TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

خلافت و امارت کے مسائل - خلافت و امارت کے مسائل - Book 173 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 173 of Musnad Ahmad, with 113 chapters and 449 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

449 Hadith · 113 Chapters
یزید بن معاویہ کی موت کے بعد سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کا بیان باب اول: سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت کا بیان
۔ (۱۲۴۳۸)۔ عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَتٰی أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ، فَقَالَ: یَا أَبَا سَعِیدٍ! أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّکَ بَایَعْتَ أَمِیرَیْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلٰی أَمِیرٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، بَایَعْتُ ابْنَ الزُّبَیْرِ فَجَائَ اَھْلُ الشَّامِ فَسَاقُوْنِیْ إِلَی جَیْشِ بْنِ دَلَحَۃَ فَبَایَعْتُہُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِیَّاہَا کُنْتُ أَخَافُ إِیَّاہَا کُنْتُ أَخَافُ وَمَدَّ بِہَا حَمَّادٌ صَوْتَہُ، قَالَ أَبُو سَعِیدٍ: یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ! أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا یَنَامَ نَوْمًا، وَلَا یُصْبِحَ صَبَاحًا، وَلَا یُمْسِیَ مَسَائً إِلَّا وَعَلَیْہِ أَمِیرٌ۔))؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلٰکِنِّی أَکْرَہُ أَنْ أُبَایِعَ أَمِیرَیْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلٰی أَمِیرٍ وَاحِدٍ۔ (مسند احمد: ۱۱۲۶۷)
بشر بن حرب سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گئے اور ان سے کہا: مجھے اطلاع پہنچی ہے کہ کہ لوگوں کے ایک امیر کی امارت پر متفق ہونے سے پہلے ہی آپ نے دو امیروں کی بیعت کر لی ہے؟ انہوںنے کہا: جی ہاں، میں سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر چکا تھا کہ شامی آگئے اوروہ مجھے ابن دلحہ کے لشکر کی طرف لے گئے، میں نے اس کی بیعت بھی کرلی، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے اس بات کا اندیشہ تھا، میں اسی سے ڈرتا تھا، ان الفاظ کو ادا کرتے ہوئے حماد بن سلمہ نے اپنی آواز کو لمبا کر کے کھینچا،ابو سعید نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! کیا آپ نے نہیں سنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے اگر کوئی آدمی اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ کسی امیر کی امارت کے نہ ہوتے ہوئے نہ صبح کرے اور نہ شام کرے تو اسے ضرورکسی کی امارت میں چلے جانا چاہیے۔ ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، مگر میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ لوگوں کے کسی ایک امیر کی امارت پر متفق ہونے سے پہلے میں دوامیروں کی بیعت کروں۔
Takhreej
(۱۲۴۳۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف بشر بن حرب (انظر: ۱۱۲۴۷)
12438
Zaeef
یزید بن معاویہ کی موت کے بعد سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کا بیان باب اول: سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت کا بیان
۔ (۱۲۴۳۹)۔ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ أَبِی عِمْرَانَ، قَالَ: قُلْتُ لِجُنْدُبٍ: إِنِّی قَدْ بَایَعْتُ ہٰؤُلَائِ یَعْنِی ابْنَ الزُّبَیْرِ، وَإِنَّہُمْ یُرِیدُونَ أَنْ أَخْرُجَ مَعَہُمْ إِلَی الشَّامِ، فَقَالَ: أَمْسِکْ، فَقُلْتُ: إِنَّہُمْ یَأْبَوْنَ، فَقَالَ: افْتَدِ بِمَالِکَ، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّہُمْ یَأْبَوْنَ إِلَّا أَنْ أَضْرِبَ مَعَہُمْ بِالسَّیْفِ، فَقَالَ جُنْدُبٌ: حَدَّثَنِی فُلَانٌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((یَجِیئُ الْمَقْتُولُ بِقَاتِلِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَیَقُولُ: یَا رَبِّ سَلْ ہٰذَا فِیمَ قَتَلَنِی۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: فَأَحْسِبُہُ قَالَ: فَیَقُولُ: عَلَامَ قَتَلْتَہُ؟ فَیَقُولُ: قَتَلْتُہُ عَلٰی مُلْکِ فُلَانٍ۔)) قَالَ: فَقَالَ جُنْدُبٌ: فَاتَّقِہَا۔ (مسند احمد: ۲۳۵۷۶)
ابو عمران سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے جندب سے کہا: میں ان لوگوں یعنی سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت کر چکا ہوں،اب یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں ان کے ہمراہ شام کی طرف جاؤں، انہوں نے کہا: مت جانا، میں نے کہا: وہ مجھے اپنے ساتھ لے جانے پر مصر ہیں، انہوںنے کہا: تم مال دے کر جان چھڑا لو، میں نے کہا: ان کا ایک ہی اصرا ر ہے کہ میں ان کے ساتھ مل کر قتال میں حصہ لوں، جندب نے کہا: مجھے فلاں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کاارشاد ہے: قیامت کے دن ایک مقتول اپنے قاتل کو ساتھ لے کر آئے گا اور کہے گا: اے میرے رب! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھ کیوں قتل کیا تھا؟شعبہ کے الفا ظ ہیں: وہ کہے گا کہ اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا؟ وہ کہے گا: میں نے فلاں کی حکومت بچانے کے لیے اسے قتل کیا تھا۔ تو جندب نے کہا: پس تم بچ ہی جاؤ۔
Takhreej
(۱۲۴۳۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، اخرجہ النسائی مختصرا دون القصۃ: ۷/۸۴ (انظر: ۲۳۱۸۹)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے باپ سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور آپ کی ماں سیدہ اسماء بنت ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تھیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مدینہ میں ہجرت کر کے تشریف لانے سے بیس ماہ کے بعد سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ولادت ہوئی، آپ مدینہ منورہ میں مہاجرین کی سب سے پہلی اولاد تھے، اس لیے مہاجرین غیر معمولی طور پر خوش ہوئے، آپ ۷۲ برس کی عمر میں جمادی الثانی سنہ ۷۳ ہجری میں بنو امیہ کے حکمرانوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔ اگلی حدیث اور اس کے متعلقہ بخاری کی شرح فتح الباری (ج:۷، ص: ۲۴۸) کو سامنے رکھیں تو بات یہ سمجھ آتی ہے کہ عبداللہ بن زبیر مسلمانوں کے ہجرت کرکے مدینہ پہنچنے کے چند دن بعد پیدا ہوئے تھے۔ (عبداللہ رفیق) سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حکومت مکہ معظمہ میں سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کے بعد ہی سے قائم تھی اور انھوں نے یزید کے عہد ِ حکومت میں مکہ پر کبھی یزید کی حکومت قائم نہیں ہونے گی،یزید کے مرنے کے بعد انھوں نے لوگوں سے بیعت ِ خلافت لی اور بہت جلد شام کے بعض مقامات کے ساتھ تمام عالم اسلام میں وہ خلیفہ تسلیم کر لیے گئے، اس زمانے مں ان کو ملک شام کی اس حالت کا جوان کے موافق پیدا ہو چکی تھی، صحیح اندازہ نہیں ہو سکا اور وہ بنو امیہ کی طاقت و قبولیت کا جو امیر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانے سے شام میں ان کو حاصل تھی، اندازہ کرنے میں غلطی کھا گئے، اگر ان کو بنو قیس اور بنو کلب کی نا اتفاقی و رقابت اور اپنی قبولیت کا جو ملک شام میں پیدا ہو چکی تھی، صحیح اندازہ ہو جاتا تو وہ ضرور ملک شام کا ایک سفر کرتے اور یہ سفر ایسا ہی مفید ثابت ہوتا جیسا سیدنا فاروق اعظم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سفرِ شام عالمِ اسلام کے لیے مفید ثابت ہوا تھا۔ اس کے بعد مروان کی خلافت اور بنو امیہ کے اثر و اقتدار کی واپسی ہر گز ظہور میں نہ آتی۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی زندگی کئی حالات واقعات سے گزری، تفصیل کے لیے کتب تاریخ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
12439
Sahih
باب دوم: ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اور تاریخ ولادت
