TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5726 - ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان - خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 7 of 9 in this chapter
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
۔ (۵۷۲۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِکَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ: ((یَا کَعْبُ بْنَ عُجْرَۃَ! إِنَّہُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ، النَّارُ أَوْلٰی بِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۹۴)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اے کعب بن عجرہ! وہ گوشت جنت میں داخل نہیں ہو گا، جو حرام سے پلا ہو گا، آگ اس کے زیادہ لائق ہو گی۔
5726
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۵۷۲۶) تخریج: اسنادہ قوی علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابن حبان: ۴۵۱۴، والحاکم: ۴/ ۴۲۲، والدارمی: ۲۷۷۶، وابو یعلی: ۱۹۹۹(انظر: ۱۴۴۴۱)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:…ارشادِ باری تعالی ہے: {اِنَّّ الَّذِیْنَیَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتَامیٰ ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا} ’’جولوگ ظلم سے یتیموںکا مال کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں۔‘‘ (النسا ئ:۱۰ ) حرام مال جہنم کا بہت بڑا سبب ہے، اس کی وجہ سے اللہ کی بارگاہ میں کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی۔

Related Chapters

77
1
بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى قِيَامِ اللَّيْلِ
رات کے قیام پر رغبت دلانے کا بیان
Mishkat
2
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
3
وضو میں خشک رہ جانے والی جگہ، اعضائے وضو کا پے درپے دھونے اور وضو کو اچھے اندار سے کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
4
صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی اور سب سے بری صفوں کا بیان
Musnad Ahmad
5
عاریۃً چیز کے جائز ہونے اور اس میں رغبت دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
6
وصیت کرنے پر رغبت دلانے، اس میںظلم کرنے کی ممانعت اور زندگی میں ہی اس کا اہتمام کرلینے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
7
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
8
قرآن پاک کو سیکھنے سکھانے، اس کو حفظ کرنے پر رغبت دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
9
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
10
نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
11
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
12
ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
Musnad Ahmad
13
اخلاقِ حسنہ کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
14
نرمی کی ترغیب دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
15
شرم و حیا کی ترغیب دلانے اور اس چیز کا بیان کہ حیا خیر ہی لاتا ہے
Musnad Ahmad
16
تواضع کی ترغیب دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
17
توکل کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
18
قناعت اور عفت کی ترغیب دلانے کابیان
Musnad Ahmad
19
فقراء مساکین کی فضیلت اور ان سے محبت کرنے اور ان کے ساتھ بیٹھنے کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
20
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
21
کسی ساتھی کی زیارت اور اس کے مریض ہو جانے کی صورت میں اس کی تیمارداری کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
