۔ (دوسری سند) ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اوراس نے آپ سے کسی چیز کا مطالبہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: تو میرے پاس دوبارہ آنا۔ اس نے کہا: اللہ کے رسول! اگر میںآؤں اور آ پ کو نہ پاؤں تو؟ وہ اشارۃً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کی بات کر رہی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: جب تم دوبارہ آؤ اور مجھے نہ پاؤ تو ابو بکر رضی اللہ عنہ سے مل لینا۔
سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بیماری کا غلبہ تھا تو میں چند مسلمانوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تھا، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز پڑھانے کی درخواست کی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کسی سے کہہ دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ سیدنا ابن زمعہ کہتے ہیں: میں گیا اور دیکھا کہ وہاں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود نہ تھے، البتہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ موجود تھے، میں نے جا کر کہا: اے عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، سو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے، چونکہ وہ بلند آواز والے آدمی تھے، اس لیے انہوں نے جب تکبیر کہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آواز سن لی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر کہاں ہیں؟ اللہ اور مسلمان اس کو نہیں مانیںگے، اللہ اور مسلمان تو اس کا انکار کریں گے۔ بہرحال وہ نماز تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھا دی۔ اس کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام بھیجا گیا، بعد میں انہوں نے لوگوں کو نماز یں پڑھائیں۔ سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: ابن زمعہ! تجھ پر بڑا افسوس ہے، تو نے میرے ساتھ کیا کیا؟ جب تم نے مجھے آکر نماز پڑھانے کا کہا تو میں یہی سمجھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں اسی چیز کا حکم دیا ہے، اگر میرے خیال میں یہ بات نہ ہوتی تو میں لوگوں کو نماز نہ پڑھاتا۔ سیدنا ابن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا تھا (کہ میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو کہوں اور آپ کو نہ کہوں)۔ لیکن جب مجھے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نظر نہ آئے تو میں نے موجودہ لوگوں میں سے آپ کو سب سے زیادہ مستحق سمجھاکہ آپ نماز پڑھائیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدید بیمار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم میرے پاس کندھے کی چوڑی ہڈی یا ایک تختی لے کر آؤ تاکہ میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کے حق میں ایک تحریر لکھ دوں، تاکہ اس پر اختلاف ہی واقع نہ ہو۔ جب عبدالرحمن اٹھ کر جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! اللہ ! مسند میں مذکور ایک راوی عبدالرحمن بن ابی بکر ضعیف ہیں ایک آدمی اس نام (عبدالرحمن بن ابی بکر) سے حدیث میں مذکور ہے یہ صحابی اور ابوبکر صدیق کے بیٹے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
اور اہل ایمان نے اس بات سے انکار کر دیا ہے کہ تجھ پر اختلاف کیا جائے۔
Takhreej
(۱۲۱۶۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد الرحمن بن ابی بکر،1 اخرجہ ابن ماجہ: ۱۶۲۷(انظر: ۲۴۱۹۹)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مرض الموت میں مبتلا تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ابو بکر اور ان کے بیٹے کو میرے پاس بلا کر لاؤ، تاکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے معاملے میں کوئی لالچی لالچ نہ کرے اور اس امر کی خواہش رکھنے والا اس چیز کی خواہش نہ کرے۔ آپ نے یہ کلمہ دو مرتبہ ارشاد فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں نے اس چیز کا انکار کر دیا ہے (ما سوائے ابو بکر کے)۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ نے اور مسلمانوں نے اس چیز کے لیے لوگوںکا انکار کر دیا ہے، ما سوائے میرے باپ کے اور پھر میرے باپ ہی خلیفہ بنے۔
