TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

خلافت و امارت کے مسائل - خلافت و امارت کے مسائل - Book 173 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 173 of Musnad Ahmad, with 113 chapters and 449 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

449 Hadith · 113 Chapters
فصل سوم: جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر خوارج کا فساد واضح ہوا تو ان کا نہروان میں خوارج سے قتال کے لیے اپنے لشکر کو لے جانا
۔ (۱۲۳۷۸)۔ حَدَّثَنَا أَبُو کَثِیرٍ مَوْلَی الْأَنْصَارِ، قَالَ: کُنْتُ مَعَ سَیِّدِی عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ حَیْثُ قُتِلَ أَہْلُ النَّہْرَوَانِ، فَکَأَنَّ النَّاسَ وَجَدُوا فِی أَنْفُسِہِمْ مِنْ قَتْلِہِمْ، فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ حَدَّثَنَا بِأَقْوَامٍ یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ، ثُمَّ لَا یَرْجِعُونَ فِیہِ أَبَدًا حَتّٰییَرْجِعَ السَّہْمُ عَلٰی فُوقِہِ، وَإِنَّ آیَۃَ ذٰلِکَ أَنَّ فِیہِمْ رَجُلًا أَسْوَدَ، مُخْدَجَ الْیَدِ إِحْدٰییَدَیْہِ کَثَدْیِ الْمَرْأَۃِ، لَہَا حَلَمَۃٌ کَحَلَمَۃِ ثَدْیِ الْمَرْأَۃِ، حَوْلَہُ سَبْعُ ہُلْبَاتٍ۔ فَالْتَمِسُوہُ فَإِنِّی أُرَاہُ فِیہِمْ فَالْتَمَسُوہُ فَوَجَدُوہُ إِلٰی شَفِیرِ النَّہَرِ تَحْتَ الْقَتْلٰی، فَأَخْرَجُوہُ فَکَبَّرَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: اللّٰہُ أَکْبَرُ، صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، وَإِنَّہُ لَمُتَقَلِّدٌ قَوْسًا لَہُ عَرَبِیَّۃً، فَأَخَذَہَا بِیَدِہِ فَجَعَلَ یَطْعَنُ بِہَا فِی مُخْدَجَتِہِ، وَیَقُولُ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، وَکَبَّرَ النَّاسُ حِینَ رَأَوْہُ وَاسْتَبْشَرُوْا، وَذَہَبَ عَنْہُمْ مَا کَانُوا یَجِدُونَ۔ (مسند احمد: ۶۷۲)
انصار کے غلام ابو کثیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں اپنے سردار سیدنا علی ابن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ تھا، جب انہوں نے اہل نہروان کو قتل کیا تو یو ں محسوس ہواکہ ان کو قتل کرنے کے بعد لوگوں کو ندامت اور افسوس محسوس ہوا، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ صورت بھانپ کر کہا: لوگو! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایسے لوگوں کی بابت بتلایا تھا جو دین میں سے اس طرح نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار میں سے گزر جاتا ہے، وہ کبھی دین کی طرف واپس نہیں آئیں گے، یہاں تک کہ تیر کمان میں واپس آ جائے، ان کی ایک علامت یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی سیاہ فام ناقص ہاتھ والا ہوگا، اس کا وہ ہاتھ عورت کے پستان کی مانند ہوگا اور اس پریوں سرا بنا ہوگا جیسے پستان کے اوپر ہوتا ہے، اس کے ارد گرد سات بال ہوں گے، تم اسے تلاش کرو، میرا خیال ہے کہ وہ انہی میں ہوگا،لوگوں نے اسے تلاش کیا اوراسے نہر کے کنارے پر مقتولوں کے ڈھیر کے نیچے پایا، لوگوں نے اسے نکالا تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہا اور فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کی بات سچ ہے، اس وقت سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی عربی کمان لٹکائے ہوئے تھے، وہ اسے اس مقتول کے ناقص ہاتھ والے گوشت کے ٹکڑے پر لگاتے اور کہتے جاتے تھے: اللہ اور اس کے رسول کا فرمان سچ ہے، لوگوںنے بھی جب اسے دیکھا تو اللہ اکبر کہنے لگے اور خوشی کا اظہار کیا اور ان کے افسوس کی کیفیت جاتی رہی۔
Takhreej
(۱۲۳۷۸) تخریج: حسن لغیرہ، اخرجہ ابویعلی: ۴۷۸ (انظر: ۶۷۲)
12378
Sahih
فصل سوم: جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر خوارج کا فساد واضح ہوا تو ان کا نہروان میں خوارج سے قتال کے لیے اپنے لشکر کو لے جانا
۔ (۱۲۳۷۹)۔ عَنْ بَکْرِ بْنِ قِرْوَاشٍ عَنْ سَعْدٍ قِیلَ لِسُفْیَانَ: عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((شَیْطَانُ الرَّدْہَۃِیَحْتَدِرُہُیَعْنِی رَجُلًا مِنْ بَجِیلَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۱)
سیدنا سعد سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خوارج کے سردار شیطان کو بنی بجیلہ کا ایک آدمی لڑ ھکائے گا یعنی قتل کرے گا۔ کسی نے سفیان سے کہا: کیا یہ روایت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مروی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Takhreej
(۱۲۳۷۹) ٔٔتخریج: اسنادہ ضعیف، بکر بن قرواش، قال الذھبی: لا یُعرف، والحدیث منکر، وتساھل العجلی وابن حبان فوثقاہ، ثم الانقطاع بین العلاء وبین ابی الطفیل عامر بن واثلۃ، اخرجہ ابویعلی ۷۵۳، وابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۳۲۲، والبزار: ۱۸۵۴ (انظر: )
Explanation
فوائد:… مسند احمد کی روایت مختصر ہے، ابو یعلی کی روایت کے الفاظ اس طرح ہیں: عن سعد بن مالک أنہ سمع النبی صلی اللہ علیہ و سلم وذکر، یعنی ذا الثدیۃ، الذی وُجد مع أہل النہروان فقال: شیطان ردْہۃ، یحدُرہ رجل من بجیلۃ، یقال لہ الأشہب أو ابن الأشہب علامۃ فی قوم ظَلَمۃ، قال سفیان: فقال عمار الدہنی حین حدث: جاء بہ رجل منا من بجیلۃ فقال: أراہ فلان من دہن یقال لہ الأشہب أو ابن الأشہب۔ … سیدنا سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پستان والے آدمی کا ذکر کیا، جس کو اہل نہروان کے ساتھ مقتول پایا گیا تھا، اس کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (خوارج کے) پہاڑی غار کے شیطان کو بنو بجیلہ کا ایک آدمی اشہب یا ابن اشہب نامی آدمی لڑھکائے گا، یعنی قتل کرے گا، یہ ظالم قوم کی علامت ہو گی۔ امام سفیان نے کہا: جب عمار دہنی نے یہ حدیث بیان کی تو ہمارے خاندان کا ایک آدمی بجیلہ کے اس آدمی کو لے آیا، میرا خیال ہے کہ اس کا تعلق دہن سے تھا اور اس کو اشہب یا ابن اشہب کہتے تھے۔
12379
Zaeef
فصل چہارم: عبداللہ بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وہ مفصل حدیث جو انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو سنائی تھی، یہ حدیث خوارج کے تفصیلی واقعہ پر مشتمل ہے
۔ (۱۲۳۸۰)۔ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عِیَاضِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِیِّ، قَالَ: جَائَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ شَدَّادٍ، فَدَخَلَ عَلٰی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا وَنَحْنُ عِنْدَہَا جُلُوسٌ، مَرْجِعَہُ مِنَ الْعِرَاقِ لَیَالِیَ قُتِلَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَقَالَتْ لَہُ: یَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ شَدَّادٍ! ہَلْ أَنْتَ صَادِقِی عَمَّا أَسْأَلُکَ عَنْہُ، تُحَدِّثُنِی عَنْ ہٰؤُلَائِ الْقَوْمِ الَّذِینَ قَتَلَہُمْ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ: وَمَا لِی لَا أَصْدُقُکِ؟ قَالَتْ: فَحَدِّثْنِی عَنْ قِصَّتِہِمْ، قَالَ: فَإِنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ لَمَّا کَاتَبَ مُعَاوِیَۃَ وَحَکَمَ الْحَکَمَانِ خَرَجَ عَلَیْہِ ثَمَانِیَۃُ آلَافٍ مِنْ قُرَّائِ النَّاسِ، فَنَزَلُوْا بِأَرْضٍ یُقَالُ لَہَا: حَرُورَائُ مِنْ جَانِبِ الْکُوفَۃِ، وَإِنَّہُمْ عَتَبُوْا عَلَیْہِ فَقَالُوْا: انْسَلَخْتَ مِنْ قَمِیصٍ أَلْبَسَکَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی وَاسْمٍ سَمَّاکَ اللّٰہُ تَعَالٰی بِہِ، ثُمَّ انْطَلَقْتَ فَحَکَّمْتَ فِی دِینِ اللّٰہِ، فَلَا حُکْمَ إِلَّا لِلّٰہِ تَعَالَی، فَلَمَّا أَنْ بَلَغَ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مَا عَتَبُوْا عَلَیْہِ، وَفَارَقُوہُ عَلَیْہِ، فَأَمَرَ مُؤَذِّنًا، فَأَذَّنَ أَنْ لَا یَدْخُلَ عَلٰی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ إِلَّا رَجُلٌ قَدْ حَمَلَ الْقُرْآنَ، فَلَمَّا أَنْ امْتَلَأَتِ الدَّارُ مِنْ قُرَّائِ النَّاسِ دَعَا بِمُصْحَفٍ إِمَامٍ عَظِیمٍ فَوَضَعَہُ بَیْنَیَدَیْہِ، فَجَعَلَ یَصُکُّہُ بِیَدِہِ وَیَقُولُ: أَیُّہَا الْمُصْحَفُ! حَدِّثِ النَّاسَ، فَنَادَاہُ النَّاسُ فَقَالُوْا: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! مَا تَسْأَلُ عَنْہُ؟ إِنَّمَا ہُوَ مِدَادٌ فِی وَرَقٍ، وَنَحْنُ نَتَکَلَّمُ بِمَا رُوِینَا مِنْہُ، فَمَاذَا تُرِیدُ؟