انصار کے غلام ابو کثیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں اپنے سردار سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا، جب انہوں نے اہل نہروان کو قتل کیا تو یو ں محسوس ہواکہ ان کو قتل کرنے کے بعد لوگوں کو ندامت اور افسوس محسوس ہوا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ صورت بھانپ کر کہا: لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایسے لوگوں کی بابت بتلایا تھا جو دین میں سے اس طرح نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار میں سے گزر جاتا ہے، وہ کبھی دین کی طرف واپس نہیں آئیں گے، یہاں تک کہ تیر کمان میں واپس آ جائے، ان کی ایک علامت یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی سیاہ فام ناقص ہاتھ والا ہوگا، اس کا وہ ہاتھ عورت کے پستان کی مانند ہوگا اور اس پریوں سرا بنا ہوگا جیسے پستان کے اوپر ہوتا ہے، اس کے ارد گرد سات بال ہوں گے، تم اسے تلاش کرو، میرا خیال ہے کہ وہ انہی میں ہوگا،لوگوں نے اسے تلاش کیا اوراسے نہر کے کنارے پر مقتولوں کے ڈھیر کے نیچے پایا، لوگوں نے اسے نکالا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہا اور فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کی بات سچ ہے، اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی عربی کمان لٹکائے ہوئے تھے، وہ اسے اس مقتول کے ناقص ہاتھ والے گوشت کے ٹکڑے پر لگاتے اور کہتے جاتے تھے: اللہ اور اس کے رسول کا فرمان سچ ہے، لوگوںنے بھی جب اسے دیکھا تو اللہ اکبر کہنے لگے اور خوشی کا اظہار کیا اور ان کے افسوس کی کیفیت جاتی رہی۔
Takhreej
(۱۲۳۷۸) تخریج: حسن لغیرہ، اخرجہ ابویعلی: ۴۷۸ (انظر: ۶۷۲)
سیدنا سعد سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خوارج کے سردار شیطان کو بنی بجیلہ کا ایک آدمی لڑ ھکائے گا یعنی قتل کرے گا۔ کسی نے سفیان سے کہا: کیا یہ روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Takhreej
(۱۲۳۷۹) ٔٔتخریج: اسنادہ ضعیف، بکر بن قرواش، قال الذھبی: لا یُعرف، والحدیث منکر، وتساھل العجلی وابن حبان فوثقاہ، ثم الانقطاع بین العلاء وبین ابی الطفیل عامر بن واثلۃ، اخرجہ ابویعلی ۷۵۳، وابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۳۲۲، والبزار: ۱۸۵۴ (انظر: )
Explanation
فوائد:… مسند احمد کی روایت مختصر ہے، ابو یعلی کی روایت کے الفاظ اس طرح ہیں: عن سعد بن مالک أنہ سمع النبی صلی اللہ علیہ و سلم وذکر، یعنی ذا الثدیۃ، الذی وُجد مع أہل النہروان فقال: شیطان ردْہۃ، یحدُرہ رجل من بجیلۃ، یقال لہ الأشہب أو ابن الأشہب علامۃ فی قوم ظَلَمۃ، قال سفیان: فقال عمار الدہنی حین حدث: جاء بہ رجل منا من بجیلۃ فقال: أراہ فلان من دہن یقال لہ الأشہب أو ابن الأشہب۔ … سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پستان والے آدمی کا ذکر کیا، جس کو اہل نہروان کے ساتھ مقتول پایا گیا تھا، اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (خوارج کے) پہاڑی غار کے شیطان کو بنو بجیلہ کا ایک آدمی اشہب یا ابن اشہب نامی آدمی لڑھکائے گا، یعنی قتل کرے گا، یہ ظالم قوم کی علامت ہو گی۔ امام سفیان نے کہا: جب عمار دہنی نے یہ حدیث بیان کی تو ہمارے خاندان کا ایک آدمی بجیلہ کے اس آدمی کو لے آیا، میرا خیال ہے کہ اس کا تعلق دہن سے تھا اور اس کو اشہب یا ابن اشہب کہتے تھے۔