۔ (۱۲۴۴۰)۔ عَنْ أَسْمَائَ أَنَّہَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ بِمَکَّۃَ، قَالَتْ: فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ، فَأَتَیْتُ الْمَدِینَۃَ، فَنَزَلْتُ بِقُبَائَ فَوَلَدْتُہُ بِقُبَائَ، ثُمَّ أَتَیْتُ بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعْتُہُ فِی حِجْرِہِ، ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَۃٍ فَمَضَغَہَا ثُمَّ تَفَلَ فِی فِیہِ، فَکَانَ أَوَّلَ مَا دَخَلَ فِی جَوْفِہِ رِیقُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: ثُمَّ حَنَّکَہُ بِتَمْرَۃٍ ثُمَّ دَعَا لَہُ، وَبَرَّکَ عَلَیْہِ، وَکَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِی الْإِسْلَامِ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۷۷)
سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ وہ مکہ میں عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے حاملہ ہوئیں، وہ کہتی ہیں: ایام پورے ہوچکے تھے کہ میں ہجرت کے سفر پر روانہ ہو گئی، قباء پہنچ کر ٹھہری اور میںنے وہاں اس بچے کو جنم دیا، میں اسے لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گئی اور جا کر آپ کی گود میں رکھ دیا، آپ نے کھجور منگوائی اور اسے چبا کر اس کے منہ میں ڈال دی، اس کے پیٹ میں سب سے پہلے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کالعاب داخل ہواتھا، اس طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کھجور کی گھٹی دی اور اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی، یہ اسلام میں پیدا ہونے والا سب سے پہلا بچہ تھا۔
Takhreej
(۱۲۴۴۰) تخریج: اخرجہ البخاری: ۳۹۰۹، ۵۴۶۹، ومسلم: ۲۱۴۶(انظر: ۲۶۹۳۸)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبدا للہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے نواسے تھے۔
12440
Sahih
باب دوم: ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اور تاریخ ولادت
۔ (۱۲۴۴۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: اَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاِبْنِ الزُّبَیْرِ فَحَنَّکَہُ بِتَمْرَۃٍ وَقَالَ: ((ہٰذَا عَبْدُ اللّٰہِ وَاَنْتِ اُمُّ عُبْدِ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۱۲۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں(اپنے بھانجے) ابن زبیر کو لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کھجور کی گھٹی دی اورفرمایا: یہ عبداللہ ہے اور تم ام عبداللہ ہو۔
Takhreej
(۱۲۴۴۱) تخریج: حدیث صحیح، قولھا: فحنکہ بتمرۃ أخرجہ البخاری: ۳۹۱۰، ومسلم: ۲۱۴۸ (انظر: ۲۴۶۱۹)
Explanation
فوائد:… سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اس بچے کی خالہ تھیں، جبکہ خالہ ماں ہی ہوتی ہے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ کی کنیت ام عبد اللہ رکھ دی۔
12441
Sahih
باب دوم: ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اور تاریخ ولادت
۔ (۱۲۴۴۲)۔ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ: أَتَذْکُرُ یَوْمَ اسْتَقْبَلْنَا النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَحَمَلَنِی وَتَرَکَکَ؟ وَکَانَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُسْتَقْبَلُ بِالصِّبْیَانِ إِذَا جَائَ مِنْ سَفَرٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۲۲۸)
عرو ہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبداللہ بن جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا تمہیں وہ دن یاد ہے، جس دن ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آئے تھے اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اپنی سواری پر سوار کر لیا تھا اور تمہیں چھوڑ دیا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر سے واپس تشریف لاتے تو بچوں کے ساتھ آپ کا استقبال کیا جاتا تھا۔
Takhreej
(۱۲۴۴۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف اسماعیل بن عیاش فی روایتہ عن غیر اھل بلدہ، وھذہ منھا، اخرجہ الحاکم: ۳/۵۵۵(انظر: ۱۶۱۲۹)
12442
Zaeef
باب دوم: ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اور تاریخ ولادت
۔ (۱۲۴۴۳)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ قَالَ: انْتَہَیْتُ إِلٰی عَائِشَۃَ أَنَا وَعَمَّارٌ وَالْأَشْتَرُ، فَقَالَ عَمَّارٌ: السَّلَامُ عَلَیْکِیَا أُمَّتَاہُ، فَقَالَتْ: السَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰی، حَتّٰی أَعَادَہَا عَلَیْہَا مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: أَمَا وَاللّٰہِ! إِنَّکِ لَأُمِّی وَإِنْ کَرِہْتِ، قَالَتْ: مَنْ ہٰذَا مَعَکَ؟ قَالَ: ہٰذَا الْأَشْتَرُ، قَالَتْ: أَنْتَ الَّذِی أَرَدْتَ أَنْ تَقْتُلَ ابْنَ أُخْتِی، قَالَ: نَعَمْ، قَدْ أَرَدْتُ ذٰلِکَ وَأَرَادَہُ، قَالَتْ: أَمَا لَوْ فَعَلْتَ مَا أَفْلَحْتَ، أَمَّا أَنْتَ یَا عَمَّارُ! فَقَدْ سَمِعْتَ أَوْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((لَا یَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَۃٍ إِلَّا مَنْ زَنٰی بَعْدَ مَا أُحْصِنَ، أَوْ کَفَرَ بَعْدَ مَا أَسْلَم، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا فَقُتِلَ بِہَا۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۰۸)
عمرو بن غالب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں، سیدنا عمار اور اشتر، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی خدمت میں گئے، سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: امی جان! آپ پر سلامتی ہو، سیدہ نے جواباًکہا: اَلسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰی (سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے) عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سلام کے یہ کلمات دو یا تین مرتبہ دہرائے، پھرکہا! اللہ کی قسم! آپ میرے ما ں ہیں، خواہ آپ مجھ سے نفرت کریں، سیدہ نے کہا: یہ تمہارے ساتھ کون کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ اشتر ہے، سیدہ نے کہا: تم ہی ہو نا جس نے میرے بھانجے کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں! واقعی میں نے اس بات کا ارادہ کیا تھا اور ان کا بھی یہی ارادہ تھا کہ وہ مجھے قتل کردیں، سیدہ نے کہا: اگر تم یہ کام کرلیتے تو کامیاب نہ ہوتے اور عمار! آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ کسی مسلمان کا خون تین صورتوں کے علاوہ کسی بھی صورت میں حلال نہیں، شادی شدہ زنا کرے یا وہ مرتد ہوجائے یاکسی کو قتل کرے اور اسے اس کے بدلے میں قتل کردیاجائے۔ (تو کیا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان میں سے کوئی جر م کیا تھاکہ ان کو قتل کر دیا گیا؟)
Takhreej
(۱۲۴۴۳) تخریج: حدیث صحیح، اخرجہ ابوداود: ۴۳۵۳، والنسائی: ۷/ ۱۰۱(انظر: ۲۴۳۰۴)
12443
Sahih
باب دوم: ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اور تاریخ ولادت
۔ (۱۲۴۴۴)۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ أَنَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ لِلْأَشْتَرِ: أَنْتَ الَّذِی أَرَدْتَ قَتْلَ ابْنِ أُخْتِی؟ قَالَ: قَدْ حَرَصْتُ عَلٰی قَتْلِہِ وَحَرَصَ عَلٰی قَتْلِی، قَالَتْ: أَوَمَا عَلِمْتَ مَا قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ إِلَّا رَجُلٌ ارْتَدَّ، أَوْ تَرَکَ الْإِسْلَامَ، أَوْ زَنٰی بَعْدَمَا أُحْصِنَ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ۔)) (مسند احمد: ۲۵۹۹۲)
۔ (دوسری سند) عرو ہ بن غالب سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اشتر سے کہا: تم ہی ہو جس نے میرے بھانجے کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں، میں ان کو قتل کرنے کا حریص تھا اور وہ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے، انہوں نے کہا:کیا تم نہیںجانتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاہے: کسی مسلمان کا خون بہانا کسی بھی صورت میں جائز نہیں الایہ کہ کوئی مرتد ہوجائے یا شادی شدہ ہو کر زنا کا ارتکاب کرے یا کسی مسلمان کو ناحق قتل کرے۔
