باب اول: یزید کی بیعت اور بعض لوگوںکی اس کی بیعت سے بے زاری
اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان
کہا: ہم نے اللہ اوراس کے رسول کی خاطر اس یزید کی بیعت کی ہے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن چکا ہوں کہـ: بے وفا دھوکہ باز کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا او رکہاجائے گا کہ یہ فلاں کے دھوکہ کی علامت ہے۔ سب سے بڑا دھوکہ اور بے وفائی اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہی نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کوئی آدمی اللہ اور اس کے رسول کی خاطر کسی آدمی کی بیعت کرے اور پھر اس کو توڑڈالے، تم میں سے کوئی بھی یزید کا ساتھ نہ چھوڑے اور خلافت و امارت کے سلسلہ میں کسی بھی دوسری طرف نہ جھانکے، ورنہ اور اس کے میرے درمیان تلوار ہو گی (یعنی میں اس کے ساتھ سخت معاملہ کروں گا)۔
فوائد:… یزید کی بیعت سے دستبردار ہونے والے لوگوں سے مراد اہل مدینہ ہیں، پھر اسی کے نتیجے میں حرّہ کی جنگ پیش آ ئی تھی اور امت ِ مسلمہ کی تاریخ متأثر ہو گئی۔
عبداللہ بن نجی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ طہارت والے پانی کا برتن اٹھا کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہے تھے، جب وہ صفین کی طرف جاتے ہوئے نینوی مقام تک پہنچے، تو سیدنا علی نے آواز دی: ابو عبداللہ! ٹھہر جاؤ ، دریائے فرات کے کنارے ٹھہر جاؤ۔ میں نے کہا: ادھر کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، اس حال میں کہ آپ کی آنکھیں اشک بار تھیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کسی نے آپ کو غصہ دلایا ہے؟ آپ کی آنکھیں کیوں آنسو بہار ہی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ کی آمد سے قبل جبریل امین میرے پاس سے اٹھ کر گئے ہیں، انھوں نے مجھے خبر دی ہے کہ حسین کو دریائے فرات کے کنارے قتل کر دیا جائے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے کہا: میں آپ کو اس کی مٹی کی خوشبو سونگھاؤں؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ پس اس نے اپنا ہاتھ لمبا کیا، مٹی کی مٹھی بھری اور مجھے دے دی۔ میں اپنے آپ پر قابو نہ پا سکا اور رونے لگ گیا۔
Takhreej
(۱۲۴۱۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن نجی مختلف فیہ،وأبوہ نجی لم یرو عنہ غیر ابنہ، ولم یوثقہ غیر ابن حبان، وقال: لایعجبنی الاحتجاج بخبرہ اذا انفرد، اخرجہ النسائی: ۳/ ۱۲، والبزار: ۸۷۹، وابن خزیمۃ: ۹۰۲(انظر: ۶۴۸)
Explanation
فوائد:… سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّي رَاَیْتُ حُلْمًا مُنْکرًا اللَّیْلَۃَ۔ قاَلَ: ((وَمَا ھُوَ؟)) قَالَتْ: اِنَّہُ شَدِیْدٌ۔قاَلَ: ((وَمَا ھُوَ؟)) قَالَ: رَاَیْتُ کَاَنَّ قِطْعَۃً مِنْ جَسَدِکَ قُطِعْتْ وَوُضِعَتْ فِي حِجْرِيْ ۔ قَالَ: ((رَایَتِيْ خَیْرًا، تَلِدُ فَاطِمَۃُ اِنْ شَائَ اللّٰہُ غُلَاماً فَیَکُوْنُ فِي حِجْرِکِ۔)) فوَلَدَتْ فَاطِمَۃُ الْحُسَیْنَ، فَکَانَ فِي حِجْرِي کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَدَخَلْتُ یَوْمًا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَوَضَعْتُہُ فِي حِجْرِہِ، ثُمَّ حَانَتْ مِنِّي اِلْتِفَاتَۃٌ فَاِذَا عَیْنَا رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تُھْرِ یْقَانِ مِنَ الدُّمُوْعِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا نَبِيَّ اللّٰہِ! بِأَبِي اَنْتَ وَاُمِّيْ مَالَکَ؟ فَقَالَ: ((اَتَانِي جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ فَاَخْبَرَنِي اَنَّ اُمَّتِي سَتَقْتُلُ اِبْنِيْ ھٰذَا۔)) فَقُلْتُ: ھٰذَا؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ۔ وَاَتَانِي بِتُرْبَۃٍ مِنْ تُرْبَتِہٖ حَمْرَائَ۔)) … اے اللہ کے رسول! میں نے رات کو قبیح خواب دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: وہ بہت سخت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخر وہ ہے کیا؟ اس نے کہا: مجھے ایسے لگا کہ آپ کے جسم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر میری گود میں پھینکا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے تو عمدہ خواب دیکھا ہے، (اس کی تعبیر یہ ہے کہ) ان شاء اللہ میری بیٹی فاطمہ کا بچہ پیدا ہو گاجو تیری گود میں ہو گا۔ واقعی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بچہ حسین پیدا ہوا جو میری گود میں تھا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی اور حسین کو آپ کی گود میں رکھ دیا۔ جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہوئی تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ میں نے کہا:اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کو کیا ہو گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے بتلایا کہ میری امت میرے اس بیٹے کو قتل کر دے گی۔ میں نے کہا: یہ بیٹا (حسین)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، وہ میرے پاس اس علاقے کی سرخ مٹی بھی لائے ۔ (مستدرک حاکم: ۳/ ۱۷۶، صحیحہ: ۸۲۱)
