۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے بنو قینقاع کے بازار کی طرف تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں چکر لگایا، اس کے بعد واپس آکر مسجد میں بیٹھ گئے اور فرمایا: چھوٹا کہاںہے؟ چھوٹو کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔ اتنے میں سیدنا حسن علیہ السلام آگئے اور دوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا منہ اس کے منہ کے ساتھ لگایا اور تین بار فرمایا: یا اللہ! مجھے اس سے محبت ہے، تو بھی اس سے اور اس سے محبت کرنے والوں سے محبت فرما۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں جب بھی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھتا ہوں تو میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی زبان کو یا ہونٹ کو چوس رہے تھے اور جس زبان یا ہونٹوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوما ہو، اسے عذاب نہیں ہوگا۔
عمیر بن اسحاق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا کہ ہم سے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آملے اور انہوں نے لپا: حسن! مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کے اس مقام کو بوسہ دوں، جس مقام پر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دیتے دیکھا ہے، پھر انہوں نے ان کی قمیص اوپر اٹھا کر ان کی ناف پر بوسہ دیا۔
Takhreej
(۱۲۴۰۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، تفرد بہ عمیر بن اسحاق مختلف فیہ، اخرجہ ابن حبان: ۵۵۹۳، والطبرانی: ۲۷۶۵، والحاکم: ۳/ ۱۶۸ (انظر: ۷۴۶۲)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے خواب میں مجھے دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ عاصم کہتے ہیں: میرے والد نے کہا:جب یہی حدیث سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ کو بیان کی تو میں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میںدیکھا ہے، انہوں نے پوچھا: کیا واقعی تم نے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں، اللہ کی قسم! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے اور میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کا نام لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے مشابہ تھے اور میں نے آپ کے چلنے کے انداز کا بھی ذکر کیا، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ ہیں۔
عقبہ بن حارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے چند راتوں بعد میں ایک دن عصر کی نماز کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ نکلا، ان کے پہلو میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی چلے آر ہے تھے، اتنے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزرے، وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنی گردن پر سوار کر لیا اور کہا: واہ! میرا باپ قربان ہو، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ ہے، یہ اپنے والد علی رضی اللہ عنہ سے مشابہت نہیں رکھتا۔ یہ بات سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسکرا دئیے۔
سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوںمیں سے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے زیادہ مشابہ تھے۔
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ،سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو پیار و محبت سے اچھالتیں تو کہا کرتی تھیں: میرا باپ قربان، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مشابہ نہیں ہے۔
Takhreej
(۱۲۴۰۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف زمعۃ بن صالح (انظر: ۲۶۴۲۲)
سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حسن رضی اللہ عنہ سینے سے سر تک اور حسین رضی اللہ عنہ سینے سے نیچے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔
Takhreej
