TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

خلافت و امارت کے مسائل - خلافت و امارت کے مسائل - Book 173 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 173 of Musnad Ahmad, with 113 chapters and 449 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

449 Hadith · 113 Chapters
فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان
۔ (۱۲۱۳۸)۔ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ، عَنْ أَبِی قِلَابَۃَ، قَالَ خَالِدٌ: أَحْسِبُہُ ذَکَرَہُ عَنْ أَبِی أَسْمَائَ، قَالَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ: أَخَذَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَمَا أَخَذَ عَلَی النِّسَائِ سِتًّا: ((أَنْ لَا تُشْرِکُوا بِاللّٰہِ شَیْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَکُمْ، وَلَا یَعْضِدْ بَعْضُکُمْ بَعْضًا، وَلَا تَعْصُونِی فِی مَعْرُوفٍ، فَمَنْ أَصَابَ مِنْکُمْ مِنْہُنَّ حَدًّا، فَعُجِّلَ لَہُ عُقُوبَتُہُ، فَہُوَ کَفَّارَتُہُ، وَإِنْ أُخِّرَ عَنْہُ، فَأَمْرُہُ إِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی، إِنْ شَائَ عَذَّبَہُ وَإِنْ شَائَ رَحِمَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۴۴)
سیدناعبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خواتین سے چھ امور کی بیعت لی تھی، اسی طرح ہم سے بھی اتنے امور کی کی بیعت لی، یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤگے، چوری نہیں کروگے، زنا نہیں کر و گے، اپنی اولادوں کو قتل نہیں کر و گے، ایک دوسرے سے قطع تعلقی نہیں کرو گے، اور نیکی کے کسی کام میں میری نافرمانی نہیں کرو گے، تم میں سے جس کسی نے کوئی ایسا کام کیا جس پر شرعی حد واجب ہوتی ہو، تو اگر اس کو دنیا میں اس جرم کی سزا مل گئی تو وہ سزا اس کے لیے کفارہ ہوگی اور اگر سزا آخرت تک مؤخر ہوگئی تو اللہ تعالیٰ اس کو عذاب بھی دے سکتا ہے اور معاف بھی کر سکتا ہے، جیسے اس کی مرضی ہو گی۔
Takhreej
(۱۲۱۳۸) تخریج: اخرجہ البخاری: ۴۸۹۴، ۶۷۸۴، ومسلم: ۱۷۰۹(انظر: ۲۲۶۶۸)
Explanation
فوائد:… یہ بیعت کا اصول ہے کہ لوگوں سے نیک اعمال سرانجام دینے اور برے اعمال سے اجتناب کرنے کی بیعت لی جائے۔ آجکل مخصوص شخصیات کو بیعت کے لیے خاص کر لیا گیا ہے اور جہاں ان کی بیعت کو ضروری سمجھا جاتا ہے، وہاں دوسروں کو ترغیب بھی دی جاتی ہے اور ان لوگوں پر طعن و تشنیع اور سب و شتم کیا جاتا ہے جو اس قسم کی بیعت سے محروم رہتے ہیں، حالانکہ یہ سب کچھ بے سر و پا اور بے حقیقت ہے۔ امام البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ رقمطراز ہیں: اس حدیث ِ مبارکہ میں خوارج کا ردّ ہے، جو کبیرہ گناہوں کی وجہ سے اہل توحید کو کافر قرار دیتے ہیں اور معتزلہ کا بھی ردّ ہے، جو توبہ کے بغیر مرنے والے فاسق مسلمان کے لیے سزا کو ضروری قرار دیتے ہیں، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ توحید پرست گنہگار کی تعذیب یا عدمِ تعذیب کا مسئلہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر ہے، وہ چاہے تو سزا دے اور چاہے تو معاف کر دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ضرور سزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا بھی یہی مفہوم ہے: {اِنَّ اللّٰہَ لَایَغْفِرُ اَنْ یُشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَائُ} (سورۂ نسائ: ۴۸، ۱۱۶) … یقینا اللہ تعالیٰ (اس گناہ کو) نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتاہے۔ اللہ تعالیٰ نے شرک اور دوسرے گناہوں کے درمیان فرق کیا ہے، یعنی شرک ناقابل معافی ہے اور دوسرے گناہ اس کی مشیت کے تابع ہیں، وہ ان کو معاف بھی کر سکتا ہے اور ان پر گرفت بھی کر سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ اس آیت اور حدیث کو اس شخص پر محمول کیا جائے جو گناہوں سے توبہ کیے بغیر مر گیا ہو، کیونکہ جو آدمی زندگی میں شرک اور دوسرے گناہوں سے توبہ کر لیتا ہے اور اس کی توبہ قبول ہو جاتی ہے تو اسے بخش دیا جائے گا۔ میں اس استدلال کے ذریعے عصرِ حاضر کے ایسے لوگوں کا ردّ کرنا چاہتا ہوں جو کبھی تو کبیرہ گناہوں کی وجہ سے مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں اور کبھی یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ یہ گناہ توبہ کے بغیر معاف نہیں ہو گا اور اگر کوئی مسلمان کبیرہ گناہ کا ارتکاب کر کے توبہ کیے بغیر مر جائے گا، تو اسے ہر صورت میں سزا ہو گی۔ ان لوگوں نے کتاب و سنت کی مخالفت کرتے ہوئے شرک اور اس سے ادنی گناہوں کو اس اعتبار سے برابر قرار دیا ہے کہ دونوں کی وجہ سے عذاب ضروری ہے، میں نے مختلف اوقات اور مجالس میں دلائل کے ساتھ ان لوگوں کا ردّ کیا ہے، بعض نے تو متأثر ہو کر اس عقیدے سے توبہ کر لی اور بہترین سلفی نوجوانوں میں شامل ہو گئے، اللہ تعالیٰ باقیوں کو بھی ہدایت دے۔ (صحیحہ: ۲۹۹۹)
12138
Sahih
فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان
۔ (۱۲۱۳۹)۔ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ قَیْسٍ الْأَشْجَعِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: ((أَلَا إِنَّمَا ہُنَّ أَرْبَعٌ، أَنْ لَا تُشْرِکُوا بِاللّٰہِ شَیْئًا، وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَسْرِقُوا۔)) قَالَ: فَمَا أَنَا بِأَشَحَّ عَلَیْہِنَّ مِنِّی إِذْ سَمِعْتُہُنَّ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۹۹)
سیدنا سلمہ بن قیس اشجمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: خبردار! یہ چار امور ہیں، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، اللہ نے جس جان کے قتل کرنے کو حرام ٹھہرایا ہے، اسے ناحق قتل نہ کرنا، زنانہ کرنا اور چوری نہ کرنا۔ سیدنا سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے جب سے یہ باتیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہیں، اس وقت سے مجھے ان کی کوئی رغبت اور حرص ہی نہیں ہے۔
Takhreej
(۱۲۱۳۹) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۱۸۹۹۰)
12139
Sahih
فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان
۔ (۱۲۱۴۰)۔ عَنْ حَکِیمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: بَایَعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی أَنْ لَا أَخِرَّ إِلَّا قَائِمًا۔ (مسند احمد: ۱۵۳۸۶)
سیدنا حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بات کی بیعت کی تھی کہ میں نہیں گروں گا، مگر کھڑے کھڑے ہی۔
Takhreej
(۱۲۱۴۰) تخریج:صحیح، قالہ الالبانی، اخرجہ النسائی: ۲/ ۲۰۵ (انظر: ۱۵۳۱۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا ایک مفہوم یہ ہے کہ اسلام پر عمل کرتے کرتے مروں گا۔
12140
Sahih
فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان
۔ (۱۲۱۴۱)۔ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی سَدُوسٍ، عَنْ قُطْبَۃَ بْنِ قَتَادَۃَ قَالَ: بَایَعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی ابْنَتِی الْحَوْصَلَۃِ، وَکَانَ یُکَنَّی بِأَبِی الْحَوْصَلَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۳۹)
