TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5727 - ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان - خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 8 of 9 in this chapter
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
۔ (۵۷۲۷)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((سَیَکُوْنُ قَوْمٌ یَأْکُلُوْنَ بِأَلْسِنَتِہِمْ کَمَا تَأْکُلُ الْبَقَرَۃُ مِنَ الْأَرْضِ)) (مسند احمد: ۱۵۱۷)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقر یب ایسے لوگ ظاہر ہوں گے کہ جواپنی زبانوں کے ذریعے اس طرح کھائیں گے،جیسے گائے زمین سے چرتی ہے۔
5727
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۵۷۲۷) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ البزار: ۲۰۸۱(انظر: ۱۵۱۷)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:…یہ حدیث، حدیث نمبر (۵۷۲۳) کے ہم معنی ہے، اس کا مفہوم یہ ہے کہ جیسے گائے چرتے وقت خشک اور تر اور میٹھے اور کڑوے چارے کے مابین فرق نہیں کرتی، بلکہ سب کو تلف کر دیتی ہے، ایسی ہی بعض لوگ حلال و حرام اور حق و باطل میں کوئی تمیز نہیں کرتے، آج کل اچھے بھلے سمجھدار لوگوں نے نہ صرف سودی معاملات کو جائز سمجھ لیا ہے، بلکہ وہ عملی طور پر اس میںملوث ہیں، جبکہ وہ منہج کے طور پر اپنے آپ کو برحق اور نمازی پرہیزگار بھی سمجھتے ہیں۔

Related Chapters

77
1
بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى قِيَامِ اللَّيْلِ
رات کے قیام پر رغبت دلانے کا بیان
Mishkat
2
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
3
وضو میں خشک رہ جانے والی جگہ، اعضائے وضو کا پے درپے دھونے اور وضو کو اچھے اندار سے کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
4
صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی اور سب سے بری صفوں کا بیان
Musnad Ahmad
5
عاریۃً چیز کے جائز ہونے اور اس میں رغبت دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
6
وصیت کرنے پر رغبت دلانے، اس میںظلم کرنے کی ممانعت اور زندگی میں ہی اس کا اہتمام کرلینے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
7
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
8
قرآن پاک کو سیکھنے سکھانے، اس کو حفظ کرنے پر رغبت دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
9
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
10
نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
11
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
12
ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
Musnad Ahmad
13
اخلاقِ حسنہ کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
14
نرمی کی ترغیب دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
15
شرم و حیا کی ترغیب دلانے اور اس چیز کا بیان کہ حیا خیر ہی لاتا ہے
Musnad Ahmad
16
تواضع کی ترغیب دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
17
توکل کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
18
قناعت اور عفت کی ترغیب دلانے کابیان
Musnad Ahmad
19
فقراء مساکین کی فضیلت اور ان سے محبت کرنے اور ان کے ساتھ بیٹھنے کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
20
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
21
کسی ساتھی کی زیارت اور اس کے مریض ہو جانے کی صورت میں اس کی تیمارداری کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
22
(78) CHAPTER. Exhortation to archery (i.e., arrow throwing).
تیراندازی کی ترغیب دلانے کے بیان میں
Sahih Bukhari
23
CHAPTER: Regarding the virtue of knowledge.