فوائد:… اس موضوع سے متعلقہ صحیح روایت درج ذیل ہے:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْیَوْمِ الَّذِی بُدِئَ فِیہِ فَقُلْتُ: وَا رَأْسَاہْ، فَقَالَ: ((وَدِدْتُ أَنَّ ذٰلِکَ کَانَ وَأَنَا حَیٌّ، فَہَیَّأْتُکِ وَدَفَنْتُکِ۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ غَیْرٰی کَأَنِّی بِکَ فِی ذٰلِکَ الْیَوْمِ عَرُوسًا بِبَعْضِ نِسَائِکَ، قَالَ: ((وَأَنَا وَا رَأْسَاہْ ادْعُوا إِلَیَّ أَبَاکِ وَأَخَاکِ حَتّٰی أَکْتُبَ لِأَبِی بَکْرٍ کِتَابًا فَإِنِّی أَخَافُ أَنْ یَقُولَ قَائِلٌ وَیَتَمَنّٰی مُتَمَنٍّ أَنَا أَوْلٰی، وَیَأْبَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَکْرٍ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس اس دن تشریف لائے، جس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکلیف شروع ہوئی تھی، میں نے کہا: ہائے میرا سر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کاش تو اسی درد میں مبتلارہ کر فوت ہو جاتی، پھر میں تجھے تیار کرتا، (تیرے لیے دعائے مغفرت کرتا) اور تجھ کو دفن کرتا۔ میں نے غیرت میں آ کر کہا: گویا کہ میں محسوس کر رہی ہوں کہ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کسی بیوی کے ساتھ خلوت اختیار کیے ہوئے ہوں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ میں خود سر کی تکلیف کی وجہ سے کہتا ہوں: ہائے میرا سر! اپنے باپ اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ، تاکہ میں ابو بکر کے حق میں ایک تحریر لکھ دوں، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہنے والا کہے گا اور اس خلافت کی تمنا رکھنے والا یہ تمنا کرے گا کہ میں اس کا زیادہ مستحق ہوں، جبکہ اللہ تعالیٰ اور مؤمن انکار کرتے ہیں، ما سوائے ابو بکر کے۔ (صحیح بخاری: ۵۶۶۶، ۷۲۱۷، صحیح مسلم: ۲۳۸۷، واللفظ لاحمد)
یہ روایات اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفۂ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی ہیںاور عملا ایسے ہی ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد سقیفہ بنی ساعدہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ، ارباب ِ حل و عقد اور پھر تمام مسلمانوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی۔ جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا بین ثبوت ہے۔
اگر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کسی شرعی دلیل سے ثابت نہ بھی ہوتی تو ان کی خلافت کے بر حق ہونے کے لیے صحابہ کرام کا اجماع و اتفاق ہی کافی تھا۔ مزید دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۹۹۴)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں منبرِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک خطبہ دیا، اس میں آپ نے یہ بھی کہا تھا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے کوئی کہنے والا کہتا ہے کہ اگر عمر فوت ہوجائیں تو میں فلاں کی بیعت کروں گا اور کوئی آدمی یہ دھوکا نہ کھائے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت اچانک ہوئی تھی، خبردار! اگرچہ وہ اسی طرح ہی ہوئی تھی، لیکن خبردار! اللہ تعالیٰ نے اچانک ہونے والی بیعت کے شر سے محفوظ رکھا، آج تمہارے اندر ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسا ایک بھی آدمی نہیںہے، جسے دیکھنے کے لیے دور دراز کے سفر کیے جائیں، یا د رکھو جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب سے افضل تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ والے افراد دختر رسول سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلے گئے اور تمام انصار سقیفہ بنی ساعدہ میںجمع ہوگئے اور مہاجرین ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف روانہ ہوگئے، میں نے ان سے کہا: اے ابو بکر! آؤانصاری بھائیوں کی طرف چلیں، ہم ان کا قصد کر کے ان کی طرف روانہ ہو گئے، راستے میں ہمیں دو نیک آدمی ملے اور انہوں نے ہمیںلوگوں کے عمل سے مطلع کیا اور انہوں ے پوچھا: اے مہاجرین! تم کدھر جارہے ہو؟ میںنے کہا: ہم اپنے ان انصاری بھائیوں کے پاس جارہے ہیں۔ ان دونوں نے کہا: اے مہاجرین کی جماعت! اگر تم ان کے ہاں نہ جاؤ اور اپنا معاملہ خودہی حل کر لو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہوگا۔ لیکن میں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم ان کے پاس ضرور جائیں گے، پس ہم آگے چل دیئے، یہاں تک کہ ہم سقیفہ بنی ساعدہ میں ان کے پاس پہنچ گئے، وہ لوگ جمع تھے، ان کے درمیان سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ موجود تھے، میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں نے کہا: ان کو کیا ہوا ہے؟لوگوں نے بتلایا کہ یہ بیمار ہیں، جب ہم بیٹھ گئے تو ان کا ایک مقرر کھڑا ہوا، اس نے اللہ کی کما حقہ حمد و ثنا بیان کی، اس کے بعد اس نے کہا:ہم اللہ تعالیٰ کے انصار اور اسلامی لشکر ہیں اور اے مہاجرو! تم ہمارا ہی چھوٹا سا حصہ ہو، تم میں سے کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ہمیں ہمارے مقام سے نیچے گرادیں اور ہمیں حکمرانی سے محروم کردیں، جب وہ آدمی خاموش ہوا تو میرا (عمر) نے بھی ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں کچھ کہنے کا ارادہ کیا، میں ایک مقالہ یعنی تقریر تیار کر چکا تھا، وہ خود مجھے بھی خوب اچھی لگ رہی تھی، میں کسی حد تک ابو بکر رضی اللہ عنہ سے جھجکتا تھا، وہ مجھ سے زیادہ با حوصلہ اور باوقار تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: ذرا ٹھہر جاؤ، میں نے ان کو ناراض کرنا اچھا نہ سمجھا، جبکہ وہ مجھ سے زیادہ صاحب علم اور صاحب وقا رتھے، اللہ کی قسم! میں اپنی تیار کردہ تقریر میں جو کچھ کہنا چاہتا تھا، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فی البدیہ وہ سب کچھ کہہ دیا، یہاں تک کہ وہ خاموش ہوگئے، پھر انھوں نے کہا: اے انصار! تم نے جس فضلیت اور خوبی کا تذکرہ کیا ہے، تم واقعی اس کے اہل ہو، لیکن عرب لوگ خلافت کے فضلیت و شرف کا مستحق صرف قریش کو ہی سمجھتے ہیں، وہ اپنے نسب اور سکونت کے لحاظ سے تمام عرب سے اعلیٰ ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے میں (عمر) کااور سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور کہا:میں تمہارے لیے ان دو آدمیوں کا انتخاب کر رہا ہوں، تم ان میں سے جسے چاہو اپنا امیر مقرر کر لو، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جتنی باتیں کی تھیں، ان میں سے مجھے صرف یہی بات ناگوار گزری تھی، اللہ کی قسم! اگر مجھے آگے لایا جاتا اور میری گردن اڑادی جاتی اور کوئی سابھی گناہ مجھے اس مقام تک نہ لے جاتا، یہ مجھے اس سے زیادہ پسند تھا کہ میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہوتے ہوئے کسی قوم کا امیر بن جاؤں،انصار میں سے ایک کہنے والے نے کہا: میں وہ آدمی ہوں، جس سے اس معاملے کی شفا حاصل کی جا سکتی ہے اور میں ہی وہ شخص ہوں، جس کی طرف اس معاملے میں رجوع ہونا چاہیے، بس اے قریش کی جماعت! ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک تم میں سے۔ میں نے امام مالک سے کہا: مَا مَعْنٰی أَنَا جُذَیْلُہَا الْمُحَکَّکُ وَعُذَیْقُہَا الْمُرَجَّبُ کا کیا معنی ہے؟ انھوں نے کہا: شاید وہ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں ہی معاملہ فہم ہوں اور اس چیز کا شعور رکھتا ہوں۔ اس پر شور مچ گیا ور آوازیں بلند ہوگئیں، یہاں تک کہ مجھے لڑائی کا خدشہ ہو گیا، میں نے کہا: اے ابوبکر! آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں، انہوں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا،میں نے ان کی بیعت کرلی اور مہاجرین نے بھی ان کی بیعت شروع کر دی، اس کے بعد انصار نے بھی ان کی بیعت کرلی، بیچ میں ہم نے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے اوپر ہجو م کیا، ان میں سے ایک نے کہا: تم نے سعد کو قتل کر دیا ہے۔