سیدناقطبہ بن قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی بیٹی حوصلہ کی طرف سے بیعت کی تھی۔ ان کی کنیت ابو حوصلہ تھی۔
Takhreej
(۱۲۱۴۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الرجل الراوی عن قطبۃ ومحمدُ بن ثعلبۃ مستور الحال، اخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۳۷ (انظر: ۱۶۷۱۹)
12141
Zaeef
فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان
۔ (۱۲۱۴۲)۔ حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ شَأْنِ ثَقِیفٍ إِذْ بَایَعَتْ فَقَالَ: اشْتَرَطَتْ عَلَی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا صَدَقَۃَ عَلَیْہَا وَلَا جِہَادَ، وَأَخْبَرَنِی جَابِرٌ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَیَصَّدَّقُونَ وَیُجَاہِدُونَ إِذَا أَسْلَمُوْا)) یَعْنِی ثَقِیفًا۔ (مسند احمد: ۱۴۷۲۹)
ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بنو ثقیف کے بارے میں پوچھا، جب انھوں نے بیعت کی تھی؟ انہوںنے کہا: بنو ثقیف نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ یہ شرط لگائی تھی کہ نہ ان پر صدقہ ہو گا اور نہ جہاد، پھر ابوزبیر نے کہا کہ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو یہ بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ جب وہ صحیح طور پر مسلمان ہوجائیں گے تو عنقریب صدقہ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے۔
Takhreej
(۱۲۱۴۲) تخریج: حدیث صحیح، اخرجہ ابوداود: ۳۰۲۵ (انظر: ۱۴۶۷۳)
Explanation
فوائد:… یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حکمت و دانائی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اگر کوئی قبیلہ یا فرد مشرف باسلام تو ہونا چاہتا ہے، لیکن اسلام کے ایک دو اجزا یا شقوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، تو حکمت یہ ہے کہ دونوں گھروں کی مصلحت کا خیال رکھتے ہوئے اس امید پر اس کی شرطیں قبول کر لی جائیں کچھ عرصہ تک ایمان و ایقان میں پختہ ہو کر اسلام کے ہر جزو اور شقّ کو تسلیم کر لے گا، درج ذیل حدیث اور اس کی شرح پر غور کریں: سیدنا فضالہ لیثی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: عَلَّمَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ فِیْمَا عَلَّمَنِی أَنْ قَالَ لِی: ((حَافِظْ عَلٰی الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ۔)) فَقُلْتُ: إِنَّ ھٰذِہِ سَاعَاتٌ لِی فِیْھَا أَشْغَالٌ، فَمُرْنِی بِأَمْرٍ جَامِعٍ إِذَا أَنَا فَعَلْتُہٗ أَجْزَأَ عَنِّی، قَالَ: ((حَافِظْ عَلٰی الْعَصْرَیْنِ: صَلَاۃٍ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَصَلَاۃٍ قَبْلَ غُرُوْبِھَا)) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے کچھ امور کی تعلیم دی، ان میں سے ایک امر یہ بھی تھا: پانچوں نمازوں کی محافظت کیا کر۔ میں نے کہا: ان گھڑیوں میں تو میں مصروف رہتا ہوں، آپ مجھے کوئی ایسا جامع و مانع حکم دیں کہ میں اس پر عمل کرتا رہوں اور وہ مجھے کفایت کرتا رہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو نمازوں یعنی طلوع آفتا ب سے پہلے والی اور غروبِ آفتاب سے پہلے والی نمازوں کی محافظت کرتا رہ۔ (ابوداود: ۴۵۳، صحیحہ: ۱۸۱۳) کسی آدمی کے دماغ میں یہ نکتہ سرایت نہ کر جائے کہ دو نمازوں پر اکتفا کرنا بھی درست ہے، علمائے حق کے نزدیک اس حدیث کے دو معانی مراد لینا ممکن ہیں: (۱) اس آدمی کو اس کی مصروفیت کی وجہ سے جماعت سے پیچھے رہنے کی رخصت دی گئی تھی، نہ کہ ترکِ نماز کی، امام البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کی یہی رائے ہے اور (۲)وہ کوئی نو مسلم آدمی تھا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حکمت نے اس بات کا تقاضا کیا کہ فی الحال اس کو رخصت دی جائے، جب ایمان میں رسوخ پیدا ہو جائے گا تو اس کے لیے پانچ نمازوں کی ادائیگی ممکن ہو جائے گی اور یہی بات اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے کہ جب کوئی مبلّغ کسی بے نمازی کو پانچ نمازوں کی ادائیگی کی تلقین کرتا ہے، لیکن وہ اس بات پر مصرّ ہے کہ وہ صرف دو تین نمازیں پڑھے گا تو اس حدیث کی روشنی میں اسے کہا جا سکتا ہے کہ چلو تم دو تین ہی پڑھتے رہو۔ (واللہ اعلم بالصواب) درج بالا حدیث کو دیکھا جائے تو دوسرا معنی راجح اور درست معلوم ہوتا ہے: یہ حدیث اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کسی بڑی مصلحت کی خاطر کسی کو عارضی طور پر اسلام کے بعض احکام سے مستثنی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثقیف قبیلہ والے لوگوں کی شرطیں تسلیم نہ کرتے تو ممکن تھا کہ وہ کفر پر اڑے رہتے، جو کہ بہت بڑی مفسدت تھی، اس مفسدت سے تو وہ ناقص اسلام ہی بہتر ہے، جس میں جہاد اور صدقہ نہ ہوں، جبکہ رخصت دینے والے کو یہ امید بھی ہو کہ عنقریب یہ لوگ تمام اسلامی احکام کو تسلیم کر لیں گے۔ یہی معاملہ اس باب کی حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ پانچوں نمازیں نہ پڑھنے سے بہرحال دو ادا کر لینا بہتر ہے، ان دو کے ذریعے آہستہ آہستہ پانچ کا قائل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ قربان جائیے حکیم و دانا پیغمبر کی حکمت و دانائی پر۔
12142
Sahih
فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان
۔ (۱۲۱۴۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: جَائَ عَبْدٌ فَبَایَعَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الْہِجْرَۃِ، وَلَمْ یَشْعُرْ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ عَبْدٌ، فَجَائَ سَیِّدُہُیُرِیدُہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِعْنِیہِ۔)) فَاشْتَرَاہُ بِعَبْدَیْنِ أَسْوَدَیْنِ، ثُمَّ لَمْ یُبَایِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتّٰییَسْأَلَہُ: ((أَعَبْدٌ ہُوَ؟)) (مسند احمد: ۱۴۸۳۱)
سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک غلام نے آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ہجرت کرنے پر بعیت کر لی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پتہ نہ چل سکا کہ وہ غلام ہے، اتنے میں اس کا مالک اسے لینے کے لیے آگیا ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا۔ تم یہ غلام مجھے بیچ دو۔ چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو سیاہ فام غلاموں کے عوض اس کو خریدلیا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب تک یہ نہ پوچھ لیتے کہ کیا یہ شخص غلام ہے؟ اس وقت تک کسی سے بیعت نہیں لیتے تھے۔
Takhreej
(۱۲۱۴۳) تخریج: اخرجہ مسلم: ۱۶۰۲(انظر: ۱۴۷۷۲)
Explanation
فوائد:… دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۹۱۴)
12143
Sahih
فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
۔ (۱۲۱۴۴)۔ عَنْ اَبِی صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ (بَنِ اَبِیْ سُفْیَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( مَنْ مَاتَ بِغَیْرِ اِمَامٍ، مَاتَ مِیْتَۃَ جَاھِلِیَّۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۰۰)
