TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

خلافت و امارت کے مسائل - خلافت و امارت کے مسائل - Book 173 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 173 of Musnad Ahmad, with 113 chapters and 449 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

449 Hadith · 113 Chapters
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
۔ (۱۲۳۹۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلٰی سُوقِ بَنِی قَیْنُقَاعَ مُتَّکِئًا عَلٰییَدِی، فَطَافَ فِیہَا ثُمَّ رَجَعَ فَاحْتَبٰی فِی الْمَسْجِدِ، وَقَالَ: ((أَیْنَلُکَاعٌ؟ ادْعُوا لِی لُکَاعًا۔)) فَجَائَ الْحَسَنُ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَاشْتَدَّ حَتّٰی وَثَبَ فِی حَبْوَتِہِ فَأَدْخَلَ فَمَہُ فِی فَمِہِ ثُمَّ قَالَ: ((اللَّہُمَّ إِنِّی أُحِبُّہُ فَأَحِبَّہُ، وَأَحِبَّ مَنْ یُحِبُّہُ۔)) ثَلَاثًا، قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: مَا رَأَیْتُ الْحَسَنَ إِلَّا فَاضَتْ عَیْنِی أَوْ دَمَعَتْ عَیْنِی، أَوْ بَکَتْ شَکَّ الْخَیَّاطُ(الرَّاوِیْ)۔ (مسند احمد: ۱۰۹۰۴)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے بنو قینقاع کے بازار کی طرف تشریف لے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں چکر لگایا، اس کے بعد واپس آکر مسجد میں بیٹھ گئے اور فرمایا: چھوٹا کہاںہے؟ چھوٹو کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔ اتنے میں سیدنا حسن علیہ السلام آگئے اور دوڑ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گود میں بیٹھ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا منہ اس کے منہ کے ساتھ لگایا اور تین بار فرمایا: یا اللہ! مجھے اس سے محبت ہے، تو بھی اس سے اور اس سے محبت کرنے والوں سے محبت فرما۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں جب بھی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھتا ہوں تو میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔
Takhreej
(۱۲۳۹۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
12398
Sahih
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
۔ (۱۲۳۹۹)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمُصُّ لِسَانَہُ، أَوْ قَالَ: شَفَتَہُ یَعْنِی الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ صَلَوَاتُ اللّٰہِ عَلَیْہِ، وَإِنَّہُ لَنْ یُعَذَّبَ لِسَانٌ أَوْ شَفَتَانِ مَصَّہُمَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۷۳)
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی زبان کو یا ہونٹ کو چوس رہے تھے اور جس زبان یا ہونٹوں کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چوما ہو، اسے عذاب نہیں ہوگا۔
Takhreej
(۱۲۳۹۹) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۱۶۸۴۸)
12399
Sahih
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
۔ (۱۲۴۰۰)۔ عَنْ عُمَیْرِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: کُنْتُ مَعَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ فَلَقِیَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ، فَقَالَ: أَرِنِی أُقَبِّلْ مِنْکَ حَیْثُ رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُقَبِّلُ، قَالَ: فَقَالَ: بِالْقَمِیصَۃِ، قَالَ: فَقَبَّلَ سُرَّتَہُ۔ (مسند احمد: ۷۴۵۵)
عمیر بن اسحاق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ تھا کہ ہم سے سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آملے اور انہوں نے لپا: حسن! مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کے اس مقام کو بوسہ دوں، جس مقام پر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بوسہ دیتے دیکھا ہے، پھر انہوں نے ان کی قمیص اوپر اٹھا کر ان کی ناف پر بوسہ دیا۔
Takhreej
(۱۲۴۰۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، تفرد بہ عمیر بن اسحاق مختلف فیہ، اخرجہ ابن حبان: ۵۵۹۳، والطبرانی: ۲۷۶۵، والحاکم: ۳/ ۱۶۸ (انظر: ۷۴۶۲)
12400
Zaeef
فصل دوم: اس امر کابیان ہے کہ سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشابہت رکھتے تھے
۔ (۱۲۴۰۱)۔ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ کُلَیْبٍ، حَدَّثَنِی أَبِی أَنَّہِ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَیَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ رَآنِی فِی الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِی، فَإِنَّ الشَّیْطَانَ لَا یَتَمَثَّلُ بِی۔)) قَالَ عَاصِمٌ: قَالَ أَبِی: فَحَدَّثَنِیہِ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَأَخْبَرْتُہُ أَنِّی قَدْ رَأَیْتُہُ قَالَ: رَأَیْتَہُ؟ قُلْتُ: إِی وَاللّٰہِ لَقَدْ رَأَیْتُہُ، قَالَ: فَذَکَرْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ قَالَ: إِنِّی وَاللّٰہِ قَدْ ذَکَرْتُہُ وَنَعَتُّہُ فِی مِشْیَتِہِ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّہُ کَانَ یُشْبِہُہُ۔ (مسند احمد: ۸۴۸۹)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے خواب میں مجھے دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ عاصم کہتے ہیں: میرے والد نے کہا:جب یہی حدیث سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے مجھ کو بیان کی تو میں نے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خواب میںدیکھا ہے، انہوں نے پوچھا: کیا واقعی تم نے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں، اللہ کی قسم! میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ہے اور میں نے حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نام لیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے مشابہ تھے اور میں نے آپ کے چلنے کے انداز کا بھی ذکر کیا، سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مشابہ ہیں۔
Takhreej
(۱۲۴۰۱) تخریج: اسنادہ قوی، اخرجہ الترمذی فی الشمائل : ۳۹۱، والحاکم: ۴/ ۳۹۳ (انظر: ۸۵۰۸)
12401
Sahih
فصل دوم: اس امر کابیان ہے کہ سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشابہت رکھتے تھے
۔ (۱۲۴۰۲)۔ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ، أَخْبَرَنِی عُقْبَۃُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِنْ صَلَاۃِ الْعَصْرِ بَعْدَ وَفَاۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِلَیَالٍ، وَعَلِیٌّ عَلَیْہِ السَّلَامُ یَمْشِی إِلٰی جَنْبِہِ، فَمَرَّ بِحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّیَلْعَبُ مَعَ غِلْمَانٍ، فَاحْتَمَلَہُ عَلٰی رَقَبَتِہِ، وَہُوَ یَقُولُ: وَا بِأَبِی شَبَہُ النَّبِیِّ، لَیْسَ شَبِیہًا بِعَلِیِّ، قَالَ: وَعَلِیٌّیَضْحَکُ۔ (مسند احمد: ۴۰)
عقبہ بن حارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات سے چند راتوں بعد میں ایک دن عصر کی نماز کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ نکلا، ان کے پہلو میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی چلے آر ہے تھے، اتنے میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس سے گزرے، وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے انہیں اپنی گردن پر سوار کر لیا اور کہا: واہ! میرا باپ قربان ہو، یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مشابہ ہے، یہ اپنے والد علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مشابہت نہیں رکھتا۔ یہ بات سن کر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسکرا دئیے۔
Takhreej
(۱۲۴۰۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط البخاری، اخرجہ البزار: ۵۳، وابویعلی: ۳۸، والطبرانی فی الکبیر : ۲۵۲۸(انظر: ۴۰)
12402
Sahih
فصل دوم: اس امر کابیان ہے کہ سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشابہت رکھتے تھے
۔ (۱۲۴۰۳)۔ عَنْ اَبِیْ جُحَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہٗرَاٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ اَشْبَہَ النَّاسِ بِہِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۵۲)
سیدنا ابو جحیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خواب میں دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوںمیں سے سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زیادہ مشابہ تھے۔
Takhreej
(۱۲۴۰۳) تخریج: اخرجہ البخاری: ۳۵۴۳، ۳۵۴۴، ومسلم: ۲۳۴۳ (انظر: ۱۸۷۴۵)
12403
Sahih
فصل دوم: اس امر کابیان ہے کہ سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشابہت رکھتے تھے
