TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام - قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام - Book 109 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 109 of Musnad Ahmad, with 38 chapters and 181 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

181 Hadith · 38 Chapters
نفس کی حفاظت کرنے اوراسے ہلاکت سے بچانے کے واجب ہونے کا بیان
۔ (۶۴۸۰) عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَنْبَغِیْ لِمُسْلِمٍ أَنْ یُذِلَّ نَفْسَہُ۔)) قِیْلَ وَ کَیْفَیُذِلُّ نَفْسَہُ؟ قَالَ: ((یَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلَائِ لِمَا لَا یُطِیْقُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۳۷)
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لائق نہیں کہ وہ خود اپنے نفس کو ذلت میں ڈال دے۔ کسی نے کہا: وہ اپنے نفس کو کیسے ذلت میں ڈالتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ایسی بلائوں اور آزمائشوں کے درپے ہو جاتا ہے، جن کی وہ طاقت نہیں رکھتا۔
Takhreej
(۶۴۸۰) تخریج: اسنادہ ضعیف من اجل علی بن زید بن جدعان۔ أخرجہ الترمذی: ۲۲۵۴، وابن ماجہ: ۴۰۱۶(انظر: ۲۳۴۴۴)
Explanation
فوائد:… مسلمان کو ہمیشہ عافیت کا سوال کرنا چاہیے اور اپنے آپ کو روحانی اور جسمانی آزمائشوں اور ہلاکت گاہوں سے بچانا چاہیے۔
6480
Zaeef
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
۔ (۶۴۸۱) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَمْسٌ فَوَاسِقُ یُقْتَلْنَ فِی الْحَرَمِ الْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَۃُ، وَالْحُدَیَّا، وَالْکَلْبُ الْعَقُوْرُ، وَالْغُرَابُ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((اَلْغُرَابُ الْأَبْقَعُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۵۵۳)
۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانچ فاسق اور موذی جانور ہیں، ان کو حرم میں بھی مار دیا جائے،بچھو، چوہیا، چیل، کلب ِ عقور اورکوا۔ ایک روایت میں ہے: مختلف رنگ والا کوا۔
Takhreej
(۶۴۸۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۸۲۹، ومسلم: ۱۱۹۸(انظر: ۲۴۰۵۲)
Explanation
فوائد:… ’’الْعَقُوْرُ‘‘ کا معنی بہت زیادہ کاٹنے والا بھی ہے۔
6481
Sahih
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
۔ (۶۴۸۲) عَنْ وَبْرَۃَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَتْلِ الْفَأْرَۃِ وَالْغُرَابِ وَالذِّئْبِ، قَالَ: قِیْلَ لِاِبْنِ عُمَرَ: فَالْحَیَّۃُ وَالْعَقْرَبُ؟ قَالَ: قَدْ کَانَ یُقَالُ ذَالِکَ۔ (مسند احمد: ۴۷۳۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چوہیا، کوے اور بھیڑیے کو قتل کرنے کا حکم دیا، کسی نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: بچھو اورسانپ کو بھی قتل کیا جائے گا؟ انھوں نے کہا: ان کے بارے میں بھی ایسی ہی بات کی جاتی ہے۔
Takhreej
(۶۴۸۲) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ البیھقی: ۵/ ۲۱۰، والدارقطنی: ۲/۲۳۲ (انظر: ۴۷۳۷)
6482
Sahih
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
۔ (۶۴۸۳)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَیْہِ وَھُوَ حَرَامٌ، أَنْ یَقْتُلَہُنَّ، الْحَیَّۃُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَۃُ وَالْکَلْبُ الْعَقُوْرُ وَالْحِدَأَۃُ۔)) (مسند احمد: ۵۱۰۷)
۔ (دوسری سند) سے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے اس طرح بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں کہ ان کو قتل کرنے میں محرم پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے، سانپ، بچھو، چوہیا، کلب ِ عقور اور چیل۔