Takhreej
(۱۲۴۴۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
12444
Sahih
باب سوم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خواہش کے مطابق کعبہ کی تعمیر کرنا
۔ (۱۲۴۴۵)۔ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: قَالَ لِی ابْنُ الزُّبَیْرِ: حَدِّثْنِی بَعْضَ مَا کَانَتْ تُسِرُّ إِلَیْکَ أُمُّ الْمُؤْمِنِینَ، فَرُبَّ شَیْئٍ کَانَتْ تُحَدِّثُکَ بِہِ تَکْتُمُہُ النَّاسَ، قَالَ: قُلْتُ: لَقَدْ حَدَّثَتْنِی حَدِیثًا حَفِظْتُ أَوَّلَہُ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْلَا أَنَّ قَوْمَکِ حَدِیثٌ عَہْدُہُمْ بِجَاہِلِیَّۃٍ، أَوْ قَالَ: بِکُفْرٍ، قَالَ: یَقُولُ ابْنُ الزُّبَیْرِ، لَنَقَضْتُ الْکَعْبَۃَ فَجَعَلْتُ لَہَا بَابَیْنِ فِی الْأَرْضِ بَابًا یُدْخَلُ مِنْہُ وَبَابًا یُخْرَجُ مِنْہُ۔)) قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: فَأَنَا رَأَیْتُہَا کَذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۵۲۱۶)
اسود سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے کہا: تم مجھے ایسی باتیں بیان کرو،جو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تمہارے ساتھ خصوصی طور پر کیا کرتی تھیں اور جن کو وہ لوگوں سے چھپاتی تھیں،اسود نے کہا: انہوں نے مجھے ایک بات بیان کی تھی جس کا ابتدائی حصہ مجھے خوب یاد ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! اگر تمہاری قوم نئی نئی مسلمان نہ ہوئی ہوتی تو میںکعبہ کی عمارت کو گرا کر نئی تعمیر کرتا اور میں اس کے برابر کے دو دروازے بناتا، ایک اندر جانے کے لیے اور دوسرا باہر آنے کے لیے۔ ابو اسحاق کہتے ہیں: میں نے بیت اللہ کو اس انداز سے تعمیر شدہ دیکھا۔
Takhreej
(۱۲۴۴۵) تخریج: اخرجہ البخاری: ۱۵۸۴، ۷۲۴۳، ومسلم: ۴۰۵، ۴۰۶ (انظر: ۲۴۷۰۹)
12445
Sahih
باب سوم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خواہش کے مطابق کعبہ کی تعمیر کرنا
۔ (۱۲۴۴۶)۔ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مِینَائَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَیْرِیَقُولُ: حَدَّثَتْنِی خَالَتِی عَائِشَۃُ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہَا: ((لَوْلَا أَنَّ قَوْمَکِ حَدِیثُ عَہْدٍ بِشِرْکٍ أَوْ بِجَاہِلِیَّۃٍ، لَہَدَمْتُ الْکَعْبَۃَ فَأَلْزَقْتُہَا بِالْأَرْضِ، وَجَعَلْتُ لَہَا بَابَیْنِ بَابًا شَرْقِیًّا وَبَابًا غَرْبِیًّا، وَزِدْتُ فِیہَا مِنَ الْحِجْرِ سِتَّۃَ أَذْرُعٍ، فَإِنَّ قُرِیْشًا اقْتَصَرَتْہَا حِینَ بَنَتْ الْکَعْبَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۵۹۷۷)
سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری خالہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا تھا: اگر تمہاری قوم نئی نئی شرک یاجاہلیت یعنی کفر کو چھوڑ کر نہ آئی ہوتی تو میں کعبہ کو منہدم کر کے زمین کے برابر کر دیتا اور اس کے دو دورازے اس طرح بناتا کہ ایک مشرق کی طرف ہوتا اور دوسرا مغرب کی طرف اور حجر یعنی حطیم میں سے چھ ہاتھ کے برابر جگہ بیت اللہ میں شامل کر دیتا، کیونکہ جب قریش نے اس کی تعمیر کی تھی تو وسائل کی کمی کے باعث وہ اسے کعبہ کی تعمیر میںشامل نہ کر سکے تھے۔
Takhreej
(۱۲۴۴۶) تخریج: اخرجہ البخاری: ۱۵۸۵، ومسلم: ۱۳۳۳ (انظر: ۲۵۴۶۳)
12446
Sahih
باب سوم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خواہش کے مطابق کعبہ کی تعمیر کرنا
۔ (۱۲۴۴۷)۔ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لَوْ کَانَ عِنْدَنَا سَعَۃٌ لَہَدَمْتُ الْکَعْبَۃَ، وَلَبَنَیْتُہَا وَلَجَعَلْتُ لَہَا بَابَیْنِ بَابًا یَدْخُلُ النَّاسُ مِنْہُ وَبَابًایَخْرُجُونَ مِنْہُ۔)) قَالَتْ: فَلَمَّا وَلِیَ ابْنُ الزُّبَیْرِ ہَدَمَہَا فَجَعَلَ لَہَا بَابَیْنِ، قَالَتْ: فَکَانَتْ کَذٰلِکَ فَلَمَّا ظَہَرَ الْحَجَّاجُ عَلَیْہِ ہَدَمَہَا وَأَعَادَ بِنَائَ ہَا الْأَوَّلَ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۶۲)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر ہمارے اندر طاقت ہوتی تو میں کعبہ کو منہدم کر کے اس کی جدید تعمیر کرتا اور اس دو دروازے بناتا، ایک دروازے سے لوگ اندر داخل ہوتے اور دوسرے سے نکل جاتے۔ پھر جب سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حکمران بنے تو انہوں نے رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خواہش کے مطابق اسے منہدم کر کے اس کے دو دروازے بنائے، لیکن ان کے بعد جب حجاج کا دور آیا تو اس نے اسے دوبارہ منہدم کر کے اس کی سابقہ بنیادوں پر تعمیر کردی۔
Takhreej
(۱۲۴۴۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف اسماعیل بن عبد الملک، ثم ان قولہ: قالت: فلما ولی ابن الزبیر لفظ قالت لیس فی روایۃ ابن ابی شیبۃ، وھو الصواب، اذا المعروف ان عائشۃ لم تدرک ولایۃ ابن الزبیر ولا الحجاج، اخرجہ ابن ابی شبیۃ: ص ۲۸۷، وابن راھویہ: ۱۲۴۱(انظر: ۲۵۰۴۸)
12447
Zaeef
باب سوم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خواہش کے مطابق کعبہ کی تعمیر کرنا
۔ (۱۲۴۴۸)۔ عَنْ أَبِی قَزَعَۃَ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِکِ بَیْنَمَا ہُوَ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ إِذْ قَالَ: قَاتَلَ اللّٰہُ ابْنَ الزُّبَیْرِ حَیْثُیَکْذِبُ عَلٰی أُمِّ الْمُؤْمِنِینَیَقُولُ: سَمِعْتُہَا وَہِیَ تَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِکِ بِالْکُفْرِ لَنَقَبْتُ الْبَیْتَ۔)) قَالَ أَبِی: قَالَ الْأَنْصَارِیُّ: ((لَنَقَضْتُ الْبَیْتَ حَتّٰی أَزِیدَ فِیہِ مِنْ الْحِجْرِ، فَإِنَّ قَوْمَکِ قَصَّرُوا عَنِ الْبِنَائِ۔)) فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ: لَا تَقُلْ ہٰذَا یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، فَأَنَا سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ تُحَدِّثُ ہٰذَا، فَقَالَ: لَوْ کُنْتُ سَمِعْتُ ہٰذَا قَبْلَ أَنْ أَہْدِمَہُ لَتَرَکْتُہُ عَلٰی بِنَائِ ابْنِ الزُّبَیْرِ۔ (مسند احمد: ۲۶۶۸۱)
ابو قزعہ سے مروی ہے کہ عبدالملک بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا، اس دوران اس نے کہا: اللہ تعالیٰ ابن زبیر کوہلاک کرے، وہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا پر جھوٹ باندھتا اور کہتا تھا کہ سیدہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر کو چھو ڑ کر مسلمان نہ ہوئی ہوتی تو میں بیت اللہ کو گرا کر حطیم میں سے کچھ حصہ ا س میں شامل کردیتا، تمہاری قوم قریش نے جب اسے تعمیر کیا تھا تو پور اتعمیر نہیں کر سکے تھے۔ اس کی یہ بات سن کر حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ نے کہا: امیر المومنین! یہ بات نہ کہیں، میں نے خودسیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، عبد الملک نے کہا: اگر کعبہ کو گرانے سے پہلے میں نے یہ بات سنی ہوتی تو میں بیت اللہ کو ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تعمیر پر باقی رہنے دیتا۔
Takhreej
(۱۲۴۴۸) تخریج: اخرجہ البخاری: ۱۵۸۵، ومسلم: ۱۳۳۳(انظر: ۲۶۱۵۱)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبدا للہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خواہش کے مطابق خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی، لیکن ان کے بعد حجاج بن یوسف نے اس گھر کی تعمیر کو سیاسی شکل دے دی اور تعمیر نو کو ختم کر کے پرانے نقشے کے مطابق بیت اللہ کی تعمیر کی، اب خانہ کعبہ کی وہی شکل باقی ہے، جو دورِ جاہلیت میں بنائی گئی تھی۔
12448
Sahih
باب چہارم: سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا عبد الملک اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر کے مابین پیدا ہونے والے فتنے کو ناپسند کرنا