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ٔٔٔٔٔٔٔٔ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی امام اور حکمران کے بغیر مرا، وہ جاہلیت کی موت مرا۔
Takhreej
(۱۲۱۴۴) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، اخرجہ ابویعلی: ۷۳۵۷ (انظر: ۱۶۸۷۶)
12144
Sahih
فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
۔ (۱۲۱۴۵)۔ وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ مَاتَ وَلَیْسَتْ عَلَیْہِ طَاعَۃٌ مَاتَ مِیتَۃً جَاہِلِیَّۃً، فَإِنْ خَلَعَہَا مِنْ بَعْدِ عَقْدِہَا فِی عُنُقِہِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: بَعْدَ عَقْدِہِ اِیَّاھَا فِیْ عُنُقِہِ) لَقِیَ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَلَیْسَتْ لَہُ حُجَّۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۸۴)
سیدنا عامر بن ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرا کہ اس نے اپنے اوپر کسی امام کی اطاعت کو لازم نہیں کیا تھا، یعنی کسی کو اپنا امام تسلیم نہیں کیا تھا، و ہ جاہلیت کی موت مرا اور جس نے اپنی گردن سے کسی امام کی اطاعت کا ہار اتارپھینکا، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اللہ کے ہاں پیش کرنے کے لیے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی۔
Takhreej
(۱۲۱۴۵) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۱۵۶۹۶)
Explanation
فوائد:… اگر مسلمانوں کی جماعت موجود ہو تو اس میں شامل ہونا اور اس کے حاکم کو اپنا امیر تسلیم کر کے اس کی اطاعت کرنا فرض ہے۔ لیکن موجودہ دور میں اہل اسلام کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔ قوانین و ضوابط میں پابند ہو کر پروان چڑھنے والی قوم انتظام و انصرام سے یکسر ناواقف ہو چکی ہے۔ فَأِلَی اللّٰہِ الْمُشْتَکیٰ۔ امام البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ لکھتے ہیں: آپ کو علم ہونا چاہیے کہ اس حدیث میں مذکورہ وعید اس شخص کے حق میں ہے، جس نے خلیفۂ مسلمین کی بیعت نہ کی ہو اور ان سے علیحدہ ہو گیا ہو۔ اس سے مراد عصرِ حاضر کی مختلف قسم کی تنظیموں اور جماعتوں کے سربراہان نہیں کہ ان کی بیعت کی جائے، بلکہ یہ تو تفرقہ بازی ہے، جس سے قرآن حکیم نے منع کیا ہے۔ (صحیحہ: ۹۸۴)
12145
Sahih
فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
۔ (۱۲۱۴۶)۔ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ: ((إِنَّ بَنِی إِسْرَائِیلَ کَانَتْ تَسُوسُہُمُ الْأَنْبِیَائُ، کُلَّمَا ہَلَکَ نَبِیٌّ خَلَفَ نَبِیٌّ، وَإِنَّہُ لَا نَبِیَّ بَعْدِی، إِنَّہُ سَیَکُونُ خُلَفَائُ فَتَکْثُرُ۔)) قَالُوْا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: ((فُوا بِبَیْعَۃِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ وَأَعْطُوہُمْ حَقَّہُمْ الَّذِی جَعَلَ اللّٰہُ لَہُمْ، فَإِنَّ اللّٰہَ سَائِلُہُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاہُمْ))۔ (مسند احمد: ۷۹۴۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل کی قیادت ان کے انبیاء کرتے تھے، جب ایک نبی فو ت ہوجاتا تو دوسر ا آجاتا، اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، البتہ خلفاء بکثرت ہوں گے۔ صحابہ نے کہا: تو پھر آپ ہمیں ان کے بارے میں کیا حکم دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم پہلے خلیفہ سے کی گئی بیعت کوپورا کرنا، پھر جو اس کے بعد ہو، اس کی بیعت کو پورا کرنا اوراللہ نے ان کے لیے جو حقوق مقرر کیے ہیں، وہ ادا کرنا، رہا مسئلہ تمہارے حقوق کا تو اللہ تعالیٰ ان سے ان کی رعایا کے بارے میں پوچھے گا۔
Takhreej
(۱۲۱۴۶) تخریج: اخرجہ البخاری: ۳۴۵۵، ومسلم: ۱۸۴۲ (انظر: ۷۹۶۰)
Explanation
فوائد:… حکمران اور رعایا، ہر ایک کے دوسرے پر حقوق ہیں اور ان حقوق کی ادائیگی کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ دوسرا فریق بھی حقوق پورا کر رہا ہو، اگر حکمران ظالم ہو تو اس کے مقابلے میں عوام کو ظلم کرنے کی اجازت نہیں ہے، بلکہ اس کے ظلم کے باوجود رعایا سے یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ اپنے حکمران کے ہر ممکن حق کو پورا کرے۔
12146
Sahih
فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
۔ (۱۲۱۴۷)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَۃِ، وَفَارَقَ الْجَمَاعَۃَ، فَمَاتَ فَمِیتَتُہُ جَاہِلِیَّۃٌ، وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَایَۃٍ عِمِّیَّۃٍیَغْضَبُ لِعَصَبَتِہِ وَیُقَاتِلُ لِعَصَبَتِہِ وَیَنْصُرُ عَصَبَتَہُ فَقُتِلَ فَقِتْلَۃٌ جَاہِلِیَّۃٌ، وَمَنْ خَرَجَ عَلٰی أُمَّتِییَضْرِبُ بَرَّہَا وَفَاجِرَہَا لَا یَتَحَاشٰی لِمُؤْمِنِہَا وَلَا یَفِی لِذِی عَہْدِہَا فَلَیْسَ مِنِّی وَلَسْتُ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۷۹۳۱)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی امام اور حاکم کی اطاعت سے نکل گیا اور مسلمانوں کی جماعت کو چھوڑ گیا اور اسی حالت میں اس کو موت آ گئی تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا، جو اندھا دھند جھنڈے کے نیچے لڑا، جس میں وہ عصبیت کی بنا پر غصے ہوتا ہے اور تعصب کی بنا پر مدد کرتا ہے اور پھر اسی حالت میں قتل ہو جاتا ہے تو اس کا قتل بھی جاہلیت والا ہو گا او رجو آدمی میری امت پر بغاوت کرتے ہوئے نکلا اور نیکوں اور بروں کو مارتا گیا،نہ اس نے اہل ایمان کا لحاظ کیا اور نہ عہد والے کا عہد پورا کیا، اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
Takhreej
(۱۲۱۴۷) تخریج: اخرجہ مسلم: ۱۸۴۸(انظر: ۷۹۴۴)
Explanation
فوائد:… جو آدمی امام کی اطاعت ترک کر دیتاہے، اسلامی جماعت سے دور ہو جاتا ہے اورمسلمانوں کے اتفاق و اتحاد کی مخالفت کرتا ہے اور اسی حالت میں مر جاتا ہے تو وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے، کیونکہ وہ اس وقت بھی شتر بے مہار تھا اور اب بھی ہے۔ اس دور میں خاندانی عصبیت اور قبائلی انانیت عروج پر ہے، اللہ تعالیٰ کے نام پر دوستی و یاری عنقا بن چکی ہے۔ سیاستوں کے چکر ہیں، قومیّتوں کے چکر ہیں، تعلقاتِ قدیمہ کے چکر ہیں، جھوٹی محبتوں کے دعوے ہیں۔ ان چکروں میں پڑ کر اور حق و باطل کو پسِ پشت ڈال کر تیر وکمان کا تبادلہ ہوتا ہے، برس ہا برس قطع تعلقی میں گزر جاتے ہیں، بعض خاندانوں میں عداوت و کدورت وہ مقام حاصل کر چکی ہے کہ شاید اسلام اور کفر کے نام پر بننے والے دشمن اس کے سامنے شرما جائیں۔ قارئین کرام! آؤ اور اسلام کے نام پر جیو، اسی زندگی کو اپنا اعزاز اور منصب ِ انسانی سمجھو۔ حدیث میں باقی بیان کردہ امور واضح ہیں۔
12147
Sahih
فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
۔ (۱۲۱۴۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ رَأٰی مِنْ أَمِیرِہِ شَیْئًایَکْرَہُہُ فَلْیَصْبِرْ، فَإِنَّہُ مَنْ خَالَفَ الْجَمَاعَۃَ شِبْرًا فَمَاتَ فَمِیتَتُہُ جَاہِلِیَّۃٌ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((فَیَمُوْتُ اِلَّا مَاتَ مِیْتَۃَ جَاھِلِیَّۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۷)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے امیر کی طرف سے کوئی ایسی بات دیکھے جواسے اچھی نہ لگے تو وہ صبر کرے، کیونکہ جس نے مسلمانوں کی جماعت کی ایک بالشت بھر بھی مخالفت کی اور اسی حال میں مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔
Takhreej
(۱۲۱۴۸) تخریج: اخرجہ البخاری: ۷۰۵۴، ۷۱۴۳، ومسلم: ۱۸۴۹ (انظر: ۲۴۸۷)
12148
Sahih
فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
۔ (۱۲۱۴۹)۔ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَۃَ، وَکَانَ ابْنَ عَمِّ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِکٍ یَقولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((خِیَارُ أَئِمَّتِکُمْ مَنْ تُحِبُّونَہُمْ وَیُحِبُّونَکُمْ، وَتُصَلُّونَ عَلَیْہِمْ وَیُصَلُّونَ عَلَیْکُمْ، وَشِرَارُ أَئِمَّتِکُمُ الَّذِینَ تُبْغِضُونَہُمْ وَیُبْغِضُونَکُمْ، وَتَلْعَنُونَہُمْ وَیَلْعَنُونَکُمْ۔)) قُلْنَا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَفَلَا نُنَابِذُہُمْ عِنْدَ ذٰلِکَ؟ قَالَ: ((لَا، مَا أَقَامُوا لَکُمُ الصَّلَاۃَ، أَلَا وَمَنْ وُلِّیَ عَلَیْہِ أَمِیرٌ وَالٍ فَرَآہُ یَأْتِی شَیْئًا مِنْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ فَلْیُنْکِرْ مَا یَأْتِی مِنْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ، وَلَا یَنْزِعَنَّیَدًا مِنْ طَاعَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۸۱)
سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین حکمران وہ ہیں کہ جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں اور تم ان کے حق میں رحمت کی دعائیں کرو اور وہ تمہارے حق میں رحمت کی دعائیں کریں اور تمہارے بد ترین حکمران وہ ہیں کہ جن سے تم بغض رکھو اور وہ تم سے بغض رکھیں اور تم ان پر لعنتیں کرو اور وہ تم پر لعنتیں کریں۔ ہم نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ایسی صورت حال میں ہم ان سے الگ تھلگ نہ ہوجائیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، جب تک وہ نما زکی پابندی کریں، تم ان سے الگ نہیں ہوسکتے، خبردار! تم میں سے کسی پر کوئی آدمی امیر اورحکمران ہو اور وہ اپنے امیر کو اللہ کی معصیت کا کام کرتے ہوئے دیکھے تو وہ اللہ تعالیٰ کی اس معصیت کا انکار کرے اور اس کی اطاعت سے اپنا ہاتھ نہ کھینچے۔
Takhreej
(۱۲۱۴۹) تخریج: اخرجہ مسلم: ۱۸۵۵(انظر: ۲۳۹۸۱)
12149
Sahih
فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
۔ (۱۲۱۵۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ مَاتَ عَلٰی غَیْرِ طَاعَۃِ اللّٰہِ مَاتَ وَلَا حُجَّۃَ لَہُ، وَمَنْ مَاتَ وَقَدْ نَزَعَ یَدَہُ مِنْ بَیْعَۃٍ، کَانَتْ مِیتَتُہُ مِیتَۃَ ضَلَالَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۵۸۹۷)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ کی اطاعت کے علاوہ کسی اور چیز پر مرا تو وہ اس حال میں مرے گا کہ اس کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہو گی اور جو اس حال میں مرا کہ اس نے بیعت سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہو تو اس کی موت گمراہی کی موت ہو گی۔
Takhreej
(۱۲۱۵۰) تخریج: اخرجہ مسلم: ۱۸۵۱(انظر: ۵۸۹۷)
12150
Sahih
فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
۔ (۱۲۱۵۱)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ عَلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُطِیعٍ فَقَالَ: مَرْحَبًا بِأَبِی عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، ضَعُوا لَہُ وِسَادَۃً، فَقَالَ: إِنَّمَا جِئْتُکَ لِأُحَدِّثَکَ حَدِیثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((مَنْ نَزَعَ یَدًا مِنْ طَاعَۃِ اللّٰہِ فَإِنَّہُ یَأْتِییَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَا حُجَّۃَ لَہُ، وَمَنْ مَاتَ وَہُوَ مَفَارِقٌ لِلْجَمَاعَۃِ فَإِنَّہُ یَمُوتُ مِیتَۃً جَاہِلِیَّۃً۔)) (مسند احمد: ۵۵۵۱)
زید بن اسلم اپنے والدسے روایت کرتے ہیں، ان کے والد نے کہا: میں سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں عبداللہ بن مطیع کے ہاں گیا، انہو ں نے کہا: ابو عبدالرحمن کو خوش آمدید، ان کے لیے تکیہ لگاؤ، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تم کو ایک حدیث سنانے کے لیے حاضر ہوا ہوں، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی اطاعت سے ہاتھ کھینچ لیا، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی اور جو آدمی اس حال میں مرا کہ وہ مسلمانوں کی جماعت سے الگ تھلگ تھا تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔
Takhreej
(۱۲۱۵۱) تخریج: اخرجہ مسلم: ۱۸۵۱ (انظر: ۵۵۵۱)
12151
Sahih
فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
۔ (۱۲۱۵۲)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْکَعْبَۃِ، قَالَ: انْتَہَیْتُ إِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَہُوَ جَالِسٌ فِی ظِلِّ الْکَعْبَۃِ، فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: بَیْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَفَرٍ، فَذَکَرَ حَدِیْثًا طَوِیْلًا وَفِیْہِ: ((وَمَنْ بَایَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاہُ صَفْقَۃَیَدِہِ وَثَمَرَۃَ قَلْبِہِ فَلْیُطِعْہُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ جَائَ آخَرُ یُنَازِعُہُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ۔)) قَالَ: فَأَدْخَلْتُ رَأْسِی مِنْ بَیْنِ النَّاسِ فَقُلْتُ: أَنْشُدُکَ بِاللّٰہِ آنْتَ سَمِعْتَ ہٰذَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَأَشَارَ بِیَدِہِ إِلٰی أُذُنَیْہِ، فَقَالَ: سَمِعَتْہُ أُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِی، قَالَ: فَقُلْتُ: ہٗذَاابْنُعَمِّکَمُعَاوِیَۃُیَعْنِییَأْمُرُنَا بِأَکْلِ أَمْوَالِنَا بَیْنَنَا بِالْبَاطِلِ، وَأَنْ نَقْتُلَ أَنْفُسَنَا، وَقَدْ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَأْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ} قَالَ: فَجَمَعَ یَدَیْہِ فَوَضَعَہُمَا عَلٰی جَبْہَتِہِ ثُمَّ نَکَسَ ہُنَیَّۃً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ، فَقَالَ: أَطِعْہُ فِی طَاعَۃِ اللّٰہِ، وَاعْصِہِ فِی مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔(مسند احمد: ۶۵۰۳)