عبیداللہ بن عیاض بن عمرو قاری کہتے ہیں کہ ہم سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر تھے کہ عبیداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ تشریف لائے، یہ سید نا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دنوں کا واقعہ ہے، وہ عراق سے آئے تھے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا، عبیداللہ بن شداد! میں تم سے جو پوچھوں کیا تم مجھے سچ سچ بتلاؤ گے؟ تم مجھے ان لوگوں کے متعلق بتلاؤ جن کو علی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا؟ وہ کہنے لگے مجھے کیا ہے کہ میں آپ کو سچ سچ نہ بتلاؤں؟ تو سیدہ نے فرمایا تو مجھے ان کا پورا واقعہ بیان کر، انہوںنے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خط و خطابت کی اور دو حاکموں نے فیصلہ کیا تو آٹھ ہزار قاریوں نے ان کے خلاف خروج کیا اور وہ کوفہ کے قریب حروراء کے مقام پر جمع ہوگئے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو صلح کرنے پر سرزنش کی، وہ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قمیص پہنایا اور ایک نام دیا ہے،(قمیص سے مرادخلافت اور نام سے امیر المومنین کا لقب ہے)۔آپ یہ صلح کر کے ان دونوں کے اہل نہیں رہے ہے، کیونکہ آپ نے اللہ کے دین میںغیر کو حکم تسلیم کیاہے، جبکہ فیصلہ کرنا صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک ان لوگوں کی یہ بات پہنچی جس کی اساس پر وہ لوگ ان سے الگ ہوئے تھے تو انہوں نے ایک اعلان کرنے والے کو حکم دیا اس نے اعلان کیا کہ امیر المومنین کے پاس صرف وہ آدمی آئے جسے قرآن مجید یا دہو، قراء سے گھر بھر گیا تو انہوں نے قرآن مجید منگوا کر اپنے سامنے رکھا اور اس پر آہستہ آہستہ ہاتھ مارنے لگے اور کہتے جاتے اے قرآن! لوگوں کو کچھ بیان کر، تو لوگوں نے کہا، امیرالمومنین! آپ سے کیا پوچھ رہے ہیں؟ یہ تو محض اور اق پر روشنائی ہے، اس کی بابت جو کچھ ہمیںبیان کیا گیا ہو ہم بولتے ہیں، آپ اصل بات بتلائیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا، تمہارے یہ ساتھی جو الگ ہوئے ہیں، ان کے اور میرے مابین اللہ کی کتاب حکم ہے، اللہ تعالیٰ نے ایک شوہر اور اسکی بیوی کے بارے میں اپنی کتاب میں فرمایا: {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِنْ أَہْلِہِ وَحَکَمًا مِنْ أَہْلِہَا إِنْ یُرِیدَا إِصْلَاحًا یُوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَہُمَا}… اور اگر تمہیں ان کے مابین اختلاف کا اندیشہ ہو تو ایک مصنف مرد کی طرف سے اور ایک عورت کی طرف سے مقرر کردو، اگر دونوں منصف اصلاح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان دونوں کے مابین موافقت پیدا کر دے گا۔ امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خون اور حرمت ایک مرد اور عورت سے کہیں بڑ ھ کر ہے، یہ لوگ مجھ پر معترض ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی ہے، حالانکہ جب حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی قوم قریش کے ساتھ خط و خطابت کی (یعنی صلح کر لی) تھی اور اور کفار کی طرف سے سہیل بن عمرو آیا تھا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے صلح نامہ لکھوایا تھا اور وہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یعنی میں نے ہی لکھا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ لکھوایا، لیکن سہل نے کہا: تم بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ مت لکھو،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو کیا لکھیں؟ وہ بولا کہ یہ لکھو: بِاسْمِکَ اللَّہُمَّ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰہِ لکھو۔ لیکن سہل نے پھر کہا: اگر میں یہ مانتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو میں آپ کی مخالفت نہ کروں، تو آپ نے لکھوایا، یہ وہ تحریر ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے قریش کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِمَنْ کَانَ یَرْجُو اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْآخِرَ} … یقینا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت میںبہترین نمونہ ہے، یعنی اس آدمی کے لیے جو اللہ تعالیٰ سے ملنے اور یوم آخرت کے آنے پر یقین رکھتا ہے۔ اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں کی طرف روانہ کیا، میں بھی عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا، جب ہم ان لوگوں کے لشکر کے وسطہ میں پہنچے تو ابن الکواء نے کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کیا اور کہا اے قرآن کے حاملین! یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ہیں جو انہیں نہ جانتا ہو، وہ نہ جانتا ہوگا، میں تو انہیں خوب جانتا ہوںاللہ کی کتاب ان کا تعارف کراتی ہے، ان کے اور ان کی قوم کے بارے میں یہ الفاظ نازل ہوئے: {قَوْمٌ خَصِمُونَ۔} جھگڑنے والی قوم ہے۔ تم انہیں ان کے ساتھی کی طرف بھیج دو اور کتاب اللہ کے بارے میں ان سے مناظرہ مباحثہ نہ کرو تو ان کے خطیب حضرات اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے، اللہ کی قسم! ہم اللہ کی کتاب کے بارے میں ان سے مباحثہ کریں گے، اگر انہوں نے کوئی ایسی حق بات کہی جسے ہم جانتے ہوں تو ان کی پیروی کر لیں گے اور اگر انہوںنے کوئی غلط بات کہی تو ہم ان کے باطل کے ذریعہ ہی ان کا مقابلہ کریں گے، تو انہوں نے تین دن تک ان سے مباحثہ کیا، بالآخر ان میں سے چار ہزار آدمیوں نے اپنے موقف سے رجوع کرلیا، ابن الکواء بھی ان توبہ کرنے والوں میں شامل تھا، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ان سب کو لے کر کوفہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاں حاضر ہوئے،اس کے بعد علی رضی اللہ عنہ نے باقی ماندہ لوگوں کو پیغام بھیجا، کہ ہمارے اور لوگوں کے مابین جو کچھ ہو چکا تم وہ سب دیکھ چکے ہو، اب تم جہاں چاہو ٹھہرے رہو تاآنکہ امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بات پر مجتمع ہوجائے، ہمارے اور تمہارے مابین یہ طے ہے کہ تم کسی حرمت والے کی خون ریزی نہ کرو اور نہ لوٹ مار کرو اور نہ کسی ذمی کے ذمہ کو توڑو اگر تم نے یہ کام کیے تو ہماری تم سے لڑائی ہوگی، بے شک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا، اسے ابن شداد! علی رضی اللہ عنہ نے تو اپنے معاہدہ کے برعکس ان لوگوں کو قتل کیا، تو اس نے جواب دیا اللہ کی قسم! سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ان کے مقابلہ کے لیے اپنے آدمی اس وقت تک نہیں بھیجے جب تک کہ انہوں نے لوٹ مار نہ کی، خوں ریزی نہ کی اور ذمیوں کے ذمہ کو نہ توڑا تو سیدہ نے از راہ تعجب کہا، کیا واقعی اللہ کی قسم؟ ابن شداد نے کہا اللہ کی قسم، اسی اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں، ایسے ہی ہوا ہے؟تو سیدہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا، اہل ذمہ کی جو بات مجھ تک پہنچی ہے اس کا کیا مفہوم ہے؟ وہ کہتے ہیں ذوالثدی، ذوالثدی یعنی عورت کے پستان جیسے بازووالا مارا گیا، ابن شداد نے کہا میں نے اسے دیکھا ہے، میں علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مقتولین کے پاس کھڑا تھا، انہوں نے لوگوںکو بلواکر پوچھا کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ تو کوئی آدمی اس سے زیادہ کچھ نہ کہہ سکا کہ میں نے اسے بنو فلاں کی مسجد میں نماز پڑھتے دیکھا ہے اور کوئی آدمی اسے جاننے پہچاننے کے متعلق اس سے زیادہ کچھ نہ کہہ سکا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا اہل عراق جیسے بیان کرتے ہیں وہاں کھڑے ہو کر علی رضی اللہ عنہ نے کیا کہا؟ ابن شداد نے کہا، میںنے ان کو وہاں سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کیا تم نے ان کو اس کے علاوہ بھی کچھ کہتے سنا؟ اس نے کہا، اللہ گواہ ہے کہ میں نے ان سے اس کے علاوہ کچھ نہیں سنا، سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہاں، اللہ اور اس کے رسول کی بات سچ ہے، علی رضی اللہ عنہ پر اللہ کی رحمت ہو انہیں جب بھی کوئی بات اچھی لگتی تو کہا کرتے اللہ اور اس کے رسول کی بات سچ ہے ، عراقی لوگ ان پر جھوٹ باندھتے اور ان کی باتوں میں ازخود اضافے کردیتے ہیں۔
ابو غالب کہتے ہیں: خارجیوں کے قتل کیے جانے کے بعد ان کے لا کر دمشق کی سیڑھی پر رکھ دئیے گئے، سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ تشریف لائے، انہوںنے ان کو دیکھا تو ان کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں، وہ کہنے لگے:یہ لوگ جہنم کے کتے ہیں، آسمان کے نیچے قتل ہونے والوں میں سے یہ بد ترین مقتول ہیں اور اِنہوں نے جن لوگوں کو قتل کیا،وہ آسمان کے نیچے قتل ہونے والوں میں سے بہترین مقتول ہیں۔ ابو غالب کہتے ہیں: میںنے ان سے کہا: تو پھر آپ کی آنکھوں میں آنسو کیوں آگئے ہیں؟ انھوں نے کہا: ان لوگوں پر ترس آجانے کی وجہ سے، کیونکہ یہ لوگ بنیادی طور پر اہل اسلام ہیں۔ ابو غالب کہتے ہیں: ہم نے کہا: آپ نے ان کے متعلق کہا کہ یہ جہنم کے کتے ہیں، یہ بات آپ نے اپنی طرف سے کہی ہے یا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: اگر میں اپنی طرف سے کہوںتو پھر تو میں بڑا جری ہوں، یہ میں نے اپنی طرف سے نہیں کہی، بلکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک، دو یا تین مرتبہ نہیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ مرتبہ سنی ہے۔
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوںنے جامع مسجد دمشق کی سیڑھیوں پر نصب شدہ سر دیکھے تو تین مرتبہ کہا: یہ جہنم کے کتے ہیں، یہ جہنم کے کتے ہیں، آسمان کے چھت کے نیچے قتل ہونے والوں میںسے یہ بد ترین مقتول ہیں اور اِنھوں نے جن لوگوں کو قتل کیا وہ آسمان کی چھت کے نیچے قتل ہونے والوں میںسے بہترین مقتول ہیں، پھر انہوں نے یہ دو آیات تلاوت کیںـ: {یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوہٌ} … قیامت کے رو ز بہت سے چہرے روشن اور بہت سے چہرے سیاہ ہوں گے۔ (سورۂ آل عمران:۱۰۶) میں ابو غالب نے سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے کہا:آیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: اگر میں نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دو، تین، چار، پانچ، چھ یا سات مرتبہ بھی نہ سنی ہوتی تو تم سے بیان نہ کرتا۔
صفوان بن سلیم سے مروی ہے کہ سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ دمشق میں داخل ہوئے اورانہوں نے حروری یعنی خارجی لوگوں کے سرلٹکے ہوئے دیکھے تو انھوں نے تین بار کہا: یہ لوگ جہنم کے کتے ہیں، یہ لوگ جہنم کے کتے ہیں، آسمان کی چھت کے نیچے قتل ہونے والوں میںسے یہ بد ترین مقتول ہیں اور اِنہوں نے جن لوگوں کو قتل کیا، وہ آسمان کی چھت کے نیچے قتل ہونے والوں میںسے بہترین مقتول ہیں۔ پھر وہ رونے لگے: ایک آدمی آپ کی طرف اٹھا اور اس نے کہا:اے ابوامامہ آپ ان کو دیکھ کرکیوں روئے؟ انہوںنے کہا:میں اس لیے رو رہا ہوں کہ یہ لوگ دائرہ اسلام سے نکل گئے، یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے تفرقہ ڈالا اور دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔
سیار سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں کے سر عراق سے لا کر اور مسجد کے دروازے کے پاس نصب کر دیئے گئے، سیدنا ابوامامہ آئے اور مسجد میں داخل ہو ئے، دو رکعت نماز ادا کی،پھر ان کی طرف نکلے، ان کو دیکھا اور پھر سر اٹھایا اور کہا: یہ آسمان کے نیچے سب سے برے مقتول ہیں۔ یہ بات تین دفعہ دہرائی، پھر سابق روایت کے طرح آگے بیان کیا۔
Takhreej
(۱۲۳۸۴) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… خوارج کے تعارف کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۸۲۷)والا باب۔
فضالہ بن ابی فضالہ انصاری سے روایت ہے، ان کے والد سیدنا ابو فضالہ رضی اللہ عنہ بدری صحابی تھے، فضالہ کہتے ہیں: میں اپنے باپ کی معیت میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گیا، وہ کافی بیمار تھے، میرے والد نے ان سے کہا: آپ اپنی جگہ پر کس لیے ٹھہرے ہوئے ہیں؟ اگر آپ کا آخری وقت آگیا تو بنو جہینہ کے چند بدو آپ کے پاس ہوں گے،آپ کو مدینہ منورہ لے چلیں، وہاں اگر آپ کو موت آئی تو آپ کے دوست احباب پاس ہوں گے اور آپ کی نماز جنازہ ادا کریں گے، یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے فرما چکے ہیں کہ مجھے اس وقت تک موت نہ آئے گی، جب تک کہ مجھے امارت نہ ملے، پھر میرے سر کے خون سے میری داڑھی رنگین نہ ہوجائے، چنانچہ ایسے ہی ہوا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ قتل ہو گئے۔ سیدنا ابو فضالہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ صفین کی جنگ میں قتل ہو گئے تھے۔
Takhreej
(۱۲۳۸۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، فضالۃ بن ابی فضالۃ، قال الذھبی: لا یُدری من ذا، اخرجہ البزار: ۹۲۷(انظر: ۸۰۲)
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوۂ ذی العشیرہ میں رفیق تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں اترے اور قیام کیا تو ہم نے بنو مدلج قبیلے کے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ کھجوروں میں اپنے ایک چشمے میں کام کر رہے تھے۔ سیدنا علی نے مجھے کہا: ابو الیقظان! کیا خیال ہے کہ اگر ہم ان کے پاس چلے جائیں اور دیکھیں کہ یہ کیسے کام کرتے ہیں؟ سو ہم ان کے پاس چلے گئے اور کچھ دیر تک ان کا کام دیکھتے رہے، پھر ہم پر نیند غالب آ گئی۔ میں اور سیدنا علی کھجوروں کے ایک جھنڈ میں چلے گئے اور مٹی میں لیٹ کر سو گئے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہی ہمیں اپنے پاؤں کے ساتھ حرکت دے کر جگایا اور ہم مٹی آلود ہو چکے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی پر مٹی دیکھی تو فرمایا: اے ابو تراب! (یعنی مٹی والے) پھر آپ نے فرمایا: کیا میں تمھارے لیے دو بدبخت ترین مردوں کی نشاندہی نہ کروں؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احیمر ثمودی، جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دی تھیں اور وہ آدمی جو (اے علی!) تیرے سر پر مارے گا، حتی کہ تیری (داڑھی) خون سے بھیگ جائے گی۔
زید بن وہب سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اہل بصرہ کے خوارج میں سے ایک قو م کے پاس تشریف لے گئے، ان میں سے ایک آدمی کا نام جعد بن بعجہ تھا، اس نے کہا: علی! اللہ سے ڈرو، تم نے بالآخر مرنا ہی ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہا: میں نے مرنا نہیں، بلکہ قتل ہونا ہے، میرے سر پر وار لگے گا، جس سے یہ میری داڑھی رنگین ہوجائے گی، یہ پختہ خبر ہے اور اللہ کی طرف سے فیصلہ ہوچکا ہے اور جس نے جھوٹ باندھا اس نے نقصان اٹھایا، پھر جب اس آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لباس پر اعتراض کیا تو انھوں نے کہا: تمہیں میرے اس لباس سے کیا؟ یہ تکبر سے بالکل بر ی ہے اور اس لائق ہے کہ اہل اسلام اس سلسلہ میں میری اقتداء کریں گے۔