: قَالَ أَصْحَابُکُمْ ہٰؤُلَائِ الَّذِینَ خَرَجُوْا، بَیْنِی وَبَیْنَہُمْ کِتَابُ اللّٰہِ، یَقُولُ اللّٰہُ تَعَالٰی فِی کِتَابِہِ فِی امْرَأَۃٍ وَرَجُلٍ: {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِنْ أَہْلِہِ وَحَکَمًا مِنْ أَہْلِہَا إِنْ یُرِیدَا إِصْلَاحًا یُوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَہُمَا} فَأُمَّۃُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَعْظَمُ دَمًا وَحُرْمَۃً مِنْ امْرَأَۃٍ وَرَجُلٍ، وَنَقَمُوا عَلَیَّ أَنْ کَاتَبْتُ مُعَاوِیَۃَ، کَتَبَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ، وَقَدْ جَائَ نَا سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو، وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَیْبِیَۃِ حِینَ صَالَحَ قَوْمَہُ قُرَیْشًا، فَکَتَبَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ، فَقَالَ سُہَیْلٌ: لَا تَکْتُبْ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ، فَقَالَ: ((کَیْفَ نَکْتُبُ؟)) فَقَالَ: اکْتُبْ بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((فَاکْتُبْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰہِ۔)) فَقَالَ: لَوْ أَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللّٰہِ لَمْ أُخَالِفْکَ، فَکَتَبَ ہٰذَا مَا صَالَحَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ قُرَیْشًا،یَقُولُ اللّٰہُ تَعَالٰی فِی کِتَابِہِ: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِمَنْ کَانَ یَرْجُو اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْآخِرَ} فَبَعَثَ إِلَیْہِمْ عَلِیٌّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَخَرَجْتُ مَعَہُ حَتّٰی إِذَا تَوَسَّطْنَا عَسْکَرَہُمْ، قَامَ ابْنُ الْکَوَّائِ یَخْطُبُ النَّاسَ فَقَالَ: یَا حَمَلَۃَ الْقُرْآنِ! إِنَّ ہٰذَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَمَنْ لَمْ یَکُنْیَعْرِفُہُ، فَأَنَا أُعَرِّفُہُ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ مَا یَعْرِفُہُ بِہِ ہٰذَا مِمَّنْ نَزَلَ فِیہِ وَفِی قَوْمِہِ {قَوْمٌ خَصِمُونَ} فَرُدُّوہُ إِلٰی صَاحِبِہِ، وَلَا تُوَاضِعُوہُ کِتَابَ اللّٰہِ، فَقَامَ خُطَبَاؤُہُمْ فَقَالُوْا: وَاللّٰہِ! لَنُوَاضِعَنَّہُ کِتَابَ اللّٰہِ، فَإِنْ جَائَ بِحَقٍّ نَعْرِفُہُ لَنَتَّبِعَنَّہُ، وَإِنْ جَائَ بِبَاطِلٍ لَنُبَکِّتَنَّہُ بِبَاطِلِہِ، فَوَاضَعُوا عَبْدَ اللّٰہِ الْکِتَابَ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ، فَرَجَعَ مِنْہُمْ أَرْبَعَۃُ آلَافٍ کُلُّہُمْ تَائِبٌ، فِیہِمْ ابْنُ الْکَوَّائِ حَتّٰی أَدْخَلَہُمْ عَلٰی عَلِیٍّ الْکُوفَۃَ، فَبَعَثَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ إِلٰی بَقِیَّتِہِمْ، فَقَالَ: قَدْ کَانَ مِنْ أَمْرِنَا وَأَمْرِ النَّاسِ مَا قَدْ رَأَیْتُمْ، فَقِفُوا حَیْثُ شِئْتُمْ حَتّٰی تَجْتَمِعَ أُمَّۃُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ، أَنْ لَا تَسْفِکُوا دَمًا حَرَامًا، أَوْ تَقْطَعُوا سَبِیلًا، أَوْ تَظْلِمُوا ذِمَّۃً، فَإِنَّکُمْ إِنْ فَعَلْتُمْ فَقَدْ نَبَذْنَا إِلَیْکُمُ الْحَرْبَ عَلٰی سَوَائٍ، إِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْخَائِنِینَ، فَقَالَتْ لَہُ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا: یَا ابْنَ شَدَّادٍ! فَقَدْ قَتَلَہُمْ، فَقَالَ: وَاللّٰہِ! مَا بَعَثَ إِلَیْہِمْ حَتّٰی قَطَعُوا السَّبِیلَ، وَسَفَکُوا الدَّمَ، وَاسْتَحَلُّوا أَہْلَ الذِّمَّۃِ، فَقَالَتْ: أَاللّٰہِ؟ قَالَ: أَاللّٰہِ الَّذِی لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ؟ لَقَدْ کَانَ قَالَتْ فَمَا شَیْئٌ بَلَغَنِی عَنْ أَہْلِ الذِّمَّۃِ،یَتَحَدَّثُونَہُیَقُولُونَ ذُو الثُّدَیِّ وَذُو الثُّدَیِّ، قَالَ: قَدْ رَأَیْتُہُ وَقُمْتُ مَعَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلَیْہِ فِی الْقَتْلٰی، فَدَعَا النَّاسَ، فَقَالَ: أَتَعْرِفُونَ ہٰذَا؟ فَمَا أَکْثَرَ مَنْ جَائَ یَقُولُ: قد رأَیْتُہُ فی مَسْجِدِ بَنِی فُلَانٍ یُصَلِّی، وَرَأَیْتُہُ فِی مَسْجِدِ بَنِی فُلَانٍ یُصَلِّی، وَلَمْ یَأْتُوا فِیہِ بِثَبَتٍ یُعْرَفُ إِلَّا ذٰلِکَ، قَالَتْ: فَمَا قَوْلُ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ حِینَ قَامَ عَلَیْہِ کَمَا یَزْعُمُ أَہْلُ الْعِرَاقِ، قَالَ: سَمِعْتُہُ یَقُولُ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، قَالَتْ: ہَلْ سَمِعْتَ مِنْہُ أَنَّہُ قَالَ غَیْرَ ذٰلِکَ؟ قَالَ: اللّٰہُمَّ لَا، قَالَتْ: أَجَلْ صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، یَرْحَمُ اللّٰہُ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، إِنَّہُ کَانَ مِنْ کَلَامِہِ لَا یَرٰی شَیْئًایُعْجِبُہُ إِلَّا قَالَ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، فَیَذْہَبُ أَہْلُ الْعِرَاقِ یَکْذِبُونَ عَلَیْہِ وَیَزِیدُونَ عَلَیْہِ فِی الْحَدِیثِ۔ (مسند احمد: ۶۵۶)
عبیداللہ بن عیاض بن عمرو قاری کہتے ہیں کہ ہم سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی خدمت میں حاضر تھے کہ عبیداللہ بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے، یہ سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کے دنوں کا واقعہ ہے، وہ عراق سے آئے تھے، تو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان سے فرمایا، عبیداللہ بن شداد! میں تم سے جو پوچھوں کیا تم مجھے سچ سچ بتلاؤ گے؟ تم مجھے ان لوگوں کے متعلق بتلاؤ جن کو علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے قتل کیا؟ وہ کہنے لگے مجھے کیا ہے کہ میں آپ کو سچ سچ نہ بتلاؤں؟ تو سیدہ نے فرمایا تو مجھے ان کا پورا واقعہ بیان کر، انہوںنے کہا کہ علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ خط و خطابت کی اور دو حاکموں نے فیصلہ کیا تو آٹھ ہزار قاریوں نے ان کے خلاف خروج کیا اور وہ کوفہ کے قریب حروراء کے مقام پر جمع ہوگئے اور انہوں نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو صلح کرنے پر سرزنش کی، وہ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قمیص پہنایا اور ایک نام دیا ہے،(قمیص سے مرادخلافت اور نام سے امیر المومنین کا لقب ہے)۔آپ یہ صلح کر کے ان دونوں کے اہل نہیں رہے ہے، کیونکہ آپ نے اللہ کے دین میںغیر کو حکم تسلیم کیاہے، جبکہ فیصلہ کرنا صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے، جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک ان لوگوں کی یہ بات پہنچی جس کی اساس پر وہ لوگ ان سے الگ ہوئے تھے تو انہوں نے ایک اعلان کرنے والے کو حکم دیا اس نے اعلان کیا کہ امیر المومنین کے پاس صرف وہ آدمی آئے جسے قرآن مجید یا دہو، قراء سے گھر بھر گیا تو انہوں نے قرآن مجید منگوا کر اپنے سامنے رکھا اور اس پر آہستہ آہستہ ہاتھ مارنے لگے اور کہتے جاتے اے قرآن! لوگوں کو کچھ بیان کر، تو لوگوں نے کہا، امیرالمومنین! آپ سے کیا پوچھ رہے ہیں؟ یہ تو محض اور اق پر روشنائی ہے، اس کی بابت جو کچھ ہمیںبیان کیا گیا ہو ہم بولتے ہیں، آپ اصل بات بتلائیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا، تمہارے یہ ساتھی جو الگ ہوئے ہیں، ان کے اور میرے مابین اللہ کی کتاب حکم ہے، اللہ تعالیٰ نے ایک شوہر اور اسکی بیوی کے بارے میں اپنی کتاب میں فرمایا: {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِنْ أَہْلِہِ وَحَکَمًا مِنْ أَہْلِہَا إِنْ یُرِیدَا إِصْلَاحًا یُوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَہُمَا}… اور اگر تمہیں ان کے مابین اختلاف کا اندیشہ ہو تو ایک مصنف مرد کی طرف سے اور ایک عورت کی طرف سے مقرر کردو، اگر دونوں منصف اصلاح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان دونوں کے مابین موافقت پیدا کر دے گا۔ امت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خون اور حرمت ایک مرد اور عورت سے کہیں بڑ ھ کر ہے، یہ لوگ مجھ پر معترض ہیں کہ میں نے معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے صلح کر لی ہے، حالانکہ جب حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی قوم قریش کے ساتھ خط و خطابت کی (یعنی صلح کر لی) تھی اور اور کفار کی طرف سے سہیل بن عمرو آیا تھا، ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے صلح نامہ لکھوایا تھا اور وہ سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یعنی میں نے ہی لکھا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ لکھوایا، لیکن سہل نے کہا: تم بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ مت لکھو،رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو کیا لکھیں؟ وہ بولا کہ یہ لکھو: بِاسْمِکَ اللَّہُمَّ، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰہِ لکھو۔ لیکن سہل نے پھر کہا: اگر میں یہ مانتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو میں آپ کی مخالفت نہ کروں، تو آپ نے لکھوایا، یہ وہ تحریر ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے قریش کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِمَنْ کَانَ یَرْجُو اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْآخِرَ} … یقینا تمہارے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت میںبہترین نمونہ ہے، یعنی اس آدمی کے لیے جو اللہ تعالیٰ سے ملنے اور یوم آخرت کے آنے پر یقین رکھتا ہے۔ اس کے بعد سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان لوگوں کی طرف روانہ کیا، میں بھی عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ تھا، جب ہم ان لوگوں کے لشکر کے وسطہ میں پہنچے تو ابن الکواء نے کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کیا اور کہا اے قرآن کے حاملین! یہ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں جو انہیں نہ جانتا ہو، وہ نہ جانتا ہوگا، میں تو انہیں خوب جانتا ہوںاللہ کی کتاب ان کا تعارف کراتی ہے، ان کے اور ان کی قوم کے بارے میں یہ الفاظ نازل ہوئے: {قَوْمٌ خَصِمُونَ۔} جھگڑنے والی قوم ہے۔ تم انہیں ان کے ساتھی کی طرف بھیج دو اور کتاب اللہ کے بارے میں ان سے مناظرہ مباحثہ نہ کرو تو ان کے خطیب حضرات اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے، اللہ کی قسم! ہم اللہ کی کتاب کے بارے میں ان سے مباحثہ کریں گے، اگر انہوں نے کوئی ایسی حق بات کہی جسے ہم جانتے ہوں تو ان کی پیروی کر لیں گے اور اگر انہوںنے کوئی غلط بات کہی تو ہم ان کے باطل کے ذریعہ ہی ان کا مقابلہ کریں گے، تو انہوں نے تین دن تک ان سے مباحثہ کیا، بالآخر ان میں سے چار ہزار آدمیوں نے اپنے موقف سے رجوع کرلیا، ابن الکواء بھی ان توبہ کرنے والوں میں شامل تھا، عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان سب کو لے کر کوفہ میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں حاضر ہوئے،اس کے بعد علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے باقی ماندہ لوگوں کو پیغام بھیجا، کہ ہمارے اور لوگوں کے مابین جو کچھ ہو چکا تم وہ سب دیکھ چکے ہو، اب تم جہاں چاہو ٹھہرے رہو تاآنکہ امت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی بات پر مجتمع ہوجائے، ہمارے اور تمہارے مابین یہ طے ہے کہ تم کسی حرمت والے کی خون ریزی نہ کرو اور نہ لوٹ مار کرو اور نہ کسی ذمی کے ذمہ کو توڑو اگر تم نے یہ کام کیے تو ہماری تم سے لڑائی ہوگی، بے شک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، تو سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اس سے کہا، اسے ابن شداد! علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تو اپنے معاہدہ کے برعکس ان لوگوں کو قتل کیا، تو اس نے جواب دیا اللہ کی قسم! سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ان کے مقابلہ کے لیے اپنے آدمی اس وقت تک نہیں بھیجے جب تک کہ انہوں نے لوٹ مار نہ کی، خوں ریزی نہ کی اور ذمیوں کے ذمہ کو نہ توڑا تو سیدہ نے از راہ تعجب کہا، کیا واقعی اللہ کی قسم؟ ابن شداد نے کہا اللہ کی قسم، اسی اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں، ایسے ہی ہوا ہے؟تو سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے فرمایا، اہل ذمہ کی جو بات مجھ تک پہنچی ہے اس کا کیا مفہوم ہے؟ وہ کہتے ہیں ذوالثدی، ذوالثدی یعنی عورت کے پستان جیسے بازووالا مارا گیا، ابن شداد نے کہا میں نے اسے دیکھا ہے، میں علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ مقتولین کے پاس کھڑا تھا، انہوں نے لوگوںکو بلواکر پوچھا کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ تو کوئی آدمی اس سے زیادہ کچھ نہ کہہ سکا کہ میں نے اسے بنو فلاں کی مسجد میں نماز پڑھتے دیکھا ہے اور کوئی آدمی اسے جاننے پہچاننے کے متعلق اس سے زیادہ کچھ نہ کہہ سکا، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا اہل عراق جیسے بیان کرتے ہیں وہاں کھڑے ہو کر علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کیا کہا؟ ابن شداد نے کہا، میںنے ان کو وہاں سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا کیا تم نے ان کو اس کے علاوہ بھی کچھ کہتے سنا؟ اس نے کہا، اللہ گواہ ہے کہ میں نے ان سے اس کے علاوہ کچھ نہیں سنا، سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا ہاں، اللہ اور اس کے رسول کی بات سچ ہے، علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر اللہ کی رحمت ہو انہیں جب بھی کوئی بات اچھی لگتی تو کہا کرتے اللہ اور اس کے رسول کی بات سچ ہے ، عراقی لوگ ان پر جھوٹ باندھتے اور ان کی باتوں میں ازخود اضافے کردیتے ہیں۔
Takhreej
(۱۲۳۸۰) تخریج: اسنادہ حسن، اخرجہ ابویعلی: ۴۷۴ (انظر: ۶۵۶)
12380
Sahih
فصل: خوارج کے سروںکو مسجد دمشق کے دروازہ پر نصب کرنے کابیان
۔ (۱۲۳۸۱)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا غَالِبٍ یَقُولُ: لَمَّا أُتِیَ بِرُئُ وْسِ الْأزَارِقَۃِ، فَنُصِبَتْ عَلٰی دَرَجِ دِمَشْقَ، جَائَ أَبُو أُمَامَۃَ فَلَمَّا رَآہُمْ دَمَعَتْ عَیْنَاہُ، فَقَالَ: کِلَابُ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ہٰؤُلَائِ شَرُّ قَتْلٰی قُتِلُوْا تَحْتَ أَدِیمِ السَّمَائِ، وَخَیْرُ قَتْلٰی قُتِلُوْا تَحْتَ أَدِیمِ السَّمَائِ الَّذِینَ قَتَلَہُمْ ہٰؤُلَائِ، قَالَ: فَقُلْتُ: فَمَا شَأْنُکَ دَمَعَتْ عَیْنَاکَ؟ قَالَ: رَحْمَۃً لَہُمْ إِنَّہُمْ کَانُوْا مِنْ أَہْلِ الْإِسْلَامِ، قَالَ: قُلْنَا: أَبِرَأْیِکَ؟ قُلْتَ: ہٰؤُلَائِ کِلَابُ النَّارِ، أَوْ شَیْئٌ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: إِنِّی لَجَرِیئٌ، بَلْ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَیْرَ مَرَّۃٍ وَلَا ثِنْتَیْنِ وَلَا ثَلَاثٍ، قَالَ: فَعَدَّ مِرَارًا۔ (مسند احمد: ۲۲۵۳۶)
ابو غالب کہتے ہیں: خارجیوں کے قتل کیے جانے کے بعد ان کے لا کر دمشق کی سیڑھی پر رکھ دئیے گئے، سیدنا ابو امامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے، انہوںنے ان کو دیکھا تو ان کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں، وہ کہنے لگے:یہ لوگ جہنم کے کتے ہیں، آسمان کے نیچے قتل ہونے والوں میں سے یہ بد ترین مقتول ہیں اور اِنہوں نے جن لوگوں کو قتل کیا،وہ آسمان کے نیچے قتل ہونے والوں میں سے بہترین مقتول ہیں۔ ابو غالب کہتے ہیں: میںنے ان سے کہا: تو پھر آپ کی آنکھوں میں آنسو کیوں آگئے ہیں؟ انھوں نے کہا: ان لوگوں پر ترس آجانے کی وجہ سے، کیونکہ یہ لوگ بنیادی طور پر اہل اسلام ہیں۔ ابو غالب کہتے ہیں: ہم نے کہا: آپ نے ان کے متعلق کہا کہ یہ جہنم کے کتے ہیں، یہ بات آپ نے اپنی طرف سے کہی ہے یا یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: اگر میں اپنی طرف سے کہوںتو پھر تو میں بڑا جری ہوں، یہ میں نے اپنی طرف سے نہیں کہی، بلکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک، دو یا تین مرتبہ نہیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ مرتبہ سنی ہے۔
Takhreej
(۱۲۳۸۱) تخریج: حدیث صحیح، اخرجہ ابن ماجہ: ۱۷۶، والترمذی: ۳۰۰۰ (انظر: ۲۲۱۸۳)
12381
Sahih
فصل: خوارج کے سروںکو مسجد دمشق کے دروازہ پر نصب کرنے کابیان
۔ (۱۲۳۸۲)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنْ أَبِی غَالِبٍ، عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ أَنُہْ رَأَی رُئُ وْسًا مَنْصُوبَۃً عَلَی دَرَجِ مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَقَالَ أَبُو أُمَامَۃَ: کِلَابُ النَّارِ، کِلَابُ النَّارِ، ثَلَاثًا، شَرُّ قَتْلَی تَحْتَ أَدِیمِ السَّمَائِ خَیْرُ قَتْلَی مَنْ قَتَلُوہُ، ثُمَّ قَرَأَ: {یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوہٌ} الْآیَتَیْنِ، قُلْتُ لِأَبِی أُمَامَۃَ: أَسَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَوْ لَمْ أَسْمَعْہُ إِلَّا مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سِتًّا أَوْ سَبْعًا مَا حَدَّثْتُکُمْ۔ (مسند احمد: ۲۲۵۶۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوںنے جامع مسجد دمشق کی سیڑھیوں پر نصب شدہ سر دیکھے تو تین مرتبہ کہا: یہ جہنم کے کتے ہیں، یہ جہنم کے کتے ہیں، آسمان کے چھت کے نیچے قتل ہونے والوں میںسے یہ بد ترین مقتول ہیں اور اِنھوں نے جن لوگوں کو قتل کیا وہ آسمان کی چھت کے نیچے قتل ہونے والوں میںسے بہترین مقتول ہیں، پھر انہوں نے یہ دو آیات تلاوت کیںـ: {یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوہٌ} … قیامت کے رو ز بہت سے چہرے روشن اور بہت سے چہرے سیاہ ہوں گے۔ (سورۂ آل عمران:۱۰۶) میں ابو غالب نے سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا:آیا آپ نے یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: اگر میں نے یہ بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دو، تین، چار، پانچ، چھ یا سات مرتبہ بھی نہ سنی ہوتی تو تم سے بیان نہ کرتا۔
Takhreej
(۱۲۳۸۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
12382
Sahih
فصل: خوارج کے سروںکو مسجد دمشق کے دروازہ پر نصب کرنے کابیان
۔ (۱۲۳۸۳)۔ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ قَالَ: سَمِعْتُ صَفْوَانَ بْنَ سُلَیْمٍیَقُولُ: دَخَلَ أَبُو أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیُّ دِمَشْقَ فَرَأَی رُئُ وْسَ حَرُورَائَ قَدْ نُصِبَتْ، فَقَالَ: کِلَابُ النَّارِ، کِلَابُ النَّارِ ثَلَاثًا، شَرُّ قَتْلَی تَحْتَ ظِلِّ السَّمَائِ، خَیْرُ قَتْلَی مَنْ قَتَلُوا، ثُمَّ بَکَی فَقَامَ إِلَیْہِ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا أَبَا أُمَامَۃَ! ہَذَا الَّذِی تَقُولُ مِنْ رَأْیِکَ أَمْ سَمِعْتَہُ؟ قَالَ: إِنِّی إِذًا لَجَرِیئٌ کَیْفَ أَقُولُ ہَذَا عَنْ رَأْیٍ؟ قَالَ: قَدْ سَمِعْتُہُ غَیْرَ مَرَّۃٍ وَلَا مَرَّتَیْنِ، قَالَ: فَمَا یُبْکِیکَ؟ قَالَ: أَبْکِی لِخُرُوجِہِمْ مِنَ الْإِسْلَامِ، ہٰؤُلَائِ الَّذِینَ تَفَرَّقُوْا وَاتَّخَذُوا دِینَہُمْ شِیَعًا۔ (مسند احمد: ۲۲۶۷۰)
صفوان بن سلیم سے مروی ہے کہ سیدنا ابو امامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دمشق میں داخل ہوئے اورانہوں نے حروری یعنی خارجی لوگوں کے سرلٹکے ہوئے دیکھے تو انھوں نے تین بار کہا: یہ لوگ جہنم کے کتے ہیں، یہ لوگ جہنم کے کتے ہیں، آسمان کی چھت کے نیچے قتل ہونے والوں میںسے یہ بد ترین مقتول ہیں اور اِنہوں نے جن لوگوں کو قتل کیا، وہ آسمان کی چھت کے نیچے قتل ہونے والوں میںسے بہترین مقتول ہیں۔ پھر وہ رونے لگے: ایک آدمی آپ کی طرف اٹھا اور اس نے کہا:اے ابوامامہ آپ ان کو دیکھ کرکیوں روئے؟ انہوںنے کہا:میں اس لیے رو رہا ہوں کہ یہ لوگ دائرہ اسلام سے نکل گئے، یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے تفرقہ ڈالا اور دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔
Takhreej
(۱۲۳۸۳) تخریج: حدیث صحیح، اخرجہ الحاکم: ۲/ ۱۴۹ (انظر: ۲۲۳۱۴)
12383
Sahih
فصل: خوارج کے سروںکو مسجد دمشق کے دروازہ پر نصب کرنے کابیان