عبدالرحمن بن عبد ِربّ ِکعبہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اس وقت کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے، میں نے ان کو سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں سفر میں تھے، پھر انہو ں نے طویل حدیث بیان کی، اس کا ایک اقتباس یہ تھا: جس نے کسی حکمران کی بیعت کی اور اس سے معاہدہ کیا اور اس کو دل کا پھل دے دیا، تو وہ حسب ِ استطاعت اس کی اطاعت کرے، اگر کوئی دوسرا آدمی آکر اس پہلے حاکم سے اختلا ف کرے تو بعد والے کی گردن اڑادو۔ عبد الرحمن کہتے ہیں: یہ سن کر میں نے اپنا سر لوگوں کے درمیان میںداخل کیا اور کہا: میں تم کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم نے یہ حدیث اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے خود سنی ہے؟ انہوں نے اپنے ہاتھوں کے ذریعے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اس حدیث کو میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے اس کو محفوظ کیا۔ عبدالرحمن نے کہا: یہ آپ کا چچازاد بھائی سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل اور ناجائز طریقوں سے کھائیں اور ایک دوسرے کو قتل کریں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَأْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ}… اے ایمان والو! تم اپنے اموال آپس میں باطل طریقوں سے مت کھاؤ۔ یہ سن کر انہو ںنے اپنے دونوں ہاتھ اکٹھے کیے اور انہیں اپنی پیشانی کے اوپر رکھا اور پھر کچھ دیر سر جھکا کر بیٹھے رہے، پھر کچھ دیر بعد سر اٹھایا اور کہا: اللہ کی اطاعت کا کام ہوتو ان کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ کی معصیت اور نافرمانی ہوتو ان کی بات نہ مانو۔
Takhreej
(۱۲۱۵۲) تخریج: اخرجہ مسلم: ۱۸۴۴ (انظر: ۶۵۰۳)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر خلیفۃ المسلمین موجود ہوتو ہر صورت میں اس کی بیعت کر کے زندگی گزارنی چاہیے۔
12152
Sahih
باب اول: ان احادیث کا بیان جن میں ان کی خلافت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
۔ (۱۲۱۵۳)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اقْتَدُوْا بِالَّذَیْنِ مِنْ بَّعْدِیْ اَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۳۴)
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میرے بعد ان دو حضرات کی اقتدا کرنا، ابوبکر اور عمر۔
Takhreej
(۱۲۱۵۳) تخریج: حدیث حسن بطرقہ وشواھدہ، اخرجہ الترمذی: ۳۶۶۲ (انظر: ۲۳۲۴۵)
12153
Sahih
باب اول: ان احادیث کا بیان جن میں ان کی خلافت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
۔ (۱۲۱۵۴)۔ وَعَنْ اَبِیْ جُحَیْفَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّہَا اَبُوْ بَکْرٍ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌)، ثُمَّ قَالَ: اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ بَعْدَ اَبِیْ بَکْرٍ، عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد: ۸۳۳)
سیدنا ابو جحیفہ سے مروی ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا میںتمہیں نہ بتلاؤں کہ اس امت میں نبی کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ وہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، کیا میں تمہیں یہ بھی بتلا دوں کہ اس امت میں سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ وہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔
Takhreej
(۱۲۱۵۴) تخریج: اسنادہ حسن (انظر: ۸۳۳)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بارے میں یہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نظریہ تھا، بڑی ہستیوں کو یہی زیب دیتا ہے کہ دوسروں کی فضیلت کو بھی تسلیم کر لیا کرتے ہیں۔
12154
Sahih
باب اول: ان احادیث کا بیان جن میں ان کی خلافت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
۔ (۱۲۱۵۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ عَاصِبًا رَأْسَہُ فِی خِرْقَۃٍ، فَقَعَدَ عَلَی الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّہُ لَیْسَ أَحَدٌ أَمَنَّ عَلَیَّ فِی نَفْسِہِ وَمَالِہِ مِنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی قُحَافَۃَ، وَلَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِیلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَکْرٍ خَلِیلًا، وَلٰکِنْ خُلَّۃُ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ، سُدُّوْا عَنِّی کُلَّ خَوْخَۃٍ فِی ہٰذَا الْمَسْجِدِ غَیْرَ خَوْخَۃِ أَبِی بَکْرٍ))۔ (مسند احمد: ۲۴۳۲)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کابیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مرض الموت کے ایام میں اپنے سر پر پٹی باندھے ہوئے باہر تشریف لائے اور ممبر پر جلوہ افروز ہوئے، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی اورپھر فرمایا: اپنی جان اور مال کے بارے میں ابو بکر بن ابی قحافہ سے بڑھ کر میرا کون محسن نہیں ہے،اگر میں نے لوگوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بنانا ہوتا تو میں نے ابو بکر کو اپنا خلیل بناتا، البتہ اسلامی دوستی اور تعلق سب سے زیادہ فضیلت والا ہے، اس مسجد کی طرف کھلنے والے ہر دروازے اور راستے کو بند کر دو، ما سوائے ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے راستے کے، وہ کھلا رہے۔
Takhreej
(۱۲۱۵۵) تخریج: اخرجہ البخاری: ۴۶۷ (انظر: ۲۴۳۲)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ خطاب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات سے پانچ دن پہلے تھا اور یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا آخری اجتماعی خطاب تھا۔ دیکھیں (۱۰۹۹۰) سُبْحَانَ اللّٰہ! خلیفۂ اول ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بختوں‘ نصیبوں اور سعادتوں کا کیا کہنا ‘ کہ پیغمبر اسلام‘ پیغمبروں کے سردار اپنی موت سے چند ایام قبل جن لاجواب احسانات کا اقرار کر کے ان سے محبت کرنے کا مژدہ سناتے ہیں‘ یہ صدیق اکبر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں لاثانی اور بے نظیر منقبت ہے‘ جس میں ان کا کوئی ساجھی نہیں۔ یادرہے کہ خلیل اس محِبّ کو کہتے ہیں جو اپنے دل میں اپنے محبوب سے اتنی زیادہ سچی اور گہری محبت رکھتا ہو کہ اب مزید اس کے دل میں کسی کے لئے کوئی گنجائش باقی نہ رہی ہو۔ ایسی محبت کو خلّت کہتے ہیں اور محبت کا یہ انداز صرف اللہ تعالیٰ کے بارے میں اختیار کیا جا سکتا ہے‘ حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اللہ تعالیٰ سے جو شدید محبت (یعنی خلّت) تھی وہ ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے نہ تھی‘ کیونکہ صدیق کا مقام مرتبہ اپنی جگہ پر مسلّم ہے‘ لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات سب سے برتر اور اعلی ہے، اس سے کسی کا کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ہاں محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابوبکر صدیق کیلئے اسلامی مودّت و محبّت کا دعوی بحال رکھا‘ جس کا مرتبہ خلّت سے کم ہے۔ (حافظ ابن حجرؒ نے خلیل کے نو معانی ذکر کئے ہیں۔ دیکھیں: فتح الباری: حدیث ۳۶۵۷ کے تحت) خطابی اور ابن بطال وغیرہ نے کہا: اس حدیث میں ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو عظیم خصوصیت سے نوازا گیا‘نیز اس میں یہ قوی اشارہ موجود ہے کہ ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خلافت کے مستحق ہیں‘ … اور بعض نے تو اس بات کا دعوی کیا کہ دروازے کے ذریعے کنایۃً خلافت کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ (دیکھیں: فتح الباری: حدیث ۳۶۵۴ کے تحت) ہمیں حدیث مبارکہ سے عملی سبق یہ ملتا ہے کہ محبت و مودت‘ احترام و اکرام‘ عزت و مرتبت اور دوستی و یاری کا معیار اسلام ہونا چاہئے‘ محب اور محبوب کے تعلق کی بنیاد میں اللہ اور اس کے رسول کا نام پایا جانا چاہئے‘ یہی واحد تعلق ہے جو بروز قیامت بھی بحال رہے گا۔ رہا اس دوستی کا مسئلہ جس کی بنیاد کسی خاندانی تعلق‘ دنیوی منفعت‘ سیاسی ناطے‘ حسن و جمال‘ شخصیت پرستی یا فسق و فجور پر ہو‘ وہ قیامت کے دن دشمنی کا لبادہ اوڑھ لے گی‘ قرآن مجید گوہر افشاں ہے: {اَ لْاَخِلَّائُ یَوْمَئِذٍ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ} … قیامت کے دن گہرے دوست بھی دشمن بن جائیں گے‘ سوائے پرہیزگاروں کے (کہ جن کی دوستی دین اور رضائے الہی کی بنیاد پر ہوتی ہے) (سورۂ زخرف: ۶۷) آئیے! ہم بھی جائزہ لیں اور اپنے تعلق کی عمارت کو نبی و صدیق کی محبت کی بنیادوں پر استوار کریں‘ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو انسان درج ذیل تین خصائل سے متصف ہو گا ‘ وہ ان کی بدولت ایمان کی حلاوت اور لذت محسوس کرے گا: ۱۔ اسے اللہ اور اس کا رسول کائنات کی ہر چیز کی بہ نسبت زیادہ محبوب ہوں۔ ۲۔ وہ کسی آدمی سے صرف اللہ تعالیٰ کے لئے محبت رکھتا ہو۔ ۳۔ اللہ کی توفیق سے کفر سے بچ جانے کے بعد دوبارہ کفر میں لوٹنے کو اس طرح برا سمجھے جیسے وہ آگ میں ڈالے جانے کو برا سمجھتا ہے۔ (صحیح بخاری: ۱۶، صحیح مسلم: ۴۳) نیز سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: اَیْنَ الْمُتَحَابُّوْنَ بِجَلَالِیْ، اَلْیَوْمَ اُظِلُّھُمْ فِیْ ظِلِّیْ یَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلِّی)) یعنی: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اعلان کرے گا: میری عظمت و جلال کی وجہ سے آپس میں محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج میرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں‘ لیکن میں انہیں اپنے سائے میں جگہ دوں گا۔ (صحیح مسلم: ۱۰۳۱)
12155
Sahih
باب اول: ان احادیث کا بیان جن میں ان کی خلافت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
۔ (۱۲۱۵۶)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہٗ۔ (مسنداحمد: ۱۱۱۵۱)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۱۲۱۵۶) تخریج: اخرجہ البخاری: ۴۶۶، ومسلم: ۲۳۸۲(انظر: ۱۱۱۳۴)
12156
Sahih
باب اول: ان احادیث کا بیان جن میں ان کی خلافت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
۔ (۱۲۱۵۷)۔ وَعَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعَمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنَّ امْرَاَۃً اَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَلَّمَتْہُ فِی شَیْئٍ فَأَمَرَہَا بِأَمْرٍ، فَقَالَتْ: أَرَأَیْتَیَا رَسُولَ اللّٰہِ إِنْ لَمْ أَجِدْکَ؟ قَالَ: ((إِنْ لَمْ تَجِدِینِی فَأْتِی أَبَا بَکْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۷۷)
سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتو ن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کسی معاملہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بات کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے حق میں کوئی حکم فرمایا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں آؤںاور آپ کو نہ پاؤں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابو بکر کے پاس چلی جانا۔
Takhreej
(۱۲۱۵۷) تخریج: اخرجہ البخاری: ۷۳۶۰، ومسلم: ۲۳۸۶(انظر: ۱۶۷۵۵)
Explanation
فوائد:… اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد مسئول سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہوں گے۔
12157
Sahih

Chapters

113
01
(باب اول) اس امر کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی زندگی میں کسی کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں فرمایا
16 Hadith
02
فصل: نبوت، خلافت اورملوکیت کے مراحل پر مشتمل سیدنا حذافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ایک جامع حدیث
1 Hadith
03
فصل: قریشی خلفاء کی تعداد
5 Hadith
04
باب سوم: ہر امام، امیر اور لوگوں کے معاملات کا مسئول بننے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ رعایا کے امور میں عدل و انصاف سے کام لے اور ظلم و جور سے بچے، بیشک اس سے اس بارے میں پوچھ گچھ ہوگی
8 Hadith
05
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے پوچھ گچھ ہو گی کی وضاحت
5 Hadith
06
فصل: اس حکمران کی وعید کا بیان جو رعایاکے امور کے سامنے رکاوٹیں ڈالتا ہے
3 Hadith
07
فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
5 Hadith
08
باب چہارم: حکمرانی طلب کرنے سے ممانعت اور اس سے نفرت دلانے کا بیان
11 Hadith
09
فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
3 Hadith
10
فصل دوم: بے وقوفوں، نا اہل لوگوں کی حکومت کا بیان، ہم ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں
18 Hadith
11
فصل سوم: لڑکوں کی حکمرانی کا بیان
4 Hadith
12
فصل چہارم: خواتین کی حکومت و سربراہی کا بیان
5 Hadith
13
فصل اول: حکمرانوں کی اطاعت کے وجوب اور ان کی بغاوت نہ کرنے کا بیان
13 Hadith
14
فصل دوم: اللہ کی نافرمانی کی صورت میں کسی انسان کی اطاعت نہیں ہے
10 Hadith
15
فصل سوم: حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے کے وجوب اوران کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرتے رہنے کا بیان
4 Hadith
16
فصل چہارم: مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنے اور بادشاہ کا اکرام کرنے کا بیان
4 Hadith
17
فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان
11 Hadith
18
فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
9 Hadith
19
باب اول: ان احادیث کا بیان جن میں ان کی خلافت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
9 Hadith
20
باب دوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت اور واقعۂ سقیفہ کا بیان
5 Hadith
21
باب سوم: صدیق اکبر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دورخلافت میں واقع ہونے والے بعض واقعات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی میراث کے مطالبہ کرنے کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجنا
2 Hadith
22
فصل دوم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مرتدین سے قتال کا بیان
1 Hadith
23
فصل سوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلافت میں قرآن مجید کو یکجا جمع کرنے کا بیان
1 Hadith
24
باب چہارم: مناقب صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جو مناسب بیان ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے مزید مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت
4 Hadith
25
فصل دوم: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تواضع کا بیان
2 Hadith
26
سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ذہانت، فطانت، علم اور فضیلت کا بیان
1 Hadith
27
فصل سوم: سیدنا صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبوں کا بیان اسلام میں ان کے پہلے خطاب کا بیان
4 Hadith
28
