قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام - قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام - Book 109 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 109 of Musnad Ahmad, with 38 chapters and 181 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فتح مکہ کے سال مکہ میں داخل ہوئے تو لوگوں کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطاب کرنے کیلئے کھڑے ہوئے، … یہ ایک طویل حدیث ہے…، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کافر کی دیت مسلمان کی دیت سے نصف ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکاتَب کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ اگر اس کو قتل کر دیا جائے تو وہ اپنی مکاتَبت میں سے جتنا حصہ ادا کر چکا تھا، اس کی اتنی دیت آزاد آدمی کی ادا کی جائے گی، اور جتنا حصہ باقی تھا، اتنی دیت غلام کی ہو گی۔
فوائد:… اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر مکاتَب قتل ہو جائے تو اس کے قاتل کے لیے ضروری ہے کہ وہ مکاتَب کتابت کا جتنا حصہ ادا کر چکا تھا، اس کے مطابق اس کے وارثوں کو آزاد کی دیت ادا کرے اور اس کا جتنا حصہ ابھی تک غلام تھا، اس کے مطابق اس کے مالک کو غلام کی دیت ادا کرے۔ مثلا جو غلام نصف رقم ادا کر چکا ہو، وہ نصف آزاد ہو گا اور نصف غلام، اس حالت میں اگر وہ قتل ہو جائے تو نصف آزاد حصے کی دیت پچاس اونٹ ہو گی اور باقی نصف غلام کی دیت دی جائے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ غلام کی دیت کیسے دی جائے گی؟ تو گزارش ہے کہ اس مسئلے میں نبی کریمa کوئی مرفوع روایت نہیں ملتی، لیکنیہ مسئلہ اہل علم کے درمیان اس طرح مشہور ہے کہ غلام کی دیت میں اس کی قیمت ادا کرنا ہو گی، آگے اختلاف کی ایک اور صورت بھی ہے کہ اگر غلام کی قیمت آزاد آدمی کی دیت سے بھی زیادہ ہو جائے تو کیا اس کی قیمت کیادائیگی لازم ہو گییا نہیں؟ راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ قیمت لازم ہو گی۔ واللہ اعلم۔
مکاتب:… اس غلام کو کہا جاتا ہے جو اپنا معاوضہ ادا کرنے کا معاہدہ اپنے مالک سے کر لے، ایسا غلام جب تک معاوضہ ادا نہ کر دے، وہ اس مالک کا غلام ہی رہتا ہے۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مکاتب جتنی ادائیگی کر چکا ہو، اس کی اتنی آزاد کی دیت ادا کی جائے گی اور جتنی قسطیں باقی ہوں، اتنی غلام کی دیت دی جائے گی۔
۔ (تیسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مکاتَب کی ادائیگی کے مطابق آزاد کی دیت ادا کی جائے گی اور جتنا حصہ وہ غلام ہو گا، اتنے حصے کی غلام کی دیت ادا کی جائے گی۔
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مکاتب کو اس کی ادائیگی کی مقدار کے مطابق دیت ادا کی جائے گی۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مارا اور اس کا جنین گرا دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جنین کی دیت کے طور پر ایک لونڈییا غلام کا فیصلہ کیا۔
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنین کی دیت کے طور پر ایک غلام یا لونڈی کا فیصلہ کیا، جس پر یہ فیصلہ کیا گیا، اس نے کہا: کیا اس کی دیت دی جائے گی، جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ چیخا، نہ چلایا، اس قسم کا نفس تو رائیگاں ہو جاتا ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ باتیں تو شاعروں والی ہیں، میں کہہ رہا ہوں کہ جنین میں ایک غلام یا ایک لونڈی دیت ہے۔
Takhreej
(۶۶۰۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… جنین: رحم مادر میںرہنے والے بچے کو جنین کہتے ہیں، وہ بھی ایک نفس ہوتا ہے، لیکن اس کی دیت دوسری جانوں سے کم ہوتی ہے، ایک غلام یا لونڈی اس بچے کی دیت ہے۔