۔ (۱۲۴۴۹)۔ عَنْ سَیَّارِ بْنِ سَلَامَۃَ أَبِی الْمِنْہَالِ الرِّیَاحِیِّ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِی عَلٰی أَبِی بَرْزَۃَ الْأَسْلَمِیِّ، وَإِنَّ فِی أُذُنَیَّیَوْمَئِذٍ لَقُرْطَیْنِ، قَالَ: وَإِنِّی لَغُلَامٌ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَرْزَۃَ: إِنِّی أَحْمَدُ اللّٰہَ، أَنِّی أَصْبَحْتُ لَائِمًا لِہٰذَا الْحَیِّ مِنْ قُرَیْشٍ، فُلَانٌ ہَاہُنَا یُقَاتِلُ عَلَی الدُّنْیَا، وَفُلَانٌ ہَاہُنَا یُقَاتِلُ عَلَی الدُّنْیَا،یَعْنِی عَبْدَ الْمَلِکِ بْنَ مَرْوَانَ، قَالَ: حَتّٰی ذَکَرَ ابْنَ الْأَزْرَقِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَیَّ لَہٰذِہِ الْعِصَابَۃُ الْمُلَبَّدَۃُ الْخَمِیصَۃُ بُطُونُہُمْ مِنْ أَمْوَالِ الْمُسْلِمِینَ، وَالْخَفِیفَۃُ ظُہُورُہُمْ مِنْ دِمَائِہِمْ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْأُمَرَائُ مِنْ قُرَیْشٍ الْأُمَرَائُ مِنْ قُرَیْشٍ، الْأُمَرَائُ مِنْ قُرَیْشٍ، لِی عَلَیْہِمْ حَقٌّ، وَلَہُمْ عَلَیْکُمْ حَقٌّ، مَا فَعَلُوْا ثَلَاثًا، مَا حَکَمُوا فَعَدَلُوا، وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا، وَعَاہَدُوْا فَوَفَوْا، فَمَنْ لَمْ یَفْعَلْ ذٰلِکَ مِنْہُمْ، فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۴۳)
سیار بن سلامہ ابو منہال ریاحی سے سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں اپنے والد کے ہمراہ سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں گیا، میں اس قدر چھوٹا تھاکہ ان دنوںمیرے کانوں میںبالیاں ڈالی ہوئی تھیں، ابو برزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا ہوں کہ میں قریش کی حرکت پر انہیں ملامت کرتا رہتا ہوں، یہاں فلاں اور فلاں آدمی ہے، جو حصول دنیا کے لیے قتال کرتا ہے، ان کا اشارہ عبدالملک بن مروان کی طرف تھا، یہاں تک کہ انہوں نے ابن الازرق کا نام بھی لیا، پھر کہا:سب لوگوںمیں سے مجھے یہ لوگ زیادہ پسند ہیں، جو خرقہ پوش ہیں اوران کے پیٹ مسلمانوں کے اموال سے خالی اور ان کی پیٹھوں پر مسلمان کا خون لدا ہوا نہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارشاد گرامی ہے: حکمران قریش سے ہوں گے، حکمران قریش سے ہوں گے، حکمران قریش سے ہوں گے، میرا ان پر حق ہے، اور ان کا تم پر حق ہے، جب تک وہ تین کام کریں کہ وہ عدل و انصاف سے فیصلے کریں،ان سے رحم کی اپیل کی جائے تو رحم کریں اورمعاہدے کریں توان کو پورا کریں، تو ان میں سے جو آدمی یہ کام نہ کرے، اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔
Takhreej
(۱۲۴۴۹) تخریج: اسنادہ قوی، اخرجہ البزار: ۳۸۵۷، وابویعلی: ۳۶۴۵، والبخاری فی التاریخ الکبیر : ۴/ ۱۶۰(انظر: ۱۹۸۰۵) خُرُوْجُ الْمُخْتَارِ
12449
Sahih
مختار ثقفی کا ظہور
۔ (۱۲۴۵۰)۔ عَنْ رِفَاعَۃَ الْقِتْبَانِیِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی الْمُخْتَارِ قَالَ: فَأَلْقٰی لِی وِسَادَۃً، وَقَالَ: لَوْلَا أَنَّ أَخِی جِبْرِیلَ قَامَ عَنْ ہٰذِہِ لَأَلْقَیْتُہَا لَکَ، قَالَ: فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَہُ، فَذَکَرْتُ حَدِیثًا حَدَّثَنِی بِہِ أَخِی عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَیُّمَا مُؤْمِنٍ أَمَّنَ مُؤْمِنًا عَلٰی دَمِہِ فَقَتَلَہُ فَأَنَا مِنَ الْقَاتِلِ بَرِیئٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۹۳)
رفاعہ قتبانی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں مختار کے ہاں گیا، اس نے ایک تکیہ میری طرف کیا اور کہا: اگر میر ا بھائی جبرائیل اس سے اٹھ کر نہ گیا ہوتا تو میں یہ تکیہ آپ کو دے دیتا، رفاعہ کہتے ہیں: اس کی یہ بات سن کر مجھے غصہ آیا، میں نے ارادہ کیاکہ میںاس کی گردن اڑادوں، لیکن اچانک مجھے ایک حدیث یاد آگئی جو مجھے میرے بھائی سیدنا عمرو بن حمق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سنائی تھی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مومن نے کسی مومن کو اس کی جان کی امان دی ہوا ور پھر اسے قتل کردے تومیں اس سے لا تعلق اور بری ہوں۔
Takhreej
(۱۲۴۵۰) تخریج: اسنادہ حسن، اخرجہ ابن ماجہ: ۲۶۸۸، والنسائی فی الکبری : ۸۷۳۹، والطیالسی: ۱۲۸۵، والبزار: ۲۳۰۹، وابن حبان: ۵۹۸۲(انظر: ۲۱۹۴۷)
12450
Sahih
مختار ثقفی کا ظہور
۔ (۱۲۴۵۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ کُنْتُ أَقُومُ عَلَی رَأْسِ الْمُخْتَارِ، فَلَمَّا عَرَفْتُ کَذِبَہُ ہَمَمْتُ أَنْ أَسُلَّ سَیْفِی، فَأَضْرِبَ عُنُقَہُ، فَذَکَرْتُ حَدِیثًا، حَدَّثَنَاہُ عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ أَمَّنَ رَجُلًا عَلٰی نَفْسِہِ فَقَتَلَہُ أُعْطِیَ لِوَائَ الْغَدْرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۹۴)
۔ (دوسری سند) رفاعہ کہتے ہیں:میں مختار کے سر پر کھڑا تھا،جب مجھے اس کے جھوٹا ہونے کا یقین ہوگیا تو میںنے ارادہ کیا کہ تلوار سونت کر اس کی گردن اڑا دوں، لیکن مجھے وہ حدیث یاد آگئی جو سیدنا عمرو بن حمق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کی تھی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی کو اس کی جان کی امان دینے کے بعد اس کو قتل کر دے تو قیامت کے دن اسے دھوکے والا جھنڈا دیاجائے گا۔
Takhreej
(۱۲۴۵۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… مختار بن ابی عبید ثقفی، یہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ عراق میں رہتا تھا، ان کی شہادت کے بعد اس نے بصرہ میں سکونت اختیار کی، پھر سیدنا عبدا للہ بن زیبر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت کی، انھوں نے اس کو کوفہ کا والی بنا دیا، لیکن اس نے ان کی بیعت توڑ دی اور ابن حنفیہ کی امامت کا دعویدار بن کر سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قاتلین کی تلاش شروع کر دی، پھر اس نے نبوت اور اپنے آپ پر نزولِ وحی کا دعوی کر دیا، پس مصعب بن زبیر اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کو ۶۷ ؁ھ میں قتل کر دیا، مختلف کتب ِ تاریخ میں اس کے حالات پڑھے جا سکتے ہیں۔
12451
Sahih
مختار ثقفی کا ظہور
۔ (۱۲۴۵۲)۔ عَنْ أَبِی عُکَّاشَۃَ الْہَمْدَانِیِّ قَالَ: قَالَ رِفَاعَۃُ الْبَجَلِیُّ: دَخَلْتُ عَلَی الْمُخْتَارِ بْنِ أَبِی عُبَیْدٍ قَصْرَہُ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: مَا قَامَ جِبْرِیلُ إِلَّا مِنْ عِنْدِی قَبْلُ، قَالَ: فَہَمَمْتُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَہُ، فَذَکَرْتُ حَدِیثًا حَدَّثَنَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُولُ: ((إِذَا أَمَّنَکَ الرَّجُلُ عَلٰی دَمِہِ فَلَا تَقْتُلْہُ۔)) قَالَ: وَکَانَ قَدْ أَمَّنَنِی عَلٰی دَمِہِ فَکَرِہْتُ دَمَہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۴۹)
ابو رفاعہ بجلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں مختار بن ابی عبید کے پاس اس کے محل میں داخل ہوا، میں نے سنا وہ کہہ رہاتھا کہ میرا بھائی جبرئیل ابھی میرے ہاں سے گیا ہے، اس کی یہ بات سن کر میں نے ارادہ کیا کہ اس کی گردن اڑادوں، پھر مجھے ایک حدیث یاد آئی جو مجھ سے سلیمان بن صرد نے بیان کی تھی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنے خون پر تم کو امین سمجھ لے تو اسے قتل نہ کرنا۔ اور اس مختار نے مجھ سے اپنی جان کی امان طلب کی ہوئی تھی، اس لیے میں نے اسے قتل کرنا مناسب نہ سمجھا۔
Takhreej
(۱۲۴۵۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ بن میسرۃ، ولجھالۃ ابی عکاشۃ الھمدانی، اخرجہ ابن ماجہ: ۲۶۸۹(انظر: ۲۷۲۰۷)
12452
Zaeef
مختار ثقفی کا ظہور
۔ (۱۲۴۵۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّہُ کَانَ عِنْدَہُ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ، فَجَعَلَ یُحَدِّثُہُ عَنِ الْمُخْتَارِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنْ کَانَ کَمَا تَقُولُ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ ثَلَاثِینَ کَذَّابًا۔)) (مسند احمد: ۵۹۸۵)
سیدناابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کسی کوفی کے ہاں تھے، وہ ان کو مختار کے بارے میںکچھ باتیں سنانے لگا، سیدناابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا کہ قیامت سے پہلے تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے۔
Takhreej
(۱۲۴۵۳) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۵۹۸۵)
Explanation
فوائد:… رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ فِی ثَقِیْفٍ کَذَّاباً وَمُبِیْراً۔)) وَرَدَ مِنْ حَدِیْثِ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ، وَعَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، وَسَلَامَۃَ بِنْتِ الْحَرِّ الْجَعْفِیَّۃِ فَعَنْ أَسْمَائَ أَنَّھَا قَالَتْ لِلْحُجَّاجِ: أَمَا إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدَّثَنَا: ((إِنَّ فِی ثَقِیْفٍ کَذَّاباً وَمُبِیْراً۔)) قَالَتْ: فَأَمَّا الْکَذَّابُ، فَقَدْ رَأَیْنَاہُ، وَأَمَّا الْمُبِیْرُ، فَلَا إِخَالُکَ إِلاَّ إِیَّاہُ، ثقیف قبیلہ میں ایک کذاب ہو گا اور ایک مہلِک (یعنی ہلاک کرنے والے)۔ یہ حدیث سیدہ اسما بنت ابو بکر صدیق، سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدہ سلامہ بنت حر جعفیہ سے مروی ہے، سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے حجاج سے کہا: آگاہ ہو جا! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں بیان کیا تھا کہ ثقیف قبیلہ میں ایک کذاب ہو گا اور ایک مہلِک۔ کذاب تو ہم نے دیکھ لیا، رہا مسئلہ مہلِک کا، تو میں تو یہی سمجھ پا رہی ہوں کہ وہ تو ہی ہے۔ (ملاحظہ ہو: مسلم: ۷/۱۹۰، ۱۹۱،ترمذي: ۲۲۲۰ و ۳۹۴۴، أحمد: ۲/۲۶، ۸۷، ۹۱، ۹۲، صحیحہ:۳۵۳۸) ہوازن کے ایک قبیلہ کے باپ کا نام قسی بن منبہ بن بکر بن ہوازن تھا، اس کو ثقیف کہتے تھے۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/۲۲۷) امام ترمذی نے یہ حدیث روایت کرنے کے بعد کہا: ویقال الکذاب المختار بن ابی عبید والمبیر الحجاج بن یوسف، یعنی: کہا جاتا ہے کہ کذاب سے مراد مختار بن ابی عبید اور مہلِک سے مراد حجاج بن یوسف ہے، مختار بن ابی عبید کا یہ دعوی تھا کہ جبریل امین اس کے پاس بھی آتے ہیں، رہا مسئلہ حجاج بن یوسف کا تو مسلمانوں کو تہہ تیغ کرنے اور ان کو موت کے گھاٹ اتارنے کے سلسلے میں اس کا بد کردار بلا مقابلہ رہا۔ اس حدیث میں تیس جھوٹوں کا ذکر ہے، اس کی تفصیل درج ذیل ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی آیا ہے نہ آئے گا اور ایسا دعوی کرنے والا جھوٹا، کذاب اور دجال قرار پائے گا۔ ذہن نشین رہے کہ اس حدیث سے وہ مدعیانِ نبوت مراد نہیں جنھوں نے مطلق طور پر نبوت کا دعوی کیا، کیونکہ ایسے لوگ تو بہت زیادہ ہیں۔ احادیث میں جن تیس کذابوں کا ذکر ہے، ان سے مراد وہ کم بخت ہیں، جن کو اس دعوی کی وجہ سے شان و شوکت ملی اور ان کو اپنی نبوت پر واقعی شبہ ہونے لگا، پھر لوگوں کی معقول تعداد بھی ان کے ساتھ ہو گئی۔ جیسے مرزا غلام احمد قادیانی کا مسئلہ ہے۔ امام البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: جن دجّالوں نے نبوت کا دعویٰ کیا، ان میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہندی ہے، جس نے ہند پر برطانوی استعمار کے عہد میں یہ دعوی کیا تھا کہ وہ امام مہدی ہے، پھر اس نے اپنے آپ کو عیسی علیہ السلام باور کرایا اور بالآخر نبوت کا دعوی کر دیا، قرآن و سنت کا علم نہ رکھنے والے کئی جاہلوں نے اس کی پیروی کی۔ ہند اور شام کے ایسے باشندوں سے میری ملاقات ہوئی، جو اس کی نبوت کے قائل تھے۔ میرے اور ان کے مابین کئی مناظرے اور بحث مباحثے ہوئے، ان میں سے ایک تحریری مناظرہ بھی تھا۔ ان مناظروںمیں ان کا دعوی تھا کہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد کئی انبیاء آئیں گے، ان میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ شروع شروع میں انھوں نے ورغلانا اور پھسلانا چاہا اور مناظرہ کے اصل موضوع سے صرف نظر کرنا چاہا۔ لیکن میں نے ان کے حیلوں بہانوں کا انکار کیا اور اصل موضوع پر ڈٹا رہا۔ پس وہ بری ہزیمت سے دوچار ہوئے اور حاضرین مجلس کو پتہ چل گیا کہ یہ باطل پرست قوم ہے۔ ان کے کچھ دوسرے عقائد بھی باطل اور اجماعِ امت کے مخالف ہیں، بطورِ مثال: جسمانی بعث کا انکار کرنا اور یہ کہنا کہ جنت و جہنم کا تعلق روح سے ہے، نہ کہ جسم سے۔ کافروں کو دیا جانے والا عذاب بالآخر منقطع ہو جائے گا۔ جنوں کا کوئی وجود نہیں ہے اور جن جنوں کا قرآن مجید میں ذکر ہے، وہ حقیقت میں انسانوں کی ایک جماعت ہے۔ جب یہ لوگ قرآن کی کوئی آیت اپنے عقائد کے مخالف پاتے ہیں تو باطنیہ اور قرامطہ جیسے باطل فرقوں کی طرح اس کی غیر مقبول اور قابل انکار تاویل کرتے ہیں۔ اسی لیے انگریز مسلمانوں کے خلاف ان کی تائید و نصرت کرتے تھے۔ مرزا قادیانی کہتا تھا کہ مسلمانوں پر انگریزوں سے جنگ کرنا حرام ہے۔ میں نے ان پر ردّ کرنے کے لیے کئی کتابیں تالیف کیں اور ان میں یہ وضاحت کی کہ یہ فرقہ جماعۃ المسلمین سے خارج ہے۔ ان کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ (صحیحہ: ۱۶۸۳)
12453
Sahih
باب پنجم: عبدالملک بن مروان کا حجاج بن یوسف کو مصعب بن زبیر سے لڑنے کے لیے عراق کی طرف روانہ کرنا
۔ (۱۲۴۵۴)۔ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ یُقَالُ لَہُ: عَمَّارٌ، قَالَ: أَدْرَبْنَا عَامًا ثُمَّ قَفَلْنَا، وَفِینَا شَیْخٌ مِنْ خَثْعَمٍ، فَذُکِرَ الْحَجَّاجُ فَوَقَعَ فِیہِ وَشَتَمَہُ، فَقُلْتُ لَہُ: لِمَ تَسُبُّہُ وَہُوَ یُقَاتِلُ أَہْلَ الْعِرَاقِ فِی طَاعَۃِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ؟ فَقَالَ: إِنَّہُ ہُوَ الَّذِی أَکْفَرَہُمْ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((یَکُونُ فِی ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ خَمْسُ فِتَنٍ۔)) فَقَدْ مَضَتْ أَرْبَعٌ وَبَقِیَتْ وَاحِدَۃٌ وَہِیَ الصَّیْلَمُ، وَہِیَ فِیکُمْیَا أَہْلَ الشَّامِ، فَإِنْ أَدْرَکْتَہَا فَإِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَکُونَ حَجَرًا فَکُنْہُ، وَلَا تَکُنْ مَعَ وَاحِدٍ مِنَ الْفَرِیقَیْنِ أَلَا فَاتَّخِذْ نَفَقًا فِی الْأَرْضِ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ: وَلَا تَکُنْ، وَقَدْ حَدَّثَنَا بِہِ حَمَّادٌ قَبْلَ ذَا، قُلْتُ: أَأَنْتَ سَمِعْتَہُ مِنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: یَرْحَمُکَ اللّٰہُ أَفَلَا کُنْتَ أَعْلَمْتَنِی أَنَّکَ رَأَیْتَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی أُسَائِلَکَ؟ (مسند احمد: ۲۰۹۷۲)
داؤ د بن ابی ہند نے عمار نامی ایک شخص سے بیان کیا، جس کا تعلق ملک شام سے تھا، اس نے کہا: ایک سال ہم روم کی طرف گئے اور وہاں سے واپس آئے، ہمارے قافلے میں قبیلہ خثعم کا ایک آدمی بھی تھا، اس نے حجاج کا ذکر کیا اور اسے خوب برا بھلاکہنے لگا، میں نے اس سے کہا:آپ اسے گالیاں کیوں دیتے ہیں؟ وہ تو امیر المومنین کے حکم کو بجا لاتے ہوئے اہل عراق سے بر سر پیکار ہے، اس نے کہا:اس نے تو انہیں کفر میں مبتلا کیا ہوا ہے، پھر اس نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا کہ اس امت میں پانچ بڑے بڑے فتنے رونما ہوں گے۔ ان میں سے چار وقوع پذیر ہو چکے ہیں اور ایک باقی ہے اور وہ بہت بڑا فتنہ ہوگا، اہل شام یاد رکھو وہ فتنہ تمہارے اندر رونماہوگا، اگر تم اس فتنہ کو پاؤ تو اگر ہوسکے تو پتھر بن جانا یعنی دو فریقوں میں سے کسی ایک کا بھی ساتھ نہ دینا، بلکہ ہوسکے تو زمین میں سرنگ بنا کر چھپ جانا، میں نے کہا:کیا آپ نے خود یہ حدیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، میںنے کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے، آپ نے پہلے کیوں نہیں بتلایا کہ آپ نبی کی زیارت سے مشرف ہوچکے ہیں، تاکہ میں آپ سے مزید کچھ دریافت کرلیتا۔
Takhreej
(۱۲۴۵۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عمار الرجل الشامی، وزعم بعضھم انہ لہ صحبۃ، ولا یصح، فالصحیح انہ تابعی، اخرجہ ابن الاثیر فی اسد الغابۃ : ۶/ ۳۹۲ (انظر: ۲۰۶۹۶)