۔ (۱۲۴۰۴)۔ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ قَالَ: کَانَتْ فَاطِمَۃُ تَنْقُزُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ، وَتَقُولُ: بِأَبِی شَبَہُ النَّبِیِّ لَیْسَ شَبِیہًا بِعَلِیٍّ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۵۴)
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ جب سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ،سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پیار و محبت سے اچھالتیں تو کہا کرتی تھیں: میرا باپ قربان، یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مشابہ ہے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مشابہ نہیں ہے۔
Takhreej
(۱۲۴۰۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف زمعۃ بن صالح (انظر: ۲۶۴۲۲)
12404
Zaeef
فصل دوم: اس امر کابیان ہے کہ سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشابہت رکھتے تھے
۔ (۱۲۴۰۵)۔ وَعَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَلْحَسْنُ اَشْبَہُ النَّاسِ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا بَیْنَ الصَّدْرِ اِلَی الرَّاْسِ، وَالْحُسَیْنُ اَشْبَہُ النَّاسِ بِالنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا کَانَ اَسْفَلُ مِنْ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۷۷۴)
سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سینے سے سر تک اور حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سینے سے نیچے تک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔
Takhreej
(۱۲۴۰۵) تخریج: رجالہ ثقات رجال الشیخین غیر ھانیء بن ھانیئ، قال النسائی: لیس بہ بأس، وقال ابن المدینی: مجھول، وقال الشافعی: لایعرف، وقال الحافظ فی التقریب : مستور، وقال الالبانی: ھذا الحدیث ضعیف، اخرجہ الترمذی: ۳۷۷۹(انظر: ۷۷۴)
12405
Sahih
باب سوم: ان مناقب کا بیان، جن میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما مشترک ہیں
۔ (۱۲۴۰۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَعَہُ حَسَنٌ وَحُسَیْنٌ، ہٰذَا عَلٰی عَاتِقِہِ وَہٰذَا عَلٰی عَاتِقِہِ، وَہُوَ یَلْثِمُ ہٰذَا مَرَّۃً وَیَلْثِمُ ہٰذَا مَرَّۃً حَتَّی انْتَہٰی إِلَیْنَا، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّکَ تُحِبُّہُمَا، فَقَالَ: ((مَنْ أَحَبَّہُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِی، وَمَنْ اَبْغَضَہُمَا فَقَدْ اَبْغَضَنِیْ۔)) (مسند احمد: ۹۶۷۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے،اس وقت آپ نے سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ایک کندھے پر اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دوسرے کندھے پر اٹھایا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کبھی اس کا بوسہ لیتے اور کبھی اُس کا، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلتے چلتے ہمارے پاس آگئے، ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کوان دونوں سے محبت ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جسے ان دونوں سے محبت ہے،اسے مجھ سے محبت ہے اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا۔
Takhreej
(۱۲۴۰۶) تخریج: حدیث حسن، اخرجہ الحاکم: ۳/ ۱۶۶، والبزار: ۲۶۲۷ (انظر: ۹۶۷۳)
12406
Sahih
باب سوم: ان مناقب کا بیان، جن میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما مشترک ہیں
۔ (۱۲۴۰۷)۔ (وَعَنْہٗاَیْضًا) قَالَ: کُنَّا نُصَلِّی مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعِشَائَ، فَإِذَا سَجَدَ وَثَبَ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ عَلٰی ظَہْرِہِ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ أَخَذَہُمَا بِیَدِہِ مِنْ خَلْفِہِ أَخْذًا رَفِیقًا، وَیَضَعُہُمَا عَلَی الْأَرْضِ، فَإِذَا عَادَ عَادَا حَتّٰی إِذَا قَضٰی صَلَاتَہُ، أَقْعَدَہُمَا عَلٰی فَخِذَیْہِ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَیْہِ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَرُدُّہُمَا فَبَرَقَتْ بَرْقَۃٌ، فَقَالَ لَہُمَا: ((الْحَقَا بِأُمِّکُمَا۔)) قَالَ: فَمَکَثَ ضَوْئُ ہَا حَتّٰی دَخَلَا عَلٰی اُمِّہِمَا۔ (مسند احمد: ۱۰۶۶۹)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ عشاء کی نماز ادا کررہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدہ میں جاتے تو سیدنا حسن اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ عشاء کی نماز ادا کررہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدہ میں جاتے تو سیدنا حسن اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما
Takhreej
(۱۲۴۰۷) تخریج: اسنادہ حسن، اخرجہ البزار: ۲۶۳۰(انظر: ۱۰۶۵۹)
12407
Sahih
باب سوم: ان مناقب کا بیان، جن میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما مشترک ہیں
۔ (۱۲۴۰۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۹۹)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ارشاد فرمایا: حسن اور حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نوجوانانِ جنت کے سردار ہیں۔
Takhreej
(۱۲۴۰۸) تخریج: صحیح، اخرجہ الترمذی: ۳۷۶۸(انظر: ۱۷۷۷)
12408
Sahih
باب سوم: ان مناقب کا بیان، جن میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما مشترک ہیں
۔ (۱۲۴۰۹)۔ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی رَاشِدٍ، عَنْ یَعْلَی الْعَامِرِیِّ أَنَّہُ جَائَ حَسَنٌ وَحُسَیْنٌ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا یَسْتَبِقَانِ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَضَمَّہُمَا إِلَیْہِ، وَقَالَ: ((إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَۃٌ مَجْبَنَۃٌ وَإِنَّ آخِرَ وَطْأَۃٍ وَطِئَہَا الرَّحْمَنُ عَزَّ وَجَلَّ بِوَجٍّ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۰۵)
یعلی عامری سے روایت ہے کہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف دوڑتے ہوئے آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دونو ںکو اپنے ساتھ لگا لیا اور فرمایا: بے شک اولاد بخل اور بزدلی کا باعث بنتی ہے اور فتح مکہ کے بعد رحمان کی طرف سے مشرکین کی آخری گرفت غزوۂ طائف میں وادیٔ وج کے مقام پر ہوئی تھی۔
Takhreej
(۱۲۴۰۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ سعید بن ابی راشد، اخرجہ ابن ماجہ: ۳۶۶۶(انظر: ۱۷۵۶۲)
12409
Sahih
باب چہارم: سیدنا امام حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کاتذکرہ اور اس امر کابیان کے صادق وامین ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق ان کی وفات سے خلفائے راشدین کی مدت خلافت پوری ہوگئی
۔ (۱۲۴۱۰)۔ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِی کَرِبَ، وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ إِلٰی مُعَاوِیَۃَ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ لِلْمِقْدَامِ: أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ تُوُفِّیَ؟ فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ، فَقَالَ لَہُ مُعَاوِیَۃُ: أَتُرَاہَا مُصِیبَۃً؟ فَقَالَ: وَلِمَ لَا أَرَاہَا مُصِیبَۃً؟ وَقَدْ وَضَعَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی حِجْرِہِ، وَقَالَ: ((ہٰذَا مِنِّی وَحُسَیْنٌ مِنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۲۱)
سیدنا مقدام بن معدی کرب اور سیدنا عمرو بن اسود معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی خدمت میں گئے، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا مقدام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیاآپ کو معلوم ہے کہ حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا انتقال ہوگیا ہے؟ یہ سن کر مقدام نے اِنَّا لِلّٰہِ وَِاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُون پڑھا، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ اس واقعہ کو مصیبت خیال کرتے ہیں؟ سیدنا مقدام نے کہا:میں اسے مصیبت کیوں نہ سمجھوں،جبکہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اپنی گودمیں بٹھایا اور فرمایا تھا: یہ حسن میرا ہے اور حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہے۔
Takhreej
(۱۲۴۱۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، بقیۃ بن الولید مدلس ویسوِّی، وقد عنعن، اخرجہ ابوداود: ۴۱۳۱ (انظر: ۱۷۱۸۹)
Explanation