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حمل بن مالک ہذلی کے لئے ان کی اس بیوی سے وراثت حاصل کرنے کا فیصلہ دیا تھا، جسے ان کی دوسری بیوی نے قتل کر دیا تھا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ بھی فرمایاتھا کہ قتل ہونے والے جنین کی دیت ایک لونڈییا ایک غلام ہو گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس مقتولہ عورت کے بیٹے اور خاوند اس کے وارث بنیں گے۔ حمل بن مالک کی دونوں بیویوں سے اولاد تھی، قاتلہ کے باپ، جس نے ایک غلام یا ایک لونڈی دینی تھی، نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کی چٹی کس طرح بھروں، جو نہ چیخا، نہ چلایا، نہ اس نے پیا اور نہ کھایا، اس قسم کے نفس تو رائیگاں ہو جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو نجومیوں میں سے ہے۔
Takhreej
(۶۶۰۷) تخریج: اسنادہ ضعیف،الفضیل بن سلیمان النمیری لین الحدیث، واسحاق بن یحیی بن الولید مجھول الحال، ثم روایتہ عن جدہ عبادۃ مرسلۃ ، لکن قصۃ حمل بن مالک ھذہ صحیحۃ بالشواھد۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۶۴۳ (انظر: ۲۲۷۷۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنین کی دیت کے بارے میں ایک غلام یا ایک لونڈی کا فیصلہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی کی بیوی کے بارے میںیہی فیصلہ دیا تھا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: ’اسلام میں شغار نہیں ہے۔
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں مشورہ کیا کہ جب عورت (کسی کے چوٹ وغیرہ مارنے سے) قبل از وقت بچہ گرادے، تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بارے میںیہ فیصلہ کیا کہ ایک لونڈییا غلام دینا ہو گا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے کہا : اگر آپ سچے ہیں تو ایسا گواہ پیش کرو جو اس معاملے کو جانتا ہو، پھر سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی فیصلہ دیا تھا۔
۔ سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ احد کے دن مسلمانوں کی تلواریں سیدنایمان پر چل گئیں، جبکہ وہ ان کو جانتے نہیں تھے، سوانھوں نے ان کو قتل کر دیا، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی دیت دینا چاہی لیکن سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ دیت مسلمانوں پر خیرات کر دی۔
فوائد:… غزوۂ احد کے موقع پر نبی کریمa نے سیدنا حذیفہb کے والدسیدنایمانbاور سیدنا ثابت بن وقشb کو عورتوں اور بچوں کی حفاظت کے لیے پیچھے چھوڑا تھا، یہ دونوں بہت بوڑھے تھے، لیکن ان دونوں نے آپس میںمشورہ کیا اور شوقِ شہادت میں میدانِ جنگ میں پہنچ گئے، لیکنیہ اس وقت کی بات ہے، جب مسلمانوں کو شکست ہو رہی تھی، سیدنا ثابت b کوتو مشرکوں نے قتل کر دیا اور سیدنا سیدنایمانbمسلمانوں کی زد میں آگئے اور شہید ہوگئے، دراصل مسلمان ان کو پہنچان نہ سکے تھے۔
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا، میں ان لوگوں کے پاس پہنچا جنہوں نے شیر کے لئے ایک گڑھا کھود رکھا تھا، اسی دوران وہاں بھیڑ ہو گئی اورلوگ ایک دوسرے کے ذریعے بچنے لگے، ایک آدمی گڑھے میں گرا تو وہ دوسرے سے چمٹ گیا، دوسرے نے تیسرے کو پکڑ لیا،یہاں تک کہ چار آدمی گڑھے میں جاگر ے، شیر نے ان سب کو زخمی کر دیا، ایک آدمی نے جلدی سے نیزہ مار کر شیر کو مار دیا، لیکن وہ چاروں افراد زخموں کی تاب نہ لاسکے اور وفات پاگئے، اب ان مقتولین کے ورثاء مسلح ہو کر لڑنے مرنے کے لئے تیار ہوگئے، جب وہ لڑائی کی تیاری کر رہے تھے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اسی وقت ان کے پاس تشریف لائے اور کہا: تم لڑائی پہ کمر بستہ ہورہے ہو، جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی تمہارے درمیان بقید حیات ہیں، میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں، اگر وہ تمہیں پسند آ جائے تو ٹھیک، بصورت دیگر تم ایک دوسرے سے باز رہنا اور اس وقت تک کوئی قدم نہ اٹھانا، جب تک کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ نہ جاؤ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے ما بین فیصلہ کر دیں گے اور جو اس فیصلے کے بعد زیادتی کرے گا، اس کا کوئی حق باقی نہ رہے گا، اب سنو! میرا فیصلہیہ ہے کہ جو قبائل کنویں کے پاس ہجوم کیے ہوئے تھے، ان سب سے ایکچوتھائی دیت، ایک تہائی دیت، نصف دیت اور مکمل دیت جمع کرو، جو سب سے پہلا گڑھے میں گرا تھا، اس کو دیتکا چوتھا حصہ دیا جائے، کیونکہ وہ اپنے سے اوپر والوں کی ہلاکت کا سبب بنا ہے،گرنے والے دوسرے آدمی کو دیت کا تیسرا حصہ دیا جائے اور گرنے والے تیسرے آدمی کو نصف دیت دی جائے اور چوتھے کو پوری دیت دی جائے، لیکن لوگوں نے یہ فیصلہ قبول کرنے سے انکار کر دیا، جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ اس وقت مقام ابراہیم کے قریب تشریف فرما تھے، انہوں نے یہ واقعہ آپ کے سامنے بیان کیا، آپ نے فرمایا: میں ابھی تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گوٹھ مار کر بیٹھ گئے، اتنے میں ایک آدمی نے کہا: بیشک سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے درمیان فیصلہ کیا تھا، پھر انھوں نے سارا واقعہ بیان کیا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی فیصلے کو نافذ کر دیا۔
فوائد:… اس واقعہ سے ثابت ہوا کہ اگر کوئی دوسرے کی ہلاکت کا سبب بنا ہے تو اس پر بھی دیت واجب ہے، اس لئے جو بھی جتنا سبب بنا تھا، اسی حساب سے دیت میں کمی بیشی کر دی گئی۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تحریر کروایا کہ قبیلہ کی ہر شاخ پر دیت ادا کرنا واجب ہے، نیز آپ نے یہ بھی لکھوایا کہ کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ بغیر اجازت کے کسی کا سر پرست بنے، روح راوی کے الفاظ یہ ہیں: یہ حلال نہیں ہے کہ ایکمسلمان آدمی کا (آزاد کردہ) غلام اس کی اجازت کے بغیر کسی اور کو سرپرست بنا لے۔
Takhreej
(۶۶۱۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۰۷(انظر: ۱۴۴۴۵)
Explanation
فوائد:… حدیث نمبر (۶۵۹۳) کے فوائد میںیہ وضاحت کی جا چکی ہے قتل خطا اور قتل شبہ عمد میں دیت کون ادا کرے گا اور کیوں۔ آزاد شدہ غلام اپنی آزادی کی نسبت اپنے آزاد کنندہ کے علاوہ کسی اور کی طرف نہیں کر سکتا، اس حدیث میں ’’اجازت کے بغیر‘‘ کی قید ڈانٹ کے طور پر ہے، ورنہ اجازت لے کر بھی کسی دوسرے کی طرف منسوب نہیں ہوا جا سکتا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ عورت کی طرف سے اس کے عصبہ دیت ادا کریں گے، وہ جو بھی ہوں۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہذیل قبیلہ کی دو عورتیں آپس میں لڑ پڑیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مارا، وہ اس کے پیٹ پر لگا اور وہ خاتون بھی قتل ہو گئی اور اس نے اپنا جنین بھی گرا دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ کیا اس کی دیت اس کے عاقلہ نے ادا کرنا ہو گی اور جنین کی دیت ایک غلام یا ایک لونڈی ہو گی، ایک آدمی نے کہا: جس بچے نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ بولا اور نہ چیخا، اس طرح قتل باطل اور رائیگاں ہو جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کاہنوں اور نجومیوں کا بھائی لگتا ہے۔
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو سوکنیں آپس میں لڑ پڑیں ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمہ کی لکڑی دے ماری اور اسے قتل کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قاتلہ کے خاندان کو دیت ادا کرنے کا حکم فرمایا: اور جو مقتولہ کے پیٹ کا بچہ فوت ہوا تھا اس کے عوض لونڈییا غلام کا فیصلہ دیا۔ ایک دیہاتی نے کہا : کیا آپ مجھے اس بچے کی چٹی ڈال رہے ہیں جس نے نہ کچھ کھایا اور نہ پیا اور نہ آواز نکالی اور نہ ہی چیخا۔ اس طرح کا بچہ تو بغیر کسی تاوان ہونا چاہئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا بدئووں کی طرح یہ قافیہ بندی کی جا رہی ہے، (کوئی جو مرضی کہے مگر) اس عورت کے پیٹ میں قتل ہونے والے بچے کی دیت لونڈییا غلام دینا پڑے گی۔