آج کل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی نسبت سے جن امور کا ارتکاب کیا جا رہا ہے یا ان کو دین میں داخل کر دیا گیا ہے، ان احادیث ِ مبارکہ سے ان کا ردّ ہوتا ہے، کیونکہ جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے شہادت ِ حسین رضی اللہ عنہ کی ساری صورتحال واضح کر دی تھی، لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دین میں کسی نئے حکم کا اضافہ نہ کیا۔
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی میدانِ کربلا میںشہادت امت مسلمہ کے چہرے پر سیاہ دھبہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا جبریل علیہ السلام کے تعاون سے پہلے ہی پیشین گوئی فرما دی تھی۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: اِس قسم کی احادیث کربلا کے تقدس، اس زمین پر سجدہ کرنے اور اس کی مٹی کی بنائی گئی ٹکیہ پر سجدے کرنے کی فضیلت پر دلالت نہیں کرتیں، جیسا کہ شیعوں کا خیال ہے، اگر اس قسم کی ٹکی کی کوئی فضیلت ہوتی تو مسجد حرام اور مسجد نبوی کی مٹی سے بنائی جانی چاہیے تھی۔
اصل میں اس چیز کا تعلق شیعوں کی بدعت اور اہل بیت اور ان کے آثار کی تعظیم میں غلو سے ہے۔ بڑی عجیب و غریب بات ہے کہ اِن لوگوں کے ہاں عقل بھی مصادرِ شریعت میں سے ہے، اسی بنا پر وہ عقلی تحسین اور عقلی تقبیح کے قائل ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ کربلا کی زمین پر سجدہ کرنے کی فضیلت ایسی روایات سے ثابت کرتے ہیں، جو عقلی تقاضوں کے مطابق بالکل باطل ہیں۔ سید عبد الرضا مرعشی شہرساتی نے اپنے رسالے (ص ۱۵) میں السجود علی التربۃ الحسینیۃ کے عنوان میں لکھا:
کربلا کی مٹی کے شرف، تقدس اور وہاں مدفون ہستیوں کی طہارت کی وجہ سے اس پر سجدہ کرنا افضل ہے، عترتِ طاہرہ کے ائمہM سے مروی روایات اس پر دلالت کرتی ہیں، مثلا: اس (مٹی) پر کیے ہوئے سجدے ساتویں زمین تک نور پیدا کر دیتے ہیں۔ یہ سجدے ساتوں پردوں کو چاک کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس طرح اس مٹی پر سجدے کرنے والے کی نماز قبول کرتا ہے، اس طرح دوسروں کی نہیں کرتا۔ حسین کی قبر کی مٹی پر کیا گیا سجدہ زمینوں کو روشن کر دیتا ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: ان روایات کا باطل و مردود ہونا ظاہر ہے، اہل بیت کے ائمہ ایسی مرویات سے بری ہیں، ان کی سرے سے کوئی سند ہی نہیں ہے کہ محقق علم حدیث اور اصول حدیث کی روشنی میں ان کو پرکھ سکے، کوئی روایت مرسل ہے تو کوئی معضل۔
اسی شیعہ مصنف نے اپنی کتاب کے ورقوں کو کالا کرتے ہوئے مزید کہا: حسینی مٹی کی فضیلت و تقدس پر دلالت کرنے والی روایات صرف ائمۂ اہلِ بیت سے مروی نہیں ہیں، بلکہ دوسرے اسلامی فرقوں کی بنیادی کتابوں میں بڑی شہرت کے ساتھ ان کا تذکرہ ملتا ہے، ان کے علما اور رواۃ نے ان کو روایات کیا ہے، مثلا امام سیوطی نے اپنی کتاب (الخصائص الکبری) میں (باب اخبار النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقتل الحسین علیہ السلام ) میں امام حاکم، امام بیہقی، امام ابو نعیم اور امام طبری جیسے ثقات سے تقریباً بیس روایات بیان کی ہیں، اسی طرح امام ہیثمی کے (مجمع الزوائد: ۹/ ۱۹۱) میں بھی ان کا تذکرہ ملتا ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: اے مسلمان! تجھے علم ہونا چاہیے کہ امام سیوطی اور امام ہیثمی نے ایک حدیث بھی ایسی ذکر نہیں کی، جو حسینی مٹی کی فضیلت و تقدس پر دلالت کرے، اہل السنّہ کی روایت کردہ احادیث سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر دی تھی، جیسا کہ میں نے بھی اس صحیحہ میں چند روایات بیان کی ہیں۔
اس شیعے نے جن روایات کے بارے میں دعوی کیا ہے، کیا وہ سیوطی اور ہیثمی نے روایت کی ہیں؟
اے اللہ! ہرگز نہیں۔ در اصل یہ شیعہ اپنی ضلالت اور بدعت کی تائید میں رواں دواں تھا اور مکڑی کے جالے سے کمزور دلیل کا بھی سہارا لینے لگا۔
اس مرعشی شہرسانی شیعے نے اپنی کتاب کے قاریوں کو اتنا دھوکہ دینے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولنے کی جرأت بھی کرنے لگا، جیسا کہ وہ کہتا ہے:
جس نے سب سے پہلی مٹی سے بنی ہوئی تختی پر سجدہ کیا، وہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، یہ اس وقت کی بات ہے، جب ۳ ھ میں مسلمانوں اور قریشیوں میں احد والی جنگ لڑی گئی، جس میں رکنِ اسلام حمزہ بن عبد المطلب کی شہادت کا واقعہ پیش آیا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمان عورتوں کو حکم دیا کہ ہر محفلِ سوگ میں ان پر نوحہ کریں، پھر ان کی تکریم میں وسعت اختیار کی گئی اور لوگ ان کی قبر سے مٹی لے کر اس سے تبرک حاصل کرتے اور اس پر سجدہ کرتے اور اس سے سجدہ کی جگہیں بناتے، جیسا کہ(شیعوں کی کتاب) (الارض والتربۃ الحسینیۃ) میں ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: قارئینِ کرام! سوچیں، اس آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کیسا جھوٹ منسوب کیا اور یہ دعوی کر دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے سجدہ کرنے کے لیے ٹکی بنوائی تھی۔ پھر اس نے اپنے دعوی کی کوئی دلیل بھی پیش نہ کی۔ البتہ یہ جھوٹ پیش کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو سیدناحمزہ رضی اللہ عنہ پر نوحہ کرنے کا حکم دیا تھا، حالانکہ اس حکم کا مٹی والے مسئلہ سے کوئی ربط بھی نہیں ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو عورتوں سے نوحہ نہ کرنے کی بیعت لی تھی، جیسا کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں سیدہ عطیہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے ثابت ہوتا ہے۔