22
(78) CHAPTER. Exhortation to archery (i.e., arrow throwing).
تیراندازی کی ترغیب دلانے کے بیان میں
Sahih Bukhari
23
CHAPTER: Regarding the virtue of knowledge.
باب: علم حاصل کرنے کی طرف رغبت دلانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
24
امام کا اپنے خطبہ میں جمعہ کے دن کے غسل کی ترغیب دلانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
25
باب: نکاح پر رغبت دلانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
26
ایمان کے ابواب
Mishkat
27
بَاب فِي الافطار من التَّطَوُّع
گزشتہ ابواب سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
Mishkat
28
غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہو جانے کے قائلین کا بیان
Musnad Ahmad
29
ان اوقات کے ابواب، جن میں نماز ادا کرنا منع ہے نہی کے اوقات کا جامع بیان
Musnad Ahmad
30
روزے کو باطل کردینے والے اور دورانِ روزہ مکروہ اور مباح امورکا بیان ان امورکے ابواب جن سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔ اور ان امور کا بیان جو روزہ کی حالت میں مکروہ یا مباح ہیں۔ روزہ دار کے لیے سینگی لگوانے کا بیان
Musnad Ahmad
31
منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان
Musnad Ahmad
32
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
Musnad Ahmad
33
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
Musnad Ahmad
34
قیدیوں کے حق میں احسان کرنے، ان سے فدیہ لینے اور ان سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب ہوازن کے وفود پر ان کے قیدیوں کے معاملے میں احسان کرنے کا باب
Musnad Ahmad
35
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کے ابواب مقابلہ بازی، اس کے آداب اور ان مقابلوں کا بیان جن پر انعام دینا درست ہے
Musnad Ahmad
36
اصولیعنی درختوں اور پھلوں کو فروخت کرنے کے بارے میں ابواب پیوند کاری کیا ہواکھجور کا درخت فروخت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
37
تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
Musnad Ahmad
38
عیوب کے احکام کے ابواب عیب کو واضح کر دینے، دھوکہ نہ کرنے اور دھوکہ کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
39
سود کے ابواب سود کے بارے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
40
زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں ابواب مطلق طور پر زمین کو کرایہ پر دینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
41
دعووں، گواہیوں اور قسم کی صورتوں وغیرہ کے ابواب مالوں اور خونوں جیسے معاملات میں جب مُدَّعِی کے پاس گواہ نہ ہو تو مُدّعٰی علیہ سے قسم لینے کا بیان
Musnad Ahmad
42
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
43
قصاص کے ابواب قتل عمد پر قصاص کے ثابت ہونے اور اس کے مستحق کو قصاص اور دیت میں اختیار دینے کا بیان
Musnad Ahmad
44
دیت کے ابواب نفس، اعضاء اور اعضاء کی منفعتوں کی دیت کا جامع تذکرہ اور اس میں قتل خطا، قتل عمد اور قتل شبہ عمد کا بیان
Musnad Ahmad
45
زنا سے نفرت دلانے کا اور زانی کی وعید کا بیان، بالخصوص جب وہ اپنے پڑوسی کی بیوی اور اس عورت سے زنا کرے، جس کا خاوند غائب ہو
Musnad Ahmad
46
تہمت لگانے سے نفرت دلانے اور اس کے کبیرہ گناہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
47
رضاعت کی وجہ سے نکاح کے حرام ہو جانے کے ابواب جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں، وہی رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہو جاتے ہیں
Musnad Ahmad
48