Takhreej
(۶۴۸۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۱۹۹(انظر: ۵۱۰۷)
Explanation
فوائد:… ’’اَلْکَلْبُ الْعَقُوْرُ‘‘: حقیقت میں اس لفظ کا اطلاق ہر زخمی کرنے والے اور چیر پھاڑ کرنے والے درندے پر بھی ہوتا ہے، جیسے شیر، چیتا، بھیڑیا۔ درندگی میں اشتراکیت کی وجہ سے ان کو بھی ’’کَلْب‘‘ کہتے ہیں۔ (تحفۃ الاحوذی) ہڑکائے ہوئے اور باؤلے کتے کا بھییہی حکم ہو گا۔ امام مالک نے ’’المؤطا‘‘ میںکہا: ہر وہ جانور جو لوگوں کوکاٹے، ان پر حملہ کرے اوران کو ڈرائے، مثلا: شیر، چیتا، فہد، بھیڑیا، وہ عَقُور ہے۔ (فہد،چیتے کی طرح کا ایک درندہ ہوتا ہے) ابو عبیدہ نے سفیان سے یہی قول نقل کیا ہے اور یہی جمہور اہل علم کی رائے ہے۔ ان جانوروں کے لیے لفظ ’’فَاسِق‘‘ استعمال ہوا، اس کا لفظی معنی ہے نکلنے والا، یہاں اس سے مراد وہ جانور ہیں کہ تکلیف پہنچانے اور افساد انگیزی کی وجہ سے جن کا حکم دوسرے جانوروں کے حکم سے خارج ہو گیا ہے۔ اس باب کی احادیث ِ صحیحہ میں درج ذیل کل سات جانوروں کا ذکر ہوا ہے: بچھو، کوا، چیل، چوہا، کلب ِ عقور، سانپ، بھیڑیا کیا ان کے علاوہ کسی جانور کو قتل نہیں کیا جا سکتا؟ حافظ ابن حجر کہتے ہیں: روایات کے مطابق پانچ جانوروں کو مقید کرنا، اگرچہ اس کے مفہوم میں خصوصیت پائی جاتی ہے، لیکنیہ مفہوم العدد ہے، جو اکثر اہل علم کے نزدیک حجت نہیں ہے، اگر اس کی حجیّت تسلیم کر لیں تو اس کو اس معنی پر محمول کیا جائے گا کہ شروع شروع میں آپ a نے پانچ جانوروں کے بارے میں ہی حکم دیا، بعد میں ان میں اضافہ کر دیا۔ سیدہ عائشہ cکی حدیث کے بعض طرق میں ’’چار‘‘ کا اور بعض میں ’’چھ‘‘ کا لفظ روایت کیا گیا ہے، ’’چار‘‘ کی روایت صحیح مسلم میں ہے، اس میں بچھو کا ذکر نہیں ہے اور ’’چھ‘‘ کی روایت مستخرج ابو عوانہ میں ہے، اس میں بچھو کا ذکر موجود ہے اور سانپ کا اضافہ کیا گیا ہے، صحیح مسلم کی شیبان کی روایت اس روایت کا شاہد ہے، اگرچہ اس میں کسی عدد کا ذکر نہیں ہے، …۔ (فتح الباری: ۴/ ۴۴) جن روایات میں خون خوار درندے اور چیتے وغیرہ کے الفاظ ہیں، ان پر نقد کیا گیا ہے۔ آپa نے مذکورہ بالا جن جانوروں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے یہ جانور انسان کے لیے ضرر، نقصان، تکلیف، خوف اور فساد کا سبب بن سکتے ہیں، بلکہ اِن کی وجہ سے انسان کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے، اس لیے جس جانور میںیہ وصف پایا جائے، محرِم و غیر محرِم کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ اس کو حرم میں قتل کر دے، جبکہ کلب ِ عقور کا مفہوم بھییہی بنتا ہے۔
6483
Sahih
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
۔ (۶۴۸۴) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَیْنِ فِیْ الصَّلَاۃِ، قَالَ یَحْیٰی: وَالْأَسْوَدَانِ الْحَیَّۃُ وَالْعَقْرَبُ۔ (مسند احمد: ۷۴۶۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو کالی رنگت والوں کو مارنے کا حکم دیا ہے یحییٰ بن حمزہ کہتے ہیں کاگی رنگت والوں سے مراد سانپ اور بچھو ہے۔
Takhreej
(۶۴۸۴) أخرجہ ابوداود: ۹۲۱، والترمذی: ۳۹۰، والنسائی: ۳/۱۰، وابن ماجہ: ۱۲۴۵(انظر: ۷۴۶۹)
Explanation
فوائد:… سیاہ سانپ کو ’’اَسْوَد‘‘ کہتے ہیں اور ہر قسم کے سانپ کو ’’اَسْوَد‘‘ کہتے ہیں،یہاں مطلق سانپ مراد ہے، سانپ اور بچھو دونوں کو ’’اَسْوَدَیْن‘‘ کہہ دینا ’’باب التغلیب‘‘ میں سے ہے۔
6484
Sahih
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