12454
Zaeef
باب ششم: اس امر کابیان کہ عراق میںمصعب کو قتل کرنے کے بعد عبدالملک نے حجاج کو سیدنا عبداللہ زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ روانہ کیا اور اس نے بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا
۔ (۱۲۴۵۴)۔ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ یُقَالُ لَہُ: عَمَّارٌ، قَالَ: أَدْرَبْنَا عَامًا ثُمَّ قَفَلْنَا، وَفِینَا شَیْخٌ مِنْ خَثْعَمٍ، فَذُکِرَ الْحَجَّاجُ فَوَقَعَ فِیہِ وَشَتَمَہُ، فَقُلْتُ لَہُ: لِمَ تَسُبُّہُ وَہُوَ یُقَاتِلُ أَہْلَ الْعِرَاقِ فِی طَاعَۃِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ؟ فَقَالَ: إِنَّہُ ہُوَ الَّذِی أَکْفَرَہُمْ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((یَکُونُ فِی ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ خَمْسُ فِتَنٍ۔)) فَقَدْ مَضَتْ أَرْبَعٌ وَبَقِیَتْ وَاحِدَۃٌ وَہِیَ الصَّیْلَمُ، وَہِیَ فِیکُمْیَا أَہْلَ الشَّامِ، فَإِنْ أَدْرَکْتَہَا فَإِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَکُونَ حَجَرًا فَکُنْہُ، وَلَا تَکُنْ مَعَ وَاحِدٍ مِنَ الْفَرِیقَیْنِ أَلَا فَاتَّخِذْ نَفَقًا فِی الْأَرْضِ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ: وَلَا تَکُنْ، وَقَدْ حَدَّثَنَا بِہِ حَمَّادٌ قَبْلَ ذَا، قُلْتُ: أَأَنْتَ سَمِعْتَہُ مِنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: یَرْحَمُکَ اللّٰہُ أَفَلَا کُنْتَ أَعْلَمْتَنِی أَنَّکَ رَأَیْتَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی أُسَائِلَکَ؟ (مسند احمد: ۲۰۹۷۲)
ابو صدیق ناجی سے مروی ہے کہ حجاج بن یوسف جب سیدنا عبداللہ زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کر چکا تو اس کے بعد ان کی والدہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں گیا اور کہنے لگا: تمہارے بیٹے نے بیت اللہ کے اندر الحاد کیا تھا،سو اللہ تعالیٰ نے اسے درد ناک عذاب سے دو چار کیا اور اس کے ساتھ بہت کچھ کیا، سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: تو جھوٹ کہتا ہے، وہ تو اپنے والدین کا انتہائی خدمت گزارتھا، وہ دن کو بہت زیادہ روز ے رکھنے والا اور رات کو بہت زیادہ قیام کرنے والا تھا، اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں اطلاع دے چکے ہیں کہ عنقریب قبیلہ ثقیف میں سے دو جھوٹے آدمی ظاہر ہوں گے، ان میںسے بعد والا پہلے سے بھی برا ہوگا اوروہ بہت ہی خون ریزہوگا۔
Takhreej
(۱۲۴۵۵) تخریج: اسنادہ صحیح، لکن المحفوظ فی متنہ: یکون فی ثقیف کذاب و مبیر ، اخرجہ مسلم: ۲۵۴۵، والحدیث المرفوع فیہ بلفظ: أَنَّ فِی ثَقِیفٍ کَذَّابًا وَمُبِیرًا (انظر:ٰ ۲۶۹۶۷)
12455
Sahih
باب ششم: اس امر کابیان کہ عراق میںمصعب کو قتل کرنے کے بعد عبدالملک نے حجاج کو سیدنا عبداللہ زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ روانہ کیا اور اس نے بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا
۔ (۱۲۴۵۶)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ قَالَ: وَجَدْتُ فِی کِتَابِ أَبِی ہٰذَا الْحَدِیثَ بِخَطِّ یَدِہِ، حَدَّثَنَا سَعِیدٌیَعْنِی ابْنَ سُلَیْمَانَ سَعْدَوَیْہِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادٌ یَعْنِی ابْنَ الْعَوَّامِ، عَنْ ہَارُونَ بْنِ عَنْتَرَۃَ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: لَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَیْرِ وَصَلَبَہُ مَنْکُوسًا، فَبَیْنَا ہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ إِذْ جَائَتْ أَسْمَائُ، وَمَعَہَا أَمَۃٌ تَقُودُہَا، وَقَدْ ذَہَبَ بَصَرُہَا، فَقَالَتْ: أَیْنَ أَمِیرُکُمْ؟ فَذَکَرَ قِصَّۃً، فَقَالَتْ: کَذَبْتَ وَلٰکِنِّی أُحَدِّثُکَ حَدِیثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((یَخْرُجُ مِنْ ثَقِیفٍ کَذَّابَانِ، الْآخِرُ مِنْہُمَا أَشَرُّ مِنْ الْأَوَّلِ، وَہُوَ مُبِیرٌ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۱۴)
عنترہ سے مروی ہے کہ جب حجاج نے سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کیا اور انہیں الٹا کر کے لٹکا دیا، تو وہ اس دوران منبر پر تھاکہ اچانک سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آ گئیں، ان کی بینائی ختم ہوچکی تھی، ایک لونڈی ان کاہاتھ پکڑے ان کو لائی، سیدہ اسمائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: لوگو! تمہارا امیر کہاں ہے؟ اس کے بعدعنترہ نے مفصل واقعہ بیان ہے، اس کے آخر میں ہے:سیدہ اسمائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حجاج سے کہا: تو جھوٹ کہتا ہے، میں تمہیں ایک حدیث سناتی ہوں، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قبیلہ ثقیف میں دو جھوٹے آدمی نکلیں گے، ان میں سے بعد والا پہلے سے بھی زیادہ شر والا ہوگا اور وہ بہت ہی خون ریز ہوگا۔
Takhreej
(۱۲۴۵۶) تخریج: مرفوعہ صحیح لکن بلفظ ان فی ثقیف کذابا ومبیرا وھذا اسناد فیہ ھارون بن عنترۃ، وفیہ کلام، وقد انفرد بسیاق ھذہ القصۃ، فذکر ان ابن الزبیر صلب منکوسا، وان اسماء ھی التی دخلت علی الحجاج، والصحیح ان ابن الزبیر صلب، ولکن لم یتابعہ احد علی قولہ: منکوسا وان الحجاج ھو الذی دخل علی اسمائ، وانظر الحدیث السابق (انظر: ۲۶۹۷۴)
12456
Sahih
باب ششم: اس امر کابیان کہ عراق میںمصعب کو قتل کرنے کے بعد عبدالملک نے حجاج کو سیدنا عبداللہ زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ روانہ کیا اور اس نے بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا
۔ (۱۲۴۵۷)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ فِیْ ثَقِیْفٍ مُبِیْرًا وَ کَذَّابًا۔)) (مسند احمد: ۴۷۹۰)
سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قبیلہ ثقیف میں ایک ہلاک کرنے والا یعنی خون ریز آدمی ہوگا اور ایک جھوٹا۔
Takhreej
(۱۲۴۵۷) تخریج: صحیح لغیرہ، اخرجہ الترمذی: ۲۲۲۰، ۳۹۴۴(انظر: ۴۷۹۰)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کی شرح کے لیے حدیث نمبر (۱۲۴۵۳)کے فوائد کا مطالعہ کریں۔
12457
Sahih

Chapters

113
01
(باب اول) اس امر کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی زندگی میں کسی کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں فرمایا
16 Hadith
02
فصل: نبوت، خلافت اورملوکیت کے مراحل پر مشتمل سیدنا حذافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ایک جامع حدیث
1 Hadith
03
فصل: قریشی خلفاء کی تعداد
5 Hadith
04
باب سوم: ہر امام، امیر اور لوگوں کے معاملات کا مسئول بننے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ رعایا کے امور میں عدل و انصاف سے کام لے اور ظلم و جور سے بچے، بیشک اس سے اس بارے میں پوچھ گچھ ہوگی
8 Hadith
05
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے پوچھ گچھ ہو گی کی وضاحت
5 Hadith
06
فصل: اس حکمران کی وعید کا بیان جو رعایاکے امور کے سامنے رکاوٹیں ڈالتا ہے
3 Hadith
07
فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
5 Hadith
08
باب چہارم: حکمرانی طلب کرنے سے ممانعت اور اس سے نفرت دلانے کا بیان
11 Hadith
09
فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
3 Hadith
10
فصل دوم: بے وقوفوں، نا اہل لوگوں کی حکومت کا بیان، ہم ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں
18 Hadith
11
فصل سوم: لڑکوں کی حکمرانی کا بیان
4 Hadith
12
فصل چہارم: خواتین کی حکومت و سربراہی کا بیان
5 Hadith
13
فصل اول: حکمرانوں کی اطاعت کے وجوب اور ان کی بغاوت نہ کرنے کا بیان
13 Hadith
14
فصل دوم: اللہ کی نافرمانی کی صورت میں کسی انسان کی اطاعت نہیں ہے
10 Hadith
15
فصل سوم: حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے کے وجوب اوران کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرتے رہنے کا بیان
4 Hadith
16
