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث
20 Hadith
63
فصل چہارم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں فرمانا: تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے، جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، …۔
4 Hadith
64
فصل پنجم: غزوۂ خیبر کے روز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جھنڈا دینے کے لیے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منتخب کرنا اور اس میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت او رنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا بیان
6 Hadith
65
فصل ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کا قاضی مقرر کرنا اور اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس امت محمدیہ میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ بردباری والے اور سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے
3 Hadith
66
فصل ہفتم: شیعہ لو گوں کاسیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے محبت کرنا اور خارجی لوگوں کا ان سے بغض رکھنا
2 Hadith
67
باب سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبات کا بیان
7 Hadith
68
فصل دوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بصرہ میں تشریف آوری اور لوگوں کو جنگ جمل کے لیے بلانا
5 Hadith
69
فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا عمار اور سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو اہل کوفہ کی طرف بھیجنا، تاکہ وہ ان سے لڑائی میں شریک ہونے کا مطالبہ کریں
4 Hadith
70
باب پنجم: جنگ صفین اور سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شجاعت کا بیان اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے بارے میں فرمانا کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا
7 Hadith
71
فصل دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں دو آدمیوں کا جھگڑا، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ اس نے سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کیا ہے
2 Hadith
72
فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لشکر کی صفین کے موقع پر کامیابی کے بعد ہز یمت کا سبب اور خوارج کاحضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خلاف خروج اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ان کو قتل کرنا
1 Hadith
73
باب ششم: واقعہ نہروان اور وہاں پر خوارج کا قتل نیز خوارج کی مذمت اور ان کو قتل کرنے کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: خوارج کی بنیاد کا بیان
7 Hadith
74
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
12 Hadith
75
فصل سوم: جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر خوارج کا فساد واضح ہوا تو ان کا نہروان میں خوارج سے قتال کے لیے اپنے لشکر کو لے جانا
8 Hadith
76
فصل چہارم: عبداللہ بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وہ مفصل حدیث جو انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو سنائی تھی، یہ حدیث خوارج کے تفصیلی واقعہ پر مشتمل ہے
1 Hadith
77
فصل: خوارج کے سروںکو مسجد دمشق کے دروازہ پر نصب کرنے کابیان
4 Hadith
78
باب ہفتم: سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور اس امر کا بیان کہ ان کے جسم کا کون سا حصہ زخمی ہوگا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی یہ بات اس واقعہ کے وقوع پذیر ہو نے سے پہلے بتلا دی تھی اور اس امرکا بیان کہ اس کے قاتل کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
4 Hadith
79
فصل: اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا
1 Hadith
80
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کے بعد سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خطبہ
2 Hadith
81
سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا فاطمہ زہرائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا امام حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
4 Hadith
82
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
5 Hadith
83
فصل دوم: اس امر کابیان ہے کہ سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشابہت رکھتے تھے
5 Hadith
84
باب سوم: ان مناقب کا بیان، جن میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما مشترک ہیں
4 Hadith
85
باب چہارم: سیدنا امام حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کاتذکرہ اور اس امر کابیان کے صادق وامین ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق ان کی وفات سے خلفائے راشدین کی مدت خلافت پوری ہوگئی
1 Hadith
86
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
1 Hadith
87
باب دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب
2 Hadith
88
باب سوم: سیدنا معاویہ کے بعض حالات، خطبوں اور حج کا بیان
3 Hadith
89
ٔٔفصل: عہد خلافت ِمعاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک اہم واقعہ غزوۂ قسطنطنیہ ہے
1 Hadith
90
یزید بن معاویہ کی خلافت اور ان کے عہد خلافت میں ہونے والے واقعات سے متعلقہ ابواب باب اول: یزید کی بیعت اور بعض لوگوںکی اس کی بیعت سے بے زاری اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیان
1 Hadith
91
باب دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غم کا بیان
3 Hadith
92
فصل دوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا قتل اور ان کے سر کے ساتھ ابن زیاد کا سلوک
1 Hadith
93
فصل سوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کے دن سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا خواب
1 Hadith
94
فصل چہارم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خبر شہادت کالوگوں تک پہنچنا، اہل عراق کے بارے میں لوگوں کی آراء اور تاریخ شہادت کا بیان
3 Hadith
95
فصل پنجم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان
1 Hadith
96
باب سوم: یزید بن معاویہ کے عہد میں وقوع پذیر ہونے والے ایک انتہائی المناک واقعہ حرہ کا بیان
3 Hadith
97
فصل: حرّہ میں لڑنے والے لشکر کو یزید کا مکہ کی طرف سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے روانہ کرنے اور جا کر کعبہ کو جلانے کا بیان
1 Hadith
98
باب چہارم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ اور ان کو زیر کرنے کے لیے یزید اور اس کے ساتھیوں کا اپنے لشکروں کو مکہ کی طرف روانہ کرنے کا بیان
1 Hadith
99
فصل: یزید بن معاویہ کی طر ف سے مدینہ کے حکمران عمرو بن سعید بن العاص اموی کا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے مکہ کی طرف لشکر بھیجنا اور ابو شریح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ صحابی کی اس کو نصیحت اور سعید کے انکار کا بیان
2 Hadith
100
فصل: بنوامیہ کے ایک ظالم حکمران کے متعلق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات
1 Hadith
101
فصل: عبید اللہ بن زیاد کا تذکرہ
1 Hadith
102
باب پنجم: یزید بن معاویہ کی وفات
1 Hadith
103
یزید بن معاویہ کی موت کے بعد سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کا بیان باب اول: سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت کا بیان
2 Hadith
104
باب دوم: ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اور تاریخ ولادت
5 Hadith
105
باب سوم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خواہش کے مطابق کعبہ کی تعمیر کرنا
4 Hadith
106
باب چہارم: سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا عبد الملک اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر کے مابین پیدا ہونے والے فتنے کو ناپسند کرنا
1 Hadith
107
مختار ثقفی کا ظہور
4 Hadith
108
باب پنجم: عبدالملک بن مروان کا حجاج بن یوسف کو مصعب بن زبیر سے لڑنے کے لیے عراق کی طرف روانہ کرنا
1 Hadith
109
باب ششم: اس امر کابیان کہ عراق میںمصعب کو قتل کرنے کے بعد عبدالملک نے حجاج کو سیدنا عبداللہ زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ روانہ کیا اور اس نے بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا
5 Hadith
110
امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز i کی خلافت کے ابواب باب اول: عمر بن عبد العزیز کے مناقب
3 Hadith
111
یزید بن عبدالملک کی خلافت یزید بن عبد الملک کی اطاعت سے یزید بن مہلب کا خروج
1 Hadith
112
ولید بن یزید بن عبدالملک کی خلافت
1 Hadith
113
حکومت عباسیہ کا آغاز اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس سے مطلع کرنا
2 Hadith
No chapter matched that.