۔ (۶۴۸۵)۔ عَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: کُنَّا جُلُوْ سًا فِیْ مَسْجِدِ الْخَیْفِ لَیْلَۃَ عَرَفَۃَ الَّتِیْ قَبْلَ یَوْمِ عَرَفَۃَ إِذْ سَمِعْنَا حِسَّ الْحَیَّۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اقْتُلُوْا۔))، قَالَ: فَقُمْنَا فَدَخَلَتْ شَقَّ جُحْرٍ، فَأُتِیَ بِسَعَفَۃٍ فَأُضْرِمَ فِیْہَا نَارًا وَأَخَذْنَا عُوْدًا فَقَلَعْنَا عَنْہَا بَعْضَ الْجُحْرِ فَلَمْ نَجِدْھَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَعُوْھَا وَقَاھَا اللّٰہُ شَرَّکُمْ کَمَا وَقَاکُمْ شَرَّھَا۔)) (مسند احمد: ۳۶۴۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ عرفہ کے دن سے پہلے والی رات کو مسجد ِ خیف میں بیٹھے ہوئے تھے، اچانک ہم نے سانپ کی حرکت محسوس کی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے مار ڈالو۔ ہم اسے مارنے کے لئے کھڑے ہوئے تو وہ ایک پتھر کی دراڑ میں گھس گیا، پس کھجوروں کی شاخیں لائی گئیں اور اس میں آ گ جلائی گئی، پھر ہم نے ایک لکڑی لی اور پتھر کو اس کی جگہ سے کچھ ہٹایا، لیکن وہ سانپ نہ مل سکا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب اسے چھوڑدو، اللہ نے اس کو تمہارے شر سے اور تمہیں اس کے شر سے بچا لیا ہے۔
Takhreej
(۶۴۸۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۸۳۰،، ۴۹۳۱، ۴۹۳۴، ومسلم: ۲۲۳۴، ۲۲۳۵(انظر: )
Explanation
فوائد:… سانپ کو مارنا شرعی حکم ہے، لیکن سانپ کے لیےیہ کسی شرّ سے کم نہیں ہے کہ اس کو مار دیا جائے، اس لیے آپ a نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے سانپ کو تمہارے شرّ سے محفوظ کر لیا ہے۔ ممکن ہے کہ آگ جلانے کا مقصد یہ ہو کہ سانپ باہر نکل آئے گا، بہرحال آگ سے عذاب دینا ممنوع ہے۔
6485
Sahih
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
۔ (۶۴۸۶)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (یَعْنِیْ ابْنَ مَسْعُوْدٍ) قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمِنًی قَالَ: فَخَرَجَتْ عَلَیْنَا حَیَّۃٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اقْتُلُوْھَا۔)) فَابْتَدَرْنَاھَا فَسَبَقَتْنَا۔ (مسند احمد: ۳۵۸۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم منٰی میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، اچانک ایک سانپ نکل آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے مار ڈالو۔ پس ہم اسے مارنے کے لئے دوڑے، لیکن وہ نکل گیا۔
Takhreej
(۶۴۸۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
6486
Sahih
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
۔ (۶۴۸۷) عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ غَارٍ (وَفِیْ لَفْظٍ: بِحِرَائَ) فَأُنْزِلِتْ عَلَیْہِ: {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} فَجَعَلْنَا نَتَلَقَّاھَا مِنْہُ فَخَرَجَتْ حَیَّۃٌ مِنْ جَانِبِ الْغَارِ فَقَالَ: ((اقْتُلُوْھَا۔)) فَتَبَادَرْنَاھَا فَسَبَقَتْنَا فَقَالَ: ((اِنَّہَا وُقِیَتْ شَرَّکُمْ کَمَا وُقِیْتُمْ شَرَّھَا۔)) (مسند احمد: ۴۰۶۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ غار حراء میں بیٹھے ہوئے تھے، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سورت {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} نازل ہوئی، ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے وہ سورت سیکھ رہے تھے کہ اچانک ایک سانپ غار کی جانب سے نمو دار ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے مار ڈالو۔ ہم اس کی طرف لپکے لیکن وہ ہم سے نکل گیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے شر سے محفوظ رہا اور تم اس کے شر سے۔
Takhreej
(۶۴۸۷) تخریج: انظر الحدیث السابق
6487