پھر تیسرا جھوٹ یہ پیش کر دیا کہ صحابہ کرام تبرک کے لیے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر سے مٹی اٹھا لیتے اور اس پر سجدہ کرتے تھے۔ یہ صحابہ کرام پر واضح جھوٹ ہے۔ وہ اس قسم کی بت پرستی سے کوسوں دور تھے۔ پھر یہ بیچارہ اپنے جھوٹوں کو مسلمانوں کے کسی معروف مصدر کی طرف منسوب بھی نہ کر سکا۔ البتہ (الارض والتربۃ الحسینیۃ) کا نام پیش کر دیا، جو ایک شیعی کی کتاب ہے۔ (صحیحہ: ۱۱۷۱) اس کے بعد مزید بحث صحیحہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بارش والے فرشتے نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہو نے کے لیے اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کی، اللہ نے اسے اجازت دے دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تم دروازے کے قریب رہنا اور کسی کو ہمارے پاس نہ آنے دینا۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے، وہ اندر آنے لگے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان کوروکا، مگر وہ چھلانک لگا کر اندر چلے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک اور کندھے پر بیٹھنے لگے، اس فرشتے نے کہا: کیاآپ کو اس سے محبت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اس فرشتے نے کہا: اس کو تو آپ کی امت قتل کر دے گی۔ آپ چاہیں تو میں آپ کو ان کی قتل گاہ دیکھا سکتا ہوں، اس نے اپنا ہاتھ مارا اور سرخ مٹی لے آیا، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وہ مٹی لے کر اپنے دوپٹے میں ڈال لی، ثابت کہتے ہیں: ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ ان کی قتل گاہ کربلا کی زمین ہے۔
Takhreej
(۱۲۴۲۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، تفرد بہ عمارۃ بن زاذان عن ثابت، وقد قال الامام احمد: یروی عن ثابت عن انس احادیث مناکیر، اخرجہ البزار: ۲۶۴۲، وابویعلی: ۳۴۰۲، وابن حبان: ۶۷۴۲، والطبرانی فی الکبیر : ۲۸۱۳ (انظر: ۱۳۵۳۹)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا یا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: میرے پاس گھر میں ایک فرشتہ آیا ہے، جو اس سے پہلے کبھی میرے پاس نہیں آیا تھا، اس نے بتلایاہے کہ آپ کا یہ بیٹا حسین قتل ہوگا، اگر آپ چاہیں تو آپ کو اس سرزمین کی مٹی دکھاؤں، جہاں یہ قتل ہوگا، پھر اس نے سرخ مٹی دکھائی۔
Takhreej
(۱۲۴۲۱) تخریج: حدیث حسن بطرقہ وشاھدہ، اخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۸۱۵، وابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۹۷ (انظر: ۲۶۵۲۴)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عبیداللہ بن زیاد کے پاس سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سرلایاگیا، وہ ایک تھال میں رکھا ہوا تھا، تو وہ اپنی لاٹھی سے مارنے لگا اور اس نے ان کے حسن کے بارے میں کچھ نازیبا الفاظ بھی کہے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب لوگوں سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے، ان کے بال وسمہ سے رنگین تھے۔
Takhreej
(۱۲۴۲۲) تخریج: اخرجہ البخاری: ۳۷۴۸ (انظر: ۱۳۷۴۸)
Explanation
فوائد:… حافظ ابن حجر نے کہا: اکثر اہل علم کے قول کے مطابق سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شعبان سن ۴ ہجری میں پیدا ہوئے اور یوم عاشورا یعنی ۱۰ محرم ۶۱ سن ہجری کو عراق کی سرزمین میں کربلا کے مقام پر شہید ہو گئے، حقیقت ِ حال یہ تھی کہ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے وفات پائی اور ان کے بعد یزید مسند خلافت پر متمکن ہوا تو اہل کوفہ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے خط و کتابت کی کہ وہ تو ان کی اطاعت کریں گے، نہ کہ یزید کی، پس سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کوفہ والوں کی طرف روانہ ہو گئے، لیکن ان سے پہلے عبید اللہ بن زیاد کوفہ پہنچ گیا اور اس نے اکثر لوگوں کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے دور کر دیا، بعض لوگ رغبت کی وجہ سے اور بعض ڈر کی وجہ سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑ گئے اور ابن زیاد نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے چچا زاد سیدنا مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو بھی قتل کر دیا، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے بیعت لینے کے لیے ان کو بھیجا تھا، پھر ابن زیاد نے ایک لشکر تیار کیا اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے جنگ شروع کر دی، یہاں تک کہ نواسۂ رسول اور ان کے اہل بیت کے کافی افراد شہید ہو گئے، یہ ایک مشہور واقعہ ہے، ہم اس کی طوالت میں نہیں پڑنا چاہتے۔ (فتح الباری: ۷/ ۹۶)