۔ (۱۲۳۸۴)۔ (وَعَنْ سَیَّارٍ) قَالَ: جِیئَ بِرُئُ وْسٍ مِنْ قِبَلِ الْعِرَاقِ فَنُصِبَتْ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، وَجَاء َ أَبُو أُمَامَۃَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَیْہِمْ، فَنَظَرَ إِلَیْہِمْ، فَرَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ: شَرُّ قَتْلٰی تَحْتَ ظِلِّ السَّمَائِ ثَلَاثًا، فَذَ کَرَ نَحْوَہٗ۔ (مسنداحمد: ۲۲۵۰۳)
سیار سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں کے سر عراق سے لا کر اور مسجد کے دروازے کے پاس نصب کر دیئے گئے، سیدنا ابوامامہ آئے اور مسجد میں داخل ہو ئے، دو رکعت نماز ادا کی،پھر ان کی طرف نکلے، ان کو دیکھا اور پھر سر اٹھایا اور کہا: یہ آسمان کے نیچے سب سے برے مقتول ہیں۔ یہ بات تین دفعہ دہرائی، پھر سابق روایت کے طرح آگے بیان کیا۔
Takhreej
(۱۲۳۸۴) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… خوارج کے تعارف کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۸۲۷)والا باب۔
12384
Sahih
باب ہفتم: سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور اس امر کا بیان کہ ان کے جسم کا کون سا حصہ زخمی ہوگا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی یہ بات اس واقعہ کے وقوع پذیر ہو نے سے پہلے بتلا دی تھی اور اس امرکا بیان کہ اس کے قاتل کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
۔ (۱۲۳۸۵)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِی اَبِیْ، ثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثَنَا مُحَمَّدٌ یَعْنِی ابْنَ رَاشِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیْلٍ، عَنْ فَضَالَۃِ بْنِ اَبِیْ فَضَالَۃَ الْاَنْصَارِیِّ وَکَانَ اَبُوْ فَضَالَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِنْ اَھْلِ بَدْرٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ اَبِیْ عَائِدٍ اِلٰی عَلِی بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِنْ مَرْضٍ اَصَابَہُ ثَقَلٌ مِنْہُ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ اَبِیْ: مَا یُقِیْمُکَ فِیْ مَنْزِلِکَ ہٰذَا؟ لَوْ اَصَابَکَ اَجَلُکَ لَمْ یَلِکَ عِنْدَکَ اِلَّا اَعْرَابُ جُہَیْنۃَ، تُحْمَلُ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ، فَاِنْ اَصَابَکَ اَجَلُکَ وَلِیَکَ اَصْحَابُکَ وَصَلَّوْا عَلَیْکَ، فَقَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: انَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَہِدَ اِلَیَّ اَنْ لَا اَمُوْتَ حَتّٰی اُؤَمَّرَ ثُمَّ تُخْضَبَ ہٰذِہِ یَعْنِیْ لِحْیَتَہُ مِنْ دَمٍ ہٰذَا یَعْنِیْ ہَامَّتَہُ، فَقْقِلَ وَقُتِلَ اَبُوْ فَضٰلَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَعَ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَوْمَ صِفِّیْنَ۔ (مسند احمد: ۸۰۲)
فضالہ بن ابی فضالہ انصاری سے روایت ہے، ان کے والد سیدنا ابو فضالہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بدری صحابی تھے، فضالہ کہتے ہیں: میں اپنے باپ کی معیت میں سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عیادت کے لیے گیا، وہ کافی بیمار تھے، میرے والد نے ان سے کہا: آپ اپنی جگہ پر کس لیے ٹھہرے ہوئے ہیں؟ اگر آپ کا آخری وقت آگیا تو بنو جہینہ کے چند بدو آپ کے پاس ہوں گے،آپ کو مدینہ منورہ لے چلیں، وہاں اگر آپ کو موت آئی تو آپ کے دوست احباب پاس ہوں گے اور آپ کی نماز جنازہ ادا کریں گے، یہ سن کر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے فرما چکے ہیں کہ مجھے اس وقت تک موت نہ آئے گی، جب تک کہ مجھے امارت نہ ملے، پھر میرے سر کے خون سے میری داڑھی رنگین نہ ہوجائے، چنانچہ ایسے ہی ہوا اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ قتل ہو گئے۔ سیدنا ابو فضالہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ صفین کی جنگ میں قتل ہو گئے تھے۔
Takhreej
(۱۲۳۸۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، فضالۃ بن ابی فضالۃ، قال الذھبی: لا یُدری من ذا، اخرجہ البزار: ۹۲۷(انظر: ۸۰۲)
12385
Zaeef
باب ہفتم: سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور اس امر کا بیان کہ ان کے جسم کا کون سا حصہ زخمی ہوگا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی یہ بات اس واقعہ کے وقوع پذیر ہو نے سے پہلے بتلا دی تھی اور اس امرکا بیان کہ اس کے قاتل کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
۔ (۱۲۳۸۶)۔ وعَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ، قَالَ: کُنْتُ أَنَا وَعَلِیٌّ رَفِیقَیْنِ فِی غَزْوَۃِ ذَاتِ الْعُشَیْرَۃِ، فَلَمَّا نَزَلَہَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَأَقَامَ بِہَا رَأَیْنَا أُنَاسًا مِنْ بَنِی مُدْلِجٍ، یَعْمَلُونَفِی عَیْنٍ لَہُمْ فِی نَخْلٍ، فَقَالَ لِی عَلِیٌّ: یَا أَبَا الْیَقْظَانِ! ہَلْ لَکَ أَنْ تَأْتِیَ ہٰؤُلَائِ فَنَنْظُرَ کَیْفَیَعْمَلُونَ؟ فَجِئْنَاہُمْ فَنَظَرْنَا إِلٰی عَمَلِہِمْ سَاعَۃً، ثُمَّ غَشِیَنَا النَّوْمُ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَعَلِیٌّ، فَاضْطَجَعْنَا فِی صَوْرٍ مِنَ النَّخْلِ فِی دَقْعَائَ مِنَ التُّرَابِ فَنِمْنَا، فَوَاللّٰہِ! مَا أَہَبَّنَا إِلَّا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُحَرِّکُنَا بِرِجْلِہِ، وَقَدْ تَتَرَّبْنَا مِنْ تِلْکَ الدَّقْعَائِ، فَیَوْمَئِذٍ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِعَلِیٍّ: ((یَا أَبَا تُرَابٍ۔)) لِمَا یُرَی عَلَیْہِ مِنَ التُّرَابِ، قَالَ: ((أَلَا أُحَدِّثُکُمَا بِأَشْقَی النَّاسِ رَجُلَیْنِ؟)) قُلْنَا: بَلٰی،یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((أُحَیْمِرُ ثَمُودَ الَّذِی عَقَرَ النَّاقَۃَ، وَالَّذِییَضْرِبُکَیَا عَلِیُّ! عَلَی ہَذِہِ یَعْنِی قَرْنَہُ حَتّٰی تُبَلَّ مِنْہُ ہٰذِہِ یَعْنِی لِحْیَتَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۱۱)
سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ غزوۂ ذی العشیرہ میں رفیق تھے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں اترے اور قیام کیا تو ہم نے بنو مدلج قبیلے کے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ کھجوروں میں اپنے ایک چشمے میں کام کر رہے تھے۔ سیدنا علی نے مجھے کہا: ابو الیقظان! کیا خیال ہے کہ اگر ہم ان کے پاس چلے جائیں اور دیکھیں کہ یہ کیسے کام کرتے ہیں؟ سو ہم ان کے پاس چلے گئے اور کچھ دیر تک ان کا کام دیکھتے رہے، پھر ہم پر نیند غالب آ گئی۔ میں اور سیدنا علی کھجوروں کے ایک جھنڈ میں چلے گئے اور مٹی میں لیٹ کر سو گئے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہی ہمیں اپنے پاؤں کے ساتھ حرکت دے کر جگایا اور ہم مٹی آلود ہو چکے تھے۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی پر مٹی دیکھی تو فرمایا: اے ابو تراب! (یعنی مٹی والے) پھر آپ نے فرمایا: کیا میں تمھارے لیے دو بدبخت ترین مردوں کی نشاندہی نہ کروں؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: احیمر ثمودی، جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دی تھیں اور وہ آدمی جو (اے علی!) تیرے سر پر مارے گا، حتی کہ تیری (داڑھی) خون سے بھیگ جائے گی۔
Takhreej
(۱۲۳۸۶) تخریج: حسن لغیرہ، اخرجہ الحاکم: ۳/ ۱۴۰، والبزار: ۱۴۱۷(انظر: ۱۸۳۲۱)
12386
Sahih
باب ہفتم: سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور اس امر کا بیان کہ ان کے جسم کا کون سا حصہ زخمی ہوگا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی یہ بات اس واقعہ کے وقوع پذیر ہو نے سے پہلے بتلا دی تھی اور اس امرکا بیان کہ اس کے قاتل کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
۔ (۱۲۳۸۷)۔ وَعَنْ زَیْدِ بْنِ وَھْبٍ قَالَ: قَدِمَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلٰی قَوْمٍ مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ مِنَ الْخَوَارِجِ، فِیہِمْ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ: الْجَعْدُ بْنُ بَعْجَۃَ، فَقَالَ لَہُ: اتَّقِ اللّٰہَ یَا عَلِیُّ، فَإِنَّکَ مَیِّتٌ، فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: بَلْ مَقْتُولٌ ضَرْبَۃٌ عَلٰی ہٰذَا تَخْضِبُ ہٰذِہِ یَعْنِی لِحْیَتَہُ مِنْ رَأْسِہِ، عَہْدٌ مَعْہُودٌ وَقَضَائٌ مَقْضِیٌّ، وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰی، وَعَاتَبَہُ فِی لِبَاسِہِ، فَقَالَ: مَا لَکُمْ وَلِلِبَاسِیْ؟ ہُوَ أَبْعَدُ مِنْ الْکِبْرِ، وَأَجْدَرُ أَنْ یَقْتَدِیَ بِیَ الْمُسْلِمُ۔ (مسند احمد: ۷۰۳)
زید بن وہب سے روایت ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اہل بصرہ کے خوارج میں سے ایک قو م کے پاس تشریف لے گئے، ان میں سے ایک آدمی کا نام جعد بن بعجہ تھا، اس نے کہا: علی! اللہ سے ڈرو، تم نے بالآخر مرنا ہی ہے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہا: میں نے مرنا نہیں، بلکہ قتل ہونا ہے، میرے سر پر وار لگے گا، جس سے یہ میری داڑھی رنگین ہوجائے گی، یہ پختہ خبر ہے اور اللہ کی طرف سے فیصلہ ہوچکا ہے اور جس نے جھوٹ باندھا اس نے نقصان اٹھایا، پھر جب اس آدمی نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لباس پر اعتراض کیا تو انھوں نے کہا: تمہیں میرے اس لباس سے کیا؟ یہ تکبر سے بالکل بر ی ہے اور اس لائق ہے کہ اہل اسلام اس سلسلہ میں میری اقتداء کریں گے۔
Takhreej
(۱۲۳۸۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، شریک بن عبد اللہ النخعی سییء الحفظ، اخرجہ الطیالسی: ۱۵۷ (انظر: ۷۰۳)