Sahih
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
۔ (۶۴۸۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَرَکَ الْحَیَّاتِ مَخَافَۃَ طَلْبِہِنَّ فَلَیْسَ مِنَّا، مَا سَالَمْنَاھُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاھُنَّ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے سانپ کی انتقامی کاروائی سے ڈرتے ہوئے اس کو چھوڑا، وہ ہم میں سے نہیں ہے، جب سے ہماری ان سے لڑائی ہوئی ہے، اس وقت سے ہم نے ان کوئی صلح نہیں کی۔
Takhreej
(۶۴۸۷) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… انسان اور سانپ، دونوں جبلی اور فطرتی طور پر ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں، اسی عداوت کو اس حدیث میںبیان کیا جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آدمg اور سانپ کے ما بین اس دشمنی کا آغاز اس وقت ہوا تھا، جب ابلیس کو جنت کے دربانوں نے آدمg کے پاس پہنچنے سے روکا تو سانپ نے اس کو جنت میں داخل کیا تھا، پھر اس نے آدم اور حواm کو ممنوعہ درخت کا پھل کھانے پر آمادہ کیا اور اس طرح ان کو جنت سے نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔ سانپ کی انتقامی کاروائی سے ڈرنا محض توہم پرستی ہے، دورِ جاہلیت میں کہا جاتا تھا کہ سانپ کو قتل نہ کرو، وگرنہ اس کا خاوند یا بیوی انتقام لینے کے لیے قتل کرنے والے کو ڈسے گی۔ پاکستان کے بعض علاقوں میں ابھی تک اس قسم کی وہمی باتیں پائی جاتی ہیں، مثلًا ایک مخصوص سانپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پیچھے سات سانپ آتے ہیں۔ نبی کریمa کا مقصد یہ ہے کہ سانپوں میں اس قسم کا کوئی سلسلہ نہیں پایا جاتا، لہذا ان کو قتل کرنے کی ہی کوشش کرنی چاہیے۔
6488
Sahih
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
۔ (۶۴۸۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۷۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Takhreej
(۶۴۸۹) تخریج: أخرجہ (انظر: )
6489
Sahih
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
۔ (۶۴۹۰) عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَتَلَ حَیَّۃً فَلَہُ سَبْعُ حَسَنَاتٍ، وَمَنْ قَتَلَ وَزَغًا فَلَہُ حَسَنَۃٌ، وَمَنْ تَرَکَ حَیَّۃً مَخَافَۃَ عَاقِبَتِہَا فَلَیْسَ مِنَّا۔)) (مسند احمد: ۳۹۸۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو سانپ کو قتل کرے، اسے سات نیکیاں ملتی ہیں اور جو چھپکلی کو مارے، اسے ایک نیکی ملتی ہے اور جس نے سانپ کو اس کے انتقام کے خوف کی وجہ سے چھوڑ دیا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
Takhreej
(۶۴۹۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، المسیب بن رافع لم یلق ابن مسعود۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۰۴۹۲(انظر: ۳۹۸۴)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو ہریرہbسے مروی ہے کہ رسول اللہa نے فرمایا: ((مَنْ قَتَلَ وَزَغًا فِی أَوَّلِ ضَرْبَۃٍ کُتِبَتْ لَہُ مِائَۃُ حَسَنَۃٍ وَفِی الثَّانِیَۃِ دُونَ ذَلِکَ وَفِی الثَّالِثَۃِ دُونَ ذَلِکَ۔))… ’’جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں قتل کر دیا، اس کے لیے سو نیکیاں ہیں اور جس نے دوسری ضرب میں قتل کیا، اس کے لیے اس سے کم نیکیاں ہیں اور جس نے تیسری ضرب میں قتل کیا، اس کے لیے اس سے کم نیکیاں ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم: ۲۲۴۰)
6490
Zaeef
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