فوائد:… خلفائے راشدین کی مدت کے بارے میں درج ذیل حدیث اور بحث مفید رہے گی: سیدنا سفینہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((الْخِلَافَۃُ ثَلَاثُونَ عَامًا، ثُمَّ یَکُونُ بَعْدَ ذٰلِکَ الْمُلْکُ۔)) قَالَ سَفِینَۃُ: أَمْسِکْ خِلَافَۃَ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سَنَتَیْنِ، وَخِلَافَۃَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَشْرَ سِنِینَ، وَخِلَافَۃَ عُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اثْنَیْ عَشْرَ سَنَۃً، وَخِلَافَۃَ عَلِیٍّ سِتَّ سِنِینَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ۔ (ابوداود: ۴۶۴۷، واللفظ لاحمد) خلافت تیس برس تک رہے گی، بعد ازاں ملوکیت آجائے گی۔ سفینہ نے کہا، ذرا شمار کرو، دو سال سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت، دس سال سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت، بارہ سال سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور چھ سال سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت تھی۔ خلفائے راشدین کے ادوار خلافت کی تفصیل یہ ہے: سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ : دو سال، تین ماہ، دس دن سیدنا عمر فاروق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ : دس سال، چھ ماہ، آٹھ دن سیدنا عثمان غنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ : گیارہ سال، گیارہ ماہ، نو دن سیدنا علی مرتضی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ : چار سال، نو ماہ، سات دن سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ : چھ ماہ سنن ابی داود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((خِلَافَۃُ النُّـبُوَّۃِ ثَـلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ یُؤْتِی اللّٰہُ الْمُلْکَ اَوْ مَلَّکَہُ مَنْ یَّشَائُ۔)) … تیس سال تک نبوت والی خلافت رہے گی، پھر اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا، اپنی بادشاہت عطا کر دے گا۔ ملا علی قاری نے کہا: اس حدیث کا یہ معنی معلوم ہوتا ہے کہ تیس سال تک خلافت ِ کاملہ جاری رہے گی، اس میں مخالفت کا اور حق سے دور ہونے کا عنصر نہیں ہو گا، لیکن اس کے بعد کبھی یہ وصف مثبت نظر آئے گا اور کبھی منفی۔ (مرقاۃ: ۹/ ۲۷۱) یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ بادشاہت فی نفسہ کوئی مذموم چیز نہیں ہے، کہ اس حدیث کا معنی یہ کیا جائے کہ تیس سالہ دورِ خلافت کے بعد والی امارت و ملوکیت پر طعن و تشنیع شروع کر دیا جائے۔ اسلام میں وہ بادشاہت مذموم ہے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام سے عملاً یا علماً اور عملاً ناآشنا ہو۔ ایسے بادشاہ کو امیر المومنین کا لقب دیا جائے یا خلیفۃ المسلمین کا، اس سے اس کی امارت یا خلافت کو کوئی سہارا نہیں ملے گا۔ اسلام میں القاب کا اعتبار نہیں ہے، عمل اور حقیقت کو معتبر سمجھا جاتا ہے۔ اگر کسی بادشاہ کا مقصد دین حق کی اشاعت اور اس کی سر بلندی، اسلامی تہذیب و تمدن کا نفاذ اور اس کا فروغ ہو، تو وہ قابل تعریف ہو گا، اگرچہ وہ باپ کے مر جانے کے بعد وراثۃً تخت نشین ہوا ہو۔ آج کل لوگوں نے نفس بادشاہت کو خلافت و نبوت کے منافی تصور کر رکھا ہے، جس کے لیے کوئی شرعی بنیاد نہیں۔ علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں: وہ بادشاہت، جو تصورِ خلافت کے منافی اور مخالف ہے، وہ جبروتیت (اور سرکشی) ہے، جسے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس وقت کسریت سے تعبیر کیا تھا، جب اس کے کچھ ظاہری آثار سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں انہوں نے دیکھے۔ لیکن وہ بادشاہت جس میں قہر و غلبہ، عصبیت اور شکوہ نہ ہو، وہ خلافت کے منافی ہے نہ نبوت کے۔ سلیمان علیہ السلام اور داود علیہ السلام دونوں نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی تھے، لیکن اس کے باوجود وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور دنیوی امور میں راہِ مستقیم پر قائم رہے۔ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بادشاہت بھی ایسے ہی تھی، ان کا مقصد محض بادشاہت کا حصول یا دنیاوی عزّ و جاہ میں اضافہ نہ تھا۔ جب مسلمان اکثر حکومتوں پر غالب آ گئے تو طبعی عصبیت کی بنا پر ان کے دل میں یہ جذبہ پیدا ہوا، بہرحال وہ مسلمانوں کے خلیفہ تھے، انھوں نے مسلم قوم کی اسی طرح رہنمائی کی، جس طرح بادشاہ اپنی اقوام کی اس وقت کرتے ہیں، جب قومی عصبیت اور شاہی مزاج اس کا متقاضی ہوتا ہے۔ اسی طرح دیندار خلفاء کا حال ہے جو سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعد ہوئے۔ انہیں بھی جب ضرورت لاحق ہوئی شاہانہ طور طریقے استعمال کیے۔ ان خلفاء کے حالات کا مطالعہ کرتے وقت اس بات کی ضرورت ہے کہ صرف صحیح روایات پر اعتماد کیا جائے نہ کہ کمزور روایات پر۔ جس خلیفہ کے افعال ٹھیک ہوں وہ خلیفہ ٔ رسول ہے اور جو اس معیار پر پورا نہ اترے وہ دنیا کے عام بادشاہوں کی طرح بادشاہ ہے، اگرچہ اس کو خلیفہ ہی کیوں نہ کہا جاتا ہو۔ (تاریخ ابن خلدون: ۲/ ۱۴۲) حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں اصل مطاع اور قانون ساز اللہ تعالیٰ ہے، خلیفہ کا منصب نہ قانون سازی ہے اور نہ اس کی ہر بات واجب الاطاعت ہے، وہ اللہ کے حکم کا پابند اور اس کو نافذ کرنے والا ہے اور اس کی اطاعت بھی اسی شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ حکمرانی کا یہ تصور پہلے چار خلفاء کے دل و دماغ میں جس شدت کے ساتھ جاگزیں تھا، بعد میں یہ تصور بتدریج دھندلاتا چلا گیا، اسی کیفیت کو بادشاہت کے نام سے تعبیر کیا گیا، ورنہ فی الواقع بادشاہت اسلام میں مذموم نہیں ہے۔ سیدنا عمر بن عبد العزیز اصطلاحی طور پر بادشاہ ہی تھے، یعنی طریقہ ٔ ولی عہدی سے خلیفہ بنے تھے، لیکن اپنے طرزِ حکمرانی کی بنا پر اپنا نیک نام چھوڑ گئے۔ اسی طرح اسلامی تاریخ میں اور بھی متعدد بادشاہ ایسے گزرے ہیں، جن کے روشن کارناموں سے تاریخ اسلام کے اوراق مزین اور جن کی شخصتیں تمام مسلمانوں کی نظروںمیں محمود و مستحسن ہیں۔ اسی طرح سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھی اگر کوئی شخص بادشاہ کہنے پر مصر ہے تو بصد شوق کہے۔ ان جیسا عادل، اللہ سے ڈرنے والا اور عظیم کارنامے سرانجام دینے والا بادشاہ دنیا کی پوری تاریخ پیش نہیں کر سکتی۔ لیکن اگر کوئی شخص اس نقطۂ نظر سے ان کو بادشاہ کہے کہ وہ اسلامی طرزِ حکومت سے دور ہٹ گئے تھے، ان کے دورِ حکومت کا نظام اسلامی نہیں تھا اور ان کو اخلاق و شریعت کی حدود پھاند جانے میںکوئی باک نہ تھا، جس طرح کہ مولانا مودودی نے خلافت و ملوکیت میں یہی کچھ باور کرانے کی کوشش کی ہے، تو یہ سراسر ظلم،ناانصافی، غیر متعدل طرزِ فکر اور یکسر امرِ واقعہ کے خلاف ہے۔ اس موضوع پر حافظ صلاح الدین یوسف کی کتاب خلافت و ملوکیت کی تاریخی و شرعی حیثیت کا مطالعہ بہت مفید رہے گا۔ ان شاء اللہ۔
12410
Zaeef
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
۔ (۱۲۴۱۱)۔ عَنْ عَمْروِ بْنِ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّییُحَدِّثُ أَنَّ مُعَاوِیَۃَ أَخَذَ الْإِدَاوَۃَ بَعْدَ أَبِی ہُرَیْرَۃَیَتْبَعُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِہَا، وَاشْتَکٰی أَبُوہُرَیْرَۃَ فَبَیْنَا ہُوَ یُوَضِّیئُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَفَعَ رَأْسَہُ إِلَیْہِ مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ، فَقَالَ: ((یَا مُعَاوِیَۃُ! إِنْ وُلِّیتَ أَمْرًا فَاتَّقِ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَاعْدِلْ۔)) قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَظُنُّ أَنِّیمُبْتَلًی بِعَمَلٍ لِقَوْلِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتَّی ابْتُلِیتُ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۵۷)
ابو امیہ عمرو بن یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: میں نے اپنے دادا سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیمار پڑ گئے تھے اوران کے بعد سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وضو کا برتن سنبھال لیا اور وہ برتن لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ساتھ رہنے لگے، ایک دن وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وضو کرا رہے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دو دفعہ اپنا سرمبارک ان کی طرف اٹھایا اور فرمایا: معاویہ! گرتجھے حکومت ملے تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا اور عدل کا دامن تھامے رکھنا۔ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اس بات کے پیش نظر مجھے یقین تھا کہ مجھے حکومت کے معاملے میں آزمایا جائے گا، بالآخر یہی ہوا۔
Takhreej