(۱۲۴۰۵) تخریج: رجالہ ثقات رجال الشیخین غیر ھانیء بن ھانیئ، قال النسائی: لیس بہ بأس، وقال ابن المدینی: مجھول، وقال الشافعی: لایعرف، وقال الحافظ فی التقریب : مستور، وقال الالبانی: ھذا الحدیث ضعیف، اخرجہ الترمذی: ۳۷۷۹(انظر: ۷۷۴)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے،اس وقت آپ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو ایک کندھے پر اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو دوسرے کندھے پر اٹھایا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی اس کا بوسہ لیتے اور کبھی اُس کا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے چلتے ہمارے پاس آگئے، ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوان دونوں سے محبت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے ان دونوں سے محبت ہے،اسے مجھ سے محبت ہے اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ عشاء کی نماز ادا کررہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ میں جاتے تو سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ عشاء کی نماز ادا کررہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ میں جاتے تو سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حسن اور حسین رضی اللہ عنہما نوجوانانِ جنت کے سردار ہیں۔
یعلی عامری سے روایت ہے کہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دوڑتے ہوئے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونو ںکو اپنے ساتھ لگا لیا اور فرمایا: بے شک اولاد بخل اور بزدلی کا باعث بنتی ہے اور فتح مکہ کے بعد رحمان کی طرف سے مشرکین کی آخری گرفت غزوۂ طائف میں وادیٔ وج کے مقام پر ہوئی تھی۔
Takhreej
(۱۲۴۰۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ سعید بن ابی راشد، اخرجہ ابن ماجہ: ۳۶۶۶(انظر: ۱۷۵۶۲)
سیدنا مقدام بن معدی کرب اور سیدنا عمرو بن اسود معاویہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں گئے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے کہا: کیاآپ کو معلوم ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا ہے؟ یہ سن کر مقدام نے اِنَّا لِلّٰہِ وَِاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُون پڑھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ اس واقعہ کو مصیبت خیال کرتے ہیں؟ سیدنا مقدام نے کہا:میں اسے مصیبت کیوں نہ سمجھوں،جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنی گودمیں بٹھایا اور فرمایا تھا: یہ حسن میرا ہے اور حسین رضی اللہ عنہ ، علی رضی اللہ عنہ کا ہے۔
Takhreej
(۱۲۴۱۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، بقیۃ بن الولید مدلس ویسوِّی، وقد عنعن، اخرجہ ابوداود: ۴۱۳۱ (انظر: ۱۷۱۸۹)
Explanation
فوائد:… خلفائے راشدین کی مدت کے بارے میں درج ذیل حدیث اور بحث مفید رہے گی:
سیدنا سفینہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الْخِلَافَۃُ ثَلَاثُونَ عَامًا، ثُمَّ یَکُونُ بَعْدَ ذٰلِکَ الْمُلْکُ۔)) قَالَ سَفِینَۃُ: أَمْسِکْ خِلَافَۃَ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سَنَتَیْنِ، وَخِلَافَۃَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَشْرَ سِنِینَ، وَخِلَافَۃَ عُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اثْنَیْ عَشْرَ سَنَۃً، وَخِلَافَۃَ عَلِیٍّ سِتَّ سِنِینَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ۔ (ابوداود: ۴۶۴۷، واللفظ لاحمد) خلافت تیس برس تک رہے گی، بعد ازاں ملوکیت آجائے گی۔ سفینہ نے کہا، ذرا شمار کرو، دو سال سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت، دس سال سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت، بارہ سال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت اور چھ سال سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت تھی۔
خلفائے راشدین کے ادوار خلافت کی تفصیل یہ ہے:
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ : دو سال، تین ماہ، دس دن
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ : دس سال، چھ ماہ، آٹھ دن
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ : گیارہ سال، گیارہ ماہ، نو دن
سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ : چار سال، نو ماہ، سات دن
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ : چھ ماہ