باب: علم حاصل کرنے کی طرف رغبت دلانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
24
امام کا اپنے خطبہ میں جمعہ کے دن کے غسل کی ترغیب دلانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
25
باب: نکاح پر رغبت دلانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
26
ایمان کے ابواب
Mishkat
27
بَاب فِي الافطار من التَّطَوُّع
گزشتہ ابواب سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
Mishkat
28
غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہو جانے کے قائلین کا بیان
Musnad Ahmad
29
ان اوقات کے ابواب، جن میں نماز ادا کرنا منع ہے نہی کے اوقات کا جامع بیان
Musnad Ahmad
30
روزے کو باطل کردینے والے اور دورانِ روزہ مکروہ اور مباح امورکا بیان ان امورکے ابواب جن سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔ اور ان امور کا بیان جو روزہ کی حالت میں مکروہ یا مباح ہیں۔ روزہ دار کے لیے سینگی لگوانے کا بیان
Musnad Ahmad
31
منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان
Musnad Ahmad
32
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
Musnad Ahmad
33
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
Musnad Ahmad
34
قیدیوں کے حق میں احسان کرنے، ان سے فدیہ لینے اور ان سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب ہوازن کے وفود پر ان کے قیدیوں کے معاملے میں احسان کرنے کا باب
Musnad Ahmad
35
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کے ابواب مقابلہ بازی، اس کے آداب اور ان مقابلوں کا بیان جن پر انعام دینا درست ہے
Musnad Ahmad
36
اصولیعنی درختوں اور پھلوں کو فروخت کرنے کے بارے میں ابواب پیوند کاری کیا ہواکھجور کا درخت فروخت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
37
تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
Musnad Ahmad
38
عیوب کے احکام کے ابواب عیب کو واضح کر دینے، دھوکہ نہ کرنے اور دھوکہ کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
39
سود کے ابواب سود کے بارے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
40
زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں ابواب مطلق طور پر زمین کو کرایہ پر دینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
41
دعووں، گواہیوں اور قسم کی صورتوں وغیرہ کے ابواب مالوں اور خونوں جیسے معاملات میں جب مُدَّعِی کے پاس گواہ نہ ہو تو مُدّعٰی علیہ سے قسم لینے کا بیان
Musnad Ahmad
42
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
43
قصاص کے ابواب قتل عمد پر قصاص کے ثابت ہونے اور اس کے مستحق کو قصاص اور دیت میں اختیار دینے کا بیان
Musnad Ahmad
44
دیت کے ابواب نفس، اعضاء اور اعضاء کی منفعتوں کی دیت کا جامع تذکرہ اور اس میں قتل خطا، قتل عمد اور قتل شبہ عمد کا بیان
Musnad Ahmad
45
زنا سے نفرت دلانے کا اور زانی کی وعید کا بیان، بالخصوص جب وہ اپنے پڑوسی کی بیوی اور اس عورت سے زنا کرے، جس کا خاوند غائب ہو
Musnad Ahmad
46
تہمت لگانے سے نفرت دلانے اور اس کے کبیرہ گناہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
47
رضاعت کی وجہ سے نکاح کے حرام ہو جانے کے ابواب جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں، وہی رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہو جاتے ہیں
Musnad Ahmad
48
لہو و لعب کی جائز صورتوں کے ابواب خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا
Musnad Ahmad
49
لہو و لعب کی ناجائز صورتوں کے ابواب حیوان کے ساتھ کھیلنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
50
سونے کی انگوٹھی اور اس قسم کے دوسرے زیورات کے ابواب سونے کی انگوٹھی کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

8
Musnad Ahmad
5804