باب ششم: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیماری، مرض الموت اور وفات کا بیان
3 Hadith
29
خلیفۂ دوم امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ متعلق ابواب باب اول: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں خلافت کا تقرر
1 Hadith
30
باب دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فضائل اور ان کا اپنے اسلاف کی اقتداء کرنا
5 Hadith
31
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنت میں سیدناعمر ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے جو کچھ دیکھا، اس کا اور ان کی غیرت کا بیان
7 Hadith
32
فصل سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے علم کی وسعت، قوتِ دین، ان کی نیکی اورزہد کا بیان
7 Hadith
33
فصل چہارم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حق کی موافقات یا آپ کا الہام والے لوگوں میں سے ہونا
5 Hadith
34
فصل پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ہیبت اور وقار کا بیان
4 Hadith
35
باب سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں، فیصلوں اور ان کے دور خلافت میں پیش آنے والے بعض واقعات کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں اور فیصلوں کا بیان
5 Hadith
36
فصلِ دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلا فت میں ۱۵ ھ ؁ میں ہونے والے واقعۂ یرموک کا بیان
1 Hadith
37
فصل: کسریٰ کے خزانوں کی فتح
1 Hadith
38
فصل سوم: بیت المقدس کی فتح ، جابیہ مقام پر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مشہور خطاب اور۱۶ھ میں خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امارت سے معزول کرنے کا بیان
2 Hadith
39
فصل چہارم: ۱۸ھ میں شام میں پڑنے والے طاعونِ عمواس کا تذکرہ
1 Hadith
40
فصل پنجم: ۱۹ھ میں سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سرز مین خیبر سے یہودیوں کو جلا وطن کرنا
1 Hadith
41
باب چہارم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبات رعایا کے مابین عدل کے بارے میں ان کا خطبہ
2 Hadith
42
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے خواب کے بارے خطبہ اور اپنی وفات کے قریب ہونے کی صورت میں اس کی تعبیر کرنا
1 Hadith
43
باب پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خواب کی تعبیر کا ثابت ہونا، عجمی کا ان پر حملہ کرنا، ان کی کچھ وصیتوں کا بیان، لوگوں کا ان کی تعریف کرنا اور ان کے پاس رونا اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کسی خلیفہ نامزد نہ کرنا
4 Hadith
44
باب ششم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات ، ان کی نمازجنازہ اور سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے ان کی مدح سرائی کا بیان
4 Hadith
45
تیسرے خلیفہ راشد امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلاف سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت و بیعت کا بیان
1 Hadith
46
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ کرنا
4 Hadith
47
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
8 Hadith
48
فصل دوم: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خاص طور پر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ جو رازدارانہ باتیں کیں، ان کا بیان
2 Hadith
49
فصل سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے شرم و حیا ء اور فرشتوں کا ان سے شرمانے کا بیان
5 Hadith
50
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی صفات اور ان کے بعض خطبوں کا بیان
5 Hadith
51
باب سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر بعض لوگوں کے اعتراضات اور ان کا دفاع
2 Hadith
52
فصل: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خلاف سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بد خواہی کے الزام کی براء ت
1 Hadith
53
باب چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کے دوران رونما ہونے والے بعض واقعات کا بیان جرعہ کے دن والا واقعہ
2 Hadith
54
سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ربذہ کی طرف شہربدری
2 Hadith
55
باب پنجم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا محاصرہ اور اس موقع پر ان کی طرف سے اور ان سے کی جانے والی گفتگو کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: محاصرہ کے دنوں میں بعض صحابہ کے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف میلان رکھنے کا بیان
3 Hadith
56
فصل دوم: سیدنا عثمان کا اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مطیع ہونا، ان کا لوگوں کے سامنے عذر خواہی کرنااور لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کرنا اور ان کے مناقب
4 Hadith
57
فصل سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ایک سوال کرنا اور ان کا ان کو ڈانٹنا
2 Hadith
58
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خواب اور اپنے قتل کے دن سے دوسروں کو مطلع کرنا اور شہادت کی تیاری اور صبر کا بیان
2 Hadith
59
فصل پنجم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تاریخ شہادت، ان کی جنازہ، دفن اور مدتِ خلافت کا بیان
7 Hadith
60
باب اول: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اس طرف اشارہ کرنا
5 Hadith
61
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
1 Hadith
62
فصل دوم: سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث
20 Hadith
63
فصل چہارم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں فرمانا: تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے، جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، …۔
4 Hadith
64
فصل پنجم: غزوۂ خیبر کے روز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جھنڈا دینے کے لیے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منتخب کرنا اور اس میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت او رنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا بیان
6 Hadith
65
فصل ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کا قاضی مقرر کرنا اور اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس امت محمدیہ میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ بردباری والے اور سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے
3 Hadith
66
فصل ہفتم: شیعہ لو گوں کاسیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے محبت کرنا اور خارجی لوگوں کا ان سے بغض رکھنا
2 Hadith
67
باب سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبات کا بیان
7 Hadith
68
فصل دوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بصرہ میں تشریف آوری اور لوگوں کو جنگ جمل کے لیے بلانا
5 Hadith
69
فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا عمار اور سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو اہل کوفہ کی طرف بھیجنا، تاکہ وہ ان سے لڑائی میں شریک ہونے کا مطالبہ کریں
4 Hadith
