سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایران کا حکمر ان کون ہے؟ صحابہ نے بتلایا کہ ایک عورت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ قوم فلاح نہیں پاسکتی، جس پر عورت حکمران ہو۔
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پاسکتی، جو اپنے معاملات کو عورتوں کے سپرد کردیتی ہے۔
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہلِ فارس میں سے ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ربّ تبارک وتعالیٰ نے تمہارے ربّ یعنی کسریٰ کو قتل کر دیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا گیا کہ اس نے اپنی بیٹی کو اپنا نائب بنا رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ قوم فلاح نہیں پائے گی، جس پر عورت حکمران ہو۔
فوائد:… شریعت ِ اسلامیہ میں عورت کی اہمیت اور حقوق مسلّمہ ہیں، لیکن حکمرانی اور حاکمیت کے معاملات مردوں کے ساتھ خاص ہیں، عورتوں کا ان امور میں کوئی حق نہیں ہے، وہ معاشرہ اپنی مثال آپ ہے، جس میں خواتین و حضرات اپنی اپنی ذمہ داریاں سمجھتے ہوں اور ان کو نبھاتے ہوں، آپ غور کریں کہ عورت کے لیے مسجد کی بہ نسبت گھر کے مخفی مقام میں فرض نماز پڑھنا افضل اور بہتر قرار دیا گیا ہے، اگرچہ مسجد میں آنے کی اجازت دی گئی ہے۔
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: {وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا} … جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے نکلنے کی جگہ بنا دیتا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’اے ابو ذر! اگر سب لوگ اس آیت پر عمل کرنے لگ جائیں تو یہ آیت ان سب کے لیے کافی ہو گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آیت کو پڑھتے اور میرے سامنے بار بار دہراتے رہے، یہاں تک کہ میں اونگھنے لگا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! اگر تمہیں مدینہ سے نکال دیا گیا، تو تم کیا کرو گے؟ انھوں نے کہا: میں کسی ایسے علاقے میں چلا جاؤں گا، جہاں وسعت اور فراخی ہوگی، میں مکہ جا کر اس کے کبوتروں میں سے ایک کبوتر بن جاؤںگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں مکہ سے نکال دیا گیا تو پھر کیا کرو گے؟ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں وسعت وفراخی والی جگہ شام کی طرف چلا جاؤں گا کہ وہ مقدس سرزمین ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں شام سے بھی نکال دیا گیا تو تب کیاکروگے؟ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! تب میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوںگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے اس سے بہتر چیز نہ بتلا دوں؟ انھوں نے کہا: کیا کوئی کام اس سے بھی بہتر ہے؟ آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم حاکم کی بات سننا اور اس کو مان لینا، خواہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔
Takhreej
(۱۲۱۰۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، فان ابا السلیل لم یدرک ابا ذر، اخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۲۰ (انظر: ۲۱۵۵۱)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا۔ وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَہُوَ حَسْبُہ اِنَّ اللّٰہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لِکُلِّ شَیْء ٍ قَدْرًا }… اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے گا۔اور اسے رزق دے گا جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا اور جو کوئی اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اسے کافی ہے، بے شک اللہ اپنے کام کو پورا کرنے والا ہے، یقینا اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کیا ہے۔ (سورۂ طلاق: ۱،۲) یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن یہ آیت اپنے مضمون میں پراثر اور واضح نظر آ رہی ہیں۔