فصل چہارم: مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنے اور بادشاہ کا اکرام کرنے کا بیان
4 Hadith
17
فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان
11 Hadith
18
فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
9 Hadith
19
باب اول: ان احادیث کا بیان جن میں ان کی خلافت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
9 Hadith
20
باب دوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت اور واقعۂ سقیفہ کا بیان
5 Hadith
21
باب سوم: صدیق اکبر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دورخلافت میں واقع ہونے والے بعض واقعات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی میراث کے مطالبہ کرنے کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجنا
2 Hadith
22
فصل دوم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مرتدین سے قتال کا بیان
1 Hadith
23
فصل سوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلافت میں قرآن مجید کو یکجا جمع کرنے کا بیان
1 Hadith
24
باب چہارم: مناقب صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جو مناسب بیان ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے مزید مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت
4 Hadith
25
فصل دوم: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تواضع کا بیان
2 Hadith
26
سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ذہانت، فطانت، علم اور فضیلت کا بیان
1 Hadith
27
فصل سوم: سیدنا صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبوں کا بیان اسلام میں ان کے پہلے خطاب کا بیان
4 Hadith
28
باب ششم: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیماری، مرض الموت اور وفات کا بیان
3 Hadith
29
خلیفۂ دوم امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ متعلق ابواب باب اول: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں خلافت کا تقرر
1 Hadith
30
باب دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فضائل اور ان کا اپنے اسلاف کی اقتداء کرنا
5 Hadith
31
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنت میں سیدناعمر ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے جو کچھ دیکھا، اس کا اور ان کی غیرت کا بیان
7 Hadith
32
فصل سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے علم کی وسعت، قوتِ دین، ان کی نیکی اورزہد کا بیان
7 Hadith
33
فصل چہارم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حق کی موافقات یا آپ کا الہام والے لوگوں میں سے ہونا
5 Hadith
34
فصل پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ہیبت اور وقار کا بیان
4 Hadith
35
باب سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں، فیصلوں اور ان کے دور خلافت میں پیش آنے والے بعض واقعات کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں اور فیصلوں کا بیان
5 Hadith
36
فصلِ دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلا فت میں ۱۵ ھ ؁ میں ہونے والے واقعۂ یرموک کا بیان
1 Hadith
37
فصل: کسریٰ کے خزانوں کی فتح
1 Hadith
38
فصل سوم: بیت المقدس کی فتح ، جابیہ مقام پر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مشہور خطاب اور۱۶ھ میں خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امارت سے معزول کرنے کا بیان
2 Hadith
39
فصل چہارم: ۱۸ھ میں شام میں پڑنے والے طاعونِ عمواس کا تذکرہ
1 Hadith
40
فصل پنجم: ۱۹ھ میں سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سرز مین خیبر سے یہودیوں کو جلا وطن کرنا
1 Hadith
41
باب چہارم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبات رعایا کے مابین عدل کے بارے میں ان کا خطبہ
2 Hadith
42
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے خواب کے بارے خطبہ اور اپنی وفات کے قریب ہونے کی صورت میں اس کی تعبیر کرنا
1 Hadith
43
باب پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خواب کی تعبیر کا ثابت ہونا، عجمی کا ان پر حملہ کرنا، ان کی کچھ وصیتوں کا بیان، لوگوں کا ان کی تعریف کرنا اور ان کے پاس رونا اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کسی خلیفہ نامزد نہ کرنا
4 Hadith
44
باب ششم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات ، ان کی نمازجنازہ اور سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے ان کی مدح سرائی کا بیان
4 Hadith
45
تیسرے خلیفہ راشد امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلاف سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت و بیعت کا بیان
1 Hadith
46
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ کرنا
4 Hadith
47
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
8 Hadith
48
فصل دوم: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خاص طور پر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ جو رازدارانہ باتیں کیں، ان کا بیان
2 Hadith
49
فصل سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے شرم و حیا ء اور فرشتوں کا ان سے شرمانے کا بیان
5 Hadith
50
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی صفات اور ان کے بعض خطبوں کا بیان
5 Hadith
51
باب سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر بعض لوگوں کے اعتراضات اور ان کا دفاع
2 Hadith
52
فصل: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خلاف سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بد خواہی کے الزام کی براء ت
1 Hadith
53
باب چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کے دوران رونما ہونے والے بعض واقعات کا بیان جرعہ کے دن والا واقعہ
2 Hadith
54
سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ربذہ کی طرف شہربدری
2 Hadith
55
باب پنجم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا محاصرہ اور اس موقع پر ان کی طرف سے اور ان سے کی جانے والی گفتگو کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: محاصرہ کے دنوں میں بعض صحابہ کے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف میلان رکھنے کا بیان
3 Hadith
56
فصل دوم: سیدنا عثمان کا اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مطیع ہونا، ان کا لوگوں کے سامنے عذر خواہی کرنااور لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کرنا اور ان کے مناقب
4 Hadith
57
فصل سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ایک سوال کرنا اور ان کا ان کو ڈانٹنا
2 Hadith
58
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خواب اور اپنے قتل کے دن سے دوسروں کو مطلع کرنا اور شہادت کی تیاری اور صبر کا بیان
2 Hadith
59
فصل پنجم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تاریخ شہادت، ان کی جنازہ، دفن اور مدتِ خلافت کا بیان
7 Hadith
60
باب اول: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اس طرف اشارہ کرنا
5 Hadith
61
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
1 Hadith
62
فصل دوم: سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث
20 Hadith
63
فصل چہارم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں فرمانا: تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے، جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، …۔
4 Hadith
64
فصل پنجم: غزوۂ خیبر کے روز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جھنڈا دینے کے لیے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منتخب کرنا اور اس میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت او رنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا بیان
6 Hadith
65