(۱۲۴۱۱) تخریج: رجالہ ثقات رجال الصحیح، غیر ان جد عمرو بن یحیی، وھو سعید بن عمرو، لم یتبین لنا سماعہ من معاویۃ، وجزم الھیثمی فی المجمع ۵/ ۱۸۶ بارسالہ، وضعّفہ الذھبی فی جملۃ ما ضعّفہ من احادیث فضائل معاویۃ فی السیر ۳/ ۳۳۱، وذکر منھا ھذا الحدیث، اخرجہ ابویعلی: ۷۳۸۰، وابن بی شیبۃ: ۱۱/ ۱۴۷، والطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۸۵۰ (انظر: ۱۶۹۳۳)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف معلوم ہوتی ہے، لیکن درج ذیل حدیث ِ مبارکہ میں مسلمانوں کی جن دو جماعتوں کا ذکر ہے، ان میں سے ایک جماعت سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تھی اور ایک سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی، سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا معاویہ کے حق میں دستبرداری کا اعلان کر دیا تھا اور اس طرح سے امت ِ مسلمہ کا پھر ایک بار ایک حکمران پر اتفاق ہو گیا تھا۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا:: ((اِبْنِیْ ھٰذَا سَیِّدٌ وَلَعَلَّ اللّٰہُ اَنْ یُّصْلِحَ بِہٖ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔)) (صحیح بخاری: ۷۱۰۹ ) یہ میرا بیٹا سردار ہے، شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو جماعتوں کے مابین صلح کر وا دے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشین گوئی پوری ہوئی اور جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعد سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو مسلمانوں کا خلیفہ منتخب کیا گیا تو وہ چھ ماہ بعد اپنی خلافت سے مستعفی ہو گئے اور سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں دستبردار ہو گئے۔
12411
Sahih
باب دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب
۔ (۱۲۴۱۲)۔ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ السُّلَمِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وَہُوَ یَدْعُونَا إِلَی السَّحُورِ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ: ((ہَلُمُّوا إِلَی الْغَذَائِ الْمُبَارَکِ۔)) ثُمَّ سَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((اللَّہُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِیَۃَ الْکِتَابَ وَالْحِسَابَ وَقِہِ الْعَذَابَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۸۲)
سیدنا عرباض بن ساریہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا، آپ ہمیں ماہ رمضان میں سحری کی دعوت دیتے ہوئے فرمارہے تھے: تم بابرکت کھانے کی طرف آؤ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: یا اللہ! معاویہ کو کتاب اور حساب کا علم عطافرما اور اسے عذاب سے محفوظ رکھ۔
Takhreej
(۱۲۴۱۲) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، اخرجہ ابن خزیمۃ: ۱۹۳۸، والطبرانی فی الکبیر : ۱۸/ ۶۲۸، وحدیث السحور منہ أخرجہ النسائی: ۴/ ۱۴۵ (انظر: ۱۷۱۵۲)
12412
Sahih
باب دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب
۔ (۱۲۴۱۳)۔ وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ عُمَیْرَۃَ الْاَزْدِیِّ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗذَکَرَمُعَاوِیَۃَ وَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہٗھَادِیًا مَہْدِیًّا وَاھْدِ بِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۰۵۵)
سیدنا عبدالرحمن بن ابی عمیرہ ازدی سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: یا اللہ! اسے راہ نما اور ہدایت یافتہ بنادے اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت نصیب فرما۔
Takhreej
(۱۲۴۱۳) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، اخرجہ الترمذی: ۳۸۴۲(انظر: ۱۷۸۹۵)
Explanation
فوائد:… یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں دعائیں ہیں، جو یقینا مقبول ہوں گی۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ مُعَاوِیَۃَ لِیَکْتُبَ لَہٗ، قَالَ: إِنَّہٗ یَأْکُلُ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَیْہِ فَقَالَ: إِنَّہٗ یَأْکُلُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا أَشْبَعَ اللّٰہُ بَطْنَہٗ۔)) … رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کچھ لکھوانے کے لیے انہیں بلوا بھیجا۔ انہوں نے کہا وہ کھانا کھا رہے ہیں۔ پھر پیغام بھیجا۔ انہوں نے کہا: وہ کھانا کھا رہے ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کے پیٹ کو سیر نہ ہی کرے۔ (صحیح مسلم: ۸/ ۲۷) شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ رقمطراز ہیں: بعض فرقوں نے اس حدیث ِ مبارکہ سے ناحق فائدہ اٹھاتے ہوئے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر طعن کرنے کی کوشش کی ہے، حالانکہ یہ ان کی دلیل نہیں بن سکتی، (کیا ایسے لوگوں کو نظر نہیں آتا کہ) یہی سیدنا معاویہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کاتب بھی تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان کلمات سے مقصود بددعا نہیںہے، عرب لوگوں کی عادت تھی کہ وہ بغیر کسی قصد اور ارادے کے ایسے کلمات کہتے رہتے تھے، جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیوی کو کہا: بانجھ اور سرمنڈی ۔ اسی طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمانا: تیرا ہاتھ خاک آلود ہو، تیری عمر بڑی نہ ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ کلمات بشری تقاضوں کی وجہ سے صادر ہوئے ہوں، جیسا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود وضاحت کی ہے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس دو آدمی آئے، انھوں نے آپ سے کوئی بات کی، میں نہ سمجھ سکی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے میں آ گئے اور ان پر لعن طعن کیا۔ جب وہ چلے گئے تو میں نے (طنزیہ انداز میں) کہا: اے اللہ کے رسول! جو بھلائی ان بے چاروں کو ملی ہے، وہ تو کسی کے حق میں نہیں آئی ہو گی؟ آپ نے پوچھا: وہ کیسے؟ میں نے کہا: آپ نے ان پر لعن طعن اور سب و شتم کیا (یہ ان کی بد بختی ہے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اَوَمَا عَلِمْتِ مَاشَارَطْتُّ عَلَیْہِ رَبِّيْ؟ قُلْتُ اَللّٰھُمَّ! اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ، فَاَيُّ الْمُسْلِمِیْنَ لَعَنْتُہٗ اَوْ سَبَبْتُہٗ، فَاجْعَلْہُ لَہٗ زَکَاۃً وَاَجْرًا۔)) … کیا تجھے اس شرط کا علم نہیں، جو میں نے اپنے رب سے لگائی ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ! میں بشر ہوں، میں جس مسلمان پر لعن طعن کروں یا اسے گالی گلوچ کروں، تو تو اِس چیز کو اس کے حق میں باعثِ تزکیہ اور باعث اجر بنا دے۔ (صحیحہ:۸۳) امام مسلم نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کسی پر لعنت کریں یا کسی کو گالی اور بدعا دیں اور وہ اس کا اہل نہ ہو، تو یہ اس کے لیے تزکیہ، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی۔ پھر انھوں نے یہ حدیث بیان کی: سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کہ سیدنا ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، جو انس کی ماں تھیں، کے پاس ایک یتیم بچی تھی۔ (ایک دن)آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بچی کو دیکھا اور پوچھا: ((آنْتِ ھِیْہ؟ لَقَدْ کَبُرْتِ، لَا کَبُرَ سِنُّکِ۔)) تو یہاں ہے؟ تو تو بڑی ہو گئی ہے، تیری عمر نہ بڑھنے پائے۔ یہ سن کر یتیمہ روتی ہوئی أم سلیم کے پاس پہنچی۔ ام سلیم نے پوچھا: بیٹی! کیا ہوا؟ بچی نے جواب دیا: اللہ کے نبی نے مجھے بد دعا دی ہے کہ میری عمر نہ بڑھے یا میرا زمانہ طویل نہ ہونے پائے۔ ام سلیم نے جلدی جلدی چادر لپیٹی اور نکل پڑی، یہاں تک کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: ام سلیم! تجھے کیا ہوا؟ اس نے جواب دیا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ نے میری یتیمہ کو بد دعا دی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ کون سی (ذرا وضاحت کرو)؟ اس نے کہا: میری یتیمہ کہتی ہے کہ آپ نے اسے اس کی عمر بڑی نہ ہونے یا اس کا زمانہ طویل نہ ہونے کی بددعا دی ہے۔ (یہ سن کر) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرائے اور فرمایا: ((یَا أُمَّ سُلَیْمٍ! أَمَا تَعْلَمِیْنَ أَنَّ شَرْطِیْ عَلٰی رَبِّیْ أَنِّیْ اِشْتَرَطْتُّ عَلٰی رَبِّیْ فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَرْضٰی کَمَا یَرْضَی الْبَشَرُ، وَأَغْضَبُ کَمَا یَغْضَبُ الْبَشَرُ، فَأَیُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَیْہِ مِنْ أُمَّتِیْ بِدَعْوَۃٍ لَّیْسَ لَھَا بِأَھْلٍ، أَنْ یَّجْعَلَھَا لَہٗ طَھُوْرًا وَزَکَاۃً وَّقُرْبَۃً یُقَرِّبُہٗ بِھَا مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟۔)) ام سلیم! کیا تجھے علم نہیں ہے کہ میں نے اپنے ربّ سے شرط لگائی ہے کہ میں بشر ہوں، عام دوسرے انسانوں کی طرح خوش بھی ہوتا ہوں اور ناراض بھی۔ سو میں جس امتی پر ایسی بد دعا کر دوں جس کا وہ حقدار نہ ہو تو وہ (اللہ میرے امتی) کے حق میں اس بد دعا کو پاک کرنے والی، اس کا تزکیہ کرنے والی اور اسے روزِ قیامت اپنے قریب کر دینے والی بنا دے؟ (صحیحہ: ۸۴) پھر امام مسلم نے باب کے آخر میں سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ والی یہی حدیث ذکر کر کے یہ اشارہ دیا کہ جس طرح یتیمہ کے حق میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بد دعا باعث ِ تزکیہ و قربت ثابت ہوئی ، یہی معاملہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ ہو گا۔امام نووی نے شرح مسلم میں کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا معاویہ کو بددعا دینا، اس کے دو جواب ہو سکتے ہیں: ۱۔ یہ کلمات بغیر کسی قصد کے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان پر جاری ہو گئے۔ ۲۔ ان کی تاخیر کی وجہ سے یہ کلمات ان کو بطورِ سزا کہے گئے۔ امام مسلم یہ سمجھے کہ حقیقت میں سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس بددعا کے مستحق نہ تھے، اس لیے انھوںنے اس حدیث کو اس باب میں داخل کیا ہے اور دوسروں نے تو اس حدیث سے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت ثابت کی ہے، کیونکہ یہ ان کے حق میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا بن جائے گی۔ حافظ ذہبی نے (سیر اعلام النبلائ: ۹/ ۱۷۱/ ۲) میں اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ کہنا ممکن ہے کہ اس حدیث میں سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت اور فضیلت بیان کی گئی ہے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں جس پر لعنت کروں یا گالی دوں، تو اسے اس کے لیے تزکیہ و رحمت کا باعث بنا دے۔ (صحیحہ: ۸۲)
12413
Sahih
باب سوم: سیدنا معاویہ کے بعض حالات، خطبوں اور حج کا بیان
۔ (۱۲۴۱۴)۔ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ مُعَاوِیَۃَ دَخَلَ عَلٰی عَائِشَۃَ فَقَالَتْ لَہُ: أَمَا خِفْتَ أَنْ أُقْعِدَ لَکَ رَجُلًا فَیَقْتُلَکَ؟ فَقَالَ: مَا کُنْتِ لِتَفْعَلِیہِ وَأَنَا فِی بَیْتِ أَمَانٍ، وَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: یَعْنِی ((اَلْإِیمَانُ قَیْدُ الْفَتْکِ۔)) کَیْفَ أَنَا فِی الَّذِی بَیْنِی وَبَیْنَکِ وَفِی حَوَائِجِکِ؟ قَالَتْ: صَالِحٌ، قَالَ: فَدَعِینَا وَإِیَّاہُمْ حَتّٰی نَلْقٰی رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۵۷)
سعید بن مسیب ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مروی ہے کہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں تشریف لائے،سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان سے کہا: تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ میں کسی آدمی کوتمہاری تاک میں بٹھادوں جو تمہیں قتل کر دے؟ انھوں نے کہا: آپ ایسا کام نہیں کریں گی، کیونکہ میں حفظ وامان کے مرکز میں ہوں اور میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سن چکا ہوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ ایمان بے خبری میں کسی کو قتل کرنے سے روکتا ہے۔ میراآپ کے ساتھ اور آپ کی ضروریات کے بارے میں رویہ کیسا ہے؟ سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: جی ٹھیک ہے، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو پھر آپ میرے اور ان لوگوں کے معاملات کو رہنے دیں تاآنکہ ہم اللہ تعالیٰ سے جاملیں۔
Takhreej
(۱۲۴۱۴) تخریج: صحیح لغیرہ، اخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۷۲۳ (انظر: ۱۶۸۳۲)
12414
Sahih
باب سوم: سیدنا معاویہ کے بعض حالات، خطبوں اور حج کا بیان
۔ (۱۲۴۱۵)۔ حَدَّثَنِی أَبُو عَبْدِ رَبِّہِ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِیَۃَیَقُولُ: عَلٰی ہٰذَا الْمِنْبَرِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ مَا بَقِیَ مِنَ الدُّنْیَا بَلَائٌ وَفِتْنَۃٌ، وَإِنَّمَا مَثَلُ عَمَلِ أَحَدِکُمْ کَمَثَلِ الْوِعَائِ، إِذَا طَابَ أَعْلَاہُ طَابَ أَسْفَلُہُ، وَإِذَا خَبُثَ أَعْلَاہُ خَبُثَ أَسْفَلُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۷۸)
سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے منبر پر کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا کا جو حصہ اب باقی ہے، وہ محض مصائب اور فتنے ہیں اور تمہارے اعمال کی مثال برتن کی مانند ہے، اگر اس کا اوپر والا حصہ پاک ہو تو نیچے والا حصہ بھی پاک ہوگا اور اگر اوپر والا حصہ ناپاک ہو ا تو نیچے والا بھی ناپاک ہوگا۔
Takhreej
(۱۲۴۱۵) تخریج: اسنادہ حسن، اخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۸۶۶، وأخرجہ ابن ماجہ مختصرا: ۴۰۳۵ (انظر: ۱۶۸۵۳)
Explanation
فوائد:… تقریباً ساڑھے چودہ صدیاں پہلے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی کا نزول شروع ہوا تھا، اس وقت سے لے کر اب تک امت مسلمہ کا کثیر وقت مصیبتوں، آزمائشوں اور فتنوں میں گزرا، خوشحالی اور روحانی تسکین والے زمانے کی مقدار بہت کم رہی، موجودہ زمانہ بھی مسلمانوں کے حق میں کسی بار گراں سے کم نہیں ہے، بلکہ اب تو مسلمان کفر کو غالب اور اپنے اسلام کو مغلوب سمجھنے لگ گئے ہیں اور بعض ممالک کے باشندے دشمنوں کے ظلم و ستم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی آدمی کے نیک اعمال اس کے باطن کے اچھا ہونے پر دلالت کرتے ہیں، یہی معاملہ برے اعمال کا ہے۔ اس سے ان لوگوں کا ردّ ہوتا ہے، جو بعض برائیوں میں ملوث ہونے اور بعض فرائض سے پہلوتہی برتنے کے باوجود اس پراگندہ خیال کے دعویدار ہیں کہ نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تعلق تو دل سے ہے، بظاہر نہ بھی کی جائے تو خیر ہے۔ دراصل ایسے لوگوں کے دلوں میں کجی اور ٹیڑھ پن ہے اور یہ دعوی ان کی بد عملی کا بہانہ ہے۔
12415
Sahih
باب سوم: سیدنا معاویہ کے بعض حالات، خطبوں اور حج کا بیان
۔ (۱۲۴۱۶)۔ عَنْ أَبِی عَامِرٍ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ لُحَیٍّ قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّۃَ قَامَ حِینَ صَلّٰی صَلَاۃَ الظُّہْرِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ أَہْلَ الْکِتَابَیْنِ افْتَرَقُوا فِی دِینِہِمْ عَلٰی ثِنْتَیْنِ وَسَبْعِینَ مِلَّۃً، وَإِنَّ ہٰذِہِ الْأُمَّۃَ سَتَفْتَرِقُ عَلٰی ثَلَاثٍ وَسَبْعِینَ مِلَّۃً،یَعْنِی الْأَہْوَائَ کُلُّہَا فِی النَّارِ إِلَّا وَاحِدَۃً وَہِیَ الْجَمَاعَۃُ، وَإِنَّہُ سَیَخْرُجُ فِی أُمَّتِی أَقْوَامٌ تَجَارٰی بِہِمْ تِلْکَ الْأَہْوَائُ کَمَا یَتَجَارَی الْکَلَبُ بِصَاحِبِہِ، لَا یَبْقٰی مِنْہُ عِرْقٌ، وَلَا مَفْصِلٌ إِلَّا دَخَلَہُ وَاللّٰہِ۔)) یَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ! لَئِنْ لَمْ تَقُومُوا بِمَا جَائَ بِہِ نَبِیُّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَغَیْرُکُمْ مِنْ النَّاسِ أَحْرٰی أَنْ لَا یَقُومَ بِہِ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۶۱)
ابو عامر عبداللہ بن لحی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں حج کے لیے گئے، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نماز ظہر ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوئے اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ اہل کتاب اپنے دین کے متعلق بہتر گروہوں میں تقسیم ہوگئے تھے اور یہ امت تہتر گروہوں میں بٹ جائے گی،یعنی یہ لوگ اپنی خواہشات کی پیروی کریں گے، ایک گروہ کے سوا باقی تمام جہنم رسید ہوں گے، اور وہ ایک گروہ جماعت ہے اور میری امت میں ایسے ایسے بھی لوگ پیدا ہوں گے کہ ان کے اندر خواہشات یوں سرایت کر جائیں گے جیسے باؤلے کتے کے کاٹے کے اثرات مریض کے پورے جسم میں پھیل جاتے ہیں، اس کی کوئی رگ اور جوڑ اس کے اثر سے محفوظ نہیں رہتی۔)) اے عربو! اللہ کی قسم تمہارا نبی جو دین اور دعوت لے کر تمہارے پاس آیا ہے، اگر تم اس پر عمل نہ کرو گے تو دوسرے لوگ کہاں کریںگے۔
Takhreej
(۱۲۴۱۶) تخریج: اسنادہ حسن، اخرجہ ابوداود: ۴۵۹۷ (انظر: ۱۶۹۳۷)
Explanation
فوائد:… حدیث ِ مبارکہ کے پہلے حصے کی وضاحت کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۷۹۱)
12416
Sahih
ٔٔفصل: عہد خلافت ِمعاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک اہم واقعہ غزوۂ قسطنطنیہ ہے
۔ (۱۲۴۱۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بِشْرٍ الْخَثْعَمِیُّ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَتُفْتَحَنَّ الْقُسْطَنْطِینِیَّۃُ فَلَنِعْمَ الْأَمِیرُ أَمِیرُہَا، وَلَنِعْمَ الْجَیْشُ ذٰلِکَ الْجَیْشُ۔)) قَالَ: فَدَعَانِی مَسْلَمَۃُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ فَسَأَلَنِی فَحَدَّثْتُہُ فَغَزَا الْقُسْطَنْطِینِیَّۃَ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۶۵)