لہو و لعب کی جائز صورتوں کے ابواب خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا
Musnad Ahmad
49
لہو و لعب کی ناجائز صورتوں کے ابواب حیوان کے ساتھ کھیلنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
50
سونے کی انگوٹھی اور اس قسم کے دوسرے زیورات کے ابواب سونے کی انگوٹھی کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

300
Musnad Ahmad
32
۔ (۳۲)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ: أَنَا مِمَّنْ شَہِدَ مُعَاذًا حِیْنَ حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ یَقُوْلُ: اِکْشِفُوْا عَنِّی سَجْفَ الْقُبَّۃِ، أُحَدِّثُکُمْ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، لَمْ یَمْنَعْنِیْ أَنْ أُحَدِّثَکُمُوْہُ إِلَّا أَنْ تَتَّکِلُوْا، سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((مَنْ شَہِدَ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِہِ أَوْ یَقِیْنًا مِنْ قَلْبِہِ لَمْ یَدْخُلِ النَّارَ، وَقَالَ مَرَّۃً: دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَلَمْ تَمَسَّہُ النَّارُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۱۰)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: میں بھی لوگوں کے ساتھ سیدنا معاذ ؓکی وفات کے وقت ان کے پاس حاضر تھا، انھوں نے کہا: قبّے کا پردہ اٹھا دو، میں تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اس سے پہلے یہ حدیث بیان کرنے سے یہ مانع تھا کہ تم توکل کر لو گے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی دل کے اخلاص یا (راوی نے کہا) یقین سے یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تو وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا، اور ایک دفعہ کہا: تو وہ جنت میں داخل ہو گا اور آگ اس کو نہیں چھو سکے گی۔
Musnad Ahmad
13013
۔ (۱۳۰۱۳)۔ وَعَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِی خَفَقَۃٍ مِنَ الدِّیْنِ وَاِدْبَارٍ مِنَ الْعِلْمِ، فَلَہُ اَرْبَعُوْنَ لَیْلَۃًیَسِیْحُہَا فِی الْاَرْضِ، اَلْیُوْمُ مِنْہَا کَالسَّنَۃِ، وَالْیَوْمُ مِنْہَا کَالشَّہْرِ، وَالْیَوُمْ مِنْہَا کَالْجُمُعَۃِ، ثُمَّ سَائِرُ اَیَّامِہِ کَاَیَّامِکُمْ ہٰذِہِ، وَلَہُ حِمَارٌ یَرْکَبُہُ، عَرْضُ مَا بَیْنَ اُذُنَیْہِ اَرْبَعُوْنَ ذِرَاعًا، فَیَقُوْلُ لِلنَّاسِ: اَنَا رَبُّکُمْ وَھُوَ اَعْوَرُ وَاِنَّ رَبَّکُمْ لَیْسَ بِاَعْوَرَ، مَکْتُوْبٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ کَافِرٌ ک ف ر مُہَجَّأَۃٌیَقْرَؤُہُ کُلُّ مُوْمِنٍ کَاتِبٌ وَغَیْرُ کَاتِبٍ، یَرِدُ کُلَّ مَائٍ وَمَنْہَلٍ اِلَّا الْمَدِیْنَۃَ وَمَکَّۃَ، حَرَّمَہُمَا اللّٰہُ عَلَیْہِ وَقَامَتِ الْمَلَائِکَۃُ بِاَبْوَابِہَا وَمَعَہُ جِبَالٌ مِنْ خُبْزٍ وَالنَّاسُ فِیْ جَہْدٍ اِلَّا مَنْ تَبِعَہُ، وَمَعَہُ نَہْرَانِ اَنَا اَعْلَمُ بِہِمَا مِنْہُ، نَہْرٌ یَقُوْلُ الْجَنَّۃُ وَنَہْرٌ یَقُوْلُ النَّارُ، فَمَنْ اَدْخَلَ الَّذِیْیُسَمِّیْہِ الْجَنَّۃَ فَہُوَ النَّارُ، وَمَنْ اَدْخَلَ الَّذِیْیُسَمِّیْہِ النَّارَ فَہُوُ الْجَنَّۃُ قَالَ: وَیَبَعَثُ اللّٰہُ مَعَہُ شَیَاطِیْنَ تُکَلِّمُ النَّاسَ وَمَعَہُ فِتْنَۃٌ عَظِیْمَۃٌیَاْمُرُالسَّمَائَ فَتُمْطِرُ فِیْمَایَرَی النَّاسُ وَیَقْتُلُ نَفْسًا ثُمَّ یُحْیِیْہَا فِیْمَایَرٰی النَّاسَ لاَ یُسَلَّطُ عَلٰی غَیْرِھَا مِنَ النَّاسِ وَیَقُوْلُ: اَیُّہَاالنَّاسُ ھَلْ یَفْعَلُ مِثْلَ ہٰذَا اِلَّا الرَّبُّ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: فَیَفِرُّ الْمُسْلِمُوْنَ اِلٰی جَبَل