فصل ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کا قاضی مقرر کرنا اور اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس امت محمدیہ میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ بردباری والے اور سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے
3 Hadith
66
فصل ہفتم: شیعہ لو گوں کاسیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے محبت کرنا اور خارجی لوگوں کا ان سے بغض رکھنا
2 Hadith
67
باب سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبات کا بیان
7 Hadith
68
فصل دوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بصرہ میں تشریف آوری اور لوگوں کو جنگ جمل کے لیے بلانا
5 Hadith
69
فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا عمار اور سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو اہل کوفہ کی طرف بھیجنا، تاکہ وہ ان سے لڑائی میں شریک ہونے کا مطالبہ کریں
4 Hadith
70
باب پنجم: جنگ صفین اور سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شجاعت کا بیان اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے بارے میں فرمانا کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا
7 Hadith
71
فصل دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں دو آدمیوں کا جھگڑا، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ اس نے سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کیا ہے
2 Hadith
72
فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لشکر کی صفین کے موقع پر کامیابی کے بعد ہز یمت کا سبب اور خوارج کاحضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خلاف خروج اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ان کو قتل کرنا
1 Hadith
73
باب ششم: واقعہ نہروان اور وہاں پر خوارج کا قتل نیز خوارج کی مذمت اور ان کو قتل کرنے کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: خوارج کی بنیاد کا بیان
7 Hadith
74
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
12 Hadith
75
فصل سوم: جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر خوارج کا فساد واضح ہوا تو ان کا نہروان میں خوارج سے قتال کے لیے اپنے لشکر کو لے جانا
8 Hadith
76
فصل چہارم: عبداللہ بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وہ مفصل حدیث جو انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو سنائی تھی، یہ حدیث خوارج کے تفصیلی واقعہ پر مشتمل ہے
1 Hadith
77
فصل: خوارج کے سروںکو مسجد دمشق کے دروازہ پر نصب کرنے کابیان
4 Hadith
78
باب ہفتم: سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور اس امر کا بیان کہ ان کے جسم کا کون سا حصہ زخمی ہوگا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی یہ بات اس واقعہ کے وقوع پذیر ہو نے سے پہلے بتلا دی تھی اور اس امرکا بیان کہ اس کے قاتل کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
4 Hadith
79
فصل: اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا
1 Hadith
80
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کے بعد سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خطبہ
2 Hadith
81
سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا فاطمہ زہرائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا امام حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
4 Hadith
82
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
5 Hadith
83
فصل دوم: اس امر کابیان ہے کہ سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشابہت رکھتے تھے
5 Hadith
84
باب سوم: ان مناقب کا بیان، جن میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما مشترک ہیں
4 Hadith
85
باب چہارم: سیدنا امام حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کاتذکرہ اور اس امر کابیان کے صادق وامین ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق ان کی وفات سے خلفائے راشدین کی مدت خلافت پوری ہوگئی
1 Hadith
86
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
1 Hadith
87
باب دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب
2 Hadith
88
باب سوم: سیدنا معاویہ کے بعض حالات، خطبوں اور حج کا بیان
3 Hadith
89
ٔٔفصل: عہد خلافت ِمعاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک اہم واقعہ غزوۂ قسطنطنیہ ہے
1 Hadith
90
یزید بن معاویہ کی خلافت اور ان کے عہد خلافت میں ہونے والے واقعات سے متعلقہ ابواب باب اول: یزید کی بیعت اور بعض لوگوںکی اس کی بیعت سے بے زاری اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیان
1 Hadith
91
باب دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غم کا بیان
3 Hadith
92
فصل دوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا قتل اور ان کے سر کے ساتھ ابن زیاد کا سلوک
1 Hadith
93
فصل سوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کے دن سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا خواب
1 Hadith
94
فصل چہارم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خبر شہادت کالوگوں تک پہنچنا، اہل عراق کے بارے میں لوگوں کی آراء اور تاریخ شہادت کا بیان
3 Hadith
95
فصل پنجم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان
1 Hadith
96
باب سوم: یزید بن معاویہ کے عہد میں وقوع پذیر ہونے والے ایک انتہائی المناک واقعہ حرہ کا بیان
3 Hadith
97
فصل: حرّہ میں لڑنے والے لشکر کو یزید کا مکہ کی طرف سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے روانہ کرنے اور جا کر کعبہ کو جلانے کا بیان
1 Hadith
98
باب چہارم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ اور ان کو زیر کرنے کے لیے یزید اور اس کے ساتھیوں کا اپنے لشکروں کو مکہ کی طرف روانہ کرنے کا بیان
1 Hadith
99
فصل: یزید بن معاویہ کی طر ف سے مدینہ کے حکمران عمرو بن سعید بن العاص اموی کا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے مکہ کی طرف لشکر بھیجنا اور ابو شریح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ صحابی کی اس کو نصیحت اور سعید کے انکار کا بیان
2 Hadith
100
فصل: بنوامیہ کے ایک ظالم حکمران کے متعلق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات
1 Hadith
101
فصل: عبید اللہ بن زیاد کا تذکرہ
1 Hadith
102
باب پنجم: یزید بن معاویہ کی وفات
1 Hadith
103
یزید بن معاویہ کی موت کے بعد سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کا بیان باب اول: سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت کا بیان
2 Hadith
104
باب دوم: ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اور تاریخ ولادت
5 Hadith
105
باب سوم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خواہش کے مطابق کعبہ کی تعمیر کرنا
4 Hadith
106
باب چہارم: سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا عبد الملک اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر کے مابین پیدا ہونے والے فتنے کو ناپسند کرنا
1 Hadith
107
مختار ثقفی کا ظہور
4 Hadith
108
باب پنجم: عبدالملک بن مروان کا حجاج بن یوسف کو مصعب بن زبیر سے لڑنے کے لیے عراق کی طرف روانہ کرنا
1 Hadith
109
باب ششم: اس امر کابیان کہ عراق میںمصعب کو قتل کرنے کے بعد عبدالملک نے حجاج کو سیدنا عبداللہ زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ روانہ کیا اور اس نے بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا
5 Hadith
110
امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز i کی خلافت کے ابواب باب اول: عمر بن عبد العزیز کے مناقب
3 Hadith
111
یزید بن عبدالملک کی خلافت یزید بن عبد الملک کی اطاعت سے یزید بن مہلب کا خروج
1 Hadith
112
ولید بن یزید بن عبدالملک کی خلافت
1 Hadith
113
حکومت عباسیہ کا آغاز اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس سے مطلع کرنا
2 Hadith
No chapter matched that.