Takhreej
(۱۲۳۸۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، شریک بن عبد اللہ النخعی سییء الحفظ، اخرجہ الطیالسی: ۱۵۷ (انظر: ۷۰۳)
ابو تحیی سے مروی ہے کہ جب ابن ملجم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پروار کیا تو انہوں نے کہا: تم اس کے ساتھ وہی سلوک کرنا، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کے ساتھ کیا تھا،جس نے آپ کوقتل کرنے کا ارادہ کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اسے قتل کر د و اور پھر اسے جلا ڈالو۔ 1
Takhreej
(۱۲۳۸۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شریک بن عبد اللہ النخعی وعمران بن ظبیان (انظر: ۷۱۳)
عبداللہ بن سبع سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ! حدیث ضعیف ہے اور آگ کے ساتھ کسی ذی روح کو عذاب دینا یا جلانا منع ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ النَّارَ لَا یُعَذِّبُ بِھَا اَحَدٌ اِلاَّ اللّٰہُ)) (صحیح بخاری: ۲۹۵۴) آگ کے ساتھ اللہ کے سوا کوئی عذاب نہیں دیتا (یعنی کوئی عذاب نہ دے)۔ (عبداللہ رفیق) سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میری یہ داڑھی میرے سر کے خون سے رنگین ہوگی اور انتہائی بدبخت آدمی میرے ساتھ ایسا سلوک کرنے کا منتظر ہے۔ لوگوںنے کہا: اے امیر المومنین! آپ ہمیںاس کے متعلق بتلا دیں تو ہم اس کی اولاد تک کا نام و نشان نہ چھوڑیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں ایسا کروں تو تم میرے اصل قاتل کے علاوہ کسی دوسرے کو قتل کر دو گے۔ لوگوں نے کہا: اچھاآپ کسی کو ہمارے اوپر خلیفہ نامزد کردیں، انھوں نے اس سے بھی انکار کر دیا اور کہا: میں تمہیں اسی طرح چھوڑ کر جاؤں گا، جس طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں چھوڑگئے تھے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا تھا، لوگوں نے کہا: آپ اپنے رب کے ہاں جا کر کیا کہیں گے؟ انھوں نے کہا: میں کہوں گا: یاا للہ! جب تک تجھے منظور تھا تو نے مجھے ان کے درمیان باقی رکھا، پھر تو نے مجھے اپنی طرف بلالیا اور ان لوگوں میں میرے بعد تو ہی تھا، تو چاہتا ہے تو ان کی اصلاح کردے اور اگر چاہتا ہے تو ان میں فساد برپا کر دے۔
Takhreej
(۱۲۳۸۹) تخریج: حسن لغیرہ، اخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۴/ ۵۹۶، وابویعلی: ۳۴۱ (انظر: ۱۰۷۸)
ہبیرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا حسن بن علی علیہ السلام نے ہمیں خطبہ دیا اور کہا: کل ایک ایسا آدمی تمہیںداغ مفارقت دے گیا ہے کہ نہ تو پہلے لوگوں میں سے کوئی علمی طور پر اس سے سبقت لے گیا ہے اورنہ بعد والوںمیں سے کوئی اس کے مقام کو پاسکے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے جھنڈا دے کر روانہ کرتے تو جبریل علیہ السلام اس کی داہنی جانب ہوتا اور میکائیل علیہ السلام اس کی بائیں جانب اور وہ فتح کے بغیر نہ لوٹتا تھا۔
۔ (دوسری سند) اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سونا اور چاندی چھوڑکر نہیں گئے، بس صرف سات سو درہم تھے، جو انہوں نے اہل خانہ کے خادم کے لیے الگ محفوظ رکھے ہوئے تھے۔
زہیربن اقمر سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ایک دن سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ خطاب کر رہے تھے کہ بنواز د کے ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنی گود میں بٹھایا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے مجھ سے محبت ہے، وہ اس سے بھی محبت کرے،جو لو گ یہاں موجود ہیں وہ یہ بات ان لوگوں تک پہنچا دیں، جو یہاں نہیں ہیں۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے یہ تاکید نہ ہوتی تومیں تمہیں یہ حدیث نہ سناتا۔