یہ ایک سیاہ دھبہ ہے، جس نے امت ِ مسلمہ کی تاریخ کو سیاہ کر دیا، خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نواسہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے ظلم کا لقمہ بن گیا۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دوپہر کے وقت خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے بال بکھرے ہوئے اور غبار آلود ہیں اور آپ کے ہاتھ میں ایک شیشی ہے جس میں خون تھا۔میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے، جسے میں آج جمع کر رہا ہوں۔ ہم نے اس دن کا حساب لگایا تو وہ وہی دن تھا، جس دن سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے۔
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ جب سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر آئی تو میں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو سنا کہ انہوں نے اہل عراق پر لعنت کی اور کہا: انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا ہے، اللہ ان لوگوں کو قتل کرے، اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے، انہوں نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا اور بے وفائی کی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا صبح سویرے ایک دیگچی لے کر آئیں، جس میںانہوں نے کھانا تیار کیا تھا اور اسے ایک تھا ل میں رکھا ہوا تھا،انہوں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاراچچازاد کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: وہ گھر پر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو اور دونوں بچوں کو بھی بلاؤ، وہ جا کر اپنے دونوں بچوں کو لے آئیں، دونوںکو ایک ایک ہاتھ میں پکڑ کر لا رہی تھیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے پیچھے تھے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچوں کو اپنی گود میں بٹھالیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ کی دائیں جانب اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب بیٹھ گئیں، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے نیچے سے خیبری چادر کھینچ لی، وہ مدینہ میں ہمارے بچھونے کی چادر تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ چادر ان سب کے اوپر ڈال دی اور اپنے بائیں ہاتھ سے چادر کی دونوں اطراف کو پکڑ کر دایاں ہاتھ اللہ کی طرف اٹھا کر فرمایا: یا اللہ یہ لوگ میرے اہل خانہ ہیں، ان سے پلیدی کو دور کر اور انہیں خوب پاک کردے۔ یہ دعا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ کی، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے اہل میں سے نہیں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تم بھی چادر کے اندر آجاؤ۔ جب میں چادر کے اندر داخل ہوئی تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چچا زاد سیدنا علی، اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کے بیٹوں کے حق میں دعا کر کے فارغ ہوچکے تھے۔
فوائد:… اس روایت کے بعض امور درج ذیل حدیث میں بیان کیے گئے ہیں:
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں: حَدَّثَنِی مَنْ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَۃَ، تَذْکُرُ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ فِی بَیْتِہَا فَأَتَتْہُ فَاطِمَۃُ بِبُرْمَۃٍ فِیہَا خَزِیرَۃٌ فَدَخَلَتْ بِہَا عَلَیْہِ فَقَالَ لَہَا: ((اُدْعِیْ زَوْجَکِ وَابْنَیْکِ۔)) قَالَتْ: فَجَائَ عَلِیٌّ وَالْحُسَیْنُ وَالْحَسَنُ فَدَخَلُوْا عَلَیْہِ فَجَلَسُوْا یَأْکُلُونَ مِنْ تِلْکَ الْخَزِیرَۃِ، وَہُوَ عَلٰی مَنَامَۃٍ لَہُ عَلٰی دُکَّانٍ تَحْتَہُ کِسَائٌ لَہُ خَیْبَرِیٌّ، قَالَتْ: وَأَنَا أُصَلِّی فِی الْحُجْرَۃِ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ہٰذِہِ الْآیَۃَ: {إِنَّمَا یُرِیدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا} [الأحزاب: ۳۳] قَالَتْ فَأَخَذَ فَضْلَ الْکِسَائِ فَغَشَّاہُمْ بِہِ ثُمَّ أَخْرَجَ یَدَہُ فَأَلْوٰی بِہَا إِلَی السَّمَائِ ثُمَّ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ ہٰؤُلَائِ أَہْلُ بَیْتِی وَخَاصَّتِی فَأَذْہِبْ عَنْہُمُ الرِّجْسَ وَطَہِّرْہُمْ تَطْہِیرًا، اَللّٰہُمَّ ہٰؤُلَائِ أَہْلُ بَیْتِی وَخَاصَّتِی فَأَذْہِبْ عَنْہُمُ الرِّجْسَ وَطَہِّرْہُمْ تَطْہِیرًا۔)) قَالَتْ: فَأَدْخَلْتُ رَأْسِی الْبَیْتَ فَقُلْتُ: وَأَنَا مَعَکُمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ إِنَّکِ إِلٰی خَیْرٍ إِنَّکِ إِلٰی خَیْرٍ۔))، قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ: وَحَدَّثَنِی أَبُو لَیْلٰی عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ مِثْلَ حَدِیثِ عَطَائٍ سَوَائً، قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ: وَحَدَّثَنِی دَاوُدُ بْنُ أَبِی عَوْفٍ أَبُو الْحَجَّافِ عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ بِمِثْلِہِ سَوَائً۔ … سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک ہنڈیا لے کرآئیں، جس میں گوشت سے تیار شدہ خریزہ تھا، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے خاوند اور اپنے دونوں بیٹوں کو بلا کر لاؤ۔ اتنے میںسیدنا علی، سیدنا حسن اور سیدنا حسین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اور وہ سارے خریزہ کھانے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دکان (اونچی سی جگہ) پر تھے، جو آپ کی خواب گاہ تھی، نیچے خیبر کی بنی ہوئی چادر بچھا رکھی تھی۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں حجرے میں نماز پڑھ رہی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت اتاری: {إِنَّمَا یُرِیدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا}… اللہ تعالیٰ تو صرف یہ ارادہ کرتا ہے کہ اے اہل بیت ! تم سے پلیدی دور کر دیں اور تمہیں مکمل طور پر پاک کر دیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زائد چادر کے حصہ کو لیا اور انہیں ڈھانپ لیا، پھر اپنا ہاتھ آسمان کی جانب بلند کیا اور فرمایا: اے میرے اللہ! یہ میرے گھر والے اور میرے خاص ہیں، ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں پاک کردے۔اے میرے اللہ! یہ میرے گھر والے اور میرے خاص ہیں، ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں پاک کردے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے اس چادر کے اندر اپنا سر داخل کیا اور کہا:اے اللہ کے رسول! میں بھی تمہارے ساتھ شامل ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تم خیر پر ہو، بلاشبہ تم خیر پر ہو۔ (مسند احمد: ۲۷۰۴۱)
شعبہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ کسی (عراقی آدمی) نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی احرام کی حالت میں مکھی مارڈالے تو اس کا کیا کفارہ ہے؟ انھوں نے کہا: اہل عراق مکھی مارنے کے متعلق دریافت کرتے ہیں، حالانکہ ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے کو قتل کر ڈالا ہے، جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ دونوں یعنی حسن و حسین دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔
Takhreej
(۱۲۴۲۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۷۵۳(انظر: ۵۵۶۸)
Explanation
فوائد:… ممکن ہے، بلکہ ایسے ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آدمی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کے جرم سے بری ہو گا، لیکن بعض اوقات کسی مجرم کے بڑے پن کو واضح کرنے کے لیے جرم کو پوری قوم کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔
نافع بن عمر جمحی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے عطاء بن ابی ملیکہ اور عکرمہ بن خالد کو دیکھا، انھوں نے نحر والے دن یعنی دس ذوالحجہ کو قبل از فجر رمی یعنی جمرے کو کنکریاں ماریں،میرے والد نے ان سے کہا: اے ابو سلیمان! آپ نے نافع بن عمر سے یہ حدیث کس سال سنی؟ انھوں نے کہا: حسین کی شہادت والے سال ۱۶۹ ہجری میں۔
Takhreej
(۱۲۴۲۶) تخریج: (انظر: ۲۰۲۸۱)
Explanation
فوائد:… لیکن یہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ نہیں ہیں، بلکہ حسین بن علی بن حسن بن سیدنا حسن بن سیدنا علی بن ابو طالب ہیں، یہ نیکی و تقوی، جو دو سخاوت اور ہمت و شجاعت والے آدمی تھے، یہ آٹھ ذوالحجہ ۱۶۹ہجری کو مکہ مکرمہ کے قریب فج وادی میں شہید کر دیئے گئے تھے۔
معلوم ہوا کہ اس روایت کا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ یوم عاشورا یعنی ۱۰ محرم ۶۱ سن ہجری کو عراق کی سرزمین میں کربلا کے مقام پر شہید ہوئے تھے۔
سیدنا یعلی عامری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانے کے لیے بلایا گیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے آگے آگے چل رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو پکڑنے کا ارادہ کیا تو وہ کبھی اِدھر اور کبھی اُدھر بھاگ جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کو ہنساتے رہے، بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو پکڑ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ ان کی گدی کے نیچے اور دوسرا ہاتھ ان کی تھوڑی کے نیچے رکھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا منہ ان کے منہ پر رکھ کر اسے بوسہ دیا اور فرمایا: حسین مجھ سے اور میں حسین سے ہوں، جو حسین سے محبت رکھے، اللہ اس سے محبت رکھے، حسین (خیر و بھلائی والی) امتوں میں سے ایک امت ہے۔
مولائے مہری ابو سعید سے روایت ہے کہ وہ واقعہ حرہ کے دوران سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور مدینہ منورہ سے باہر کسی دوسری جگہ جانے کی بابت ان سے مشورہ طلب کیا اور بطور شکوہ کہا کہ اس کے اہل و عیال بہت ہیں اور یہاں کافی مہنگائی ہے، اس لیے وہ یہاں کی مشقت کو برداشت نہیں کرسکتا، انہوں نے فرمایا: تجھ پر افسوس ہے،میں تمہیں اس بات کا مشورہ نہیں دے سکتا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو مسلمان مدینہ منورہ میں پیش آنے والی مشکلات و مصائب کو برداشت کرے اور اسی حال میں وفات پا جائے تو میں قیامت کے روز اس کے حق میں سفارشی ہوں گا، یا یوں فرمایا کہ اس کے حق میں گواہ ہوں گا۔
Takhreej
(۱۲۴۲۸) تخریج: اخرجہ مسلم: ۱۳۷۴(انظر: ۱۱۵۵۴)
Explanation
