۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم لوگ آگ میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اسی میں رہتے۔ اور جن لوگوں نے آگ میں داخل ہونے سے انکار کیا تھا، آپ نے ان کے بارے میں اچھی بات ارشاد فرمائی اور فرمایا: اللہ کی معصیت ہو تو کسی کی اطاعت نہیں کی جاسکتی، اطاعت تو صرف جائز کام میں ہوتی ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انسان پر لازم ہے کہ وہ حکمران کی بات سنے اور اس کی اطاعت کرے، وہ ان امور کو چاہتا ہو یا نہ چاہتا ہو، ما سوائے اس کے کہ جب اس کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دیا جائے تو اس حکم کو نہ سنے اور نہ اس کی اطاعت کرے۔
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی کوئی فرمانبرداری نہیںہے۔
حسن سے روایت ہے کہ زیاد نے حکم غفاری کو ایک لشکر پر امیر بنایا، سیدناعمران بن حصین رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور لوگوں کے ما بین اس سے ملے اور کہا: کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ہاں کس لیے آیا ہوں؟ ا س نے کہا: جی بتائیں، کس لیے آئے ہیں؟ انہو ں نے کہا، کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ بات یاد ہے جوآپ نے اس آدمی سے ارشاد فرمائی تھی، جسے اس کے امیر نے کہا تھا، آگ میں گھس جا، مگر اس آدمی نے یہ بات ماننے سے انکار کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: اگر وہ آگ میں داخل ہو جاتا تو وہ دونوں(حکم دینے والا اور اس کو ماننے والا) جہنم میں جاتے، اللہ تعالیٰ کی معصیت ہو رہی ہو تو کسی کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔ حکم غفاری نے کہا: جی ہاں، یاد ہے۔ پھر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں یہ حدیث یاد دلانا چاہتا تھا۔
سیدنا عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ زیاد نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو خراسان کی طرف بھیجنے کا اردہ کیا، لیکن انھوں نے یہ ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا، ان کے ساتھیوں نے ان سے کہا: آپ نے خراسان کی امارت کا انکار کر دیا؟ انہوں نے کہا: مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ امارت کی مشکلات تو میں برداشت کروں اور اس کے ثمرات سے تم فائدہ اٹھاؤ، دراصل میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ اگر میں دشمن کے مقابلے میں ہوں اور زیاد کا خط مجھے ملے، (اس خط کے مطابق) اگر میں آگے بڑھوں تو ہلاک ہوتا ہوں اور اگر پیچھے ہٹوں تومجھے قتل کر دیا جائے، پس زیاد نے سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کو اس لشکر پر امیر بنانے کا ارادہ کیا اور انھوں نے زیاد کے اس حکم کو تسلیم کر لیا، اُدھر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا:کوئی ہے جو حکم رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بلا لائے؟ ایک آدمی گیا اور حکم رضی اللہ عنہ آ گئے،جب وہ ان کے ہا ں پہنچے تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ کی معصیت ہوتی ہو تو کسی کی اطاعت نہیں کی جا سکتی۔ ؟ انھوں نے کہا، جی ہاں، عمران رضی اللہ عنہ (نے شکر ادا کرتے ہوئے) لِلّٰہِ الْحَمْدُ یا اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے راویت ہے، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر ہم پر ایسے حکمران مسلط ہو جائیں جو آپ کی سنت کی اقتدا نہ کریں اور آپ کے حکم پر عمل نہ کریں تو ان کے بارے میں ہمارے لیے کیا حکم ہو گا؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہیں کرتا، اس کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوںنے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ابو ہریرہ! تم تو اس وقت موجود نہ تھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے ہمارے ہاں یثرب میں تشریف لائے، ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی کہ ہم چستی اور سستی یعنی ہر حال میں آپ کی بات سن کر اس کی اطاعت کریںگے، اور خوش حالی ہو یا تنگ دستی، جب بھی ضرورت پڑی تو ہر حال میں خرچ کریں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے، اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی والی بات کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے سے خوف زدہ نہیں ہوں گے، ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دل وجان سے مدد کریں گے اورجن جن چیزوں سے ہم اپنی جانوں، بیویوں اور بیٹوں کو بچاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی ان سے بچائیں گے اور اس کے بدلے ہمیں جنت ملے گی۔ یہ وہ امورِ بیعت ہیں، جن پر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی ہے، جو اس کی خلاف ورزی کرے گا، اس کا وبال اسی پر ہوگا۔ اللہ کے بارے میں جو بیعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لی اور کی ہے، کون ہے جو اپنی بیعت کو ان سے بڑھ کر پورا کرنے والا ہو؟ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو لکھا کر سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے شام اور اہل شام کو میرے خلاف کر دیا ہے، آپ یا تو عبادہ رضی اللہ عنہ کو اپنے ہاں بلالیں، ورنہ میں انہیں شام سے باہر نکلوا دوں گا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ آپ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ واپس بھیج دیں، پس سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کو واپس بھجوادیا، پس جب وہ مدینہ واپس آئے تو وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ گھرمیں ان کے ہاں گئے، گھر میں سابقین اولین میں سے صرف ایک آدمی تھا اور وہ بھی لوگوںکے پاس چلا گیا، عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے، وہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: عبادہ!آپ کا اور ہمارا کیا معاملہ ہے؟ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور کہا: میں نے ابو القاسم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ عنقریب تمہارے معاملات پر اسے لوگ غالب آجائیں گے کہ تم جن کاموں کو غلط سمجھتے ہو گے، وہ انہیں صحیح سمجھیں گے اور تم جن کاموں کو اچھا سمجھتے ہو گے، وہ انہیں غلط سمجھیں گے، جو آدمی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے تو اس کی اطاعت نہیں کی جاسکتی، تم اپنے رب کے ہاں اس کی کوئی معذرت پیش نہیں کر سکو گے۔
Takhreej
(۱۲۱۲۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، اسماعیل بن عیاش ضعیف فی روایتہ عن غیر اھل بلدہ، وھذا منھا، واسماعیل بن رفاعۃ الانصاری، روی عنہ اثنان، واحدھما ضعیف، وذکرہ ابن حبان فی الثقات (انظر: ۲۲۷۶۹)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو ہجرت سے قبل مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ جا کر اسلام قبول کرنے اور بیعت عقبہ اولیٰ میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا، اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے بارہ افراد کو نقیب یعنی ذمہ دار اور نگران مقرر کیا تھا، ان نقباء میں سے ایک سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ تھے، حدیث کے شروع میں سیدنا عبادہ اس بیعت والے امور کا ذکر کر رہے ہیں۔
فصل سوم: حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے کے وجوب اوران کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرتے رہنے کا بیان
Takhreej
(۱۲۱۲۵) تخریج: صحیح لغیرہ، اخرجہ ابن ماجہ: ۲۳۶(انظر: ۱۳۳۵۰)
Explanation
فوائد:… حکمرانوں کے لیے خیرخواہی یہ ہے کہ امورِ حق میں ان کی اطاعت کی جائے اور ان کی بغاوت نہ کی جائے۔
تین باتیں ایسی ہیں، جن پر مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا اس سے مراد یہ ہے کہ ان تین امور سے دلوں کی اصلاح ہوتی ہے، جس شخص نے ان تین امور کو اپنایا، اس کا دل خیانت اور شرّ سے پاک ہو گیا۔
خیانت نہ کرنے کامفہوم یہ ہے کہ مومن دیانتدار کے ساتھ حدیث میں مذکور امور سر انجام دیتا ہے اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتتا اگر یہ لفظ یَفِلُ پڑحا جائے جو کہ وغول سے ہے، جس کا معنی داخل ہونا ہے تو پھر اس کا معنی یہ ہے کہ ان مذکورہ امور سے دلوں کی اصلاح ہوتی ہے اور مومن ان کاموں کو سر انجام دے کر شرور سے بچ جاتا ہے جیسا کہ فوائد کے تحت بیان ہوا۔ (دیکھیں بلوغ الامانی اور نہایۃ ابن اثیر) (عبداللہ رفیق)