12387
Zaeef
باب ہفتم: سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور اس امر کا بیان کہ ان کے جسم کا کون سا حصہ زخمی ہوگا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی یہ بات اس واقعہ کے وقوع پذیر ہو نے سے پہلے بتلا دی تھی اور اس امرکا بیان کہ اس کے قاتل کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
۔ (۱۲۳۸۸)۔ عَنْ أَبِی تِحْیَی قَالَ: لَمَّا ضَرَبَ ابْنُ مُلْجِمٍ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ الضَّرْبَۃَ، قَالَ عَلِیٌّ: افْعَلُوا بِہِ کَمَا أَرَادَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَفْعَلَ بِرَجُلٍ أَرَادَ قَتْلَہُ، فَقَالَ: اقْتُلُوہُ ثُمَّ حَرِّقُوہُ۔ (مسند احمد: ۷۱۳)
ابو تحیی سے مروی ہے کہ جب ابن ملجم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پروار کیا تو انہوں نے کہا: تم اس کے ساتھ وہی سلوک کرنا، جو اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کے ساتھ کیا تھا،جس نے آپ کوقتل کرنے کا ارادہ کیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ اسے قتل کر د و اور پھر اسے جلا ڈالو۔ 1
Takhreej
(۱۲۳۸۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شریک بن عبد اللہ النخعی وعمران بن ظبیان (انظر: ۷۱۳)
12388
Zaeef
فصل: اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا
۔ (۱۲۳۸۹)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَبُعٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَقُولُ: لَتُخْضَبَنَّ ہٰذِہِ مِنْ ہٰذَا فَمَا یَنْتَظِرُ بِی الْأَشْقٰی، قَالُوْا: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ فَأَخْبِرْنَا بِہِ نُبِیرُ عِتْرَتَہُ، قَالَ: إِذًا تَاللّٰہِ تَقْتُلُونَ بِی غَیْرَ قَاتِلِی، قَالُوْا: فَاسْتَخْلِفْ عَلَیْنَا، قَالَ: لَا، وَلٰکِنْ أَتْرُکُکُمْ إِلٰی مَا تَرَکَکُمْ إِلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالُوْا: فَمَا تَقُولُ لِرَبِّکَ إِذَا أَتَیْتَہُ؟ وَقَالَ وَکِیعٌ مَرَّۃً: إِذَا لَقِیتَہُ، قَالَ: أَقُولُ اللَّہُمَّ تَرَکْتَنِی فِیہِمْ مَا بَدَا لَکَ، ثُمَّ قَبَضْتَنِی إِلَیْکَ وَأَنْتَ فِیہِمْ، فَإِنْ شِئْتَ أَصْلَحْتَہُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَفْسَدْتَہُمْ۔ (مسند احمد: ۱۰۷۸)
عبداللہ بن سبع سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ! حدیث ضعیف ہے اور آگ کے ساتھ کسی ذی روح کو عذاب دینا یا جلانا منع ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ النَّارَ لَا یُعَذِّبُ بِھَا اَحَدٌ اِلاَّ اللّٰہُ)) (صحیح بخاری: ۲۹۵۴) آگ کے ساتھ اللہ کے سوا کوئی عذاب نہیں دیتا (یعنی کوئی عذاب نہ دے)۔ (عبداللہ رفیق) سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میری یہ داڑھی میرے سر کے خون سے رنگین ہوگی اور انتہائی بدبخت آدمی میرے ساتھ ایسا سلوک کرنے کا منتظر ہے۔ لوگوںنے کہا: اے امیر المومنین! آپ ہمیںاس کے متعلق بتلا دیں تو ہم اس کی اولاد تک کا نام و نشان نہ چھوڑیں، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر میں ایسا کروں تو تم میرے اصل قاتل کے علاوہ کسی دوسرے کو قتل کر دو گے۔ لوگوں نے کہا: اچھاآپ کسی کو ہمارے اوپر خلیفہ نامزد کردیں، انھوں نے اس سے بھی انکار کر دیا اور کہا: میں تمہیں اسی طرح چھوڑ کر جاؤں گا، جس طرح اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تمہیں چھوڑگئے تھے، یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا تھا، لوگوں نے کہا: آپ اپنے رب کے ہاں جا کر کیا کہیں گے؟ انھوں نے کہا: میں کہوں گا: یاا للہ! جب تک تجھے منظور تھا تو نے مجھے ان کے درمیان باقی رکھا، پھر تو نے مجھے اپنی طرف بلالیا اور ان لوگوں میں میرے بعد تو ہی تھا، تو چاہتا ہے تو ان کی اصلاح کردے اور اگر چاہتا ہے تو ان میں فساد برپا کر دے۔
Takhreej
(۱۲۳۸۹) تخریج: حسن لغیرہ، اخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۴/ ۵۹۶، وابویعلی: ۳۴۱ (انظر: ۱۰۷۸)
12389
Sahih
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کے بعد سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خطبہ
۔ (۱۲۳۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ اِسْحٰقَ، عَنْ ھُبَیْرَۃَ، خَطَبَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: لَقَدْ فَارَقَکُمْ رَجُلٌ بِالْاَمْسِ، لَمْ یَسْبِقْہُ الْاَوَّلُوْنَ بِعِلْمٍ وَلَا یُدْرِکْہُ الْآخِرُوْنَ، کَانَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَبْعَثُہُ بِالرَّاْیَۃِ، جِبْرِیْلُ عَنْ یَمِیْنِہِ وَمِیْکَائِیْلُ عَنْ شِمَالِہِِ، لَا یَنْصَرِفُ حَتّٰییُفْتَحَ لَہُ۔ (مسند احمد: ۱۷۱۹)
ہبیرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا حسن بن علی علیہ السلام نے ہمیں خطبہ دیا اور کہا: کل ایک ایسا آدمی تمہیںداغ مفارقت دے گیا ہے کہ نہ تو پہلے لوگوں میں سے کوئی علمی طور پر اس سے سبقت لے گیا ہے اورنہ بعد والوںمیں سے کوئی اس کے مقام کو پاسکے گا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے جھنڈا دے کر روانہ کرتے تو جبریل علیہ السلام اس کی داہنی جانب ہوتا اور میکائیل علیہ السلام اس کی بائیں جانب اور وہ فتح کے بغیر نہ لوٹتا تھا۔
Takhreej
(۱۲۳۹۰) تخریج: حسن، اخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۲/ ۷۳، والنسائی فی الکبری : ۸۴۰۸، وابن حبان: ۶۹۳۶، والطبرانی: ۲۷۱۷، ۲۷۱۹ (انظر: ۱۷۱۹)
12390
Sahih
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کے بعد سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خطبہ
۔ (۱۲۳۹۱)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہِ) وَزَادَ: وَمَا تَرَکَ مِنْ صَفْرَائَ وَلَا بَیْضَائَ إِلَّا سَبْعَ مِائَۃِ دِرْہَمٍ مِنْ عَطَائِہِ کَانَ یَرْصُدُہَا لِخَادِمٍ لِأَہْلِہِ۔ (مسند احمد: ۱۷۲۰)
۔ (دوسری سند) اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سونا اور چاندی چھوڑکر نہیں گئے، بس صرف سات سو درہم تھے، جو انہوں نے اہل خانہ کے خادم کے لیے الگ محفوظ رکھے ہوئے تھے۔
Takhreej
(۱۲۳۹۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
12391
Sahih
سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا فاطمہ زہرائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا امام حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
۔ (۱۲۳۹۲)۔ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ الْأَقْمَرِ قَالَ: بَیْنَمَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّیَخْطُبُ بَعْدَمَا قُتِلَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، إِذْ قَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَزْدِ آدَمُ طُوَالٌ، فَقَالَ: لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاضِعَہُ فِی حَبْوَتِہِ، یَقُولُ: ((مَنْ أَحَبَّنِی فَلْیُحِبَّہُ، فَلْیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ۔)) وَلَوْلَا عَزْمَۃُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا حَدَّثْتُکُمْ۔ (مسند احمد: ۲۳۴۹۴)
زہیربن اقمر سے مروی ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کے بعد ایک دن سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خطاب کر رہے تھے کہ بنواز د کے ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اپنی گود میں بٹھایا ہوا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جسے مجھ سے محبت ہے، وہ اس سے بھی محبت کرے،جو لو گ یہاں موجود ہیں وہ یہ بات ان لوگوں تک پہنچا دیں، جو یہاں نہیں ہیں۔ اگر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے یہ تاکید نہ ہوتی تومیں تمہیں یہ حدیث نہ سناتا۔
Takhreej
(۱۲۳۹۲) تخریج: اسنادہ صحیح، اخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۲/۹۹، والبخاری فی التاریخ الکبیر : ۳/ ۴۲۸، والحاکم: ۳/ ۱۷۳ (انظر: ۲۳۱۰۵)
12392
Sahih
سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا فاطمہ زہرائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا امام حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
۔ (۱۲۳۹۳)۔ ثَنَا ہَاشِمٌ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَکُ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرَۃَ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی بِالنَّاسِ، وَکَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یَثِبُ عَلٰی ظَہْرِہِ، إِذَا سَجَدَ فَفَعَلَ ذٰلِکَ غَیْرَ مَرَّۃٍ،(وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَیَرْفَعُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَفْعًا رَقِیْقًا لِئَلَّا یُصْرِعَہُ) أَبُوبَکْرَۃَ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی بِالنَّاسِ، وَکَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یَثِبُ عَلٰی ظَہْرِہِ إِذَا سَجَدَ، فَفَعَلَ ذٰلِکَ غَیْرَ مَرَّۃٍ، فَقَالُوْا لَہُ: وَاللّٰہِ! إِنَّکَ لَتَفْعَلُ بِہٰذَا شَیْئًا مَا رَأَیْنَاکَ تَفْعَلُہُ بِأَحَدٍ، قَالَ الْمُبَارَکُ: فَذَکَرَ شَیْئًا ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ ابْنِیْ ہَذَا سَیِّدٌ، وَسَیُصْلِحُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی بِہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ۔)) فَقَالَ الْحَسَنُ: فَوَاللّٰہِ وَاللّٰہِ بَعْدَ أَنْ وَلِیَ لَمْ یُہْرَقْ فِی خِلَافَتِہِ مِلْئُ مِحْجَمَۃٍ مِنْ دَمٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۷۲۱)
سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کود کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کمر پر چڑھ جاتے، انھوں نے ایسے کئی بار کیا۔ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نرمی سے اٹھتے تھے تاکہ وہ گر نہ جائیں، یہ منظر دیکھ کر صحابہf نے کہا: اللہ کی قسم! آپ جیسا سلوک اس کے ساتھ کرتے ہیں، ویسا کسی اور کے ساتھ نہیں کرتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا یہ بیٹا سردار ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوںکی دو بڑی جماعتوں میں صلح کراے گا۔ حسن بصری نے کہا: پس اللہ کی قسم، اللہ کی قسم ہے کہ ان کی خلافت میں ایک شیشی کی مقدار بھی خون نہیں بہایا گیا۔
Takhreej
(۱۲۳۹۳) تخریج: حدیث صحیح، اخرجہ الطیالسی: ۸۷۴، وابن حبان: ۶۹۶۴، والطبرانی فی الکبیر : ۲۵۹۱ (انظر: ۲۰۴۴۸)
12393
Sahih
سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا فاطمہ زہرائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا امام حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
۔ (۱۲۳۹۴)۔ عَنْ أَبِی مُوسٰی وَیُقَالُ لَہُ: إِسْرَائِیلُ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَکْرَۃَ، وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً: عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَحَسَنٌ عَلَیْہِ السَّلَامُ مَعَہُ وَہُوَ یُقْبِلُ عَلَی النَّاسِ مَرَّۃً وَعَلَیْہِ مَرَّۃً وَیَقُولُ: ((إِنَّ ابْنِی ہٰذَا سَیِّدٌ، وَلَعَلَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَنْ یُصْلِحَ بِہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۶۳)
سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف فرما تھے اور سیدنا حسن علیہ السلام بھی آپ کے ہمراہ تھے، آپ ایک بار لوگوں کی طرف دیکھتے اور ایک بار ان پر نظر ڈالتے اور فرماتے تھے: میرا یہ بیٹا سردار ہوگا اور امید ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ا س کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرائے گا۔
Takhreej
(۱۲۳۹۴) تخریج: اخرجہ البخاری: ۲۷۰۴، ۳۷۴۶، ۷۱۰۹ (انظر: ۲۰۳۹۲)
12394
Sahih
سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا فاطمہ زہرائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا امام حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
۔ (۱۲۳۹۵)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَن الْحَسَنِ عَن أَبِی بَکْرَۃَ، قَالَ: بَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍیَخْطُبُ إِذْ جَائَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ، فَصَعِدَ إِلَیْہِ الْمِنْبَرَ، فَضَمَّہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَیْہِ، وَمَسَحَ عَلٰی رَأْسِہِ، وَقَالَ: ((ابْنِی ہٰذَا سَیِّدٌ، وَلَعَلَّ اللّٰہَ أَنْ یُصْلِحَ عَلٰییَدَیْہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ عَظِیمَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۷۳)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آگئے، وہ آکر آپ کے پاس منبر پر چلے گئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اپنے سینے سے لگالیا اور ان کے سر پر ہاتھ پھیر کر فرمایا: میر ایہ بیٹا سردار ہے اور امید ہے کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کراے گا۔
Takhreej
(۱۲۳۹۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور وہ زخمی ہونے کے تیسرے دن ۲۰ رمضان ۴۰ ؁ھـ کو دار فانی سے روانہ ہو گئے۔ ان کے بعد اسی مہینے میں سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت کی گئی، جو بڑے نرم خو، متحمل مزاج، صلح جو اور امن پسند تھے اور جنگ و جدل سے طبعی طور پر نفرت رکھتے تھے۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کے بعد سیدناامیر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو عالم اسلام پر حکومت کرنے کی دیرینہ تمنا پوری کرنے کا موقع ملا، چنانچہ انھوں نے عراق پر فوج کشی کر دی، جب سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو شامی فوج کی پیش قدمی کی خبر ملی تو آپ نے قیس بن سعد انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بارہ ہزار فوج کے ساتھ مقابلہ کے لیے آگے بھیج دیا اور خود ان کے عقب میں روانہ ہو گئے، اگرچہ عراقی فوج کی غداری کی مثالیں بھی موجود ہیں، لیکن جان نثاروں کی تعداد بھی معقول تھی، اصل بات یہ تھی کہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسلمانوں کے خون کی قیمت پر خلافت نہیں خریدنا چاہتے تھے، اس لیے انھوں نے چند شرائط پر ربیع الاول ۴۱ ؁ھـ کو سیدنا امیر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں دست برداری کا اعلان کر دیا، اس طرح آپ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مدت ِ خلافت چھ ماہ بنتی ہے۔ اس دست برداری سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی درج ذیل پیشین گوئی پوری ہوئی: حسن بصری کہتے ہیں: لَمَّا سَارَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اِلٰی مُعَاوِیَۃَ بِالْکَتَائِبِ، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِمُعَاِویَۃَ: اَرٰی کَتِیْبَۃً لَا تُوَلِّی حَتّٰی تُدْبِرَ اُخْرَاھَا۔ قَالَ مُعَاوِیَۃُ: مَنْ لِذَرَارِی الْمُسْلِمِیْنَ؟ فَقَالَ: اَنَا، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَامِرٍ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ سَمُرَۃَ: نَلْقَاہُ فَنَقُوْلُ لَہُ: الصُّلْحَ، قَالَ الْحَسَنُ: وَلَقَدْ سَمِعْتُ اَبَا بَکْرَۃَ قَالَ: بَیْنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ جَائَ الْحَسَنُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِبْنِیْ ھٰذَا سَیِّدٌ وَلَعَلَّ اللّٰہُ اَنْ یُّصْلِحَ بِہٖ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔)) (صحیح بخاری: ۷۱۰۹ ) جب سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما لشکروں کے ہمراہ معاویہ کی طرف چلے تو سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: میرا خیال تو یہ ہے کہ یہ لشکر اس وقت تک واپس نہیں پلٹے گا، جب تک اس کے مد مقابل پیٹھ نہ پھیر جائیں۔ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مسلمانوں کے بچوں کا کفیل کون ہو گا؟ انھوں نے کہا: میں ہوں گا۔ پھر عبد اللہ بن عامر اور عبد الرحمن بن سمرہ نے کہا: ہم ان کو ملتے ہیں اور صلح پیش کرتے ہیں۔ حسن بصری نے کہا: میں نے سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ میرا بیٹا سردار ہے، شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو جماعتوں کے مابین صلح کر وا دے۔ حافظ ابن حجر نے کہا: اس قصہ میں نبوت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے (کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشین گوئی پوری ہوئی) اور سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت بھی ہے کہ انھوں نے قلت، ذلت اور کسی علت کے بغیر حکمرانی ترک کر دی اور اللہ تعالیٰ کے انعام کی رغبت میں مسلمانوں کا خون بہنے سے بچا لیا، پس انھوں نے دین کے معاملے اور امت کی مصلحت کا خیال رکھا، اس حدیث میں خوارج کا ردّ بھی ہے، جو سیدنا علی اور سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اور ان کا ساتھ دینے والے لوگوں کو کافر قرار دیتے تھے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دونوں گروہوں کے بارے میں شہادت دی کہ وہ مسلمان ہوں گے۔ (فتح الباری: ۱۳/ ۸۳ )
12395
Sahih
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
۔ (۱۲۳۹۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِحَسَنٍ: ((اَللّٰہُمَّ اِنِّی اُحِبُّہُ فَاَحِبَّہٗوَاَحِبَّمَنْیُّحِبُّہٗ۔)) (مسند احمد: ۷۳۹۲)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے متعلق ارشاد فرمایا: یااللہ! مجھے اس سے محبت ہے،پس تو اس سے بھی محبت کرے اور اس سے محبت کرنے والے سے بھی محبت کر۔
Takhreej
(۱۲۳۹۶) تخریج: اخرجہ البخاری: ۲۱۲۲، ومسلم: ۲۴۲۱ (انظر: ۷۳۹۸)
12396
Sahih
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
۔ (۱۲۳۹۷)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سُوقٍ مِنْ أَسْوَاقِ الْمَدِینَۃِ، فَانْصَرَفَ وَانْصَرَفْتُ مَعَہُ، فَجَائَ إِلٰی فِنَائِ فَاطِمَۃَ فَنَادَی الْحَسَنَ، فَقَالَ: ((أَیْ لُکَعُ! أَیْ لُکَعُ! أَیْ لُکَعُ!)) قَالَہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمْ یُجِبْہُ أَحَدٌ، قَالَ: فَانْصَرَفَ وَانْصَرَفْتُ مَعَہُ، قَالَ: فَجَائَ إِلٰی فِنَائِ عَائِشَۃَ فَقَعَدَ، قَالَ: فَجَائَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ،قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: ظَنَنْتُ أَنَّ أُمَّہُ حَبَسَتْہُ لِتَجْعَلَ فِی عُنُقِہِ السِّخَابَ، فَلَمَّا جَائَ الْتَزَمَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَالْتَزَمَ ہُوَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ((اللَّہُمَّ إِنِّی أُحِبُّہُ فَأَحِبَّہُ، وَأَحِبَّ مَنْ یُحِبُّہُ۔)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔ (مسند احمد: ۸۳۶۲)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ مدینہ کے ایک بازار میں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس ہوئے تو میں بھی آپ کے ساتھ واپس آگیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر کی طرف گئے اور سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلاتے ہوئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: او بچے! او چھوٹو! او بچے! کسی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات کا جواب نہ دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس آگئے، میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ لوٹ آیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر جاکر بیٹھ گئے، اتنے میں سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی آگئے، سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ان کو ان کی والدہ نے ان کے گلے میں ہار کی مانند کوئی چیز ڈالنے کے لیے روک لیا تھا، جب وہ آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو گلے لگالیا اور وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گلے سے لگ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس وقت تین بار فرمایا: یا اللہ! مجھے اس سے محبت ہے، پس تو اس سے بھی محبت کر اور اس سے محب کرنے والے سے بھی محبت کر۔