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! جب ایسے حکمران آجائیں جو مال کے بارے میں تمہارے اوپر دوسروں کو ترجیح دیں گے تو تم کیا کرو گے؟ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوں گا۔ اور پھر اس کے ساتھ لڑنا شروع کر دوں گا، یہاں تک کہ آپ سے آ ملوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتلادوں؟ وہ یہ ہے کہ تم ان حالات پر صبر کرنا، یہاں تک کہ مجھے آملو۔
Takhreej
(۱۲۱۰۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ خالد بن وھبان، اخرجہ ابوداود: ۴۷۵۹ (انظر: ۲۱۵۵۸)
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشکل ہویا آسانی،خوشی ہو یا غمی اور خواہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے، تم پر لازم ہے کہ تم حکمران کی بات سنو اور اس کو تسلیم کرو اور حکومت کے بارے میں حکومت والوں سے جھگڑا نہ کرواور تم ان کی اطاعت کرو، جب تک وہ تمہیں صریح گناہ کا حکم نہ دیں۔
فوائد:… غور کریں کہ مشکل ہو یا آسانی، خوشی ہو یا غمی، حق تلفی ہو یا حق کی ادائیگی، ہر حال میں حکمران کی بات سننے اور اس کو تسلیم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہاں جب حکمران صریح گناہ کا حکم دیں گے تو تب ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشکل ہو یا آسانی، خوشی ہو یا ناخوشی اور بیشک تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے، پھر بھی تم نے حکمران کی بات سننی ہے اور اس کو ماننا ہے۔ ‘
سیدہ ام حصین احمسیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرفات میں خطبہ ارشاد فرما تے ہوئے سنا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے اوپر کسی غلام کو حکمران بنا دیاجائے اور وہ کتاب اللہ کے مطابق تمہاری قیادت و رہنمائی کرے تو تم اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ عبداللہ بن امام احمد کہتے ہیں: میرے والد نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ مشکل ہو یا آسانی، خوشی ہو یا مجبوری، ہر حال میں حکمران کی بات سننی اور اس کی اطاعت کرنی ہے۔
Takhreej
(۱۲۱۰۶) تخریج: اخرجہ مسلم: ۱۸۳۸(انظر: ۲۷۲۶۹)
Explanation
فوائد:… اگر حکمران قرآن و حدیث کی روشنی میں رعایا کی حکمرانی کر رہا ہو تو پھر تو کوئی چارۂ کار نہیں ہو گا، ما سوائے اس کے کہ اس کی بات مانی جائے، اگرچہ وہ ناقص الخلقت اور ادھورا ہو، مال و دولت سے محروم ہو اور حسن و جمال سے خالی ہو۔
فوائد:… اگر حکمران قرآن و حدیث کی روشنی میں رعایا کی حکمرانی کر رہا ہو تو پھر تو کوئی چارۂ کار نہیں ہو گا، ما سوائے اس کے کہ اس کی بات مانی جائے، اگرچہ وہ ناقص الخلقت اور ادھورا ہو، مال و دولت سے محروم ہو اور حسن و جمال سے خالی ہو۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے او پر ایسے حکمران آئیں گے، جن کی حکمرانی پر تمہارے دل مطمئن ہوںگے اور تمہاری جلد ان کی اطاعت کے لیے نرم ہوگی، لیکن ان کے بعد ایسے حکمران بھی آئیں گے، جن سے تمہارے دل نفرت کریں گے اور ان کے خوف سے تمہارے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ایسے حکمرانوں سے لڑائی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک وہ نماز قائم رکھیں گے، اس وقت تک ان سے لڑنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسے حکمران ہوں گے کہ تم ان کے بعض امور کو پسند کرو گے اور بعض کو ناپسند، جس نے ان کے