الدُّخَانِ بِالشَّامِ فَیَاْتِیْہِمْ فَیُحَاصِرُھُمْ فَیَشْتَدُّ حِصَارَھُمْ وَیُجْہِدُھُمْ جَہْدًا شَدِیْدًا ثُمَّ یَنْزِلُ عِیْسٰی بْنُ مَرْیَمَ علیہ السلام فَیُنَادِیْ مِنَ السَّحَرِ، فَیَقُوْلُ: یَا اَیُّہَا النَّاسُ! مَا یَمْنَعُکُمْ اَنْ تَخْرُجُوْا اِلَی الْکَذَّابِ الْخَبِیْثِ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: ہٰذَا رَجُلٌ جِنِّیٌّ، فَیَنْطَلِقُوْنَ فَاِذَا ھُمْ بِعِیْسٰی بْنِ مَرْیَمَ علیہ السلام فَتُقَامُ الصَّلاَۃُ، فَیُقَالُ لَہُ: تَقَدَّمْ یَا رُوْحَ اللّٰہِ! فَیَقُوْلُ: لِیَتَقَدَّمْ اِمَامُکُمْ فَلْیُصَلِّ بِکُمْ، فَاِذَا صَلّٰی صَلَاۃَ الصُّبْحِ خَرَجُوْا اِلَیْہِ قَالَ: فَحِیْنَیَرٰی الْکَذَّابُ، یَنْمَاثُ کَمَا یَنْمَاثُ الْمِلْحُ فِی الْمَائِ، فَتَمْشِیْ اِلَیْہِ فَیَقْتُلُہُ، حَتّٰی اِنَّ الشَّجَرَۃَ وَالْحَجَرَ یُنَادِیْ: یَا رُوْحَ اللّٰہِ! ھٰذَا یَہُوْدِیٌّ فَلَایَتْرُکُ مِمَّنْ کَانَ یَتَّبِعُہُ اَحَدًا اِلَّا قَتَلَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۱۷)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دجال کا ظہور اس وقت ہوگا جب دینی حالت کمزور ہو گی اور علم اٹھ چکا ہوگا، وہ زمین میں چالیس دن گھومے گا، ان میں سے ایک دن ایک سال کے برابر، ایک دن ایک مہینے کے برابر، ایک دن ایک ہفتے کے برابر اور باقی دن عام دنوں کی طرح ہوں گے، وہ ایک ایسے گدھے پر سوار ہو گاکہ جس کے دو کانوں کے درمیان چالیس ہاتھ کا فاصلہ ہوگا۔ وہ لوگوں سے کہے گا: میں تمہارا رب ہوں، وہ کانا ہوگا، جب کہ تمہارا ربّ کانا نہیں، اس کی آنکھوں کے درمیان کَافِرٌ یعنی ک ف ر لکھا ہوگا، اس لفظ کو ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ مومن پڑھ لے گا، وہ ہر پانی اور ہر گھاٹ یعنی ہر جگہ پہنچے گا، ماسوائے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے، اللہ تعالیٰ نے اِن دونوں حرموں کو اس کے لیے حرام کر دیا ہے، ان دونوں کے دروازوں پر فرشتے حفاظت کے لیے مامور ہیں، دجال کے پاس روٹی کے پہاڑ ہوں گے، اس کی پیروی کرنے والے لوگوں کے علاوہ باقی تمام مسلمان سخت فقرو فاقہ کی حالت میں ہوں گے، اس کے پاس دو نہریں ہوں گی، میں اُن دونوں کو اچھی طرح جانتا ہوں، وہ ایک نہر کو جنت اور ایک نہر کو جہنم ظاہر کرے گا، لیکن وہ جسے جنت کہے گا اور اس میں جس کو بھی داخل کرے گا، وہ اس کے لیے جہنم ہوگی اور وہ جسے جہنم کہے گا اوراس میں جس کو بھی داخل کرے گا، وہ اس کے لیے جنت ہوگی، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ شیاطین (جنات) کو بھی بھیجے گا، وہ لوگوں کے ساتھ ہم کلام ہوں گے، لوگوں کو آزمائش میں ڈالنے کے لیے اس کے پاس ایک بہت بڑا فتنہ ہوگا، وہ آسمان کو حکم دے گا تو لوگ دیکھ رہے ہوں گے کہ وہ بارش بر سائے گا اور وہ ایک آدمی کو قتل کر کے اسے زندہ بھی کرے گا اور لوگ یہ منظر دیکھ رہے ہوں گے، البتہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے علاوہ کسی دوسرے آدمی کو قتل کر کے زندہ کرنے کی طاقت نہیں دے گا۔ وہ لوگوں کو گمراہ کرتے ہوئے کہے گا: لوگو! کیا اللہ کے سوا کوئی اور بھی ایسے کام کر سکتا ہے؟ مسلمان ان حالات میں شام میں واقع پہاڑ دخان کی طرف دوڑ جائیں گے، لیکن وہ بھی ادھر جا کر ان کا محاصرہ کرے گا اورسخت محاصرہ کرے گا، وہ لوگ شدید فقر و فاقہ سے دو چا ہوجائیں گے، پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور صبح کے وقت یہ آواز دیں گے: لوگو! کیا بات ہے، تم بد ترین کذاب کے مقابلے کے لے کیوں نہیں نکلتے؟ پہلے تو لوگ سمجھیں گے کہ یہ کسی جن کی آواز ہے، لیکن جب جا کر دیکھیں گے تو وہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہوں گے، اتنے نما زکی جماعت کھڑی ہو جائے گی اور ان سے کہا جائے گا: اے روح اللہ! آپ آگے تشریف لائیں اور نماز پڑھائیں، لیکن وہ فرمائیں گے: تمہارا امام ہی آگے آئے اور نماز پڑھائے، وہ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد دجال کی طرف نکلیں گے،جب جھوٹا دجال ان کو دیکھے گا تو وہ پانی میں گھل جانے والے نمک کی طرح گھلنے لگ جائے گا، پھر عیسیٰ علیہ السلام اس کی طرف جا کر اسے قتل کر ڈالیں گے اور حالات مسلمانوں کے حق میں اس حد تک بہتر ہوجائیں گے کہ درخت اور پتھر پکار پکار کر کہیں گے: اے روح اللہ! یہ یہودی یہاں ہے، عیسیٰ علیہ السلام دجال کے ایک ایک پیروکار کو پکڑ پکڑ کر قتل کر دیں گے۔
Musnad Ahmad
44
۔ (۴۴)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُوْجِبَتَانِ، مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ، وَمَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَ ہُوَ یُشْرِکُ بِہِ دَخَلَ النَّارَ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۷۶۸)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دو واجب کر دینے والی خصلتیں ہیں، جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ شرک کرتا ہو تو وہ جہنم میں داخل ہو گا۔
Musnad Ahmad
1030
۔ (۱۰۳۰)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنْ حَلَّلْتُ الْحَلَالَ وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ وَصَلَّیْتُ الْمَکْتُوْبَاتِ وَلَمْ أَزِدْ عَلَی ذٰلِکَ أَ أَدْخُلُ الْجَنَّۃَ؟ فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((نَعَمْ)) (مسند أحمد: ۱۴۴۴۷)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ کہ سیدنا نعمان بن قوقلؓ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس تشریف لائے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں حلال کو حلال سمجھوں، حرام کو حرام سمجھوں اور فرضی نمازیں ادا کرتا رہوں اور اس سے زائد کچھ نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔
Musnad Ahmad
5676
۔ (۵۶۷۶۔) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا اسْتَجَارَ عَبْدٌ مِنَ النَّارِ ثَلَاثَ مِرَارٍ إِلَّا قَالَتِ النَّارُ: اَللّٰھُمَّ أَجِرْہُ مِنِّی، وَلَا یَسْأَلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا قَالَتِ الْجَنَّۃُ: اَللّٰھُمَّ أَدْخِلْہُ إِیَّایَ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۱۹۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی تین بار جہنم سے پناہ مانگتا ہے، تو جہنم کہتی ہے: اے اللہ! اس شخص کو مجھ سے پناہ دے دے، اسی طرح جب آدمی تین بار جنت کا سوال کرتا ہے تو جنت کہتی ہے: اے اللہ! اس کو میرے اندر داخل کر دے۔
Musnad Ahmad
8330
۔ (۸۳۳۰)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ (وَفِیْ لَفْظٍ: مَنْ قَرَاَ الْقُرْآنَ) فَاسْتَظْہَرَہٗوَحَفِظَہٗ،اَدْخَلَہُاللّٰہُالْجَنَّۃَ، وَشَفَّعَہٗفِیْ عَشْرَۃٍ مِنْ اَھْلِ بَیْتِہٖ کُلِّہَمْ قَدْ وَجَبَتْ لَھُمُ النَّارُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پیٹ میں قرآن مجید کا کوئی حصہ نہ ہو، وہ ویران گھر کی مانند ہے۔
Musnad Ahmad
11983
۔ (۱۱۹۸۳)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَرَیْتُنِیْ دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ فَاِذَا أَنَا بِالرُّمَیْصَائِ امْرَأَۃِ اَبِیْ طَلْحَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۵۷)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’مجھے خواب میں دکھلایا گیا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے وہاں ابو طلحہ کی اہلیہ رمیصاء کو پایا۔