سنن ابی داود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((خِلَافَۃُ النُّـبُوَّۃِ ثَـلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ یُؤْتِی اللّٰہُ الْمُلْکَ اَوْ مَلَّکَہُ مَنْ یَّشَائُ۔)) … تیس سال تک نبوت والی خلافت رہے گی، پھر اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا، اپنی بادشاہت عطا کر دے گا۔ ملا علی قاری نے کہا: اس حدیث کا یہ معنی معلوم ہوتا ہے کہ تیس سال تک خلافت ِ کاملہ جاری رہے گی، اس میں مخالفت کا اور حق سے دور ہونے کا عنصر نہیں ہو گا، لیکن اس کے بعد کبھی یہ وصف مثبت نظر آئے گا اور کبھی منفی۔ (مرقاۃ: ۹/ ۲۷۱)
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ بادشاہت فی نفسہ کوئی مذموم چیز نہیں ہے، کہ اس حدیث کا معنی یہ کیا جائے کہ تیس سالہ دورِ خلافت کے بعد والی امارت و ملوکیت پر طعن و تشنیع شروع کر دیا جائے۔ اسلام میں وہ بادشاہت مذموم ہے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام سے عملاً یا علماً اور عملاً ناآشنا ہو۔ ایسے بادشاہ کو امیر المومنین کا لقب دیا جائے یا خلیفۃ المسلمین کا، اس سے اس کی امارت یا خلافت کو کوئی سہارا نہیں ملے گا۔ اسلام میں القاب کا اعتبار نہیں ہے، عمل اور حقیقت کو معتبر سمجھا جاتا ہے۔ اگر کسی بادشاہ کا مقصد دین حق کی اشاعت اور اس کی سر بلندی، اسلامی تہذیب و تمدن کا نفاذ اور اس کا فروغ ہو، تو وہ قابل تعریف ہو گا، اگرچہ وہ باپ کے مر جانے کے بعد وراثۃً تخت نشین ہوا ہو۔ آج کل لوگوں نے نفس بادشاہت کو خلافت و نبوت کے منافی تصور کر رکھا ہے، جس کے لیے کوئی شرعی بنیاد نہیں۔ علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں: وہ بادشاہت، جو تصورِ خلافت کے منافی اور مخالف ہے، وہ جبروتیت (اور سرکشی) ہے، جسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس وقت کسریت سے تعبیر کیا تھا، جب اس کے کچھ ظاہری آثار سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ میں انہوں نے دیکھے۔ لیکن وہ بادشاہت جس میں قہر و غلبہ، عصبیت اور شکوہ نہ ہو، وہ خلافت کے منافی ہے نہ نبوت کے۔ سلیمان علیہ السلام اور داود علیہ السلام دونوں نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی تھے، لیکن اس کے باوجود وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور دنیوی امور میں راہِ مستقیم پر قائم رہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بادشاہت بھی ایسے ہی تھی، ان کا مقصد محض بادشاہت کا حصول یا دنیاوی عزّ و جاہ میں اضافہ نہ تھا۔ جب مسلمان اکثر حکومتوں پر غالب آ گئے تو طبعی عصبیت کی بنا پر ان کے دل میں یہ جذبہ پیدا ہوا، بہرحال وہ مسلمانوں کے خلیفہ تھے، انھوں نے مسلم قوم کی اسی طرح رہنمائی کی، جس طرح بادشاہ اپنی اقوام کی اس وقت کرتے ہیں، جب قومی عصبیت اور شاہی مزاج اس کا متقاضی ہوتا ہے۔
اسی طرح دیندار خلفاء کا حال ہے جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد ہوئے۔ انہیں بھی جب ضرورت لاحق ہوئی شاہانہ طور طریقے استعمال کیے۔ ان خلفاء کے حالات کا مطالعہ کرتے وقت اس بات کی ضرورت ہے کہ صرف صحیح روایات پر اعتماد کیا جائے نہ کہ کمزور روایات پر۔ جس خلیفہ کے افعال ٹھیک ہوں وہ خلیفہ ٔ رسول ہے اور جو اس معیار پر پورا نہ اترے وہ دنیا کے عام بادشاہوں کی طرح بادشاہ ہے، اگرچہ اس کو خلیفہ ہی کیوں نہ کہا جاتا ہو۔ (تاریخ ابن خلدون: ۲/ ۱۴۲)
حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں اصل مطاع اور قانون ساز اللہ تعالیٰ ہے، خلیفہ کا منصب نہ قانون سازی ہے اور نہ اس کی ہر بات واجب الاطاعت ہے، وہ اللہ کے حکم کا پابند اور اس کو نافذ کرنے والا ہے اور اس کی اطاعت بھی اسی شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ حکمرانی کا یہ تصور پہلے چار خلفاء کے دل و دماغ میں جس شدت کے ساتھ جاگزیں تھا، بعد میں یہ تصور بتدریج دھندلاتا چلا گیا، اسی کیفیت کو بادشاہت کے نام سے تعبیر کیا گیا، ورنہ فی الواقع بادشاہت اسلام میں مذموم نہیں ہے۔ سیدنا عمر بن عبد العزیز اصطلاحی طور پر بادشاہ ہی تھے، یعنی طریقہ ٔ ولی عہدی سے خلیفہ بنے تھے، لیکن اپنے طرزِ حکمرانی کی بنا پر اپنا نیک نام چھوڑ گئے۔ اسی طرح اسلامی تاریخ میں اور بھی متعدد بادشاہ ایسے گزرے ہیں، جن کے روشن کارناموں سے تاریخ اسلام کے اوراق مزین اور جن کی شخصتیں تمام مسلمانوں کی نظروںمیں محمود و مستحسن ہیں۔ اسی طرح سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بھی اگر کوئی شخص بادشاہ کہنے پر مصر ہے تو بصد شوق کہے۔ ان جیسا عادل، اللہ سے ڈرنے والا اور عظیم کارنامے سرانجام دینے والا بادشاہ دنیا کی پوری تاریخ پیش نہیں کر سکتی۔ لیکن اگر کوئی شخص اس نقطۂ نظر سے ان کو بادشاہ کہے کہ وہ اسلامی طرزِ حکومت سے دور ہٹ گئے تھے، ان کے دورِ حکومت کا نظام اسلامی نہیں تھا اور ان کو اخلاق و شریعت کی حدود پھاند جانے میںکوئی باک نہ تھا، جس طرح کہ مولانا مودودی نے خلافت و ملوکیت میں یہی کچھ باور کرانے کی کوشش کی ہے، تو یہ سراسر ظلم،ناانصافی، غیر متعدل طرزِ فکر اور یکسر امرِ واقعہ کے خلاف ہے۔ اس موضوع پر حافظ صلاح الدین یوسف کی کتاب خلافت و ملوکیت کی تاریخی و شرعی حیثیت کا مطالعہ بہت مفید رہے گا۔ ان شاء اللہ۔