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کود کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمر پر چڑھ جاتے، انھوں نے ایسے کئی بار کیا۔ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نرمی سے اٹھتے تھے تاکہ وہ گر نہ جائیں، یہ منظر دیکھ کر صحابہf نے کہا: اللہ کی قسم! آپ جیسا سلوک اس کے ساتھ کرتے ہیں، ویسا کسی اور کے ساتھ نہیں کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا یہ بیٹا سردار ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوںکی دو بڑی جماعتوں میں صلح کراے گا۔ حسن بصری نے کہا: پس اللہ کی قسم، اللہ کی قسم ہے کہ ان کی خلافت میں ایک شیشی کی مقدار بھی خون نہیں بہایا گیا۔
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے اور سیدنا حسن علیہ السلام بھی آپ کے ہمراہ تھے، آپ ایک بار لوگوں کی طرف دیکھتے اور ایک بار ان پر نظر ڈالتے اور فرماتے تھے: میرا یہ بیٹا سردار ہوگا اور امید ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ا س کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرائے گا۔
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ آگئے، وہ آکر آپ کے پاس منبر پر چلے گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنے سینے سے لگالیا اور ان کے سر پر ہاتھ پھیر کر فرمایا: میر ایہ بیٹا سردار ہے اور امید ہے کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کراے گا۔
Takhreej
(۱۲۳۹۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور وہ زخمی ہونے کے تیسرے دن ۲۰ رمضان ۴۰ ھـ کو دار فانی سے روانہ ہو گئے۔
ان کے بعد اسی مہینے میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت کی گئی، جو بڑے نرم خو، متحمل مزاج، صلح جو اور امن پسند تھے اور جنگ و جدل سے طبعی طور پر نفرت رکھتے تھے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدناامیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو عالم اسلام پر حکومت کرنے کی دیرینہ تمنا پوری کرنے کا موقع ملا، چنانچہ انھوں نے عراق پر فوج کشی کر دی، جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو شامی فوج کی پیش قدمی کی خبر ملی تو آپ نے قیس بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ کو بارہ ہزار فوج کے ساتھ مقابلہ کے لیے آگے بھیج دیا اور خود ان کے عقب میں روانہ ہو گئے، اگرچہ عراقی فوج کی غداری کی مثالیں بھی موجود ہیں، لیکن جان نثاروں کی تعداد بھی معقول تھی، اصل بات یہ تھی کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے خون کی قیمت پر خلافت نہیں خریدنا چاہتے تھے، اس لیے انھوں نے چند شرائط پر ربیع الاول ۴۱ ھـ کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دست برداری کا اعلان کر دیا، اس طرح آپ رضی اللہ عنہ کی مدت ِ خلافت چھ ماہ بنتی ہے۔
اس دست برداری سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی درج ذیل پیشین گوئی پوری ہوئی:
حسن بصری کہتے ہیں: لَمَّا سَارَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ رضی اللہ عنہما اِلٰی مُعَاوِیَۃَ بِالْکَتَائِبِ، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِمُعَاِویَۃَ: اَرٰی کَتِیْبَۃً لَا تُوَلِّی حَتّٰی تُدْبِرَ اُخْرَاھَا۔ قَالَ مُعَاوِیَۃُ: مَنْ لِذَرَارِی الْمُسْلِمِیْنَ؟ فَقَالَ: اَنَا، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَامِرٍ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ سَمُرَۃَ: نَلْقَاہُ فَنَقُوْلُ لَہُ: الصُّلْحَ، قَالَ الْحَسَنُ: وَلَقَدْ سَمِعْتُ اَبَا بَکْرَۃَ قَالَ: بَیْنَا النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَخْطُبُ جَائَ الْحَسَنُ، فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((اِبْنِیْ ھٰذَا سَیِّدٌ وَلَعَلَّ اللّٰہُ اَنْ یُّصْلِحَ بِہٖ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔)) (صحیح بخاری: ۷۱۰۹ ) جب سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما لشکروں کے ہمراہ معاویہ کی طرف چلے تو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میرا خیال تو یہ ہے کہ یہ لشکر اس وقت تک واپس نہیں پلٹے گا، جب تک اس کے مد مقابل پیٹھ نہ پھیر جائیں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مسلمانوں کے بچوں کا کفیل کون ہو گا؟ انھوں نے کہا: میں ہوں گا۔ پھر عبد اللہ بن عامر اور عبد الرحمن بن سمرہ نے کہا: ہم ان کو ملتے ہیں اور صلح پیش کرتے ہیں۔ حسن بصری نے کہا: میں نے سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ میرا بیٹا سردار ہے، شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو جماعتوں کے مابین صلح کر وا دے۔
حافظ ابن حجر نے کہا: اس قصہ میں نبوت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے (کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی پوری ہوئی) اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی منقبت بھی ہے کہ انھوں نے قلت، ذلت اور کسی علت کے بغیر حکمرانی ترک کر دی اور اللہ تعالیٰ کے انعام کی رغبت میں مسلمانوں کا خون بہنے سے بچا لیا، پس انھوں نے دین کے معاملے اور امت کی مصلحت کا خیال رکھا، اس حدیث میں خوارج کا ردّ بھی ہے، جو سیدنا علی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما اور ان کا ساتھ دینے والے لوگوں کو کافر قرار دیتے تھے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں گروہوں کے بارے میں شہادت دی کہ وہ مسلمان ہوں گے۔ (فتح الباری: ۱۳/ ۸۳ )
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے متعلق ارشاد فرمایا: یااللہ! مجھے اس سے محبت ہے،پس تو اس سے بھی محبت کرے اور اس سے محبت کرنے والے سے بھی محبت کر۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ مدینہ کے ایک بازار میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس ہوئے تو میں بھی آپ کے ساتھ واپس آگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف گئے اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو بلاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: او بچے! او چھوٹو! او بچے! کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کا جواب نہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آگئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ لوٹ آیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر جاکر بیٹھ گئے، اتنے میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ بھی آگئے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ان کو ان کی والدہ نے ان کے گلے میں ہار کی مانند کوئی چیز ڈالنے کے لیے روک لیا تھا، جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو گلے لگالیا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گلے سے لگ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت تین بار فرمایا: یا اللہ! مجھے اس سے محبت ہے، پس تو اس سے بھی محبت کر اور اس سے محب کرنے والے سے بھی محبت کر۔
Takhreej
(۱۲۳۹۷) تخریج: اخرجہ البخاری:۵۸۸۴، وأخرجہ مسلم مختصرا: ۲۴۲۱ (انظر: ۸۳۸۰)