سیدنا بشر خثعمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قسطنطنیہ ضرور فتح ہوگا، تو اس کا امیر بہترین امیر ہو گا اور وہ لشکر بہترین لشکر ہوگا۔ وہ کہتے ہیں: مسلمہ بن عبدالملک نے مجھے بلو ا کر اس بارے میں پوچھاتو میں نے انہیں یہ حدیث بیان کی، سو وہ قسطنطنیہ پر حملہ آور ہوئے۔
Takhreej
(۱۲۴۱۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عبدا للہ بن بشر الخثعمی، اخرجہ البخاری فی التاریخ الکبیر : ۲/ ۸۱، والبزار: ۱۸۴۸، والحاکم: ۴/ ۴۲۱، والطبرانی فی الکبیر : ۱۲۱۶(انظر: ۱۸۹۵۷)
Explanation
فوائد:… اب قسطنطنیہ کا نام استنبول ہے اور اب یہ شہر ترکی میں واقع ہے۔ سیدنا امیر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے عہد میں قسطنطنیہ کی فتح کے لیے دو دفعہ بحری مہم بھیجی، لیکن کامیابی نہ ہو سکی، پھر ۹۸ سن ہجری میں عساکرِ اسلام نے ایک بار پھر قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا، لیکن ناساز گار موسمی اور نفت یونانی (دھماکہ خیز مواد) کے باعث شہر فتح نہ ہو سکا۔ سلطان محمد ثانی کی وفات کے بعد حکومت کی باگ ڈور اس کے تئیس سالہ بیٹے محمد ثانی کے ہاتھ آئی،یہ پہلا عثمانی سلطان تھا، جس نے فتح قسطنطنیہ کا عزم کیا اور اس کو فتح کیا۔ یہ ۸۵۷ھ کا واقعہ ہے ۔ قسطنطنیہ کے بارے میں ایک اور حدیث ِمبارکہ اور اس کی تفصیل کا بیان درج ذیل ہے: خالد بن معدان کہتے ہیں کہ عمیر بن اسود عنسی نے ان کو بیان کیا کہ وہ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے اوروہ اس وقت سیدہ ام حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سمیت حمص کے ساحل میں فروکش تھے۔ عمیر کہتے ہیں: ہمیں سیدہ ام حرام نے بیان کیا کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا: : ((اَوَّلُ جَیْشٍ مِنْ اُمَّتِي یَغْزُوْنَ الْبَحْرَ قَدْ اَوْجَبُوْا۔)) قَالَتْ: اُمُّ حَرَامٍ : قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَنَا فِیْھِمْ ؟ قَالَ: ((اَنْتِ فِیْھِمْ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((اَوَّلُ جَیْشٍ مِّنْ اُمَّتِي یَغْزُوْنَ مَدِیْنَۃَ قَیْصَرَ مَغْفُوْرٌ لَّھُمْ۔)) فَقُلْتُ: اَنَا فِیْھِمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لا۔)) … سمندری جہاد کرنے والامیری امت کا پہلا لشکر(اپنے حق میں جنت کو) واجب کر لے گا۔ سیدہ ام حرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! آیا میں بھی ان لوگوں میں ہوں گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو ان میں ہو گی۔ پھر فرمایا: قیصر کے شہر والوں سے جہاد کرنے والا میری امت کا پہلا لشکر بخشا ہوا ہو گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آیا میں ان میں ہوں گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ (صحیح بخاری) حافظ ابن حجر نے کہا کہ مہلب کہتے ہیں کہ اس حدیث میں سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کا بیان ہے، جنھوں نے سب سے پہلے بحری جہاد کیا، نیز اس میں ان کے بیٹے یزید کی بھی منقبت ہے جس نے ۵۲ ھ میں قیصر کے شہر پر سب سے پہلے چڑھائی کی، پھر ابن تین نے ان کا تعاقب کیا، جس کا خلاصہ یہ ہے: حدیث کے عموم میں داخل ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ کسی چیز کو خارج کرنے کے لیے خاص دلیل ضروری ہو، کیونکہ اہل علم کا اتفاق ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے الفاظ پہلا لشکر بخشا ہوا ہو گا کا تعلق اس شخص سے ہے، جس کی بخشش ممکن ہو، مثال کے طور پر اگر کوئی آدمی اس لشکر میں شرکت کرنے کے بعد مرتدّ ہو جاتا ہے تو وہ بالاتفاق اس حدیث کے اس عموم میں داخل نہیں ہو گا۔ پس معلوم ہوا کہ اس حدیث میں بخشش کی بشارت اسے سنائی جا رہی ہے، جس میں مغفرت کی شرط پائی جاتی ہو۔ لیکن ابن تین کا یہ کہنا کہ ممکن ہے کہ یزید لشکر میں موجود ہی نہ ہو، یہ قول مردود ہے، کیونکہ وہ بالاتفاق لشکر کا امیر تھا۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ ابن تین کی مرادیہ ہو کہ اس نے شرکت تو کی تھی، لیکن عملاً لڑا نہیں تھا۔ اس لشکر میں سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے اور اسی غزوے میں فوت ہو گئے تھے، انھوں نے وصیت کی تھی کہ ان کو قسطنطنیہ کے دروازے کے پاس دفن کیا جائے اور ان کی قبر کے آثار ختم کر دیے جائیں۔ پھر وہ فوت ہو گئے اور ان کی وصیت پر عمل کیا گیا۔ (فتح الباری: ۶/ ۱۲۷) امام ابن تیمیہ، حافظ ابن حجر، علامہ قسطلانی اور حافظ ابن کثیر رحمہم اللہ تعالیٰ جیسے ائمہ اسلاف نے یزید بن معاویہ کو ہی اس پہلے لشکر کا سالار قرار دیا، جس نے تاریخ اسلامی میں سب سے پہلے شہر قیصر (قسطنطنیہ) پر حملہ کیا تھا۔ لیکن ہم نے عصر حاضر کے ایک ڈاکٹر کا چھبیس صفحات پر مشتمل ایک مضمون پڑھا، جس میں کوشش یہ کی گئی کہ یزید بن معاویہ کو تین بڑے جرائم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی بخشش سے دور کر دینا چاہیے۔ ہم اس موقع پر یزید کی شخصیت کے اچھا یا برا ہونے کو موضوع بحث نہیں بنانا چاہتے۔ سوال یہ ہے کہ اگر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی لشکر کے مغفور ہونے کی پیشین گوئی کر دیں تو کیا اس لشکر میں شامل ہونے والوں کا معصوم اور پاکباز ہونا ضروری ہے، تاکہ وہ مغفرت ِ الہی کے حقدار ٹھہر سکیں، کیا اس لشکر میں شرکت کرنے والے کسی گنہگار شخص کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عام منادی اور خوشخبری سے مستثنی کر دیا جائے گا؟ یہ فیصلہ کون کرے گا کہ ایسے لشکر میں شرکت کرنے والے فلاں فلاں شخص کی بخشش ہو جائے گی، لیکن فلاں فلاں محروم رہے گا؟ ہم بات کو ایک اور مثال سے واضح کرتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ جو شخص وضو کرنے کے بعد اشھد ان لا الہ اللہ… والی دعا پڑھتا ہے، اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ غور فرمائیں اگر کوئی گنہگار شخص وضو کرنے کے بعد یہی دعا پڑھے تو کیا اسے یہ کہا جائے گا کہ تو اپنے گناہوں کی وجہ سے اس خوشخبری کا مصداق نہیں بن سکتا؟ دوسری قانونی بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو یہ نقطہ سمجھنا چاہیے تھا کہ فعل پر حکم لگانا اور بات ہے اور فاعل پر حکم لگانا اور بات ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ یہ کہنا تو ضروری ہے قیصر کے شہر پر چڑھائی کرنے والا پہلا لشکر مغفور ہے۔ لیکن اس سے یہ مفہوم کشید کرنا کسی طرح درست نہیں ہو گا کہ جو جو فرد اس میں شریک ہوا ،اس کی تمام خطائیں معاف ہو چکی ہیں اور وہ جنت کا حتمی وارث بن چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مطلق طور پر پورے لشکر کے بارے میں حسن ظن رکھا جائے گا اور ہر شخص کے بارے میں حتمی فیصلے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے گا، کیونکہ نیت کا حال اور عمل کی قبولیت کو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات جانتی ہے، جیسے یہ تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ جو شخص وضو کرنے کے بعد اشھد ان لا الہ اللہ… والی دعا پڑھتا ہے، اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ لیکن جو آدمی یہ عمل کرتا ہے، اس کو مخاطب کر کے یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ تیرے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھل چکے ہیں اور تو نے مرنے کے بعد جنت میں داخل ہو جانا ہے، بلکہ اس کے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے گا۔ ان گزارشات کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ ہم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حرمت کے قائل نہیں ہیں یا ہم اہل بیت کے حقوق کے بارے میں محتاط نہیں ہیں یا ہم یزید کے دور کی تمام کاروائیوں کو درست سمجھتے ہیں۔ ۲۰ رمضان سنہ ۴۰ہجری کو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خالق حقیقی کی طرف روانہ ہو گئے، ان کے بعد سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ چھ ماہ تک امت ِ مسلمہ کے فرمانروا رہے، اس نصف سال کے بعد وہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں مستعفی ہو گئے اور سن ۴۱ ہجری کے اوائل میں سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ امت ِ مسلمہ کے واحد حکمران بن گئے اور بیس سال تک حکمرانی کی اور سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بروز جمعرات ۲۲ رجب سن ۶۰ ہجری کو اس جہان فانی سے عالم جاودانی کی طرف رخصت ہوئے، آپ کی کل عمر ۷۰ برس تھی۔
12417
Zaeef

Chapters

113
01
(باب اول) اس امر کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی زندگی میں کسی کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں فرمایا
16 Hadith
02