۔ (۶۴۹۱) عَنْ اَبِیْ الْأَحْوَصِ الْجُشَمِیِّ قَالَ: بَیْنَا ابْنُ مَسْعُوْدٍ یَخْطُبُ ذَاتَ یَوْمٍ فَاِذَا ھُوَ بِحَیَّۃٍ تَمْشِیْ عَلَی الْجِدَارِ، فَقَطَعَ خُطْبَتَہُ ثُمَّ ضَرَبَہَا بِقَضِیْبِہِ أَوْ بِقَصَبَۃٍ، قَالَ یُوْنُسُ: بِقَضِیْبِہِ، حَتّٰی قَتَلَہَا ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ قَتَلَ حَیَّۃً فَکَأَنَّمَا قَتَلَ رَجُلًا مُشْرِکًا قَدَ حَلَّ دَمُہُ۔)) (مسند احمد: ۳۹۹۶)
۔ ابو الاحوص جشمی کہتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خطبہ دے رہے تھے، اچانک انہوں نے دیکھا کہ ایک سانپ دیوار پر چل رہا ہے، انھوں نے اپنے خطاب کو روک دیا اور اپنی چھڑی کے ساتھ اس کو مارنا شروع کردیا،یہاں تک کہ اس کو قتل کر دیا اور پھر کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے سانپ کو مارا، گویا کہ اس نے اس مشرک کو قتل کر دیا، جس کا خون بہانا جائز ہو چکا تھا۔
Takhreej
(۶۴۹۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو الاعین العبدی ضعفہ یحیی بن معین، وقال ابو حاتم: مجھول، وقال ابن حبان: لا یجوز الاحتجاج بہ، وورد ھذا الحدیث موقوفا واسنادہ صحیح۔ أخرجہ الطیالسی: ۳۱۵، وابویعلی: ۵۳۲۰، وابن ابی شیبۃ: ۵/ ۴۰۵(انظر: ۳۹۹۶)
6491
Zaeef
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
۔ (۶۴۹۲) عَنْ عِکْرَمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَا أَعْلَمُہُ اِلَّا رَفَعَ الْحَدِیْثَ،قَالَ: کَانَ یَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَیَّاتِ وَیَقُوْلُ: مَنْ تَرَکَہُنَّ خَشْیَۃِ أَوْ مَخَافَۃَ تَأْثِیْرٍ فَلَیْسَ مِنَّا، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اِنَّ الْحَیَّاتِ مَسِیْخُ الْجِنِّ کَمَا مُسِخَتِ الْقِرَدَۃُ مِنْ اِسْرَائِیْلَ۔ (مسند احمد:۳۲۵۴)
۔ عکرمہ کہتے ہیں: میرایہی خیالیہ کہ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے مرفوعاً بیان کیا کہ رسول اللہ V نے سانپوں کو قتل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: جس نے ان کو ان کی انتقامی کاروائی سے ڈرتے ہوئے چھوڑا، وہ ہم میں سے نہیںہے۔ پھر سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بیشک سانپ، جنوں کی مسخ شدہ شکلیں ہیں، جیسا کہ بنواسرائیل کو بندروں کی شکلوں میں مسخ کیا گیا تھا۔
Takhreej
(۶۴۹۲) تخریج: أخرجہ ابوداود: ۵۲۵۰ (انظر: ۳۲۵۴)
6492
Sahih
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
۔ (۶۴۹۳) وَعَنْہُ اَیُضًا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْحَیَّاتُ مَسِیْخُ الْجِنِّ۔)) (مسند احمد: ۳۲۵۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بعض سانپ جنوں سے مسخ شدہ ہیں۔
Takhreej
(۶۴۹۳) تخریج: صحیح موقوفا۔ أخرجہ البزار: ۱۲۳۲، وابن حبان: ۵۶۴۰ (انظر: ۳۲۵۵)
Explanation
فوائد:… آپ کو علم ہونا چاہیے کہ اس حدیث کا یہ مفہوم نہیں کہ موجودہ سانپ جنوں کی مسخ شدہ شکلیں ہیں۔ اس کا مفہوم تو یہ ہے کہ بعض جنوں کو سانپوں کی شکل میں مسخ کیا گیا تھا، جیسا کہ یہودیوں کو بندروں اور خنزیروں کی شکلوں میں مسخ کیا گیا تھا، لیکن ایسی حالت میں ان کی نسل نہیں ہوئی تھی، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود b کہتے ہیں کہ آپa کی مجلس میںیہ بات ہونے لگی کہ بندر اور خنزیر کس کی مسخ شدہ شکلیں ہیں۔ یہ سن کر آپ a نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَمْسَخْ شَیْئًا فَیَدَعَ لَہٗنَسْلًااَوْعَاقِبَۃً، وَقَدْ کَانَتِ الْقِرَدَۃُ وَالْخَنَازِیْرُ قَبْلَ ذَالِکَ۔)) (صحیح مسلم) … ’’جب اللہ تعالی کسی مخلوق کو (دوسری مخلوق کی شکل میں) مسخ کرتے ہیں تو اس کی آگے نسل اور اولاد نہیں ہوتی (یعنی وہ اسی مسخ شدہ شکل میں ہلاک ہو جاتی ہے) اور بندر اور خنزیر (جن کے بارے میں تم باتیں کر رہے ہو، یہ تو مسخ شدہ قوموں سے) پہلے بھی تھے۔‘‘