میںنے کہا: اللہ سعد کو قتل کرے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ہمیں جس قدر بھی امور پیش آئے، ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت سے بڑھ کر ہم نے کسی امر کو زیادہ قوی نہیں پایا، ہمیں اندیشہ تھا کہ اگر ہم لوگوں کو چھوڑ گئے او ربیعت نہ ہوئی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ کوئی اور بیعت کرلیں، تب یا تو ہم ان سے ایسے امر پر بیعت کریں گے، جو ہمیں پسند نہیں ہو گا، یا ہم ان کی مخالفت کریں گے تو فساد مچ جائے گا، جو آدمی مسلمانوں کے مشورے کے بغیر کسی امیر کی بیعت کر لے، اس کی بیعت کا کوئی اعتبار نہیں ہو گا، اسی طرح جس کے حق میں بیعت کی گئی ہو گی، وہ بھی غیر معتبر ہو گا، یہ دونوں بیعت کرنے والا اور بیعت لینے والا قتل کر دئیے جانے کے حقدار ہوں گے۔ امام مالک نے کہا: مجھے ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے بیان کیا کہ جو دو آدمی راستے میں ملے تھے وہ سیدہا عریمر بن ساعدہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا معمر بن عدی رضی اللہ عنہ تھے، ابن شہاب نے کہا: سعید بن مسیب نے مجھے بیان کیا کہ جس آدمی نے یہ بات کی تھی کہ میں وہ آدمی ہوں، جس سے اس معاملے کی شفا حاصل کی جا سکتی ہے اور میں ہی وہ شخص ہوں، جس کی طرف اس معاملے میں رجوع ہونا چاہیے۔ وہ سیدنا حباب بن منذر رضی اللہ عنہ تھے۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہو اتو انصار کے کچھ خطیب اورمقرر حضرات کھڑے ہوئے، ان میں سے بعض نے کہا: اے مہاجرین کی جماعت! اللہ کے رسول جب تم میں سے کسی کو عامل مقرر کرتے تو اس کے ساتھ ہم میں سے ایک آدمی کو بھی مقرر کرتے تھے، اس لیے ہماری رائے یہ ہے کہ دو آدمی حکمران ہوں، ایک تم میں سے اور ایک ہم میں سے۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:تمام انصاری مقررین نے یہی بات دہرائی، پھر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہاـ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہاجرین میں سے تھے، لہٰذا اـمام اور حاکم بھی مہاجرین میں سے ہوگا اور ہم اس کے اسی طرح انصار اورمعاون ہوں گے، جیسے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انصار تھے۔ یہ بات سن کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اٹھے اور انہوں نے کہا: اسے انصار کی جماعت! اللہ آپ کے قبیلے کو جزائے خیرے عطا فرمائے اور اس تجویز دینے والے کو ہمیشہ صراط مستقیم پر قائم رکھے۔ بعد ازاں کہا: اللہ کی قسم! اگر تم اس کے بر خلاف کچھ تجویز کرتے تو ہم تم سے اتفاق نہ کرتے۔
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے غزوۂ سلا سل کے دوران ساتھ رہنے والے رافع طائی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ان کی بیعت کے بارے میں کہی جانے والی باتوں کے بارے میں سوال کیا، پس انھوں نے وہ کچھ بیان کیا، جو انصار نے کہا، جو انھوں نے خود بیان کیا اور پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کے جواب میں جو کچھ کہا، سیدنا عمر نے بیچ میں یہ بات بھی ذکر کی کہ میں (ابوبکر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرض الموت کے دوران میں امامت کراتا رہا، پس پھر لوگوں نے میری بیعت کی اور میں نے ان سے ان کی بیعت قبول کی، لیکن مجھے ڈرتھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی ایسا فتنہ بپا ہو جائے کہ جس کے بعد لوگ دین سے مرتد ہونا شروع ہو جائیں۔
Takhreej