۔ (۵۸۰۴)۔ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْبُنَانِیِّ قَالَ: کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ إِنِّیْ اَشْتَرِیْ ھٰذِہِ الْحِیْطَانَ تَکُوْنُ فِیْہَا الْأَعْنَابُ فَـلَا نَسْتَطِیْعُ أَنْ نَبِیْعَہَا کُلَّہَا عِنَبًا حَتّٰی نَعْصِرَہُ، قَالَ: فَعَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ تَسْأَلُنِیْ؟ سَأُحَدِّثُکَ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کُنَّا جُلُوْسًا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذْ رَفَعَ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ ثُمَّ أَکَبَّ وَنَکَتَ فِیْ الْأَرْضِ وَقَالَ: ((اَلْوَیْلُ لِبَنِیْ إِسْرَائِیْلَ۔)) فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! لَقَدْ أَفْزَعَنَا قَوْلُکَ لِبَنِیْ إِسْرَائِیْلَ، فقَالَ: ((لَیْسَ عَلَیْکُمْ مِنْ ذٰلِکَ بَأْسٌ، إِنَّہُمْ لَمَّا حُرِّمَتْ عَلَیْہِمُ الشُّحُوْمُ فَتَوَاطَئُوْہُ فَیَبِیْعُوْنَہُ فَیَأْکُلُوْنَ ثَمَنَہُ وَکَذٰلِکَ ثَمَنُ الْخَمْرِ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ۔)) (مسند احمد: ۵۹۸۲)
۔ عبد الوا حد بنانی کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس موجود تھا، ایک آدمی ان کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے ابو عبدالر حمن!میں باغات خریدتا ہوں، بعض میں انگورلگے ہوتے ہیں، چونکہ ان سب کو انگورہی کی صورت میں فروخت کرنا ممکن نہیں ہے، اس لیے کیا ہم ان کا رس نکال سکتے ہیں؟ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا تم مجھ سے شراب کی قیمت کے بارے میں سوال کر رہے ہو؟ اب میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آسمان کی طرف سراٹھایا، پھر اس کو زمین کی جانب جھکایا اور زمین میں کریدا اور پھر فرمایا: بنی اسرائیل کے لئے ہلاکت ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عر ض کی: اے اللہ کے نبی! بنی اسرائیل سے متعلقہ آپ کے ارشاد نے ہمیں گھبرا دیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے آپ پر کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے، ان پر جب چربی حرام کی گئی تو انھوں نے حیلہ کیا اور(اس کو پگھلا کر) بیچا اور اس کی قیمت کھا گئے، بالکل اسی طرح شراب کی قیمت تم پر حرام ہے۔
Musnad Ahmad
433
۔ (۴۳۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ أَرَضَنَا أَرْضُ أَھْلِ کِتَابٍ وَاِنَّہُمْ یَأْکُلُوْنَ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ وَیَشْرَبُوْنَ الْخَمْرَ فَکَیْفَ أَصْنَعُ بِآنِیَتِہِمْ وَ قُدُوْرِہِمْ؟ قَالَ: ((اِنْ لَمْ تَجِدُوْا غَیْرَہَا فَارْحَضُوْہَا وَاطْبَخُوْا فِیْھَا وَاشْرَبُوْا۔)) (مسند أحمد: ۱۷۸۸۹)
۔ (دوسری سند) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک ہمارا علاقہ، اہل کتاب کا علاقہ ہے اور وہ خنزیر کا گوشت بھی کھاتے ہیں اور شراب بھی پیتے ہیں، اب میں ان کے برتنوں اور ہنڈیوں کے ساتھ کیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر تم کو اور برتن نہ ملیں تو اُن کو دھو کر ان میں پکا لیا کرو اور اُن میں پی لیا کرو۔
Musnad Ahmad
4719
۔ (۴۷۱۹)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْعَقِیقَۃِ؟ فَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ لا یُحِبُّ الْعُقُوْقَ۔)) وَ کَأَنَّہُ کَرِہَ الاسْمَ۔ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّمَا نَسَأَلُکَ عَنْ أَحَدِنَا یُوْلَدُ لَہُ؟ قَالَ: ((مَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ یَنْسُکَ عَنْ وَلَدِہِ فَلْیَفْعَلْ، عَنِ الْغُلامِ شَاتَانِ مُکَافَأَتَانِ، وَ عَنِ الْجَارِیَۃِ شَاۃٌ۔)) قَالَ: وَ سُئِلَ عَنِ الْفَرَعِ؟ قَالَ: ((وَالْفَرَعُ حَقٌ، وَ أَنْ تَتْرُکَہُ حَتّٰی یَکُوْنَ شُغْزُبًّا، أَوْ شُغْزُوبًّا، ابْنَ مَخَاضٍ، أَوِ ابْنَ لَبُونٍ، فَتَحْمِلَ عَلَیْہِ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، أَوْ تُعْطِیَہُ أَرْمِلَۃً خَیْرٌ مِنْ أَنْ تَذْبَحَہُ یَلْصقُ لَحْمُہُ بِوَبَرِہِ، وَ تُکْفِیُٔ إِنَائَ کَ وَ تُوَلِّہُ نَاقَتَکَ۔))