70
باب پنجم: جنگ صفین اور سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شجاعت کا بیان اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے بارے میں فرمانا کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا
7 Hadith
71
فصل دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں دو آدمیوں کا جھگڑا، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ اس نے سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کیا ہے
2 Hadith
72
فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لشکر کی صفین کے موقع پر کامیابی کے بعد ہز یمت کا سبب اور خوارج کاحضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خلاف خروج اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ان کو قتل کرنا
1 Hadith
73
باب ششم: واقعہ نہروان اور وہاں پر خوارج کا قتل نیز خوارج کی مذمت اور ان کو قتل کرنے کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: خوارج کی بنیاد کا بیان
7 Hadith
74
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
12 Hadith
75
فصل سوم: جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر خوارج کا فساد واضح ہوا تو ان کا نہروان میں خوارج سے قتال کے لیے اپنے لشکر کو لے جانا
8 Hadith
76
فصل چہارم: عبداللہ بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وہ مفصل حدیث جو انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو سنائی تھی، یہ حدیث خوارج کے تفصیلی واقعہ پر مشتمل ہے
1 Hadith
77
فصل: خوارج کے سروںکو مسجد دمشق کے دروازہ پر نصب کرنے کابیان
4 Hadith
78
باب ہفتم: سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور اس امر کا بیان کہ ان کے جسم کا کون سا حصہ زخمی ہوگا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی یہ بات اس واقعہ کے وقوع پذیر ہو نے سے پہلے بتلا دی تھی اور اس امرکا بیان کہ اس کے قاتل کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
4 Hadith
79
فصل: اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا
1 Hadith
80
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کے بعد سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خطبہ
2 Hadith
81
سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا فاطمہ زہرائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا امام حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
4 Hadith
82
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
5 Hadith
83
فصل دوم: اس امر کابیان ہے کہ سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشابہت رکھتے تھے
5 Hadith
84
باب سوم: ان مناقب کا بیان، جن میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما مشترک ہیں
4 Hadith
85
باب چہارم: سیدنا امام حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کاتذکرہ اور اس امر کابیان کے صادق وامین ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق ان کی وفات سے خلفائے راشدین کی مدت خلافت پوری ہوگئی
1 Hadith
86
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
1 Hadith
87
باب دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب
2 Hadith
88
باب سوم: سیدنا معاویہ کے بعض حالات، خطبوں اور حج کا بیان
3 Hadith
89
ٔٔفصل: عہد خلافت ِمعاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک اہم واقعہ غزوۂ قسطنطنیہ ہے
1 Hadith
90
یزید بن معاویہ کی خلافت اور ان کے عہد خلافت میں ہونے والے واقعات سے متعلقہ ابواب باب اول: یزید کی بیعت اور بعض لوگوںکی اس کی بیعت سے بے زاری اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیان
1 Hadith
91
باب دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غم کا بیان
3 Hadith
92
فصل دوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا قتل اور ان کے سر کے ساتھ ابن زیاد کا سلوک
1 Hadith
93
فصل سوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کے دن سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا خواب
1 Hadith
94
فصل چہارم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خبر شہادت کالوگوں تک پہنچنا، اہل عراق کے بارے میں لوگوں کی آراء اور تاریخ شہادت کا بیان
3 Hadith
95
فصل پنجم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان
1 Hadith
96
باب سوم: یزید بن معاویہ کے عہد میں وقوع پذیر ہونے والے ایک انتہائی المناک واقعہ حرہ کا بیان
3 Hadith
97
فصل: حرّہ میں لڑنے والے لشکر کو یزید کا مکہ کی طرف سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے روانہ کرنے اور جا کر کعبہ کو جلانے کا بیان
1 Hadith
98
باب چہارم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ اور ان کو زیر کرنے کے لیے یزید اور اس کے ساتھیوں کا اپنے لشکروں کو مکہ کی طرف روانہ کرنے کا بیان
1 Hadith
99
فصل: یزید بن معاویہ کی طر ف سے مدینہ کے حکمران عمرو بن سعید بن العاص اموی کا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے مکہ کی طرف لشکر بھیجنا اور ابو شریح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ صحابی کی اس کو نصیحت اور سعید کے انکار کا بیان
2 Hadith
100
فصل: بنوامیہ کے ایک ظالم حکمران کے متعلق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات
1 Hadith
101
فصل: عبید اللہ بن زیاد کا تذکرہ
1 Hadith
102
باب پنجم: یزید بن معاویہ کی وفات
1 Hadith
103
یزید بن معاویہ کی موت کے بعد سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کا بیان باب اول: سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت کا بیان
2 Hadith
104
باب دوم: ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اور تاریخ ولادت
5 Hadith
105
باب سوم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خواہش کے مطابق کعبہ کی تعمیر کرنا
4 Hadith
106
باب چہارم: سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا عبد الملک اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر کے مابین پیدا ہونے والے فتنے کو ناپسند کرنا
1 Hadith
107
مختار ثقفی کا ظہور
4 Hadith
108
باب پنجم: عبدالملک بن مروان کا حجاج بن یوسف کو مصعب بن زبیر سے لڑنے کے لیے عراق کی طرف روانہ کرنا
1 Hadith
109
باب ششم: اس امر کابیان کہ عراق میںمصعب کو قتل کرنے کے بعد عبدالملک نے حجاج کو سیدنا عبداللہ زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ روانہ کیا اور اس نے بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا
5 Hadith
110
امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز i کی خلافت کے ابواب باب اول: عمر بن عبد العزیز کے مناقب
3 Hadith
111
یزید بن عبدالملک کی خلافت یزید بن عبد الملک کی اطاعت سے یزید بن مہلب کا خروج
1 Hadith
112
ولید بن یزید بن عبدالملک کی خلافت
1 Hadith
113
حکومت عباسیہ کا آغاز اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس سے مطلع کرنا
2 Hadith
No chapter matched that.