Takhreej
(۱۲۳۹۷) تخریج: اخرجہ البخاری:۵۸۸۴، وأخرجہ مسلم مختصرا: ۲۴۲۱ (انظر: ۸۳۸۰)
12397
Sahih

Chapters

113
01
(باب اول) اس امر کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی زندگی میں کسی کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں فرمایا
16 Hadith
02
فصل: نبوت، خلافت اورملوکیت کے مراحل پر مشتمل سیدنا حذافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ایک جامع حدیث
1 Hadith
03
فصل: قریشی خلفاء کی تعداد
5 Hadith
04
باب سوم: ہر امام، امیر اور لوگوں کے معاملات کا مسئول بننے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ رعایا کے امور میں عدل و انصاف سے کام لے اور ظلم و جور سے بچے، بیشک اس سے اس بارے میں پوچھ گچھ ہوگی
8 Hadith
05
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے پوچھ گچھ ہو گی کی وضاحت
5 Hadith
06
فصل: اس حکمران کی وعید کا بیان جو رعایاکے امور کے سامنے رکاوٹیں ڈالتا ہے
3 Hadith
07
فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
5 Hadith
08
باب چہارم: حکمرانی طلب کرنے سے ممانعت اور اس سے نفرت دلانے کا بیان
11 Hadith
09
فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
3 Hadith
10
فصل دوم: بے وقوفوں، نا اہل لوگوں کی حکومت کا بیان، ہم ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں
18 Hadith
11
فصل سوم: لڑکوں کی حکمرانی کا بیان
4 Hadith
12
فصل چہارم: خواتین کی حکومت و سربراہی کا بیان
5 Hadith
13
فصل اول: حکمرانوں کی اطاعت کے وجوب اور ان کی بغاوت نہ کرنے کا بیان
13 Hadith
14
فصل دوم: اللہ کی نافرمانی کی صورت میں کسی انسان کی اطاعت نہیں ہے
10 Hadith
15
فصل سوم: حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے کے وجوب اوران کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرتے رہنے کا بیان
4 Hadith
16
فصل چہارم: مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنے اور بادشاہ کا اکرام کرنے کا بیان
4 Hadith
17
فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان
11 Hadith
18
فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
9 Hadith
19
باب اول: ان احادیث کا بیان جن میں ان کی خلافت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
9 Hadith
20
باب دوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت اور واقعۂ سقیفہ کا بیان
5 Hadith
21
باب سوم: صدیق اکبر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دورخلافت میں واقع ہونے والے بعض واقعات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی میراث کے مطالبہ کرنے کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجنا
2 Hadith
22
فصل دوم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مرتدین سے قتال کا بیان
1 Hadith
23
فصل سوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلافت میں قرآن مجید کو یکجا جمع کرنے کا بیان
1 Hadith
24
باب چہارم: مناقب صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جو مناسب بیان ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے مزید مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت
4 Hadith
25
فصل دوم: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تواضع کا بیان
2 Hadith
26
سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ذہانت، فطانت، علم اور فضیلت کا بیان
1 Hadith
27
فصل سوم: سیدنا صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبوں کا بیان اسلام میں ان کے پہلے خطاب کا بیان
4 Hadith
28
باب ششم: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیماری، مرض الموت اور وفات کا بیان
3 Hadith
29
خلیفۂ دوم امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ متعلق ابواب باب اول: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں خلافت کا تقرر
1 Hadith
30
باب دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فضائل اور ان کا اپنے اسلاف کی اقتداء کرنا
5 Hadith
31
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنت میں سیدناعمر ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے جو کچھ دیکھا، اس کا اور ان کی غیرت کا بیان
7 Hadith
32
فصل سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے علم کی وسعت، قوتِ دین، ان کی نیکی اورزہد کا بیان
7 Hadith
33
فصل چہارم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حق کی موافقات یا آپ کا الہام والے لوگوں میں سے ہونا
5 Hadith
34
فصل پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ہیبت اور وقار کا بیان
4 Hadith
35
باب سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں، فیصلوں اور ان کے دور خلافت میں پیش آنے والے بعض واقعات کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں اور فیصلوں کا بیان
5 Hadith
36
فصلِ دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلا فت میں ۱۵ ھ ؁ میں ہونے والے واقعۂ یرموک کا بیان
1 Hadith
37
فصل: کسریٰ کے خزانوں کی فتح
1 Hadith
38
فصل سوم: بیت المقدس کی فتح ، جابیہ مقام پر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مشہور خطاب اور۱۶ھ میں خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امارت سے معزول کرنے کا بیان
2 Hadith
39
فصل چہارم: ۱۸ھ میں شام میں پڑنے والے طاعونِ عمواس کا تذکرہ
1 Hadith
40
فصل پنجم: ۱۹ھ میں سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سرز مین خیبر سے یہودیوں کو جلا وطن کرنا
1 Hadith
41
باب چہارم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبات رعایا کے مابین عدل کے بارے میں ان کا خطبہ
2 Hadith
42
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے خواب کے بارے خطبہ اور اپنی وفات کے قریب ہونے کی صورت میں اس کی تعبیر کرنا
1 Hadith
43
باب پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خواب کی تعبیر کا ثابت ہونا، عجمی کا ان پر حملہ کرنا، ان کی کچھ وصیتوں کا بیان، لوگوں کا ان کی تعریف کرنا اور ان کے پاس رونا اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کسی خلیفہ نامزد نہ کرنا
4 Hadith
44
باب ششم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات ، ان کی نمازجنازہ اور سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے ان کی مدح سرائی کا بیان
4 Hadith
45
تیسرے خلیفہ راشد امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلاف سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت و بیعت کا بیان
1 Hadith
46
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ کرنا
4 Hadith
47
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
8 Hadith
48
فصل دوم: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خاص طور پر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ جو رازدارانہ باتیں کیں، ان کا بیان
2 Hadith
49
فصل سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے شرم و حیا ء اور فرشتوں کا ان سے شرمانے کا بیان
5 Hadith
50
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی صفات اور ان کے بعض خطبوں کا بیان
5 Hadith
51
باب سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر بعض لوگوں کے اعتراضات اور ان کا دفاع
2 Hadith
52
فصل: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خلاف سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بد خواہی کے الزام کی براء ت
1 Hadith
53
باب چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کے دوران رونما ہونے والے بعض واقعات کا بیان جرعہ کے دن والا واقعہ
2 Hadith
54
سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ربذہ کی طرف شہربدری
2 Hadith
55
باب پنجم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا محاصرہ اور اس موقع پر ان کی طرف سے اور ان سے کی جانے والی گفتگو کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: محاصرہ کے دنوں میں بعض صحابہ کے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف میلان رکھنے کا بیان
3 Hadith
56
فصل دوم: سیدنا عثمان کا اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مطیع ہونا، ان کا لوگوں کے سامنے عذر خواہی کرنااور لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کرنا اور ان کے مناقب