قاسم بن عوف شیبانی، ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، اس نے کہا:ہم ابوذر کو کوئی چیز بطور ہدیہ دینا چاہتے تھے، ہم وہ اٹھا کر لے گئے اور ربذہ مقام میں پہنچے، جب ہم نے ان کے متعلق دریافت کیا تو بتلایا گیا کہ انہوں نے حج کے لیے جانے کی اجازت مانگی تھی اور انہیںمل گئی تھی، پھر ہم منیٰ میں ان سے ملے، ہم ان کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ان کو بتایا گیا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مِنی میں چاررکعت پڑھی ہے، یہ بات ابوذر رضی اللہ عنہ پر بہت گراں گزری اور انہوں نے سخت باتیں کہہ دیں اور پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ یہاں نماز پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھی تھیں، میں نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ یہاں مِنی میں نماز پڑھی ہے (انھوں نے بھی دو رکعتیں پڑھائی ہیں)، اس کے بعد سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر چار رکعات پڑھیں۔ کسی نے ان سے کہا کہ تم نے جس با ت کو امیر المومنین کے لیے معیوب سمجھا ہے، اس پر خود عمل کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا: اختلاف کرنا بہت برا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ میرے بعد ایک بادشاہ آئے گا، تم اسے رسوانہ کرنا، جس نے اسے رسواکرنے کا ارادہ کیا، اس نے اسلام کی رسی کو اپنی گردن سے اتار پھینکا، اور اس کی توبہ اس وقت تک قبول نہ ہوگی، جب تک اس کی ڈالی ہوئی دراڑ ختم نہ ہو گی، مگر وہ ایسا نہ کرسکے گا۔ یعنی اپنی ڈالی ہوئی دراڈ کو پر نہ کر سکے گا۔ اس کے بعد وہ اس بادشاہ کی عزت کرے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ یہ حکمران تین باتوں میں ہم پر غالب نہ آجائیں یعنی وہ ہمیں ان تین کاموں سے روک نہ سکیں، بلکہ ہم یہ کام برابر کرتے رہیں۔ امر بالمعروف، نہی عن المنکر او رلوگوں کو سنتوں کی تعلیم دینا۔
Takhreej
(۱۲۱۲۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الراوی عن ابی ذر، والقاسم بن عوف الشیبانی ذکر ابن حبان فی الثقات وضعفہ النسائی، وقال ابو حاتم مضطرب الحدیث ومحلہ عندی الصدق (انظر: ۲۱۴۶۰)
Explanation
فوائد:… سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا منی میں پوری نماز ادا کرنا، نماز کے ابواب میں اس کی وجوہات بیان کی جا چکی ہیں۔
سعید بن جمہان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ نابینا ہوچکے تھے، میں نے سلام کہا، انہوں نے مجھ سے پوچھا، تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں سعید بن جمہان ہوں، انہو ںنے کہا: تمہارے والد کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا؟ میں نے کہا: ازارقہ نے اسے قتل کر ڈالا۔ انھوں نے کہا: اللہ، ازارقہ پر لعنت کرے، اللہ ازارقہ پر لعنت کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے بیان فرمایا تھا کہ یہ لوگ جہنم کے کتے ہیں۔ میں نے پوچھا: صرف ازارقہ یا سارے خوارج؟ انہو ںنے کہا: سارے خوارج۔ میں نے کہا: بادشاہ لوگوں پر ظلم ڈھاتا ہے اور کچھ اچھے کام بھی کرتا ہے، (اس کے بارے میں کیا کہنا یا کرنا چاہیے)؟ انہو ں نے میرا ہاتھ پکڑ کر زور سے دبایا اور پھر کہا: اے ابن جمہان! تم پر افسوس، تم سوا داعظم یعنی بڑے لشکر کے ساتھ رہنا، اگر بادشاہ تمہاری بات سنتا ہو تو اس کے گھر میں اس کے پاس جا کر جو کچھ تم جانتے ہو، اس بتلا دینا، اگر وہ آپ کی بات مان لے تو بہتر، ورنہ رہنے دینا، کیونکہ تم اس سے زیادہ نہیں جانتے۔
Takhreej
(۱۲۱۲۷) تخریج: رجالہ ثقات غیر حشرج بن نباتۃ، فقد وثقہ احمد ویحیی بن معین، وابوداود، واختلف قول النسائی فیہ … (انظر: ۱۹۴۱۵)
Explanation
فوائد:… حدیث نمبر (۱۲۸۲۲) والے باب میں خوارج کی تفصیل آ رہی ہے