فوائد:… یزید کی بیعت سے دستبردار ہونے والے لوگ اہل مدینہ ہیں، پھر اسی کے نتیجے میں حرّہ کی جنگ پیش آ ئی تھی اور امت ِ مسلمہ کی تاریخ متأثر ہو گئی۔
جب یزید بن معاویہ کو اصل حالات کا علم ہوا تو اس نے مسلم بن عقبہ سے کہا: ایک ہزار چیدہ جنگ جو ہمراہ لے کر مدینہ پہنچو، لوگوں کو اطاعت کی طرف بلاؤ، اگر وہ اطاعت اختیار کر لیں تو بہتر ہے، ورنہ جنگ کر کے سب کو سیدھا کر دو، اس حکم سے تیسرے روز یہ فوج دمشق سے روانہ ہوئی، یزید نے رخصت کرتے وقت مسلم کو نصیحت کی جہاں تک ممکن ہو نرمی اور درگزر سے کام لینا، بصورت ِ دیگر کشت و خون اور قتل و غارت کی عام اجازت ہے۔
شامی لشکر مدینہ منورہ پہنچ گیا اور بیعت کی دعوت دی، مگر اہل مدینہ لڑائی پر آمادہ ہو گئے، آخر مسلم حرّ کی جانب سے مدینہ پر حملہ آور ہوا، اہل مدینہ نے بڑی بہادری سے مقابلہ کیا اور لشکر شام کا منہ پھیر پھیر دیا، لیکن مسلم بن عقبہ کی بہادری اور تجربہ کاری سے اہل مدینہ کو شکست ہوئی، بہت سے سرداران مدینہ جنگ میںکام آئے، کل ایک ہزار کے قریب آدمی مارے گئے، جن میںتین سو سے زائد شرفائے قریش و انصار شامل تھے، فتح مند فوج نے مدینہ میں داخل ہو کر تین دن تک تو قتل عام کیا، چوتھے دن بیعت کا حکم دیا گیا، جس نے مسلم کے ہاتھ پر بیعت کی، وہ بچ گیا اور جس نے بیعت سے انکار کیا، وہ قتل ہوا، یہ واقعہ ذوالحجہ سنہ ۶۳ ہجری میں پیش آیا۔
زید بن اسلم سے مروی ہے کہ فتنے والے امراء میں ایک امیر مدینہ منورہ آیا، ان دنوں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بینائی سے محروم ہو چکے تھے، کسی نے ان سے کہا: اگر آپ اس سے دور ہو جائیں (تو بہتر ہے)، پس وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چلتے ہوئے ایک طرف نکل گئے اور کہا: وہ آدمی تباہ و برباد ہو، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈرایا اور خوف زدہ کیا، ان کے دونوں بیٹوں نے یا ان میںسے کسی ایک نے کہا: اباجان! اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تو انتقال ہو چکا ہے، اس نے آپ کو کیسے خوف زدہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا، اس نے میرے دل کو خوف زدہ کیا۔
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کے ٹیلوں میں سے ایک ٹیلے کی طرف نظر ڈالی اور فرمایا: جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں، کیا تمہیں بھی دکھائی دے رہا ہے؟ میں فتنوں اور مصیبتوں کے مقامات دیکھ رہا ہوں۔
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن فرمایا: اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا، جب دین میں فساد پیدا ہو جائے گا، خیر کی بجائی شرّ کی رغبت پیدا ہو جائے گی، بھائیوں میں اختلاف پڑ جائے گا اور بیت اللہ کو جلا دیا جائے گا۔
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی حکومت مکہ معظمہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ہی سے قائم تھی اور انھوں نے یزید کے عہد ِ حکومت میں مکہ پر کبھی یزید کی حکومت قائم نہیں ہونے دی، یزید کے مرنے کے بعد انھوں نے لوگوں سے بیعت ِ خلافت کی اور بہت جلد شام کے بعض مقامات کے ساتھ تمام عالم اسلام میں وہ خلیفہ تسلیم کر لیے گئے۔
واقعہ حرّہ سے فارغ ہو کر مسلم بن عقبہ اپنی فوج کو لے کر سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے مقابلے کے لیے مکہ کی جانب روانہ ہوا، راستے میں بیمار پڑ گیا اور حصین بن نمیر کو اپنی جگہ سپہ سالار مقرر کر کے مقام ابواء پر خود مر گیا، مدینہ سے فرار ہونے والے لوگ بھی مکہ پہنچ گئے اور اس موقع پر خوارج نے بھی سیدنا عبد اللہ بن زبیر کی مدد کرنا مناسب سمجھی اور اہل حجاز نے اس سال حج کے موقع پر سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔
بہرحال لشکرِ شام تو مکہ کے قریب پہنچ گیا اور ۲۷ محرم ۶۴ سن ہجری کو لڑائی شروع ہو گئی اور ۳ ربیع الاول تک جاری رہی، اگرچہ فتح و شکست کا فیصلہ تو نہیں ہوا، لیکن شامی فوجوں نے منجنیق نصب کر کے خانہ کعبہ پر سنگ باری شروع کر دی، روئی اور گندھک اور رال کے گولے بنا بنا کر اور جلا جلا کر پھینکے، جس سے خانہ کعبہ کا تمام غلاف جل گیا اور دیواریں سیاہ ہو گئیں، پتھروں کے صدمہ سے خانہ کعبہ کی دیواریں شکستہ ہو گئیں اور چھت گر گئی۔ یہ یزید بن معاویہ کی خلافت کا ایک نہایت نا خوشگوار واقعہ تھا۔ تفصیل کے لیے کتب ِ تاریخ کا مطالعہ کریں۔
ابو ا شعت صنعانی سے مروی ہے ، انھوں نے کہا: یزید بن معاویہ نے ہمیں سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے مقابلہ کے لیے بھیجا، میں مدینہ منورہ پہنچا تو فلاں کے پاس حاضرہوا، زیاد نے اس کا نام بیان کیا تھا، اس نے کہا: لوگ جو کچھ کر رہے ہیں، آپ سب دیکھ رہے ہیں؟ ان حالات کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا: میرے خلیل ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے وصیت کی تھی کہ اگر تم ان فتنوں میں سے کسی فتنہ کو دیکھو تو اپنی تلوار کی دھار توڑ کر گھر کے اندر بیٹھ رہنا، اگر کوئی فتنہ باز شخص تمہارے گھر کے اندر گھس آئے تو تم کسی کوٹھڑی کے اندر چھپ جانا اور اگر کوئی تمہاری کو ٹھڑی میں آجائے تو تم اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جانا اور کہنا کہ تو میرے قتل کے گناہ اور اپنے گناہوں کے ساتھ واپس جا، تیرا نجام جہنم ہے اور ظالموں کا یہی بدلہ ہے، لہٰذا اے بھائی! میں تو اپنی تلوار کی دھار توڑ کر گھر کے اندر بیٹھا ہوں۔