Musnad Ahmad
13107
۔ (۱۳۱۰۷)۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُخْرِجُ اللّٰہُ قَوْمًا مُنْتِنِیْنَ قَدْ مَحَشَتْہُمُ النَّارُ بِشَفَاعَۃِ الشَّافِعِیْنَ، فَیُدْخِلُہُمُ الْجَنَّۃَ فَیُسَمُّوْنَ الْجَہَنَّمِیُّوْنَ قَالَ حَجَّاجٌ: اَلْجَہَنَّمِیِّیْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۱۷)
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سفارش کرنے والوں کی سفارش کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ایک گروہ کو جہنم سے نکالے گا، جو سڑچکے ہوں گے اور آگ نے انہیں جلا کر سیاہ کر دیا ہوگا، پھر ان کو جنت میں داخل کر دے گا، ان کو جہنمی کا نام دیا جائے گا۔ راویٔ حدیث حجاج نے جہنمیوں کی بجائے لفظ جہنمیین کہا ہے۔
Musnad Ahmad
13109
۔ (۱۳۱۰۹)۔ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا خَلَصَ الْمُوْمِنُوْنَ مِنَ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَاَمِنُوْا، فَمَا مُجَادَلَۃُ اَحَدِکُمْ لِصَاحِبِہٖ فِیْ الْحَقِّ یَکُوْنُ لَہُ فِی الدُّنْیَا بَاَشَّدَّ مُجَادَلَۃً لَہُ مِنَ الْمُوْمِنِیْنَ لِرَبِّہِمْ فِیْ اِخْوَانِہِمُ الَّذِیْنَ اُدْخِلُوا النَّارَ قَالَ: یَقُوْلُوْنَ: رَبَّنَا! اِخْوَانُنَا کَانُوْا یُصَلُّوْنَ مَعَنَا وَیَصُوْمُوْنَ مَعَنَا وَیَحُجُّوْنَ مَعَنَا فَاَدْخَلْتَہُمُ النَّارَ، قَالَ: فَیَقُوْلُ: اِذْھَبُوْا، فَاَخْرِجُوْا مَنْ عَرَفْتُمْ فَیَاْتُوْنَھُمْ فَیَعْرِفُوْنَہُمْ بِصُوَرِھِمْ لَاتَاْکُلُ النَّارُ صُوَرَھُمْ فَمِنْھُمْ مَنْ اَخَذَتْہُ النَّارُ اِلٰی اَنْصَافِ سَاقَیْہِ وَمِنْہُمْ مَنْ اَخَذَتْہُ اِلٰی کَعْبَیْہِ فَیُخْرِجُوْنَہُمْ، فَیَقُوْلُوْنَ: رَبَّنَا اَخْرِجْنَا مَنْ اَمَرْتَنَا، ثُمَّ یَقُوْلُ: اَخْرِجُوْا مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہِ وَزْنُ دِیْنَارٍ مِّنَ الْاِیْمَانِ، ثُمَّ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہِ وَزْنُ نِصْفِ دِیْنَارٍ، حَتّٰییَقُوْلَ: مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖمِثْقَالُذَرَّۃٍ۔)) قَالَ: اَبُوْسَعِیْدٍ فَمَنْ لَّمْ یُصَدِّقْ بِہٰذَا فَلْیَقْرَاْ ہٰذِہِ الْآیَۃَ {اِنَّ اللّٰہَ لَایَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ وَّاِنْ تَکُ حَسَنَۃًیُّضَاعِفُہَا وَیُؤْتِ مِنْ لَّدُنْہُ اَجْرًاعَظِیْمًا} ((قَالَ: فَیَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا قَد اَخْرَجْنَا مَنْ اَمَرْتَنَا فَلَمْ یَبْقَ فِی النَّارِ اَحَدٌ فِیْہِ خَیْرٌ قَالَ: ثُمَّ یَقُوْلُ اللّٰہُ: شَفَعَتِ الْمَلَائِکَۃُ وَشَفَعَ الْاَنْبِیَائُ وَشَفَعَ الْمُوْمِنُوْنَ وَبَقِیَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ قَالَ: فَیَقْبِضُ قَبْضَۃً مِّنَ النَّارِ اَوْ قَالَ: قَبْضَتَیْنِ، نَاسٌ لَمْ یَعْمَلُوْا لِلّٰہِ خَیْرًا قَطُّ قَدِ احْتَرَقُوْا حَتّٰی صَارُوْا حُمَمًا قَالَ: فَیُوْتٰی بِہِمْ اِلٰی مَائٍ یُقَالُ لَہُ مَائُ الْحَیَاۃِ فَیُصَبُّ عَلَیْہِمْ فَیَنْبُتُوْنَ کَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّۃُ فِیْ حَمِیْلِ السَّیْلِ فَیَخْرُجُوْنَ مِنْ اَجْسَادِھِمْ مِثْلَ اللُّوْ لُؤِ، فِیْ اَعْنَا قِہِمُ الْخَاتَمُ عُتَقَائُ اللّٰہِ، قَالَ فَیُقَالُ لَھُمْ: اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ فَمَا تَمَنَّیْتُمْ اَوْ رَأَیْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَہُوَ لَکُمْ، عِنْدِیْ اَفْضَلُ مِنْ ہٰذَا قَالَ: فَیَقُوْلُوْنَ: رَبَّنَا وَمَا اَفْضَلُ مِنْ ذٰلِکَ؟ قَالَ: فَیَقُوْلُ: رِضَائِیْ عَلَیْکُمْ فَلَا اَسْخَطُ عَلَیْکُمْ اَبَدًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۲۰)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جب اہل ایمان جہنم سے نجات پا کر مطمئن ہو جائیں گے تو دنیامیں کوئی مومن اپنے حق کے بارے میں اس قدر نہیں جھگڑتا، جتنا زیادہ یہ ایمان والے اپنے ان اہل ایمان بھائیوں کے بارے میں اپنے ربّ سے جھگڑا کریں گے، جن کو جہنم میں داخل کر دیا گیا ہوگا، وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! وہ ہمارے بھائی ہیں، ہمارے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے، ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے، ہمارے ساتھ حج کرتے تھے، تو نے ان کو جہنم میں داخل کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اچھا جاؤ، تم ان میں سے جن جن کو پہچانتے ہو، ان کونکال لاؤ۔ وہ ان کے پاس آئیں گے اور ان کو چہروں سے پہچان لیں گے، کیونکہ آگ ان کے چہروں کو نہیں جلائے گی، ان میں کسی کو آگ نے اس کی نصف پنڈلی تک اور کسی کو ٹخنوں تک جلایا ہوا ہوگا، وہ ان کو نکال لائیں گے اور کہیں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہمیںجن لوگوں کو وہاں سے نکال لانے کی اجازت دی تھی ان کو تو ہم لے آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس کے دل میں ایک دینار کے برابر بھی ایمان ہو، اب اس کو بھی نکال لاؤ، اس کے بعد فرمائے گا:جس کے دل میں نصف دینار کے برابر ایمان ہو، اس کو بھی نکال لاؤ، یہ سلسلہ جاری رہے گایہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہے اسے بھی نکال لاؤ۔ سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جس کو اس حدیث پر یقین نہیں آتا ،وہ یہ آیت پڑھ لے: {اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ وَّ اِنْ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفْھَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیْمًا} (بے شک اللہ تعالیٰ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا، اگر کسی کی وہ (ذرہ برابر) بھی نیکی ہو تو وہ اسے بڑھا دیتا ہے اور اپنی طرف سے بہت زیادہ اجر عطا فرماتا ہے)۔اہل ایمان کہیں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہمیں جن لوگوں کو نکال لانے کی اجازت دی تھی، ان کو تو ہم نکال لائے ہیں، اب جہنم میں کوئی ایسا آدمی نہیں رہا، جس کے دل میں کوئی خیر ہو۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فرشتے سفارش کر چکے، انبیاء بھی سفارش کر چکے اور اہل ایمان نے بھی سفارش کر لی ہے، اب ارحم الرحمین باقی رہ گیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ ایک یادو مٹھیاں بھر کر ایسے جہنمیوں کو نکالے گا، جنہوںنے کبھی بھی نیکی نہیں کی ہوگی اور وہ جل جل کر کوئلے بن چکے ہوں گے، پھر انہیں ماء الحیاۃ کی طرف لایا جائے گا اور وہ ان پر ڈالا جائے گا،اس سے وہ یوں اگنے لگیں گے، جیسے سیلاب کے تنکوں اورجھاگ وغیرہ میں دانے اگتے ہیں، وہ اپنے جسموں میںسے موتیوں کی مانند صاف شفاف چمکتے ہوئے نکلیں گے، ان کی گردنوں پر ایک مہر ہوگی اس پر عُتَقَائُ اللّٰہ لکھا ہوا ہوگا، ان سے کہا جائے گا: تم جنت میں داخل ہو جاؤاور تم جو تمنا کرو گے اور جو چیز دیکھو گے، وہ تمہاری ہو گی۔ اور تمہارے لیے میرے پاس اس سے بھی ایک بہترین چیز ہے۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے ربّ ! اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: وہ ہے تمہارے اوپر میری رضا مندی، چنانچہ اب میں کبھی بھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