6493
Sahih
گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
۔ (۶۴۹۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ قَتْلِ حَیَّاتِ الْبُیُوْتِ اِلَّا الْأَبْتَرَ وَ ذَا الطُّفْیَتَیْنِ فَاِنَّہُمَا یَخْتَطِفَانِ (وَفِیْ لَفْظٍ: یَطْمِسَانِ) الْأَبْصَارَ وَیَطْرَحَانِ الْحَمَلَ مِنْ بُطُوْنِ النِّسَائِ وَمَنْ تَرَکَہُمَا فَلَیْسَ مِنَّا۔ (مسند احمد: ۲۴۵۱۱)
۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے، ماسوائے ان دو سانپوں کے، چھوٹی دم والا موذی سانپ اور جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، کیونکہیہ نظر کا نور اچک لیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل گرا کر دیتے ہیں، جوان دونوں کو چھوڑے گا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
Takhreej
(۶۴۹۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۳۰۸، ومسلم: ۲۲۳۲ (انظر: ۲۴۰۱۰)
Explanation
فوائد:… ممکن ہے کہ ان سانپوںکی نظر میں زہریلا مواد ہو اور اس چیز کا بھی احتمال ہے کہ ان کے ڈسنے سے نظر ختم ہو جاتی ہو اور حاملہ عورتوںکے حمل گر جاتے ہیں، ایک معنییہ بھی کیا گیا ہے کہ جب حاملہ عورت ان کی طرف دیکھتی ہے اور ڈرتی ہے تو اس کا حمل گر جاتا ہے۔
6494
Sahih
گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
۔ (۶۴۹۵)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ قَتْلِ عَوَامِرِ الْبُیُوْتِ اِلَّا مَنْ کَانَ مِنْ ذَوِی الطُّفْیَتَیْنِ وَالْأَبْتَرَ فَاِنَّہُمَا یَکْمِہَانِ الْأَبْصَارَ وَتُخْدَجُ مِنْہُنَّ النِّسَائُ۔ (مسند احمد: ۲۲۶۱۷)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے،ما سوائے دو سانپوں کے، ایک جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں اور دوسرا چھوٹی دم والا موذی سانپ، یہ دونوں نظر کو ختم کر دیتے ہیں اور ان کی وجہ سے حاملہ عورتوں کے حمل گر جاتے ہیں۔
Takhreej
(۶۴۹۵) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۷۷۲۶ (انظر: ۲۲۲۶۲)
6495
Sahih
گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
۔ (۶۴۹۶)۔ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اقْتُلُوْا الْحَیَّاتِ وَاقْتُلُوْا ذَا الطُّفْیَتَیْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّہُمَا یُسْقِطَانِ الْحَبَلَ وَیُطْمِسَانِ الْبَصَرَ۔)) قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَرَآنِیْ أَبُوْ لُبَابَۃَ أَوْ زَیْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَنَا أُطَارِدُ حَیَّۃً لِأَقْتُلَہَا فَنَہَانِیْ، فَقُلْتُ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ أَمَرَ بِقَتْلِہِنَّ، فَقَالَ: إِنَّہُ قَدْ نَہٰی بَعْدَ ذَالِکَ عَنْ قَتْلِ ذَوَاتِ الْبُیُوْتِ، قَالَ الزُّھْرِیُّ: وَھِیَ الْعَوَامِرُ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۴۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سانپوں کو قتل کرو اور خاص طور پر پشت پر دو دھاریوں والے کو اور چھوٹی دم والے موذی سانپ کو، کیونکہیہ دونوں حمل گرادیتے ہیں اور نظر مٹا دیتے ہیں۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابو لبابہ نے یا سیدنا زید بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے مجھے دیکھا کہ میں ایک سانپ کومارنے کے لئے اس کا پیچھا کر رہا تھا تو اس نے مجھے ایسا کرنے سے منع کر دیا، میں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو مارنے کا حکم دیا ہے، لیکن انہوں نے کہا کہ بعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھریلو سانپوں کو قتل کرنے سے روک دیا تھا۔