ابوشریح خزاعی سے مروی ہے کہ جب عمرو بن سعید نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے مقابلہ کے لیے مکہ کی طرف لشکربھیجا تو ابو شریح رضی اللہ عنہ نے اس کے پاس آکر اس سے گفتگو کی اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو سنا تھا اسے وہ بتلایا، اس کے بعد وہ اپنی قوم میں آکر بیٹھ گئے، تو میں بھی اٹھ کر ان کے پاس جا بیٹھا، تو انہو ںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی جو بات عمرو بن سعید کو سنائی اور اس کے جواب میں عمرو بن سعید نے جو کچھ کہا، انہوں نے وہ ساری بات قوم کو سنائی،انہوں نے بتلایا کہ میں نے اس سے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مکہ فتح کیا تو دوسرے ہی دن بنو خزاعہ نے بنو ہذیل کے ایک آدمی پر حملہ کر کے اسے قتل کر ڈالا، مقتول مشرک تھا، ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ دور جاہلیت میں اس نے ان کے کسی آدمی کو مارا تھا، تو انہوں نے اس کا انتقام کے لیا، کیونکہ وہ مدت سے اسی تاک میں تھے تو اس واقعہ کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اللہ تعالیٰ نے جب سے آسمان اور زمین بنائے ہیں اس نے اسی دن سے مکہ کو حرمت والا قرا ردیا ہے، لہٰذ ا یہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے مطابق قیامت تک حرم ہی رہے گا، جس آدمی کا اللہ پر اور آخرت پر ایمان ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اس شہر میں کسی کا ناحق خون بہائے، وہ ان اس کے کسی درخت کو کاٹے مجھ سے پہلے اور میرے بعد اس میں لڑائی کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں اور اہل مکہ پر غضب کی وجہ سے مجھے بھی صرف اس تھوڑے سے وقت کے لیے اجازت دی گئی تھی، خبردار! اب دوبارہ اس کی حرمت اسی طرح ہے جیسے کل تھی، خبردار! تم میں سے جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ یہ بات ان لوگوں تک پہنچادیں جو یہاں موجود نہیں ہیں، اگر کوئی تم سے کہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو مکہ میں لڑائی لڑی ہے، توتم اس سے کہنا:کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لیے تو مکہ میں لڑائی کی اجازت دی تھی، اس نے تمہیں اس کی اجازت نہیں دی ہے، اے خزاعہ کے خاندان! تم قتل سے اپنے ہاتھوں کو روک لو، یہ کام بہت ہو چکا، تم ایک آدمی کو قتل کر چکے ہو، اس کی دیت یعنی خون بہا میں ادا کروں گا، اس وقت کے بعد جو آدمی مارا گیا تو اس کے ورثاء کو دو بہترین میں سے کسی ایک کا اختیار ہو گا، وہ چاہیں گے تو قاتل کو قتل کر یں گے اور اگر چاہیں گے تو خون بہا وصول کریں گے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کا خون بہا ادا کر دیا، جو بنو خزاعہ نے مارا تھا،یہ ساری حدیث سن کر عمرو بن سعید نے ابو شریح رضی اللہ عنہ سے کہا ارے بوڑھے! جا جا مکہ کی حرمت کو ہم تم سے بہتر جانتے ہیں، یہ حرمت ناحق خون بہانے والے اطاعت سے منہ موڑنے والے اور کسی مجرم کے لیے نہیں ہے، ابو شریح رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ عمرو کی یہ بات سن کر میں نے ان سے کہا: کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب یہ حدیث ارشاد فرمائی تھی، میں وہاں موجود تھا، تم نہیں تھے اور میں یہ حدیث تم تک پہنچا چکا کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا تھا کہ ہم سے جو بھی وہاں موجود ہے وہ یہ بات ان لوگوں تک پہنچادے جو وہاں ا س وقت موجود نہ تھے، میں یہ بات تم تک پہنچاچکا ہوں، اب تم جانو اور تمہارا کام۔ عبداللہ بن امام احمد کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث اپنے والد کی کتاب میں ان کے ہاتھ سے لکھی ہوئی پائی۔
۔ (دوسری سند) سعید مقبری سے روایت ہے کہ جب عمرو بن سعید مکہ کی طرف لشکر روانہ کر رہا تھا تو ابو شریح العدوی نے اس سے کہا: اے امیر! مجھے اجازت دیجئے کہ میں تمہیں وہ باتیں بیان کروں جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ سے اگلے دن اپنے خطبہ میں ارشاد فرمائی تھیں، جن کو میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے یاد رکھا، جب آپ نے یہ باتیں ارشاد فرمائیں تو میری آنکھیں آپ کو دیکھ رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرمت والا قرار دیا ہے، …۔ پھر سابقہ روایت کی طرح کی روایت ذکر کی۔
Takhreej
(۱۲۴۳۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… یزید بن معاویہ کی طرف سے مقرر کردہ والی ٔ مدینہ عمرو بن سعید بن عاص تھا، یہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے لڑنے کے لیے مکہ مکرمہ کہ طرف لشکر بھیج رہا تھا، اس دوران سیدنا ابو شریح عدوی رضی اللہ عنہ نے اپنی ذمہ داری ادا کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کی، جس کی روشنی میں عمرو بن سعید کی کاروائی صحیح نہیں تھی۔