ابو امیہ عمرو بن یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: میں نے اپنے دادا سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیمار پڑ گئے تھے اوران کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے وضو کا برتن سنبھال لیا اور وہ برتن لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہنے لگے، ایک دن وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کرا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دو دفعہ اپنا سرمبارک ان کی طرف اٹھایا اور فرمایا: معاویہ! گرتجھے حکومت ملے تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا اور عدل کا دامن تھامے رکھنا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بات کے پیش نظر مجھے یقین تھا کہ مجھے حکومت کے معاملے میں آزمایا جائے گا، بالآخر یہی ہوا۔
Takhreej
(۱۲۴۱۱) تخریج: رجالہ ثقات رجال الصحیح، غیر ان جد عمرو بن یحیی، وھو سعید بن عمرو، لم یتبین لنا سماعہ من معاویۃ، وجزم الھیثمی فی المجمع ۵/ ۱۸۶ بارسالہ، وضعّفہ الذھبی فی جملۃ ما ضعّفہ من احادیث فضائل معاویۃ فی السیر ۳/ ۳۳۱، وذکر منھا ھذا الحدیث، اخرجہ ابویعلی: ۷۳۸۰، وابن بی شیبۃ: ۱۱/ ۱۴۷، والطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۸۵۰ (انظر: ۱۶۹۳۳)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف معلوم ہوتی ہے، لیکن درج ذیل حدیث ِ مبارکہ میں مسلمانوں کی جن دو جماعتوں کا ذکر ہے، ان میں سے ایک جماعت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی تھی اور ایک سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ کے حق میں دستبرداری کا اعلان کر دیا تھا اور اس طرح سے امت ِ مسلمہ کا پھر ایک بار ایک حکمران پر اتفاق ہو گیا تھا۔
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا:: ((اِبْنِیْ ھٰذَا سَیِّدٌ وَلَعَلَّ اللّٰہُ اَنْ یُّصْلِحَ بِہٖ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔)) (صحیح بخاری: ۷۱۰۹ ) یہ میرا بیٹا سردار ہے، شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو جماعتوں کے مابین صلح کر وا دے۔
پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی پوری ہوئی اور جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کا خلیفہ منتخب کیا گیا تو وہ چھ ماہ بعد اپنی خلافت سے مستعفی ہو گئے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دستبردار ہو گئے۔
سیدنا عرباض بن ساریہ سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا، آپ ہمیں ماہ رمضان میں سحری کی دعوت دیتے ہوئے فرمارہے تھے: تم بابرکت کھانے کی طرف آؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: یا اللہ! معاویہ کو کتاب اور حساب کا علم عطافرما اور اسے عذاب سے محفوظ رکھ۔
سیدنا عبدالرحمن بن ابی عمیرہ ازدی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: یا اللہ! اسے راہ نما اور ہدایت یافتہ بنادے اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت نصیب فرما۔
فوائد:… یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دعائیں ہیں، جو یقینا مقبول ہوں گی۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بَعَثَ مُعَاوِیَۃَ لِیَکْتُبَ لَہٗ، قَالَ: إِنَّہٗ یَأْکُلُ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَیْہِ فَقَالَ: إِنَّہٗ یَأْکُلُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((لَا أَشْبَعَ اللّٰہُ بَطْنَہٗ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کچھ لکھوانے کے لیے انہیں بلوا بھیجا۔ انہوں نے کہا وہ کھانا کھا رہے ہیں۔ پھر پیغام بھیجا۔ انہوں نے کہا: وہ کھانا کھا رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کے پیٹ کو سیر نہ ہی کرے۔ (صحیح مسلم: ۸/ ۲۷)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: بعض فرقوں نے اس حدیث ِ مبارکہ سے ناحق فائدہ اٹھاتے ہوئے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرنے کی کوشش کی ہے، حالانکہ یہ ان کی دلیل نہیں بن سکتی، (کیا ایسے لوگوں کو نظر نہیں آتا کہ) یہی سیدنا معاویہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کاتب بھی تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان کلمات سے مقصود بددعا نہیںہے، عرب لوگوں کی عادت تھی کہ وہ بغیر کسی قصد اور ارادے کے ایسے کلمات کہتے رہتے تھے، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیوی کو کہا: بانجھ اور سرمنڈی ۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانا: تیرا ہاتھ خاک آلود ہو، تیری عمر بڑی نہ ہو۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ کلمات بشری تقاضوں کی وجہ سے صادر ہوئے ہوں، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود وضاحت کی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو آدمی آئے، انھوں نے آپ سے کوئی بات کی، میں نہ سمجھ سکی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے میں آ گئے اور ان پر لعن طعن کیا۔ جب وہ چلے گئے تو میں نے (طنزیہ انداز میں) کہا: اے اللہ کے رسول! جو بھلائی ان بے چاروں کو ملی ہے، وہ تو کسی کے حق میں نہیں آئی ہو گی؟ آپ نے پوچھا: وہ کیسے؟ میں نے کہا: آپ نے ان پر لعن طعن اور سب و شتم کیا (یہ ان کی بد بختی ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَوَمَا عَلِمْتِ مَاشَارَطْتُّ عَلَیْہِ رَبِّيْ؟ قُلْتُ اَللّٰھُمَّ! اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ، فَاَيُّ الْمُسْلِمِیْنَ لَعَنْتُہٗ اَوْ سَبَبْتُہٗ، فَاجْعَلْہُ لَہٗ زَکَاۃً وَاَجْرًا۔)) … کیا تجھے اس شرط کا علم نہیں، جو میں نے اپنے رب سے لگائی ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ! میں بشر ہوں، میں جس مسلمان پر لعن طعن کروں یا اسے گالی گلوچ کروں، تو تو اِس چیز کو اس کے حق میں باعثِ تزکیہ اور باعث اجر بنا دے۔ (صحیحہ:۸۳)
امام مسلم نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی پر لعنت کریں یا کسی کو گالی اور بدعا دیں اور وہ اس کا اہل نہ ہو، تو یہ اس کے لیے تزکیہ، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی۔
پھر انھوں نے یہ حدیث بیان کی: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کہ سیدنا ام سلیم رضی اللہ عنہا ، جو انس کی ماں تھیں، کے پاس ایک یتیم بچی تھی۔ (ایک دن)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچی کو دیکھا اور پوچھا: ((آنْتِ ھِیْہ؟ لَقَدْ کَبُرْتِ، لَا کَبُرَ سِنُّکِ۔)) تو یہاں ہے؟ تو تو بڑی ہو گئی ہے، تیری عمر نہ بڑھنے پائے۔ یہ سن کر یتیمہ روتی ہوئی أم سلیم کے پاس پہنچی۔ ام سلیم نے پوچھا: بیٹی! کیا ہوا؟ بچی نے جواب دیا: اللہ کے نبی نے مجھے بد دعا دی ہے کہ میری عمر نہ بڑھے یا میرا زمانہ طویل نہ ہونے پائے۔ ام سلیم نے جلدی جلدی چادر لپیٹی اور نکل پڑی، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ام سلیم! تجھے کیا ہوا؟ اس نے جواب دیا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ نے میری یتیمہ کو بد دعا دی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ کون سی (ذرا وضاحت کرو)؟ اس نے کہا: میری یتیمہ کہتی ہے کہ آپ نے اسے اس کی عمر بڑی نہ ہونے یا اس کا زمانہ طویل نہ ہونے کی بددعا دی ہے۔ (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ((یَا أُمَّ سُلَیْمٍ! أَمَا تَعْلَمِیْنَ أَنَّ شَرْطِیْ عَلٰی رَبِّیْ أَنِّیْ اِشْتَرَطْتُّ عَلٰی رَبِّیْ فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَرْضٰی کَمَا یَرْضَی الْبَشَرُ، وَأَغْضَبُ کَمَا یَغْضَبُ الْبَشَرُ، فَأَیُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَیْہِ مِنْ أُمَّتِیْ بِدَعْوَۃٍ لَّیْسَ لَھَا بِأَھْلٍ، أَنْ یَّجْعَلَھَا لَہٗ طَھُوْرًا وَزَکَاۃً وَّقُرْبَۃً یُقَرِّبُہٗ بِھَا مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟۔)) ام سلیم! کیا تجھے علم نہیں ہے کہ میں نے اپنے ربّ سے شرط لگائی ہے کہ میں بشر ہوں، عام دوسرے انسانوں کی طرح خوش بھی ہوتا ہوں اور ناراض بھی۔ سو میں جس امتی پر ایسی بد دعا کر دوں جس کا وہ حقدار نہ ہو تو وہ (اللہ میرے امتی) کے حق میں اس بد دعا کو پاک کرنے والی، اس کا تزکیہ کرنے والی اور اسے روزِ قیامت اپنے قریب کر دینے والی بنا دے؟ (صحیحہ: ۸۴)