Takhreej
(۶۴۹۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۹۷، ۳۲۹۸، ومسلم: ۲۲۳۳(انظر: ۱۵۷۴۸)
6496
Sahih
گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
۔ (۶۴۹۷)۔ عَنْ نَافِعٍ قَالَ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ یَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَیَّاتِ کُلِّہِنَّ، فَاسْتَأْذَنَہُ أَبُوْ لُبَابَۃَ أَنْ یَدْخُلَ مِنْ خَوْخَۃٍ لَھُمْ إِلَی الْمَسْجِدِ فَرَآھُمْ یَقْتُلُوْنَ حَیَّۃً، فَقَالَ لَھُمْ أَبُوْ لُبَابَۃَ: اَمَا بَلَغَکُمْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ قَتْلِ أُوْلَاتِ الْبُیُوْتِ وَالدُّوْرِ وَأَمَرَ بِقَتْلِ ذَوِی الطُّفْیَتَیْنِ؟ (مسند احمد: ۱۵۸۴۳)
۔ امام نافع روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تمام قسم کے سانپوں کو مارنے کا حکم دیا کرتے تھے، ایک دن سیدنا ابولبابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے ان کی کھڑکی سے مسجد میں آنے کی اجازت طلب کی اور ان کو دیکھا کہ وہ ایک سانپ قتل کررہے تھے، پس سیدنا ابو لبابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا تمہیںیہ بات نہیں پہنچی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع کیا اور اس سانپ کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے، جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں۔
Takhreej
(۶۴۹۷) تخریج: انظر الحدیث السابق
6497
Sahih
گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
۔ (۶۴۹۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ یَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَیَّاتِ کُلِّہِنَّ لَایَدَعُ مِنْہُنَّ شَیْئًا، حَتّٰی حَدَّثَہُ أَبُوْ لُبَابَۃَ الْبَدَرِیُّ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذَرِ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ قَتْلِ جِنَّانِ الْبُیُوْتِ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۳۲)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہر قسم کے سانپ مارنے کا حکم دیا کرتے تھے اور کسی کو نہیں چھوڑتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا ابو لبابہ بدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع کر دیا تھا۔
Takhreej
(۶۴۹۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
6498
Sahih
گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
۔ (۶۴۹۹)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ فَتَحَ خَوْخَۃً لَہُ وَعِنْدَہُ أَبُوْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیُّ فَخَرَجَتْ عَلَیْہِمْ حَیَّۃٌ فَأَمَرَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ بِقَتْلِہَا، فَقَالَ أَبُوْ سَعِیْدٍ: اَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ أَنْ یُؤْذِنَہُنَّ قَبْلَ أَنْ یَقْتُلَہُنَّ۔ (مسند احمد: ۱۱۱۰۶)
۔ سیدنا زید بن اسلم کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی ایک کھڑکی کھولی، ان کے پاس سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی موجود تھے، اچانک ایک سانپ نکلا، سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے مارنے کا حکم دیا، لیکن سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا تم یہ نہیں جانتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ حکم دیا کہ ان کو قتل کرنے سے پہلے اطلاع دی جائے۔
Takhreej
(۶۴۹۹) تخریج: اسنادہ حسن فی الشواھد (انظر: ۱۱۰۹۰)
6499
Sahih

Chapters

38
01