4 Hadith
57
فصل سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ایک سوال کرنا اور ان کا ان کو ڈانٹنا
2 Hadith
58
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خواب اور اپنے قتل کے دن سے دوسروں کو مطلع کرنا اور شہادت کی تیاری اور صبر کا بیان
2 Hadith
59
فصل پنجم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تاریخ شہادت، ان کی جنازہ، دفن اور مدتِ خلافت کا بیان
7 Hadith
60
باب اول: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اس طرف اشارہ کرنا
5 Hadith
61
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
1 Hadith
62
فصل دوم: سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث
20 Hadith
63
فصل چہارم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں فرمانا: تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے، جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، …۔
4 Hadith
64
فصل پنجم: غزوۂ خیبر کے روز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جھنڈا دینے کے لیے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منتخب کرنا اور اس میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت او رنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا بیان
6 Hadith
65
فصل ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کا قاضی مقرر کرنا اور اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس امت محمدیہ میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ بردباری والے اور سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے
3 Hadith
66
فصل ہفتم: شیعہ لو گوں کاسیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے محبت کرنا اور خارجی لوگوں کا ان سے بغض رکھنا
2 Hadith
67
باب سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبات کا بیان
7 Hadith
68
فصل دوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بصرہ میں تشریف آوری اور لوگوں کو جنگ جمل کے لیے بلانا
5 Hadith
69
فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا عمار اور سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو اہل کوفہ کی طرف بھیجنا، تاکہ وہ ان سے لڑائی میں شریک ہونے کا مطالبہ کریں
4 Hadith
70
باب پنجم: جنگ صفین اور سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شجاعت کا بیان اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے بارے میں فرمانا کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا
7 Hadith
71
فصل دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں دو آدمیوں کا جھگڑا، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ اس نے سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کیا ہے
2 Hadith
72
فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لشکر کی صفین کے موقع پر کامیابی کے بعد ہز یمت کا سبب اور خوارج کاحضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خلاف خروج اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ان کو قتل کرنا
1 Hadith
73
باب ششم: واقعہ نہروان اور وہاں پر خوارج کا قتل نیز خوارج کی مذمت اور ان کو قتل کرنے کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: خوارج کی بنیاد کا بیان
7 Hadith
74
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
12 Hadith
75
فصل سوم: جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر خوارج کا فساد واضح ہوا تو ان کا نہروان میں خوارج سے قتال کے لیے اپنے لشکر کو لے جانا
8 Hadith
76
فصل چہارم: عبداللہ بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وہ مفصل حدیث جو انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو سنائی تھی، یہ حدیث خوارج کے تفصیلی واقعہ پر مشتمل ہے
1 Hadith
77
فصل: خوارج کے سروںکو مسجد دمشق کے دروازہ پر نصب کرنے کابیان
4 Hadith
78
باب ہفتم: سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور اس امر کا بیان کہ ان کے جسم کا کون سا حصہ زخمی ہوگا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی یہ بات اس واقعہ کے وقوع پذیر ہو نے سے پہلے بتلا دی تھی اور اس امرکا بیان کہ اس کے قاتل کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
4 Hadith
79
فصل: اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا
1 Hadith
80
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کے بعد سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خطبہ
2 Hadith
81
سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا فاطمہ زہرائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا امام حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
4 Hadith
82
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
5 Hadith
83
فصل دوم: اس امر کابیان ہے کہ سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشابہت رکھتے تھے
5 Hadith
84
باب سوم: ان مناقب کا بیان، جن میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما مشترک ہیں
4 Hadith
85
باب چہارم: سیدنا امام حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کاتذکرہ اور اس امر کابیان کے صادق وامین ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق ان کی وفات سے خلفائے راشدین کی مدت خلافت پوری ہوگئی
1 Hadith
86
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
1 Hadith
87
باب دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب
2 Hadith
88
باب سوم: سیدنا معاویہ کے بعض حالات، خطبوں اور حج کا بیان
3 Hadith
89
ٔٔفصل: عہد خلافت ِمعاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک اہم واقعہ غزوۂ قسطنطنیہ ہے
1 Hadith
90
یزید بن معاویہ کی خلافت اور ان کے عہد خلافت میں ہونے والے واقعات سے متعلقہ ابواب باب اول: یزید کی بیعت اور بعض لوگوںکی اس کی بیعت سے بے زاری اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیان
1 Hadith
91
باب دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غم کا بیان
3 Hadith
92
فصل دوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا قتل اور ان کے سر کے ساتھ ابن زیاد کا سلوک
1 Hadith
93
فصل سوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کے دن سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا خواب
1 Hadith
94
فصل چہارم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خبر شہادت کالوگوں تک پہنچنا، اہل عراق کے بارے میں لوگوں کی آراء اور تاریخ شہادت کا بیان
3 Hadith
95
فصل پنجم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان
1 Hadith
96
باب سوم: یزید بن معاویہ کے عہد میں وقوع پذیر ہونے والے ایک انتہائی المناک واقعہ حرہ کا بیان
3 Hadith
97
فصل: حرّہ میں لڑنے والے لشکر کو یزید کا مکہ کی طرف سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے روانہ کرنے اور جا کر کعبہ کو جلانے کا بیان
1 Hadith
98
باب چہارم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ اور ان کو زیر کرنے کے لیے یزید اور اس کے ساتھیوں کا اپنے لشکروں کو مکہ کی طرف روانہ کرنے کا بیان
1 Hadith
99
فصل: یزید بن معاویہ کی طر ف سے مدینہ کے حکمران عمرو بن سعید بن العاص اموی کا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے مکہ کی طرف لشکر بھیجنا اور ابو شریح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ صحابی کی اس کو نصیحت اور سعید کے انکار کا بیان
2 Hadith
100
فصل: بنوامیہ کے ایک ظالم حکمران کے متعلق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات
1 Hadith
101
فصل: عبید اللہ بن زیاد کا تذکرہ
1 Hadith
102
باب پنجم: یزید بن معاویہ کی وفات
1 Hadith
103
یزید بن معاویہ کی موت کے بعد سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کا بیان باب اول: سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت کا بیان
2 Hadith
104
باب دوم: ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اور تاریخ ولادت
5 Hadith
105
باب سوم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خواہش کے مطابق کعبہ کی تعمیر کرنا
4 Hadith
106
باب چہارم: سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا عبد الملک اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر کے مابین پیدا ہونے والے فتنے کو ناپسند کرنا
1 Hadith
107
مختار ثقفی کا ظہور
4 Hadith
108
باب پنجم: عبدالملک بن مروان کا حجاج بن یوسف کو مصعب بن زبیر سے لڑنے کے لیے عراق کی طرف روانہ کرنا
1 Hadith
109
باب ششم: اس امر کابیان کہ عراق میںمصعب کو قتل کرنے کے بعد عبدالملک نے حجاج کو سیدنا عبداللہ زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ روانہ کیا اور اس نے بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا
5 Hadith
110
امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز i کی خلافت کے ابواب باب اول: عمر بن عبد العزیز کے مناقب
3 Hadith
111
یزید بن عبدالملک کی خلافت یزید بن عبد الملک کی اطاعت سے یزید بن مہلب کا خروج
1 Hadith
112
ولید بن یزید بن عبدالملک کی خلافت
1 Hadith
113
حکومت عباسیہ کا آغاز اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس سے مطلع کرنا
2 Hadith
No chapter matched that.