فوائد:… ان احادیث میں قتل کرنے والی عورت ہے، مسئلہ کی وضاحت پہلے کی جا چکی ہے۔ ماں کے پیٹ کا بچہ بھی ایک نفس ہے، لیکن شریعت نے اس کی دیت میں نرمی رکھی ہے، بدّو کی سجع کلامی میں محض قافیہ بندی ہے، اس سے شرعی احکام متاثر نہیں ہوتے۔ یہ لونڈییا غلام پیٹ کے بچے کی دیت ہے، اس کے حقدار بچے کے ورثاء ہوں گے جیسے کسی بھی مقتول کی دیت کے حقدار اس کے وارث بننے والے لوگ ہوتے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فقیر لوگوں کے غلام نے مالدار لوگوں کے غلام کا کان کاٹ دیا، اس کے مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور شکایت کی، لیکن کان کاٹنے والے غلام کے مالکوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم فقیر لوگ ہیں، ہمارے پاس کچھ نہیں، پس آپ نے ان پر کوئی دیت نہ ڈالی۔
۔ سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطاب کر رہے تھے اور فرما رہے تھے: دینے والے کا ہاتھ اوپر والا ہاتھ ہوتا ہے۔ اپنی ماں، باپ، بہن، بھائی اور زیادہ سے زیادہ نزدیکی رشتہ داروں پر صرف کرو۔ اتنی دیر میں بنو ثعلبہ بن یربوع کے کچھ افراد آگئے، انصار میں سے ایک آدمی نے ان کے بارے میں کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو یریوع کے افراد آگئے ہیں، انہوں نے فلاں کو قتل کیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! کوئی جان دوسرے کے جرم کی ذمہ دار نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات دو بار ارشاد فرمائی۔
۔ سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے ابو جان کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، جب میں نے آپ کو دیکھا تو میرے ابا جان نے کہا: ابو رمثہ ! تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جانتا ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: یہ محمد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، پس میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میرا خیال تھا کہ آپ کی ذات گرامی کی عام انسانوں سے الگ تھلگ حیثیت ہوگی، مگر آپ ایک انسان تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کانوں تک آ رہے تھے، بالوں پر مہندی کے نشان تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سبز رنگ کی دو چادریں پہن رکھی تھیں، میرے ابونے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کیا اور ہم بیٹھ گئے، آپ نے کچھ دیر تک ہم سے باتیںکیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارا بیٹا ہے؟ میرے ابا جان نے کہا: جی ہاں،کعبہ کے رب کی قسم! یہی بات درست ہے کہ یہ میرا بیٹا ہے، میں اس پر گواہی دیتا ہوں۔ یہ ساری باتیں سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھل کر مسکرا پڑے، کیونکہ میری اپنے باپ کے ساتھ مشابہت بالکل واضح تھی، لیکن اس کے باوجود وہ قسم اٹھا رہے تھے، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! یہ تیرے حق میں جرم نہیں کرے گا اور تو اس کے حق میں جرم نہیں کرے گا۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ … الحدیث۔
فوائد:… حدیث ِ مبارکہ کے پہلے حصے سے ثابت ہوا کہ نبی کریمa سید الانبیاء ہونے کے باجودہ سادہ زندگی بسر کرنے اور اپنے آپ کو ظاہری امتیازات اور خصوصیات سے دور رکھنے والے تھے۔ معلوم ہوا کہ سبز لباس جائز ہے۔
۔ سیدنا خشخاس عنبری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور میرے ساتھ میرا بیٹا بھی تھا، آپ نے فرمایا: کیایہ تیرا بیٹا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، یہ میرا بیٹا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تیرے حق میں جرم نہیں کرے گا اور تو اس کے حق میں جرم نہیں کرے گا (بلکہ ہر کوئی اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہو گا)۔
Takhreej
(۶۶۱۹) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۶۷۱ (انظر: ۱۹۰۳۱)