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
13 Hadith
02
مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے والے کی وعید کا بیان
8 Hadith
03
مسلمان کا خون کو جائز قرار دینے والے امور کا بیان
5 Hadith
04
ذمیوں اورمعاہدہ والوں کے قتل کے حرام ہونے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
4 Hadith
05
خود کشی کرنے پر وعید کا بیان، وہ جس چیز سے مرضی خود کشی کرے
8 Hadith
06
نفس کی حفاظت کرنے اوراسے ہلاکت سے بچانے کے واجب ہونے کا بیان
3 Hadith
07
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
13 Hadith
08
گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
8 Hadith
09
چھپکلی کو قتل کرنے کے مستحب ہونے اور اس کو مارنے والے کے اجر و ثواب کا بیان
6 Hadith
10
کتوں کو قتل کرنے اور انہیں پالنے کا بیان کتوں کو قتل کرنے کے حکم اور اس کے سبب کا بیان
7 Hadith
11
کالے سیاہ کتے کے علاوہ باقی کتوں کو قتل نہ کرنے کی رخصت کا بیان
4 Hadith
12
اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
5 Hadith
13
جس گھر میں کتا یا تصویر ہو، اس میں فرشتوں کے داخل نہ ہونے کا بیان
6 Hadith
14
ان حیوانات کا بیان، جن کا قتل کرنا جائز نہیں ہے
2 Hadith
15
حیوانیا انسان کو باندھ کر قتل کرنے یا اذیت والی چیز سے قتل کرنے اور پھر انسان کا مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
10 Hadith
16
ہر روح والی چیز کو آگ سے جلانے کی ممانعت کا بیان
3 Hadith
17
قصاص کے ابواب قتل عمد پر قصاص کے ثابت ہونے اور اس کے مستحق کو قصاص اور دیت میں اختیار دینے کا بیان
3 Hadith
18
اس چیز کا بیان کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور آزاد کو غلام کے بدلے قتل کیے جانے کا مسئلہ
5 Hadith
19
مرد کو عورت کے بدلے اور عورت کو عورت کے بدلے قتل کرنے اور بھاری آلے سے قتل کرنے اور قاتل کو اسی انداز میں قتل کرنے کا بیان، جس میں اس نے کیا ہو
4 Hadith
20
والدین کو اولاد کے بدلے میں قتل نہ کرنے اور ایک مقتول کے قصاص میں دو افراد کو قتل کرنے کا بیان
4 Hadith
21
حکمرانوں سے قصاص لیے جانے کا بیان، الا یہ کہ مستحق صلح کر لے یا معاف کر دے
3 Hadith
22
قصاص لینے کا مستحق ہونے کے بعد معاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
23
دانت توڑنے کے قصاص کا بیان
2 Hadith
24
کان کا بعض حصہ کاٹنے میں قصاص لینے کا بیان
1 Hadith
25
اس چیز کا بیان کہ ایک آدمی کسی کا ہاتھ کاٹنے کے لیے منہ میں ڈالے اور وہ اپنا ہاتھ کھینچے جس کے نتیجے میں اس کے سامنے والا دانت گر جائے
3 Hadith
26
زخم کے درست ہونے سے پہلے قصاص لینے کی ممانعت کا بیان
1 Hadith
27
کیا حرم یا دیگر مساجد میںقصاصیا حدیں لگائی جا سکتی ہیں؟
3 Hadith
28
قسامہ کا بیان
3 Hadith
29
دیت کے ابواب نفس، اعضاء اور اعضاء کی منفعتوں کی دیت کا جامع تذکرہ اور اس میں قتل خطا، قتل عمد اور قتل شبہ عمد کا بیان
3 Hadith
30
شبہ عمد کے مقتول کی دیت کا بیان
6 Hadith
31
محض قتلِ خطا کی دیت کا بیان
4 Hadith
32
قتل کے علاوہ اعضا اور زخموں وغیرہ کی دیت کا بیان
6 Hadith
33
ذمیوں اور مکاتَب کی دیت کا بیان
6 Hadith
34
جنین کی دیت کا بیان
5 Hadith
35
اس شخص کا بیان کہ جس کے والد کو از راہِ خطا قتل کر دیا گیا اور پھر اس نے اس کی دیت کو مسلمانوں پر خیرات کر دیا
1 Hadith
36
قتل کا سبب بننے کی وجہ سے دیت کے واجب ہونے کا بیان اورگڑھے میں گرنے والوں کا واقعہ
1 Hadith
37
عاقلہ اور دیت کی ذمہ داری اٹھانے والوں کا بیان
5 Hadith
38
کسی شخص کا دوسرے کے جرم کی وجہ سے مؤاخذہ نہیں ہو گا، اگرچہ وہ اس کا سب سے قریبی رشتہ دار ہو
4 Hadith
No chapter matched that.