(۱۲۱۶۴) تخریج: اسنادہ جیّد (انظر: ۴۲)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس ڈر سے امامت و خلافت کا منصب قبول کر لیا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ امت کسی بڑے فتنے میں مبتلا ہو جائے۔ یہ سارے معاملات سوموار کے باقی دن میں طے ہو گئے تھے، دوسرے روز صبح مسجد میں تمام مہاجرین و انصار نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجہیز و تکفین سے پہلے یہ امور طے ہو گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجہیز و تکفین کاسلسلہ منگل کے دن شروع ہوا تھا۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو انصاریوں نے کہا:ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک تم مہاجرین میں سے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور کہا: اے انصار کی جماعت! کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا تھا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، ہم جانتے ہیں، پھر انھوں نے کہا: تو پھر تم میں سے کس میں حوصلہ ہے کہ وہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے آگے کھڑا ہو؟ انصار نے کہا: ہم اس بات سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں کہ ہم ابو بکر رضی اللہ عنہ سے آگے کھڑے ہوں۔
حمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو اس وقت سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے کسی نواحی علاقے میں تھے، پس وہ آئے اور آپ کے چہرۂ اقدس سے چادر ہٹائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دیا اور فرمایا: میرے والدین آپ پر فدا ہوں، آپ کس قدر پاکیزہ ہیں، زندہ ہوں یا میت، رب کعبہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پاگئے ہیں، پھر راوی نے حدیث ذکر کی، ایک اقتباس یہ تھا: پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ چلتے چلتے انصاری لوگوں کے پاس پہنچ گئے، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی اور انصار کے حق میں جو کچھ نازل ہوا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ ان کے بارے میں بیان فرمایا تھا، ان سب فضائل کا ذکر کیا اور ان میںسے کوئی بات بھی نہ چھوڑی، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہارے حق میں فرمایا تھا: اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسرے وادی میں چلیں تو میں انصار والی وادی میں چلو ں گا۔ اسے سعد! تم بھی موجود تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ قریش اس اقتدار کے حقدار اور اہل ہیں، نیک لوگ نیک قریشیوں کے تابع ہیں اور فاجر لوگ فاجر قریشیوں کے۔ یہ سن کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے درست کہا، امیر حکمران آپ ہوں گے اور ہم آپ کے وزیر ہوں گے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف یہ مطالبہ کرنے کے لیے پیغام بھیجا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مدینہ میں جو مال دیا، اور فدک اور خیبر کے خُمُس میں سے مجھے بطور وراثت میرا حصہ دیا جائے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: ہمارا چھوڑا ہوا مال بطور وراثت تقسیم نہیں ہوتا، بلکہ وہ اللہ کی راہ میں صدقہ ہوتا ہے، البتہ آل محمد اس مال میں سے کھاسکتے ہیں۔ اللہ کی قسم! یہ صدقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیا ت مباکہ میں جس طرز پرتھے، میں ان میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں لاؤں گا اور میں ان کو اسی طرح استعمال کروں گا، جس طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو کام میںلاتے تھے، غرضیکہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ان میں سے کوئی چیز دینے سے انکا کر دیا، اس وجہ سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ناراض ہوگئیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رشتہ دار اپنے رشتہ داروں سے بڑھ کر محبوب ہیں، مگر ان اموال کی وجہ سے میرے اور آپ کے درمیان جو صور ت حال پیدا ہوگئی ہے، میں نے اس میں حق و صداقت پر عمل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس میں جو کچھ کرتے دیکھا، میں نے اس میں سے کسی چیز کو ترک نہیں کیا، بلکہ میں نے ہر کام اسی طرح سرانجام دیا ہے، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا۔