پھر امام مسلم نے باب کے آخر میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ والی یہی حدیث ذکر کر کے یہ اشارہ دیا کہ جس طرح یتیمہ کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بد دعا باعث ِ تزکیہ و قربت ثابت ہوئی ، یہی معاملہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہو گا۔امام نووی نے شرح مسلم میں کہا:
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا معاویہ کو بددعا دینا، اس کے دو جواب ہو سکتے ہیں:
۱۔ یہ کلمات بغیر کسی قصد کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان پر جاری ہو گئے۔
۲۔ ان کی تاخیر کی وجہ سے یہ کلمات ان کو بطورِ سزا کہے گئے۔ امام مسلم یہ سمجھے کہ حقیقت میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس بددعا کے مستحق نہ تھے، اس لیے انھوںنے اس حدیث کو اس باب میں داخل کیا ہے اور دوسروں نے تو اس حدیث سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت کی ہے، کیونکہ یہ ان کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا بن جائے گی۔
حافظ ذہبی نے (سیر اعلام النبلائ: ۹/ ۱۷۱/ ۲) میں اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ کہنا ممکن ہے کہ اس حدیث میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی منقبت اور فضیلت بیان کی گئی ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں جس پر لعنت کروں یا گالی دوں، تو اسے اس کے لیے تزکیہ و رحمت کا باعث بنا دے۔ (صحیحہ: ۸۲)
سعید بن مسیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے،سیدہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ میں کسی آدمی کوتمہاری تاک میں بٹھادوں جو تمہیں قتل کر دے؟ انھوں نے کہا: آپ ایسا کام نہیں کریں گی، کیونکہ میں حفظ وامان کے مرکز میں ہوں اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن چکا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایمان بے خبری میں کسی کو قتل کرنے سے روکتا ہے۔ میراآپ کے ساتھ اور آپ کی ضروریات کے بارے میں رویہ کیسا ہے؟ سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جی ٹھیک ہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر آپ میرے اور ان لوگوں کے معاملات کو رہنے دیں تاآنکہ ہم اللہ تعالیٰ سے جاملیں۔
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے منبر پر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا کا جو حصہ اب باقی ہے، وہ محض مصائب اور فتنے ہیں اور تمہارے اعمال کی مثال برتن کی مانند ہے، اگر اس کا اوپر والا حصہ پاک ہو تو نیچے والا حصہ بھی پاک ہوگا اور اگر اوپر والا حصہ ناپاک ہو ا تو نیچے والا بھی ناپاک ہوگا۔
فوائد:… تقریباً ساڑھے چودہ صدیاں پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کا نزول شروع ہوا تھا، اس وقت سے لے کر اب تک امت مسلمہ کا کثیر وقت مصیبتوں، آزمائشوں اور فتنوں میں گزرا، خوشحالی اور روحانی تسکین والے زمانے کی مقدار بہت کم رہی، موجودہ زمانہ بھی مسلمانوں کے حق میں کسی بار گراں سے کم نہیں ہے، بلکہ اب تو مسلمان کفر کو غالب اور اپنے اسلام کو مغلوب سمجھنے لگ گئے ہیں اور بعض ممالک کے باشندے دشمنوں کے ظلم و ستم کی چکی میں پس رہے ہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی آدمی کے نیک اعمال اس کے باطن کے اچھا ہونے پر دلالت کرتے ہیں، یہی معاملہ برے اعمال کا ہے۔ اس سے ان لوگوں کا ردّ ہوتا ہے، جو بعض برائیوں میں ملوث ہونے اور بعض فرائض سے پہلوتہی برتنے کے باوجود اس پراگندہ خیال کے دعویدار ہیں کہ نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تعلق تو دل سے ہے، بظاہر نہ بھی کی جائے تو خیر ہے۔ دراصل ایسے لوگوں کے دلوں میں کجی اور ٹیڑھ پن ہے اور یہ دعوی ان کی بد عملی کا بہانہ ہے۔