غلط کام پر انکار کیا، وہ بری ہو گیا، (یعنی اس نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی) ،جس نے ان کے غلط کام کو ناپسند کیا، وہ بھی (اللہ کی ناراضگی سے) بچ گیا، لیکن جو آدمی ان کے غلط کاموں پر راضی ہو گیا اور ان کی پیروی کرتا رہا، ( وہ اللہ کی ناراضگی سے نہیں بچ سکے گا۔) صحابہ کرام نے کہا:اللہ کے رسول! کیا ہم ایسے حکمرانوں سے لڑائی نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، وہ جب تک تمہارے لیے (یعنی تمہارے سامنے) پانچ نماز ادا کرتے رہیں گے، اس وقت تک نہیں لڑنا۔
Takhreej
(۱۲۱۰۹) تخریج: اخرجہ مسلم: ۱۸۵۴ (انظر: ۲۶۵۲۸)
Explanation
فوائد:… جس نے ایسے حکمرانوں کی اداؤں کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، وہ منافقت، حق پوشی اور چاپلوسی کرنے سے بچ جائے گا، جو حسبِ استطاعت خاموش ہو گیا، موافقت کی نہ مخالفت، تووہ کم از کم ان کے وبال میں شریک نہیں ہوگا، لیکن جو ان کے ساتھ راضی ہو گیا تو وہ تو ان کی سرکشی، بغاوت اور نافرمانی میں برابر کا شریک ہو گا۔ شاید یہ بات درست ہو کہ موجودہ دور کے تمام حکمران اور ان کے درباری اس قسم کی تمام احادیث کے مصداق ہیں۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم حکمران کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، خواہ تمہارے اوپر کوئی ایسا حبشی حکمران بنا دیا جائے، جس کا سر منقّی جیسا ہو۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریش کا قبیلہ میری امت کو ہلاک کرے گا۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے حالات میں آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ ان سے الگ تھلک رہیں گے( تو وہ ان کے شرّ سے بچے رہیں گے۔ امام احمد نے مرض الموت کے دنوں میں کہا: اس حدیث کو مٹا دو، کیونکہ یہ حدیث ان احادیث کے خلاف ہے، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم حکمرانوں کی بات سنو، ان کی اطاعت کرو اور صبر کرو۔
فوائد:… یہ دو الگ الگ احادیث ہیں اور دونوں کے مصداق الگ الگ حکمران ہیں، ایسے حکمران بھی گزر چکے ہیں کہ ہر حال میں جن کی بات سننا اور ان کی اطاعت کرنا ضروری تھا، لیکن ایسے حکمران بھی ہو گزرے ہیں کہ جن سے اجتناب کرنا بہتر تھا۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیرکی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیرکی نافرمانی کی، اس نے میری نافرمانی کی۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی۔ اور جس نے میری اطاعت کی، اس نے دراصل اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ کی عبادت کرے، ا س کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، حاکم کی بات سنے اور اس کی اطاعت کرے، جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہے گا، اللہ اسے اسی دروازے سے جنت میں داخل کرے گااو ر جو آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرے، نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، حاکم کی بات سنے اور اس کی اطاعت نہ کرے، تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے، اگر وہ چاہے تو اسے معاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے عذاب سے دوچار کرے۔
Takhreej
(۱۲۱۱۴) تخریج: اسنادہ حسن اخرجہ البزار: ۲۷۰۴ (انظر: ۲۲۷۶۸)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی معصیت ہوتو کسی بھی انسان کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔
۔ (دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی معصیت ہوتی ہو تو مخلوق کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔
Takhreej