فصل: نبوت، خلافت اورملوکیت کے مراحل پر مشتمل سیدنا حذافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ایک جامع حدیث
1 Hadith
03
فصل: قریشی خلفاء کی تعداد
5 Hadith
04
باب سوم: ہر امام، امیر اور لوگوں کے معاملات کا مسئول بننے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ رعایا کے امور میں عدل و انصاف سے کام لے اور ظلم و جور سے بچے، بیشک اس سے اس بارے میں پوچھ گچھ ہوگی
8 Hadith
05
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے پوچھ گچھ ہو گی کی وضاحت
5 Hadith
06
فصل: اس حکمران کی وعید کا بیان جو رعایاکے امور کے سامنے رکاوٹیں ڈالتا ہے
3 Hadith
07
فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
5 Hadith
08
باب چہارم: حکمرانی طلب کرنے سے ممانعت اور اس سے نفرت دلانے کا بیان
11 Hadith
09
فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
3 Hadith
10
فصل دوم: بے وقوفوں، نا اہل لوگوں کی حکومت کا بیان، ہم ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں
18 Hadith
11
فصل سوم: لڑکوں کی حکمرانی کا بیان
4 Hadith
12
فصل چہارم: خواتین کی حکومت و سربراہی کا بیان
5 Hadith
13
فصل اول: حکمرانوں کی اطاعت کے وجوب اور ان کی بغاوت نہ کرنے کا بیان
13 Hadith
14
فصل دوم: اللہ کی نافرمانی کی صورت میں کسی انسان کی اطاعت نہیں ہے
10 Hadith
15
فصل سوم: حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے کے وجوب اوران کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرتے رہنے کا بیان
4 Hadith
16
فصل چہارم: مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنے اور بادشاہ کا اکرام کرنے کا بیان
4 Hadith
17
فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان
11 Hadith
18
فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
9 Hadith
19
باب اول: ان احادیث کا بیان جن میں ان کی خلافت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
9 Hadith
20
باب دوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت اور واقعۂ سقیفہ کا بیان
5 Hadith
21
باب سوم: صدیق اکبر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دورخلافت میں واقع ہونے والے بعض واقعات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی میراث کے مطالبہ کرنے کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجنا
2 Hadith
22
فصل دوم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مرتدین سے قتال کا بیان
1 Hadith
23
فصل سوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلافت میں قرآن مجید کو یکجا جمع کرنے کا بیان
1 Hadith
24
باب چہارم: مناقب صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جو مناسب بیان ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے مزید مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت
4 Hadith
25
فصل دوم: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تواضع کا بیان
2 Hadith
26
سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ذہانت، فطانت، علم اور فضیلت کا بیان
1 Hadith
27
فصل سوم: سیدنا صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبوں کا بیان اسلام میں ان کے پہلے خطاب کا بیان
4 Hadith
28
باب ششم: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیماری، مرض الموت اور وفات کا بیان
3 Hadith
29
خلیفۂ دوم امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ متعلق ابواب باب اول: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں خلافت کا تقرر
1 Hadith
30
باب دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فضائل اور ان کا اپنے اسلاف کی اقتداء کرنا
5 Hadith
31
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنت میں سیدناعمر ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے جو کچھ دیکھا، اس کا اور ان کی غیرت کا بیان
7 Hadith
32
فصل سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے علم کی وسعت، قوتِ دین، ان کی نیکی اورزہد کا بیان
7 Hadith
33
فصل چہارم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حق کی موافقات یا آپ کا الہام والے لوگوں میں سے ہونا
5 Hadith
34
فصل پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ہیبت اور وقار کا بیان
4 Hadith
35
باب سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں، فیصلوں اور ان کے دور خلافت میں پیش آنے والے بعض واقعات کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں اور فیصلوں کا بیان
5 Hadith
36
فصلِ دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلا فت میں ۱۵ ھ ؁ میں ہونے والے واقعۂ یرموک کا بیان
1 Hadith
37
فصل: کسریٰ کے خزانوں کی فتح
1 Hadith
38
فصل سوم: بیت المقدس کی فتح ، جابیہ مقام پر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مشہور خطاب اور۱۶ھ میں خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امارت سے معزول کرنے کا بیان
2 Hadith
39
فصل چہارم: ۱۸ھ میں شام میں پڑنے والے طاعونِ عمواس کا تذکرہ
1 Hadith
40
فصل پنجم: ۱۹ھ میں سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سرز مین خیبر سے یہودیوں کو جلا وطن کرنا
1 Hadith
41
باب چہارم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبات رعایا کے مابین عدل کے بارے میں ان کا خطبہ
2 Hadith
42
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے خواب کے بارے خطبہ اور اپنی وفات کے قریب ہونے کی صورت میں اس کی تعبیر کرنا
1 Hadith
43
باب پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خواب کی تعبیر کا ثابت ہونا، عجمی کا ان پر حملہ کرنا، ان کی کچھ وصیتوں کا بیان، لوگوں کا ان کی تعریف کرنا اور ان کے پاس رونا اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کسی خلیفہ نامزد نہ کرنا
4 Hadith
44
باب ششم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات ، ان کی نمازجنازہ اور سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے ان کی مدح سرائی کا بیان
4 Hadith
45
تیسرے خلیفہ راشد امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلاف سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت و بیعت کا بیان
1 Hadith
46
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ کرنا
4 Hadith
47
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
8 Hadith
48
فصل دوم: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خاص طور پر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ جو رازدارانہ باتیں کیں، ان کا بیان
2 Hadith
49
فصل سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے شرم و حیا ء اور فرشتوں کا ان سے شرمانے کا بیان
5 Hadith
50
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی صفات اور ان کے بعض خطبوں کا بیان
5 Hadith
51
باب سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر بعض لوگوں کے اعتراضات اور ان کا دفاع
2 Hadith
52
فصل: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خلاف سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بد خواہی کے الزام کی براء ت
1 Hadith
53
باب چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کے دوران رونما ہونے والے بعض واقعات کا بیان جرعہ کے دن والا واقعہ
2 Hadith
54
سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ربذہ کی طرف شہربدری
2 Hadith
55
باب پنجم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا محاصرہ اور اس موقع پر ان کی طرف سے اور ان سے کی جانے والی گفتگو کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: محاصرہ کے دنوں میں بعض صحابہ کے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف میلان رکھنے کا بیان
3 Hadith
56
فصل دوم: سیدنا عثمان کا اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مطیع ہونا، ان کا لوگوں کے سامنے عذر خواہی کرنااور لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کرنا اور ان کے مناقب
4 Hadith
57
فصل سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ایک سوال کرنا اور ان کا ان کو ڈانٹنا
2 Hadith
58
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خواب اور اپنے قتل کے دن سے دوسروں کو مطلع کرنا اور شہادت کی تیاری اور صبر کا بیان
2 Hadith
59
فصل پنجم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تاریخ شہادت، ان کی جنازہ، دفن اور مدتِ خلافت کا بیان
7 Hadith
60
باب اول: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اس طرف اشارہ کرنا
5 Hadith
61
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
1 Hadith
62
فصل دوم: سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث
20 Hadith
63
فصل چہارم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں فرمانا: تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے، جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، …۔
4 Hadith
64
فصل پنجم: غزوۂ خیبر کے روز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جھنڈا دینے کے لیے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منتخب کرنا اور اس میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت او رنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا بیان
6 Hadith
65
فصل ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کا قاضی مقرر کرنا اور اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس امت محمدیہ میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ بردباری والے اور سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے
3 Hadith
66
فصل ہفتم: شیعہ لو گوں کاسیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے محبت کرنا اور خارجی لوگوں کا ان سے بغض رکھنا
2 Hadith
67
باب سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبات کا بیان
7 Hadith
68
فصل دوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بصرہ میں تشریف آوری اور لوگوں کو جنگ جمل کے لیے بلانا
5 Hadith
69
فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا عمار اور سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو اہل کوفہ کی طرف بھیجنا، تاکہ وہ ان سے لڑائی میں شریک ہونے کا مطالبہ کریں
4 Hadith
70
باب پنجم: جنگ صفین اور سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شجاعت کا بیان اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے بارے میں فرمانا کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا
7 Hadith
71
فصل دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں دو آدمیوں کا جھگڑا، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ اس نے سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کیا ہے
2 Hadith
72
فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لشکر کی صفین کے موقع پر کامیابی کے بعد ہز یمت کا سبب اور خوارج کاحضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خلاف خروج اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ان کو قتل کرنا
1 Hadith
73
باب ششم: واقعہ نہروان اور وہاں پر خوارج کا قتل نیز خوارج کی مذمت اور ان کو قتل کرنے کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: خوارج کی بنیاد کا بیان
7 Hadith
74
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
12 Hadith
75
فصل سوم: جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر خوارج کا فساد واضح ہوا تو ان کا نہروان میں خوارج سے قتال کے لیے اپنے لشکر کو لے جانا
8 Hadith
76
فصل چہارم: عبداللہ بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وہ مفصل حدیث جو انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو سنائی تھی، یہ حدیث خوارج کے تفصیلی واقعہ پر مشتمل ہے
1 Hadith
77
فصل: خوارج کے سروںکو مسجد دمشق کے دروازہ پر نصب کرنے کابیان
4 Hadith
78
باب ہفتم: سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور اس امر کا بیان کہ ان کے جسم کا کون سا حصہ زخمی ہوگا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی یہ بات اس واقعہ کے وقوع پذیر ہو نے سے پہلے بتلا دی تھی اور اس امرکا بیان کہ اس کے قاتل کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
4 Hadith
79
فصل: اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا
1 Hadith
80
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کے بعد سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خطبہ
2 Hadith
81
سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا فاطمہ زہرائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا امام حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
4 Hadith
82
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
5 Hadith
83
فصل دوم: اس امر کابیان ہے کہ سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشابہت رکھتے تھے
5 Hadith
84
باب سوم: ان مناقب کا بیان، جن میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما مشترک ہیں
4 Hadith
85
باب چہارم: سیدنا امام حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کاتذکرہ اور اس امر کابیان کے صادق وامین ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق ان کی وفات سے خلفائے راشدین کی مدت خلافت پوری ہوگئی
1 Hadith
86
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
1 Hadith
87
باب دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب
2 Hadith
88
باب سوم: سیدنا معاویہ کے بعض حالات، خطبوں اور حج کا بیان
3 Hadith
89
ٔٔفصل: عہد خلافت ِمعاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک اہم واقعہ غزوۂ قسطنطنیہ ہے
1 Hadith
90
یزید بن معاویہ کی خلافت اور ان کے عہد خلافت میں ہونے والے واقعات سے متعلقہ ابواب باب اول: یزید کی بیعت اور بعض لوگوںکی اس کی بیعت سے بے زاری اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیان
1 Hadith
91
باب دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غم کا بیان
3 Hadith
92
فصل دوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا قتل اور ان کے سر کے ساتھ ابن زیاد کا سلوک
1 Hadith
93
فصل سوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کے دن سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا خواب
1 Hadith
94
فصل چہارم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خبر شہادت کالوگوں تک پہنچنا، اہل عراق کے بارے میں لوگوں کی آراء اور تاریخ شہادت کا بیان
3 Hadith
95
فصل پنجم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان
1 Hadith
96
باب سوم: یزید بن معاویہ کے عہد میں وقوع پذیر ہونے والے ایک انتہائی المناک واقعہ حرہ کا بیان
3 Hadith
97
فصل: حرّہ میں لڑنے والے لشکر کو یزید کا مکہ کی طرف سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے روانہ کرنے اور جا کر کعبہ کو جلانے کا بیان
1 Hadith
98
باب چہارم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ اور ان کو زیر کرنے کے لیے یزید اور اس کے ساتھیوں کا اپنے لشکروں کو مکہ کی طرف روانہ کرنے کا بیان
1 Hadith
99
فصل: یزید بن معاویہ کی طر ف سے مدینہ کے حکمران عمرو بن سعید بن العاص اموی کا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے مکہ کی طرف لشکر بھیجنا اور ابو شریح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ صحابی کی اس کو نصیحت اور سعید کے انکار کا بیان
2 Hadith
100
فصل: بنوامیہ کے ایک ظالم حکمران کے متعلق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات
1 Hadith
101
فصل: عبید اللہ بن زیاد کا تذکرہ
1 Hadith
102
باب پنجم: یزید بن معاویہ کی وفات
1 Hadith
103
یزید بن معاویہ کی موت کے بعد سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کا بیان باب اول: سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت کا بیان
2 Hadith
104
باب دوم: ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اور تاریخ ولادت
5 Hadith
105
باب سوم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خواہش کے مطابق کعبہ کی تعمیر کرنا
4 Hadith
106
باب چہارم: سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا عبد الملک اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر کے مابین پیدا ہونے والے فتنے کو ناپسند کرنا
1 Hadith
107
مختار ثقفی کا ظہور
4 Hadith
108
باب پنجم: عبدالملک بن مروان کا حجاج بن یوسف کو مصعب بن زبیر سے لڑنے کے لیے عراق کی طرف روانہ کرنا
1 Hadith
109
باب ششم: اس امر کابیان کہ عراق میںمصعب کو قتل کرنے کے بعد عبدالملک نے حجاج کو سیدنا عبداللہ زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ روانہ کیا اور اس نے بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا
5 Hadith
110
امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز i کی خلافت کے ابواب باب اول: عمر بن عبد العزیز کے مناقب
3 Hadith
111
یزید بن عبدالملک کی خلافت یزید بن عبد الملک کی اطاعت سے یزید بن مہلب کا خروج
1 Hadith
112
ولید بن یزید بن عبدالملک کی خلافت
1 Hadith
113
حکومت عباسیہ کا آغاز اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس سے مطلع کرنا
2 Hadith
No chapter matched that.