شریح بن عبید حضرمی وغیرہ سے مروی ہے کہ ایک علاقہ فتح ہوا اور سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے ایک گھر کے مالک کی پٹائی کردی، سیدنا ہشام بن حکیم بن حزام نے ان کو سخت قسم کی باتیں کہہ دیں، عیاض رضی اللہ عنہ ناراض ہوگئے، کچھ دنوں کے بعد سیدنا ہشام بن حکیم نے آکر معذرت کی، پھر سیدنا ہشام نے عیاض رضی اللہ عنہ سے کہا:کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا، جو دنیا میں لوگوں کو سخت عذاب دیتے ہیں۔ سیدناعیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے کہا: ہشام! جو کچھ تم نے سنا، وہ ہم بھی سن چکے ہیںاور جو کچھ تم نے دیکھا، وہ ہم بھی دیکھ چکے ہیں۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی بادشاہ کے ساتھ خیر خواہی کرنے کا ارادہ کرے، وہ لوگوں کے سامنے کچھ نہ کہے، بلکہ اس کا ہاتھ پکڑ کر خلوت میں لے جائے، اگر وہ حکمران اس کی بات کو قبول کر لے تو بہتر، ورنہ اس آدمی نے اپنا فریضہ ادا کر دیا۔ اے ہشام! تم بڑے جرأت مند ہو،کیونکہ تم نے تو اللہ کے سلطان پر جرأت کی ہے، کیا تمہیں اس بات سے ڈر نہیں لگتا کہ اللہ تعالیٰ کا بادشاہ تم کو قتل کر دے اور اس طرح تم اللہ کے بادشاہ کے مقتول بن جاؤ۔
فوائد:… نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکمران کو سمجھانے کا بڑا خوبصورت طریقہ بیان کیا ہے، راوی نے اس طریقہ کو نہ اپنانے کا انجام بھی بیان کر دیا ہے۔
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک کی نسبت دو، دو کی نسبت تین اور تین کی نسبت چا ر بہتر ہیں، پس تم جماعت کے ساتھ رہو، اللہ تعالیٰ میری امت کو ہدایت کے سوا دوسرے کسی کا م پر ہرگز جمع نہیں کرے گا۔
Takhreej
(۱۲۱۲۹) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، البختری بن عبید متروک الحدیث، وابوہ عبید بن سلمان الطابخی مجھول (انظر: ۲۱۲۹۳)
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمانوں کی جماعت کی ایک بالشت بھر بھی مخالفت کی، اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے اتار پھینکی۔
ربعی بن حراش کہتے ہیں: جن ایام میں لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مخالفت میں بغاوت کر کے ان کی طرف روانہ ہوئے تو میں انہی راتوں میں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں مدائن گیا، انہو ںنے مجھ سے کہا: ربعی! تمہاری قوم نے کیا کیا ہے؟ میں نے کہا: آپ ان کے کس فعل کے بارے میں پوچھ رہے ہیں؟ انہو ںنے کہا: کون لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف گئے ہیں؟ سو میں نے جانے والوں میں سے کچھ افراد کے نام ذکر کر دئیے، انہو ں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے مسلمانوں کی جماعت سے علیحدگی اختیار کی اور امارت و حکومت کو ذلیل کرنے کی کوشش کی، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں جا کر ملے گا کہ اللہ کے ہاں اس کی کوئی توقیر نہیں ہو گی۔
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی دنیا میں اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے بادشاہ کا اکرام کرے، اللہ قیامت کے دن اس کا اکرام کرے گا اور جس نے دنیا میں اللہ کے بنائے ہوئے بادشاہ کی توہین و تذلیل کی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ذلیل ورسوا کرے گا۔
فوائد:… بادشاہ کی عزت اور بے عزتی عام آدمی کی عزت اور بے عزتی کی بہ نسبت زیادہ اہمیت رکھتی ہے، ہر صاحب ِ عزت اس چیز کو محسوس کرتا ہے، اس لیے حکمرانوں کے ساتھ وہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے، جو عوام الناس کے ساتھ اختیار کیا جاتا ہے، اسی قسم کی ایک درج ذیل مثال پر غور کریں:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَقِیْلُوْا ذَوِيْ الْھَیْئَاتِ عَثَرَاتِھِمْ اِلَّا الْحُدُوْدَ۔)) … صاحب ِ حیثیت لوگوں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو، مگریہ کہ وہ حدود ہوں۔ (ابو دواد: ۴۳۷۵، صحیحہ: ۶۳۸)