ابو عامر عبداللہ بن لحی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی معیت میں حج کے لیے گئے، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نماز ظہر ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ اہل کتاب اپنے دین کے متعلق بہتر گروہوں میں تقسیم ہوگئے تھے اور یہ امت تہتر گروہوں میں بٹ جائے گی،یعنی یہ لوگ اپنی خواہشات کی پیروی کریں گے، ایک گروہ کے سوا باقی تمام جہنم رسید ہوں گے، اور وہ ایک گروہ جماعت ہے اور میری امت میں ایسے ایسے بھی لوگ پیدا ہوں گے کہ ان کے اندر خواہشات یوں سرایت کر جائیں گے جیسے باؤلے کتے کے کاٹے کے اثرات مریض کے پورے جسم میں پھیل جاتے ہیں، اس کی کوئی رگ اور جوڑ اس کے اثر سے محفوظ نہیں رہتی۔)) اے عربو! اللہ کی قسم تمہارا نبی جو دین اور دعوت لے کر تمہارے پاس آیا ہے، اگر تم اس پر عمل نہ کرو گے تو دوسرے لوگ کہاں کریںگے۔
سیدنا بشر خثعمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قسطنطنیہ ضرور فتح ہوگا، تو اس کا امیر بہترین امیر ہو گا اور وہ لشکر بہترین لشکر ہوگا۔ وہ کہتے ہیں: مسلمہ بن عبدالملک نے مجھے بلو ا کر اس بارے میں پوچھاتو میں نے انہیں یہ حدیث بیان کی، سو وہ قسطنطنیہ پر حملہ آور ہوئے۔
فوائد:… اب قسطنطنیہ کا نام استنبول ہے اور اب یہ شہر ترکی میں واقع ہے۔
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد میں قسطنطنیہ کی فتح کے لیے دو دفعہ بحری مہم بھیجی، لیکن کامیابی نہ ہو سکی، پھر ۹۸ سن ہجری میں عساکرِ اسلام نے ایک بار پھر قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا، لیکن ناساز گار موسمی اور نفت یونانی (دھماکہ خیز مواد) کے باعث شہر فتح نہ ہو سکا۔
سلطان محمد ثانی کی وفات کے بعد حکومت کی باگ ڈور اس کے تئیس سالہ بیٹے محمد ثانی کے ہاتھ آئی،یہ پہلا عثمانی سلطان تھا، جس نے فتح قسطنطنیہ کا عزم کیا اور اس کو فتح کیا۔ یہ ۸۵۷ھ کا واقعہ ہے ۔
قسطنطنیہ کے بارے میں ایک اور حدیث ِمبارکہ اور اس کی تفصیل کا بیان درج ذیل ہے:
خالد بن معدان کہتے ہیں کہ عمیر بن اسود عنسی نے ان کو بیان کیا کہ وہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اوروہ اس وقت سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہ سمیت حمص کے ساحل میں فروکش تھے۔ عمیر کہتے ہیں: ہمیں سیدہ ام حرام نے بیان کیا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: : ((اَوَّلُ جَیْشٍ مِنْ اُمَّتِي یَغْزُوْنَ الْبَحْرَ قَدْ اَوْجَبُوْا۔)) قَالَتْ: اُمُّ حَرَامٍ : قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَنَا فِیْھِمْ ؟ قَالَ: ((اَنْتِ فِیْھِمْ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((اَوَّلُ جَیْشٍ مِّنْ اُمَّتِي یَغْزُوْنَ مَدِیْنَۃَ قَیْصَرَ مَغْفُوْرٌ لَّھُمْ۔)) فَقُلْتُ: اَنَا فِیْھِمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لا۔)) … سمندری جہاد کرنے والامیری امت کا پہلا لشکر(اپنے حق میں جنت کو) واجب کر لے گا۔ سیدہ ام حرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! آیا میں بھی ان لوگوں میں ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ان میں ہو گی۔ پھر فرمایا: قیصر کے شہر والوں سے جہاد کرنے والا میری امت کا پہلا لشکر بخشا ہوا ہو گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آیا میں ان میں ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ (صحیح بخاری)
حافظ ابن حجر نے کہا کہ مہلب کہتے ہیں کہ اس حدیث میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی منقبت کا بیان ہے، جنھوں نے سب سے پہلے بحری جہاد کیا، نیز اس میں ان کے بیٹے یزید کی بھی منقبت ہے جس نے ۵۲ ھ میں قیصر کے شہر پر سب سے پہلے چڑھائی کی، پھر ابن تین نے ان کا تعاقب کیا، جس کا خلاصہ یہ ہے: حدیث کے عموم میں داخل ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ کسی چیز کو خارج کرنے کے لیے خاص دلیل ضروری ہو، کیونکہ اہل علم کا اتفاق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ پہلا لشکر بخشا ہوا ہو گا کا تعلق اس شخص سے ہے، جس کی بخشش ممکن ہو، مثال کے طور پر اگر کوئی آدمی اس لشکر میں شرکت کرنے کے بعد مرتدّ ہو جاتا ہے تو وہ بالاتفاق اس حدیث کے اس عموم میں داخل نہیں ہو گا۔ پس معلوم ہوا کہ اس حدیث میں بخشش کی بشارت اسے سنائی جا رہی ہے، جس میں مغفرت کی شرط پائی جاتی ہو۔
لیکن ابن تین کا یہ کہنا کہ ممکن ہے کہ یزید لشکر میں موجود ہی نہ ہو، یہ قول مردود ہے، کیونکہ وہ بالاتفاق لشکر کا امیر تھا۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ ابن تین کی مرادیہ ہو کہ اس نے شرکت تو کی تھی، لیکن عملاً لڑا نہیں تھا۔