فوائد:… سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس خاص دلیل تھی، جس کی روشنی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ترکہ صدقہ تصور کیا گیا، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل اس ترکے میں سے اپنی زندگی کا روزگار چلا سکتے ہیں، یعنی ان کو خورد و نوش کا خرچ دیا جائے گا، وارث نہیں بنایا جائے گا۔
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہو اتو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہاں پیغام بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وارث آپ ہیں یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کے افراد؟ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وارث میں نہیں ہوں، بلکہ آپ کے اہل خانہ ہی ہیں، سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ کہا ںہے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی نبی کو کوئی چیز عطا کرتا ہے اور اسکے بعد اپنے نبی کی روح کو قبض کر لیتا ہے تو وہ چیز اس کے خلیفہ کے کنٹرول میں آجاتی ہے۔ پس میں نے سوچا ہے کہ میں اسے مسلمانوں میں تقسیم کر دوں، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو پھر آپ ہی اس کو جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سنی ہے، بہتر جانتے ہیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں، جب تک وہ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُکا اقرار نہ کرلیں، پس جب وہ یہ کلمہ پڑھ کر اس کا اقرار کر لیں گے تو وہ اپنی جانیں اور اموال مجھ سے محفوظ کر لیں گے اور اس کے بعد ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہو گا۔ پس جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو کچھ لوگ اس قدر مرتد ہوگئے (کہ زکوۃ دینے سے انکار کر دیا)، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کرنے کا ارادہ کیا، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ان لوگوں سے قتال کیوں کریں گے، حالانکہ یہ نماز پڑھتے ہیں؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جو لوگ زکوٰۃ دینے سے انکاری ہیں، میں ضرور ضرور ان سے قتال کروں گا۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ اور اس کے رسول نے ان پر بھیڑ یا بکری کا ایک بچہ بھی بطور زکوٰۃ فرض کی ہے اور اگر یہ لوگ اسے ادا نہیں کریں گے تو میں ان سے قتال کروں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب میں نے دیکھا کہ اللہ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کا سینہ ان لوگوں سے قتال کرنے کے لیے کھول دیا ہے تو میں جان گیا کہ یہی بات حق ہے۔
فوائد:… مدعیان نبوت اور مرتدین کے علاوہ ایک تیسرا گراہ منکرین زکوۃ کا تھا، چونکہ یہ گروہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا تھا اور صرف زکوۃ ادا کرنے سے منکر تھا، اس لیے اس کے خلاف تلوار اٹھانے کے متعلق خود صحابہ میں اختلاف رائے ہوا، لیکن خلیفۂ اول کا غیر متزلزل ارادہ و استقلال اختلاف رائے سے مطلق طور پر متأثر نہ ہوا، بالآخر ان کے دلائل غالب آگئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جیسے بزرگوں نے ان کی رائے کے برحق ہونے کو تسلیم کر لیا۔
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یمامہ کی لڑائی کے متعلق میری طرف پیغام بھیجا، جس میں بہت سے مسلمان شہید ہوگئے تھے، اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس موجود تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ عمر رضی اللہ عنہ میرے پا س آئے ہیں اور انہو ں نے بتلایا کہ یمامہ میں شدید لڑائی ہوئی اور بہت سے مسلمان قرائِ کرام شہید ہوگئے ہیں، مجھے خدشہ ہے کہ اگر جنگوںمیں اسی طرح قراء شہید ہوتے رہے تو قرآن کریم کا بڑا حصہ ضائع ہو جائے گا، جسے محفوظ نہیں کیا گیا ہوگا۔ میر اخیا ل ہے کہ آپ قرآن کریم کو یکجا جمع کرنے کا حکم صادر فرمائیں، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: جو کام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا، وہ میں کیونکر کروں؟ انہو ںنے کہا: اللہ کی قسم!