زبیر بن عدی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نے حجاج کے مظالم کا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے شکوہ کیا،انہوں نے کہا: صبر کرو، میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم پر جو بھی دن اور سال آتا ہے، اس سے بعد والا دن اور سال پہلے سے بدتر ہوتا ہے، یہاں تک کہ تم اپنے رب عزوجل سے جا ملو گے۔
Takhreej
(۱۲۴۵۸) تخریج: اخرجہ البخاری: ۷۰۶۸(انظر: ۱۲۳۴۷)
Explanation
فوائد:… فرمودۂ نبوی کے مطابق رضی اللہ عنہا آج بھی حکمرانوں کا یہی سلسلہ جاری ہے، ہر نئے حکمران کے کردار سے پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے والا اس سے بہتر تھا، جبکہ لوگوں کی امیدیں نئے حکمران سے وابستہ ہوتی ہیں۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہ کر جو کچھ دیکھ چکا ہوں،آج مجھے ان میں سے کچھ بھی نظرنہیں آتا، ابورافع نے کہا: اے ابو حمزہ! کیا نماز بھی ویسی نہیں رہی؟ انہوں نے کہا: کیا تم نہیںجانتے کہ حجاج1 نے نماز کا بھی کیا حشر کر دیا ہے؟
مالک بن دینار سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لوگ کہتے ہیں کہ مالک بن دینار زاہد اور نیک ہیں، جبکہ زاہد تو عمر بن عبد العزیز ہیں، جن کے پاس دنیا تو آئی مگر انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا۔
Takhreej
(۱۲۴۶۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، فیہ حماد بن واقد العیشی متفق علی ضعفہ، وأما ابنہ فطر بن حماد، فمختلف فیہ، اخرجہ البیھقی فی الزھد : ۴۵(انظر: ۲۲۱۴۳)
عثمان بن یزدویہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں عمر بن یزید کی معیت میں مدنیہ منورہ گیا، ان دنوں عمر بن عبدالعزیز خلیفہ بننے سے قبل وہاں کے عامل اور گورنر تھے، ، اس وقت میںنے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، جن کے جسم پر پھلبہری کے کافی سفید نشانات تھے، کو یہ کہتے ہوئے سنا،انھوں نے کہا: میں نے اس نوجوان یعنی عمر بن عبدالعزیز سے بڑھ کر کسی کو ! خادمِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انس بن مالک رضی اللہ عنہ شام کے علاقے میں آئے اور انھوں نے نماز کے ضائع ہونے کا ذکر کیا تھا کیونکہ حجاج نماز کو لیٹ کرکے پڑھتا تھا۔ اس کے بر خلاف مدینہ میں آنے پر انھوں نے کہا تھا تم صرف صف بندی صحیح نہیں کرتے۔ باقی معاملات کو انھوں نے درست قرار دیا تھا۔ [فتح الباری، ج:۲، ص: ۱۴] (عبداللہ رفیق) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح نماز پڑھتے نہیں دیکھا، یہ پوری نماز پڑھنے کے باوجود مختصر پڑھا کرتے تھے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے تمہارے اس امام سے بڑھ کر کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز جیسی نماز پڑھتے نہیں دیکھا، عمر بن عبدالعزیز نماز میں طویل قراء ت نہیں کیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۲۴۶۲) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… عمر بن عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ بنو امیہ کے نیک سیرت انسان تھے، ان کی نیکی، تقوی اور حسنِ سیرت کی بنا پر علمائے کرام نے ان کو خلیفۂ راشد کے پر فخار لقب سے یاد کیا ہے۔
ان کی مدت ِ خلافت دو برس، پانچ مہینے اور چار دن تھی، ان کی وفات ۲۵ رجب سنہ ۱۰۱ہجری کو ہوئی۔
قبیلہ بنو عقیل کے ایک بڑے شیخ عبدالمجید عقیلی نے بیان کیاکہ جن دنوں یزید بن مہلب نے یزید بن عبدالملک کے خلاف خروج کیا، ان دنوں ہم حج کرنے کے لیے گئے، ہمارے سامنے العالیہ کے نواح میں الزجیج نامی ایک مقام کا ذکر کیا گیا، ہم جب مناسک حج سے فارغ ہوئے تو الزجیج پہنچے، ہم نے وہاں اپنی سواریوں کو بٹھایا اور ہم چلتے چلتے ایک کنوئیں پر جا پہنچے، وہاں کچھ بزرگ لوگ بیٹھے باتیں کر رہے تھے، ان کے بال رنگے ہوئے تھے، ہم نے پوچھا، یہاں جو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صحابی ہے، اس کا گھر کہاں ہے؟لوگوں نے بتلایا کہ ہاں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صحابی ہے اور وہ اس کا گھر ہے، ہم اس کے گھر چلے، ہم نے جا کر انہیں سلام کہا، تو انہوں نے ہمیں اندر آنے کی اجازت دے دی، وہ ایک عمر رسیدہ بزرگ آدمی تھے، وہ لیٹے ہوئے تھے ان کا نام عداء بن خالد کلابی تھا،میں نے کہا: کیا آپ ہی وہ شخص ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! اگر اب رات نہ ہوتی تو میں تمہیں وہ خط پڑھاتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے لکھا تھا،انہوں نے کہا تم کون ہو؟ ہم نے کہا: ہم بصرہ کے باشندے ہیں،انہوںنے کہا: آپ کی آمد مبارک ہو، بزید بن مہلب کیا کر رہا ہے؟ ہم نے بتلایا کہ وہ وہاں اللہ تبارک و تعالیٰ کی کتاب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی طرف دعوت دیتا ہے، انہوںنے کہا: اس کی وہاں کیا پوزیشن ہے؟ میں نے پوچھا، ہم وہاں کس کا ساتھ دیں؟ اہل شام یا یزید کا؟ انہوں نے فرمایا: اگر تم غیر جانب دار ہو کر ایک طرف ہو کر بیٹھ رہو تو فلاح پاؤ گے اور کامیاب رہوگے، انہوں نے یہ بات تین دفعہ دہرائی اور کہامیں نے عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کودیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر کھڑے بلند آواز سے فرما رہے تھے،: لوگو! آج کونسا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جاتنے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کونسا مہینہ ہے؟ لوگوںنے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کونسا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا آج کا دن حرمت والا ہے، یہ مہینہ بھی حرمت والا ہے، یہ شہر بھی حرمت والا ہے، خبردار! تمہارے خون اور اموال قیامت تک ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں، جس طرح آج کے دن کی اس مہینے اور اس شہر میں حرمت ہے، پس وہ تم سے ملاقات کے دن تمہارے اعمال کی بابت پوچھ گچھ کرے گا۔ پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور فرمایا: یااللہ گواہ رہنا یا اللہ ان پر گواہ رہنا۔ انہوں نے اس بات کا کئی دفعہ ذکر کیا مجھے یاد نہیں کہ کتنی دفعہ کیا۔
سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بھائی کے ہاں ایک بچے کی ولادت ہوئی، انہوں نے اس کا نام ولید رکھا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کا نام اپنے فرعونوں میں سے ایک فرعون کے نام پر رکھا ہے، اس امت میں ولید نامی ایک شخص ہوگا، وہ اس امت کے لیے اس سے بھی برا اور سخت ثابت ہوگا، جیسے بنی اسرائیل کے لیے فرعون تھا۔
Takhreej
(۱۲۴۶۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، سعید بن المسیب لم یسمعہ من عمر، وذکر عمر فیہ خطا، اخرجہ الحاکم: ۴/ ۴۹۴ (انظر: ۱۰۹)
Explanation
فوائد:… ولید بن یزید کی مدت ِ خلافت ایک برس اور تین ماہ ہے، یہ ۲۸ جمادی الثانیہ سنہ ۱۲۶ ہجری کو مقتول ہوئے، جبکہ ان کی ولادت سنہ ۹۰ ہجری میں ہوئی تھی۔
سیدناعباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم آسمان پر کوئی تارا دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا: میں ثریا تارے دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری نسل میں سے ثریا ستاروں کی تعداد کے بقدر دو آدمی ہر ایک فتنہ کے زمانہ میں اس امت پر حکم رانی کریں گے1۔
سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا کے ختم ہونے اور فتنوں کے ظہور کے وقت سفاح نامی ایک آدمی ظاہر ہوگا، وہ دونوں ہاتھ بھر بھر کر لوگوںمیں مال و دولت تقسیم کرے گا۔
فوائد:… یہ روایات تو ضعیف ہیں، البتہ سفاح سے مراد ابو العباس عبد اللہ بن محمد بن علی بن عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب بن ہاشم ہے، یہ سنہ ۱۰۴ ہجری میں بمقام حمیمہ علاقہ بلقاء میں پیدا ہوا، وہیں پرورش پائی، اپنے بھائی ابراہیم امام کا جانشین ہوا، اپنے بھائی منصور سے عمر میں چھوٹا تھا، یہ عباسیوں کا پہلا خلیفہ تھا۔
عبد اللہ سفاح خون ریزی، سخاوت، حاضر جوابی اور تیز فہمی میں ممتاز تھا، سفاح کے عمال بھی خون ریزی میںمشّاق تھے۔
ابو مسلم اور ابو جعفر کو روانہ کرنے کے بعد ابو العباس عبد اللہ سفاح چار برس اور آٹھ ماہ خلافت کر کے ۱۳ ذوالحجہ سنہ ۱۳۶ ہجری کو فوت ہوا۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تاریخ اسلام از محمد اکبر شاہ نجیب
! مستدرک حاکم اور بیہقی کی شعب الایمان میں صرف درج ذیل الفاظ ہیں: اِنَّہٗ یَمْلِکُ ہٰذِہِ الْاٗمَّۃَ بِعَدَدِھَا مِنْ صُلْبِکَ یعنی تیری اولاد میں سے ان ثریا ستاروں کی تعداد کے بقدر افراد اس امت پر حکم زنی کریں گے۔ مفہوم کے لحاظ سے یہ بات کافی واضح ہے۔ (عبداللہ رفیق)