اس لشکر میں سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے اور اسی غزوے میں فوت ہو گئے تھے، انھوں نے وصیت کی تھی کہ ان کو قسطنطنیہ کے دروازے کے پاس دفن کیا جائے اور ان کی قبر کے آثار ختم کر دیے جائیں۔ پھر وہ فوت ہو گئے اور ان کی وصیت پر عمل کیا گیا۔ (فتح الباری: ۶/ ۱۲۷)
امام ابن تیمیہ، حافظ ابن حجر، علامہ قسطلانی اور حافظ ابن کثیر رحمہم اللہ تعالیٰ جیسے ائمہ اسلاف نے یزید بن معاویہ کو ہی اس پہلے لشکر کا سالار قرار دیا، جس نے تاریخ اسلامی میں سب سے پہلے شہر قیصر (قسطنطنیہ) پر حملہ کیا تھا۔
لیکن ہم نے عصر حاضر کے ایک ڈاکٹر کا چھبیس صفحات پر مشتمل ایک مضمون پڑھا، جس میں کوشش یہ کی گئی کہ یزید بن معاویہ کو تین بڑے جرائم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی بخشش سے دور کر دینا چاہیے۔ ہم اس موقع پر یزید کی شخصیت کے اچھا یا برا ہونے کو موضوع بحث نہیں بنانا چاہتے۔ سوال یہ ہے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی لشکر کے مغفور ہونے کی پیشین گوئی کر دیں تو کیا اس لشکر میں شامل ہونے والوں کا معصوم اور پاکباز ہونا ضروری ہے، تاکہ وہ مغفرت ِ الہی کے حقدار ٹھہر سکیں، کیا اس لشکر میں شرکت کرنے والے کسی گنہگار شخص کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عام منادی اور خوشخبری سے مستثنی کر دیا جائے گا؟ یہ فیصلہ کون کرے گا کہ ایسے لشکر میں شرکت کرنے والے فلاں فلاں شخص کی بخشش ہو جائے گی، لیکن فلاں فلاں محروم رہے گا؟ ہم بات کو ایک اور مثال سے واضح کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص وضو کرنے کے بعد اشھد ان لا الہ اللہ… والی دعا پڑھتا ہے، اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ غور فرمائیں اگر کوئی گنہگار شخص وضو کرنے کے بعد یہی دعا پڑھے تو کیا اسے یہ کہا جائے گا کہ تو اپنے گناہوں کی وجہ سے اس خوشخبری کا مصداق نہیں بن سکتا؟
دوسری قانونی بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو یہ نقطہ سمجھنا چاہیے تھا کہ فعل پر حکم لگانا اور بات ہے اور فاعل پر حکم لگانا اور بات ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ یہ کہنا تو ضروری ہے قیصر کے شہر پر چڑھائی کرنے والا پہلا لشکر مغفور ہے۔ لیکن اس سے یہ مفہوم کشید کرنا کسی طرح درست نہیں ہو گا کہ جو جو فرد اس میں شریک ہوا ،اس کی تمام خطائیں معاف ہو چکی ہیں اور وہ جنت کا حتمی وارث بن چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مطلق طور پر پورے لشکر کے بارے میں حسن ظن رکھا جائے گا اور ہر شخص کے بارے میں حتمی فیصلے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے گا، کیونکہ نیت کا حال اور عمل کی قبولیت کو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات جانتی ہے، جیسے یہ تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص وضو کرنے کے بعد اشھد ان لا الہ اللہ… والی دعا پڑھتا ہے، اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ لیکن جو آدمی یہ عمل کرتا ہے، اس کو مخاطب کر کے یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ تیرے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھل چکے ہیں اور تو نے مرنے کے بعد جنت میں داخل ہو جانا ہے، بلکہ اس کے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے گا۔
ان گزارشات کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ ہم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حرمت کے قائل نہیں ہیں یا ہم اہل بیت کے حقوق کے بارے میں محتاط نہیں ہیں یا ہم یزید کے دور کی تمام کاروائیوں کو درست سمجھتے ہیں۔
۲۰ رمضان سنہ ۴۰ہجری کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ خالق حقیقی کی طرف روانہ ہو گئے، ان کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ چھ ماہ تک امت ِ مسلمہ کے فرمانروا رہے، اس نصف سال کے بعد وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں مستعفی ہو گئے اور سن ۴۱ ہجری کے اوائل میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ امت ِ مسلمہ کے واحد حکمران بن گئے اور بیس سال تک حکمرانی کی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بروز جمعرات ۲۲ رجب سن ۶۰ ہجری کو اس جہان فانی سے عالم جاودانی کی طرف رخصت ہوئے، آپ کی کل عمر ۷۰ برس تھی۔