یہ کام بہتر ہے، وہ میرے ساتھ اس بارے میں اصرار کرتے رہے تاآنکہ اللہ نے اس کا م کے لیے میرا سینہ کھول دیا اور میر ی رائے بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے موافق ہوگئی۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی وہاں تشریف فرما تھے، مگر انہوں نے کوئی بات نہ کی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: زید! تم ایک سمجھدار نوجوان ہو، ہم کسی مسئلے میں تم پر کوئی الزام نہیں لگاتے، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے وحی لکھا کرتے تھے، اب تم ہی اسے ایک جگہ جمع کرو۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اگر وہ مجھے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم دیتے تو وہ میرے لیے اس قدر گراں نہ ہوتا، جتنا میرے لیے قرآن مجید کو یکجا جمع کرنے کا حکم گراں گزرا ہے۔ میں نے بھی ان سے کہا تھا کہ تم لوگ وہ کام کیوں کرتے ہو، جو رسول الہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا؟
فوائد:… اس سے آگے صحیح بخاری کی روایت میں یہ تفصیل ہے:
قَالَ: ہُوَ وَاللّٰہِ خَیْرٌ فَلَمْ یَزَلْ أَبُو بَکْرٍ یُرَاجِعُنِی حَتّٰی شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرِی لِلَّذِی شَرَحَ لَہُ صَدْرَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُہُ مِنَ الْعُسُبِ وَاللِّخَافِ وَصُدُورِ الرِّجَالِ حَتّٰی وَجَدْتُ آخِرَ سُورَۃِ التَّوْبَۃِ مَعَ أَبِی خُزَیْمَۃَ الْأَنْصَارِیِّ لَمْ أَجِدْہَا مَعَ أَحَدٍ غَیْرِہِ {لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ عَزِیزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ} حَتّٰی خَاتِمَۃِ بَرَاء ۃٍ فَکَانَتْ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِی بَکْرٍ حَتّٰی تَوَفَّاہُ اللّٰہُ ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَیَاتَہُ ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَۃَ بِنْتِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم یہ خیر ہے اور بار بار اصرار کرکے مجھ سے کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ اس کے لئے کھول دیا جس کے لئے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے سینے کھولے تھے، چنانچہ میں نے قرآن کو کھجور کے پٹھوں اور پتھر کے ٹکڑوں اور لوگوں کے سینوں سے تلاش کرکے جمع کرنا شروع کیا، یہاں تک کہ سورۂ توبہ کی آخری آیت میں نے ابوخزیمہ انصاری کے پاس پائی جو مجھے کسی اور کے پاس نہیں ملی اور وہ آیت یہ تھی: {لَقَدْ جَا ئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَء ُوْفٌ رَّحِیْمٌ۔} (سورۂ توبہ: ۱۲۸)، سورۂ توبہ کے آخر تک، پھر یہ صحیفے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہے، یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے، ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی زندگی میں، پھر سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس رہے۔
اگرچہ قرآن مجید نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں کھجور کی شاخوں، ہڈیوں، چمڑوں، پتھر کی تختیوں اور مختلف چیزوں پر لکھا ہواتھا اور اس کی آیات و سُوَر مرتّب تھیں، البتہ دو گتوں کے درمیان ایک کتاب کی صورت میں نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے یہ کارنامہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے نصیب میں لکھا تھا۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! میں اپنے ہر خلیل کی خلت اور گہری دوستی سے اظہار براء ت کرتا ہوں، اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہو تا تو ابو بکر کو بتاتا، بیشک تمہارا یہ ساتھی اللہ تعالیٰ کا دوست ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جتنا فائدہ مجھے ابو بکر کے مال سے پہنچاہے، اتنا کسی دوسرے کے مال سے نہیںپہنچا۔ یہ سن کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ خوشی سے رو پڑے اور کہا: اللہ کے رسول! میں اور میرا مال، سب کچھ آپ کا ہے۔