دنیا کا ہر وہ معاشرہ جس کو تہذیب و شائستگی سے ادنی سا تعلق بھی رہا ہو، اپنے اندر موجود باوقار، شریف النفس اور رذائل سے دور رہنے والے افراد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کی چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں اور فرو گذاشتوں کو نظر انداز کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ کیونکہ شریعت کا مقصد تربیت کرنا ہے، تربیت کے لیے ضروری نہیں کہ زجر و توبیخ سے ہی کام لیا جائے یا تعزیر ہی لگائی جائے، کیونکہ بعض صاحب ِ حیثیت لوگوں کو شرم دلانے کے لیے اور آئندہ ایسے جرائم سے محفوظ کرنے کے لیے یہی کافی ہوتا ہے کہ لوگوں پر ان کا پول کھل جائے، جبکہ عام لوگوں کو سمجھانے کیلیے یہ کلیہ کافی نہیں ہے۔
اس حدیث ِ مبارکہ میں اسی اخلاقی خوبی کو سراہنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، ہاں اگر جرم کی نوعیت حدود اللہ کی پامالی تک جا پہنچتی ہے تو پھر قانون مساوات سب کے لیے ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس چیز کی بیعت لیا کرتے تھے کہ حاکم کا حکم سن کر اس کی اطاعت کی جائے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ہی فرما دیتے: جتنی تم میں طاقت اور استطاعت ہو۔ ایک راوی نے کہا: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں لقمہ دیتے اور یادہانی کرا دیتے کہ جتنی تم میں طاقت ہو گی (اس کے مطابق تم حاکم کی اطاعت کرو گے)۔
فوائد:… یعنی حاکم کے حکم کی اطاعت اسی وقت تک ہے جب تک آدمی اسے پورا سکتا اور بجا لاسکتا ہو، حاکم کا جو حکم خارج از استطاعت ہو، اس کی اطاعت نہ کی جائے۔
یہ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحم دلی ہوتی تھی کہ بیعت میں طاقت اور استطاعت کی شرط لگوا دیتے تھے، تاکہ اگر کسی مجبوری اور شرعی عذر کی وجہ سے کسی شق کو توڑنا پڑ جائے تو بیعت کا معاہدہ برقرار رہے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی کہ ہم حکمران کی بات سنیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن تمہاری استطاعت کے مطابق۔
Takhreej
(۱۲۱۳۴) تخریج: صحیح لغیرہ، اخرجہ ابن ماجہ: ۲۸۶۸ (انظر: ۱۲۲۰۳)
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے اس دائیں ہاتھ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی کہ میں حکمران کی بات سنوں گا اور اس کی اطاعت کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن جتنی طاقت، اس کے مطابق۔
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی کہ ہم مشکل میں اور آسانی میں، چستی میں اور سستی میں اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دئیے جانے کے باوجود حاکم کی بات مانیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے اور حکومت کے معاملے میں حکومت کے افراد سے جھگڑا نہیں کریں گے اور ہم حق کے ساتھ کھڑے ہوں گے، وہ جہاں بھی ہو گا، اور ہم اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کریں گے۔
فوائد:… احادیث اپنے مفہوم میں واضح ہیں کہ ہر صورت میں وقت کے امیر اور حاکم کی اطاعت کرنا فرض ہے، جب تک وہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کا حکم نہیں دیتا۔ اس وقت تک اس کی امارت و ملوکیت کو قابل تسلیم اور قابل اطاعت سمجھا جائے جب تک اس میں واضح کفر نظر نہیں آ جاتا۔ اس حدیث کے آخری حصے میں انتہائی اہم نصیحت کی گئی ہے مسلمانوں کو شریعت کے اٹل فیصلوں پر برقرار رہنا چاہئے، ان کے طرزِ حیات میں استقامت اور سنجیدگی ہونی چاہئے، زمان و مکان سے متاثر نہیں ہونا چاہئے، اسی بات کو حق مانا جائے جو شریعت کے ہاں حق ہے اور جہاں بھی اس کے اعلان کی ضرورت پڑے، کسی قسم کی جھجک کے بغیر اس کا اظہار کر دیا جائے۔
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ، جو کہ سات نقباء میں سے ایک تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بات پر بیعت کی کہ ہم تنگی اور آسانی میں اور خوشی اور ناخوشی میں حکمران کی بات سنیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے، حکومت کے بارے میں اہل حکومت سے جھگڑ انہیں کر یں گے اور ہم جہاں بھی ہوں گے، حق بات کہیں گے اور اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہیں کریں گے۔ سفیان راوی نے کہا: بعض حضرات نے اس حدیث میں یہ الفاظ زائد روایت کیے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (تم اس وقت تک حکمران کی اطاعت کرنا) جب تک واضح کفر نہ دیکھ لو۔