حدیث کے آخر میں عمرو بن سعید، سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ وہ نافرمان ہے، وغیرہ وغیرہ، لیکن عمرو بن سعید کا یہ نظریہ درست نہیں ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس منبر پر فرماتے سنا ہے بنوامیہ کے ظالم حکمرانوں میں سے ایک ظالم کی نکسیر میرے منبر پر پھوٹے گی۔ علی بن زید کہتے ہیں: ایک آدمی، جس نے عمرو بن سعید کو دیکھا تھا، نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر پر عمرو بن سعید کی نکسیر پھوٹ پڑی تھی۔ علی بن زید سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ایک آدمی نے مجھے بیان کیا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنوامیہ کا ایک ظالم حکمران میرے اس منبرپر چڑھے گا۔
Takhreej
(۱۲۴۳۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان، ولابھام الراوی عن ابی ھریرۃ (انظر: ۱۰۷۶۴)
Explanation
فوائد:… درج ذیل دو احادیث پر غور کریں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنِّيْ رَاَیْتُ فِيْ مَنَامِيْ،کَأَنَّ بَنِيْ الْحَکَمِ بْنِ اَبِيْ الْعَاصِ یَنْزُوْنَ عَلٰی مِنْبَرِيْکَمَا تَنْزُوْ الْقِرَدَۃُ۔)) … میں نے خواب میں دیکھا کہ بنو حکم بن ابی عاص میرے منبر پر بندروں کی طرح کود رہے ہیں۔ یہ حدیث سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے اور سعید بن مسیب سے مرسلًا روایت کی گئی ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی حدیث میں مذکورہ بالا حدیث کے ساتھ یہ الفاظ بھی روایت کئے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی وفات تک پورے زور سے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ (ملاحظہ ہو: سلسلہ صحیحہ: ۳۹۴۰)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا بَلَغَ بَنُوْ أَبِیْ الْعَاصِ ثَلَاثِیْنَ رَجُلاً، اتَّخَذُوْا دِیْنَ اللّٰہِ دَخَلاً، وَعِبَادَاللّٰہِ خَوْلاً وَمَالَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ دُوْلاً۔)) … جب ابو عاص کے بیٹوں کی تعداد تیس مردوں تک پہنچے گی تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دین میں عیب و نقص نکالیں گے، اللہ کے بندوں کو غلام بنا لیں گے اور اللہ تعالیٰ کے مال کو آپس میں ہی ادل بدل کریں گے ۔ یہ حدیث سیدنا ابو ہریرہ، سیدنا ابو سعید خدری، سیدنا ابو ذر غفاری، سیدنا معاویہ بن سفیان
اور سیدنا عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے۔ (ملاحظہ ہو سلسلہ صحیحہ: ۷۴۴)
بنو ابی العاص سے مراد بنو امیہ ہیں، جن کے دور حکومت میں اس باب میں مذکورہ احادیث کا مصداق بننے والے خلفا موجود تھے۔
ابو عالیہ براء سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:عبداللہ بن زیاد نے نماز کو مؤخر کر دیا، عبداللہ بن صامت میرے پاس آئے، میں نے ان کے لیے کرسی بچھا دی، وہ اس پر تشریف فرما ہوئے تو میں نے ابن زیاد کے اس کام کا ان کے سامنے تذکرہ کردیا، تو وہ اپنے ہونٹ کاٹنے لگے اور میری ران پر ہاتھ مار کر کہا: جیسے تم نے مجھ سے یہ بات پوچھی ہے، اسی طرح میں نے بھی سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا: انہوں نے بھی میری ران پر اسی طرح ہاتھ مارا تھا، جیسے میں نے تمہاری ران پر ہاتھ مارا ہے، انہوںنے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری ران پر اسی طرح ہاتھ مارا، جیسے میں نے تیری ران پر مارا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم وقت پر نماز ادا کر لینا، اس کے بعد اگر ان کے ساتھ بھی نماز پڑھنے کا موقع مل جائے تو نماز پڑھ لینا اور یہ نہ کہنا کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے، اس لیے نہیں پڑھتا۔
جب یزید بن معاویہ کی وفات ہوئی توضحاک بن قیس نے قیس بن ہیثم کو خط لکھا، اس کا مضمون یہ تھا، تم پرسلامتی ہو، أَمَّا بَعْدُ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے اندھیری رات کے ٹکڑوں جیسے شدید اور خوفناک فتنے بپا ہوں گے اور کچھ فتنے دھوئیں کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے، تب لوگوں کے دل یوں مردہ ہوجائیںگے، جیسے بدن مردہ ہو جاتے ہیں،ایک آدمی ایمان کی حالت میں صبح کرے گا اور کفر کی حالت میں شام کرے گا اور ایک آدمی شام کو مومن اور صبح کو کافر ہوگا اور لوگ اپنے دین و اخلاق کو دنیا کے بدلے فروخت کرنے لگیں گے۔ یزید بن معاویہ فوت ہو چکا ہے اور تم ہمارے بھائی ہو، تم کسی معاملہ میں ہم سے سبقت نہ کرنا تاآنکہ ہم خود کسی بات کو اپنے لیے اختیار نہ کر لیں۔
Takhreej
(۱۲۴۳۷) تخریج: مرفوعہ صحیح لغیرہ دون قولہ: وفتنا کقطع الدخان یموت فیھا قلب الرجل کما یموت بدنہ وھذا اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان، اخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۸۱۳۵، والحاکم: ۳/ ۵۲۵ (انظر: ۰۰۰/۷۲ بعد ۲۴۰۰۹) طبرانی
Explanation
فوائد:… جب مکہ مکرمہ میں سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی مخالفت میں یزید بن معاویہ کے لشکر کی لڑائی جاری تھی اور بیت اللہ کی عمارت پر سنگ باری اور گولہ باری ہو رہی تھی، اسی اثناء میں یکم ربیع الاول سنہ ۶۴ ہجری کو مقام حوران میں تین سال اور آٹھ ماہ کی حکومت اور ۳۸ یا ۳۹ برس کی عمر میں یزید بن معاویہ کا انتقال ہو گیا۔