وَقَالَ: وَ سُئِلَ عَنِ الْعَتِیْرَۃِ؟ فَقَالَ: ((اَلْعَتِیْرَۃُ حَقٌ۔)) قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِعَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ: مَا العَتِیْرَۃُ؟ قَالَ: کَانُوْا یَذْبَحُوْنَ فِي رَجَبٍ شَاۃً، فَیَطْبُخُوْنَ وَ یَأْکُلُوْنَ وَ یُطْعِمُوْنَ۔ (مسند أحمد: ۶۷۱۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عقیقہ کے بارے میں سوال کیا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جواباً فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ عقوق کو ناپسند کرتا ہے۔ گویا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ لفظ ناپسند کیا، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے یہ سوال کر رہے ہیں کہ جب کسی کا بچہ پیدا ہو تو (اس کی طرف سے جو جانور ذبح کیا جاتا ہے)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے بچے کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو وہ کرے، تفصیل یہ ہے کہ بچے کی طرف سے بکری یا بھیڑ کی نسل کے دو برابر برابر جانور ہوں اور بچی کی طرف سے ایک۔ پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے فرع کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فرع حق ہے، لیکن اگر تو اس جانور کو چھوڑ دے، یہاں تک کہ اس کا گوشت سخت ہو جائے، یعنی ابن مخاض بن جائے یا ابن لبون بن جائے، پھر تو اس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں سواری کے لیے دے یا بیواؤں کو دے دے تو یہ عمل اس سے بہتر ہو گا کہ تو اس وقت اس کو ذبح کر دے، جب اس کا گوشت اس کے بالوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہو، اس طرح تو اپنا برتن بھی انڈیل دے اور اپنی اونٹنی کو بھی تکلیف پہنچائے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عتیرہ کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عتیرہ حق ہے۔ کسی آدمی نے عمرو بن شعیب سے سوال کیا کہ عتیرہ کیا ہوتا ہے، انھوں نے کہا: لوگ رجب میں ایک بکری ذبح کر کے اس کو پکاتے تھے، پھر خود بھی کھاتے اور لوگوں کو بھی کھلاتے تھے۔
Musnad Ahmad
5957
۔ (۵۹۵۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَأْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَأْکُلُوْنَ فِیْہِ الرِّبَا۔)) قَالَ: قِیْلَ لہ: اَلنَّاسُ کُلُّہُمْ؟ قَالَ: ((مَنْ لَمْ یَأْکُلْہُ مِنْہُمْ نَالَہُ مِنْ غُبَارِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۴۱۵)
۔ سیدنا ابوہر یرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو ں پر ایک ایسا وقت آئے گاکہ یہ سود کھائیں گے۔ کسی نے کہا: کیا سب لوگو سود خور بن جائیں گے؟ آپ نے فرمایا: اگر کوئی نہیں کھائے گا تو اس کا غبار اس تک ضرور پہنچے گا۔
Musnad Ahmad
6819
۔ (۶۸۱۹)۔ عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّہُمْ خَرَجُوْا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ فَنَزَلُوْا رُفَقَائَ، رُفْقَۃٌ مَعَ فُلَانٍ وَرُفْقَۃٌ مَعَ فُـلَان، فَنَزَلْتُ فِی رُفْقَۃِ اَبِیْ بَکْرٍ فَکَانَ مَعَنَا أَعْرَابِیٌّ مِنْ أَھْلِ الْبَادِیَۃِ، فَنَزَلْنَا بِأَھْلِ بَیْتٍ مِنَ الْأَعْرَابِ وَفِیْہِمُ امْرَأْۃُ حَامِلٌ، فَقَالَ لَھَا الْأَعْرَابِیُّ: أَ یَسُرُّکِ أَنْ تَلِدِی غُلَامًا، إِنْ أَعْطَیْتِنِیْ شَاۃً، فَوَلَدْتِ غُلَامًا، فَأَعْطَتْہُ شَاۃً وَسَجَعَ لَھَا أَسَاجِیْعَ، قَالَ: فَذَبَحَ الشَّاۃَ فَلَمَّا جَلَسَ الْقَوْمُ یَأْکُلُوْنَ، قَالَ رَجُلٌ: أَ تَدْرُوْنَ مَاھٰذِہِ الشَّاۃُ؟ فَاَخْبَرَھُمْ، قَالَ: فرَاَیْتُ أَبَا بَکْرٍ مُتَبَرِّئًا مُسْتَنْبِلًا مُتَقَیِّئًا۔ (مسند احمد: ۱۱۵۰۲)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں روانہ ہوئے، لوگ ٹولیوں کی صورت میں بٹ گئے اور ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا، ایک ٹولی فلاں کے ساتھ، ایک ٹولی فلاں کے ساتھ، میں سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ٹولی میں تھا، ہمارے ساتھ ایک دیہاتی بھی تھا، ہم نے دیہاتیوں کے ایک گھر کے قریب پڑائو ڈالا، ان میں ایک عورت حاملہ تھی، دیہاتی نے اس عورت سے کہا: کیا تجھے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ تو لڑکا جنم دے، اگر تو مجھے ایک بکری دے گی تو تیرے گھر لڑکا پیدا ہو گا، پس اس عورت نے اسے بکری دے دی اور اس دیہاتی نے اس عورت کے لئے قافیہ بندی میں باتیں کی اور بکری ذبح کر دی، جب لوگ کھانا کھانے کے لئے بیٹھ گئے تو ایک آدمی نے کہا: کیا تم جانتے ہو یہ بکری کیسی ہے ؟ پھر اس نے ان کو اس کی اصل حقیقت بتلائی، میں نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا کہ وہ اس کھانے سے بیزاری کا اظہار کرنے کے لیے تکلف کے ساتھ قے کر رہے تھے۔
Musnad Ahmad
10571
۔ (۱۰۵۷۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَیْلَۃً أُسْرِیَ بِنَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَدَخَلَ الْجَنَّۃَ فَسَمِعَ مِنْ جَانِبِھَا وَجْسًا قَالَ: ((یَاجِبْرِیْلُ! مَاھٰذَا؟)) قَالَ: ھٰذَا بِلَالٌ الْمُؤَذِّنُ، فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ جَائَ اِلَی النَّاسِ: ((قَدْ أَفْلَحَ بِلَالٌ، رَأَیْتُ لَہُ کَذَا وَکَذَا۔)) قَالَ: فَلَقِیَہُ مُوسٰی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَحَّبَ بِہٖوَقَالَ: مَرْحَبًابِالنَّبِیِّ الْأُمِّیِّ، قَالَ: فَقَالَ: وَھُوَ رَجُلٌ آدَمُ طَوِیْلٌ سَبْطٌ شَعَرُہُ مَعَ أُذُنَیْہِ أَوَ فَوْقَھُمَا، فَقَالَ: ((مَنْ ھٰذَا؟یَاجِبْرِیْلُ!)) قَالَ: ھٰذَا مُوسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ، قَالَ: فَمَضٰی فَلَقِیَہُ عِیْسٰی فَرَحَّبَ بِہٖوَقَالَ: ((مَنْھٰذَا؟یَاجِبْرِیْلُ!)) قَالَ: ھٰذَا عِیْسٰی، قَالَ: فَمَضٰی فَلَقِیَہُ شَیْخٌ جَلِیْلٌ مَھِیْبٌ فَرَحَّبَ بِہٖوَسَلَّمَعَلَیْہِ وَکُلُّھُمْ یُسَلِّمُ عَلَیْہِ، قَالَ: ((مَنْ ھٰذَا یَا جِبْرِیْلُ؟)) قَالَ: ھٰذَا أَبُوْکَ اِبْرَاھِیْمُ، قَالَ: فَنَظَرَ فِیْ النَّارِ فَاِذَا قَوْمٌ یَأْکُلُوْنَ الْجِیَفَ، فَقَالَ: ((مَنْ ھٰؤُلَائِ یَا جِبْرِیْل؟)) قَالَ: ھٰؤُلَائِ الَّذِیْنَیَأْکُلُوْنَ لُحُوْمَ النَّاسِ، وَرَاٰی رَجُلًا اَحْمَرَ أَزْرَقَ جَعْدًا شَعِثًا اِذَا رَأَیْتَہُ، قَالَ: ((مَنْ ھٰذَا یَا جِبْرِیْلُ؟)) قَالَ: ھٰذَا عَاقِرُ النَّاقِۃِ، قَالَ: فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ الْأَقْصٰی قَامَ یُصَلِّیْ، فَالْتَفَتَ ثُمَّّ الْتَفَتَ فَاِذَا النَّبِیُّوْنَأَجْمَعُوْنَ یُصَلُّوْنَ مَعَہُ فَلَمَّا انْصَرَفَ جِیْئَ بِقَدَحَیْنِ اَحْدُھُمَا عَنِ الْیَمِیْنِ وَالْآخَرُ عَنِ الشِّمَالِ فِیْ اَحَدِھِمَا لَبَنٌ وَفِیْ الْآخَرِ عَسَلٌ، فَأَخَذَ اللَّبَنَ فَشَرِبَ مِنْہُ، فَقَالَ الَّذِیْ کَانَ مَعَہُ الْقَدَحُ: اَصَبْتَ الْفِطْرَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ جس رات کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسراء کرایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جنت میں داخل ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی ایک طرف سے ہلکی سی آواز سنی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اے جبریل! یہ آواز کون سی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ بلال مؤذن ہے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کے پاس آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تحقیق بلال کامیاب ہو گیا ہے،میں نے اس کے لیےیہ کچھ دیکھا ہے۔ اُدھر سفرِ معراج میں موسی علیہ السلام آپ کو ملے اور اُمّی نبی کو مرحبا کہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ گندمی رنگ کے دراز قد آدمیتھے، ان کے بال سیدھے تھے اور کانوں تک یا کانوں سے اوپر تک آ رہے تھے،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے جبریل! یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ حضرت موسی علیہ السلام ہیں، پھر آپ آگے چلے اور عیسی علیہ السلام آپ کو ملے اور مرحبا کہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے جبریل! یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ عیسی علیہ السلام ہیں، پھر آگے چلے اور ایک بزرگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ملے، وہ بڑے جلال اور ہیبت والے تھے، انھوں نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مرحبا کہا اور آپ کو سلام کہا، بلکہ تمام نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اے جبریل! یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ آپ کے باپ ابراہیم علیہ السلام ہیں، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آگ میں دیکھا تو کچھ لوگوں کو مردہ لاشیں کھاتے ہوئے پایا اور پوچھا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ وہ لو ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے، یعنی ان کی غیبت کرتے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایکاور شخص دیکھا، وہ سرخ رنگ کا تھا، اس کی آنکھیں نیلی تھیں، وہ کوتاہ قد تھا اور اس کے بال پراگندہ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا : جبریل! یہ کو ن ہے؟ انھوں نے کہا: یہ اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا ہے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد ِ اقصی میں داخل ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے، پس جب متوجہ ہوئے اور پھر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ سارے کے سارے انبیائے کرام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس دو پیالے لائے گئے، ایک دائیں طرف سے اور ایک بائیں طرف سے، ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شہد تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دودھ لے کر اس کو پی لیا، جس فرشتے کے پاس پیالہ تھا، اس نے کہا: تو نے فطرت کو اختیار کیا ہے۔
Musnad Ahmad
10580
۔ (۱۰۵۸۰)۔ عَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمَّا عَرَجَ بِیْ ربِیْ عَزَّوَجَلَّ مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَھُمْ اَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ یَخْمُشُوْنَ وُجُوْھَھُمْ وَصُدُوْرَھُمْ، فَقُلْتُ: مَنْ ہٰؤُلَائِ؟ یَاجِبْرِیْلُ! قَالَ: ھٰؤُلَائِ الَّذِیْنَیَأْکُلُوْنَ لُحُوْمَ النَّاسِ وَیَقَعُوْنَ فِیْ أَعْرَاضِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۷۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب میرے ربّ نے مجھے معراج کرائی تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا کہ ان کے تانبے کے ناخن تھے اور وہ ان کے ذریعے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ اس نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کاگوشت کھاتے تھے اور ان کی عزتوں کو متأثر کرتے تھے (یعنی چغلی اور غیبت کرتے ہیں)۔
Musnad Ahmad
12935
۔ (۱۲۹۳۵)۔ وَعَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُوْشِکُ اَنْ یَمْلَاَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اَیْدِیَکُمْ مِنَ الْعَجَمِ ثُمَّ یَکُوْنُوْنَ اُسْدًا لَا یَفِرُّوْنَ فَیَقْتُلُوْنَ مُقَاتِلَتَکُمْ وَیَأْکُلُوْنَ فَیْأَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۸۴)
سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں کو عجمیوں سے بھر دے گا، لیکن اس کے بعد پھر ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ شیر بن جائیں گے، تمہارے جنگجوؤں کو قتل کریں گے اورتمہارے چھوڑے ہوئے مال کو کھائیں گے۔