Takhreej
(۱۲۱۷۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، اخرجہ الترمذی: ۳۶۶۱، وابن ماجہ: ۹۴ (انظر: ۷۴۴۶)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غار میں تھے اور دشمن غار کے منہ پر کھڑے تھے، تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اگر ان میںسے کسی نے اپنے پاؤں کی طرف جھانکا تو اپنے قدموں کے نیچے ہمیں دیکھ لے گا، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا ان دو کے بارے میں کیا گمان ہے، جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہے۔
فوائد:… ہجرت کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے غارِ ثور میںپناہ لی تھی، یہ اس موقع سے متعلقہ حدیث ہے کہ ان کا تیسرا اللہ تعالیٰ تھا۔
سیدنا عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے غزوۂ ذات ِسلاسل کے لیے روانہ کیا، میں اس سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اللہ کے رسول! لوگوں میںسے آپ کو سب سے زیادہ کس کے ساتھ محبت ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ سے۔ میں نے کہا: اور مردو ں میں سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے والد سے۔ میں نے پوچھا: ان کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر سے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید چند آدمیوں کے نام لیے۔
ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ بسا اوقات سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے اونٹنی کی مہار چھوٹ کر نیچے گر جاتی تو وہ اونٹنی کی اگلی ٹانگ پر کوئی چیز مارکر اسے بٹھاتے اور خود اتر کر اس کو اٹھاتے تھے، لوگوں نے کہا: آپ ہمیں حکم دے دیتے، ہم آپ کو پکڑا دیتے، انھوں نے کہا: میرے حبیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کروں۔
ابن ابی مکیہ سے مروی ہے کہ اس نے کہا: کسی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے اللہ کے خلیفہ! تو انھوں نے آگے سے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خلیفہ ہوں اور میں اسی پر راضی ہوں، میں اسی پر راضی ہوں۔
Takhreej
(۱۲۱۷۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، فان ابن ابی ملیکۃ لم یدرک ابا بکر (انظر: ۵۹)
سیدنا ابو معلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن خطاب کیا اور فرمایا: ایک بندے کو اس کے رب نے اختیار دیا ہے کہ و ہ چاہے تو دنیا میں زندہ رہے اور جو چاہے کھائے پئے، اور اگر وہ چاہے تو اپنے ربّ سے جاملے، اس بندے نے اپنے رب کی ملاقات کو پسند کرلیا ہے۔ یہ سن کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ رونے لگ گئے، صحابہ نے کہا: اس بزرگ کو دیکھو،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی صالح بندے کا ذکر کیا ہے کہ اس کے رب نے اسے اپنی ملاقات یا دنیا میں رہنے میں سے ایک بات کو منتخب کرنے کا اختیار دیا ہے اور اس نے اپنے رب کی ملاقات کو منتخب کیا۔ (اور ابو بکر نے رونا شروع کر دیا)۔ دراصل سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کو سب سے زیادہ سمجھنے والے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سن کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنے اموال اور اولاد سمیت آپ پر فدا ہوں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے کوئی اپنی صحبت اور مال کے لحاظ سے ابن ابی قحافہ سے بڑھ کر میرا محسن نہیں، اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو ابن ابی قحافہ کو بناتا، البتہ محبت اور ایمانی بھائی چارہ قائم ہے،البتہ ہمارے درمیان محبت اور اخوّت ِ ایمانی کا تعلق قائم ہے، تمہارا یہ ساتھی اللہ تعالیٰ کا خلیل ہے۔
فوائد:… سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنی ذہانت کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کو سمجھ گئے اور اس ارشاد کے نتیجے میں کیا ہونے والا تھا، اس منظر کو دیکھ کر رونے لگ گئے۔