(۱۲۱۱۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ بنحوہ مع القصۃ البخاری ۷۲۵۷، ومسلم: ۱۸۴۰ (انظر: ۱۰۹۵)
Explanation
فوائد:… اصل کلیہ اور ضابطہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کی جائے اور ان دونوں کی نافرمانی سے بچا جائے، کوئی تیسری ہستی ایسی نہیں ہے کہ فرمانبرداری و نافرمانی کے سلسلے میں جس کی حیثیت مستقل بالذات ہے۔
دیکھیں: حدیث نمبر (۳۲۹)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جہادی لشکر روانہ کیااور ایک نصاری کو ان پر امیر مقر ر فرمایا، وہ کسی بات پر اپنے لشکر سے ناراض ہوگیا، اس نے ان سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں میری اطاعت کرنے کا حکم نہیں دیا ہے؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں،دیا ہے، پس اس نے کہا: لکڑیاں جمع کرو، پھر اس نے آگ منگوا کر ان کو آگ لگا دی اور کہا:میں تم لوگوں کو تاکیدی حکم دیتا ہو ں کہ تم اس آگ میں کود جاؤ، بعض لوگوں نے تو واقعی آگ میں گھس جانے کا ارادہ کر لیا، اتنے میں ان میں سے ایک نوجوان نے کہا: تم آگ سے بچنے کے لیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آئے ہو، لہٰذا جلدبازی نہ کرو، پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تو مل لو، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگ میں داخل ہونے کا حکم ہی دیا تو داخل ہوجانا، پس جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارا ماجرہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تم آگ میں داخل ہوجاتے تو کبھی بھی اس سے نہ نکل سکتے، اطاعت صرف جائز کا م میں ہوتی ہے۔
فوائد:… کوئی اعلی ہو یا ادنی، حاکم ہو یا محکوم، جس کی بات بھی قرآن و حدیث کے مخالف ہو گی، اس کی کوئی اطاعت نہیں کی جائے گی۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: یہ حدیث ِ مبارکہ کئی فوائد پر مشتمل ہے، ایک فائدہ یہ ہے: اللہ تعالیٰ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیںکی جا سکتی، وہ امراء و حکام ہوں یا علماء و مشائخ۔ معلوم ہوا کہ درج ذیل تین گروہ گمراہ ہیں:
(پہلا گروہ)… بعض صوفی منش لوگ اپنے پیروں اور شیخوں کی تقلید کرتے ہیں، اگرچہ وہ ان کو واضح نافرمانی کا حکم دیں، ان کی دلیل یہ ہے کہ وہ درحقیقت نافرمانی نہیں ہوتی، کیونکہ شیخ کی علم و معرفت کی سطح مرید سے کہیں زیادہ ہوتی ہے اور جو کچھ شیخ دیکھتا ہے، وہ مرید کو نظر نہیں آ رہا ہوتا۔
میں ایک ایسے ہی شیخ کو جانتا ہوں، وہ اپنے آپ کو مرشد سمجھتا ہے، وہ ایک دن مسجد میں اپنے مریدوں کے سامنے ایک قصہ بیان کر رہا تھا، جس کا خلاصہ یہ ہے:
ایک صوفی شیخ نے ایک رات اپنے مرید کو حکم دیا کہ وہ اپنے باپ کو قتل کر کے آئے، جو اِس وقت بستر پر اپنی بیوی کے ساتھ لیٹا ہوا تھا، سو اس نے اپنے باپ کو قتل کر دیا اور اس بات پر خوش تھا کہ اس نے اپنے شیخ کے حکم کی تعمیل کی ہے۔ جب شیخ نے اس کی طرف دیکھا تو پوچھا: کیا تو اس گمان میں ہے کہ تو نے اپنے حقیقی باپ کو قتل کر دیا؟ نہیں،نہیں۔ وہ تو تیری ماں کا یار تھا، تیرا باپ تو گھر پر موجود ہی نہ تھا۔
اس نے قصہ بیان کر کے اس سے بزعم خودایک شرعی حکم کا استدلال کرتے ہوئے کہا: جب کوئی شیخ اپنے مرید کو ایسا حکم دے،جو شریعت کے مخالف ہو، تو مرید کو چاہیے کہ وہ اس کی پاسداری کرے۔ تم لوگ دیکھتے نہیں کہ اس شیخ نے اپنے مرید سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اپنے باپ کو قتل کر کے آئے۔ دراصل وہ اسے اس کی ماں کے ساتھ زناکرنے والے کو قتل کرنے کا حکم دے رہا تھا اور وہ شرعاً قتل کا ہی مستحق تھا۔
قارئین کرام! غور فرمائیں کہ اس قصہ کے باطل ہونے کی کئی وجوہات ہیں ، مثال کے طور پر:
(اول)… حدّ نافذ کرنا شیخ کا حق نہیں ہے، وہ کتنا عظیم ہی کیوں نہ ہو، یہ امیر یا والی کا حق ہے۔
(دوم)… اگر اس شیخ کو نفاذِ حدّ کا حق تھا تو اس نے عورت پر حدّ کیوں نہ لگائی؟ کیونکہ وہ دونوں اس برائی میں برابر کے مجرم اور برابر کے سزا کے حقدار تھے۔
(سوم)… شادی شدہ زانی کی حد رجم یعنی پتھروں سے سنگسار کرنا ہے، نہ کہ صرف قتل۔
واضح ہوا کہ شیخ نے کئی طرح سے شریعت کی مخالفت کی، یہی معاملہ اِ س مرشد کا ہے، جو اس قصے کو بنیاد بنا کر شیخ کی تقلید کو واجب قرار دے رہا ہے، اگرچہ یہ قصہ شریعت کے مخالف ہے۔
اِس مرشد نے اپنے باطل بیان کے دوران مریدوں سے یہ بات بھی کہی تھی کہ اگر تم اپنے شیخ کی گردن میں صلیب دیکھو تو تم اس پر اعتراض کرنے کا کوئی جواز نہیں رکھتے۔
اگرچہ یہ کلام واضح طور پر باطل ہے اور شرع اور عقل کے مخالف ہے، لیکن اس کے باوجود بااعتماد نوجوانوں سمیت بعض لوگوں پر اس کا جادو چل جاتا ہے۔
اسی قسم کے ایک مرید کے ساتھ اس قصہ کے موضوع پر میرا مباحثہ ہونے لگا، اس نے یہ سارا واقعہ اور اس سے کیا جانے والا استدلال اپنے مرشد سے سنا ہوا تھا۔ اس کے خیال کے مطابق یہ اس شیخ کی کرامت تھی اور اس کا اس قصے کے صحیح ہونے پر مکمل اعتماد تھا۔ اس نے مجھے کہا: تم لوگ کرامتوں کا انکار کرتے ہو۔ لیکن جب میں نے اسے کہا: اگر تیرا شیخ تجھے یہ حکم دے کہ تو اپنے والدین کو قتل کر دے تو کیا اس کی اطاعت کرے گا؟ اس نے کہا: میں ابھی تک اس مقام تک نہیں پہنچا۔
ستیاناس ہو اس قیادت کا، کہ جس سے لوگوں کے عقل ماؤف ہو جاتے ہیں اور وہ ضلالت و گمراہی میں پھنسے ہوئے شیخوں کے اس قدر تابع نظر آتے ہیں۔
(دوسرا گروہ)…مقلدین کا گروہ، جو اپنے امام کے قول کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث پر ترجیح دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب کسی مقلِّد سے کہا جاتا ہے کہ اقامت ہو جانے کے بعد فجر کی سنتیں نہ پڑھا کرو، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، تو وہ اس حدیث کی اطاعت نہیںکرے گا، بلکہ یوں لب کشائی کرے گا: ہمارے مذہب میں جائز ہے۔ اسی طرح جب (حنفی) مقلدوں سے کہا جاتا ہے کہ حلالہ والا نکاح باطل ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے کرنے والے پر لعنت کی ہے، تو وہ جواب دے گا: نہیں، نہیں۔ بلکہ فلاں فلاں مذہب کے مطابق جائز ہے۔ اسی طرح کے سینکڑوں مسائل ہیں۔
اکثر محقق علماء و فقہاء کا یہ خیال ہے کہ اس قسم کے مقلد اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مصداق ہیں: {اِتَّخَذُوْا أَحْبَارَھُمْ وَ رُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ} (سورۂ توبہ: ۳۱) … ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو ربّ بنایا ہے۔ فخر الرازی نے اپنے تفسیر میں اس کی خوب وضاحت کی ہے۔
(تیسرا گروہ) …وہ لوگ، جو اپنے حکمرانوں کے وضع کردہ ان قوانین و ضوابط کی پیروی کرتے ہیں، جو شریعت کے مخالف ہوتے ہیں، جیسے کیمونزم اور اس کے ملتے جلنے نظام۔ اور ان سے بدتر وہ لوگ ہیں، جو شریعت کے ان مخالف امور کو شریعت سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ ایسی مصیبت ہے جس نے عصرِ حاضر کے علم و اصلاح کے دعویداروں کا گھیراؤ کر لیا ہے اور عوام کو ان سے بڑا دھوکہ ہوا ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ یہ پیروکار اپنے قائدین سمیت اس آیت کا مصداق بنتے ہیں: {اِتَّخَذُوْا أَحْبَارَھُمْ وَ رُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ} (سورۂ توبہ: ۳۱) … ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو ربّ بنایا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے حمایت و حفاظت اور سلامتی کا سوال کرتے ہیں۔ (صحیحہ: ۱۸۱)